بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب سوم: مسلم معاشروں میں الحاد کا فروغ

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پندرہویں اور سولہویں صدی میں اہل یورپ اپنے ممالک سے نکل کر مشرق و مغرب میں پھیلنا شروع ہوئے۔ انیسویں صدی کے آخر تک وہ دنیا کے بڑے حصے پر اپنی حکومت قائم کرچکے تھے۔ ان کی نوآبادیات میں مسلم ممالک کی اکثریت بھی شامل تھی۔ اہل یورپ نے ان ممالک پر صرف اپنا سیاسی اقتدار ہی قائم نہیں کیا بلکہ ان میں اپنے الحادی نظریات کو بھی فروغ دیا۔ مغربی ملحدین نے عیسائیت کی طرح اسلام کی اساسات پر بھی حملہ کیا۔ مسلم ممالک میں ان کے نظریات کے خلاف چار طرح کے رد عمل سامنے آئے:

       مغربی الحاد کی پیروی

       مغرب کو مکمل طور پر رد کر دینا

       مغرب کی پیروی میں اسلام میں تبدیلیاں کرنا

       مغرب کے مثبت پہلو کو لے کر اسے اسلامی سانچے میں ڈھالنا

مسلم اشرافیہ

پہلا رد عمل مسلمانوں کی اشرافیہ (Elite)†† کا تھا۔ ان کی اکثریت نے اہل مغرب اور ان کے الحاد کو کلی یا جزوی طور پر قبول کرلیا۔اگرچہ اپنے نام اور بنیادی عقائد کی حد تک وہ مسلمان ہی تھے لیکن اپنی اجتماعی زندگی میں وہ الحاد اور لادینیت کا نمونہ تھے۔ بیسویں صدی کے وسط میں آزادی کے بعد بھی ان کی یہ روش برقرار رہی۔ان میں سے بعض تو اسلام کی تعلیمات کے کھلم کھلا مخالف تھے جن میں ترکی کے مصطفےٰ کمال پاشا، ایران کے رضا شاہ پہلوی، تیونس کے حبیب بورغبیہ اور پاکستان کے جنرل یحیٰی خان شامل ہیں۔ مسلم حکمرانوں کی اکثریت نے اگرچہ اسلام کا کھلم کھلا انکار نہیں کیا لیکن وہ عملی طور پر الحاد ہی سے وابستہ رہے۔ چونکہ مسلم عوام کی اکثریت کا سیاسی و معاشی مفاد انہی کی پیروی میں تھا، اس لئے عوام الناس میں الحاد پھیلتا چلا گیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔

روایتی مسلم علماء

دوسرا رد عمل روایتی مسلم علماء کا تھا۔ انہوں نے اہل مغرب کے نظریات کو یکسر مسترد کردیا۔ انہوں نے مغربی زبانوں کی تعلیم، مغربی علوم کے حصول، مغربی لباس کے پہننے، اور اہل مغرب کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کو حرام قرار دیا۔ انہوں نے اپنے مدارس کے ماحول کو قرون وسطیٰ کے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دور جدید میں کسی مسئلے پر اجتہادی انداز میں سوچنے کی بجائے قدیم ائمہ کی حرف بہ حرف تقلید پر زور دیا۔ برصغیرمیں اس نقطہ نظر کو ماننے والے بڑے بڑے علماء میں قاسم نانوتوی، محمود الحسن، سید نذیر حسین دہلوی اور احمد رضا خان بریلوی شامل تھے جن کے نقطہ نظر کو پورے ہندوستان کے دینی مدارس نے قبول کیا۔

اگرچہ ان علماء میں کچھ مسلکی اور فقہی اختلافات موجود تھے لیکن مغرب کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بالکل یکساں تھا۔ اگرچہ ان میں سے بعض مغربی زبانیں سیکھنے اور مغربی علوم کے حصول کے مخالف نہ تھے لیکن عملاً ان کا رویہ اس سے دوری ہی کا رہا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے میں ان کا اثر و نفوذکم سے کم تر ہوتا چلا گیا اور ان کے نقطہ نظر کو ماضی کی چیز سمجھ لیا گیا۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان سے بیزار ہونے لگا اور آہستہ آہستہ یا تو پہلے نقطہ نظر کو قبول کرکے الحاد کی طرف چلا گیا یا پھر اس نے تیسرے اور چوتھے نقطہ نظر کو قبول کیا۔

معاشرے میں اب ان اہل علم کا کردار یہی رہ گیا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھا دیں، کسی کے گھر میں ختم قرآن کردیں یا پھر نکاح، بچے کی پیدائش اور جنازے کے وقت چند رسومات ادا کردیں۔ عملی زندگی میں ان کے کردار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے وقت لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ یہ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کب مولوی صاحب وعظ ختم کریں اور وہ مسجد میں جا کر نماز جمعہ ادا کریں۔ جیسے ہی وعظ ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے ، لوگ جوق در جوق مسجد کی طرف آنے لگتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے لوگوں کو ان کے وعظ اور تقاریر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہی روایتی علماء میں سے بعض نے جدید دنیا کے علوم سے واقفیت حاصل کرکے عصر حاضر کے زندہ مسائل کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ عام روایتی علماء کی نسبت ان کا اثر و نفوذ معاشرے میں بہت زیادہ ہے اور ان کی دعوت کو سننے والے افراد کی کوئی کمی نہیں۔

متجددین

اس دور میں امت مسلمہ کی علمی و فکری قیادت برصغیر اور مصر کے اہل علم کے ہاتھ میں آچکی تھی۔ بعض مسلمان مفکرین نے اسلام کو جدید الحادی نظریات سے منطبق (Reconcile)†† کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے اسلام کے بعض بنیادی عقائد و اعمال کا بھی انکار کردیا۔ اس نقطہ نظر کو ماننے اور پھیلانے والوں میں ہندوستان کے سرسید احمد خان ، اورمصر کے طٰہٰ حسین اور سعد زغلول شامل ہیں۔ اسی فکر کو بیسویں صدی میں غلام احمد پرویز اور ان کے شاگرد ڈاکٹر عبد الودود نے پیش کیا۔ روایتی اور جدید نقطہ نظر کے حامل علماء کے اثر و رسوخ کے پیش نظر اس فکر کو مسلم معاشروں میں عام مقبولیت حاصل نہ ہو سکی تاہم اس سے اشرافیہ کا ایک اہم حلقہ ضرور متاثر ہوا۔

جدید مصلحین

چوتھا رد عمل ان اہل علم کا تھا جو روایتی علماء کے قدیم علمی ورثے کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے مغرب کے الحادی افکار پر کڑی نکتہ چینی کی اور تیسرے نقطہ نظر کے حامل علماء کے برعکس اسلام کو معذرت خواہانہ انداز کی بجائے باوقار طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے روایتی علماء پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت تو ناقابل تغیر ہے لیکن قرون وسطیٰ کے علماء نے اپنے ادوار کے تقاضوں کے مطابق جو قانون سازی کی تھی، اس کی تشکیل نو (Reconstruction) کی ضرورت ہے۔ روایتی علماء کے برعکس انہوں نے جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے حصول پر زور دیا۔

اس نقطہ نظر کے حاملین میں ہندوستان کے اہل علم میں سے محمد اقبال، ابوالکلام آزاد ، شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، حمید الدین فراہی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مصر کے علماء میں رشید رضا، حسن البنا اور سید قطب شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے ممالک کے جدید اہل علم نے انہی کی پیروی کی۔ اسی نقطہ نظر کے حاملین نے عالم اسلام میں بڑی بڑی تحریکیں برپا کیں جنہوں نے جدید طبقے کو اسلام سے متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ روایتی علماء کی نسبت انہیں تعلیم یافتہ طبقے میں کافی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کے اثرات اپنے اپنے معاشروں پر نہایت گہرے ہیں۔

اگلا باب †††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability