بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب سوم: دعوت دین کی منصوبہ بندی

(Planning)

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جیسے انسان ہر کام کی پہلے منصوبہ بندی  کرتا ہے، اس کے اہداف (Targets) طے کرتا ہے اور پھر اس کے حصول کا طریق کار(Strategy) وضع کرتا ہے۔ اسی طرح ایک داعی کو بھی دعوت دین کے اہداف اور اس کا طریق کار کا تعین کر لینا چاہیئے۔ اس ضمن میں داعی کو ان نکات پر کام کرنا چاہئے:

·      دعوت دین کے طویل المیعاد ، اوسط المیعاد اور قلیل المیعاد اہداف کا تعین

·      دعوت کے مخاطبین کا تعین اور تجزیہ

·      ذرائع و وسائل کا انتخاب

·      عملی دعوت کی منصوبہ بندی

دعوت دین کے اہداف کا تعین

ہر اس شخص، ادارے اور جماعت کو جو دعوت دین کا کام کرنا چاہتا ہے ، اپنے طویل المیعاد، اوسط المیعاد اور قلیل المیعاد مقاصد کا تعین کرنا ہوگا۔ اگر دعوت انفرادی سطح پر دی جارہی ہے تو یہ مقاصد محدود دائرے میں حاصل کئے جاسکیں گے ۔ کوئی بھی بڑا کام کرنے کے لئے زیادہ وسائل اور بڑی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر کوئی بڑا کام کرنا چاہے تو اسے اس کے لئے وسائل حاصل کرکے ایک بڑی ٹیم تیار کرنا پڑتی ہے۔  ذیل میں کچھ دعوتی اہداف افراد اور تنظیموں کے لئے  بطور مثال درج کئے جارہے ہیں۔

 

ہدف

مدت

دائرہ

اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرکے انہیں معاشرے کا نیک اور صالح رکن بنانا

طویل المیعاد

انفرادی

زیر تربیت افراد میں داعی کے لئے درکار صفات پیدا کرنا

 

اوسط المیعاد

انفرادی ! اجتماعی

کسی مخصوص علاقے کے لوگوں تک دین کی بنیادی دعوت پہنچانا

قلیل المیعاد

انفرادی! اجتماعی

ایک مخصوص علاقے میں رہنے والے افراد کے اخلاق کی تعمیر

طویل المیعاد

اجتماعی

دعوت دین کے لئے ایک اچھے دینی ادارے کا قیام

اوسط المیعاد

اجتماعی

کسی مخصوص مسئلے پر ایک خاص علاقے کے عوام میں شعور پیدا کرنا

قلیل المیعاد

اجتماعی

 

دعوت کے مخاطب کا تعین اور تجزیہ

دعوت دین کی منصوبہ بندی میں ایک اہم کام اپنے مخاطب (Target) کا تعین ہے۔یوں تو امت مسلمہ کی مخاطب پوری نسل انسانیت ہے لیکن کسی ایک فرد یا جماعت کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ تمام انسانوں تک اپنی دعوت پہنچا سکیں۔ اس لئے ہر داعی فرد یا جماعت کو انسانوں میں سے انتخاب کرنا پڑے گا کہ وہ کس دائرے میں اپنی دعوت پیش کرے۔ مخاطب کا تعین کرنے سے قبل اس کی تقسیم ضروری ہے۔  یہ تقسیم مارکیٹنگ کے Market Segmentation   کے تصور سے ملتی جلتی ہے۔ مخاطبین کو ان کے علاقے، تعلیم، جنس، عادات و رسوم، ماحول اور عمر کے لحاظ سے تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

·      جغرافیہ :   طریقے کے مطابق انسانوں کو ان کے رہائشی علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اور پھر جو علاقہ داعی (فرد یا جماعت )کی پہنچ میں ہو اسے اپنی دعوت کا ہدف بنا لے۔ یہ مخاطبین کی تقسیم کا سب سے سادہ اور فطری طریق کا ر ہے۔

