بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ ششم: حدیث کو پرکھنےکا درایتی معیار

یونٹ 13: درایت حدیث

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 4: حدیث کا سیاق و سباق اور موقع محل

حدیث کو اپنے سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔ بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک حکم ایک مخصوص صورتحال میں جاری فرمایا ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے عدم واقفیت کے باعث حدیث کو پڑھنے والا اس کا کچھ اور معنی مراد لے لیتا ہے۔ اس صورت حال کے بارے میں خطیب بغدادی لکھتے ہیں:

ان قولين ظاهرهما التعارض ونفي أحدهما لموجب الآخر أن يحمل النفي والإثبات على أنهما في زمانين أو فريقين أو على شخصين أو على صفتين مختلفتين۔۔۔۔۔۔ فيجب أن يكون المراد بهذا أو نحوه انه آمر للأمة بالصلاة في وقت وغير آمر لها بها في غيره وآمر لها بها إذا كانت متطهرة ونهيها إذا كانت محدثة وآمل لزيد بالحج إذا قدر وغير آمر إذا لم يقدر۔ فلا بد من حمل ما علم انه تكلم به من التعارض على بعض هذه الوجوه وليس يقع التعارض بين قوليه الأبان يقدر كونه آمر بالشيء وناهيا عنه لمن أمر به على وجه ما امره به وذلك احالة في وصفه۔۔۔۔۔

حضور کے دو ارشادات میں بظاہر ایسا تعارض پایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کسی کو ایک کام سے منع فرمایا اور دوسرے کو اسی کام کا حکم دیا۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں کا زمانہ، شخصیت یا صورت حال ایک دوسرے سے مختلف ہو۔۔۔۔ اس قسم کی مثالوں میں ایسا ممکن ہے کہ آپ نے ایک شخص کو نماز کے وقت نماز کا حکم دیا ہو اور دوسرے شخص کو ممنوعہ اوقات میں نماز پڑھنے سے روکا ہو۔ یا پہلے شخص کو پاکیزگی کی حالت میں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہو اور دوسرے کو ناپاکی کی حالت میں ایسا کرنے سے روکا ہو۔ اسی طرح آپ نے مثلاً زید کو حج کا حکم اس وجہ سے دیا ہو کہ وہ حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہو جبکہ دوسرے شخص کو اس وجہ سے اس کا حکم نہ دیا ہو کہ وہ حج کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صورت حال کی وضاحت کے بعد آپ کے دو ارشادات میں کوئی تعارض باقی رہتا ہی نہیں ہے۔ آپ نے ایک کام کا حکم ایک صورت حال میں دیا اور اسی کام سے دوسری صورتحال میں منع فرما دیا۔ (الکفایہ باب 141)

سیاق و سباق کو متعین کرنے کا طریق کار یہ ہے کہ اس موضوع سے متعلق تمام احادیث کو اکٹھا کر کے دیکھا جائے۔ ایک حدیث میں جو واقعہ اجمالی طور پر بیان ہوتا ہے، اس کی تفصیل دوسرے طرق میں مل جاتی ہے۔ اس طریقے سے حدیث کا موقع و محل اور سیاق و سباق سمجھ میں آ جاتا ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       حدیث کو سمجھنے کے لئے اس کے سیاق و سباق کی کیا اہمیت ہے؟

       احادیث کو سیاق و سباق سے کاٹ کر سمجھنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

       احادیث کے سیاق و سباق کا علم کس طرح ہوتا ہے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter