بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مایوسی کی وجوہات

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مایوسی کی وجوہات

ناممکن خواہشات

مایوسی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ ایسی خواہشات کرتے ہیں جن کی تسکین ممکن ہی نہیں ہوتی مثلاً کوئی شخص اگر یہ خواہش کرے کہ اس کی جھولی میں سورج اور چاند آ جائیں اور وہ ان سے کھیلے یا پھر کوئی یہ سوچے کہ وہ گندم کی فصل سے چاول حاصل کرے۔ ظاہر ہے اس قسم کی مضحکہ خیز خواہشات پوری ہو ہی نہیں سکتیں۔

          اگر ہم اپنے باطن کا تنقیدی جائزہ لیں تو ہم خود یہ محسوس کریں گے کہ ہم سے ہر ایک اس قسم کی بہت سی خواہشات ضرور رکھتا ہوگا۔ اس قسم کی مایوسی کا علاج صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم اپنی خیالی دنیا میں رہنے کی بجائے حقیقت پسند بنیں اور حقیقت کو کھلے دل سے قبول کرنے والے بنیں۔ ایسے بھائی اور بہنیں ، جو اکثر مایوسی اور ڈپریشن کا شکار رہتے ہوں ، کے لئے ایک مناسب حل یہ ہے کہ وہ کچھ دیر کے لئے کسی پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں اور ایک کاغذ پر اپنی تمام ایسی خواہشات کو لکھیں جو پوری نہ ہوئی ہوں۔ اس کے بعد ان میں سے ان خواہشات پر نشان لگاتے جائیں جو غیر حقیقت پسندانہ ہوں ۔ ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ہماری خواہشات کی اکثریت ایسی ہے جو غیر حقیقت پسندانہ ہے جنہیں پڑھ کو کوئی بھی شخص ہم پر ہنسے گا۔ جس شخص کی جتنی زیادہ خواہشات غیر حقیقت پسندانہ ہوں گی وہ اتنا ہی زیادہ مایوس ہوگا۔ کوشش کرکے ان تمام خواہشات سے نجات حاصل کر لیجئے۔ انشاء اللہ آپ خود محسوس کریں گے کہ اس کے بعد آپ کی مایوسی اور ڈپریشن میں واضح کمی ہوگی۔ جو خواہش پوری ہی نہ ہوسکتی ہو، اس کے غم میں گھلتے رہنے سے کیا حاصل؟

خواہشات کی شدت

مایوسی کی دوسری بڑی وجہ کسی خواہش کی بہت زیادہ شدت ہے۔ جو خواہش جتنی زیادہ شدید ہو گی ، اس کی تسکین اتنی ہی زیادہ خوشی کا باعث بنے گی، لیکن اگر یہ پوری نہ ہوسکے تو پھر مایوسی بھی اتنی ہی زیادہ شدید ہوگی۔ ہمارے لوک قصوں میں ہیر رانجھا، سسی پنوں اور شیریں فرہاد اس کی مثالیں ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کے حصول کی خواہش کو بہت زیادہ شدید کرلیا  ، جب یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ اتنے مایوس ہوئے کہ انہوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر لیا۔

           حقیقت یہ ہے کہ یہ بے چارے ہمارے لئے عبرت کا نشان ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے قدیم اور جدید میڈیا نے ان سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں محبت میں ناکامی پر انتہا درجے کی مایوسی اور بالآخر خود کشی کی وبا پھیلتی چلی گئی۔ اس کا شکار زیادہ تر خواتین نظر آتی ہیں کیونکہ ان میں خواہشات کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

          ہر اس حقیقت پسند کو ، جو مایوسی سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے ، چاہئے کہ اپنی خواہشات میں شدت کو کم سے کم کرے۔ کسی سے محبت کا معاملہ ہو، یا امتحان میں پاس ہونے کا، اچھا کھلاڑی بننے کی خواہش ہو یا بڑا افسر بننے کی، اس حقیقت کو جان لیجئے کہ دنیا میں ہر چیز اور ہر انسان ہمارا پابند نہیں ہے۔ اس لئے اپنی کامیابی اور ناکامی دونوں امکانات کو مدنظر رکھئے۔ جب انسان اپنی ناکامی کے امکان کو بھی مدنظر رکھے گا تو اس کی خواہش کی شدت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

           محبت کے معاملے میں یہ جان لیجئے کہ شادی سے پہلے معاملہ محض پسند یا ناپسند تک محدود رہنا چاہئے اور اسے عشق یا محبت میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔ جب شادی ہو جائے اور بات کنفرم ہو جائے تو پھر اپنے شریک حیات سے دل و جان سے محبت کیجئے۔ جو کوئی بھی اس کا الٹ کرے گا، اسے مایوسی سے دوچار ہونا ہی پڑے گا۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ عشق کیا نہیں جاتابلکہ ہو جاتا ہے، کوئی اچھی چیز نہیں بلکہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کا مناسب نفسیاتی علاج ضروری ہے۔انسان کے تمام جذبے اس کے اپنے کنٹرول میں رہیں تو وہ خوش رہتا ہے ورنہ مایوسیاں اور پریشانیاں اس کا مقدر بنتی ہیں۔

دوسروں سے بے جا توقعات وابستہ کرنا

مایوسی کی ایک بڑی وجہ دوسروں سے بے جا توقعات وابستہ کرنا ہے۔ ہم لوگ اپنے دوستوں، رشتہ داروں ، عزیزوں ، منتخب نمائندوں اور حکومت سے بڑی بڑی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ مثلاً ہمارا خیال ہوتا ہے کہ جیسے ہی ہم اظہار محبت کریں تو محبوب فوراً ہمارے قدموں میں سر رکھ دے۔ جب ہم پر کوئی آفت آئے تو ہمارا دوست بھی اس مصیبت کو اپنے سر پر لے لے۔ اگر ہمیں رقم کی ضرورت ہو تو تمام رشتے دار اور ملنے والے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ہماری ضرورت کو پورا کریں۔ اگر ہماری کسی سے لڑائی ہو جائے تو ہر دوست ہماری طرف سے مردانہ وار لڑے۔ منتخب نمائندے اور حکومت ہماری غربت کو ختم کردے۔ ہمارے کام کرنے کی جگہ ایسی ہو جہاں تنخواہ تو اچھی ملے لیکن کام زیادہ نہ کرنا پڑے۔ وغیرہ وغیرہ۔

          ہر شخص کے حالات ایسے نہیں ہوتے کہ وہ ہماری ان توقعات پر پورا اتر سکے۔ اگرچہ بعض لوگ تو جان بوجھ کر کسی کے کام نہیں آنا چاہتے لیکن زیادہ تر دوست اور رشتے دار اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے ہماری مدد نہیں کرسکتے۔ محبت کا معاملہ اس سے بھی مختلف ہے۔ اگر مجھے جس سے محبت ہے وہ بھی ایک آزاد انسان ہے۔ میری طرح اسے بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی پسند کرلے۔ اسے بہت سی نفسیاتی و سماجی مجبوریاں بھی لاحق ہوسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اگر وہ مجھے پسند ہے تو میں بھی اسے پسند آؤں۔ بالعموم محبت کرنے والے تو بہت ہی بڑے بڑے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں اور جب حقیقی دنیا میں ان قلعوں کے بکھرتے دیکھتے ہیں تو مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ا س طرح کے معاملات میں ہر انسان کو چاہئے کہ وہ دوسروں سے بالکل کوئی توقع وابستہ نہ کرے اور ہر کام کو اپنے زور بازو سے کرنے کی کوشش کرے۔ حقیقی زندگی میں اسے دوسروں سے کچھ نہ کچھ مدد تومل ہی جائے گی۔ جب ایسا توقع کے بالکل خلاف ہو گا تو یہ امر اس کے لئے مایوسی نہیں بلکہ خوشی کا پیغام لائے گا۔

منفی ذہنیت

بعض لوگ منفی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر زندگی میں انہیں چند ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑے تو وہ اسے پوری زندگی کا روگ بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی زندگی کا واحد مقصد اپنی مایوسی کو دوسروں تک منتقل کرنا ہی رہ جاتا ہے۔ یہ جب کسی محفل میں بیٹھتے ہیں تو مایوسی ہی کی بات کرتے ہیں، کسی ک0و خوش دیکھتے ہیں تو اسے اداس کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہر چیز کے منفی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں اور0 ایک مفکر کی دی گئی مثال کے مطابق مکھی کی طرح جسم کے اسی حصے پر بیٹھتے ہیں جو گلا سڑا ہو اور اس میں پیپ پڑی ہوئی ہو۔ اگر اپنی خوش قسمتی اور دوسروں کی بدقسمتی سے یہ شاعر، ادیب، کالم نگار، صحافی، ڈرامہ نگار، مصور، موسیقار، گلوکار یا اداکار بن جائیں تو اپنی اس مایوسی کو پورے معاشرے میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر انہیں کسی فن میں نقاد کی حیثیت حاصل ہو جائے تو پھر مایوسی پیدا کرنے والی ہر تحریر، ہر نظم، ہر نغمے، ہر تصویر اور ہر ڈرامے کو شاہکار اور شہ پارے کا درجہ بھی مل جاتا ہے۔ جو لوگ بھی ان سے متاثر ہوتے ہیں، ان کی زندگی پھر غم اور مایوسی کی تصویر بن جاتی ہے۔ جو کوئی بھی مایوسی ہی کو اپنا مقصد حیات بنانا چاہے اس کا تو کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن جو اس مایوسی سے نجات حاصل کرنا چاہے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مکمل طور پر اجتناب کرے۔ اگر انہیں دور سے آتا دیکھے تو فوراً راستہ بدل لے۔ اگر کسی محفل میں انہیں بیٹھا دیکھ لے تو اس میں جانے ہی سے گریز کرے۔ اگر وہ گھر آ جائیں تو انہیں مایوسی پھیلانے والے موضوعات پر بات کرنے سے روکنے کے لئے کوئی اور موضوع چھیڑ کر ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرے۔ ان کی تحریروں، نظموں، نغموں اور ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ اگر آپ تھوڑا سا غور کریں تو اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے معاشرے میں سے ایسے لوگوں کو باآسانی بلیک لسٹ کر سکتے ہیں۔

فکری جمود اور فکر و عمل میں تضاد

مایوسی کی شاید سب سے بڑی وجہ ہماری سوچ میں جمود (Rigidity)   اور ہماری فکر اور عمل میں تضاد ہے۔ سوچ میں جمود اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان تجربے اور مشاہدے کے روشنی میں اپنے فکر و عمل کا تنقیدی جائزہ لینے زحمت نہ کرے۔ وہ اپنی ہر سوچ  اور عمل کو درست سمجھے اور دوسروں کو غلط سمجھے ۔ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان کا الزام دوسروں کو دے اور اپنی ڈگر پر چلتا رہے۔

          اس کی عام مثال یہ ہے کہ ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ کرکٹ کا بہت بڑا کھلاڑی بن جائے۔ اس مقصد کے لئے وہ کوئی زیادہ محنت نہ کرتا اور نہ ہی کرکٹ کی کوئی زیادہ پریکٹس کرتا ہے۔ وہ قومی ٹیم میں خود کو شامل نہ کئے جانے کا الزام خود کو دینے کی بجائے  سلیکٹرز اور نظام ہی کو دیتا رہتا ہے۔ اسے اپنی خامیوں کا کوئی احساس نہیں ہوتا بلکہ وہ دوسروں ہی کو مورد الزام ٹھہراتا رہتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس طرح کے معاملات میں بسا اوقات دوسرے بھی جانبداری اور تعصب سے کام لیتے ہیں لیکن اگر انسان اپنے رویے میں لچک پیدا کرے اور فکر اور عمل کے تضاد کو دور کرتے ہوئے محنت کرے اور اپنی خامیوں کو دور کرے تو کچھ عرصے کی ناکامیوں کے بعد وہ کامیابی حاصل کر ہی لیتا ہے۔

          اگر ذرا غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو گی کہ یہ مایوسی صرف ہماری ذات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بحیثیت ایک قوم کے ہم اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے قومی زوال کی وجہ صرف اور صرف بیرونی ممالک کی سازشیں ہیں۔ اگر میدان جنگ میں ہمیں شکست ہوتی ہے تو اس کا الزام ہم براہ راست دشمن کی سازش اور اندرونی غداروں پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ غدار صرف ہماری طرف ہی پیدا ہوتے ہیں اور ہمارے دشمن کے ہاں کوئی غدار کیوں جنم نہیں لیتا؟ ہماری افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی دشمنوں کے خلاف سازشیں کرتی ہیں لیکن کامیاب صرف ان دشمنوں ہی کی سازشیں کیوں ہوتی ہیں اور ہمارے منصوبے اور چالیں خاک میں کیوں مل جاتے ہیں؟ ہمارا ہر حملہ ناکام اور ان کا ہر حملہ کامیاب ہی کیوں ہوتا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہو کر بھی دنیا میں مغلوب ہیں اور ہمارا دشمن انہیں نہ مان کر بھی فاتح ہے؟

          یہ مایوسی اس حقیقت کو نہ جاننے کی وجہ سے ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس کائنات کا نظام کو چند سائنسی قوانین کے ذریعے چلا رہا ہے اسی طرح اس نے قوموں کے عروج و زوال کے بھی کچھ قوانین بنائے ہیں۔ جو حضرات اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں ان کے لئے محترم دوست ریحان احمد یوسفی کی کتاب ’’قوموں کے عروج و زوال کا قانون اور پاکستان‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہو گا۔ میں یہاں صرف اتنا عرض کردوں کہ اللہ تعالیٰ صرف اسی قوم کو اس دنیا میں عروج عطا کرتا ہے جو دوسری قوموں کی نسبت اخلاقی اعتبار سے بہتر ہو؛ جو اپنے دور کے علوم ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اپنی معاصر اقوام پر برتری رکھتی ہو؛ جس میں دوسری اقوام کی نسبت بہترتنظیم پائی جاتی ہو ؛ اور جو اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا جانتی ہو۔ تاریخ میں اس اصول سے استثنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو حاصل ہوتا رہا ہے جن کو غالب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ غیب سے مدد فرماتا رہا۔ختم نبوت و رسالت کے بعد یہ مدد آ بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ہر معاملے میں ہم جو مرضی آئے غلطیاں کرتے پھریں اور اللہ تعالیٰ ہماری مدد کے لئے فرشتے نازل کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ سے بے جا امیدیں اور توقعات وابستہ کرکے اس کا امتحان لینے والے ہمیشہ ناکام ہی رہتے ہیں۔

          دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اپنی معاصر اقوام کی نسبت اخلاقی اعتبار سے بھی کمزور ہیں، علمی اعتبار سے ہمارا شمار جاہل ترین اقوام میں ہوتا ہے ، دوسری اقوام کی تنظیم (Organisation)   کے مقابلے میں ہمیں ایک منتشر ہجوم (Crowd)   ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور وسائل کا استعمال شاید ہم ہی سب سے زیادہ برے طریقے سے کرتے ہیں۔ ان سب کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قوموں کے درمیان جب مقابلہ ہو تو ہم ہی غالب ہوں اور دنیا پر ہمارا ہی جھنڈا لہرائے۔ ہماری دعاؤں کے نتیجے میں دشمن کے میزائلوں، بموں اور توپوں میں کیڑے پڑ جائیں۔ ہم پتھر بھی ماریں تو وہ ان پر ایٹم بم بن کر گرے اور وہ ہمیں ہائیڈروجن بم بھی مار دیں تو وہ ہمیں پھول کی طرح لگے۔ یہ ہوائی قلعے ذہنوں کو بڑے اچھے لگتے ہیں لیکن جب ہمیں کوئی تلخ حقیقتوں سے آشنا کرنا چاہے تو ہم اسے رجعت پسند، دشمن کا ایجنٹ، ففتھ کالمسٹ اور نہ جانے کیا کیا خطابات دے ڈالتے ہیں۔حقیقی دنیا میں جب معاملہ ہمارے ان تصوراتی (Fantastic)  خیالات کے برعکس پیش آتا ہے تو ہم ایک قومی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

       اگر ہم دوسروں کی سازشوں کا رونا رونے اور انہیں طعنے اور کوسنے دینے کی بجائے اپنے اخلاق اور علم کو بہتر بنانے کی کوشش کر لیتے تو اقوام عالم میں ہمارا مقام پہلے سے بہت بہتر ہوتا اور ہم ہر سازش کا مقابلہ بھی با آسانی کرلیتے۔ اس ضمن میں جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے نوازا ہے۔ اس کی واضح مثال پاکستان کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کی عملی، علمی، معاشی اوراخلاقی اعتبار سے قرآن کے آئیڈیل کے مطابق تو نہیں لیکن 1930  کے مسلمانوں کی نسبت ان کی حالت بہرحال بہت بہترہے۔

معاشی وجوہات

مایوسی کی یہ وجوہات جو ہم نے اوپر بیان کیں زیادہ تر ایسی تھیں جن پر اگر انسان چاہے تو اپنے ذہن اور کردار میں مناسب تبدیلیاں کرکے قابو پاسکتا ہے۔ ان سب کے علاوہ ہمارے معاشرے میں مایوسی کی ایک او رقسم پھیلی ہوئی ہے جو سب سے زیادہ شدید ہے اور اس کے اثرات اتنے واضح ہیں کہ انہیں ہر شخص محسوس کر سکتا ہے۔ یہ ذرائع معاش کی کمی اور بے روزگاری سے پیدا ہونے والی مایوسی ہے۔ ملک بھر میں زیادہ تر خود کشیوں کی بنیاد یہی مایوسی ہے۔

          چونکہ ہمارے معاشروں میں معاش کی ذمہ داری بالعموم مرد ہی سنبھالتا ہے اس لئے اس قسم کی مایوسی کا شکار زیادہ تر مرد حضرات ہی ہیں اور خود کشی بھی زیادہ یہی کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو یہ پورے خاندان سمیت خود کشی کر لیتے ہیں۔ ہمارے مفکرین اور دانش ور اس مایوسی کے خاتمے کے لئے جو تجاویز پیش کرتے ہیں، ان پر عمل درآمد حکومت ہی کرسکتی ہے۔ ہم اس تحریر میں ان لوگوں کے لئے چند تجاویز پیش کر رہے ہیں جو اس قسم کی مایوسی کا شکار ہیں۔

          اگر ہم بے روزگاروں اور اس کی بنیاد پر خود کشی کرنے والوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو چند حیرت انگیز نتائج ہمیں معلوم ہوتے ہیں۔ معاشی مسئلے کی وجہ سے پر خود کشی کرنے والوں میں بلا تفریق مذہب چند کمیونیٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان کمیونیٹیز میں قبائلی پٹھان، میمن برادری، بوہری برادری ، اسماعیلی برادری ، قادیانی مذہب اور پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔راقم الحروف نے ان کمیونیٹیز سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے مل کر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان میں خود کشی کرنے کی شرح اتنی کم کیوں ہے؟ اس سلسلے میں مجھے جو معلومات مل سکیں وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

          میمن برادری زیادہ تر پاکستان اور ہندوستان کے مغربی ساحلی شہروں میں آباد ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر کاروبار سے منسلک ہوتے ہیں جو بالعموم ان کے آباؤ اجداد کے زمانے سے ہی مالی طور پر مستحکم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے اس برادری کے زیادہ تر افراد کو کوئی معاشی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ ان کی ایک بہت ہی قلیل تعداد کو اگر کسی وجہ سے معاشی مسائل کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے تب ان کے اپنے رشتے دار ہی ان کی مدد کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ رشتے داروں کے علاوہ ان کے بہت سے کمیونٹی سنٹر اور جماعت خانے بھی ہوتے ہیں جہاں فلاحی مراکز قائم کئے جاتے ہیں۔ ان مراکز میں اپنی برادری کے علاوہ دوسرے انسانوں کو بھی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کے ہاں ایسے لوگ شاید بالکل ہی نہیں پائے جاتے جو معاشی مسئلے کی وجہ سے خود کشی پر مجبور ہو جائیں۔

          بوہری برادری کے ہاں بھی اسی سے ملتا جلتا نظام پایا جاتا ہے۔ اسماعیلی برادری کا نظام کچھ مختلف ہے۔ ان کے ہاں ہر شخص کو اپنی آمدن کا کچھ حصہ اپنے امام ، آغا خان کے پاس جمع کروانا پڑتا ہے۔ پاکستان کے اسماعیلیوں کی زیادہ تر تعداد شمالی علاقوں گلگت، ہنزہ وغیرہ میں آباد ہے۔ اس کے علاوہ ان کی بڑی تعداد کراچی شہر میں بھی رہتی ہے۔ کراچی میں رہنے والے زیادہ تر کاروبار یا اعلیٰ ملازمتوں سے متعلق ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی بڑا معاشی مسئلہ درپیش نہیں۔ جماعتی سطح پر شمالی علاقوں میں انہوں نے بہت سے ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہوئے ہیں جن سے وہاں کے لوگوں کے مسائل کو حل بھی کیاجاتا ہے اور انہیں روایتی ٹور ازم انڈسٹری کے علاوہ روزگار بھی فراہم کیا جاتاہے ۔ اس کا اندازہ شمالی علاقوں کے دیہات میں جا کر ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں جو نوجوان تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، انہیں کراچی میں لا کر سیٹل کر دیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں برادری کا ہر شخص اپنا مذہبی فرض سمجھ کر کوشش کرتا ہے۔ قادیانی حضرات کے ہاں بھی اس طرز کا نظام رائج ہے اور وہ اس نظام کی مدد سے اپنے مذہب کی تبلیغ اور فروغ کے لئے بھی بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں۔

          پاکستان کے عام مسلمانوں میں اس طرز کی کوششوں کی بہت کم مثالیں مل سکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال لاہور کے اندرون شہر اور شمالی لاہور ہیں جہاں کسی حد تک اس طرز کی اجتماعی خدمات انجام دی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں شہر کے ان علاقوں میں غربت اور مالی مسائل کی وجہ سے خود کشی کرنے کی شرح شہر کے دوسرے علاقوں کی نسبت بہت کم ہے۔

          یہ سب طریق ہائے کار ایسے ہیں جو ایک پوری برادری یا کمیونٹی کی مدد سے ہی چل سکتے ہیں۔ اگر کوئی کمیونٹی اس طرز کا نظام اپنے ہاں رائج کر لے تو غربت ، مہنگائی اور دوسرے معاشی مسائل کے اس جن کو اپنی حد تک قابوکر سکتی ہے۔ اس نظام کو قائم کرنے کے لئے ان کمیونیٹیز کے نظاموں کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی شخص کو ایسی کمیونٹی میسر نہ ہو تو اس کے لئے بہترین مثال صوبہ سرحد اور بلوچستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان پٹھانوں کی ہے جو بڑے شہروں بالخصوص کراچی میں آباد ہیں۔

           ہماری معلومات کے مطابق ان کے ہاں میمن برادری کی طرح کوئی بڑا اجتماعی نظام تو قائم نہیں ہے لیکن ان لوگوں نے اپنے سادہ طرز زندگی اور چھوٹے چھوٹے گروپس کی مدد سے جس طرح ان مسائل پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے، اس کی کوئی اور مثال کسی پاکستانی کمیونٹی میں نہیں ملتی۔ شاید پاکستان سے باہر کسی اور ملک میں رہنے والے پاکستانی اس طریقے سے اپنے مسائل پر قابو پاتے ہوں۔

          قبائلی علاقوں میں معاش اور روزگار کے مواقع نسبتاً کم ہیں۔ بعض علاقوں میں کسی حد تک زراعت اور کہیں کہیں گھریلوصنعت ہی ذریعہ معاش ہے۔ چند لوگ تجارت کرتے ہیں جس میں بالعموم بڑے شہروں سے مختلف چیزیں لا کر اپنے علاقوں میں فروخت کرتے ہیں۔ ان کے بہت سے نوجوان روزگار کی تلاش میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں بالخصوص کراچی میں آتے ہیں ۔ جب بھی کوئی نوجوان کراچی میں آتا ہے تو اسے اپنے رشتے داروں ، قبیلے کے دوسرے افراد اور دوستوں کا ایک مستحکم نیٹ ورک پخیر راغلے کہتا ہے۔ اس کے یہ ساتھی بالعموم کوئی بہت امیر نہیں ہوتے ۔ ان کا ذریعہ معاش بھی محض محنت مزدوری، چائے کے ہوٹلوں میں کام، بنگلوں میں چوکیداری ، بسوں میں ڈرائیوری یا کنڈیکٹری ، ٹیکسی یا رکشہ چلانا یا پھر ٹھیلوں وغیرہ پر ہونے والا کام ہوتا ہے۔ یہ لوگ محنت کا کوئی بھی کام کرنے میں بالکل شرم محسوس نہیں کرتے۔نئے آنے والے ساتھی کے لئے انہوں نے کسی نہ کسی روزگار کا بندوبست کر رکھاہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ کچھ نہ کچھ کما ہی لیتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی آمدنی بالعموم چار پانچ ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن اپنے سادہ طرز زندگی کی وجہ سے ان کے اخراجات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس رقم میں سے یہ خود پر ہزار بارہ سو روپے خرچ کرکے باقی رقم اپنے گھر میں بھیج دیتے ہیں ۔ ان کی خواتین بھی انہی کی طرح محنتی اور جفاکش ہوتی ہیں۔ وہ بھی اپنے گھر میں کوئی نہ کوئی کام کرکے تھوڑی بہت رقم کما رہی ہوتی ہیں۔ ہر گھرانہ اپنی کل آمدنی کو خرچ نہیں کرتا بلکہ اس میں سے بھی کچھ نہ کچھ بچا لیتا ہے۔ کچھ رقم جمع کرکے کچھ عرصے بعد یہ لوگ زمین یا کوئی جائیداد بھی خریدلیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو کوئی حادثہ پیش آجائے یا پھر وہ بیمار ہوجائے تو اس کا پورا گروپ اپنی آمدنی میں سے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرکے ایک معقول رقم اسے مہیا کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ باری باری کچھ عرصے بعد دو دو تین تین ماہ کے لئے اپنے گھر بھی چلے جاتے ہیں اور اس دوران اس کے دوسرے ساتھی اس کے کام کی دیکھ بھال بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ اسی نظام کی برکات ہیں کہ ان لوگوں میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد بہت کم ملتی ہے اور مالی مسائل کی وجہ سے خود کشی کرنے والوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

          ایسے لوگ جو غربت اور مالی مسائل کا شکار ہوں ، وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے محض چند افراد کا گروپ بناکر اپنے مالی مسائل کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک جگہ کام کرنے والے چند مزدور، یا پھر ایک دفتر میں کام کرنے والے افراد مل کر یہ طے کریں کہ ایک دوسرے کے مالی مسائل کو کم کرنے میں وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ایک مزدور کی ماہانہ آمدنی تین ساڑھے تین ہزار کے قریب ہوتی ہے۔ اگر دس مزدور مل کر یہ طے کر لیں کہ وہ روزانہ صرف پانچ روپے اپنے کسی قابل اعتماد ساتھی کے پاس جمع کروائیں گے تو ایک مہینے میں یہ لوگ باآسانی پندرہ سوروپے اور چھ ماہ میں نو ہزار روپے کی رقم جمع کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو اگر کسی دن مزدوری نہ ملے یا وہ بیمار ہو جائے یا پھر اسے کوئی اور مسئلہ درپیش ہو تو اس اجتماعی فنڈ سے ممکن حد تک اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ معمولی سی رقم ادا کرکے اپنے مسائل کو کسی حد تک کم کرسکتے ہیں۔ اس معاملے میں ضرورت صرف قابل اعتماد ساتھیوں کی ہے۔ مغربی ممالک میں اسی نظام کو بہت وسیع پیمانے پر پھیلا کر Employment Insurance   کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس میں ہر شخص کو اپنی آمدنی کا ایک معمولی سا حصہ مثلاً 0.5%   فنڈ میں جمع کروانا لازم ہوتا ہے۔ ان فنڈز کا انتظام فیڈرل یا سٹیٹ گورنمنٹ کرتی ہے۔ جب بھی کوئی بے روزگار ہوتا ہے تو اسے اسی فنڈ سے اتنی رقم ادا کر دی جاتی ہے جو اس کی کم از کم بنیادی ضروریات کو پورا کرسکے۔

          شہری علاقوں میں رہنے والے ہمارے عام پاکستانی بھائیوں کے مالی مسائل کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص دفتر میں بیٹھ کر آرام و سکون سے کام کرنا ہی پسند کرتا ہے۔ تعلیم کو صرف اور صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ شروع ہی سے ہر بچے کے ذہن میں یہ بٹھایا جاتا ہے کہ اسے بڑا ہوکر افسر ہی بننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے عام پڑھے لکھے نوجوان محنت کے کاموں سے جی چراتے ہیں اور بس افسری ہی کا خواب سجاتے ہیں۔ اہل مغرب کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے ہاں کسی پیشے کو حقیر نہیں سمجھا جاتا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طالب علم عام طور پر تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی پیٹرول پمپ پر کام کرنے، گاڑیاں دھونے، ہوٹلوں میں برتن دھونے یا اخبار بیچنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح وہ باآسانی اتنی رقم کما لیتے ہیں جو ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے کافی ہو۔ ہر شخص ائر کنڈیشنڈ دفتر ، بنگلہ ، گاڑی اور خوبصورت سیکرٹری کے خواب نہیں سجاتا۔

          اگر ہم اپنے رویے کو اس حد تک ہی تبدیل کرنے کے لئے تیار ہوں کہ کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں اور جو کام بھی ملے اسے کرنے پر تیار ہوں تو کافی حد تک بے روزگاری کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی جب تک ان کی پسند کی جاب نہ ملے ، اور وہ جی کڑا کرکے اور طعنے دینے والوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی چھوٹا موٹا پارٹ ٹائم کام کرکے اپنے ذاتی اخراجات ہی پورے کر لیں تو یہ بے روزگاررہ کر ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہونے سے بہتر ہے کیونکہ under-employment   بہرحال unemployment   سے تو بہتر ہے۔

گناہوں میں مبتلا ہونا

مایوسی کی ایک اور قسم ان لوگوں میں پیدا ہوتی ہے جو بہت سے گناہ کرلیتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ اتنے گناہ گار ہوگئے ہیں کہ ان کی بخشش ممکن نہیں۔ یہ طرز فکر بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے آپ کے لئے موت کے وقت تک کھلے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے یہ اعلان کر دیا ہے :  قُلْ يَا عِبَادِي الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً۔  اے نبی آپ میری طرف سے فرما دیجئے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔‘

اگلا صفحہ                         فہرست                           پچھلا صفحہ

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability