بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب چہارم: دعوتی پیغام

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دعوت دین کی منصوبہ بندی کے بعد دعوت کا عملی کام شروع ہوتا ہے۔ اس کتاب میں "دعوتی پیغام" سے مراد ہر وہ پیغام ہے جو دین کی دعوت کے لئے کسی بھی ذریعے سے دیا جائے۔ دعوتی پیغام تقریری بھی ہوسکتا ہے اور تحریری بھی۔ آج کل ملٹی میڈیا ٹیکنالوجی کی مددسے سمعی و بصری (Audio-Visual)   پیغامات کی تیاری بھی ممکن ہے۔  اس سیکشن میں ہم مختلف نوعیت کے دعوتی پیغامات کی تیاری کا طریقہ بیان کریں گے۔ دعوتی پیغام خواہ تقریری ہو، تحریری ہو یا آڈیو ویژول ہو ،اس کا ایک مرکزی خیال ہوتا ہے۔ پورا دعوتی پیغام اسی مرکزی خیال کے گرد گھومتا ہے۔  اس کے تمام اجزا اسی مرکزی خیال سے مربوط ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک داعی قرآن کی عظمت بیان کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس کے پیغام کا مرکزی خیال ہوگا۔ اس مقصد کے لئے وہ کچھ آیات مثلاً انا نحن نزلنا الذکر۔۔۔ ، کچھ احادیث، کچھ واقعات، اشعار اور دلائل کی مدد سے ایک تقریر تیار کرتاہے۔ یہ اس کا دعوتی پیغام ہے۔دعوتی پیغام کی تیاری میں چند رہنما اصول انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جو یہ ہیں۔

دعوتی پیغام کی تیاری کے رہنما اصول

پہلا اصول یہ ہے کہ دعوتی پیغام بالکل صحیح اور قرآ ن و سنت کے مطابق ہونا چاہیئے۔ اگر یہ قرآن و سنت کے خلاف ہو گا تو یہ دعوت، دعوت دین نہیں بلکہ شیطانی دعوت بن جائے گی۔ اپنے پیغام میں جو بھی بات شامل کریں ، مستند مآخذ سے حاصل کریں۔ اپنے پاس سے کوئی بات نہ گھڑیں۔ اپنے پیغام میں قرآن مجید کی آیات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام  اور صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کے واقعات ، اچھے شعراء کے اشعار، امثال اور عقلی دلائل کو شامل کیجئے۔ یہ سب چیزیں مرکزی نکتے کی تشریح، توضیح اور تائید میں ہونی چاہیئں۔

          دوسرا اصول یہ ہے کہ دعوتی پیغام کا مواد مخاطب کی نفسیات، پسند، نظریات، ذہنی سطح، اور ضروریات کے مطابق ہونا چاہیئے۔ مثلاً اکثر تعلیم یافتہ افراد معقول چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ ہر بار انہیں نیا مواد ملے جو ان کے ذوق علمی کی تسکین کرسکے۔ جو مبلغ ایسا کرے گا، اسے سننا یا پڑھنا یہ لوگ پسند کریں گے۔ اور جو انہیں رٹا رٹایا مواد بار بار سنائے گا اس سے یہ دور بھاگیں گے۔اس کے برعکس دیہاتی لوگ پر ترنم اور گرج گرج کر تقریر کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ ان میں دعوت کے لئے یہی سٹائل موزوں ہے۔وہاں اگر کوئی فلسفیانہ تقریر کرنے کی کوشش کرے گا تو بری طرح ناکام ہو گا۔

          تیسری بات یہ مدنظر رہے کہ دعوتی پیغام میں ربط کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمارے اکثر مقررین میں یہ کمی ہے کہ وہ ایک بات شروع کرتے ہیں، پھر بات سے بات نکلتی جاتی ہے اور اصل موضوع درمیان میں ہی رہ جاتا ہے۔

          چوتھے یہ کہ، ہر شخص میں بہت سے محرکات ہوتے ہیں، جیسے عقل و دانش، محبت، خوف، لالچ ، حیرت وغیرہ۔ مختلف افراد میں مختلف محرکات غالب ہوتے ہیں۔ جس پیغام میں صرف دلائل ہوں وہ عقل کو تو تحریک دے گا مگر باقی چیزوں کو نہیں۔ اسی طرح نعمتوں کا تذکرہ لالچ کو، محبت کی جذباتی باتیں محبت کو، عذابات کا تذکرہ خوف کو اور کائنات کے عجائب کا تذکرہ حیرت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر داعی کے پیغام میں ایک ہی طرح کی باتیں ہوں گی تو وہ ایک ہی قسم کے لوگوں کو متاثر کر سکے گا اور دوسری قسم کے لوگ اس سے دور ہو جائیں گے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ دعوتی پیغام میں انسان کے ہر محرک کو خطاب کیا جائے۔ 

