بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

یہ تحریر پرنٹڈ کتاب کی شکل میں شائع ہو چکی ہے، اسے خریدنے کے لیے آپ پبلشر سے رابطہ کر سکتے ہیں: شفیق احمد۔ موبائل نمبر 0092-332-3051201

 

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

علم نفسیات (Psychology) میں شخصیت کا مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ شخصیت کی ایک جامع و مانع تعریف کرنا بہت مشکل ہے۔ سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی انسان کی شخصیت اس کی ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات (Personality Attributes)  کا مجموعہ ہے۔  اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ تمھارے دوست کی شخصیت کیسی ہے؟ تو ہم جواب میں فوراً اس کی چند صفات کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ محنتی، وقت کا پابند، ذہین اور مخلص ہے۔

          ان میں سے بہت سی خصوصیات مستقل ہوتی ہیں، لیکن طویل عرصے کے دوران ان میں تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہے اور انہی خصوصیات کی بنیاد پر ایک شخص دوسرے سے الگ نظر آتا ہے اور ہر معاملے میں دوسروں سے مختلف رویے اور کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اگر کسی کی شخصیت کو درست طور پر جان لیا جائے تو پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ وہ فرد مخصوص حالات میں کیا کرے گا۔  ان میں سے بعض صفات عارضی حالات کی پیداوار بھی ہوتی ہیں۔

          علم نفسیات کی طرح شخصیت اور کردار کی تعمیر دین کا بھی اہم ترین موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی جو ہدایت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعے دنیا میں بھیجی ہے ، اس کا بنیادی مقصد ہی انسان کی شخصیت اور کردار کی صفائی ہے۔ اسی کا نام ’’تزکیہ نفس‘‘ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ۔ (الجمعہ 62:2)   ’’وہی ذات ہے جس نے ان امیوں میں ایک رسول انہی میں سے اٹھایا ہے جو اس کی آیتیں ان پر تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور (اس کے لئے) انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘

          انسان کی یہ خصوصیات بنیادی طور پر دو قسم کی ہیں: ایک تو وہ ہیں جو اسے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں ۔ یہ غیر اکتسابی یا قدرتی صفات کہلاتی ہیں۔ دوسری وہ خصوصیات ہیں جنہیں انسان اپنے اندر یا تو خود پیدا کر سکتا ہے یا پھر اپنی قدرتی صفات میں کچھ تبدیلیاں پیدا کرکے انہیں حاصل کرسکتا ہے یا پھر یہ اس کے ماحول کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ اکتسابی صفات کہلاتی ہیں۔ قدرتی صفات میں ہمارا رنگ، نسل ، شکل و صورت ، جسمانی ساخت ، ذہنی صلاحیتیں وغیرہ شامل ہیں۔ اکتسابی صفات میں انسان کی علمی سطح، اس کا پیشہ، اس کی فکر وغیرہ شامل ہیں۔

       شخصیت کی تعمیر ان دونوں طرز کی صفات کو مناسب حد تک ترقی دینے کرنے کا نام ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی شخصیت کو دلکش بنانے کے لئے اپنی قدرتی صفات کو ترقی دے کر ایک مناسب سطح پر لے آئے اور اکتسابی صفات کی تعمیر کا عمل بھی جاری رکھے۔

          شخصیت کے باب میں ہمارے نزدیک سب سے اعلیٰ و ارفع اور آئیڈیل ترین شخصیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ اعلیٰ ترین صفات کا اس قدر حسین امتزاج ہمیں کسی او رشخصیت میں نظر نہیں آتا۔ آپ بحیثیت ایک انسان اتنی غیرمعمولی شخصیت رکھتے ہیں، کہ آپ کی عظمت کا اعتراف آپ کے مخالفین نے بھی کیا۔ دور جدید کے متعصب مغربی مفکرین نے بھی آپ کی شخصیت اور کردار کی عظمت کو کھلے لفظوں میں بیان کیا ہے۔

          قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ہمیں سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شخصیات کے بہت سے اعلیٰ پہلو ملتے ہیں لیکن ان سب میں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں صحیح اور درست معلومات بہت کم میسر ہیں۔ یہ خصوصیت صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے کہ آپ کی سیرت طیبہ کا تفصیلی ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔ آپ کے زیر تربیت صحابہ کرام علیہم الرضوان میں بھی ہمیں اعلیٰ شخصی صفات بدرجہ اتم ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اس تحریر میں آپ کو جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی سیرت سے حوالے ملیں گے۔

          انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا ظاہر اور دوسرا اس کا باطن۔ انسان کا ظاہر وہ ہے جو دوسرے لوگوں کو واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس میں اس کی ظاہری شباہت اور رویے شامل ہیں۔ باطن میں انسان کی عقل، علم، جذبات، احساسات اور رجحانات شامل ہیں۔ عام طور پر انسانوں کا ظاہر ان کے باطن ہی کا عکس ہوتا ہے البتہ بعض افراد عارضی طور پر اپنے باطن پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔

          جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ ان میں سے بعض صفات مستقل نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کچھ کیفیات عارضی نوعیت کی ۔ انسان کی مستقل صفات وہ ہوتی ہیں جو ایک طویل عرصے میں ارتقاء پذیر ہوتی ہیں اور ان میں تبدیلیاں بہت آہستہ آہستہ آتی ہیں۔ یہ صفات انسان کی پوری عمر اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ مثلاً انسان کی علمی و عقلی سطح ایک طویل عرصے میں ہی بلند ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی کی رفتار کو سالوں میں ناپا جاتا ہے۔ اس کے برعکس انسان کی خوشی یا غمی ایک عارضی کیفیت ہے جو ہر تھوڑی دیر کے بعد بدل جاتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص پانچ بجے خوش ہو لیکن ساڑھے پانچ بجے کسی وجہ سے غمگین ہو گیا ہو۔ انسان کی مستقل صفات اس کی عارضی کیفیتوں پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ اگر انسان اپنی عارضی کیفیتوں میں بھی ایک مخصوص رویہ اختیار کرنے لگ جائے تو یہ بھی اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر بات بات پر بھڑک اٹھتا ہو تو سب لوگ اس کی شخصیت کے تصور میں اس کا غصہ ور ہونا بھی شامل کر دیتے ہیں۔

            ذیل میں ہم انسان کی شخصیت کے ان دونوں پہلوؤں کی تفصیلی صفات کی ایک نامکمل فہرست دے رہے ہیں۔ آپ مزید غور و فکر کرکے اس فہرست میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

·      ذہانت

·      قوت برداشت

·      ذہنی پختگی

·      صبر و شکر

·      علمی سطح

·      ٹیم اسپرٹ

·      خود انحصاری یا دوسروں پر انحصار

·      طرز فکر اور مکتب فکر

·      خود غرضی

·      فطری رجحان

·      قائدانہ صلاحیتیں

·      تخلیقی صلاحیتیں

·      عصبیت

·      عادات

·      انتہا پسندی

·      خوشی و غمی

·      احساس ذمہ داری

·      قانون کی پاسداری

·      قوت ارادی او رخود اعتمادی

·      ظاہری شکل و شباہت اور جسمانی صحت

·      شجاعت و بہادری

·      چستی

·      انصاف پسندی

·      ایثار

·      کامیابی کی لگن

·      احساس برتری یا کمتری

·      بخل و سخاوت

·      خوش اخلاقی

·      لالچ اور قناعت

·      معاملہ فہمی

·      فنی اور پیشہ ورانہ مہارت

·      جوش و ولولہ

·      ابلاغ کی صلاحیتیں

·      جنسی جذبہ

·      اپنے ارد گرد کی چیزوں کے بارے میں رویہ

·      غصہ

·      خطرات کے بارے میں رویہ

·      مایوسی و تشویش کی صورت میں رویہ

·      پسندیدگی اور ناپسندیدگی

·      جذبات و احساسات کا طریق اظہار

·      محبت و نفرت

·      غیبت

·      اخلاص

·      خوف

·      حیرت و تجسس

·      ترجیحات

جب ہیرے کو کان سے نکالا جاتا ہے تو یہ محض پتھر کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے۔ ایک ماہر جوہری اسے تراش خراش کر انتہائی قیمتی ہیرے کی شکل دیتا ہے۔ انسان کی شخصیت کو بھی تراش خراش کر ایک اعلیٰ درجے کی شخصیت بنانا بھی اسی قسم کا فن ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہیرا جوہری کے ہاتھوں میں مجبور ہوتا ہے کہ وہ جیسی شکل چاہے، اسے دے دے جبکہ انسان ایک زندہ مخلوق ہے۔ اس کی شخصیت کی تراش خراش کرنے والے والدین ، اساتذہ اور دوست اپنی مرضی سے اسے کوئی شکل نہیں دے سکتے بلکہ اس میں سب سے زیادہ اہم چیز اس کی اپنی آمادگی بھی ہوتی ہے۔ اگر کوئی فرد اس سانچے میں نہ ڈھلنا چاہے جس میں اس کے والدین ، اساتذہ یا دوست ڈھالنا چاہتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اس پر مجبور نہیں کرسکتی۔ ہاں ایسا ضرور ہے کہ جبر کے تحت وہ کسی کام سے رک جائے لیکن چھپ چھپ کر اس کام کو کرنے سے جبر اسے نہیں روک سکتا۔انسان کی مستقل صفات کو کس طرح تراشا کیا جائے؟ اس میں کیا تراش خراش کی جائے جس کے نتیجے میں یہ شخصیت کا ایک بہترین نمونہ بن سکے؟ اس کی کچھ تفصیل اس تحریر میں پیش کی گئی ہے۔ اس تحریر میں بہت سے مقامات پر امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "تزکیہ نفس" سے ماخوذ ہیں:

ذہانت (Intelligence)  

ذہانت ایسی چیز ہے جو انسان کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے۔انسان اس میں کسی حد تک اضافہ کر سکتا ہے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ اس کے استعمال کو بہتر بناسکتا ہے۔ایک عام ذہنی سطح کے انسان کو ذہین تو نہیں بنایا جاسکتا لیکن اسے یہ دولت جس حد تک ملی ہے اسے بہتر طور پر استعمال ضرور کیا جاسکتا ہے۔

          ذہانت کے بارے میں کچھ غلط تصورات بھی پائے جاتے ہیں جن کے مطابق یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ موروثی چیز ہے ،یا یہ کہ مرد عورتوں سے، پڑھے لکھے ان پڑھوں سے، امیر غریبوں سے، شہری دیہاتیوں سے ، اعلیٰ سمجھی جانے والی ذاتیں ادنیٰ سمجھی جانے والی ذاتوں سے، سفید فام نسل دوسری نسلوں سے اور مغربی اقوام مشرقی اقوام سے زیادہ ذہین ہیں۔ ان تصورات کی کوئی حقیقت نہیں۔ دراصل مردوں، تعلیم یافتہ افراد، امیروں، شہر میں رہنے والوں، اعلیٰ سمجھی جانے والی ذاتوں، سفید فاموں اور اہل مغرب کو دنیا میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع زیادہ ملتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔ جہاں کہیں خواتین، غرباء او ردیگر طبقات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کر موقع ملا ہے، ان کی ذہانت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

          اپنی ذہانت کی پیمائش کے کئی اسکیل دنیا میں رائج ہیں جو کہ IQ-Intelligence Quotient)) ٹیسٹ کہلاتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر ایسے کئی ٹیسٹ دستیاب ہیں۔ان کے ذریعے اپنی ذہانت کی کسی حد تک پیمائش کی جاسکتی ہے۔

          ذہانت کو قابل استعمال بنانے کے لئے کئی طریق ہائے کار ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اپنی علمی سطح کو بلند کیا جائے ، علم کے ساتھ ساتھ ذہانت بھی خود بخود بڑھ سکتی ہے۔ ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے بہت سی کھیلیں بھی ایجاد کی گئی ہیں جن میں اپنی اپنی عمر اور دلچسپی کے مطابق مناسب کھیل کھیل کر ان صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ قدیم دور سے طلبا ء کو منطق کی مشقیں کروا کر ان کی ذہانت کی سطح بلند کی جاتی تھی۔ آج کے دور میں بھی Applied Mathamatics کا مضمون اسی مقصد کے لئے پڑھایا جاتا ہے۔

          والدین اور اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد کی ذہانت بڑھانے کے لئے انہیں ایسے مضامین اور کھیلوں کی ترغیب دیں۔ تجربے (Exposure)  کے ساتھ ساتھ انسان میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو لوگ دنیا سے کٹ کر رہتے ہیں، ان کی صلاحیتیں پوری طرح کھل نہیں پاتیں جبکہ ایسے لوگ جو ہر طرح کے تجربے سے گزرتے ہیں، ان کی ذہنی صلاحیتیں بہتر انداز میں نشوونما پاتی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ کہا جاتا ہے کہ جو بچے اپنے والدین کے کلچر سے متضاد کلچر میں پرورش پاتے ہیں، ان میں قوت خود اعتمادی اور ذہانت زیادہ ہوتی ہے۔

          آپ کو ذہانت کی جتنی دولت نصیب ہوئی ہے ، اس کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے دین کے کاموں میں بھی خرچ کریں ۔ اپنے غور و فکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کیجئے اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اس کے دین کی دعوت میں استعمال کیجئے۔

ذہنی پختگی (Maturity)   

ذہنی پختگی تجربے کے ساتھ آتی ہے۔ اسے عمر کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں کیونکہ بعض عمر رسیدہ افراد بھی کئی معاملات میں پختہ نہیں ہوتے۔ اس کی واضح مثال ہمارے دور میں کمپیوٹر سائنسز کی فیلڈ ہے۔ اس میدان میں عام طور پر نوجوان ، عمر رسیدہ افراد کی نسبت زیادہ پختگی رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اس کا زیادہ تجربہ ہوتا ہے۔ ہمارے دور میں زندگی اتنی پیچیدہ ہو چکی ہے کہ اب اس کے ہر معاملے میں ذہنی پختگی حاصل کرنا کسی ایک شخص کے لئے ممکن نہیں رہا۔ آپ زندگی کے جن جن معاملات مثلاً تعلیم، پیشے وغیرہ میں پختگی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیجئے اور اپنے علم کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھیے۔ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھئے اور انہیں دوہرانے سے پرہیز کیجئے۔ اسی سے اس خاص معاملے میں ذہنی پختگی حاصل ہوگی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کو یوں بیان فرمایا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا۔ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔ البتہ عقل مند لوگ بہت مرتبہ خود تجربہ کرنے سے پہلے دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہر سائنس دان اپنی تحقیق کا آغاز پہیے کی ایجاد ہی سے کرتا تو دنیا میں اس قدر سائنسی ترقی نہ ہوسکتی۔ دوسروں کے تجربات سے حاصل کردہ نتائج کو آگے بڑھایے اور مزید پختگی حاصل کرتے جائیے۔

علمی سطح

علمی سطح کو بلند کرنے کے دو ہی طریقے ہیں یعنی مطالعہ و مشاہدہ اور تجربہ۔ مطالعے و مشاہدے کے ذریعے انسان دوسروں کا دریافت کردہ علم حاصل کرتا ہے اور تجربے کے ذریعے اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہے۔ اہل علم کی صحبت اختیار کیجئے اور زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیجئے اور حاصل کردہ علم کو عملی تجربے کی کسوٹی پر پرکھیے۔ اسی سے ذہنی پختگی کے ساتھ ساتھ علمی سطح بھی بلند ہوگی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے رب سے علم میں اضافے کی دعا کیا کرتے تھے۔

          ذہانت اور علم کے ساتھ ایک فتنہ بھی وابستہ ہے اور وہ غرور و تکبر کا فتنہ ہے۔ جو انسان زیادہ ذہین ہو یا پھر بڑا عالم ہو، بالعموم دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور کسی اور کی بات کو قبول کرنے کی زحمت نہیں کرتا خواہ وہ بات حق ہی کیوں نہ ہو۔ جب بھی ایساخیال آئے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کیجئے اور یہ سوچئے کہ یہ ذہانت اور علم کس کا عطا کردہ ہے؟ اگر تو اسے آپ نے خود ہی پیدا کیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جس نے اسے عطا فرمایا ہے وہ اسے چھین بھی سکتا ہے۔

طرز فکر اور مکتب فکر

ہر انسان ایک مخصوص طریقے سے سوچتا ہے۔ وہ بعض چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اور بعض کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف علوم میں مکاتب فکر (Schools of Thought)   وجود میں آتے ہیں۔ کسی بھی علمی میدان میں جب کوئی غیر معمولی شخصیت پیدا ہوتی ہے تو وہ اس میں ایسے اضافے کر دیتی ہے جس کی مثال عام لوگوں میں نہیں ملتی۔ جن لوگوں کی طرزفکر اس طرز فکر سے میچ ہو جاتی ہے، وہ اس غیر معمولی شخصیت کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک مکتب فکر وجود پذیر ہوتاہے۔

          اس کی ایک بڑی مثال امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مکتب فکر ہے۔ امام صاحب ایک اعلیٰ درجے کے ذہین و فطین شخص تھے۔ دین کو سمجھنے میں انہیں جو مقام حاصل ہے، وہ بہت کم افراد کو نصیب ہوا۔ انہوں نے دین کو جس طرح سمجھا اور دین کو سمجھنے کے جو اصول وضع کئے ، انہیں اس وقت کے ذہین ترین افراد کی تائید حاصل ہوئی۔ امام صاحب نے چن چن کر اپنے گرد ذہین ترین لوگوں کو اکٹھا کیا اور اسلامی قانون کی تدوین سازی کا کام شروع کیا۔

          اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وقف کردیا۔ انہوں نے اپنے قریبی شاگردوں کے گھر کا خرچ تک بھی اٹھا کر انہیں معاشی فکروں سے بے نیاز کردیا۔ اُن کی اِن کاوشوں سے نتیجے میں فقہ اسلامی کا ایک عظیم ذخیرہ وجود میں آیا جو کچھ عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا قانون بن گیا اور تقریباً ایک ہزار سال  تک رائج رہا۔

          مالکی، شافعی ، حنبلی ، ظاہری اور دیگر مکاتب فکر بھی اسی طرح وجود پذیر ہوئے۔دوسرے علوم مثلاً نفسیات، معاشیات وغیرہ میں بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں ۔ علم معاشیات میں ایڈم سمتھ، مارشل ، مارکس اور کینز غیر معمولی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے مکاتب فکر تشکیل دیے۔ اسی طرح علم نفسیات میں ولیم جیمز، واٹسن، فرائڈ اور ماسلو کے مکاتب فکر زیادہ مشہور ہیں۔ یہی حال دوسرے علوم کا ہے۔

          علم کی دنیا میں اپنے طرز فکر کو زیادہ اپیل کرنے والے مکتب فکر کو اختیار کرنا اور اس سے وابستہ ہونا کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی۔ ہر مکتب فکر کے اہل علم دوسرے مکاتب فکر کا احترام کرتے ہیں اور یہ روایت قدیم دور سے آج تک چلی آ رہی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک علیہما الرحمۃ کے مابین جس درجے کا احترام پایا جاتا تھا ، اس کی مثالیں عام لوگوں میں بہت کم ملتی ہیں۔

          مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ معاملہ اہل علم و دانش کی سطح سے اتر کر عوامی سطح پر اتر آتا ہے۔ جب کسی مکتب فکر پر کوتاہ قامت اور عامیانہ سوچ رکھنے والوں کا اقتدار قائم ہو جاتا ہے یعنی دوسرے لفظوں میں انہیں اپنے ظرف سے زیادہ مقام مل جاتا ہے تو پھر وہ اپنے علاوہ دوسرے کو حقیر اور غلط سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے مکتب فکر کی ہر بات درست اور دوسرے کی ہر بات غلط ہو جاتی ہے۔ ان کا سارا زور اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں الٹے سیدھے دلائل فراہم کرنے میں لگ جاتا ہے ، ایک دوسرے سے حسد بغض کی شکل اختیار کرجاتا ہے جو آگے چل کر نفرت کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور پھر مکتب فکرسے مسلک ، مسلک سے فرقہ اور فرقے سے نیا مذہب جنم لیتا ہے۔

          اپنے طرز فکر اور مزاج کو اپیل کرنے والے کسی مکتب فکر سے تعلق قائم کرنا کوئی برائی نہیں۔ ہاں جہاں معاملہ مکتب فکر سے بڑھ کر مسلک ، گروہ بندی اور فرقے کی شکل اختیار کرچکا ہو وہاں اس سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگرانسان یہ سمجھ بیٹھے کہ میرے مکتب فکر کے سوا دنیا میں کہیں حق نہیں پایا جاتا اور اسی پر جامد ہو کر اپنے ذہن کے دروازے ہر نئی فکر اور ہر نئی سوچ کے لئے بند کرلے، توپھر اس کے لئے ہدایت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ نفرت اور تعصب کی آگ ہی میں جلتا رہتا ہے۔ اس موقع پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ارشاد بڑا معنی خیز ہے، ’’ دین کے اصولی و بنیادی معاملات میں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا مخالف غلطی پر ہے ، لیکن اجتہادی اور فروعی مسائل میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ ہم نے اپنے تئیں درست رائے اختیار کی ہے لیکن اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم غلط ہوں اور ہمارا مخالف صحیح ہو۔‘‘

          جو لوگ اپنی شخصیت کی ایک آئیڈیل سطح تک تراش خراش کرنا چاہیں، ان کے لئے لازم ہے کہ وہ خود میں وسعت نظری کو فروغ دیں اور تنگ نظری سے بچیں ورنہ ان کی شخصیت نامکمل رہ جائے گی۔والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد میں حتی الامکان ہر قسم کے تعصب اور تنگ نظری کو پیدا ہونے سے بچائیں۔

فطری رجحان (Aptitude)

انسان میں کسی کام کا فطری رجحان پایا جاتا ہے۔ اس فطری رجحان کو دبانے سے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں والدین بالعموم بچوں کے رجحانات کو دبا کر اس پر اپنے ذاتی رجحانات مسلط کرتے ہیں۔ اس صورت میں بچہ اپنے رجحان کی تکمیل کے لئے غیر اخلاقی طریقے بھی اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کی ایک بڑی مثال جنس کے بارے میں ہمارا رویہ ہے۔

          ہر انسان میں جنس مخالف کی طرف ایک فطری رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کا سیدھا سادہ اور اخلاقی حل یہ ہے کہ بچہ جیسے ہی بلوغت کی منزل طے کرے ، اس کی جلد سے جلد شادی کردی جائے تاکہ وہ اپنی خواہش کو فطری طور پر پورا کرسکے۔ ہمارے قدیم معاشرے میں ایساہی ہوتا تھا جس کے نتیجے میں جنسی مسائل بہت کم پیدا ہوا کرتے تھے۔ ہمارے یہاں معاشرتی نظام کو کچھ ایسا بنا دیا گیا ہے کہ شادی مشکل سے مشکل ترین ہو تی جارہی ہے اور جنسی تسکین کے ناجائز طریقے آسان سے آسان ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ میڈیا صنفی خواہشات کو زیادہ سے زیادہ ابھارنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں جنسی بے راہ روی پھیلتی جارہی ہے۔ اس مسئلے پر ریحان احمد یوسفی صاحب نے اپنی تحریر ’’یہ نعمت مصیبت کیوں بن گئی؟‘‘ میں دلچسپ بحث کی ہے۔

          اس کی ایک بڑی مثال تعلیم کے میدان میں سامنے آتی ہے۔ ایک طالب علم جن مضامین  کو اختیار کرنا چاہتا ہے ، والدین زبردستی اسے اس سے ہٹا کر ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رجحان کے بارے میں والدین کو چاہئے کہ و ہ اپنے بچوں کے فطری رجحانات کو نہ دبائیں اور انہیں اپنے شوق کی تسکین کر لینے دیں۔

          اس سلسلے میں عملی رکاوٹ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان کا رجحان کسی ایسے پیشے کی طرف ہوتا ہے جس میں اسے کوئی بہت اچھا کیرئیر ملنے کی توقع نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شخص کا رجحان اد ب اور فلسفے کی طرف بہت زیادہ ہے لیکن اس میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد بھی اسے کوئی بہت اچھی ملازمت نہیں مل سکتی۔ ایسی صورت میں عملی حل یہ ہے کہ اپنے رجحانات کی ایک لسٹ بنائیے اور اس میں ترجیحات متعین کیجئے۔ اگر آپ کی پہلی ترجیح کوئی بہت اچھا کیرئیر نہیں دے سکتی تو پھر دوسری یا تیسری ترجیح اختیار کر لیجئے اور پہلی ترجیح کو اپنا فارغ وقت کا مشغلہ یا شوق بنا لیجئے۔

          اس کی مثال یہ ہے کہ فرض کر لیجئے کہ آپ کا رجحان فلسفہ پڑھنے کی طرف ہے اور آپ کی دلی خواہش یہ ہے کہ اس مضمون کو کم از کم ماسٹرز کی سطح تک ضرور پڑھا جائے۔ پاکستان میں فلسفیوں کو بالعموم کوئی بہت اچھا کیرئیر نہیں ملتا۔ آپ کی دوسری ترجیح مارکیٹنگ کے شعبے کی ہے جس میں بالعموم ایک اچھا کیرئیر مل جاتا ہے۔ اس صورت میں آپ یہ کر سکتے ہیں کہ پیشے کے طور پر آپ مارکیٹنگ کو اختیار کریں اور فلسفے کو بطور شوق ذاتی طور پر پڑھتے رہیے۔

          آپ اپنے رجحان کی تسکین کے اچھے طریقے بھی اختیار کر سکتے ہیں اور برے بھی۔ مثلاً اگر آپ کو لٹریچر پڑھنے کا شوق ہے تو آپ کو مثبت اور تعمیری لٹریچر میں شاہکار قسم کی تصنیفات بھی مل سکتی ہیں ، منفی نوعیت کا مایوسی پھیلانے والا لٹریچر بھی مل سکتا ہے اور لچر قسم کا جنسی ناول بھی۔ رجحانات کے بارے میں اس بات کا خیال رکھئے کہ آپ کو ہمیشہ اچھی چیزوں کا انتخاب ہی کرنا چاہئے اور بری چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔

تخلیقی صلاحیتیں (Creativity)

تخلیقی صلاحیتوں سے مراد کسی انسان کی وہ صلاحیتیں ہیں جن کی بدولت وہ نئے نئے آئیڈیاز تخلیق کر تا ہے اور ان کی بنیاد پر عملی زندگی میں نئی نئی اختراعات کرتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تخلیقی سوچ کی بالعموم حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ایک ماہر نفسیات کے الفاظ میں، ’’ہمارے ہاں اس بچے یا فرد کو پسند کیا جاتا ہے جو فرمانبردار ہے، دوسروں کا ادب کرتا ہے، اپنا کام وقت پر مکمل کرتا ہے، اس کے ہم عصر اسے پسند کرتے ہیں، اور جو دوسروں میں مقبول ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم ایسے بچوں کو پسند نہیں کرتے جو بہت زیادہ سوال پوچھتے ہیں، سوچنے اور فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں، اپنے عقائد پر ڈٹے رہتے ہیں، کسی کام میں مگن رہتے ہیں اور کسی بااختیار شخص کی بات کو من و عن قبول نہیں کرتے۔ پہلی قسم کے بچے کو ہم ’’اچھا بچہ ‘‘ کہتے ہیں اور دوسری قسم کے بچے کو ہم بدتمیز یا نافرمان بچہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ماحول میں بھی تخلیقی سوچ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اگر ایک بچہ امتحان میں کسی سوال کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو اسے کم نمبر دیے جاتے ہیں۔ ہمارے ٹی وی اور ریڈیو پر ذہنی آزمائش کے پروگرام سوچنے کی صلاحیت کی بجائے یادداشت کی آزمائش کرتے ہیں۔ مذہبی تعلیم میں بھی قرآن کو حفظ کرنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن اس کو سمجھ کر روزمرہ زندگی پر اطلاق کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ بچوں کو کامیابی حاصل کرنے اور اول آنے کی ترغیب دی جاتی ہے، لیکن علم حاصل کرنے یا نئی باتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہم غلطیاں کرنے اور ان کا اقرار کرنے سے گھبراتے ہیں لیکن غلطیوں کے بغیر تخلیقی سوچ ناممکن ہے۔ ------  ہمارے یہاں اگر کچھ فنکاروں اور ان کی تخلیق کو اہمیت دی جاتی ہے تو اس عمل کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کوئی تصویر، دھن وغیرہ کی تخلیق ہوئی ہے، یعنی تخلیق کے نتائج کو تو سراہا جاتا ہے لیکن اس محنت اور جدوجہد کو نظر انداز کیا جاتا ہے جسے تخلیقی عمل کہتے ہیں۔‘‘ (رفیق جعفر، نفسیات ص 486-487 )

          تخلیقی سوچ میں تین اہم عناصر ہوتے ہیں: (۱) جدت؛ (۲) کسی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت ؛ اور (۳) کوئی قابل قدر مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت۔ جدت سے مراد موجودہ یا روایتی انداز میں پائی جانے والی چیزوں ، تصورات وغیرہ کو انفرادی انداز میں آپس میں ملانا یا نئے سرے سے ترتیب دینا ہے۔ دنیا میں جتنے تخلیقی کام کئے گئے ہیں، ان میں پرانی چیزوں یا تصورات کو نئے انداز میں دیکھاگیا ہے۔ مثلاً جب نیوٹن نے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا تو یہ عمل نہ تو نیوٹن کے لئے اور نہ ہی کسی اور کے لئے انوکھا واقعہ تھا لیکن نیوٹن نے اس عمل کو ایک خاص انداز میں دیکھا، اسے نئے معنی دیے اور اس طرح کشش ثقل (Gravity)   کا قانون دریافت کیا۔ تاہم صرف جدت ہی کسی سوچ یا عمل کو تخلیقی نہیں بنا دیتی بلکہ اس میں مسائل کا حل بھی بہت ضروری ہے۔

          تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والے افراد کی کچھ ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو انہیں دوسروں سے نمایاں کرتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے مطابق یہ لوگ انفرادیت پسند ہوتے ہیں اور روایتی سوچ اور کردار کے مقابلے میں اپنی ذات اور سوچ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ دوسروں پر کم انحصار کرتے ہیں اور اکثر معاملات میں خود مختار ہوتے ہیں حتی کہ ان کے جاننے والے انہیں ضدی اور سرکش قرار دے دیتے ہیں۔ ان میں عموماً لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا احساس کم ہوتا ہے۔ یہ مستقل مزاج ہوتے ہیں، جس کام میں دلچسپی لیتے ہیں، اسے تندہی سے کرتے ہیں اور ناکامیوں اور مشکلات سے نہیں گھبراتے۔ اگر ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ بھی جائیں تو یہ ثابت قدم رہتے ہیں۔

          عام لوگ چیزوں میں سادگی، تسلسل اور ترتیب کو پسند کرتے ہیں ، ابہام اور تضاد سے دور بھاگتے ہیں اور خیالات کی توڑ پھوڑ سے گھبراتے ہیں۔ان کے برعکس تخلیقی افراد کی شخصیت میں بہت لچک ہوتی ہے۔ وہ پیچیدہ، الجھی ہوئی ، غیر متوازن اور نامکمل چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ نئے نئے خیالات کو ٹٹولنے، انہیں توڑنے مروڑنے اور مختلف حل تلاش کرنے میں لطف محسوس کرتے ہیں۔ وہ تخلیق شدہ چیزوں میں دلچسپی لینے کی بجائے تخلیقی عمل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ یہ اپنے خیالات میں پائی جانے والی شورش، عدم استحکام، پیچیدگی اور افراتفری سے نہیں گھبراتے۔

          یہ اپنی خوبیوں اور خامیوں سے عام لوگوں کی نسبت زیادہ آگاہ ہوتے ہیں۔ یہ دوسروں کے علاوہ خود کو بھی طنز و مزاح کا نشانہ بنانے سے نہیں ڈرتے۔ ان کا گھریلو ماحول بالعموم مثبت ہوتا ہے ۔ گھریلو لڑائی جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں۔ والدین بچوں کو آزاد ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں بچہ خود اپنے تجربات کے ذریعے ماحول سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ یہ جن اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں ماحول آمرانہ نہیں ہوتا بلکہ سوالات کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ استاد کا تعلق بالعموم ان سے دوستانہ ہوتا ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو نشوونما دی جاتی ہے۔

          ان معلومات کی روشنی میں خود میں تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما کے لئے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اپنے فکر پر کبھی پہرے نہ بٹھائیے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہو تو اسے محض شیطانی وسوسہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیجئے بلکہ اہل علم سے اس کا جواب مانگنے کی کوشش کیجئے۔ ذہن میں ایسے خیالات کو موجود رکھنے کی مشق کیجئے جو ایک دوسرے کے متضاد ہوں۔ متضاد ، پیچیدہ، الجھی ہوئی اور نامکمل چیزوں اور خیالات سے نہ گھبرائیے۔ اپنے گھر اور اداروں میں ایسا ماحول پیدا کیجئے جو تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے۔ اپنے اداروں میں ڈسپلن کے نام پر خواہ مخواہ تخلیقی صلاحیتوں کا گلا نہ گھونٹئے بلکہ نئے خیالات کو خوش آمدید کہیے۔

          تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے بہت سے طریقے دریافت ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ برین اسٹارمنگ (Brainstorming)   ہے جس میں ایک گروپ کو کسی مسئلے کے زیادہ سے زیادہ حل تجویز کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ کوئی حل اچھا اور قابل عمل ہے یا نہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر شخص محض اس خوف سے خاموش نہیں رہتا کہ کہیں اس کا مذاق نہ اڑایا جائے یا اس کے خیال کو مسترد نہ کر دیا جائے۔ اگلے مرحلے پر ان تجاویز کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ان میں سے اچھی تجاویز کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گروپ کی صورت میں مختلف آئیڈیاز اور چیزوں پر غور و فکر کرکے کسی اقدام کے فوری اور دوررس نتائج کا اندازہ لگانے، کسی چیز کی وجوہات اور مقاصد پر غور و فکر کرنے، کسی کام کی پلاننگ کرنے، کسی مسئلے کے مختلف ممکنہ پہلوؤں  میں کسی ایک کا انتخاب کرنے، متبادل راستے تلاش کرنے ، فیصلے کرنے اور دوسروں کے نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے سے تخلیقی سوچ نمو پذیر ہوتی ہے۔ آپ بھی اپنے دوستوں کی مدد سے چھوٹے چھوٹے تھنک ٹینک بنا کر یہ کام کر سکتے ہیں۔

          تخلیقی سوچ کے ضمن میں اس بات کا بھی خیال رہے کہ بعض لوگ دین کے معاملے میں فکر و عمل کی تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں جو کہ درست نہیں جیسا کہ زمانہ قدیم میں فرقہ باطنیہ اور دور جدید میں بعض حلقوں نے دین کے بنیادی تصورات توحید، رسالت، آخرت، نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ میں کئی ترامیم تجویز کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین ہمیں عطا فرمایا ہے، اپنی تخلیقی صلاحیت کو استعمال کرکے اس میں کوئی تبدیلی کرنا بالکل غلط ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین جس طرح ملا ہے اسے قبول کیجئے۔ دین کے معاملے ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کا اصل میدان دینی احکامات کو سمجھنا، دین کے فروغ کے لئے نئے نئے راستے تلاش کرنا، اور زندگی میں دین پر عمل کرنے کی راہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے نمٹنے کے قابل عمل طریق ہائے کار دریافت کرناہے۔ اگر ہم دین ہی میں کوئی ترامیم کرنے لگ گئے تو دنیا میں بھی خائب و خاسر ہوں گے اور آخرت میں بھی ناکام و نامراد۔

احساس ذمہ داری

انسان کی شخصیت کا یہ وہ پہلو ہے جو دوسروں کی نظر میں اس کا مقام بنانے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کسی شخص میں لاابالی پن پایا جاتا ہے تو اسے معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں ہوتا۔ اسے نکما اور نکھٹو سمجھا جاتا ہے۔ جب انسان کوئی ذمہ داری اپنے سر پر لے لے تو اسے نبھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا اس کا فرض ہے۔ بعض ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا بوجھ اٹھانے یا نہ اٹھانے کا اسے کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کسی کے والدین خدانخواستہ فوت ہو جائیں تو چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری اس پر آ پڑتی ہے۔ اس معاملے میں انسان کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے کی آخری حد تک کوشش کرے او راس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے۔

          دوسری قسم کی ذمہ داریاں وہ ہوتی ہیں، جنہیں اٹھانے کا اختیار انسان کے پاس ہوتا ہے مثلاً ایک شخص کسی بچے کو گو د لے کر اس کی پرورش کی ذمہ داری لے سکتا ہے۔ ایسی ذمہ داریوں کو اٹھانے سے پہلے ہر شخص کو اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ کیا میں اس ذمہ داری کو اٹھانے کا اہل ہوں یا نہیں؟ کیا مستقبل میں میرے حالات میں کوئی ایسی تبدیلی متوقع ہے جس کے نتیجے میں یہ ممکن ہے کہ میں اس ذمہ داری کو پورا نہ کرسکوں؟ ایسی صورت میں انسان کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہی نہیں چاہئے۔

          بعض اوقات انسان ایک ذمہ داری اٹھا کر دوسرے سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے۔ اس معاملے میں ہمارے دین کا یہ حکم ہے کہ وعدے کو ضرور پورا کیا جائے۔ کبھی کبھار ایسی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ حالات کی تبدیلی کے باعث کوئی شخص وعدہ پورا کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اسے چاہئے کہ وہ ان لوگوں کو اس بات کی فوراً اطلاع دے کہ اس مجبوری کی وجہ سے میں یہ ذمہ داری پوری نہیں کرسکوں گا۔ بالکل آخری موقع پر کسی کو جواب دینا اخلاقی اعتبار سے بہت گری ہوئی حرکت ہے۔

          اپنی دنیاوی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس پر کچھ ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی عائد ہیں جن کا حساب اسے مرنے کے بعد دینا ہوگا۔ ہر انسان پر یہ لازم ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو جانے اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کرے۔ جو لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، وہ دنیا میں کتنے ہی بڑے ذمہ دار عہدوں پر فائز کیوں نہ ہوں ،  خدا کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔

قوت ارادی اور خود اعتمادی (Confidence)  

جو انسان کسی بات کا ارادہ کرے لیکن اسے پورا نہ کرسکے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں قوت ارادی اور خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے ارادوں میں پختہ ہو ۔ فیصلہ کرنے میں خواہ کتنا ہی غور و فکر کیا جائے اور کتنا ہی وقت لگایا جائے، لیکن ایک مرتبہ فیصلہ کرکے اس سے پیچھے ہٹنا دوسروں کی نظر میں کسی شخص کے اعتبار (Credibility)   کو خراب کر دیتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کو اپنے آپ پر اعتماد نہ ہو ، دوسرے بھی اس پر اعتماد نہیں کرتے۔

          قوت ارادی کو بہتر بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ذہن کو مشورہ (Suggestion)   دیجئے کہ میں یہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ شروع شروع میں اپنے سامنے چھوٹے چھوٹے چیلنج رکھئے جیسے میں تقریر کر سکتا ہوں، میں یہ کھیل کھیل سکتا ہوں، میں کسی بڑے آفیسر سے پر اعتماد گفتگو کر سکتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ جب آپ ان چیلنجز کے مقابلے میں کامیاب ہوں گے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ آہستہ آہستہ ان چیلنجز کو بڑا کرتے جائیے ۔ کچھ ہی عرصے میں آپ محسوس کریں گے کہ اب آپ میں خاصا اعتماد پیدا ہو چکا ہے۔

          خود اعتمادی کے بارے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسے حد سے زیادہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ بعض لوگ اپنی حقیقی صلاحیتوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خود اعتماد (Over-Confident)   ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دوسروں سے بڑے بڑے وعدے کر لیتے ہیں اور جب انہیں پورا نہیں کر پاتے تو دوسروں کی نظر میں ان کی شخصیت کا امیج مجروح ہوتا ہے۔ جب آپ میں خود اعتمادی کی کمی ہو، تب تو خود کو اوور کانفی ڈنٹ محسوس کرنے میں حرج نہیں لیکن جب آپ نارمل ہو جائیں تو اپنی صلاحیتوں کا حقیقی تجزیہ کیجئے جس میں صحیح معنوں میں اپنی خوبیوں اور خامیوں کا معائنہ کیجئے اور اس کے مطابق ہی اپنی خود اعتمادی کو ایڈجسٹ کیجئے۔

 

اگلا صفحہ                           فہرست                           پچھلا صفحہ

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

website stat