·      تعلیم:  مختلف درجے (Level) کے تعلیم یافتہ افراد کو دین کی دعوت دینے کے لئے مختلف طریق ہائے کاراپنانے پڑیں گے۔ مثلاً سکول کے بچوں کو دی جانے والی دعوت کا طریق کار ، یونیورسٹیوں کے طلباء کو دی جانے والی دعوت کے طریق کار سے بالکل مختلف ہو گا۔ اسی طرح جو حضرات  Ph.D ہیں ان کو دی جانے والی دعوت کا طریق کار اس سے بالکل مختلف ہو گا جو انڈر میٹرک حضرا ت کو دی جارہی ہے۔

·      جنس:  مردوں اور خواتین میں دعوت دینے کا طریق کار مختلف ہیں بلکہ دونوں کے داعی کی جنس بھی مختلف ہونی چاہیئے تاکہ وہ اپنی جنس میں آسانی سے کام کرسکے۔ مردوں کے لئے مرد داعی اور خواتین کے خاتون داعی۔

·      ماحول:   شہری ماحول میں رہنے والوں کی ضروریات ، دیہی علاقوں میں رہنے والوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ اسلئے دونوں کی دعوت کے طریق کار میں فرق ہو گا۔

·      عمر:  بچوں میں ناپختگی ہوتی ہے، وہ ہر بات کو آسانی سے مان جاتے ہیں۔ عمر رسیدہ افراد کو کسی بات پر قائل کرنا مشکل ہوتا ہے۔اب یہ ہر داعی کی صلاحیتوں پر ہے کہ وہ کس عمر کے لوگوں کے لئے موزوں ہے۔ عمر کے لحاظ سے دعوت دین کے لئے یہ تقسیم زیادہ موزوں ہے۔

·      طریقہ تبلیغ: بعض مخاطبین کو ایک طریقے سے پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ جیسے ویب سائٹ کے ذریعے دعوت صرف ان لوگوں کو پہنچائی جا سکتی ہے جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوں۔ اسی طرح تحریر کے ذریعے دعوت ان لوگوں کو پہنچائی جا سکتی ہے جو پڑھنا جانتے ہوں۔

مخاطبین کی تقسیم کے بعد داعی کو ان سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنا چاہئیں۔ مثال کے طور پر ان کی دینی ضروریات کیا ہیں؟ کیا وہ دین کے ابتدائی طالب علم ہیں یا پھر علمی سطح پر دین کو سمجھنا چاہتے ہیں؟ ان کا مزاج کیا ہے؟ ان کا اقدار کا نظام کیا ہے؟ ان کے موجودہ نظریات کیا ہیں؟ ان کی ذہنی استعداد کیا ہے؟ ان کی دلچسپی کس چیز میں ہے؟ ان کے رسوم و رواج کیا ہیں؟ داعی کے بارے میں ان کے خیالات کیا ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

          اس مقصد کے لئے داعی ان کا براہ راست مشاہدہ کرکے بھی یہ معلومات حاصل کرسکتا ہے اور اگر داعی ایک تنظیم یا ادارے کی صورت میں دعوت پیش کر رہا ہے اور مخاطبین کی تعداد بہت زیادہ ہے تو اس پر باقاعدہ ایک ریسرچ پراجیکٹ بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔  مخاطبین کے مختلف گروہوں کا مکمل تجزیہ کرنے کے بعد داعی کو اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ان میں کسی ایک یا چند گروہوں کا انتخاب کرنا چاہئے اور ان تک اپنی دعوت پہنچانی چاہئے۔

ذرائع و وسائل کا انتخاب

تبلیغ دین کے لئے اپنے دور کے بہترین وسائل جن کے استعمال میں کوئی شرعی یا اخلاقی قباحت نہ ہو، اشد ضروری ہے۔ہمارے ہاں بعض حلقے جدید وسائل کے استعمال کو بدعت یا بے برکتی سمجھتے ہیں۔ دعوت دین کے وہ طریقے جو قدیم ادوار میں مروج تھے ، ان کا استعمال دور جدید میں ایسا ہی ہے جیسا کہ میدان جنگ میں ایٹم بم اور لیزر گائڈد میزائلوں کا مقابلہ تلوار اور نیزے سے کرنے کی کوشش کرنا۔ تعلیم و تبلیغ میں ایسے وسائل ایجاد ہو چکے ہیں جن کی مدد سے سالوں کا کا م مہینوں میں اور مہینوں کا کام دنوں میں پہلے سے بہت اعلیٰ معیار کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ان میں ٹیلی فون، ریڈیو، ٹیلی وژن، آڈیو اور وڈیو کیسٹ، پریس ، ٹیلکس ، فیکس، کمپیوٹر، ویب سائٹس، ای میل، انٹرنیٹ ڈسکشن گروپس، اورٹیلی - ویڈیو کانفرسنگ شامل ہیں۔

          دعوت دین کی ضرورت ہے کہ ان وسائل کو دینی کاموں میں بھی بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے۔ داعی اپنی دعوت پیش کرنے کے لئے ان میں سے کس ذریعے کو کہاں استعمال کرے، اس کا انحصار اس کے دعوتی مقاصد، دعوت کی وسعت ، مخاطبین کی تعداد اور دعوتی پیغام کی نوعیت پر ہے۔  ہمارے معاشرے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دعوت دین کے ان جدید وسائل کو استعمال کرنا بے برکتی کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام وسائل کو شیطانی اور طاغوتی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہیں مگر دینی کاموں میں ان کا عشر عشیر بھی استعمال بھی نہیں ہو رہا۔اسی کا نتیجہ ہے کہ شیطانیت تو آج گھر گھر اپنے پنجے گاڑ چکی ہے مگر اسلام صرف مسجد اور مدرسہ میں مقید ہو کر رہ گیا ہے۔ امین احسن اصلاحی اس صورتحال پر بڑا دلچسپ تبصرہ کرتے ہیں۔

بعض دینی حلقوں میں خدا جانے یہ خیال کہاں سے پھیل گیا ہے کہ تبلیغ کا معیاری اور پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی ہاتھ میں ایک لٹھیا اور جھولی میں تھوڑے سے چنے لے لے اور تبلیغ کے لئے نکل کھڑا ہو۔ نہ پاؤں میں جوتی ہو ، نہ سر پر ٹوپی، گاؤں گاؤں میں پھرے اور جس جگہ کوئی شخص مل جائے، خواہ وہ سنے نہ سنے، اس پر تبلیغ شروع کردے۔ اگر کسی شہر میں گزر ہو تو وہاں جس نکڑ یا چوراہے پر چار آدمی نظر آ جائیں، وہیں تقریر کے لئے کھڑا ہوجائے۔ ریل میں، اسٹیشن پر، بازار میں، سڑک پر، جس جگہ کوئی بھیڑ مل جائے، وہیں اس کا وعظ شروع ہو جائے۔ ہر مجلس میں گھس جائے، ہر کانفرنس میں اپنی جگہ پیدا کرلے، ہر پلیٹ فارم پر جا دھمکے۔ سننے والے تھک تھک جائیں، لیکن وہ سنانے سے نہ تھکے۔ لوگ اس کے تعاقب سے گھبرا گھبرا جائیں، لیکن وہ خدائی فوج دار بنا ہوا ہر ایک کے سر پر مسلط رہے۔ لوگ اس کے سوال و جواب کے ڈر سے چھپتے پھریں، بلکہ بسا اوقات آزردہ ہو کر گستاخیاں اور بدتمیزیاں بھی کر بیٹھیں، لیکن وہ اسی انہماک و جوش کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے۔ جہاں وعظ کی فرمائش کی جائے ، وعظ کہہ دے، جہاں میلاد کی خواہش کی جائے ، میلاد پڑھ دے اور جہاں مخالفین و منکرین سے سابقہ پڑ جائے، وہاں خم ٹھونک کر میدان مناظرہ میں اتر پڑے۔ یہ ہے تبلیغ کا اصلی طریقہ اور یہ ہے ایک سچے مبلغ کی صحیح تصویرجو ہمارے بہت سے دین دار لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ تعلیم و تبلیغ کے موجودہ ترقی یافتہ اور سائنٹفک طریقوں کے تھوڑے بہت مفید ہونے سے ممکن ہے یہ لوگ منکر نہ ہوں، لیکن خیر و برکت والا طریقہ ان کے نزدیک یہی ہے جو ان کے خیال میں حضرات انبیا نے اختیار فرمایا۔

       ہمارے نزدیک اس طریقہ کو انبیا کا طریقہ سمجھنا کچھ تو انبیا کے طریقے سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے اور کچھ ان حضرات کی اس خواہش کا کہ ان کا اپنا اختیار کیا ہوا طریقہ ، جس کے سوا کسی اور طریقے کو اختیار کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں، ایک محترم و مقدس طریقہ ثابت ہوجائے۔ انبیا کے طریقہ تبلیغ کا جہاں تک ہم نے مطالعہ کیا ہے، اس سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے تبلیغ کے جو طریقے اختیار کئے ہیں، وہ ان کے زمانوں کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ و ترقی یافتہ طریقے تھے اور یہ طریقے حالات کے تغیر اور تمدنی ترقیوں کے ساتھ ساتھ بدلتے بھی رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس معاملہ میں کسی ایک ہی طریق پر اصرار صحیح نہیں ہے، بلکہ داعیان حق کو چاہئے کہ وہ ہر زمانے میں تبلیغ و تعلیم کے وہ طریقے اختیار کریں جو ان کے زمانوں میں پیدا ہوچکے ہوں اور جن کو اختیار کرکے وہ اپنی کوششوں اور قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ مفید اور نتیجہ خیز بنا سکتے ہوں۔  (امین احسن اصلاحی، دعوت دین اور اس کا طریقہ کار)

 

عملی دعو ت کی منصوبہ بندی

دعوتی اہداف کے تعین، مخاطبین کے تجزیے، وسائل کے انتخاب اور دعوتی پیغامات کو تیار کرنے کے بعد اگلا مرحلہ اس دعوت کو اپنے مخاطبین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس کے لئے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ دعوتی اجتماعات کہاں کہاں اور کب کب منعقد کئے جائیں؟ مخاطبین کو اجتماعات میں کس طریقے سے بلایا جائے؟ دعوت دین کے لئے کیالٹریچر تیار کیا جائے؟ لٹریچر کو پھیلانے کے لئے کون کون سے وسائل کا انتخاب کیا جائے؟ مخاطبین کے شکوک و شبہات کو کیسے دور کیا جائے؟ داعین کی تربیت کیسے کی جائے؟ مخاطبین کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ کیسے قائم کیا جائے؟

          زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہاں بطور مثال چند دعوتی منصوبے پیش کر دیے جائیں تاکہ بات زیادہ واضح ہو جائے۔ اس ضمن میں ہم انفرادی  دعوت کا ایک اور اجتماعی دعوت کے دو منصوبے پیش کر رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک درمیانے سائز کے ادارے کے لئے ہے اور دوسرا بڑے ادارے کے لئے ہے۔ 

 

منصوبہ 1: احمد ایک دین دار مسلمان ہے۔ اس کے تین بچے ہیں۔ دو بچے اس کے ایک قریبی دین دار دوست اور تین بچے اس کے بھائی کے ہیں۔ احمد یہ چاہتا ہے کہ وہ ان آٹھ بچوں کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا دے۔ اس کے لئے وہ یہ منصوبہ بناتا ہے:

ہدف

بچوں کو ایک سال کے عرصے میں مکمل قرآن مجید مع ترجمہ پڑھانا

مخاطبین کا تجزیہ

یہ سب کراچی کے ناظم آباد کے رہنے والے بچے ہیں۔ان کی مادری زبان اردو ہے۔ ان میں سے دو کی تعلیم میٹرک اور چھ کی تعلیم مڈل ہے۔ ان سب کی عمریں 13 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔  یہ سب لڑکے ہیں اور شہری ماحول سے تعلق رکھتے ہیں۔

ذرائع و وسائل

قرآن مجید کی کلاس، متعلقہ کتب، ویب سائٹ

عملی منصوبہ بندی

ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے داعی نے ’’آسان قرآن تحریک ‘‘  کے شائع کردہ قرآن مجید کا انتخاب کیا ہے جس میں رنگوں کے استعمال سے ہر ہر لفظ کا الگ الگ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں قرآن مجید کے نزول اور نظم وترتیب سے متعلق انہوں نے  www.studying-islam.org  نامی ویب سائٹ سے آرٹیکل ڈاؤن لوڈ کئے ہیں جن کامطالعہ بچے کریں گے۔  انہوں نے ہفتے میں تین دن دو دو گھنٹے کی کلاسز کا اہتمام کیا ہے۔ ان کا ہدف ایک مہینے میںتقریباً ڈھائی پاروں کا مطالعہ ہے۔ اس طرح وہ پورے سال میں مکمل قرآن مجید پڑھ سکیں گے۔ بچوں کے ماہانہ ٹسٹ بھی لئے جائیں گے تاکہ ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔

 

منصوبہ2: ’’دعوۃ الی اللہ‘‘ ایک دینی ادارہ ہے جو پنجاب کے مختلف علاقوں میں رہنے والے خانہ بدوشوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرنا چاہتا ہے۔ اپنے کام کا آغاز یہ لوگ لاہور کے گرد ونواح میں رہنے والے خانہ بدوشوں سے کرتے ہیں۔

ہدف

ایک سال کے عرصے میں 50 خانہ بدوشوں کو دین اسلام کی تعلیم پر مائل کرنا

مخاطبین کا تجزیہ

چونکہ اب تک ان خانہ بدوشوں پر کوئی دعوتی و تعلیمی نوعیت کا کام نہیں ہوا ، اس لئے ان کی اخلاقی حالت دگرگوں ہے۔ یہ لوگ ہر طرح کے اخلاقی عیب مثلاً چوری چکاری، عصمت فروشی ، منشیات فروشی اور گداگری میں مبتلا ہیں۔ ان کے بچوں کو شروع سے ہی ان کاموں کی تربیت دی جاتی ہے۔ تعلیمی اعتبار سے یہ بہت پسماندہ ہیں اور ان کی اکثریت جھگیوں میں رہتی ہے۔ ان کی مادری زبان سرائیکی یا پنجابی ہے۔ ان میں مختلف  ایج گروپ کے افراد پائے جاتے ہیں۔ دعوت و تعلیم کے لئے سب سے زیادہ مناسب عمر 15سے 20سال کی عمر کے وو لڑکے ہیں جو اپنے ماحول سے بیزار ہیں۔

ذرائع و وسائل

ان کے اپنے علاقوں میں دینی اجتماعات، انفرادی ملاقاتیں، تعلیمی سیشن، تعلیمی وظائف

 

عملی منصوبہ بندی

·   سب سے پہلے ان کی زبان بولنے والے مبلغین تیار کئے جائیں جو لاہور کے گرد و نواح میں موجود خانہ بدوشوں میں اپنے ٹارگٹ لڑکوں کا انتخاب کریں۔  یہ لوگ ان کے ساتھ دوستی کا تعلق قائم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ان کے والدین اور بڑے بوڑھوں سے بھی اچھے تعلقات قائم کریں۔

·   جب یہ مبلغین انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے اپنا اعتماد قائم کر لیں تو ان علاقوں میں ہفتہ وار دینی اجتماع شروع کئے جائیں جس میں مبلغین ان کی اپنی زبان میں دین کا بنیادی پیغام آسان انداز میں پیش کریں۔

·   کچھ عرصے بعد ان لوگوں میں تعلیمی وظائف کا اعلان کیا جائے اور مختلف طریقوں سے والدین کو قائل کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے بھیجیں۔

·   جس دینی ادارے میں انہیں تعلیم دی جائے ، اس کا عمومی ماحول دین پر عمل اور اخلاص و محبت سے معمور ہونا چاہئے۔ ان لڑکوں کے کلاس فیلوز کا انتخاب ایسا کیا جائے جو اخلاقی اعتبار سے تربیت یافتہ ہوں۔ اس طرح اساتذہ اور طلبا مل کر ان کی اخلاقی تربیت کریں۔

·   جب یہ لڑکے دینی و اخلاقی اعتبار سے تیار ہو جائیں تو انہی کو اپنے قبائل میں دعوت کے کام پر مامور کر دیا جائے۔

 

 

منصوبہ 3:  Islam for All  ایک بڑی دینی جماعت ہے جو افریقہ میں دعوت دین کا کام کررہی ہے۔ یہ لوگ غیر مسلموں میں اسلام سے متعلق درست معلومات پہنچانے کا منصوبہ تیار کررہے ہیں۔اس جماعت کی دفاتر اور شاخیں پورے افریقہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کے مبلغین کی مجموعی تعداد تین ہزار ہے جن میں تقریباً دو ہزار مرد اور ایک ہزارخواتین شامل ہیں۔ یہ سب پورے جذبے کے ساتھ دعوت دین کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مبلغین مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور مختلف افریقی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ تعداد زمبابوے، دوسرے نمبر پر کینیا اور تیسرے نمبر پر جنوبی افریقہ میں رہتی ہے۔ ان کی زیادہ تر تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

ہدف

تین سال کے عرصے میں افریقی عوام کی نوجوان نسل تک اسلام کا اصل پیغام پہنچا دینا

مخاطبین کا تجزیہ

افریقی عوام جغرافیائی اعتبار سے کئی ممالک میں منقسم ہیں۔ ہر ملک کا کلچر اور زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مختلف عوامل کو ملا کر بے شمار دعوتی segments   بنائے جاسکتے ہیں۔ تحریک کا ابتدائی ہدف معقولیت کی عمر تک پہنچنے والی نوجوان نسل ہے جو 21 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان مرد و خواتین ہیں۔ یہ ایسا  segment  ہیں جن تک تحریک کے لئے اپنے وسائل کے مطابق دعوت دین پہنچانا نسبتاً آسان ہے۔

ذرائع و وسائل

دینی اجتماعات، انٹرنیٹ، آڈیو اور ویڈیوٹیپس، کتب، رسائل، انفرادی ملاقاتیں

عملی منصوبہ بندی

·      ہر بڑے شہر میں جہاں کم از کم پانچ dedicated   مبلغین موجود ہیں، ہفتہ وار اجتماع شروع کیا جائے۔

·      چھوٹے چھوٹے اجتماعات مختلف یونیوسٹیوں ، کاروباری اداروں، رہائشی علاقوں اور مارکیٹوں میں منعقد کئے جائیں۔

·      تینوں ممالک میں ملکی سطح پر بڑے بڑے سالانہ اجتماعات منعقد کئے جائیں۔

·      انٹرنیٹ پر مختلف زبانوں میں ویب سائٹس بنائی جائیں جن میں اسلام سے متعلق تقریری و تحریری مواد مہیا کیا جائے۔

·      اسلام کے بنیادی پیغام اور اس سے متعلق سوال و جواب پر مشتمل کتب ان تینوں ممالک کی زبانوں میں لکھی جائیں۔

·      ان تینوں زبانوں میں ایک ایک جریدہ جاری کیا جائے جس میں اسلام سے متعلق علمی ، تحقیقی و دعوتی مضامین لکھے جائیں۔

·      ہر مبلغ ذاتی طور پر زیادہ سے زیادہ افراد سے رابطہ کرے اور انہیں تحریکی لٹریچر پہنچائے۔ اس کا باقاعدہ ریکارڈ بھی رکھا جائے ۔

 

 

اگلا باب                          فہرست                           پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability