بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

یہ تحریر پرنٹڈ کتاب کی شکل میں شائع ہو چکی ہے، اسے خریدنے کے لیے آپ پبلشر سے رابطہ کر سکتے ہیں: شفیق احمد۔ موبائل نمبر 0092-332-3051201

 

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اخلاص

اخلاص یا خلوص ہماری شخصیت کا وہ پہلو ہے جس کے ہونے کی وجہ سے کوئی دوسرا ہم پر اعتبار کر سکتا ہے۔ اخلاص کا معنی ہے نیت کا پاکیزہ اور خالص ہونا۔ نیت کا یہ خلوص اللہ تعالیٰ کے ساتھ میں بھی ہوسکتا ہے اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نیت کے خلوص کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو نیک عمل بھی کرے ، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کرے، اس میں اس کا کوئی دنیاوی مفاد پیش نظر نہ ہو۔ بندوں کے ساتھ خلوص یہ ہے انسان کی نیت میں کسی قسم کا کوئی کھوٹ نہ ہو اور وہ سب کا خیر خواہ ہو۔

          اللہ تعالیٰ کے لئے جو اعمال کئے جاتے ہیں، ان میں نیت کے خالص ہونے کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عمل کا دارومدار نیت ہی کو قرار دیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ کوئی شخص جس مقصد کے لئے کوئی کام کرتا ہے، اسے وہی حاصل ہوتا ہے۔ اگر کوئی مال و دولت یا شہرت و ناموری کے حصول کے لئے جہاد جیسا اعلیٰ عمل بھی کرتا ہے تو اسے وہی ملے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہ ہوگا۔ایک اور حدیث کے مطابق ایسے لوگ جو قرآن مجید کی تلاوت داد وصول کرنے کے لئے کرتے رہے، معاشرے میں اعلیٰ مقام بنانے کے لئے سخاوت کے دریا بہاتے رہے اور شہرت کے لئے جہاد جیسا عمل کرتے رہے، آخرت میں کوئی اجر نہ پاسکیں گے اور جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ جب ایک عمل اللہ تعالیٰ کے لئے کیا ہی نہیں گیا تو پھر وہ اس کا اجر کیوں دے گا۔یہی وجہ ہے کہ ریا کاری کو شرک اصغر قرار دیا گیا ہے۔

          انسانوں کے ساتھ خلوص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر خواہی سے تعبیر فرمایا ہے۔ مشہور حدیث ہے کہ الدین نصیحۃ یعنی دین خیر خواہی کا نام ہے۔ایک بندہ مومن کا یہ کام ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ خیر خوا ہی سے پیش آئے۔ ان کا خیال رکھے اور ان کے حقوق پورے پورے ادا کرے۔ جو ایسا نہیں کرتا، اسے اس دنیا میں بھی ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس خواری کے علاوہ کچھ نہ ملے گا۔ ہم سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ دوسرے اس کے ساتھ مخلص ہوں۔ اسی طرح دوسروں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہم اس کے ساتھ مخلص ہوں۔

خوف و خشیت

خوف بھی انسان کا ایک فطری جذبہ ہے۔ ایسی تمام چیزیں جو اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں، ان سے انسان خوفزدہ رہتا ہے۔ اسی طرح انسان کوئی بھی ناپسندیدہ صورتحال پیش آنے سے ڈرتا ہے۔ یہی جذبہ اگر نارمل حدود کے اندر رہے تو اسے تمام خطرات سے بچاؤ کی مناسب تدابیر اختیار کرکے ان سے محفوظ رہنے پر مجبور کرتا ہے ، لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو پھر ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔

          دوسرے جذبات کی طرح دین اسلام اس جذبے کا رخ بھی مناسب سمت میں موڑ دیتا ہے۔ دین ہم سے جن صفات کا تقاضا کرتا ہے ان میں سے ایک اللہ کا خوف ہے۔ یہ خوف اس قسم کا نہیں جیسا کہ بعض لوگ جن بھوتوں سے ڈرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خوف دراصل ایک محبوب ہستی کے ناراض ہوجانے کا خوف ہے۔ دنیا کا کوئی شخص بھی اپنے محبوب کی ناراضگی سے ڈرتا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر محبت پر ترجیح دیتے ہیں، وہ اس کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں اور ہر ایسے فعل سے اجتناب کرتے ہیں، جو اس کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ کا خوف دوسری تمام چیزوں کے خوف سے آدمی کو نجات دے دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان ہر چیز سے بالکل ہی بے خوف ہو جاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا خوف وہ حوصلہ دیتا ہے جس سے انسان ہر خوف اور خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض کو غزوہ خندق کے موقع پر کفار کا لشکر جرار دیکھ کر شدید گھبراہٹ ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کے خوف اور محبت نے انہیں اس عظیم لشکر کے مقابلے پر لا کھڑا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی مدد سے اہل ایمان کو اس مقابلے میں فتح نصیب فرمائی۔

حیرت و تجسس

انسان کی شخصیت کا ایک پہلو حیرت بھی ہے۔ جب وہ کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے جس کی وہ توجیہ نہیں کر سکتا تو وہ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی حیرت تجسس کو جنم دیتی ہے۔ قدیم زمانے سے مذہبی طبقے نے انسان کے اس جذبے کا استحصال کیا ۔ جب وہ کوئی آسمانی آفت سے دوچار ہوتا تو اس کی توجیہ دیوتاؤں کی ناراضگی وغیرہ سے کی جاتی اور طرح طرح کے توہمات سے حیر ت کو ختم کیا جاتا۔ہمارے دین نے ان تمام توہمات کا خاتمہ کرکے کائنات کی زبردست عقلی توجیہ کو ممکن بنا دیا ہے۔ جیسے جیسے جدید سائنس کی بدولت انسان کا علم ترقی کرتا جارہا ہے وہ کائنات کی اسی توجیہ کو ماننے پر مجبور ہوتا جارہا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خدا ہے۔

          تجسس کے جذبے کو اگر مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ انسان کے علم میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ سائنس کی یہ ساری ترقی اسی جذبہ تجسس کی بدولت ہے۔ اس کے برعکس اگر اسے ان معلومات کے حصول کے لئے استعمال کیا جائے جن کا کوئی مقصد نہیں ہے تو یہ ایک آفت بن جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہنے او رذاتی حالات اور ذاتی خامیاں جاننے کا تجسس بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تجسس سے منع فرمایا ہے اور ایک دوسرے کی ذات کو کریدنے سے روکاہے۔  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنْ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً۔  (الحجرات 49:12)  ’’اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو۔ بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ (ایک دوسرے کی ذاتی زندگی کے بارے میں) تجسس نہ کرو اور نہ ہی ہے ایک دوسرے کی غیبت کرو۔‘‘

          ایک حدیث کے مطابق ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانکا تو آپ نے اس پر شدید ناراضی کا اظہار فرمایا ۔ یہ بھی انتہائی حیرت کی بات ہے کہ اہل مغرب جو آسمانی ہدایت سے دور ہیں، ان اخلاقیات کو اپنائے ہوئے ہیں اور ہم اس ہدایت کے علمبردار ہونے کے باوجود اخلاق کے اس معیار سے ابھی کوسوں دور ہیں۔اپنے ان جذبوں کو کنٹرول کرکے ہم اپنی شخصیت کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔

ترجیحات (Priorities)

ترجیحات بھی انسان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ہر انسان اپنے حالات کے مطابق بعض چیزوں کو دوسری چیزوں پر ترجیح دیتا ہے۔ انتخاب کا یہ اصول پوری زندگی میں ہی کار فرما رہتا ہے۔ دنیاوی زندگی کے بارے میں دین کا تقاضا یہ ہے کہ ہر معاملے میں اخلاقی پہلو کو ترجیح دی جائے اور اگر کسی چیز میں اخلاقی اعتبار سے کوئی قباحت نہیں ہے تو اس میں انسان آزاد ہے کہ وہ جسے چاہے ترجیح دے۔

          دنیا کے مقابلے میں آخرت (جو کہ اصل زندگی ہے) کو ترجیح دینا دین اور عقل دونوں کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر کوئی شخص دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ایک روپے کو حاصل کرنے کے لئے کروڑوں روپے کا نقصان کرلے۔ ہمیں ترجیح کے اس اصول کو اپنی شخصیت کا حصہ بنانا چاہئے کہ جو چیز ہمارے لئے دنیا اور آخرت میں زیادہ فائدہ مند ہے اسے اختیار کر لیں اور اگر ایسی صورتحال سامنے آجائے جس میں اگر ہم آخرت بنانے کی کوشش کریں تو دنیا میں حالات خراب ہوتے ہوں اور دنیا بنانے کی کوشش کریں تو آخرت تباہ ہوتی ہو تو پھر ہر حال میں آخرت ہی کو ترجیح دیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کسی کو مال حرام کمانے کا بہترین موقع میسر ہو۔ اس صورت میں اس کے سامنے دنیا کمانے کا تو بہترین موقع ہے لیکن اس سے آخرت تباہ ہوجائے گی۔ ایسے حالات میں عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دی جائے کیونکہ دنیا کی زندگی چند سال کی ہے اور آخرت کی لامحدود۔

قوت برداشت (Temperament)

 انسان کی قوت برداشت بھی اس کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس دنیا میں بارہا ایساہوتا ہے کہ حالات ہمارے لئے خوشگوار نہیں ہوتے یا پھر دوسرے لوگ ہماری مرضی کے مطابق رویہ اختیار نہیں کرتے۔ ایسے موقعوں پر جو لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، انہیں کمزور شخصیت کا مالک سمجھا جاتاہے۔ اس کے برعکس جو لوگ تحمل اور بردباری سے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، وہ اپنے قریبی لوگوں کی نظر میں اہم مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ 

          حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت برداشت انتہائی اعلیٰ درجے کی تھی۔ کفار کے ظلم و ستم کے جواب میں آپ ان کے لئے دعا فرماتے اور کبھی بھی اپنے دشمنوں سے ذاتی انتقام نہ لیتے۔یوں تو سبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر متحمل اور بردبار ہو گئے تھے لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تحمل ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے۔ یہ آپ کی قوت برداشت ہی تھی جس کی بدولت آپ نے بیس سال بطور گورنر اور بیس سال بطور خلیفہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور دنیا کی سب سے بڑی مملکت کے فرمانروا کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔

          عام سے لوگ بھی آپ کے سامنے آپ پر شدید تنقید کرتے لیکن آپ ہمیشہ خندہ پیشانی سے اسے برداشت کرتے۔ آپ کی یہی خصوصیت تھی جس کی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے گورنروں کے برعکس آپ کو کبھی معزول یا تبدیل نہیں کیا۔

          قوت برداشت کو بڑھاناخاصا مشکل کام ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے اور ان پر زیادہ نہ سوچا جائے۔ اگر ان معاملات میں آپ کی مرضی کے خلاف کچھ ہوجائے تو اسے نظر انداز کر دیجئے۔ جو لوگ چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو برداشت نہیں کرتے، وہ اپنے ساتھیوں کی نظر میں اپنا مقام گرا دیتے ہیں ۔قوت برداشت کو بڑھانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے اور ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے جو اعلیٰ درجے کے متحمل اور بردبار ہوں۔ اگر آپ کے حلقہ احباب میں ایسے افراد موجود ہیں جو بات بات پر بھڑک اٹھتے ہیں تو ان سے اجتناب کیجئے۔

صبر و شکر

انسان خواہ امیر ہو یا غریب، شرقی ہو یا غربی، نیک ہو یا بد، مسلم ہو یا غیر مسلم، اس پر ایسے وقت بھی آتے ہیں جب اسے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، دنیا کے حالات اس کے لئے ناگوار ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو طرح طرح کی نعمتیں اور خوشیاں ملتی ہیں اور اسے راحت و آرام نصیب ہوتا ہے۔ دین اسلام ہمیں پہلی قسم کے حالا ت میں صبر اور دوسری قسم کے حالات میں شکر کا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔

          صبر دراصل انسان کی قوت برداشت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جو شخص جتنا متحمل اور بردبار ہوگا ، وہ اتنا ہی زیادہ صابر ہوگا۔ شکر انسان کی خود سپردگی کا نام ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسے خوشگوار حالات پیش آتے ہیں تو ناشکرے انسان اسے اپنی کاوشوں او رصلاحیتوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اپنی کامیابیوں پر ایسا جشن مناتے ہیں جس میں دل کھول کر وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس ایک بندہ مومن یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف اور صرف اس کے رب کی عطا ہے اور وہ اس حالت میں اس کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے اور خود کو اس کے حضور جھکا دیتے ہیں۔

          بعض بزرگوں کے نزدیک شکرکی منزل صبر سے زیادہ کٹھن ہے۔ مصائب میں تو انسان کے سامنے صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا لیکن خوشیاں ملنے پر اس کے سامنے دونوں راستے کھلے ہوتے ہیں کہ چاہے تو وہ صبر کرے اور چاہے نہ کرے۔ مامون رشید کے دور میں امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے اور آپ کو شدید جسمانی اور نفسیاتی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ آپ نے پوری طرح اس پر صبر کیا۔ مامون کے بعد جب متوکل علی اللہ کا دور آیا تو اس نے آپ پر انعام و اکرام کی بارش کردی۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا کہ میرے لئے یہ آزمائش پہلی سے زیادہ سخت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق انسان کی شخصیت سے ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کے لئے صبر کی آزمائش آسان ہوتی ہے اور بعض کے لئے شکر کی۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبر و شکر دونوں کے مواقع پر نماز پڑھ کر صبر و شکر کیا کرتے۔ شدید مصائب میں بھی آپ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوجاتا اور کامیابیوں پر بھی آپ کی گردن نیاز اپنے پروردگار کے سامنے جھکی ہوتی۔ طائف سے واپسی کے موقع پر ، جب آپ پر پتھر برسا کر آپ کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچائی گئی تب بھی آپ نے صرف اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کی اور جب فتح مکہ کے موقع پر آپ کا لشکر جرار فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہورہا تھا تو دنیادار فاتحین کے برعکس، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن شکر کے جذبات کے ساتھ اتنی جھکی ہوئی تھی کہ سر مبارک اونٹنی کے کوہان سے ٹکرا رہا تھا۔

          شکر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمت آپ کو عطا کی ہے، اس کی خوشیوں میں اپنے ساتھ اپنے ان بھائیوں کو بھی شریک کیجئے جو اس سے محروم ہیں مثلاً اچھی جاب ملنے کی خوشی میں صدقہ کیجئے، اگر اپنی شادی پر خرچ کر رہے ہیں تو اس رقم کا کچھ حصہ اپنی کسی اس غریب بہن کو بھی دیجئے جو محض مال کی کمی کی وجہ سے اپنے گھر بار سے محروم ہے۔

ٹیم اسپرٹ (Team Spirit)

کسی عملی انسان کا قول ہے، "Only the teams can win."  ۔ یہ حقیقت ہے کہ اکیلا انسان کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا کیونکہ کسی بڑے کام کو سرانجام دینے کا حوصلہ تو شاید کسی فرد میں ہو لیکن اس کے لئے درکار تمام صلاحیتیں بہت کم ہی کسی ایک شخص میں اکٹھی ہوتی ہیں۔ مختلف صلاحیتیں لیکن مشترک سوچ اور مزاج رکھنے والے افراد مل کر ٹیم کی صورت میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ ٹیم اسپرٹ یہ ہے کہ مل کر کسی مشترکہ مقصد کے لئے جدوجہد کی جائے۔

          ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کسی ٹیم کے تمام ارکان بہت زیادہ باصلاحیت ہوں۔ ایسے مواقع پر باصلاحیت افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے کمزور ساتھیوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلیں تاکہ وہ اپنے حوصلے پست ہونے کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ اگر اس مقصد کے لئے باصلاحیت افراد کو اپنی رفتار کچھ سست بھی کرنی پڑے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ٹیم کی کامیابیوں میں سب کو شریک کیا جائے اور کوئی شخص دوسروں کی ٹانگ کھینچ کر خود آگے آنے کی کوشش نہ کرے۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں ہمارے لئے ٹیم اسپرٹ کا بہترین نمونہ ہیں۔ معاش اور روزگار کے  مسائل ہوں یا کفار کا ظلم و ستم، جنگوں کا سامنا ہو یا مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ، ہر موڑ پر ہمیں ٹیم اسپرٹ کی ایسی اعلیٰ مثال ملتی ہے جو شاید کسی اور تحریک میں نہ مل سکے۔ یہ اعلیٰ ترین کردار کے حامل افراد ہر بوجھ کو مل کر اٹھاتے اور اپنے کسی ساتھی کو پیچھے نہ چھوڑتے۔ ہر خوشی کو ایک دوسرے سے شیئر کرتے۔ حتیٰ کہ کھانے پینے کی چیزوں کے معاملے میں بھی دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے۔ ان سب کی بہترین مثال اس وقت ملتی ہے جب مواخات مدینہ کے تحت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصاری کا بھائی بنا دیا۔ اس موقع پر انصار نے جس ایثار کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ کا روشن ترین باب ہے۔

          خود میں ٹیم اسپرٹ پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دل سے قساوت دور کرنے کی کوشش کیجئے اور دوسروں کے لئے اپنے دل میں خیر خواہی کے جذبات پیدا کیجئے۔ اپنے دوسرے ٹیم ممبرز کے لئے خیر خواہی اور احسان کے جذبات پیدا کیجئے، انشاء اللہ اس کے نتیجے میں دوسرے بھی آپ کے لئے یہی جذبات رکھیں گے۔

          اجتماعی کاموں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہےکہ بعض اوقات ٹیم، انسان کی شخصی آزادی کو سلب کر لیتی ہے جس کے نتیجے میں تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار پر قدغنیں عائد ہو جاتی ہیں۔ اچھی ٹیموں میں کبھی شخصی آزادی سلب نہیں کی جاتی اور اختلاف رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ کا واسطہ کسی ایسی ٹیم سے پڑ گیا ہے تو اس کی اصلاح کی کوشش کیجیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس ٹیم کو چھوڑ کر کسی ایسی ٹیم سے وابستہ ہو جائیے جہاں حالات سازگار ہوں۔

خود انحصاری یا دوسروں پر انحصار  (Self Sufficiency or Dependability)

ہر شخص کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کم از کم اپنا بوجھ خود اٹھائے اور دوسروں کا بوجھ بھی کسی حد تک اٹھانے کی کوشش کرے۔ جو شخص اس صلاحیت کے باوجود دوسروں پر انحصار کا رویہ اختیار کرتا ہے، اسے ہر معاشرے میں ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ خود انحصاری کے لئے اگرچہ محنت کرنا پڑتی ہے اور تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں لیکن اسی کی بدولت معاشرے میں باعزت مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔

          یہ تو بدیہی امر ہے کہ ہر شخص اپنی تمام ضروریات کو خود ہی پورا نہیں کرسکتا۔ اسے بہت سی ضروریات کے لئے دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے مواقع پر بہترین طرز عمل یہ ہے کہ اس شخص کی کچھ ضروریات پوری کرنے کی آپ بھی کوشش کریں جو آپ کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ مثلاً بیوی اگر اپنے شوہر کی دل و جان سے خدمت کررہی ہے تو شوہر کا بھی فرض ہے کہ وہ اس کے لئے کما کر لائے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔ اسی طرح والدین اپنی اولاد کے لئے جو کچھ کرتے ہیں، اولاد کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں۔ اگر ایک دوست نے دوسرے کی مشکل وقت میں مدد کی ہے تو دوسرے کو بھی چاہئے کہ وہ ہر مشکل میں اپنے دوست کو تنہا نہ چھوڑے۔

          خود انحصاری کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنی شخصیت کو نفسیاتی، عمرانی اور بالخصوص معاشی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جائے اور خود میں اعلیٰ صفات پیدا کی جائیں تاکہ دوسروں پر انحصار کو کم سے کم کیا جائے۔

 

خود غرضی

خود غرضی کو ہمارے ہاں منفی معنوں میں لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی ذات کو اہمیت اور دوسروں پر ترجیح دینا بہرحال ایک فطری جذبہ ہے۔ جب انسان ڈوب رہا ہو تو وہ سب سے پہلے خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح مالی تنگی کے دور میں ہر ایک اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی پہلے فکر کرتا ہے۔ اگر یہ جذبہ انہی فطری حدود کے اندر رہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر یہ حد سے بڑھ جائے تو کسی بھی شخص کا ایک منفی امیج قائم کرتا ہے۔ جو فرد اپنی معمولی سی خواہش کے لئے دوسروں کی بنیادی ضروریات کو قربان کرے، سب اسے خود غرض کہتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی غریب کے بچے بھوکے مر رہے ہوں اور دوسرا شخص انہیں نظر انداز کرکے اعلیٰ ہوٹلوں میں بہترین قسم کے کھانے کھا رہا ہو بلکہ انہیں ضائع کر رہا ہو تو اسے خود غرض کہا جائے گا۔

          اگر دیکھا جائے تو انسانی اخلاقیات کی روشنی میں یہ نہایت گھٹیا درجے کی حرکت ہے۔ ہمارے دین نے ہمیں اپنی ضروریات و خواہشات پوری کرنے سے نہیں روکا بلکہ اپنے معاشرے کے ان افراد کی ضروریات پوری کرنے کی تلقین کی ہے جو کسی وجہ سے معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ہزاروں درہم میں پانی کو کنواں خرید کر سب اہل مدینہ کے لئے وقف کیا تھا ، وہ اسی بے غرضی کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس قسم کی بہت سے مثالیں ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ علیہم الرضوان کی سیرتوں میں ملیں گی۔ جنگ یرموک کا وہ واقعہ تو آپ کو یاد ہوگا جس میں دم توڑتے ہوئے ایک زخمی نے اپنی پیاس پر دوسرے کو ترجیح دی اور دوسرے نے تیسرے کو اپنی پیاس پر ترجیح دی۔

          اگر ہم ایک اعلی اخلاقی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کی مدد کے جذبے کو اپنی شخصیت کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔

قائدانہ صلاحیتیں (Leadership)

دور قدیم سے ہی یہ خیال عام تھا کہ قائدانہ صلاحیتیں موروثی ہوتی ہیں اور یہ کسی خاص نسل کے ساتھ ہی مخصوص ہوتی ہیں۔ علم نفسیات کی جدید ترین تحقیقات نے اس خیال کو غلط ثابت کردیا ہے۔ ہر شخص میں فطری طور پر قائدانہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں ۔ ہاں ایساضرور ہوتا ہے کہ بعض افراد میں یہ زیادہ اور بعض میں یہ کم ہوتی ہیں۔ مناسب تربیت کے ذریعے ان صلاحیتوں کو نشوونما دی جاسکتی ہے۔یہ غلط فہمی بھی دور ہونی چاہئے کہ لیڈر شپ صرف سیاسی یا مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں جہاں اجتماعی کام کرنا ہو، لیڈر شپ کی اہمیت مسلّم ہے۔

          قائدانہ صلاحیتوں میں دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت، دوسروں کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت ، دوسروں کو متحرک (Motivate)  کرنے کی صلاحیت ، فیصلہ کرنے کی صلاحیت، اپنی بات کے موثر انداز میں ابلاغ کی صلاحیت، ذہانت، جوش و ولولہ، دیانت داری، دلیری ، خود اعتمادی اور مسائل کے تخلیقی انداز میں حل کرنے کی صلاحیت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں سے کئی صلاحیتوں پر اس تحریر کے دوسرے حصوں میں بحث کی گئی ہے۔ جن افراد میں دوسروں کی نسبت یہ خصوصیات زیادہ ترقی یافتہ ہوتی ہیں، وہ بالعموم اچھے لیڈر ثابت ہوتے ہیں۔

       اپنی شخصیت میں ان صلاحیتوں کو ترقی دینے کا کوئی ایک طریق کار بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ہر صلاحیت کو بہتر بنانے کے بہت سے طریقے ہیں۔ یہاں پر ہم بعض صلاحیتوں کے بارے میں مختصراً چند نکات پیش کر رہے ہیں، باقی صلاحیتوں کے بارے میں دوسرے حصوں میں بحث کی گئی ہے:

·      دوسروں کے ساتھ ہمدردی، خلوص اور محبت کا رویہ رکھیے۔ بے جا تنقید، نفرت، دوسروں کی بے عزتی کرنا اچھے لیڈر کے لئے زہر قاتل ہے۔

·      دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے اس تحریر میں دیے گئے شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بہتر بنائیے۔ آپ دوسروں کو زیادہ بہتر طور پر متاثر کر سکیں گے۔

·      دوسروں کی رہنمائی کے لئے اپنے علم و عقل میں اضافہ کیجئے۔ بغیر علم کے دوسروں کی رہنمائی کرنے والوں کو سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ وا لسلام نے اندھے راہ دکھانے قرار دیا ہے۔

·      دوسروں میں تحریک (Motivation)   پیدا کرنے کے لئے اس سادہ اصول کو اپنا لیجئے کہ ہر شخص چند محرکات رکھتا ہے۔ اگر آپ اسے اس کی خواہشات پوری کرنے کی امید دلائیں تو وہ متحرک ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہر انسان کو زندہ رہنے کے لئے روٹی ، کپڑے اور مکان کی ضرورت ہے۔ یہی خواہش اسے کام کرنے پر مجبو رکرتی ہے۔ ہر انسان میں بہت سے محرکات پائے جاتے ہیں جن میں بنیادی ضروریات کے علاوہ تحفظ ، تجسس، سرگرمی، حصول ، وابستگی، رتبے، طاقت، ہمدردی، ایثار وغیرہ شامل ہیں۔ ایک اچھے لیڈر کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ اس کے ٹیم ممبرز میں کس جذبے کے تحت تحریک پیدا کی جاسکتی ہے اور اپنے وسائل کے مطابق اس کو بروئے کار لاکر وہ اس میں تحریک پیدا کرسکتا ہے۔

·      درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت تجربے کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ شروع شروع میں انسان کو اپنے علم کے مطابق کوئی بھی اچھا فیصلہ کر لینا چاہئے۔ تجربے کے ساتھ ساتھ وہ سیکھ جائے گا کہ کن حالات میں کیا فیصلہ درست ہے۔ اس مقصد کے لئے تجربہ کار لوگوں کے مشورے کی بھی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

اس بات کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ دینی معاملات میں اپنی لیڈر شپ کی خواہش کوئی اچھی بات نہیں۔ دینی لیڈر شپ اگرچہ بڑے اعلیٰ درجے کی نعمت ہے لیکن یہ بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ دین میں لیڈر شپ کی خواہش نہ کرے بلکہ عاجزی و انکساری کے ساتھ دین کی خدمت کرتا رہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے اس آزمائش میں ڈال دے تو پوری تن دہی کے ساتھ اس میں پورا اترنے کی کوشش کرے۔ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرتوں سے یہی رہنمائی ملتی ہے۔

عصبیت

عصبیت کا مطلب ہے خود کو انسانوں کے کسی گروہ کے ساتھ وابستہ سمجھنا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کی بدولت ہی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ انسان ہمیشہ خود کو کسی خاندان، برادری، قبیلے، شہر، علاقے، ملک یا مذہب سے وابستہ سمجھتا ہے اور اپنے گروہ کے لئے خدمات انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ابن خلدون کے مطابق قوموں کی تشکیل کی بنیاد ہی عصبیت ہوتی ہے۔

          قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اس جذبے کو تسلیم کیا ہے اور اس کے بارے میں ہدایات بھی دی ہیں۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔ (الحجرات 49:13) ’’ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں خاندان اور قبائل بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے سے تعارف حاصل کر سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘

          عصبیت کا جذبہ اگر اپنی حدود ہی میں رہے تو اس کی برکت سے انسان اجتماعی زندگی گزارنے کے قابل ہوتا ہے لیکن اگر وہ اسے بڑھا کر تعصب کی شکل دے لے اور دوسرے معاشرتی گروہوں کو حقیر سمجھنے لگے تو یہی جذبہ اس کے لئے مصیبت بن جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو اس میں طرح طرح کے تعصبات پائے جاتے ہیں۔ لوگ عموماً اپنے نسب پر فخر کرتے ہیں اور دوسری ذاتوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ تصور برصغیر کے مسلمانوں میں نسل پرست اقوام سے آیا ہے۔ اسی تصور کی بنا پر بعض لوگ دوسری ذاتوں میں شادیاں نہیں کرتے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین بیٹیوں کی شادیاں غیر سادات میں کیں۔ اسی طرح سیدنا علی، سیدنا حسن او رسیدنا حسین رضی اللہ عنہم نے اپنی بہت سی بیٹیوں اور بیٹوں کی شادیاں صرف اور صرف علم اور تقویٰ کی بنیاد پر غیر سید خاندانوں میں کیں۔

          اسلام میں کسی نسب کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں۔ بعض لوگ کسی بزرگ شخصیت کی اولاد ہونے کی وجہ سے خود کو برتر اور دوسرے کو کمتر سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بات تو مسلمہ ہے کہ ہر انسان خواہ وہ کسی بھی حسب نسب سے تعلق رکھتا ہو، بہرحال اللہ تعالیٰ کے دو جلیل القدر نبیوں آدم اور نوح علیہما الصلوۃ والسلام کی اولاد ضرور ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اس معاملے میں بڑی واضح ہے خاندان اور قبائل بنانے کا مقصد صرف تعارف تھا، اس کی بنیاد پر کسی کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں کیونکہ انسان کی یہ صفات غیر اکتسابی ہیں۔

          اگر کسی شخص کے آباؤ اجداد بہت نیک تھے تو اس میں اس شخص کا کیا کمال ہے یا پھر اگر اس کے آباؤ اجداد میں کوئی برا شخص گزرا تھا تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ فضیلت کا معیار تو اس کے اپنے کارناموں پر ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے نہیں گزارتا تو اسے دوسروں پر برتری کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اگر کوئی شخص نیک اور پرہیزگار ہے تو اسے تب بھی دوسروں پر اپنی برتری جتلانے کا کوئی حق نہیں، اس کو جو عزت و شرف دیا جائے گا، اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔

          نسب کے علاوہ ہمارے یہاں پیشوں کا بھی بڑا تعصب پایا جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ ہاتھ سے کام کرنے والے بہت سے پیشوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس اہل عرب میں کسی پیشے کو حقیر نہیں جانا جاتا، یہی وجہ ہے کہ وہاں بڑے بڑے امیر لوگ اپنے آبائی پیشوں مثلاً خیاط (درزی)  وغیرہ کو اپنے نام کے ساتھ فخر سے لگاتے ہیں۔دین اسلام ہر قسم کے جائز پیشے کو عزت کا مقام دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کرکے کمانے والے کو اللہ کا دوست قرار دیا ہے۔

          ہمارے قبائلی علاقوں میں بالخصوص قبائلی تعصب بھی عام ہے۔ ایک شخص کے قتل کے جر م میں اس کے قبیلے کے کسی اور شخص کو قتل کرد یا جاتا ہے۔ باپ دادا کی دشمنیوں کو ان کے پوتے اور نواسے ساری عمر بھگتتے رہتے ہیں اور پھر اس دشمنی کو اگلی نسل تک منتقل کر دیتے ہیں۔ وطن عزیز کو جس عصبیت سے شدید خطرہ لاحق ہے، وہ صوبائی اور لسانی عصبیت ہے۔ اسی کی بنیاد پر پہلے ہمارا ملک دو لخت ہوا اور اب بھی مختلف صوبوں میں محض زبان کی بنیاد پر علیحدگی کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔

          ملکی و وطنی عصبیت کی بنا پر دنیا میں دو بڑی جنگیں ہو چکی ہیں جن میں کروڑوں لوگ موت یا معذوری کا شکار ہوئے۔ ہمارے ملک میں ملکی عصبیت تو خیر ابھی تک اپنے جائز مقام تک نہیں پہنچی اس وجہ سے اس کے ناجائز حدود میں داخل ہونے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں۔

          ان سب تعصبات سے بڑھ کر مذہبی عصبیت ہے۔ یہی وہ تعصب تھا جس کی بنا پر بعض یہودی، غیر یہودیوں سے سودی لین دین اور ان پر ظلم و ستم کو بھی جائز سمجھتے تھے۔ ہمارے یہاں بھی بعض لوگ غیر مسلموں کو حقیر سمجھتےہیں اور مسلمان کے گھر پیدا ہونے والا، خواہ اپنے عقائد و اعمال میں اس کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہ ہو، خود کو ان سے برتر سمجھ کر نسلی غرور میں مبتلا ہے۔

          یہ تعصب ہمارے ہاں مسلمانوں کے اپنے فرقوں کے ہاں اور زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ ہر فرقہ خود کو ہدایت پر اور دوسرے کو گمراہی پر سمجھتا ہے۔ کوئی دوسروں کے نقطہ نظر کو سننے اور سمجھنے پر تیار ہی نہیں۔ دینی مدارس اور مساجد تک کا نظام بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے جہاں اسلام کے نہیں بلکہ اپنے فرقے کے سپاہی پیدا کئے جاتے ہیں۔ اب تو حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک دوسرے کی مساجد میں نہتے نمازیوں پر فائرنگ کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا۔

          دین اسلام ہر قسم کے تعصبات کا خاتمہ کرکے عصبیت کو صرف اور صرف حق او رناحق تک محدود کرتا ہے۔ اسلام نسل انسانیت کو صرف دو گروہوں میں تقسیم کرتا ہے یعنی اللہ کو ماننے والا گروہ یعنی حزب اللہ اور اس کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرنے والا گروہ یعنی حزب الشیطان۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے گروہ میں آجاتا ہے، اس پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے گروہ میں شامل ہونے والوں کو دعوت و تبلیغ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے گروہ میں لانے کی کوشش کرے۔

          اگر ہم ایک اچھے انسان اور اچھے مسلمان بننا چاہتے ہیں توہمیں اپنی شخصیت میں عصبیت کی ان تمام انتہاؤں کا خاتمہ کرکے ہمیں اسے اپنی جائز حدود تک محدود کرنا پڑے گا۔

قانون کی پاسداری

 دین اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ لاقانونیت اور انارکی کو سخت ناپسند کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو ایک اجتماعی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ دین ہمیں ایسے تمام احکامات اور قوانین میں اپنی حکومت کی اطاعت کی دعوت دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ ہوں۔ اس مسئلے پر امین احسن اصلاحی صاحب نے اپنی کتابوں ’’اسلامی ریاست‘‘ او ر’’تزکیہ نفس‘‘ میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہاں ہم ان کے بیان کردہ نکات کا ایک خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مسئلے میں اصلاحی صاحب کا موقف امت مسلمہ کے اکثر علماء کے نقطہ نظر کے مطابق ہے۔

          اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے حکومتیں چار قسم کی ہو سکتی ہیں: پہلی قسم وہ حکومت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی پابندی کی جاتی ہواور دین اسلام کو بطور قانون قائم کر دیا گیا ہو۔ اس حکومت کے بارے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی واضح ہدایات دی ہیں کہ اس کی ہر حال میں اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ ایسی حکومت کی اطاعت نہ کرنے والاجاہلیت کی موت مرتا ہے۔ بشری تقاضوں کے باعث اس قسم کی حکومت میں چند خامیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں، ان کے باوجود ان حکومتوں کی نافرمانی جائز نہیں بلکہ ان خامیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا حکم ہے۔

          دوسری قسم کی حکومت وہ ہے جس میں بظاہر تو اسلام کا نام لیا جاتا ہو اور بعض معاملات میں اس کی پیروی بھی کی جاتی ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ظلم اور کرپشن بھی پائی جاتی ہو۔ موجودہ دور کے زیادہ تر مسلم ممالک میں ایسی ہی حکومتیں قائم ہیں۔ ایسی حکومتوں کے بارے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ہدایت فرمائی ہے کہ ان کی اس وقت تک اطاعت کی جائے جب تک یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم نہ دیں۔ ظلم اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کی جائے اور معاشرے اور حکومت کی اصلاح کی کوشش جاری رکھی جائے۔ اس قسم کی حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت جائز نہیں۔ آئین او رقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے برائی کے خلاف جدوجہد بہر حال مسلمانوں پر اجتماعی طور پر لازم ہے۔

          تیسری قسم کی حکومت غیر مسلموں کی حکومت ہے جہاں مسلمانوں کو اپنے دین اور پرسنل لاء کے بارے میں مکمل آزادی ہو۔ اگر ایک مسلمان کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کرکے کسی ایسے ملک میں زندگی بسر کر سکتا ہے جہاں اسے اسلامی ماحول میسر ہو تب تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے دین پر عمل کرے اور دنیاوی معاملات میں حکومت کی اطاعت بھی کرے۔  ایسی حکومت کے خلاف بھی مسلح بغاوت درست نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کسی کے والدین اگر غیر مسلم ہوں تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ عدل و احسان کا سلوک جاری رکھے، ہاں دین کے معاملے میں ان کی مداخلت گوارا نہ کرے۔موجودہ دور میں مغربی ممالک کی حکومتیں اس کی مثال ہیں۔

          چوتھی قسم کی حکومت وہ ہے جس میں اہل اسلام کو اپنے دین کے بارے میں آزادی حاصل نہ ہو بلکہ انہیں کفر اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہو خواہ اس کے حکمران غیر مسلم ہوں یا نام نہاد مسلمان ہوں۔ ماضی قریب کا سوویت یونین ایسے طرز حکومت کی مثالیں ہیں جہاں دین پر عمل کرنے والوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے دین کو ترک کردیں۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کے سامنے تین راستے ہیں: ایک ہجرت، دوسرے مسلح جدوجہد اور تیسرے صبر۔ موجودہ دور میں ویزے کی پابندیوں کی وجہ سے کسی کمیونٹی کے لئے ہجرت کرنا ممکن نہیں رہا۔جہاں تک جہاد کا تعلق ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی آزاد مسلم حکومت اس پر تیار ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ حالات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

          اگر حالات ایسے ہیں کہ حکومتی سطح پر مسلح جدوجہد کے ذریعے ظلم و جبر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور اس جدوجہد کی کامیابی کے معقول حد تک امکانات موجود ہیں تو یہ کوشش کی جاسکتی ہے لیکن اگر مسلح جدوجہد کے نتیجے میں محض انارکی ہی پھیلنے کا غالب امکان ہو اور اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو تو اپنے ایمان کو بچانے کی ممکن حد تک جدوجہد کی جائے کیونکہ اسلام کی نظر میں لاقانونیت اور انارکی ظلم و جبر سے بھی بڑا جرم ہے۔

          لاقانونیت اور انارکی کے نتیجے میں ایک محدود پیمانے پر ہونے والا ظلم و جبر وسیع پیمانے پر پھیل جاتا ہے اور پھر ہر کوئی اپنی اپنی طاقت کے مطابق اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگ جاتا ہے۔ عام لوگوں کی دولت پر بدمعاش قبضہ کر لیتے ہیں، خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں رہتیں اور جرائم پیشہ گروہ منظم ہو جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں افغانستان اور صومالیہ اس کی بدترین مثالیں ہیں جہاں کسی کی مال، جان اور عزت محفوظ نہیں۔

          صبر کرکے اور معاشرے سے الگ تھلگ ہوکر اپنے ایمان کو بچانے کی ایک خوبصورت مثال اصحاب کہف کی ہے جو اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے شہر سے باہر غار میں چلے گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کوشش کی بہت تعریف کی ہے۔

          اگر ہم پاکستان کے حالات پر غور کریں تو ہمارے ملک میں دوسری قسم کی حکومت قائم ہے۔ یہاں ہمیں انفرادی طور پر تو دین پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے، لیکن اجتماعی طور پر نظام حکومت اور معاشرے میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں ۔ ان حالات میں اگرچہ ہمارے لئے یہ درست نہیں کہ ہم حکومت سے محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کریں لیکن معاشرے اور حکومت کی خرابیوں پر احسن انداز میں تنقید کرکے ان کی اصلاح کی جدوجہد کرنا بہرحال بحیثیت ایک قوم کے ہم پر لازم ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ہمارے ملک میں اس کام پر بھی کوئی پابندی نہیں اور ہم کھل کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جذبات کے جوش میں خواہ مخواہ کی محاذ آرائی درست نہیں۔

          ہمارے معاشرے میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد، پچھلے دو سو برسوں سے ہمارے سیاسی رہنما بالعموم ہمیں قانون توڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ چونکہ ملک میں اسلام کا مکمل نفاذ نہیں ہو سکا اس لئے ہمارے سیاسی کارکن سگنل توڑنے، ٹریفک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح کی حرکتوں سے یہ لوگ اسلام کو تو نافذ نہیں کر پاتے اور نہ ہی حکومت کو کوئی بڑا نقصان پہنچا پاتے ہیں لیکن بے چارے عوام الناس کو تنگ ضرور کرتے ہیں جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں۔

          اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم خود میں قانون کا احترام پیدا کریں اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ ہو تو اس کی پابندی کریں۔ انارکسٹوں اور دہشت گردوں کو کسی معاشرے میں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

 

اگلا صفحہ                           فہرست                           پچھلا صفحہ

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

website stat