بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب ششم: الحاد ، اکیسویں صدی اور ہماری ذمہ داریاں

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جیسا کہ ہم نے مطالعہ کیا کہ انیسویں صدی میں جب سائنسی علوم نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ انسان ان کی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم کرسکتا، بعض خام سائنسی نظریات نے ملحدین کو خدا کا انکار کرنے کا جواز عطا کیا۔ بیسویں صدی میں جب انسان کی علمی سطح بلند ہوئی تو اسے اپنے نظریات کی غلطی کا علم ہوا۔ بہت سے ایسے حقانیت پسند ملحد مفکرین اور سائنس دانوں جن میں پیٹرک گلائن بھی شامل ہیں، نے خدا کا اقرار کرلیا۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ نظریاتی میدان میں اب الحاد کوشکست حاصل ہوچکی ہے۔ لیکن عملی میدان میں الحاد اب بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور اس ضمن میں مغربی اور مسلم دنیا کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ مغربی دنیا میں تو پھر بھی اخلاقی اصولوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس کے برعکس مسلم دنیا اخلاقی اعتبار سے بہت پیچھے ہے۔

اگر غور کیاجائے تو موجودہ دور میں صورتحال اتنی مایوس کن بھی نہیں ہے۔ ہمارے معاشروں میں تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ دین کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور بالخصوص ذہین لوگ بڑی کثیر تعداد میں دین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ افراد کی اخلاقی حالت بھی بالعموم غیر تعلیم یافتہ افراد سے نسبتاً خاصی بہتر ہوتی جارہی ہے۔ اہل مغرب میں بھی دوبارہ خدا کی طرف رجوع کرنے کا رجحان موجود ہے۔ یہ بات بعید از قیاس نہ ہوگی کہ جس طرح بیسویں صدی میں الحاد کو نظریاتی میدان میں شکست ہوئی، اسی طرح اکیسویں صدی میں انشاء اللہ الحاد کو عملی میدان میں بھی شکست ہونے کا خاصا امکان موجود ہے۔ اس ضمن میں جو لوگ اللہ، رسول اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، ان پر بھی چند ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ اگر اہل ایمان ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوجاتے ہیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ عمل کے میدان میں بھی الحاد کو شکست ہوگی۔

اہل ایمان کو سب سے پہلے اپنا ہدف متعین کر لینا چاہئے۔ اس وقت جو لوگ دین کی خدمت کررہے ہیں، ان کا ہدف بالعموم اتنا جامع اور متعین نہیں ہے۔ عام علماء بس کسی طرح اپنے روایتی ورثے کی حفاظت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بعض دینی جماعتوں نے اپنا ہدف سیاسی نظام کی تبدیلی تک محدود کر لیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کے بعد کے مسائل پر کسی نے غور کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کے لئے کوئی ایکشن پلان تیار کرنے کی کسی نے زحمت کی ہے۔ اگر یہ لوگ اسلام کی بنیاد پر دور جدید کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی ماڈلز تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہوتے تو اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ موجودہ حکمرانوں میں سے کوئی اسے نافذ کرنے پر تیار ہو جاتا۔

اس کے برعکس بعض دینی جماعتوں کا ہدف لوگوں کو چند مخصوص دینی اعمال جیسے نوافل، ورد و وظائف اور عبادات کی تلقین کرنا رہ گیا ہے۔ دین کا کلی تصور ان کے ہاں بھی مفقود ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دین شرک سب سے بڑا فتنہ تھا اور آپ کی دعوت کا بنیادی ہدف شرک کا خاتمہ تھا، اسی طرح موجودہ دور میں ’’الحاد عملی ‘‘سب سے بڑا فتنہ اور اس کے خاتمہ اہل ایمان پر لازم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو کسی دوسرے مذہب سے اتنا بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے جتنا کہ الحاد سے جو دنیا پرستی اور اخلاقی انحطاط کی صور ت میں ملت اسلامیہ کے قلب میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ آج کی ہر دینی جدوجہد کا بنیادی ہدف اس الحاد کی جڑ پر تیشہ چلانا ہونا چاہئے۔

یہ حقیقت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اسلام پسند افراد اور تحریکیں الحاد کی بنیاد پرقائم ہونے والے نظریات جیسے جمہوریت، سیکولر ازم اور کیپیٹل ازم وغیرہ کے اسلامی بنیادوں پر قائم  ایسے مربوط اور ترقی یافتہ  متبادل پیش نہیں کرسکے جو دور جدید میں مکمل طور پر قابل عمل ہوں۔  اس معاملے میں امت کے مختلف حلقوں کی جانب سے بہت سی کوششیں ہوئی ہیں اور مسلسل ہو رہی ہیں۔  اس وقت اس چیز کی ضرورت ہے کہ اسلامی تعلیمات کی اساس پر دور جدید کے تقاضوں کے مطابق قابل عمل سیاسی، معاشی اور عمرانی ماڈلز تیار کئے جائیں اور امت کے ذہین ترین افراد علوم اسلامیہ میں اجتہادی  بصیرت پیدا کرکے اس عمل میں حصہ لیں۔  اب تک اس ضمن میں جو کام ہو چکا ہے، اس کا مسلسل تنقیدی جائزہ لیتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے، تجربے کی کسوٹی پر انہیں پرکھنے کی ضرورت ہےتاکہ ان میں مزید بہتری لائی جا سکے۔  الحمد للہ امت کے ذہین ترین افراد اس عمل میں مصروف ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا حصول بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پوری امت کے مزاج کو علمی اور معقول (Rational)   بنانے کی ضرورت ہے جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور آج کل کے اہل مغرب کا مزاج علمی اور عقلی ہے۔ تاریخ میں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ جب ہم علم و دانش کی بلندیوں کو چھو رہے تھے اور اہل مغرب علم و دانش سے کوسوں دور تھے تو ہمارا دور عروج تھا اور جب ہم علم و دانش سے دور ہوئے اور اہل مغرب نے اسے اختیار کیا تو دنیا میں ان کا عروج اور ہمارا زوال شروع ہوا۔ اہم ترین ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ امت مسلمہ کے اخلاق کو کردار کو بہتر بنانے کی بھی کوشش کی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملحدین کی بجائے مسلمان خود کو عملی طور پر اعلیٰ انسانی اخلاقیات کا چیمپئن ثابت کریں۔ مسلمانوں میں ایک بھرپور انسانی تحریک (Humanist Movement)  پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس ضمن میں نہ صرف یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا خود جائزہ لیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ امت مسلمہ سے باہر ہمارا کیا تاثرپایا جاتا ہے ۔ اس میں کیا کیا منفی عوامل شامل ہیں؟ ہم میں ایسی کونسی حقیقی کمزوریاں موجود ہیں جو غیر مسلموں کی نظر میں ہمارے امیج کو خراب کرتی ہیں؟ کیا ہم اسلام کے حقیقی داعی اور مبلغ کا کردار ادا کررہے ہیں یا ہماری حیثیت بھی بہت سی قوموں کے ہجوم میں محض ایک عام سی قوم کی ہے جو سب کی طرح صرف اپنے ہی حقوق کے لئے مری جارہی ہو؟ اپنی اخلاقی کمزوریوں کو دور کرکے ایک داعی و مبلغ کا اعلیٰ ترین کردار پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا بہت بڑا جہاد ہے جس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں اس تنقید کا مطالعہ بہت ضروری ہے جو ملحدین اور دوسرے غیر مسلم مفکرین نے مسلمانوں کے کردار پر کی ہے۔ اگر ان خطوط پر کام کیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ ہم آنے والے دور میں الحاد کا بہتر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

اس معاملے میں اچھی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ میں اب یہ احساس پیدا ہو چلا ہے کہ منفی انداز میں ہم نے بہت کچھ کر کے دیکھ لیا مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ اب مثبت انداز میں جدوجہد کی جائے۔ متعدد ایسے دینی ادارے وجود میں آ رہے ہیں جہاں عصر حاضر کے ان تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں امت کے بہت سے ذہین افراد اسلام کو درپیش چیلنجز پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان  افراد یا اداروں کے ساتھ ہر ممکن طریقے سے تعاون کریں اور اس مثبت جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔

 

                             فہرست                           پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

Description: Description: web stats script