بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟

 

 

مکمل تحریر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے

یہ تحریر پرنٹڈ کتاب کی شکل میں شائع ہو چکی ہے، اسے خریدنے کے لیے آپ پبلشر سے رابطہ کر سکتے ہیں: شفیق احمد۔ موبائل نمبر 0092-332-3051201

 

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ظاہری شکل و شباہت اور جسمانی صحت

انسان کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو اس کی ظاہری شکل و صورت بھی ہے۔ یہ چیز بھی دوسروں کو متاثر کرنے میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ خوبصورتی یا بدصورتی انسان کے اپنے بس کی بات نہیں لیکن جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا اس میں اپنی کوششوں سے اضافہ یا کمی کی جاسکتی ہے۔

          دین اسلام نے جہاں انسان کے باطنی شخصیت کے تزکیے اور تطہیر کے لئے بہت سے احکامات دیے ہیں ، وہاں اس کی ظاہری شخصیت کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ایک بڑ احصہ اسی پہلو سے متعلق ہے۔ چنانچہ روزانہ کم ازکم پانچ مرتبہ وضو کرنا؛ جنسی عمل کے بعد لازماً غسل کرنا؛ بالوں او رناخنوں کی تراش خراش کرنا؛ منہ، ناک اور کان کی صفائی کرنا؛ صاف ستھرا لباس پہننا؛ کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا؛ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہزاروں سالوں سے ہمارے دین کا لازمی تقاضا ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی ان چیزوں کا حکم دیا گیا تھا۔ دور جدید کے ہائی جین کے اصول بھی انہی باتوں کی تلقین کرتے ہیں۔

          ظاہری شکل و شباہت کے علاوہ جسمانی صحت بھی شخصیت کا اہم ترین پہلو ہے۔ اگر انسان صحت مند نہ ہو تو وہ کسی کام کو بھی صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا۔ دین نے اپنی صحت کی حفاظت کو بڑی اہمیت دی ہے اور ایسی تمام چیزوں سے روکا ہے جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوں۔ اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں ڈالنا کسی طرح بھی درست نہیں۔ ہمارے بزرگ بالخصوص بعض صوفیاء، رہبانیت کی تعلیمات کے زیر اثر اس حکم سے واقفیت کے باوجود اس سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے حالات میں آپ یہ عام طور پر پڑھیں گے کہ فلاں بزرگ کی خوراک بہت قلیل تھی یا فلاں بزرگ فلاں بیماری کا شکار رہتے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے اس کے برعکس موجودہ دور کے دینی طبقے پر خوش خوراکی اور موٹاپے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رویہ اس افراط و تفریط کے مابین اعتدال پر مبنی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بہت مشہور ہے جس میں بھوک رکھ کر کھانا کھانے کی تلقین کی گئی ہے۔ ہمارے ماحول میں کوئی گھوڑے یا اونٹ پر چند کلومیٹر سفر کرنے کی ہمت نہیں رکھتا لیکن صحابہ کرام کی فٹنس کا یہ عالم تھا کہ وہ سینکڑوں میل کا سفر گھوڑوں اور اونٹوں پر طے کرتے تھے۔ ان کے ہاں بڑے بڑے اور مستقل امراض بہت ہی کم پائے جاتے تھے۔

          ان کے ضعیف العمر افراد بھی اتنے صحت مند ہوتے تھے کہ وہ گھوڑوں کی پیٹھوں پر بیٹھ کر اور کئی کلو وزنی تلواریں اٹھا کر جنگوں کی قیادت کیا کرتے تھے۔ بعد کے ادوار میں بھی یہی رجحان جاری رہا۔ قدیم بادشاہ تک اتنی سخت زندگی گزارتے جتنی ہمارے ہاں عام آدمی بھی نہیں گزارتا۔ مشہور مغل بادشاہ بابر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ قلعے کی فصیل پر دو سپاہیوں کو بغل میں دبا کر بھاگا کرتا تھا۔ خدا جانے ان سپاہیوں کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ بعض لوگوں میں راہبانہ تعلیمات کے زیر اثر یہ خیال پھیل گیا کہ علاج کروانا توکل کے خلاف ہے، دوسری طرف تمدنی ترقی کی وجہ سے صحت برقرار رکھنے والے عوامل بھی ختم ہوگئے اور سستی و کاہلی کا رجحان پھیلتا چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری صحت اب اس معیار کی نہیں رہی۔

          اپنی جسمانی صحت کو بہتر رکھنے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے؛ خوراک کے معاملے میں افراط و تفریط سے بچا جائے ؛ اگر ہوسکے تو جوانی کے دور ہی سے ہر سال اپنے ٹسٹ کروانے کی عادت ڈالی جائے تاکہ بڑی بیماریوں کی تشخیص ابتدائی سٹیج پر ہی کی جاسکے؛ اپنی صحت کے معاملے میں کسی قابل ڈاکٹر سے ہمیشہ مشورہ جاری رکھی جائے؛ اگر خدانخواستہ کوئی چھوٹی موٹی بیماری لگ جائے تو اس کا فوراً علاج کروایا جائے۔ ان تمام چیزوں کے ساتھ ورزش اور اپنی اپنی پسند کے مطابق جسمانی کھیلوں کا اہتمام کیا جائے اور جسم کو مشقت کا عادی بنایا جائے۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر امراض درمیانی عمر میں لگنا شروع ہوتے ہیں، اس لئے اس دور میں ان تمام چیزوں کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔اگر انسان اپنی جوانی اور مڈل ایج کو اچھی صحت کے ساتھ گزار لے تو اسے بڑھاپے میں بھی خاصی سہولت ہو جاتی ہے اور وہ بڑے بڑے امراض سے محفوظ رہتا ہے۔

چستی(Agility)

کسی فرد کی ظاہری شخصیت کا ایک اہم حصہ اس کا چاق و چوبند اور مستعد ہونا بھی ہے۔ بعض لوگ اچھی صحت کے باوجود ڈھیلے ڈھالے اور سست ہوتے ہیں۔ یہ چیز کسی بھی انسان کی شخصیت پر برا اثر ڈالتی ہے او راسے دوسرے معاملات میں بھی نکما سمجھ لیا جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سستی اور کسل سے محفوظ رہنے کی دعا مانگا کرتے تھے۔ اگر آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی نہایت مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے میں گزری اور وفات سے چند دن پہلے کی بیماری کے علاوہ آپ کو کوئی بڑی بیماری بھی لاحق نہیں ہوئی۔

          خود میں چستی پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ ورزش کی جائے اور اپنے ذوق اور سہولیات کے مطابق جسمانی کھیلوں میں حصہ لیا جائے۔ ہمارے یہاں بڑے شہروں میں کھیلوں کی سہولیات بہت کم ہیں۔ اگر معاشرتی سطح پر ڈیمانڈ موجود ہو تو سرکاری اور پرائیویٹ ان سہولیات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ایثار

ایثار انسان کی اعلیٰ ترین صفات میں سے ہے ۔ اپنی ضروریات کو چھوڑ کر دوسروں کی ضروریات پوری کرنا کسی اعلیٰ ترین جذبے کے تحت ہی ممکن ہے۔ اگر آپ خود میں یہ صفت پیدا کرسکیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہو گی۔ اگر ہم اپنے گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جن میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوگا۔ آپ نے یقینا دیکھا ہوگا کہ ایسے لوگوں کی معاشرے اور خاندان میں انتہا درجے کی عزت کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں یہ جذبہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ خالی پیٹ ہونے کے باوجود اپنے دوسرے بھائیوں کو کھانا کھلانا ان کا عام معمول تھا۔

          قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں اپنی عزیز ترین چیزوں کو قربان کرنے کی تلقین کی ہے:  لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔ (اٰل عمران 3:94)  ’’ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک (اللہ کی راہ میں ) اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ ‘‘

ٍ          خود میں ایثار کا جذبہ پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان غور کرے کہ دنیا بھر میں کتنے لوگ دوسروں کے لئے ایثار کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایثار کے واقعات کا مطالعہ اس جذبے کو بڑھاتا ہے۔ ایثار کا حقیقی لطف اس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اس کو عملی طور پر انجام دیتا ہے۔ کبھی اپنی ضرورت کی چیز اپنے سے زیادہ ضرورت مند کو دے کر دیکھئے ، اسے حاصل ہونے والی خوشی آپ کو دلی سکون عطا کرے گی۔

          شروع شروع میں بڑے بڑے ایثار کرنے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے آغاز کیجئے ۔ جب یہ عادت پختہ ہوجائے تو پھر بڑی بڑی قربانیاں بھی دیجئے ۔ ان سب معاملات میں اس بات کا خیال رہے کہ یہ سب صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیجئے۔ اگر ہم نے شہرت اور نام و نمود یا کوئی اور دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لئے ایثار کیا تو یہ قربانی رائیگاں جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہ مل سکے گا۔

احساس برتری اور احساس کمتری (Superior & Inferior Comlex)  

بعض انسان کم ظر ف ہوتے ہیں۔ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اسے اپنی کاوشوں کا نیتجہ سمجھتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں کے زعم میں وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنا ان کی عادت بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے گرد و پیش ایسے بہت سے کردار ملیں گے۔ غرور و تکبر کی بڑی وجوہات میں مال و دولت، اعلیٰ عہدہ، حسب و نسب اور سب سے بڑھ کر علم اور دین داری شامل ہیں۔

          جدید شہری معاشروں میں اب حسب و نسب کا غرور نسبتاً کم ہو گیا ہے لیکن دیہاتی معاشروں میں اس کی وجہ سے امتیازی سلوک آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ مال اور عہدے کا غرور آج بھی اسی طرح قائم ہے ۔ علم اور دین داری کا غرور وہ ہے جس کا شکار سب سے زیادہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ بعض کم ظرف اہل علم خود کو دوسروں سے زیادہ بہتر سمجھ کر انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہر بات میں ’’جاہل‘‘ کا لفظ بڑی نفرت اور حقارت سے ادا کرتے ہیں۔

          بعض لوگ اپنی عبادت کے زعم میں ساری دنیا کو گناہ گار سمجھتے ہیں اور ڈنڈا لے کر سب کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں کافر، مشرک، بدعتی، بے عمل، گستاخ نجانے کیا کیا قرار دیتے رہتے ہیں۔  دین اسلام ایسے تمام رویوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا :  إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ۔ (النحل 16:23)  ’’بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو لوگ زمین پر اکڑ کر چلتے ہیں، ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: وَلا تَمْشِ فِي الأَرْضِ مَرَحاً إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً۔ (بنی اسرائیل 17:37)  ’’زمین پر اکڑ کر نہ چلو، بے شک تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکتے ہو او رنہ ہی پہاڑوں جتنے بلند ہو سکتے ہو۔ ‘‘

          احساس برتری یا غرور و تکبر کے برعکس بعض افراد احساس کمتری کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں کسی بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ایسے والدین، جو اپنے بچوں کو بہت زیادہ دباؤ میں رکھتے ہیں، کے بچوں میں بالعموم احساس کمتری بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس مرض کے شکار لوگوں میں عموماً قوت ارادی او رقوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔

          احساس برتری ہو یا احساس کمتری، یہ دونوں امراض کسی بھی انسان کی شخصیت پر بہت برا اثر چھوڑتے ہیں۔ ایک متکبر شخص معاشرے میں اپنی عزت اور مقام کھو بیٹھتا ہے۔ اگر کوئی اس کی عزت کرتا بھی ہے تو صرف اس کے سامنے، اس کی عدم موجودگی میں عام طور پر لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں یا پھر اس کی برائیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح احساس کمتری کا شکار انسان بھی دوسروں سے ملنے جلنے سے گھبراتا ہے اور اپنے ہی خول میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔

          دین اسلام ہمیں غرور و تکبر کے مقابلے میں عجز و انکسار اور احساس کمتری کے مقابلے میں عزت نفس کا تصور دیتا ہے۔ عجز و انکسار کا مطلب احساس کمتری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کم حیثیتی کا اعتراف کرنا ہے۔ ایک عاجز انسان اپنی ہر کامیابی کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنے رب کا فضل سمجھتا ہے اور اس کے سامنے سر بسجود ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو وہی مقام دیتا ہے جو خود اسے حاصل ہے۔

          دین اسلام ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں ایک انسان کی عزت کو حرم کعبہ کی طرح محترم بتایا ہے۔ احساس کمتری کے شکار انسان کو سوچنا چاہئے کہ اگر اسے ایک مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا بھی پڑا ہے لیکن زندگی میں اسے بارہا کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ یہ جو دنیا میں وہ چلا پھر رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا اس پر فضل ہی تو ہے۔ شیخ سعدی  نے کیا خوب درس دیا ہے کہ جس کے پاس جوتے نہ ہوں ، وہ جوتے پہننے والوں کو نہ دیکھے بلکہ اسے دیکھے جس کے پاس پاؤں ہی نہیں ہیں۔

          احساس برتری کا علاج تو اس میں مبتلا شخص اگر خود چاہے تو کر سکتا ہے لیکن احساس کمتری کے شکار افراد کا علاج اس کے دوست اور رشتے دار بھی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک کوئی ایسا دوست یا رشتے دار ہے جو اس احساس کا شکار ہے تو اسے حوصلہ دلائیے اور اس میں جینے کی امنگ پیدا کیجئے۔ آپ کی یہ نیکی کبھی ضائع نہیں جائے گی اور ایک انسان کی زندگی سنور جائے گی۔ اس بات کا خیال رہے کہ یہ علاج نہایت محبت اور شفقت سے ہونا چاہئے، طعن و تشنیع کے انداز سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے۔

خوش اخلاقی (Courtesy)

خوش اخلاقی ہی انسان کی وہ صفت ہے جو اسے اپنے معاشرے میں مقبول بناتی ہے۔ ہم یہ بارہا دیکھتے ہیں کہ بداخلاق شخص کے کوئی قریب جانا بھی پسند نہیں کرتا، اس کی دکان سے کوئی چیز لینا پسند نہیں کرتا، اس کا ماتحت یا افسر بن کر کام نہیں کرنا چاہتا۔ قرآن مجید ہمیں دوسروں سے خوش اسلوبی سے بات کرنے اور اچھا رویہ رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ بات بات پر بھڑک اٹھنا اور سخت لب و لہجہ اختیار کرنا کسی بھی معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

          دعوت دین کے میدان میں خوش اخلاقی کی بہت اہمیت ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ہمارے کئی داعیان اسلام میں اس کا فقدان پایا جاتا ہے۔ جب یہ کسی کو دین کی دعوت دیتے ہیں تو ان کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ دوسرا بس فوراً ان کی بات مان جائے ورنہ یہ اسے جہنم میں پہنچا کر دم لیں گے۔بعض دینی جماعتوں کے کارکنوں کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ ’’ پلیز یہ کام کر دیجئے ۔ (رویے اور اندازسے ) اور اگر نہیں کریں گے تو ہم کروانا جانتے ہیں۔ ‘‘

          خود میں خوش اخلاقی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ذہن میں مثبت خیالات کو فروغ دیجئے۔ ہر وقت معاشرے کی خامیوں پر کڑھتے رہنا اور دوسروں کو دیکھ دیکھ کر جلنا انسان میں چڑچڑا پن اور غصہ پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی کی کوئی خامی سامنے آ بھی جائے تو اسے نظر انداز کرکے اس کی خوبیوں پر نظر ڈالئے۔ اسی طرح معاشرے کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کو بھی مد نظر رکھئے اور خوشیوں کے مواقع تلاش کیجئے۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہیے ۔ اپنا لہجہ نرم اور دھیما رکھئے اور غصے والے اور بدمزاج لوگوں سے اجتناب کیجئے۔

معاملہ فہمی

ہمارے ہاں چالاکی و ہوشیاری کو عموماً منفی مفہوم میں لیا جاتا ہے اور چالاک و ہوشیار آدمی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اس ذہنی رویے کے برعکس معاشرے میں ہر شخص چالاک و ہوشیار بننے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ ہمارے نقطہ نظر کے مطابق ہوشیاری انسان کی ایک مثبت صفت ہے ۔ ہوشیاری کا مطلب دھوکے بازی نہیں ہے بلکہ دوسروں کی دھوکہ بازی سے ہوشیار رہنا ہے۔اسی کا نام معاملہ فہمی ہے۔ انسان کو دین و دنیا کا اتنا علم ہونا چاہئے کہ کوئی طالع آزما اسے بے وقوف نہ بنا سکے۔ ہمارے معاشرے میں صرف دنیا وی اعتبار سے ہی دھوکے باز لوگ موجود نہیں ہیں بلکہ ایسے لوگ بھی بکثرت پائے جاتے ہیں جو دین کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔

          معاملہ فہمی انسان میں علم اور تجربے سے آتی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اگر آپ اپنی ذہانت، علم اور تجربے میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں تو معاملہ فہمی انشاء اللہ خود بخود پیدا ہوجائے گی۔ ابتدا میں خاص طور پر دینی معاملات میں دوسروں کی دھوکے بازی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے چلنے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ چند مختلف افراد کا مشاہدہ کیجئے، ان کی بات سنئے اور اپنی عقل سے خود فیصلہ کیجئے۔یہ بھی ضرور دیکھئے کہ جو لوگ پہلے سے اس راستے پر چل رہے ہیں ، وہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ کیا وہ مخلص ہیں، چالاک و ہوشیار لوگ ہیں یا پھر محض اندھے مقلد ہیں۔اس معاملے میں اپنے والدین، اساتذہ اور مخلص دوستوں کے مشوروں کو بھی اہمیت دیجئے۔

          اس بات کو جان لیجیے کہ اگر کوئی مذہبی یا سیاسی رہنما آپ کو اپنی شخصیت سے وابستہ کرنا چاہتا ہو، آپ کو کسی دوسروں کی کتب کا مطالعہ کرنے سے روکتا ہو، آپ کو اختلاف رائے کی اجازت نہ دیتا ہو،  تو وہ آپ سے مخلص نہیں۔ وہ آپ کو غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب بہت ضروری ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے ذہن کو کھول کر رکھیں اور تنقیدی انداز میں اپنے لیڈروں کا بھی جائزہ لیتے رہیں تاکہ وہ آپ کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے نہ پھینک سکیں۔ اس ضمن میں میری کتاب "مسلم دنیا میں ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی" کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔

انتہا پسندی

بعض لوگوں میں انتہا پسندانہ سوچ اور رویے پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ ہر معاملے میں غلو کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ یہ غلو اور انتہا پسندی دینی معاملات میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ اگر دین نے کسی کام کا مطالبہ پاؤ بھر کیا ہے تو یہ لوگ اسے بڑھا کر سیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دینی اور دنیاوی معاملات میں انتہا پسندی سے بہت سے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور دوسرے کئی معاملات نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اپنی شخصیت کو اس قسم کی سوچ اور رویے سے پاک رکھئے اور اعتدال کے ساتھ اپنے معاملات انجام دیجئے۔ ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی کی جو جو شکلیں پائی جاتی ہیں، ان کی ایک فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے تاکہ ہم ان سے محتاط ہو کر اعتدال پسندی کو اختیار کرسکیں۔

·      عبادات اور دینی کاموں میں اتنا غلو کہ انسان اپنی دنیاوی ذمہ داریوں اور حقوق العباد کو فراموش کردے۔

·      دنیا پرستی میں اتنے منہمک ہو جانا کہ آخرت اور اس کے تقاضے مکمل طور پر فراموش ہو جائیں۔

·      غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرکے انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے کی بجائے ان کے ساتھ نفرت اور حقارت سے پیش آنا۔

·      حکومت کے ساتھ خواہ مخواہ کی چپقلش اور محاذ آرائی۔

·      دہشت گردی اور نہتے لوگوں پر حملہ ۔

·      دوسرے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ افہام و تفہیم کے رویے کی بجائے طعن و تشنیع اور فتوے بازی کا رویہ اختیار کرنا۔

·      دوسرے فرقے کی مساجد پر حملہ کرکے بے گناہ افراد کو قتل کرنا۔

·      مختلف حیلے بہانوں سے دوسروں پر ظلم و ستم کرنا اور ان کے حقوق انہیں ادا نہ کرنا۔

ابلاغ کی صلاحیتیں(Communication Skills)

انسان معاشرے کی صورت میں زندگی گزارتا ہے اور یہ اس کی بنیادی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خیالات ، نظریات، خواہشات اور ضروریات سے دوسروں کو آگاہ کرے۔ اس خصوصیت کو ابلاغ (Communication)  کی صلاحیت کہتے ہیں۔ بعض افراد میں یہ صلاحیت دوسروں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ ہوتی ہے۔ ابلاغ بالعموم تین قسم کا ہوتا ہے، تقریری (Oral)  ،  تحریری  (Written) ، اور غیرلفظی (Non-Verbal) ۔ ان تینوں قسم کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

          اس موضوع پر ہم نے اپنی تحریر ’’دعوت دین کا کام کیسے کیا جائے؟‘‘ میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ان صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے اہل مغرب نے بہت کام کیا ہے اور اعلیٰ درجے کے کورسز ڈیزائن کئے ہیں۔ بازار میں اس موضوع پر بہت سی کتب بھی دستیاب ہیں جن کے ساتھ آڈیو اور ویڈیو معاونات بھی ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں ایسے بہت سے ادارے بھی کھل چکے ہیں جن میں ایسے کورسز کروائے جاتے ہیں جو کسی بھی شخص کی ان صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

خطرات کے بارے میں رویہ  (Risk Appetite)

بعض انسان فطری طور پر خطرات کو پسند کرتے ہیں اور اپنے ذاتی اور کاروباری معاملات میں رسک اٹھانے سے گریز نہیں کرتے۔ اس کے برعکس بعض لوگ انتہائی محتاط طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھاتے ہیں۔اس دنیا کا کوئی بھی کام رسک اٹھائے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ہم اپنے گھر سے باہر بھی قدم رکھتے ہیں تو اس میں جان جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

          خطرات مول لینے کے بارے میں بہت سے لوگوں میں افراط و تفریط کے رویے پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو محض کھیل کھیل میں اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور ایسے کھیل کھیلتے ہیں جن میں جان جانے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگ اہل مغرب کے ہاں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض لوگ ضرورت سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں۔ جیسا کہ ایک صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اس ڈر سے کبھی چھت کے پنکھے کے نیچے نہیں بیٹھتے کہ کہیں یہ پنکھا نیچے نہ گر پڑے۔ وہ کبھی ہوائی جہاز پر سفر نہیں کرتے تھے کہ کہیں یہ کریش نہ ہوجائے۔

          خطرات کے بارے میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ ایک مناسب حد تک رسک ضرور لیا جائے اور اپنی زندگی گزاری جائے۔ جن خطرات کا امکان زیادہ ہو، ان سے بچاؤ کی مناسب تدابیر بھی کی جائیں اور مناسب حد تک احتیاط بھی کی جائے۔ بعض اوقات خطرہ انسان کی اپنی پیداوار بھی ہوتا ہے جس کی بڑی مثال جوا (Gambling) ہے۔ اس خطرے کے نتیجے میں ایک شخص بہت بڑی رقم سے محروم ہوجاتا ہے اور دوسرا اس کا حقدار بن جاتا ہے لیکن معاشرے کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ قدرتی خطرات سے بچنا تو انسان کے بس میں نہیں لیکن اس قسم کے مصنوعی خطرات سے بچا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دین نے جوئے کو گناہ قرار دیا ہے۔

          اس کے برعکس صنعت و تجارت میں بھی قدرتی نوعیت کا رسک ہوتا ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کو بہت سے فوائد بھی پہنچتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دین میں تجارت کو حلال اور جوئے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

پسندیدگی اور ناپسندیدگی (Likes & Dislikes)

ہر انسان کسی چیز، شخص، نظریے یا کردار کو پسند یا ناپسند کرتا ہے اور اس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر نظریات اور رویوں سے لے کر دوسرے افراد اس کی پسند یا ناپسند کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں۔ دین نے اس سلسلے میں کوئی پابندی عائد نہیں کی کہ آپ کسی خاص چیز کو پسند کریں یا نہ کریں۔ ایسا ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض باتیں پسند ہیں اور بعض نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزیں نیکی کے افعال ہیں اور ناپسندیدہ چیزوں میں کفر اور گناہ کے کام ہیں۔ ایک بندہ مومن کا کام ہے کہ وہ ہر معاملے میں الحب للہ و البغض فی اللہ کا مظاہرہ کرے اور اس میں کوئی کمپرومائز نہ کرے۔

          جن چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم نہیں دیا ، وہ مباح کام ہیں۔ ان میں ہر شخص اپنے ذوق، طبع اور پسند و ناپسند سے کام لے کر اپنے لئے چیزوں ، دوستوں اور نظریات و افکار کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اس بات کا بھی خیال رہنا چاہئے کہ اگر ہماری پسند یا ناپسند معاشرے کی پسند وناپسند کے معیارات کے متضاد ہے تو آپ کے لئے زندگی تنگ ہو سکتی ہے۔ مثلاً ہمارے شہری معاشرے میں ایک خاص طرز کے لباس کا رواج ہے، اگر ہم اس میں دیہاتی لباس پہن کر پھریں گے تو ہماری شخصیت کا بہت عجیب و غریب امیج سامنے آئے گا۔ اسی طرح دیہی معاشرے میں شہری لباس بھی خواہ مخواہ کے تضادات پیدا کردے گا۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں ہوتی، وہاں بلاوجہ معاشرے سے ٹکراؤ کی پالیسی درست نہیں۔

جذبات و احساسات کے اظہار کا طریقہ

جذبات و احساسات کا اظہار ہر انسان کا فطری حق ہے۔ ہر شخص جس طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے وہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ بعض لوگ خوشی کے مواقع پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں جبکہ بعض لوگ پروقار طریقے سے خوشی مناتے ہیں۔ اسی طرح غمی کے مواقع پر بہت سے لوگ جزع و فزع اور بین کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے لوگ اس میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ اسی طرح حیرت، غصے اور دیگر جذبات کا اظہار ہر انسان ایک مختلف طریقے سے کرتا ہے۔ اس پر ہم صبر و شکر کے تحت خاصی بحث کر چکے ہیں۔ یہاں صرف اتنا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ جذبات کے موقع پر خود کو کنٹرول کرنا چاہئے اور پروقار طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہئے۔

غیبت

غیبت سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کی اس کی عدم موجودگی میں اس کے عیوب بیان کئے جائیں۔ یہ وہ برائی ہے جو ہمارے معاشرے کی رگوں میں سرایت کی ہوئی ہے۔ دین اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہے کہ کسی کے عیوب کو اچھالا جائے اور معاشرے میں اسے جو مقام حاصل ہے ، اسے اس سے گرانے کی کوشش کی جائے۔ اس کی برائی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید نے اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

          ہماری غیبت کی عادت دوسروں کی ذاتیات میں دلچسپی اور تجسّس سے جنم لیتی ہے۔اگر ہم اس بری عادت سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس تجسّس کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنی شخصیت کو اچھا بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کسی کے معاملات میں ہم دخل نہ دیں گے۔

          غیبت کے اصول میں استثنا کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ہمیں یہ علم ہوجائے کہ کوئی شخص دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے تو اس بارے میں اسے آگاہ کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح جو لوگ معاشرے میں کسی اہم ذمہ داری پر فائز ہوں لیکن اس کا ناجائز استعمال کر رہے ہوں تو ان کی برائی کو بیان کرنا غیبت نہیں تاکہ پورے معاشرے کو ان کے شر سے محفوظ رکھا جاسکے۔

جوش و ولولہ (Enthusiasm)  

کسی بھی کام کو کرنے کے بارے میں جوش و ولولہ ایک لازمی جزو ہے اور اس کے بغیر کوئی کام بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہر نیک اور مفید کام کے لئے ہمارے اندر جوش و ولولہ ہونا چاہئے اور اسے دوسروں کے اندر بھی پیدا کرنا چاہئے۔ اسی طرح برائی اور فحش کاموں میں ہر قسم کے جوش و جذبے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ جوش کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ جوش میں تمام حدود کو پار کر جاتے ہیں اور کسی اور چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کئی لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کے جوش میں دنیا ہی کو چھوڑ دیا اور جنگلوں میں نکل گئے۔ اس منفی پہلو سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے۔

          جوش کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بعض لوگ جوش میں کوئی کام شروع کرتے ہیں اور اس کے دوسرے پہلوؤں کی پرواہ نہیں کرتے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب یہ جوش ٹھنڈا پڑتا ہے تو اس سے بالکل ہی اچاٹ ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجے ان کی شخصیت سے دوسروں کا اعتبار (Credibility)   اٹھ جاتا ہے اور اسی تجربے کے باعث دوسرے لوگ انہیں اہمیت دینا کم کر دیتے ہیں۔ جب بھی ہم پر کسی کا م کا جوش سوار ہو تو اسے شروع کرنے سے قبل اس کے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہئے اور جب اسے شروع کرلیں تو پھر اس پر استقامت (Consistency)   کے ساتھ عمل کرنا چاہئے۔

خود آگہی

اپنی شخصیت کی تعمیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی شخصیت کے تمام پہلوؤں سے آگاہی بھی رکھتا ہو۔ ماہرین نے اپنی ذات کے شخصی تجزیے  (Personality Analysis) کے بہت سے طریقے وضع کرلئے ہیں۔ یہاں پر ہم صرف ایک طریقہ بیان کر رہے ہیں جو ہمارے خیال میں زیادہ مفید ہے۔ اسے SWOT Analysis   کہا جاتا ہے۔ لفظ SWOT   دراصل Strengths, Weaknesses, Opportunities & Threats  کا مخفف ہے۔ عموماً کاروباری ادارے اپنی طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پلاننگ میں اس طریق کار کو اختیار کرتے ہیں۔

          ہمارے خیال میں یہ تجزیہ اپنی ذات اور شخصیت کی تعمیر میں بھی اسی طرح کارآمد ہے جس طرح کاروباری اداروں کے لئے مفید ہے۔  اس تجزیے کے پہلے دو عوامل کا تعلق انسان کی اپنی شخصیت سے ہے۔ Strengths  اس کی شخصیت کے مضبوط پہلو اور Weaknesses   اس کے کمزور پہلو ہیں۔ باقی دو عوامل کا تعلق اس کے ماحول سے ہے:  Opportunities   کا تعلق اس کے ماحول میں موجود ایسی چیزوں سے ہے جو اس کی شخصیت کی تعمیر میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ Threats  سے مراد وہ خطرات ہیں جو اس کی شخصیت کی تعمیر کے پروگرام میں رکاوٹ حائل کر سکتے ہیں۔

          ذیل میں ایک چارٹ دیا جارہا ہے جس میں اس تحریر میں بیان کردہ شخصیت کے تمام پہلوؤں کی ایک فہرست دی گئی ہے اور ان میں سے ہر پہلو کا SWOT Analysis   بھی کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے بطور مثال ایک عام سے انسان (آئیڈیل انسان نہیں) کی فرضی شخصیت کا تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اس طرح کا ایک چارٹ بنائیے اور اسے اپنی شخصیت کے لئے مکمل کیجئے۔ اس بات کا خیال رکھئے کہ اس تجزیے کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کے قریب کیجئے اور کسی معاملے میں خود کو اپنی حقیقی صلاحیت سے زیادہ یا کم نہ ظاہر کیجئے ورنہ آپ بہت سے مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

          اس کے بعد اپنے والدین، اساتذہ اور قریبی مخلص دوستوں سے اپنی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں رائے حاصل کیجئے اور انہیں اسی طرز کے ایک چارٹ پر درج کیجئے۔ اپنی شخصیت کے بارے میں اپنی رائے کا موازنہ ان کی آراء سے کیجئے۔ اس سے دو فوائد حاصل ہوں گے: ایک تو آپ کو اپنی شخصیت کے ان پہلوؤں سے بھی آگاہی حاصل ہوگی جن پر آپ کی اپنی توجہ نہیں ہوگی اور دوسرے یہ کہ آپ کو دوسروں کے ذہن میں اپنے امیج کا اندازہ ہوگا۔ اس کے بعد آپ اپنے امیج کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات بھی کرسکتے ہیں۔

 

شخصیت کا پہلو

مضبوط پہلو

(Strengths)

  کمزور پہلو

(Weaknesses)

مواقع

(Opportunities)

خطرات

(Threats)

ذہانت

مجھ میں درمیانے درجے کی ذہانت ہے

 

مجھے ذہین لوگوں کی صحبت میسر ہے

 

ذہنی پختگی (Maturity)

دوسروں کی نسبت زیادہ ہے

 

ذہنی پختہ لوگوں کی صحبت میسر ہے

 

علمی سطح

 

علم کی کمی ہے

علمی شخصیات سے استفادہ کر سکتا ہوں

 

ابلاغ کی صلاحیت (Communication Skills)

اچھی تقریر کر لیتا ہوں

اچھی تحریر نہیں کر سکتا

میرے کالج میں تقاریر اور مضامین کے مقابلے ہوتے ہیں جو میری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں

 

 

طرز فکر اور مکتب فکر

کوئی نہیں

 

کوئی نہیں

 

رجحان

(Aptitude)

تعلیمی سرگرمیوں کی طرف زیادہ ہے

کھیلوں کی طرف کم رجحان ہے

 

میرے ارد گرد کھیلوں کے مواقع دستیاب نہیں

تخلیقی صلاحیتیں (Creativity)

 

بہت زیادہ نہیں

 

 

احساس ذمہ داری

کافی حد تک پایا جاتا ہے

 

 

 

قوت ارادی او رخود اعتمادی (Confidence)

 

نسبتاً کم ہے

 

میرے دوست میری حوصلہ شکنی کرتے ہیں

شجاعت و بہادری

 

کم ہے

 

 

انصاف پسندی

موجود ہے

 

 

 

کامیابی کی لگن

 

نسبتاً کم ہے

 

میرے دوست مجھے طعنے دے کر میرے حوصلے کم کرتے ہیں۔

بخل و سخاوت

 

میں خود مالی اعتبار سے کمزور ہوں لہذا کسی حد تک کنجوس ہوں

میرے سامنے ایک اچھا کیریئر ہے

 

اسی طرز پر اپنی شخصیت کا تجزیہ مکمل کرنے کے بعد اپنی شخصیت کے مضبوط پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیجئے اور ان کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات سوچئے۔ اسی طرح اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لیجئے اور ان کے اسباب جاننے کی کوشش کیجئے۔ اس کے بعد ان کو بہتر بنانے کی کوشش کیجئے۔ اس ضمن میں والدین، اساتذہ اور مخلص دوستوں کے ساتھ مشورہ جاری رکھئے۔ اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے جوجو مواقع آپ کو میسر ہیں، ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیے اور جو خطرات لاحق ہیں، ان کا مناسب سد باب کیجئے۔ اس طریقے سے ہم اپنی شخصیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اسی طرح اگر دوسرے آپ کے بارے میں کسی غلط تصور میں مبتلا ہیں تو اس امیج کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کیجئے۔

 

                             فہرست                           پچھلا صفحہ

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

website stat