بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

روانگی برائے سعودی عرب

 

میں بیرون ملک ملازمت تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس ضمن میں سب سے بہتر ذریعہ انٹرنیٹ تھا۔ دسمبر 2005 میں مجھے سعودی عرب کی ایک پروفیشنل آڈٹ فرم کی طرف سے ای میل وصول ہوئی جس میں انہوں نے تازہ ترین سی وی اور انٹرویو کے وقت کا مطالبہ کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فرم میں میں نے کبھی اپلائی نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے bayt.com سے میرا سی وی تلاش کرکے مجھ سے خود ہی رابطہ کیا تھا۔ ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے بعدانہوں نے مجھے جاب آفر دے دی۔ مجھے جدہ میں رہنا تھا۔

دوسرے لوگوں کے برعکس میرے لئے سب سے آئیڈیل جگہ سعودی عرب ہی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حرمین شریفین کی قربت اور سعودی عرب کا ماحول ہمارے پورے خاندان کی دینی تربیت کے لئے آئیڈیل ہے۔ بشمول پاکستان، دنیا بھر میں بے حیائی جس طرح پھیل رہی ہے، اس سے اپنی آئندہ نسلوں کو بچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سعودی عرب کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہاں اگر کوئی بے حیائی کا شوقین ہے تو اس کی بے حیائی چار دیواری کے اندر محدود ہے۔ گھر سے باہر ہر خاتون اور مرد باحیا لباس میں ہی نظر آتا ہے۔ اس طرح اگر کوئی اپنی اولاد کو بے حیائی سے بچانا چاہے تو اس کے لئے خاصی آسانیاں موجود ہیں۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر میں نے اس فرم میں جوائن کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ویزا پراسیسنگ

جنوری 2006 ویزا پراسیسنگ میں گزرا۔ سعودی قوانین کے مطابق ان کا امیگریشن آفس کسی کمپنی کی درخواست پر اسے مختلف قومیتوں کے لئے ویزے جاری کرتا ہے۔ اس میں کسی متعین شخص کا نام نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک ویزا تین پاکستانیوں اور چار بھارتیوں کے لئے جاری ہو سکتا ہے۔ وہ کمپنی خود ہی اپنی مرضی کے تین پاکستانی اور چار بھارتی تلاش کرکے متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے ان کا ویزا پراسیس کروا سکتی ہے۔ میری فرم نے تمام ضروری کاغذات مجھے کوریئر کے ذریعے بھیج دیے تھے۔ پاکستان میں ویزا پراسیسنگ کے لئے کسی ریکروٹنگ ایجنٹ کے ذریعے پراسیس کروانا ضروری ہے۔ میں نے ایک دوست کے ذریعے الجدید مین پاور سروسز سے رابطہ کیا اور اپنے کاغذات انہیں دے دیے۔ انہوں نے مجھے ڈگری کی تصدیق کروا کے لانے کو کہا ۔ یہ تصدیق متعلقہ یونیورسٹی ، ہایئر ایجوکیشن کمیشن، وزارت خارجہ ، سعودی کلچرل سینٹر اور سعودی سفارت خانے سے ہونا تھی۔

††††††††† میں کراچی میں مقیم تھا اور میرا ویزا اسلام آباد ایمبیسی کا تھا۔ میں اپنی موجودہ کمپنی سے چھٹی لے کر پہلے لاہور گیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے تصدیق کروانے کے اسلام آباد پہنچا۔ وہاں چار جگہ سے تصدیق کروانے میں دو ہفتے نکل گئے۔ اسی پھیرے میں میں نے اپنی فیملی کے کاغذات یعنی نکاح نامہ اور بچوں کے برتھ سرٹیفیکیٹ کی تصدیق بھی کروا لی جو کہ وزارت خارجہ اور سعودی ایمبیسی سے ہونا ضروری تھی۔ تصدیق کے بعد میں نے ڈاکومینٹس الجدید والوں کو دیے تو انہوں نے محض چار دن میں ویزا لگوا کر پاسپورٹ میرے حوالے کردیا۔

††††††††† اپنی موجودہ ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد میرا ارادہ جلد از جلد روانگی کا تھا۔ ان دنوں ابھی حج ختم ہوا تھا اور عمرہ کے ویزوں کا اجرا شروع نہ ہوا تھا اس لئے فلائیٹیں تقریباً خالی تھیں۔ میں نے سعودی ائر لائن کی ایک فلائیٹ پر سیٹ بک کروائی اور 10 فروری 2006 کو جدہ کے لئے روانہ ہوگیا۔

روانگی

سفر ناموں کے اکثر مصنفین اپنے سفر پی آئی اے سے کرتے ہیں اور اس کی ناقص کارکردگی کا رونا روتے ہیں۔ بے چاری پی آئی اے کو محض قومی ائر لائن ہونے کے باعث یہ سب باتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں ورنہ میرا تجربہ ہے کہ پی آئی اے کی سروس اتنی بھی بری نہیں ہے جتنی مصنفین بیان کرتے ہیں ۔ میں نے چونکہ اپنے سفر کے لئے سعودی ائر لائن کا انتخاب کیا تھا اس لئے قارئین کے ذوق کی تسکین کرنے کے لئے میرے پاس کوئی خاص مواد موجود نہیں ہے۔ چونکہ نظریاتی طور پر میں قوم پرستی کے فلسفے کا قائل نہیں ہوں، اس لئے کبھی بھی میں بین الاقوامی روٹ پر قومی ائر لائن سے سفر نہیں کرتا۔ قومی ائر لائن کونسا اپنے ہم قوم افراد کو کم ریٹ پر اعلیٰ سروس پیش کرتی ہے جو ہم خصوصی طور پر اس کی رعایت کریں۔ ہم بھی اسی ائر لائن کا انتخاب کریں گے جو کم سے کم کرائے میں اچھی سے اچھی سروس پیش کرے گی۔

††††††††† قوم پرستی کے معاملے میں ،میں اقبال کے اس فلسفے کا قائل ہوں کہ:

ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا وطن ہے

جو اس کا پیرہن ہے وہ ملت کا کفن ہے

††††††††† قومیت کے بارے میں میرا نظریہ ہے کہ ملک یا قوم ایک بہت بڑے خاندان سے مشابہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا خاندان ترقی کرے۔ دوسرے خاندانوں کے مقابلے میں اسے نمایاں مقام اور عزت حاصل ہو۔ اس حد تک قوم پرستی کا میں بھی قائل ہوں ۔ ہم سب کو مل کر اپنے ملک اور قوم کی سر بلندی اور ترقی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر جب ملک و قوم ، خدا کا مقام حاصل کر لے اور انسان دوسری اقوام کے لئے تعصب میں مبتلا ہو جائے تو پھر یہ قوم پرستی انسانیت کے لئے مہلک بن جاتی ہے۔ بیسویں صدی کا آغاز قوم پرستی کے فلسفے کے عروج کا زمانہ تھا۔ تمام یورپی اقوام اپنے ملک و قوم کی محبت میں ڈوب کر دوسری اقوام پر چڑھ دوڑیں جس کے نتیجے میں انہیں دو ایسی جنگوں سے گزرنا پڑا جنہوں نے انسانیت کو تباہی کے سوا کچھ نہ دیا۔

††††††††† فلائیٹ کے لئے اعلان مقررہ وقت سے ایک گھنٹا پہلے ہی کر دیا گیا۔ میں بڑے اطمینان سے کراچی ائر پورٹ کے سی آئی پی لاؤنج کے کھانوں سے اپنے بینک کارڈ کے باعث مفت لطف اندوز ہورہا تھا۔ میں نے سوچا کہ بہت وقت ہے۔ فلائیٹ کے وقت سے آدھاگھنٹہ قبل پہنچ جاؤں گا جو کہ عام دستور ہے۔ لاؤنج والوں نے فلائیٹ کے اعلان کو دوھراتے ہوئے مجھے زبانی کلامی دھکے دے کر وہاں سے نکالا۔ میں نے سارا سامان تو بک کروا دیا تھا اس لئے اب بالکل اس طرح خالی ہاتھ جا رہا تھا جیسے سکندر دنیا سے گیا تھا۔

††††††††† ائر لائن کے عملے نے تیوری چڑھا کر میرا استقبال کیا۔ کہنے لگے جناب ہمارا ارادہ تو یہ تھا کہ فلائیٹ کو آدھا گھنٹہ قبل ہی روانہ کردیں لیکن آپ کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے۔ دراصل اس پرواز میں صرف دس بارہ مسافر تھے ، اس لئے ان کی خواہش تھی کہ جہاز انہیں لے کر جلد سے جلد روانہ ہوجائے۔ میرے جہاز میں گھستے ہی دروازہ ایسے بند کیا گیا جیسے ملزم کو حوالات میں دھکیل کر دروازہ بند کیا جاتا ہے اور پانچ منٹ کے اندر اندر جہاز پرواز کر گیا۔ یہ میرا پہلا تجربہ تھا کہ فلائیٹ تاخیر کی بجائے وقت سے پندرہ منٹ پہلے ہی روانہ ہو گئی تھی۔ اس سے میں نے یہ سبق حاصل کیا کہ آئندہ ہمیشہ فلائیٹ کے اعلان کے وقت ہی چلا جاؤں گا خواہ اس کے بعد جہاز میں بیٹھ کر تمام اردو اور انگریزی اخبارات کا بار بار مطالعہ کرنا پڑے۔

††††††††† جہاز نے ٹیک آف کیا اور شارع فیصل کے اوپر سے ہوتا ہوا ملیر ندی کو کراس کرکے ڈیفنس کے اوپر آگیا۔ بائیں جانب کورنگی کا علاقہ تھا اور دائیں جانب کلفٹن کا ساحل پھیلا ہوا تھا۔ کورنگی کریک پر پارکو کا آئل پمپنگ اسٹیشن نظر آرہا تھا۔ ملک میں درآمد کئے جانے والے خام تیل (Crude Oil) کا زیادہ تر حصہ اسی اسٹیشن سے ملک کے وسط میں موجود پارکو کی آئل ریفائنری (Mid-Country Refinery) کو بذریعہ پائپ لائن بھیجا جاتا ہے۔ مڈ کنٹری ریفائنری کوٹ ادو کے قریب قصبہ گجرات میں واقع ہے اور ملک کے شمالی حصے کی تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لئے لگائی گئی ہے۔ یہ ملک کے سب سے بڑی جدید ترین ریفائنری ہے اور ہمارے ملک کا بڑا اثاثہ ہے۔

††††††††† پارکو میں نے ڈیڑھ سال ملازمت کی تھی اور بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ پارکو کی بدولت میں آئل انڈسٹری کے نشیب و فراز سے آگاہ ہوا تھا اور اسی تجربے کی بنیاد پر مجھے کویت پیٹرولیم کے پراجیکٹ کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ پارکو سے میری خوشگوار یادیں وابستہ تھیں۔ پمپنگ اسٹیشن کے تیل کے دیو ہیکل ٹینک اوپر سے چھوٹے چھوٹے دائرے لگ رہے تھے۔ تیل کے ٹینکوں کو کیمو فلاج کرنے کے لئے ان پر مٹی کا سا رنگ کیا جاتا ہے اور اوپر سبز رنگ کے پودے بھی بنائے جاتے ہیں تاکہ جنگ کی صورت میں دشمن کے ہوائی جہازوں کو یہ نظر نہ آسکیں۔ مجھے تو ہوائی جہاز سے یہ صاف نظر آرہے تھے جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کیمو فلاج کا یہ تکلف بالکل بے کار ہے۔ بہرحال ماہرین دفاع اس معاملے میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔

مکران کے ساحل

جہاز اب ڈیفنس کریک کے اوپر سے گزرتا ہوا ساحل کے ساتھ ساتھ گوادر کی طرف پرواز کرنے لگا۔ نیلے سمندر میں دور دور تک پھیلے ہوئے بحری جہاز کھلونا کشتیوں کی طرح نظر آرہے تھے۔ چونکہ جہاز خالی تھا، اس لئے میں دائیں طرف کی کھڑکی پر آ بیٹھا تاکہ ساحل کا نظارہ کر سکوں۔ کیماڑی پر تیل کا دیو ہیکل جہاز لگا ہوا تھا جو شاید راس تنورا کی سعودی بندر گاہ سے تیل لے کر کیماڑی پہنچا تھا۔ یہ بھی کھلونا کشتی کی مانند لگ رہا تھا۔ اوپر سے کنارے کے قریب سمندر کی تہہ بھی صاف نظر آرہی تھی۔جوں جوں نگاہ ساحل سے دور ہوتی تھی، تہہ غائب ہوتی جاتی اور پانی کا رنگ گہرا نیلا ہوتا جاتا۔ نیلے رنگ کے چھ سات شیڈز میں بحیرہ عرب بہت خوب صورت نظر آرہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایک ہی رنگ کے شیڈز تو یقینا کروڑوں میں ہوں گے لیکن ہماری آنکھ چھ سات شیڈز سے زیادہ فرق نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹر کی سکرین پر کروڑوں رنگوں کی موجودگی کا دعوی کیا جاتا ہے۔

††††††††† جہاز کا عملہ، جس میں ائر ہوسٹسوں کی بجائے زیادہ تر ائر ہوسٹ یعنی اسٹیورڈ تھے ، جلد از جلد کھانا سرو کرنے لگے تاکہ اس کے بعد انہیں گہری تان کر سونے کا موقع مل جائے۔ سعودی عام طور پر اپنی لڑکیوں کے لئے ائر ہوسٹس کے پیشے کو مناسب نہیں سمجھتے، اس لئے سعودی ائر لائن میں زیادہ تر اسٹیورڈ یا غیر ملکی ائر ہوسٹسیں پائی جاتی ہیں۔ جہاز کا فاصلہ اور رفتار بتانے والا میٹر ایک ہی مقام پر رکا ہوا تھا یعنی جدہ 2100 کلومیٹر۔ میں نے ایک اسٹیورڈ کی توجہ اس طرف مبذول کروائی تو وہ بولا، میں ابھی پائلٹ کو کہتا ہوں۔ اس کے بعد وہ دوبارہ نظر نہ آیا۔ چونکہ جہاز خالی تھا، اس لئے کئی مسافروں نے درمیان کی چار کرسیوں کی ہتھیاں اوپر کیں اور لمبی تان کر سوگئے۔ مجھے سونے سے زیادہ فطرت کے مناظر دیکھنے کا شوق ہے اس لئے میں کھڑکی سے فطرت کا نظارہ کرتا رہا۔

††††††††† کراچی کے کچھ فاصلے پر حب پاور کمپنی کا پلانٹ نظر آیا ۔ یہ برطانیہ کی سب سے بڑی الیکٹرک کمپنی انٹرنیشنل پاور کے زیر انتظام ہے۔ انہوں نے اسے مکمل طور پر انوائرنمنٹ فرینڈلی بنایا ہوا ہے۔ چونکہ پاکستان کی حکومتوں نے بروقت ڈیم بنانے کی بجائے تھرمل پاور پر انحصار کیا ہے اس لئے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ بجلی بھی مہنگی اور نایاب ہوتی جارہی ہے۔ حب سے آگے گڈانی کا شپ بریکنگ یارڈ تھا اور اس سے آگے مکران کے حسین ساحل جہاں پہاڑوں اور سمندر کا امتزاج فطرت کے شائقین کے لئے نت نئے مناظر سموئے ہوئے تھا۔

††††††††† کراچی اور گوادر کے درمیان تقریباً اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ کراچی اور بہاولپور کے درمیان۔ میں نے ان دونوں روٹس پر سفر کیا ہے۔ کراچی اور بہاولپور کے درمیان بیسیوں چھوٹے بڑے قصبے اور شہر آتے ہیں لیکن کراچی اور گوادر کے درمیان صرف تین شہر ہیں یعنی حب ، اورماڑہ اور پسنی۔ پنجاب میں ہر پندرہ منٹ کے فاصلے پر ایک قصبہ اور ہر گھنٹے کے فاصلے پر لاکھوں کی آبادی کا شہر آتا ہے لیکن بلوچستان میں تین چار گھنٹے کے فاصلے پر جاکر ایک چھوٹا سا شہر آتا ہے جو پنجاب کے مریدکے یا کامونکے سے بڑا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں پنجاب کو زرخیز زمینوں سے نوازا ہے وہاں بلوچستان کو معدنی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔

††††††††† پنجاب اس لئے زیادہ ترقی کر گیا کہ وہاں کے لوگوں نے کافی حد تک جاگیردارانہ نظام سے نجات حاصل کر لی ہے جبکہ بلوچ ابھی تک اپنے سرداروں سے نجات حاصل نہیں کرسکے جو گیس اور دیگر معدنی وسائل کی رائلٹی پر قابض ہو کر بیٹھے ہیں اور اپنے غریب مزارعوں اور ہاریوں کے علاقے میں ایک پرائمری سکول بھی نہیں کھلنے دیتے۔ یہی کیفیت اب سے پچاس سال پہلے پنجاب کی تھی لیکن اب کافی حد تک حالات تبدیل ہو چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف تعلیم ہے۔

††††††††† پندرہ منٹ کی پرواز کے بعد ہم اورماڑہ کے پاس سے گزرے۔ یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ یہاں نیوی کی ایک بڑی بیس ہے۔ فضا سے اورماڑہ کسی جام کے پیندے کی مانند نظر آ رہا تھا۔ ساحل سے صراحی کی گردن کی طرح ایک پٹی نکل رہی تھی جو سمندر کے بیچ میں پہنچ کر چوڑی ہو رہی تھی۔ یہ ایک نہایت ہی دلفریب منظر تھا۔ کچھ ہی دیر کے بعد ہم گوادر کے ساحل پر تھے جو اورماڑہ کی طرح کی ایک پٹی پر مشتمل تھا جو سمندر کے اندر کسی جام کی پیندے کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔

گوادر کے ساحل

††††††††† چونکہ اس علاقے میں سمندر کے ساتھ پہاڑ موجود ہیں، اس لئے یہاں سمندر کافی گہرا ہے۔ اسی لئے گوادر ڈیپ سی پورٹ کہلاتی ہے اوریہاں بہت بڑے بڑے جہاز بھی لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی کی بندرگاہ پر جو تیل کے جہاز آ کر رکتے ہیں ان میں تقریباً 70 ہزار میٹرک ٹن خام تیل موجود ہوتا ہے لیکن گوادر کی بندرگاہ پر دنیا کے سب سے بڑے تیل کے جہاز آکر رک سکتے ہیں جن میں 500000 میٹرک ٹن خام تیل رکھا جاسکتا ہے۔

عمان

گوادر کے بعد ہم ساحل سے دور ہونے لگے۔ ہمارے دائیں جانب اب ایران کے ساحل تھے جو خاصے دور تھے۔ بحیرہ عرب یہاں تنگ ہونا شروع ہوتا ہے اور بالآخر آبنائے ہرمز کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے بعد یہ پھیلتا ہے اور خلیج فارس میں تبدیل ہوجاتا ہے جو کہ ایک بہت بڑی جھیل کے مانند ہے۔ اب ہمارے دائیں جانب ایران اور بائیں جانب عمان کے ساحل موجود تھے۔ چونکہ ایرانی ساحل خاصے دور تھے، اس لئے میں دوبارہ بائیں جانب کی کھڑکی پر آ بیٹھا۔

††††††††† عرب ممالک میں عمان نسبتاً سرسبز ملک ہے۔ یہاں سبزے سے ڈھکے چھوٹے چھوٹے پہاڑ نظر آرہے تھے۔ عمان سے گزر کر ہم متحدہ عرب امارات کے علاقے سے گزرتے ہوئے سعودی عرب میں داخل ہوئے۔ ہمارے نیچے سعودی عرب کا سب سے بڑا صحرا تھا جو íربع الخالیĎکہلاتا ہے۔ یہ سعودی عرب کے تقریباً 52 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور اس میں کوئی آبادی اور سڑکیں موجود نہیں۔ یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ یہاں صرف سعودی آرامکو کے انجینئر پوری تیاری کے ساتھ بڑی بڑی ہمر جیپوں یا ہیلی کاپٹروں میں آتے ہیں اور ان کے پیچھے ریسکیو ٹیمیں تیار بیٹھی ہوتی ہیں ۔

ربع الخالی

††††††††† ربع الخالی نہایت ہی خوبصورت صحرائی مناظر پر مشتمل ہے۔ اس کے جو حصے شہروں کے قریب ہیں وہاں ایڈونچر پسند اپنی جیپوں میں ڈیزرٹ سفاری کا شوق پورا کرتے ہیں۔ صحرا میں کہیں تو ریت کے بڑے بڑے سمندر ہیں جن کی لہریں پانی کی لہروں کی طرح معلوم ہوتی ہیں اور کہیں سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے ٹیلے جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک مقام تو ایسا تھا جہاں بے شمار گنبد کی شکل کے بالکل ایک جیسے ٹیلے موجود تھے۔ میں اللہ تعالیٰ کی صناعی پر دنگ رہ گیا اور میرا وجود اس کی عظمت کا تصور کرکے کانپ اٹھا۔ ربع الخالی کے بعد الباحہ کے کچھ سبز اور کچھ پیلے پہاڑ آئے ۔ یہاں جہاز میں اعلان ہوا کہ ہم میقات کی حدود میں داخل ہونے والے ہیں، اس لئے جو حضرات عمرہ کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ احرام باندھ لیں۔ کچھ ہی دیر میں ہم میقات سے گزر کر جدہ کی حدود میں داخل ہوئے۔

جدہ ائر پورٹ

میں گوگل ارتھ پر جدہ کو تفصیل سے پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ جہاز سے بالکل وہی منظر نظر آرہا تھا جو میں نے گوگل ارتھ پر دیکھا تھا۔ جدہ کے مشرقی جانب سیاہ اور بھورے رنگ کی پہاڑیاں ہیں اور مغربی جانب بحیرہ احمر ہے۔ ان دو حدود کے درمیان جدہ شمالاً جنوباً پھیلا ہوا ہے۔ ائر پورٹ جدہ کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ ہمارے بائیں جانب بحیرہ احمر سے دو تین کریک نکل کر شہر میں آئی ہوئی تھیں اور نیلا پانی بہت ہی دلفریب منظر پیش کر رہا تھا۔ چند ہی منٹ میں جہاز لینڈ کرگیا۔ فلائیٹ پندرہ منٹ پہلے روانہ ہوئی تھی اور مقررہ وقت سے آدھ گھنٹا پہلے ہی جدہ پہنچ گئی تھی۔ شاید ہمارے ٹرک ڈرائیوروں کی طرح پائلٹ کو بھی خالی جہاز ہلکا ہلکا سا لگا ہو گا اور وہ اسے زیادہ رفتار میں اڑا کر جدہ لے آیا ہوگا۔

††††††††† جدہ ائر پورٹ حج اور رمضان کے مہینوں میں شاید دنیا کا مصروف ترین ائر پورٹ بن جاتا ہے۔ اب حج ختم ہوئے بھی مہینہ ہو چکا تھا اور عمرہ کے ویزوں کا شروع نہ ہوا تھا اس لئے جدہ ائر پورٹ سنسان پڑا تھا۔ کراچی کے مقابلے میں اس کی عمارت نہایت ہی گئی گزری تھی۔ مجھے یہ بالکل ملتان کے پرانے ائر پورٹ کی طرح لگا۔ جدہ میں ایک کی بجائے تین ائر پورٹ ہیں۔ ایک سعودی ائر لائن کے لئے، دوسرا فارن ائر لائنز کے لئے اور تیسرا حج کی فلائٹس کے لئے۔ ان تینوں کے لئے رن وے مشترک ہے۔ان میں سعودی ائر لائن والا ائر پورٹ نسبتاً بہتر ہے مگر ہمارے کراچی اور لاہور کے جدید ائر پورٹس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ امیگریشن وغیرہ میں بھی سعودی ائر لائن کے مسافروں کی جان جلدی چھوٹ جاتی ہے کیونکہ یہاں صرف ایک ائر لائن کے مسافر ہوتے ہیں جبکہ فارن ائر لائنز والے ائر پورٹ پر طویل قطاروں کا سامناکرنا پڑتا ہے۔

††††††††† یہاں کوئی ٹنل وغیرہ نہ تھی۔ ہمیں بس میں بٹھا کر لایا گیا۔ اسی بس میں کئی خواتین نے بیگ سے نکال کر برقعے پہنے۔ چونکہ سعودی عرب میں پردے کی پابندی کرنا ضروری ہے، اس لئے وہ خواتین جو کسی مذہبی جذبے کے بغیر برقع پہنتی ہیں، ائر پورٹ سے نکلتے ہی برقع اتار لیتی ہیں اور پھر واپسی پر ہی پہنتی لیتی ہیں۔ امیگریشن کاؤنٹر پر نہایت ہی بیزار صورت نوجوان بیٹھے تھے جنہوں نے اسی بیزاری سے پاسپورٹ پر مہر لگا کر ہمیں چلتا کیا۔ ایک بنگالی پورٹر کو ساتھ لے کر جب میں باہر نکلا تو ہمارے دفتر کا سوڈانی ڈرائیور عادل میرے نام کا پرچہ پکڑ کر شکل پر مزاحیہ تاثرات لئے بت بنا کھڑا تھا۔ سوڈانی لوگ بالعموم ہنسی مذاق کرتے رہتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ سلام دعا کے بعد ہم گاڑی میں بیٹھے اور دفتر روانہ ہوگئے۔

نئے ملک میں سیٹل ہونے کے مراحل

میں نے اسی دن اپنا نیا دفتر جوائن کیا۔ آفس کے دیگر احباب سے تعارف ہوا۔ اس کمپنی میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ ان میں مصری، سعودی، اردنی، لبنانی،فلسطینی، ہندوستانی اور پاکستانی افراد شامل تھے۔ میرے باس جعفر صاحب کا تعلق انڈیا میں کرناٹک کے علاقے سے تھا۔ انہوں نے میری فرمائش کے مطابق میرا اقامہ جلد سے جلد پراسیس کروانے کا وعدہ کیا۔ ورک ویزا کو جب پاسپورٹ پر endorse کیا جاتا ہے تو اس ویزے پر غیر ملکی تین ماہ کے لئے سعودی عرب میں رہ سکتا ہے۔ اسی مدت کے دوران اقامہ (Residence Permit) بنوانا ہوتا ہے۔ اقامہ ملنے کے بعد ہی غیر ملکی رہائشی مکان کرائے پر حاصل کرسکتا ہے اور ڈرائیونگ لائسنس کے لئے اپلائی کر سکتا ہے۔

††††††††† اسی شام کو میرا میڈیکل ہوا۔ اگلے دن رپورٹ ملی اور اس سے اگلے دن آفس کے سعودی مندوب حسن الغامدی پاسپورٹ لینے آ پہنچے۔ حسن صاحب ایک پانچ فٹ کے عرب بدو ہیں جو بات کرتے ہوئے الفاظ کم بولتے ہیں اور اچھلتے کودتے زیادہ ہیں۔ میرا پاسپورٹ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ امیگریشن والوں نے مہر صحیح طرح نہیں لگائی چنانچہ عادل اور مجھے لے کر دوبارہ ائر پورٹ روانہ ہوئے۔ میرا خیال تھا کہ غامدی صاحب جاکر امیگریشن والوں کی منت سماجت کریں گے اور مہر صحیح کرنے کی درخواست کریں گے لیکن انہوں نے جاکر عربی میں انہیں کھری کھری سنائیں ۔ ایک امیگریشن آفیسر ، جو دو دن پہلے زندگی سے بیزار بیٹھا تھا، دوڑ کر گیا اور درست مہر لگا کر لے آیا۔

††††††††† اس سے اگلے دن غامدی صاحب پاسپورٹ آفس گئے اور دو گھنٹے میں مجھے اقامہ لا کر تھما دیا۔ میرے جاننے والوں نے مجھے بتایا کہ آپ خوش قسمت ہیں ورنہ یہاں اقامہ ملنے میں ایک مہینہ لگ جاتا ہے۔ اگلا دن میں نے مزید ڈاکومنٹس تیار کروانے میں لگایا اور ویک اینڈ پر عازم مکہ ہوا ۔ جمعہ کا دن مکہ میں گزار کر ہفتے کو میں ویزا آفس گیا اور فیملی کا ویزا حاصل کرلیا۔

††††††††† اسی دن میں نے ڈرائیونگ لائسنس کے لئے اپلائی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مرحلہ بھی آسانی سے طے کروا دیا ۔ سعودی عرب میں پاکستان کے برعکس لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہے۔ جب رائیٹ ہینڈ ڈرائیو کرنے والا شخص پہلی مرتبہ لیفٹ ہینڈ والی گاڑی میں بیٹھتا ہے تو کئی لطیفے وجود پذیر ہوتے ہیں۔ جب میں کویت میں تھا تو ان تمام لطائف سے گزر چکا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دفتر کی دی گئی لانسر میں جب میں پہلی مرتبہ میں روڈ پر نکلا تو دائیں طرف دیکھ کر گاڑیوں کا انتظار کرنے لگا۔ جب کوئی گاڑی نہ آئی تو خیال آیا کہ یہاں تو گاڑیاں بائیں جانب سے آتی ہیں۔ اس کے بعد میں نے انڈی کیٹر دینے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں سوکھے شیشے پر وائپر چلنے لگے۔ یہ اچھا تھا کہ اس گاڑی کے گیئر آٹو میٹک تھے ورنہ میں پہلے کی جگہ پانچواں اور دوسرے کی جگہ ریورس گیئر لگا بیٹھتا۔ یہاں اوور ٹیک بھی بائیں جانب سے کیا جاتا ہے لیکن کراچی کی طرح اس کا عام طور پر کوئی خیال نہیں رکھتا اور جہاں سے جگہ ملے ، اوور ٹیکنگ کی جاتی ہے۔ جب میری فیملی پاکستان سے آئی تو میں نے اپنی اہلیہ کے لئے اخلاقاً دائیں جانب کا دروازہ کھول دیا لیکن وہ اسے نظر انداز کرکے گاڑی کے گرد گھوم کر بائیں جانب کی طرف آ گئیں اور پھر اسٹیرنگ دیکھ کر واپس ہوئیں۔ بچے اسٹیرنگ دیکھ کر سمجھے کہ میں نے کوئی کاریگری دکھاتے ہوئے اسے اتار کر دوسری طرف لگا لیا ہے۔

††††††††† کویت کے تجربے کے باعث میں ڈرائیونگ ٹیسٹ باآسانی پاس کرگیا۔ اب گھر ڈھونڈنے اور اسے سیٹ کرنے کا مسئلہ تھا جس کے لئے بہت بھاگ دوڑ درکار تھی۔ لائسنس ملتے ہی میں نے فوری طور پر ایک نسان سنی کرائے پر حاصل کی اور ان مراحل کے طے ہونے کا شکر ادا کرنے کے لئے اسی رات مکہ جا کر دوسری بار عمرہ ادا کیا۔ جمعرات کو دفتر سے فارغ ہوتے ہی میں مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔

††††††††† اس کے بعد میں نے ایک فلیٹ کرائے پر لیا اور اسے ضروری سامان سے آراستہ کیا اور پھر گاڑی تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا۔ یہ سب سے مشکل مرحلہ ثابت ہوا۔ کافی بھاگ دوڑ کے بعد ایک امریکن اسمبلڈ ری کنڈیشنڈ ٹویوٹا کیمری پسند آئی ۔ عام امریکی گاڑیوں کی طرح اس کی بھی ہر چیز آٹو میٹک تھی۔ پاکستان میں کیمری صرف امیر لوگ ہی افورڈ کر سکتے ہیں لیکن یہاں یہ اپر مڈل کلاس کی گاڑی ہے۔ یہاں کے امیر لوگ تو مرسڈیز، لیکسس اور بی ایم ڈبلیو ہی رکھتے ہیں جن کے پارٹس مہنگے اور ری سیل ویلیو بہت کم ہوتی ہے۔ اپر مڈل کلاس عموماً کیمری، اکارڈ اور الٹیما جیسی گاڑیوں اور لوئر مڈل کلاس کرولا ، سوک وغیرہ کو ترجیح دیتی ہے۔ چونکہ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام پاکستان سے بھی گیا گزرا ہے اس لئے کم آمدنی والے افراد بھی بیس پچیس سال پرانی گاڑیاں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں جو محض پانچ سے دس ہزار ریال (اس وقت کے اسی ہزار سے ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) میں دستیاب ہو جاتی ہیں۔

††††††††† تین ہفتے میں میرے بیوی بچے بھی آپہنچے۔ گھر کو نئے سرے سے آراستہ کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوا۔ سوئی دھاگے سے لے کر الماری تک اور باتھ روم کے برش سے لے کر کچن کے برتنوں تک چھوٹی چھوٹی بے شمار اشیا تھیں جن کو خریدنے میں ایک مہینہ لگا۔ اس ایک مہینے میں ہم نے بہت بھاگ دوڑ کی ۔ روزانہ آفس سے آکر تین چار گھنٹے مارکیٹوں میں خوار ہونے سے میرا ورکنگ ڈے بارہ گھنٹے کا ہوگیا۔ اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھ پر اعصابی تھکن سوار ہوگئی جو مسلسل کئی ماہ تک سوار رہی۔ یہاں تک کہ چھ ماہ بعد اگست میں مجھے دفتر سے چھٹی ملی تو میں نے روزانہ بارہ تیرہ گھنٹے سو کر اس تھکن سے نجات حاصل کی۔ ایک ماہ بعد ہی میں نے گھر کے قریب ہی واقع الاھلی کلب کی ممبر شپ لے لی اور وہاں اسکواش کھیلنے لگا۔ اسکواش کو میں بطور شوق نہیں بلکہ بطور ضرورت کھیلتا ہوں۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability