بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

یہ تحریر پرنٹڈ کتاب کی شکل میں شائع ہو چکی ہے، اسے خریدنے کے لیے آپ پبلشر سے رابطہ کر سکتے ہیں: شفیق احمد۔ موبائل نمبر 0092-332-3051201

 

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

شجاعت اور بہادری

شجاعت کے دو پہلو ہیں: ایک باطنی اور دوسرے ظاہری۔ اس کا باطنی پہلو یہ ہے کہ کسی شخص میں حقائق اور نتائج کا سامنا کرنے کا ایسا حوصلہ ہو کہ وہ اپنے عزائم کو پورا کرنے میں بزدلی اور مداہنت کا رویہ اختیار نہ کرے۔ جس بات کو وہ حق سمجھے ، اس پر ڈٹ جائے اور اس کے بارے میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کرے۔ ظاہری پہلو یہ ہے کہ انسان کی شجاعت کے جوہر کھل کر سامنے آئیں اور وہ دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ کسی انسان میں شجاعت کا باطنی پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور کسی میں ظاہری۔

          اگر ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات کا جائزہ لیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی شجاعت پہلی قسم کی ہے اور سیدنا عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی دوسری قسم کی۔ لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی اور منکرین ختم نبوت اور منکرین زکوٰۃ کے مقابلے میں جہاد کے معاملے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسے اعتماد کامظاہرہ کیا جس کی تعریف حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر انسان نے کی۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود پر حملہ آور ہونے والوں کے مقابلے میں انتہا درجے کے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا۔

          حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی شجاعت تو اتنی واضح ہے کہ وہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو قوت میں یہ فرق پڑا کہ وہ جو نیک کام پہلے چھپ چھپا کر کیا کرتے تھے، اب کھلے عام کرنے لگے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت غزوہ خندق میں کھل کر سامنے آئی جب انہوں نے عمرو بن عبد ود جیسے جنگجو کو قتل کیا جو اپنی جنگی مہارت کی بنا پر عرب میں ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا ہے۔اسی طرح خیبر کے قلعے کی فتح میں آپ کا کردار شجاعت کی تابناک مثال ہے۔اسی طرح دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شجاعت کے مختلف اوصاف پائے جاتے تھے۔ ان میں سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا خالد بن ولید، سیدنا عمرو بن عاص، سیدنا سعد بن معاذ، سیدنا اسید بن حضیر ، سیدنا سعد بن عبادہ ، سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر طیار ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ ، سیدنا قعقاع بن عمرو، سیدنا عکرمہ بن ابو جہل اور سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہم کی شخصیات نمایاں ہیں۔

          شجاعت کا متضاد رویہ بزدلی اور نامردی کا ہے۔ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر پریشان ہونا، حقائق کا سامنا کرنے سے گھبرانا، دوسروں سے ڈر ڈر کر اور گھٹ گھٹ کر جینا بزدلی کی نشانیاں ہیں۔ اس سے نجات کا حل یہ ہے کہ اپنی شخصیت میں خود اعتمادی پیدا کیجئے۔ یہی خود اعتمادی اس کی بزدلی کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ اس کا عملی طریقہ خود اعتمادی کے تحت بیان کردیا گیا ہے۔

          شجاعت کے باب میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انسان بہادری کے زعم میں حقیقت پسندی سے دور نہ بھاگے۔ ایسا نہ ہو کہ  اپنی بہادری کی وجہ سے کوئی شخص اپنی صلاحیتوں کا غلط اندازہ  (Over-estimate) لگا لے اور ایسی قوت سے قبل از وقت ٹکرا جائے جس سے مقابلے کی وہ صلاحیت نہ رکھتا ہو۔اس کا نتیجہ صرف اور صرف اپنی قوت کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ شجاعت کے زعم میں زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا خود کشی کے سوا کچھ نہیں۔بہادری کا صحیح پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کی ممکنہ حد تک حق کا علمبردار بنے اور کلمہ حق کو بلند کرنے کی کوشش کرے۔ اسی وجہ سے ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کو افضل ترین جہاد قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے انبیاء کرام علیہم السلام اور بزرگان دین علیہم الرحمۃ کی سیرت ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جب انہوں نے حق کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے شدید مصائب اور ظلم و ستم کو برداشت کیا۔

انصاف پسندی

عدل و انصاف کو ہمارے دین میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عدل کا معنی یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دیا جائے ۔ دین میں عدل کا تقاضا اس قدر شدت سے کیا گیا ہے کہ اپنے ذاتی یا قومی یا دینی دشمنوں کے بارے میں ناانصافی کا کوئی رویہ بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔  (المائدہ ۵: ۸)  ’’اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ اور سچائی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ یہ (عدل) تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘

          اس آیت کا سیاق و سباق یہ بتاتا ہے کہ یہاں خاص طور پر اس دشمنی کا تذکرہ ہے جو دین کی بنیاد پر ہو۔ ظاہر ہے یہ دشمنی کی سخت ترین شکل ہے جس میں بھی مسلمانوں کو ناانصافی اور انتہا پسندی سے روکا گیا ہے۔

          اگر ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو گی کہ قرآن مجید کی واضح رہنمائی کے باوجود ہمارے ہاں انصاف پسندی کا شدید فقدان ہے۔ عدالتی انصاف کی بات تو جانے دیجئے، اپنی روزمرہ زندگی میں ہم بارہا عدل و انصاف کا خون کرتے ہیں۔ سڑک پر چلتے ہوئے ہم میں سے کتنے دین دار افراد ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرکے دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں۔ اسی طرح دکاندار چیز کے پیسے تو پورے وصول کرتے ہیں لیکن چیز کے معیار یا مقدار میں کمی کردیتے ہیں۔ اپنے کاروباری معاملات میں کیش فلو کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے معاہدے کے خلاف رقوم کی ادائیگی میں تاخیرعام سی بات ہے جس میں چھوٹے چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑی بڑی کمپنیاں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے بہت سے لوگ تعدد ازدواج کی اجازت کے استعمال میں بہت بے باک ہیں لیکن قرآن مجید کے حکم کے مطابق ان میں عدل و انصاف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بالعموم نئی بیویوں کے نخرے اٹھائے جاتے ہیں اور پرانی بیوی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب لوگ قطار میں کھڑے ہوتے ہیں تو بہت سے لوگ ان کی حق تلفی کرتے ہوئے درمیان میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔

          ہمیں صرف اور صرف دوسروں کی غلطیاں ہی نظر آتی ہیں اور اپنی غلطیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔ کسی اختلاف بالخصوص دینی مسئلے میں اختلاف کی صورت میں دوسروں کی بات سننا ہمیں گوارا نہیں ہوتا۔ شاید ہم یہ سمجھتے ہیں کہ میں اتفاقا جس عقیدے اور مسلک میں پیدا ہوا وہی حق ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو کسی دوسرے مذہب یا مسلک والوں کے گھر پیدا ہوئے اور اپنے ہی نقطہ نظر کو درست سمجھتے ہیں۔ اگر ہم انہیں غلط سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنے آبائی مسلک و عقیدے پر بھی ایک حق کے سچے متلاشی کی حیثیت سے نظر ثانی کر لینا چاہئے۔ 

          ہمارا رویہ بالعموم یہ ہوتا ہے کہ اگر مخالف مسلک کا کوئی شخص تحقیق پر آمادہ ہو اور اس کے لئے ہمارے مسلک کو سمجھنا چاہے تو ہم اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں لیکن اگر ہمارے مسلک سے تعلق رکھنے والا کوئی طالب علم دوسرے مسلک کی کتابوں کا مطالعہ بھی شروع کردے تو ہم ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ مخالف مسلک کی کوئی کتاب پڑھنا یا ان کے کسی عالم کی بات سننا ہی ہمارے نزدیک گمراہی ہے۔ ابتدا ہی سے ہمارے ذہنوں میں یہ داخل کیا جاتا ہے کہ فلاں مشرک ہے ، فلاں بدعتی ہے یا فلاں گستاخ رسول ہے۔ اس کی کوئی بات سننایا اس کی کتاب پڑھنا ناجائز ہے کیونکہ اس سے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک تو دوسرے مسلک کے کسی شخص کو سلام کرنے یا اس سے مصافحہ کرنے سے ہی نکاح فاسد ہو جاتا ہے۔

          ہمارا دین عدل و انصاف کا علم بردار ہے اور اسی کا حکم دیتا ہے۔ کیا دنیا کی کوئی عدالت بھی کسی ملزم کی بات سنے بغیر اسے مجرم قرار دے کر سزا سناتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے عام مسلمان عدل و انصاف کے علم بردار کہلانے کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلک کے لوگوں کی بات سنے بغیر ان کے متعلق کفر، شرک، بدعت اور گستاخی رسول کا فتویٰ جاری کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ مخالف مسلک کے کسی شخص کو قتل کر دینا کوئی گناہ ہی سمجھا نہیں جاتا بلکہ عین کار ثواب سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کرنے میں کسی مسلک کی تخصیص نہیں بلکہ سب ہی مسالک کے لوگوں میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔ اس بات کو سب ہی بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ عدل و انصاف کا خون کرنے میں مصروف ہیں۔ 

          اگر ہم قرآن مجید پر سچا ایمان رکھتے ہیںتو ہمیں حقیقی معنوں میں حق اور انصاف پسندی کو اپنی شخصیت کا جزو بنانا ہوگا۔ انصاف پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے۔ جس بات کو ہم حق اور انصاف سمجھتے ہیں، اپنی استطاعت کے مطابق اس پر ڈٹ جانا اور اس کے مقابلے میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کرنا وہ رویہ ہے جس کا تقاضا ہم سے دین میں کیا گیا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ دینی اور دنیاوی زندگیوں میں ناانصافی کو چھوڑنا شروع کردیں تو بہت جلد ہماری اجتماعی زندگیوں میں حق اور انصاف کا بول بالا ہوگااور ہمارے حکمران اور عدالتیں بھی انصاف کے قائم کرنے والے بن جائیں گے لیکن اپنے رویے کی اصلاح کی بجائے اگر ہم حکومت ہی کو کوستے رہے تو حالات ایسے ہی رہیں گے بلکہ اس سے بھی بدتر ہوتے جائیں گے۔

کامیابی کی لگن

اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے لئے اس میں جینے کی امنگ اور کامیابی کی لگن پیدا کرنا ضروری ہے۔ جس شخص میں اس کا فقدان ہو وہ کوئی بڑا کارنامہ تو کیا، چھوٹا سا کام بھی انجام نہیں دے سکتا۔ خود میں کامیابی کی امنگ پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس بات پر غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دنیا میں کیوں بھیجا ہے۔ میرے سامنے کیا چیلنج درپیش ہے جس سے عہدہ برا ہونا میرے لئے ضروری ہے۔ اس کے بعد اپنے سامنے چھوٹے چھوٹے چیلنج رکھئے اور اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خوش ہونا سیکھئے۔

          بعض لوگوں کی ناکامیاں ان میں کامیابی کی لگن کو ختم کردیتی ہیں۔ ناکامی ہوتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کامیابی و ناکامی دونوں ہی اس زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ اگر آج میں کسی مقصد کے حصول میں ناکام رہا ہوں تو ضروری نہیں کہ کل بھی ایسا ہی ہو۔ ناکامی کا ایک روشن پہلو یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس میں اپنی خامیوں کے تجزیے کا موقع مل جاتا ہے۔ کامیابی کے بارے میں اپنی توقعات کو بھی بہت زیادہ غیر حقیقی نہ بنائیے ورنہ کامیابی بھی ناکامی ہی محسوس ہوگی۔ کامیابی کی لگن اچھی چیز ہے لیکن اگر اس میں انتہا پسندی آجائے تو انسان بہت زیادہ جذباتی ہو جاتا ہے اور ناکام ہونے پر وہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔

بخل اور سخاوت

انسانی شخصیت بعض اوقات جن بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے، ان میں سے ایک بخل ہے۔ اس کا بالکل عکس سخاوت ہے۔ بخل کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بالخصوص مال و دولت انسان کو عطا کی ہیں وہ انہیں استعمال کرنے میں کنجوسی کا مظاہرہ کرے اور جہاں انہیں خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ کرنے سے گریز کرے۔مثلاً ایک شخص انتہائی دولت مند ہونے کے باوجود پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ہے اور اپنے بچوں کو بھی اس پر مجبور کرتا ہے یا روکھا سوکھا کھاتا ہے تو یہ بخل ہے۔

          حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں انسان کو دی ہیں ، ان کے اثرات اس کی شخصیت پر بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔ بخل کی ایک بڑی مثال اس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب ہم ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس کوئی حقیقی ضرورت مند آجائے تو اسے کچھ وقت ہمیں اپنی تمام ضروریات یاد آجاتی ہیں لیکن اپنی عیاشیوں کے وقت ہم کوئی نہ کوئی جواز ضرور گھڑ لیتے ہیں۔ اگر ہم کسی ضرورت مند کی مدد کر بھی دیں تو ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ساری عمر ہمارے احسان کے بوجھ تلے دبا رہے اور ہمارا غلام بن کر رہے۔

          شخصیت کے اسی پہلو کی دوسری انتہا اسراف اور تبذیر ہے۔ انسان اپنی خواہشات کا اتنا غلام بن جائے کہ وہ ان کی تکمیل کے لئے دولت کو ضائع کرنا شروع کر دے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ پر تعیش انداز زندگی  (Luxurious Lifestyle) کی بہت سی مثالیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے بہت سے بھائی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے تو ہزاروں لاکھوں خرچ کر دیتے ہیں لیکن انہیں ان غریبوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی جن کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوتے ہیں۔

          دین ہمیں انتہا پسندی کے ان رویوں سے بچ کر ہمیں اعتدال کی راہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ جہاں خرچ کرنا چاہئے وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے اور جہاں خرچ نہیں کرنا چاہئے وہاں خرچ کرنا اسراف ہے۔ سخاوت اور دریا دلی اس کا نام ہے کہ جہاں خرچ کرنا چاہئے وہاں انسان خرچ کرنے سے نہ گھبرائے بلکہ دل کھول کر خرچ کرے اور اسراف سے ہر صورت میں بچے۔

لالچ اور قناعت

اسی قسم کا ایک رویہ لالچ اور حرص ہے۔ بخل دراصل انسان کی دولت کے مناسب آؤٹ فلو (Outflow) کی راہ میں رکاوٹ ہے جبکہ لالچ اس کے غیر مناسب ان فلو  (Inflow)   کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ انسان کسی چیز بالخصوص دولت کے حصول کے لئے اتنا حریص ہو جاتا ہے کہ وہ حصول کے جائز اور ناجائز طریقوں کی پرواہ نہیں کرتا اور ہر طرح سے اپنی تجوریوں کو بھرنے کی فکر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بالعموم کرپشن کا جو ناسور پھیلتا جارہا ہے اس کی وجہ یہی رویہ ہے۔

          ہمارے دین میں دولت کی خواہش کو تو برا قرار نہیں دیا گیا بلکہ زندگی میں ایک اہم محرک کے طور پر اسے تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس معاملے میں انتہا پسندی کے تمام رویوں کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ حرص و طمع سے بچ کر انسان دولت کے حصول کی جائز طریقوں سے کوشش کر سکتا ہے بشرطیکہ اس میں دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے۔ اسی رویے کا نام قناعت ہے۔

          ہمارے ہاں بعض لوگ قناعت کا معنی یہ سمجھتے ہیں کہ انسان اپنی غربت ہی کو اختیار کئے رکھے اور دولت کے حصول کے جائز طریقوں سے بھی گریز کرے۔ اس نقطہ نظر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ رہبانیت کا پیدا کردہ رویہ ہے۔ اسلام میں قناعت کا یہ مفہوم ہے کہ انسان دولت کے حصول کے ناجائز طریقوں سے بچے اور جائز طریقوں سے جو دولت حاصل ہو جائے اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔

          ناجائز طریقوں سے دولت کے حصول سے بچنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز طریقوں سے مناسب مال کمانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ یہ چیز ان نوجوانوں کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے جو اپنے لئے کیریئر کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اپنے لئے ہمیشہ ایسے ہی کیریئر کا انتخاب کیجئے جہاں آپ کے لئے رزق حلا ل کمانے کے بہتر مواقع اور حرام سے بچنے کی بہتر سہولتیں میسر ہوں۔ ہمارے ماحول میں بہت سی ایسی نوکریاں بھی ہیں جہاں حلال تو مشکل سے ہی ملتا ہے اور بہت کم ملتا ہے البتہ حرام کمانے کے مواقع بے شمار ہوتے ہیں۔ آج کل کی سرکاری نوکریاں اس کی بدترین مثال ہیں۔ کیریئر کے انتخاب کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیے اور اچھے لوگوں سے مشورہ ضرور طلب کیجئے۔

عادات و خصائل

انسان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اس کی عادات و خصائل ہیں۔ عادات سے مراد انسان کے وہ ایک ہی طرز کے رویے ہیں جن کے تحت وہ مخصوص حالات میں ایک ہی رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تقریباً بارہ سال کی عمر کے بعد جب انسان کی شخصیت کا غیر مادی وجود نشوونما پارہا ہوتا ہے تو اس کی عادتوں کی تشکیل بڑی تیزی سے ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتی جاتی ہیں۔ بڑی عمر میں ان عادتوں کو تبدیل کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ کھانے پینے، رہنے سہنے، ملنے جلنے ، سونے جاگنے، جنسی خواہش کی تکمیل کرنے اور زندگی کے دیگر معاملات کے بارے میں ہر انسان مخصوص رویوں کو عادی ہو جاتا ہے۔

          اگر آپ عمر کے اس حصے سے گزر رہے ہیں یا گزرنے والے ہیں تو اچھی عادتوں کو اپنانا اور بری عادتوں سے بچنا آپ کے لئے خاصا آسان ہوگا کیونکہ شخصیت کی تعمیر کا کام ابھی تیزی سے جاری ہوگا ۔ اس معاملے میں اپنے والدین، اساتذہ اور اچھے دوستوں سے رہنمائی حاصل کیجئے۔ اس عمر میں برے دوستوں سے پرہیز انتہائی ضروری ہے خواہ آپ کو وہ کتنے ہی پر کشش کیوں نہ محسوس ہوں کیونکہ یہی کسی شخص میں بری عادتوں کے پختہ ہونے کا باعث بنتے ہیں۔

          اگر آپ عمر کے اس حصے سے گزر چکے ہیں تو بری عادتوں کو تبدیل کرنا اگرچہ خاصا مشکل کام ہے لیکن یہ کرنا آپ کی باقی زندگی کو اچھے اندازمیں گزارنے کے لئے ناگزیر ہے۔ آپ اپنی خود اعتمادی کے ذریعے ان بری عادتوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ضرورت ہو تو کسی ماہر نفسیات سے بھی مشورہ کیا جاسکتا ہے بالخصوص ہپناٹزم کے ماہرین اس سلسلے میں خاصی مدد کر سکتے ہیں۔ بری عادتوں کی ایک جامع و مانع فہرست بنانا خاصا مشکل کام ہے لیکن ہم میں اچھائی اور برائی کا اتنا شعور ضرور موجود ہے کہ اس کی مدد سے ہم اچھی و بری عادتوں میں تمیز کر سکیں۔ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی عام بری عادتوں میں جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، عیب جوئی کرنا، دوسروں کی کھوج میں رہنا، جنسی بے اعتدالی کا مظاہرہ کرنا،بات بات پر لڑنے کے لئے تیار رہنا،  سونے میں بے اعتدالی کا مظاہرہ کرنا شامل ہے۔

فنی اور پیشہ ورانہ مہارت

کسی بھی فرد کی معاشی زندگی میں اس کی فنی اور پیشہ ورانہ مہارت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ آپ جو بھی پیشہ اختیار کرنے جارہے ہیں ، اس میں درکار مناسب صلاحیتوں کا فقدان ایک طرف آپ کی اپنے ہم پیشہ افراد میں عزت کو کم کرسکتا ہے اور دوسری طرف آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ پیشے کے انتخاب سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ کہیں یہ پیشہ آپ کے ذاتی رجحانات سے بالکل ہی متضاد تو نہیں؟ ہمیشہ اس پیشے کا انتخاب کیجئے جو آپ کی فطری صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہو۔ یہی چیز آپ کو فنی اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط بنا دے گی اور انشاء اللہ آپ کی ترقی کی راہ میں بہت آگے تک لے جائے گی۔ پیشے سے ناانصافی کرنا دنیا والوں کی نظر میں بھی ایک بری چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی ناپسندیدہ عمل ہے۔

          اپنے پیشے میں مہارت حاصل کرنے کے لئے شوق اور لگن کی ضرورت ہے۔ اس سے متعلق صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے کتب کا مطالعہ، ماہر لوگوں کی صحبت اور مختلف کورسز میں شرکت ضروری ہے۔ اس ضمن میں جو رقم بھی خرچ ہو ، وہ آپ کی اپنی ذات میں سرمایہ کاری ہے۔

جنسی جذبہ

کسی انسان میں جنسی جذبے کا ہونا ایک نارمل اور فطری سی بات ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہمیں بھوک اور پیاس لگتی ہے۔ اس جذبے کے معاملے میں اہل مغرب کا رویہ اور کردار انتہاپسندانہ ہے جس کے نتیجے میں وہاں جنسی بے راہ روی ، جنسی مسائل اور امراض بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا جنس کے بارے میں رویہ عجیب و غریب ہے۔ ہمارے ہاں جنس کے بارے میں ایک شدید قسم کی گھٹن پائی جاتی ہے۔

          ایک طرف تو روایتی طور پر جنس کے موضوع پر گفتگوکرنا، کوئی کتاب پڑھنا اور اشاروں کنایوں میں بھی اس کا ذکر کرنا بہت معیوب بلکہ ایک غلیظ عمل سمجھا جاتا ہے لیکن دوسری طرف اہل مغرب اور اب اہل ہندوستان کی پیروی میں ہمارے یہاں جنسی خواہش کو ابھارنے والے بلکہ بھڑکانے والے عوامل بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں جن میں ہمارا میڈیا سر فہرست ہے۔ ہمارے دین میں شادی کے بغیر ازدواجی تعلقات کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے برعکس ہمارے یہاں شادی کو مصیبت بنا دیا گیا ہے۔

           سخت اور انتہائی نامعقول رسوم و رواج کی وجہ سے شادی کرنا بہت ہی مشکل کام بن چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادیاں اس وقت کی جاتی ہیں جب کوئی انسان اپنے جنسی جذبے کا دور عروج گزار کر بڑھاپے کا منتظر ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی پیاسے کو اس وقت پانی پلایا جائے جب اس کی پیاس کی شدت ختم ہو چکی ہو۔ ان سب کے ساتھ ساتھ جنسی بے راہ روی کے لئے مواقع بڑھتے جارہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ جنس کے بارے میں نوجوانوں کو درست معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیوں میں جنسی مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور پورا معاشرہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ان حالات کی وجہ سے جو جنسی مسائل اور عوارض پیدا ہو رہے ہیں یا ہو سکتے ہیں، ان کی کچھ تفصیل یہ ہے:

·      نوجوان لڑکے لڑکیوں میں شادی کے بغیر ازدواجی تعلقات قائم کرنا

·      نوجوانوں میں ہم جنس پرستی (Homosexualism & Lesbianism)  کا فروغ

·      تیسری جنس سے جنسی تسکین کا حصول

·      جانوروں کے ساتھ جنسی فعل کا عارضہ (Bestiality)

·      بچوں پر جنسی تشدد (Paedophilia)

·      مخالف جنس کے کردار اور رویے اختیار کرنا (Trans Sexualism)

·      اپنے جنسی اعضاء اور افعال کی نمائش کرنا (Exhibitionism)

·      جنسی اذیت پسندی یعنی جنس مخالف یا خود کو اذیت پہنچا کر جنسی تسکین حاصل کرنا (Sadism & Masochism)

ان میں سے تقریباً تمام جنسی عوارض ہمارے معاشرے کے مختلف افراد میں پائے جاتے ہیں۔ جنس مخالف کے ساتھ تعلقات تو ابھی ہمارے معاشرے میں اتنے عام نہیں ہوئے جتنے اہل مغرب کے ہاں ہیں لیکن ہم جنس پرستی خفیہ طور پر طویل عرصے سے پائی جاتی ہے۔ بہت سے نوجوانوں میں جنس مخالف کے رویے اپنانے کی وبا بھی کافی پھیل چکی ہے اور اس کا شکار عموماً امیر طبقے کے نوجوان ہو رہے ہیں۔

          بچوں پر جنسی تشدد اور جنسی اذیت پسندی جیسے گھناؤنے جرم کے واقعات اگرچہ کم ہیں لیکن پچھلے چند سالوں میں ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان جرائم کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی مثال لاہور میں سو بچوں پر تشدد اور ان کے بہیمانہ قتل کا واقعہ ہے۔ ان میں سے بہت سے جرائم قدیم دور سے پائے جاتے ہیں لیکن دور جدید میں میڈیا کے غلط کردار نے ان میں بہت تیزی سے اضافہ کیا ہے۔

          ان تمام مسائل سے محفوظ رہنے کا واحد اور مستقل حل تو یہی ہے کہ شادی مناسب عمر میں کر لی جائے۔ بدقسمتی سے اس مسئلے پر معاشرتی دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ شادیوں میں خواہ مخواہ تاخیر ہوجاتی ہے۔ یہ مسئلہ خواتین کی نسبت مرد حضرات کے ساتھ زیادہ پیش آتا ہے۔ کم از کم وہ لوگ جو دینی ذہن رکھتے ہیں اور خاندان اور معاشرے کے دباؤ کی پرواہ نہیں کرتے، انہیں یہ ضرور چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی جلد شادیاں کردیں۔ یہ بات تو اب نوشتہ دیوار ہے کہ اگر ہمارے یہاں میڈیا کے کردار کو درست نہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ شادیوں میں تاخیر کا رویہ رکھا گیا تو صرف چند ہی سالوں میں ہمارا معاشرہ شدید قسم کی جنسی انارکی کا شکار ہو جائے گا او راس کی شدت مغربی معاشروں کی نسبت کہیں زیادہ ہو گی۔

          جو لوگ اپنی نسل کے ساتھ مخلص ہوں ، ان پر یہ بات اب فرض کے درجے میں لازم ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی جلد از جلد شادی کردیں۔ یہ درست ہے کہ جلد شادی سے کئی معاشی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں لیکن ان مسائل کی اہمیت ان مسائل کے سامنے نہ ہونے کے برابر ہے جو دیر سے شادی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر قناعت کا رویہ اختیار کیا جائے تو ان مسائل کو باآسانی حل کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے والدین جو مالی اعتبار سے مستحکم ہیں، اپنی اولاد کی شادی کے بعد بھی ان کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔

          وہ نوجوان جو ان مسائل سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں، انفرادی طور پر کئی اور طریقوں سے اپنی خواہش کو کم کر سکتے ہیں۔ اس میں دینی ماحول سے تعلق رکھنا، بکثرت نفلی روزے رکھنا اور ذہن کو مثبت سرگرمیوں میں لگانا شامل ہے۔

          ایسے افراد جو خدانخواستہ کسی جنسی عارضے کا شکار ہو چکے ہیں اور اب توبہ کرکے اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اس مسئلے پر ماہرین نفسیات اور ماہرین امراض جنسیات سے رجوع کریں۔ ابھی تک ہمارے یہاں ایسے اسپیشلسٹ کلینک قائم نہیں ہوسکے جہاں خاص طور پر جنسی امراض کا علاج کیا جاتا ہو لیکن ایسے ماہرین بہرحال موجود ہیں جو ان معاملات پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ایک مثال ڈاکٹر ارشد جاوید صاحب ہیں جو لاہور میں ان مسائل کے حال کے لئے کام کر رہے ہیں۔

          اس بات کا خیال رہے کہ ایسی صورتوں میں جھاڑ پھونک کرنے والے پیروں ، نام نہاد پروفیسروں اور اشتہار باز حکیموں سے مکمل طور پر اجتناب کیجئے کیونکہ یہ لوگ بالعموم اسٹیرائڈز پر مشتمل شدید نقصان دہ ادویات کے ذریعے علاج کرتے ہیں جو اگر چہ بسا اوقات وقتی طور پر تو مسئلے کو حل کر دیتی ہیں لیکن طویل عرصے میں جسمانی و ذہنی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔

غصہ اور جارحیت

جنسی جذبے کی طرح غصہ اور جارحیت بھی ایک فطری جذبہ ہے جو انسان میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے کسی مقصد کے حصول میں رکاوٹ پیش آئے ہو یا اپنی خواہش اور رضا مندی سے وہ جو کچھ کرنا چاہے نہ کر سکے۔ اس فطری جذبے کو عموماً ہمارے ہاں برا سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کا صرف غلط استعمال ہی برا ہوتا ہے۔ جارحیت کا غلط استعمال وہی ہوتا ہے جسے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ لوگ غصہ آنے پر گالی گلوچ، غیبت یا پھر لڑنے جھگڑنے پر اتر آتے ہیں۔اسی کے نتیجے میں بہت مرتبہ ایک فریق دوسرے پر زیادتی بھی کر جاتا ہے۔  دنیا بھر میں تخریب کاری اور دہشت گردی اسی جذبے کے تحت ہوتی ہے۔

          جارحیت کے جذبے کا صحیح استعمال یہ ہے کہ کسی جائز خواہش کی تکمیل میں اگر رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس سے پیدا ہونے والے جذبے کو مثبت رخ پر موڑ کر اسے قوت عمل میں تبدیل کر دیا جائے اور اس سے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے جائیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے میں ایک شخص کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے تو وہ اس سے لڑائی جھگڑا کرنے کی بجائے جارحیت کے جذبے کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال میں خرچ کرتے ہوئے اپنی اہلیت کو ثابت کرے۔

          دین اسلام نے غصے کے بارے میں بھی رہنمائی کی ہے۔ قرآن مجید اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شدید غصے کی حالت میں انسان کو خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا چاہئے اور اس حالت میں کسی فیصلے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اس حالت میں بھی معاف کر دینا سب سے بہتر ہے: وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنْ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔ (اٰل عمران3:134 )  ’’ایسے لوگ جو غصے پر قابو پانے والے ہوں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہوں، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ‘‘

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت کے بارے میں تلقین فرمائی ہے کہ ایسا شخص اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔ اس طرح اس کے غصے کی شدت کم ہوگی۔ اسی طرح بعض روایات میں ایسی حالت میں وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ غصے کی شدت کنٹرول ہو۔

          اگر ہم اپنے دائرہ کار میں کوئی برائی یا ظلم دیکھیں تو اسے ختم کرنے کی آرزو ہمارے اندر پیدا ہونی چاہئے۔ اس صورت میں بھی آپے سے باہر ہونا، اپنی حدود سے متجاوز کرنا اور دوسروں سے لڑائی جھگڑا کرنا درست نہیں۔ انسان کو ہمیشہ کوئی اقدام کرتے وقت خود کو ٹھنڈا رکھنا چاہئے اور کبھی بھی اپنی قانونی اور اخلاقی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔

          مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص معاشرے میں بے حیائی اور منشیات پھیلا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اس سے ڈائرکٹ تصادم کی بجائے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی جائے یا پھر معاشرے میں اس کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے اور انہیں اس چیز کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ بعض لوگ ان اداروں کی نااہلی اور کرپشن کو بنیاد بنا کر خود لڑائی جھگڑا کرنے پر اتر آتے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل درست نہیں کیونکہ ہمیں اتنا ہی کام کرنا چاہئے جتنے کا ہم سے تقاضا کیا گیا ہے۔ اپنی قانونی و اخلاقی حدود سے تجاوز کرکے ہم خود ایک نئے غلط کام کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں جس کے نتائج بسا اوقات اس سے کہیں برے نکلتے ہیں جو اس شخص کے کام سے نکل سکتے ہوں۔

مایوسی و تشویش (Frustration)  

مایوسی اس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب ہماری کسی خواہش کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوجائے اور ہمیں اس کے لئے کوئی متبادل راستہ بھی نظر نہ آرہا ہو۔ خواہش کی شدت اور دوسروں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا مایوسی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ کر دیتا ہے۔ مایوسی کو کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ نہ کرے اور خواہش پوری نہ ہونے کی صورت میں تھک کر نہ بیٹھ جائے بلکہ اس کے لئے دوسرے متبادل ذرائع تلاش کر تا رہے۔

          دین اسلام اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا درس دیتا ہے: قُلْ يَا عِبَادِي الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً۔ ’’ اے نبی آپ میری طرف سے فرما دیجئے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘اس موضوع پر ہم نے تفصیل سے اپنی تحریر ’’مایوسی سے نجات کیسے؟‘‘ میں بحث کی ہے۔

خوشی و غمی

یہ زندگی کا وہ پہلو ہے جس کا سامنا ہمیں کرنا ہی پڑتا ہے۔ ہر انسان کو اس زندگی میں بہت سے دکھ جھیلنا پڑتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت سی خوشیاں بھی سمیٹتا ہے۔ خوشی و غمی میں ہمارا رویہ ہماری شخصیت کا اہم ترین جزو ہے۔ بعض لوگ خوشی ملنے پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور اپنی خوشی کے اظہار کے وہ طریقے اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اسی طرح غمی کے موقع پر بھی چیخ و پکار اور رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔

          قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہمیں اس معاملے میں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ خوشی کے موقع پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے اور غمی کے موقع پر صبر کیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے اور نماز پڑھ کر، صدقہ وخیرات کرکے اور قربانی دے کر اپنی خوشی کا اظہار فرماتے۔ عیدین کے موقع پر اسی لئے صدقہ فطر اور قربانی کو صاحب حیثیت لوگوں کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے۔

          اسی طرح آپ کو بہت سے مواقع پر شدید دکھ کا سامنا بھی کرنا پڑاان میں اہل طائف کی سرکشی، غزوہ احد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت، آپ کی صاحبزادیوں سیدتنا زینب و رقیہ رضی اللہ عنہما اور صاحبزادوں کا انتقال اور دیگر کئی مواقع شامل ہیں۔ سیرت طیبہ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر موقع پر آپ نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور صبر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں ایسے تمام مواقع پر چیخ و پکار، نوحہ اور بین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

محبت و نفرت

محبت و نفرت بھی انسان کی شخصیت کے اہم پہلو ہیں۔ ہم بہت سی چیزوں کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔ یہی جذبے کچھ شدت اختیار کرکے محبت اور نفرت اور پھر اس سے بھی بڑھ کر عشق اور شدید نفرت کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر تو یہ جذبے اپنی فطری حدود میں رہیں تب تو ٹھیک ہے لیکن ان میں حدود سے تجاوز انسان کی شخصیت کو بری طرح مسخ کردیتا ہے۔ آپ نے یقینا ایسے کئی لوگ دیکھے ہوں گے جو عشق یا نفرت کی شدت کا شکار ہو کر اپنی پوری زندگی تباہ کربیٹھے یا پھر اس سے ہاتھ ہی دھو بیٹھے۔

          ان جذبوں کو اپنی حدود میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا رخ موڑ کر صحیح سمت میں لگا دیا جائے۔ انسان کی محبت کا محور و مرکز اللہ تعالیٰ کی ہستی ہونا چاہئے جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کی ہر ہر ضرورت کا ایسا خیال رکھتا ہے جو اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ بعض انسان بڑے ناشکرے ہوتے ہیں اور وہ اپنے رب کے ساتھ شریک بنا کر ان سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  وَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَندَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبّاً لِلَّهِ۔  (البقرہ 2:165)  ’’انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے ساتھ کچھ شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسے محبت کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے کرنا چاہئے، (ان کے برعکس) اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ ‘‘

          اللہ تعالیٰ سے محبت ہی کی اہم ترین شکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے بندے اور آخری رسول ہیں۔ آپ کی محبت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت ہے۔ اس محبت کے بارے میں ہمارے ہاں افراط و تفریط کے رویے پائے جاتے ہیں۔ ۔بعض لوگ اپنی حماقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے الگ سمجھتے ہیں اور پھر رسول کا مقابلہ اللہ تعالیٰ سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف تو آپ کو اپنی محبت کے غلو میں خدا کا شریک دیتے ہیں اور دوسری طرف شخصی محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود آپ کی تعلیمات کی پیروی بھی نہیں کرتے حالانکہ محبت بغیر اتباع کے محض دکھاوا اور فریب ہے۔

          اسی طرح کچھ دوسرے لوگ آپ کی محبت کو محض اتباع سنت ہی قرار دیتے ہیں اور آپ کے ساتھ محبت کے ذاتی تعلق کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ محبت و عقیدت ایک عظیم نعمت ہے وہاں اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اپنے ہر معاملے میں آپ کی اتباع اور پیروی کی جائے۔اسی محبت کی ایک اور شاخ آپ کے اہل بیت اور آپ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی محبت ہے جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا لیکن اس معاملے میں بھی ہر قسم کے غلو سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ یہ عظیم نعمت ہمارے لئے شرک کی مصیبت نہ بن جائے۔

          جب انسان اپنی محبت کا رخ اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور آپ کی آل و اصحاب کی طرف موڑ دے تو پھر اسے دنیاوی محبتوں سے نجات مل جاتی ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ والدین اور بیوی بچوں سے محبت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ محبتیں بھی انسان کی فطرت میں داخل ہیں۔ لیکن ان سب محبتوں کو خدا و رسول کی محبت کے تابع ہونا چاہئے۔

          یہی حال نفرت کے جذبے کا ہے۔ جب نفرت کے جذبے کو غلط استعمال کیا جائے تو انسان تخریب کار اور دہشت گرد بن جاتا ہے اور اپنے جیسے انسانوں کے خون میں ہاتھ رنگنے لگتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اسے برائیوں کے خلاف نفرت میں تبدیل کر دیا جائے۔ ایک بندہ مومن کے نزدیک کفر اور فسق و فجور کی طرف جانا آگ میں جل جانے سے زیادہ قابل نفرت ہونا چاہئے۔ اسی چیز کا ہمارے دین میں تقاضا کیا گیا ہے۔ اس جذبے کو بھی بعض اوقات غلط رنگ دے دیا جاتا ہے۔ برائی سے نفرت کو انسانوں تک پھیلا دیا جاتا ہے۔ نفرت برائی سے ہونی چاہئے برے انسان سے نہیں۔

          ایک مسلمان کو دین اور اخلاقیات کا داعی ہونا چاہئے اور اسے برائیوں میں مبتلا شخص کو اپنا بھائی سمجھ کر اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے نہ کہ اسے برا قرار دے کر دھتکار دے اور وہ اپنی برائیوں میں اور شدت اختیار کر جائے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم سے بھی بہت سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو کیا خوب نصیحت فرمائی کہ اس گناہ گار کو وہ سزا دے جس نے خود کبھی یہ گناہ نہ کیا ہو۔ اس اصول سے استثنا صرف ان لوگوں کا ہے جو بہت ہی زیادہ گھناؤنے قسم کے جرائم میں مبتلا ہوں اور اس سے توبہ بھی نہ کرنا چاہتے ہوں اور انہی میں مبتلا رہنا اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہوں۔

          اپنی زندگی میں ان دوستوں کا انتخاب کیجئے جو محبتیں پھیلانے والے اور نفرت سے دور بھاگنے والے ہوں۔ اگر آپ کے قریب ایسے منفی ذہنیت کے حامل لوگ موجود ہیں جو ہر وقت دوسروں کی نفرت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور دوسروں تک بھی یہ آگ منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مکمل طور پر اجتناب کیجئے ورنہ آپ کی شخصیت کو بھی یہ لوگ تباہ کرنے میں کسر نہیں چھوڑیں گے۔

 

اگلا صفحہ                           فہرست                           پچھلا صفحہ

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

website stat