          پانچویں بات یہ ہے کہ دعوتی پیغام کو اسی طبقے کی زبان اور لہجے میں ہونا چاہیئے جس میں دعوت پیش کی جارہی ہے۔  اگر دعوت کو کسی اور طبقے کی زبان میں پیش کیا جائے جو اگرچہ مخاطبین سمجھتے بھی ہوں لیکن اس کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ انسان اپنی مادری زبان (Native language)   میں پیش کئے گئے پیغام ہی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

          آخری بات یہ ہے کہ  دعوتی پیغام کا انداز سادہ ،باوقار، دلکش اور اثر انگیز ہونا چاہیئے۔ عام لوگوں کے سامنے پیچیدہ اصطلاحات اور مشکل الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ پیغام کے دوران اپنے وقار کا خیال رکھنا چاہیئے اور بے قابو نہیں ہونا چاہیئے۔ کوشش کرنی چاہیئے کہ دعوتی پیغام خوبصورت اور دلکش انداز میں پیش کیا جائے تا کہ ہر کوئی اسے پڑھنا یا سننا پسند کرے۔

دعوتی پیغام کی اقسام اور ان کی تیاری کا طریق کار

جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ دعوتی پیغام دو طرح کے ہوتے ہیں: زبانی اور تحریری۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے کئی اقسام ہیں۔ مثلاً زبانی پیغامات میں تقریر، ذاتی ملاقات، ٹیلی فو نک رابطہ، اور آن لائن وڈیو رابطہ ہیں۔ اسی طرح تحریری پیغامات میں کتاب، آرٹیکل، پمفلٹ ، نظم ، اشتہارات اورPower-point Presentation شامل ہیں۔ ملٹی میڈیا پیغامات ان دونوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ ان سب کی تیاری کے لئے چند گائڈ لائنز پیش کی جارہی ہیں۔

تقریر (Speech)

بیان یا تقریر ایک شخص کا بہت سے افراد سے خطاب ہے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ پیغام ایک ہی وقت میں بہت سے افراد تک پہنچ جاتا ہے۔ اور نقصان یہ ہے کہ سامنے بیٹھے ہر فرد کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس لئے کسی کی انفرادی ضرورت پر توجہ نہیں دی جاسکتی۔  اس کے تیاری کے اصول یہ  ہیں۔

1)        سب سے پہلے اس تقریر کا ہدف متعین کیجئے۔ مثلاً آپ اس تقریر سے اللہ تعالیٰ کا خوف لوگوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں، یا ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عظمت پیدا کرنا چاہتے ہیں ، یا انہیں اسلام کے معاشی نظام کی برکات بتا نا چاہتے ہیں۔

2)        اپنے سننے والوں کا تجزیہ کیجئے۔ مخاطبین اور تقریر کے ماحول کے بارے مختلف پہلوؤ ں پر معلومات حاصل کریں۔ مثلاً جو پیغام آپ پیش کررہے ہیں، مخاطب ان سے کس حد تک واقف ہیں؟کیا مخاطب آپ کے مہیا کردہ مواد سے واقف ہیں؟جو نقطہ نظر آپ بیان کرنا چاہتے ہیں، مخاطب اس سے کس حد تک متفق ہیں؟آپ میں پیغام میں مخاطبین کی دلچسپی کس سطح کی ہے؟آپ کس موقع پر تقریر کر رہے ہیں؟ آیا اس موقع پر طویل تقریر مناسب ہے یا مختصر؟علمی تقریر کرنا بہتر ہو گا یا ناصحانہ؟ دوران تقریر آپ کو فراہم کردہ ماحول کیسا ہے؟ کیا آپ کرسی پر بیٹھے ہوں گے یا زمین پر یا سٹیج پر کھڑے ہوں گے؟ مخاطبین آ پ سے کتنی دور ہوں گے؟ آپ کو سمعی و بصری معاونات میسر ہوں گے یا نہیں؟ (مثلاً لاؤڈ سپیکر، ٹیپ ریکارڈر، تختہ سفید، پروجیکٹر، کمپیوٹر وغیرہ) مخاطبین کی تعلیم، جنس، پیشہ، دلچسپیاں، عمر وغیرہ کیا ہیں؟مخاطبین کس انداز کی تقریر پسند کرتے ہیں؟

3)        اپنی تقریر کی آؤٹ لائن تیا ر کیجئے۔

4)        اس آؤٹ لائن پر مواد اکٹھا کیجئے۔ اس ضمن میں کتب ، علماء کی تقاریر، آپ کا ذاتی غوروفکر، مشاہدہ اور ریسرچ آپ کے ماخذ ہو سکتے ہیں۔

5)        اپنے مواد کو ترتیب دے کر منظم کیجئے۔ شروع میں پیغام کا مقصد اور مواد کا اجمالی خاکہ پیش کیجئے۔ درمیان میں مواد کو تفصیل سے اور آخر میں بات کو سمیٹتے ہوئے اپنی دعوت کو پیش کریں۔اس ضمن میں توجہ(Attention)، دلچسپی(Interest)، خواہش(Desire) اور عمل(Action) کی ترتیب بھی بہت اچھی ہے۔ یعنی پہلے توجہ دلایئے، پھر دلچسپی اور پھر خواہش پیدا کیجئے اور آخر میں عمل کی طرف لایئے۔ علمی و تحقیقی تقاریر میں یہ ترتیب ضروری نہیں۔

6)        اگر آپ نئے نئے مقرر ہیں تو تقریر کو مکمل طور پر لکھ لیجئے۔ تجربے کے ساتھ ساتھ صرف اہم نکات لکھ لینا ہی کافی ہو گا۔شروع شروع میں تقریر کی ریہرسل بھی ضروری ہے۔  اس ضمن میں اپنی تقریر کو ٹیپ کرکے سننا بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

7)        اگر ضرورت ہو تو سمعی و بصری معاونات تیا ر کر لیجئے۔ مثلاً پروجیکٹر کی سلائڈز یا پاور پوائنٹ پر پریزنٹیشن وغیرہ۔

8)        تقریر کے لئے موقع کی مناسبت سے لباس زیب تن کیجئے، بالخصوص وہ لباس جو آ پ کے مخاطبین پسند کریں بشرطیکہ اس میں کوئی اخلاقی و شرعی قباحت نہ ہو۔بالوں کا سٹائل، داڑھی میں کنگھی، اور جسم کا صاف ستھرا ہونا ضروری ہے۔

9)        اپنے دل میں خلوص نیت کو چیک کر لیجئے کہ کہیں تقریر اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ دکھاوے کے لئے تو نہیں دے رہے۔ نیز یہ بھی چیک کر لیجئے کہ اس پیغام پر خود بھی عمل کرتے ہیں یا نہیں۔

10) تقریر کے اختتام پر فوری طور پر اجتماع گاہ سے واپس نہ آجائیے بلکہ وہیں رک کر اپنے مخاطبین کے ساتھ ملاقات کیجئے اور ان سے دوستی پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔ جو لوگ آپ کی تقریر سے زیادہ متاثر ہوں، ان سے بعد میں رابطہ کرنے کی کوشش کیجئے۔

11) اپنے میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔

12) مخاطبین کے ممکنہ سوالات کے جوابات کی تیاری پہلے سے ہی کر لیجئے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ سوال جواب کی نشست میں سوالات تحریری ہوں تاکہ کسی ناخوشگوار بحث سے بچا جاسکے۔ جس سوال کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اس پر بحث کرنے سے کوئی فتنہ پیدا ہوسکتا ہے یا پھر فساد کا خطرہ ہے، اسے مخاطبین کے سامنے پیش نہ کیا جائے۔اس کی بجائے آخر میں جو سوالات باقی رہ گئے ہیں، ان کے سائلین سے درخواست کی جائے کہ وہ مقرر سے بعد میں ذاتی ملاقات کرلیں تاکہ ان کے سوالات پر انفرادی گفتگو میں بحث کی جاسکے۔

13) دوران تقریر باوقار انداز میں کھڑے ہوں ۔ اگر بیٹھ کر تقریر کر رہے ہوں تب بھی باوقار انداز زیادہ مناسب رہے گا۔ اپنی گفتگوکے دوران باوقار اسٹائل اختیار کیجئے۔

14) باڈی لینگویج   بالکل فطری ہونا چاہئے۔ بلاضرورت اپنے جسم کو حرکت نہ دیجئے۔ اس ضمن میں جسم کے مختلف حصوں کے بارے میں چند ہدایات یہ ہیں:

a)  چہرہ: چہرے پر دوستانہ تاثرات ہونے چاہئیں۔ پلکیں نیچے جھکی ہوئی نہ ہوں بلکہ اوپر اٹھی ہوئی ہوں۔ چہرے پر مناسب سی مسکراہٹ ہو۔ اگر آپ کا چہرہ دوستانہ اور مسکراہٹوں سے معمور ہوگا تو مخاطبین پر اس کا اثر اچھا پڑے گا۔

b) ہاتھ: ہاتھ مناسب انداز میں ہلانے چاہئیں۔ بعض لوگ بات بے بات بہت زیادہ ہاتھ ہلاتے ہیں اور بعض دوران تقریر انہیں سامنے یا پشت پر باندھ لیتے ہیں یا پھر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ ان دونوں طریقوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ دوران تقریر مناسب اشارے بھی کرنا چاہئیں۔

c)  آنکھیں: اپنی نظر کو مخاطبین کے چہروں پر رکھیں۔ ہر مخاطب کو یہ احساس رہے کہ آپ اسے اہمیت دے رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ دوران تقریر متوجہ رہیں گے۔ جب آپ اپنے نوٹس پڑھ رہے ہوں تو اس وقت نہ بولیں بلکہ ان پر ایک نظر ڈالنے کے بعد بات کریں۔

d) پاؤں: دوران تقریر آگے پیچھے ہو کر کسی اہم نکتے پر زور دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ضرورت پڑنے پر مثلاً سلائڈ تبدیل کرنے کے لئے یا کوئی چیز اٹھانے کے لئے چلا بھی جاسکتا ہے۔

e)  اوپری حصہ: بعض مقامات پر اپنے دھڑ کے اوپری حصے کو جھکا کر یا سیدھا کرکے اپنی بات میں زور پیدا کیا جاسکتا ہے۔

15) تقریر کے شروع میں لہجہ دھیما ہونا چاہئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آواز تیز ہوتی جائے۔ آخر میں پھر لہجہ دھیماہو جانا چاہئے۔آواز کی بلندی، پچ، اتار چڑھاؤ اور لہجے سے سامعین کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔ کسی بات کو سرگوشی کے انداز میں بیان کریں اور کہیں بلند آواز میں بات کریں۔

16) گفتگو میں ربط ہونا چاہئے۔ اپنی تقریر میں مرکزی خیال پر فوکس کیجیے۔

17) تقریر کے لئے پہلے سے طے شدہ وقت کا خیال رکھیں۔ اپنے مواد کا اس پہلو سے تجزیہ کر لیجیے کہ اگر تقریر لمبی ہو جائے تو اس کے مواد میں سے کیا کیا چیزیں چھوڑ کر اسے مقررہ وقت میں مکمل کرنا ہے۔ اسی طرح اگر مواد جلدی ختم ہو جائے تو اس میں کیا کیا اضافی چیزیں ڈال کر اسے مقررہ وقت تک لے جاناہے۔

18) دعوتی تقاریر میں اختلافی بالخصوص فرقہ وارانہ مسائل کو چھیڑنے سے اجتناب کیجیے۔دوران تقریر شدت پسندی سے بھی پرہیز کیجیے اور جو بھی بولیے، خوب سوچ سمجھ کر بات کیجیے۔

19) تقریر میں گھسے پٹے جملوں اور منفی الفاظ کا استعمال نہ کریں۔ اسی طرح اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کوئی لفظ یا جملہ آپ کا تکیہ کلام نہ بن جائے۔

20) اپنی تقریر کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے اچھے مقررین کی تقاریر سنتے رہئے۔

21) اپنے ہی الفاظ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی فطری انداز میں بات کیجئے۔ کسی دوسرے کے الفاظ یا انداز کے استعمال سے تقریر میں مصنوعی پن پیدا ہو جائے گا۔

22) اپنے مخاطبین کو عزت و احترام سے مخاطب کریں اور حتی الوسع کوئی منفی جملہ نہ کہیں تاکہ ان میں آپ کے پیغام کے خلاف ضد پیدا نہ ہو۔  تحکمانہ لہجے سے اجتناب کیجئے۔

23) د عوتی پیغامات کو حتی الوسع آسان اور قابل فہم رکھئے۔ فلسفیانہ موشگافیوں اور لچھے دار تقاریر سے پرہیز کیجئے۔

24) مناظرانہ انداز کی بجائے خیر خواہانہ انداز اپنائیے۔

25) اس بات کا خیال رکھئے کہ آپ کا کام دین کی دعوت کو احسن انداز میں مخاطب تک صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ ان پر مسلط ہو کر زبردستی دین پر عمل کروانا آپ کے فرائض میں شامل نہیں۔

26) اگر کسی ایسے موضوع پر گفتگو کرنا ضروری ہو جو آپ کے اور مخاطب کے درمیان اختلافی ہو تو ہمیشہ آغاز کسی متفق علیہ بات سے کیجئے۔

27) مشکل بات کو واضح کرنے کے لئے مختلف اسالیب اور پیرائے میں اپنی بات کو دہرائیے تاکہ مخاطب اسے اچھی طرح ذہن نشین کرلے۔

28) اگر آپ کو اپنے مخاطب کی محبوب شخصیات پر تنقید کرنا مقصود ہو تو اس میں ہمیشہ علمی اور خیر خواہانہ انداز اختیار کریں۔ کبھی کسی کی ذاتیات پر حملہ نہ کریں ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام 6:108)  ’’اور اللہ کے سوا یہ جن کو پکارتے ہیں ، تم انہیں گالی نہ دو کہ اس کے نتیجے میں وہ بے خبری میں تجاوز کرکے اللہ کو گالیاں نہ دینے لگیں۔ ‘‘

ذاتی ملاقات

تقریر کے برعکس ذاتی ملاقات میں ایک داعی ایک ہی شخص سے ملتا ہے اور اسے دین کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح وہ ہر شخص کو اس کی ضروریات اور نفسیات کے مطابق ڈیل کر لیتا ہے۔ تقریر کے ضمن میں جو نکات بیان ہوئے ، ان میں سے کئی ذاتی ملاقات میں بھی کارآمد ہیں۔ ذاتی ملاقات کے لئے مخصوص رہنما اصول یہ ہیں:

1)              ملاقات کا ہدف متعین کیجئے۔ مثلاً اس ملاقات سے آپ مخاطب کو نماز پڑھنے پر قائل کرنا چاہتے ہیں، یا اسے محض کسی دینی پروگرام میں شرکت کے لئے تیا ر کرنا چاہتے ہیں۔

2)              مخاطب کی نفسیات اور دیگر خصوصیات کے متعلق غور کر لیجئے۔

3)              ملاقات میں مخاطب سے جو بات کرنی ہے اس کے پوائنٹس کو سوچ لیجئے۔ چونکہ داعین نے عموماً بہتٍ سی ملاقاتیں کرنا ہوتی ہیں اس لئے اسے لکھنے کی ضرورت نہیں۔

4)              مخاطب سے گفتگو کا آغاز السلام علیکم  سے کیجئے۔ شروع ہی میں اپنی دعوت پیش نہ کر دیں بلکہ اس کی دلچسپی کے موضوعات پر گفتگو شروع کیجئے۔ پھر آہستہ آہستہ اپنی دعوت کی طرف آیئے۔ اور مخاطب کے  فیڈ بیک کے مطابق بات کو بدلتے جائیے۔

5)              داعی کا لباس اور شکل و صورت وہ ہونی چاہیئے جو مخاطب کو متاثر کر سکے۔ اسی طرح داعی کو ان موضوعات پر وسیع معلومات کا ہونا ضروری ہے جن پر مخاطب بات کرنا پسند کرتا ہے۔

6)              گفتگو کا انداز نرم اور محبت بھرا ہونا چاہیئے۔سخت اور طنزیہ گفتگو سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

7)               کبھی مخاطب، اس کے نظریات یا اس کی محبوب شخصیات پر براہ راست تنقید نہ کریں بلکہ ان ڈائرکٹ طریقے سے ہی بات کریں۔

8)              اگر ممکن ہو تو مخاطب کی حیثیت کے مطابق کوئی تحفہ دے دیجئے ، اس سے محبت بڑھتی ہے۔

9)              ملاقات کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہونا چاہیئے۔ داعی کو کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ مخاطب سے کوئی دنیاوی فائدہ حاصل نہ کرے بلکہ اسے کوئی فائدہ پہنچائے۔ اس سے اس کی دعوت انشاء اللہ بہت ترقی کرے گی ۔

10)       دوران ملاقات ایسی حرکتوں سے اجتناب کریں جو مخاطب پر منفی تاثر قائم کریں مثلا ً بے زاری کے تاثرات، بار بار گھڑی دیکھنا، جسم پر بار بار خارش کرنا، تھوکنا، ناک یا کان سے میل نکالنا، پان کھانا اور اس کی پیک پھینکنا، سگریٹ پینا اور دھواں چھوڑنا وغیرہ وغیرہ۔

11)       اگر آپ دیکھیں کہ آپ کا مخاطب اس وقت ہنسی مذاق، اعتراض یا نکتہ چینی کی طرف مائل ہے یا پھر اتنا تھکا ہوا ہے کہ بات نہ سن سکے گا یا پھر کسی کام میں مشغول ہے تو اپنی دعوت پیش نہ کریں ۔ ایسا اسی وقت کریں جب وہ اس کی طرف مائل ہو تاکہ وہ بات کو پوری طرح سن کر سمجھ سکے۔

 

آن لائن رابطہ

ذاتی اور ٹیلیفونک رابطے میں ایک فرق تو وقت کا ہے اور دوسرا یہ کہ داعی اور مخاطب ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے۔ اس لئے آواز میں اتار چڑھاؤ اور لہجے کی بہت اہمیت ہے۔باقی رہنما اصول وہی ہیں جو ذاتی ملاقات کے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ  چیٹنگ میں اگر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہوں تو وہاں ذاتی ملاقات والے اصول ہی کارآمد ہوں گے۔

 

تحریری دعوتی پیغامات

کتاب، خط، پمفلٹ، آرٹیکل، ای میل اور دیگر تحریری ذرائع میں وہی اصول ہیں جو تقریر کے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تقریر میں آواز کے اتار چڑھاؤ کی اہمیت ہوتی ہے اور جبکہ تحریر میں یہی جذبات و احساسات اور طریقوں سے پہنچائے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں چند راہنما اصول یہ ہیں۔

1)              اپنے ہدف کا تعین کیجئے۔ کیا آپ کسی کام کے لئے لوگوں کو تیار کرنا چاہ رہے ہیں یا کسی موضوع پر چند معلومات ان تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہدف کے بارے میں یہ جائزہ لینا نہ بھولئے کہ کیا یہ ہدف حقیقت پسندانہ ہے؟ کیا اس موضوع پر تحریر لکھنے کے لئے وقت اور حالات سازگار ہیں؟ اور کیا یہ پیغام درست افراد تک پہنچ جائے گا؟  یہی ہدف آپ کی تحریر کا مرکزی خیال بنے گا۔

2)              اپنے مخاطبین کا تجزیہ کیجئے۔ آپ کے مخاطبین کس ملک، کس علاقے اور کس نقطہ نظر سے تعلق رکھتے ہیں؟ ان کا ایج گروپ کیا ہے؟ وہ اس موضوع سے دلچسپی بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟ اس موضوع سے متعلق ان لوگوں کے ذہنوں میں کیا سوالات پائے جاتے ہیں؟  آپ اپنی تحریر میں جو نقطہ نظر پیش کریں گے اس پر ان کا رد عمل کیا ہوسکتا ہے؟  اگر آپ انٹر نیٹ یا ای میل کے ذریعے اپنی دعوت پیش کر رہے ہیں تو مخاطب کے کلچر اور اس کی اقدار سے واقفیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ایسی بات کر جائیں جو ہمارے اپنے کلچر میں تو بڑی مناسب ہو لیکن مخاطب کے لئے وہ بالکل ہی غیر مناسب ہو۔

3)              تحریر کا سائز موضوع کی مناسبت، مواد کی فراہمی، مخاطب کے ذوق اور اشاعت کے وسائل کی دستیابی کے لحاظ سے چھوٹا یا بڑا ہونا چاہئے۔ دعوتی تحریروں کو مختصر ہونا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ انہیں پڑھ لیں۔ علمی و تحقیقی مضامین چونکہ مخصوص ذوق کے لوگ ہی پڑھتے ہیں اس لئے ان کے طویل ہونے میں حرج نہیں۔

4)              تحریر لکھنے سے پہلے اس کی آؤٹ لائن تیار کیجئے تاکہ اس خاکے کے مطابق تحریر لکھی جاسکے۔ تحریر سے متعلق مواد اکٹھا کیجئے۔ اس موضوع پر نئے نئے آئیڈیاز اکٹھے کیجئے۔ نئے آئیڈیاز کے حصول کے لئے اپنے دوستوں اور اہل علم سے اس موضوع پر برین اسٹارمنگ کیجئے۔ اس موضوع پر مختلف کتب کا مطالعہ کیجئے۔ چلتے پھرتے اس موضوع پر سوچنے کا عمل جاری رکھئے۔ جیسے ہی کوئی آئیڈیا حاصل ہو اسے کسی جگہ تحریر کر لیجئے۔

5)              اپنی تحریر کا سکوپ متعین کیجئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریر کی حدود کا تعین کر لیجئے یعنی کیا چیز اس میں شامل ہوگی اور کیا چیز نہیں۔

6)              تحریر کے میڈیا کا تعین کیجئے کہ آپ تحریر کو کس صورت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ آیا یہ کوئی کتاب ہوگی یا کوئی آرٹیکل ہوگا؟ یہ کوئی خط ہوگا یا ای میل؟ آپ اپنی تحریر کو انٹر نیٹ کے ذریعے پیش کریں گے یا اسے کتابی صورت میں چھپوائیں گے؟

7)              مواد کو عنوانات اور ذیلی عنوانات میں تقسیم کر دیجئے تاکہ تحریر کو اچھے طریقے سے منظم کیا جاسکے۔ اس ضمن میں تحریر کے مرکزی خیال سے متعلق اہم نکات نوٹ کرلیں اور ان سے متعلق تفصیلات اکٹھا کرلیں۔ مواد کو پیش کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک ڈائرکٹ یعنی سب سے پہلے مرکزی خیال کو پیش کریں اور پھر اس سے متعلق دلائل اور دیگر مواد پیش کریں ؛ اور دوسرا ان ڈائرکٹ یعنی پہلے دلائل اور دیگر مواد پیش کرتے ہوئے اس سے استدلال کیا جائے اور آخر میں مرکزی خیال کو پیش کیا جائے۔ ضرورت کے مطابق ان میں سے کسی بھی طریقے کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ حساس موضوعات میں بالعموم ان ڈائرکٹ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ایسے موضوع جن پر اتفاق رائے پایا جاتا ہو ، ڈائرکٹ طریقے سے بیان کئے جاتے ہیں۔ اپنی تحریر میں ربط اور تسلسل کا خاص خیال رکھئے۔

8)              تحریر کا عنوان اور مواد ایسا ہونا چاہئے جو قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو۔ بور قسم کے عنوانات اور چیزوں سے پرہیز کیجئے۔

9)              خط ، ای میل یا کوئی اور تحریر کرتے ہوئے اس کے آداب کا خیال رکھئے۔مثلاً خط لکھنے کا ایک معروف سانچہ (Layout)   ہے۔ اس کی پابندی کیجئے۔ اسی طرح ای میل کرتے ہوئے اس کے معروف طریقے کا خیال رکھئے۔

10)       تحریر کی فارمیٹنگ بہت اہم ہے۔ اس میں  font, size, paragraphic indents, colour, borders, bullets, & background   زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس ضمن میں کسی اچھے سافٹ وئیر کو سیکھ لینا چاہئے تاکہ مصنف اپنی کتاب کی فارمیٹنگ خود کرسکے۔ مشکل چیزوں کو جداول (Tables) اور ڈایا گرام کی شکل میں بھی واضح کیا جاسکتا ہے۔

11)       قاری کے لئے عزت و احترام کے جذبات ملحوظ خاطر رکھئے۔ اسے حقارت سے مخاطب نہ کیجئے ۔  خود کو اس کے خیر خواہ کے طور پر پیش کیجئے۔

12)       تحریر میں شامل مواد کی علمی حیثیت پر اطمینان کر لیجئے۔ اگر مواد میں کوئی غلط چیز شامل ہوئی تو یہ قارئین پر برا اثر چھوڑے گی۔ تحریر پر بار بار نظر ڈالئے۔ اس کے نتیجے میں سمجھ آنے والی غلطیوں کی فوراً اصلاح کیجئے۔ اگر کوئی نیا آئیڈیا سامنے آ جائے تو اس کے مطابق تحریر میں تبدیلی کرتے رہیئے۔ 

13)       تحریر کا جائزہ لیتے وقت آپ نے جو خیالات پیش کئے ہیں، ان کی علمی حیثیت، پیش کرنے کا اسلوب، الفاظ کا استعمال اور جملوں کی ساخت کو مدنظر رکھئے۔ اس بات کا تجزیہ کیجئے کہ آپ اس تحریر سے جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا وہ اس سے پورا ہوسکتا ہے؟

14)       ایسے الفاظ یا جملوں سے اجتناب کیجئے جو آپ کے تاثر کو خراب کرے۔ مختلف جنس، مذہب، مسلک، عمر اور علاقے سے تعلق رکھنے والے مخاطبین کی جگہ خود کو رکھ کر اپنی تحریر کو پڑہیں اور دیکھیں کہ اس کے نتیجے میں مخاطب میں کیا رد عمل پیدا ہو سکتا ہے۔ عوام الناس کے سامنے پیش کرنے سے قبل اپنی تحریر چند دوستوں کو دکھا لیجئے تاکہ اس قسم کی چیزوں کو دور کیا جاسکے۔

15)       تحریر میں اپنا فون نمبر یا ای میل ایڈریس دینا نہ بھولئے تاکہ مخاطب آپ سے رابطہ کرکے اپنا  فیڈ بیک دے سکے۔

 

مخاطب کے رد عمل (Feedback) کا مشاہدہ و تجزیہ اور اس کے مطابق حکمت عملی پر نظر ثانی

جب دعوتی پیغام مخاطب تک پہنچتا ہے تو وہ رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔  یہ رد عمل مثبت بھی ہوسکتا ہے، منفی بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مخاطب کوئی رد عمل ظاہر نہ کرے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: اگر مخاطب دعوت کو قبول کرتا ہے یا اسے پسند کرتا ہے تو اسے مثبت رد عمل کہتے ہیں۔مخاطب کے مثبت رد عمل کے جواب میں داعی یہ اقدامات کر سکتا ہے۔

·      مخاطب کی حوصلہ افزائی

·      مزید دلائل دے کر مخاطب کو دعو ت کی قبولیت پر مزید پختہ کرنا

·      ان عوامل کا جائزہ لینا جن کی وجہ سے مخاطب نے دعوت کو قبول کیا اور ان عوامل پر آئندہ توجہ دینا۔

·      مخاطب کے اشکالات اور سوالات کے جوابات دینا

·      بعد ازاں مخاطب سے مسلسل ملاقاتیں کر کے اسے کی مزید اصلاح کی کوشش کرنا

اگر مخاطب، داعی کی دعوت کو رد کر دیتا ہے یا اسے قبول کرنے میں تذبذب کا اظہار کرتا ہے تو اسے منفی رد عمل کہتے ہیں۔یہ دو طرح کا ہو سکتا ہے : ایک واضح انکار اور دوسرا تذبذب۔ اگر مخاطب متعصب ہے تو اس کا تعصب دور کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اگر پھر بھی وہ نہ مانے تو داعی کو چاہیئے کہ وہ اذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاما یعنی ’’جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے  ہیں تو وہ سلام کہہ کر رخصت ہو جاتے ہیں‘‘ پر عمل پیرا ہو جائے۔ اگر مخاطب متعصب نہیں تو اسے دلائل دے کر قائل کرنا چاہیئے یہاں تک کہ اسکا منفی رد عمل ، مثبت ہو جائے۔ اس سلسلے میں اس کے شکوک و شبہات دور کرنا بہت اہم ہے۔           ایک تیسری صورت بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ مخاطب داعی کے پیغام میں کسی حقیقی خامی کی نشاندہی کردے۔ اس صورت میں داعی کو چاہئے کہ وہ فوراً اپنی اصلاح کی کوشش کرے اور اصلاح کے بعد مخاطب کو اس سے مطلع بھی کرے تاکہ اس کے دل میں قائم کسی منفی تاثر کا ازالہ کیا جاسکے۔

          اگر مخاطب نہ تو داعی کی بات مانے اور نہ ہی رد کرے بلکہ خاموشی اختیار کرے تو اسے صفر رد عمل کہتے ہیں۔ اس صورت میں داعی کو چاہیئے کہ وہ رابطہ کرکے اس کا رد عمل معلوم کرے اور اس کے مطابق اسے ڈیل کرے۔

 

دعوت دین کے عملی طریق کار سے متعلق چند رہنما اصول یہاں بیان کئے گئے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ داعی حضرات ان اصولوں پر عمل کرکے دعوت دین کا کام بہتر انداز میں سرانجام دے سکیں گے۔ آپ سے گذارش ہے کہ اس سلسلے میں آپ اپنے تجربات سے بھی مصنف کو آگاہ کریں تاکہ ان قیمتی معلومات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کیا جاسکے۔

                             فہرست                           پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability