بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جدہ

جدہ ، ریاض کے بعد سعودی عرب کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ رقبے کے اعتبار سے لاہور اور آبادی کے لحاظ سے فیصل آباد کے برابر ہے۔ سعودی عرب کے مشرق و مغرب دونوں جانب سمندر لگتا ہے۔ مشرق میں خلیج فارس ہے جس کی سب سے بڑی بندرگاہ دمام ہے اور مغرب میں بحیرہ احمر یا ریڈ سی ہے جس کی سب سے بڑی بندرگاہ جدہ ہے۔ جدہ کی بندرگاہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور سے حجاج کی آمد و رفت کے لئے استعمال ہوتی آرہی ہے۔ قدیم دور میں یہ ایک مچھیروں کی بستی تھی جہاں اس دور کے چھوٹے موٹے جہاز اور کشتیاں لنگر انداز ہوتے تھے۔ اب یہ ایک جدید بندرگاہ کی شکل اختیار کر چکا ہے جو حجاج کی آمد و رفت کے باعث "مینا جدۃ الاسلامی (Jeddah Islamic Port) " کہلاتی ہے۔

          جدہ شہر شمالا ً جنوباً تیس چالیس کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ شرقاً غرباً اس کا پھیلاؤ بمشکل دس بارہ کلومیٹر ہے۔ شہر کے مشرقی کنارے پر پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایک روڈ جنوب سے شمال کی طرف چلتی ہے جسے رنگ روڈ کہا جاتا ہے۔ جنوب مشرق میں یہ مکہ ، طائف اور ریاض کی طرف چلی جاتی ہے جبکہ شمال مشرق میں یہی روڈ جدہ ائر پورٹ سے ہوتی ہوئی سوئے مدینہ رواں دواں ہوتی ہے اور آگے جاکر تبوک اور پھر اردن تک جاتی ہے۔ اسی روڈ پر جدہ ائر پورٹ کا حج ٹرمینل بھی ہے جہاں سے عازمین مکہ یا مدینہ کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ جدہ سے تیسری سڑک جنوب میں جیزان کی طرف نکلتی ہے۔ یہ گاڑیوں کی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ ”ہراج “ سے ہوتی ہوئی لیث اور پھر آگے ابہا اور جیزان کی طرف چلی جاتی ہے۔ آگے یہی روڈ یمن کے دارلحکومت صنعاء تک جاتی ہے۔

          جدہ کا سٹی سینٹر ”بلد“ کہلاتا ہے۔ یہ پرانا شہر ہے اور یہاں خاصی پرانی عمارتیں موجود ہیں۔ یہ ہمارے کراچی کے صدر اور لاہور کی انارکلی کی طرز کا علاقہ ہے۔ یہاں سے مکہ اور مدینہ جانے والی قدیم شاہراہیں نکلتی ہیں۔ بلد سے مدینہ جانے والی قدیم شاہراہ شہر کے بیچوں بیچ گزرتی ہوئی ایئر پورٹ سے ہوتی ہوئی شمال مشرق میں مدینہ کی طرف روانہ ہوتی ہے۔ ائر پورٹ سے پہلے اس شاہراہ پر دنیا بھر کی گاڑیوں کے شو رومز ہیں۔ ایئر پورٹ کے سعودی ایئر لائن والے ٹرمینل کے پاس فلائی اوورز کا بہت بڑا جنکشن ہے۔ یہاں چار سمتوں سے آنے والی روڈز پر فلائی اوورز اس طرح تعمیر کئے گئے ہیں کہ کسی بھی جانب سے آ کر کسی بھی سمت جانے کے لئے سگنل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں یہ مقام سانپوں کے بڑے سے گچھے کی مانند محسوس ہوتا ہے۔ جدہ کے مشرق سے آنے والی رنگ روڈ بھی ایئر پورٹ کے پاس مدینہ روڈ میں مل جاتی ہے۔

جدہ کا نقشہ

 

جدہ میں رہنے والی اقوام

جدہ میں سب سے زیادہ آبادی تو سعودی باشندوں کی ہے۔ اس کے بعد دیگر عرب ممالک کے باشندے بالخصوص مصری ، اردنی اور لبنانی یہاں کثرت سے آباد ہیں۔ غیر عرب ممالک سے تعلق ریکھنے والی سب سے بڑی کمیونٹی بھارتی مسلمانوں کی ہے ۔ اس کے بعد پاکستانیوں اور بنگالیوں کا نمبر آتا ہے۔ دیگر کمیونیٹیز میں سوڈانی، فلپائنی اور ایتھوپین نمایاں ہیں۔

          سعودی عرب میں زیادہ تر پاکستانی محنت مزدوری کرتے ہیں۔ وائٹ کالر ملازمتوں میں بھی کافی پاکستانی پائے جاتے ہیں۔ دفاتر میں اعلیٰ عہدوں پر زیادہ تر سعودی، مصری ، لبنانی اور انڈین افراد کام کرتے ہیں۔ بہت ہی قلیل تعداد میں امریکی اور یورپی افراد بھی اعلیٰ ترین عہدوں پر کام کرتے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے یہاں کی 99 فیصد آبادی مسلمان ہے کیونکہ سخت مذہبی پابندیوں کے باعث غیر مسلم یہاں رہنا پسند نہیں کرتے اور عرب امارات اور کویت وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں۔

          جدہ میں پاکستانی زیادہ تر شرفیہ، بنی مالک اور عزیزیہ کے علاقوں میں رہتے ہیں۔ پڑہے لکھے پاکستانی عزیزیہ میں رہتے ہیں کیونکہ یہیں پر پاکستان ایمبیسی سکول کے علاوہ دیگر پاکستانی اور انڈین سکول پائے جاتے ہیں۔ شرفیہ اور بنی مالک کے علاقوں کو اپنے ہاں کے کورنگی، لانڈھی اور مزنگ پر قیاس کر لیجئے۔ یہاں زیادہ تر بلیو کالر ملازمتیں کرنے والے پاکستانی رہتے ہیں۔سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں۔ عام طور پر غیر ملکی کسی سعودی کے نام سے کاروبار کرتے ہیں۔ اگر وہ کوئی شریف اور دیانتدار شخص ہو تو ٹھیک ہے ورنہ بعض لوگ اس میں نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔

           مجھے یہاں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہاں کی پاکستانی کمیونٹی میں عام پاکستانی معاشرے والی کوئی بات نہیں ۔ یہاں کی پاکستانی کمیونٹی نہایت ہی دیانت دار، محنتی ، شریف اور مصیبت میں ایک دوسرے کے کام آنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ خاصا غور و فکر کرنے پر یہ معلوم ہوا کہ یہاں منفی ذہنیت رکھنے والوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں تو ایک سے بڑھ کر ایک جعل ساز، ٹھگ اور دھوکے باز پڑے ہوئے ہیں لیکن اگر وہ یہاں آکر ایسا کریں تو انہیں سخت سزا ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں میں سے چن چن کر محنتی اور مثبت طرز فکر رکھنے والے افراد یہاں لائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی اچھی اچھی سی محسوس ہوتی ہے۔

          یہاں کی انڈین کمیونٹی زیادہ تر کیرالہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ ان کی اپنی تلگو اور ملیاڑم زبانیں ہیں اور یہ خود کو عام انڈین شہریوں سے ہٹ کر محسوس کرتے ہیں۔ ہندی یا اردو یہ عرب ممالک میں آ کر سیکھتے ہیں۔ یہ بڑی محنتی کمیونٹی ہے۔ سعودی عرب میں زیادہ تر جنرل سٹورز یا بقالے انہی کی ملکیت ہیں۔ بھارت کے دوسرے علاقوں سے آنے والے بھی زیادہ تر مسلمان ہی ہیں اور پاکستانیوں کے بارے میں مثبت طرز عمل ہی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ملک سے بھی بڑی محبت کرتے ہیں۔

           چند فساد زدہ علاقوں کے علاوہ مسلمان بالعموم انڈیا میں خوش ہیں جس میں بالخصوص جنوبی ہندوستان جیسے مدراس، بنگلور، حیدر آباد دکن اور کیرالہ کے مسلمان نمایاں ہیں۔ دراصل ان علاقوں میں اسلام مسلمان تاجروں کی کوششوں سے پھیلا جس کے باعث ہندو کمیونٹی میں ان کے خلاف نفرت کے جذبات پائے نہیں جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے ہیں اور آزادی سے اپنے مذاہب پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس شمالی اور مغربی ہندوستان، وسطی ایشیا سے آنے والے مسلمان فاتحین کی آماجگاہ بنا رہا۔ ان میں سے بعض فاتحین نے مندر گرائے اور ہندو کمیونٹی پر ظلم و ستم روا رکھا جس کے باعث ان علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے جس کا اظہار فسادات کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔

          پچھلے پچیس تیس سال میں بھارتی مسلمانوں میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ پہلے ان کی سوچ احتجاجی تھی۔ یہ ہمہ وقت ہندوؤں کو اپنی پسماندگی کا ذمے دار قرار دیتے اور نفرت کی فضا برقرار رکھتے۔ ان کی سیاست بھی اسی کے گرد گھومتی تھی۔ بھارتی آئین میں مسلمانوں کو بہت سے خصوصی حقوق دیے گئے لیکن اس کے نتیجے میں انہوں نے کوئی خاص ترقی نہ کی۔ کچھ عرصہ قبل انہیں احساس ہوا کہ ترقی آئینی حقوق سے نہیں بلکہ اپنی محنت اور تعلیم کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اب بھارتی مسلمان تعلیم کی طرف مائل ہو رہے ہیں اپنے ملک میں بھی اعلیٰ عہدے حاصل کر رہے ہیں۔ کاش یہی بات ہمارے ملک کے پسماندہ طبقات کی سمجھ میں بھی آجائے اور وہ احتجاج کی بجائے اپنی توانائی تعلیم کی طرف لگا دیں۔ وہ اس بات پر احتجاج کرتے ہیں کہ ان کے علاقوں میں لگنے والی فیکٹریوں میں اعلیٰ عہدوں پر دوسری زبان بولنے والے کیوں فائز ہیں۔ جس دن انہوں نے اپنی توجہ تعلیم کی طرف کی، صرف پندرہ بیس سال کے عرصے میں وہ بھی ترقی یافتہ لسانی گروہوں کے ہم پلہ ہو جائیں گے۔

          بلیو کالر ملازمتیں زیادہ تر بنگالی حضرات کے پاس ہیں۔ یہ بھی پاکستانیوں سے بڑی محبت کرتے ہیں جو ان کے رویوں سے چھلکتی ہے۔ اگرچہ دونوں طرف کی لیڈرشپ نے اپنے مفاد کے تحت ہمیں دور کردیا لیکن عوام کے دل بہرحال ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

          دفاتر اور ہسپتالوں میں نچلے عہدوں پر بہت سے فلپائنی بھی کام کرتے ہیں۔ یہ بڑی دلچسپ اور محنتی قوم ہے۔ ان کے زیادہ تر مرد موٹر مکینک اور خواتین نرس ہوتی ہیں۔ ایک کمپنی میں میرا ایک فلپائنی سے تعارف ہوا۔ وہ میری داڑھی دیکھ کر کہنے لگا، ”سب پاکستانی داڑھی ضرور رکھتے ہیں۔“ میں نے کہاکہ ایسا تو نہیں ہے ۔ کہنے لگا ، ”میں نے جب بھی ٹی وی پر کوئی پاکستانی دیکھا تو اس کی داڑھی ضرور تھی۔“ میں نے اسے بتایا کہ پاکستان میں صرف مذہبی لوگ ہی داڑھی رکھتے ہیں۔

          یہ بھی عجیب بات ہے کہ داڑھی صرف موجودہ دور میں مذہب کی علامت بنی ہے۔ قدیم ادوار سے یہ مردانگی کی علامت تھی اور دنیا کی ہر قوم سے تعلق رکھنے والے مرد، خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہوتا، داڑھی ضرور رکھا کرتے تھے۔میری اس بات سے وہ بہت محظوظ ہوا۔ کہنے لگا کہ میری بھی یہ خواہش ہے کہ میں داڑھی رکھوں تاکہ میری مردانگی کا اظہار ہو سکے مگر ہم لوگوں کی داڑھی نکلتی ہی نہیں۔

          یہاں دفاتر میں مصری بکثرت پائے جاتے ہیں۔ عرب ممالک میں مصر ایک غریب ملک ہے اور یہاں تعلیم کی فراوانی ہے ، اس لئے یہ لوگ دفتری کام کر لیتے ہیں اور عربی بھی بول لیتے ہیں۔ مجھے مصری بالکل لاہوریوں بالخصوص 'بٹ برادری' کی طرح لگے۔ یہ لاہوریوں کے الفاظ میں انہی کی طرح صحت مند ہوتے ہیں۔ انہی کی طرح خوش شکل، خوش مزاج اور خوش خوراک ہوتے ہیں۔ پہلی ملاقات میں اس طرح ملتے ہیں جیسے برسوں سے واقف ہوں۔ جو سلوک ہمارے لاہوڑیے (اسے کمپوزنگ کی غلطی نہ سمجھا جائے) ’ر‘ اور ’ڑ‘ کے ساتھ کرتے ہیں ، وہی سلوک مصری ’ج‘ اور ’گ‘ کے ساتھ کرتے ہیں۔ جیسے ’لاہوری بکرا‘، ہمارے لاہوریوں کے نزدیک ’لہوڑی بکڑا ‘ ہوتا ہے ، اسی طرح ’جعفر، جاویداور جدہ ‘، مصریوں کے نزدیک ’گعفر، گاوید اور گدہ ‘ہوتے ہیں۔

          دیگر عرب کمیونیٹیز میں شامی اور لبنانی شامل ہیں۔ یہ لوگ عموماً بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ افریقی عرب بھی یہاں کثرت سے آباد ہیں ۔ زیادہ تر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں افریقی یہاں بھی آگے ہیں اور سعودی فٹ بال ٹیم میں بہت سے افریقی کھلاڑی شامل ہیں۔ بعض افریقی جرائم میں بھی ملوث ہوتے ہیں ، اس لئے لوگ ان کے علاقوں میں ڈرتے ہوئے جاتے ہیں۔

          سعودی عرب کی حکومت اپنی بڑھتی ہوئی بے روزگار نوجوان آبادی کو روزگار فراہم کرنا چاہتی ہے۔اس مقصد کے لئے تمام سرکاری اداروں میں نئے ملازم صرف سعودی رکھے جاتے ہیں۔بینکوں پر بھی یہ پا بندی ہے کہ وہ صرف سعودی ملازم رکھیں گے۔ ان دنوں غیرملکیوں کے لئے نئے ویزوں کا اجرا بھی کافی کم کر دیا گیا ہے۔ کمپنیوں کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ اگر ایک غیر سعودی کو ملازم رکھیں تو اس کے ساتھ ایک سعودی کو بھی ملازمت دیں۔

جدہ کا ساحل

بحیرہ احمر کا ساحل تقریباً دو ہزار کلومیٹر طویل ہے جس کا سترہ سو کلومیٹر حصہ سعودی عرب اور باقی یمن کے پاس ہے۔ یہاں جدہ کے علاوہ ینبع، جیزان اور ضباء کی بندرگاہیں بھی ہیں۔ اس ساحلی پٹی کے تقریباً وسط میں جدہ کا شہر آباد ہے۔ یہ اگرچہ ایک جدید شہر ہے لیکن مشرق وسطی کے دیگر بڑے شہروں ریاض، دبئی اور کویت جیسا ترقی یافتہ نہیں ہے۔ سڑکیں ہمارے کراچی سے زیادہ کھلی ہیں لیکن سگنلز کی بھرمار ہے۔ شہر میں صرف تین سڑکیں ایسی ہیں جنہیں سگنل فری کہا جاسکتا ہے۔

جدہ کی خوبصورتی اس کی ”طریق کورنیش“ ہے۔ یہ تقریباً دو سو کلومیٹر طویل ساحلی سڑک ہے جو جدہ کے شمال و جنوب میں سو سو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ کورنیش ساحل سمندر کے بالکل ساتھ ساتھ ہے۔ جدہ کے شمال میں ’ابحر“ کا مقام ہے جہاں ایک بہت بڑی خوبصورت کریک (Creek) موجود ہے۔ اس میں لوگ ذاتی کشتیاں اور واٹر سکوٹر چلاتے پھرتے ہیں۔

عربوں کی ایک عجیب عادت یہ ہے کہ انہیں جو مقام پسند آئے وہاں گاڑی روک کر اس میں سے قالین نکالتے ہیں اور اسے فٹ پاتھ پر بچھا کر پوری فیملی سمیت گاؤ تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ چنانچہ کورنیش کے اکثر فٹ پاتھوں پر سعودی فیملیاں بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ان کے بچے وہیں کھیلتے ہیں، خواتین باتیں کرتی ہیں اور مرد تاش کھیلتے ہیں یا حقہ پیتے ہیں۔ابحر سے آگے ”درة العروس“ کا مقام ہے۔ یہاں بہت بڑے بڑے محل تعمیر کئے گئے ہیں جن کے ذاتی ساحل ہیں۔ ان ساحلوں میں کوئی اور مداخلت نہیں کرسکتا۔ یہ محلات لوگوں کو کرائے پر دیے جاتے ہیں۔ ان کا کم از کم یومیہ کرایہ 1500 ریا ل ہے۔ ان ساحلوں پر خواتین بے پردگی کے بغیر لہروں سے لطف اندوز ہو سکتی ہیں۔

          جنوبی کورنیش بھی بہت دلفریب ساحلی مناظر پر مشتمل ہے۔ یہاں ”صروم“کے مقام پر سمندر سے کچھ فاصلے پر قدرتی جھیل بھی موجود ہے۔ ظاہر ہے یہ سمندری پانی ہی ہے۔ ان جھیلوں اور سمندر کے درمیان خشکی کے قطعات ہیں جن پر کورنیش بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح کی ایک جھیل شمالی کورنیش پر درة العروس کے مقام پر بھی ہے۔ یہ جھیلیں اپنے سندھ کی کینجھر جھیل کے مقابلے میں کوئی خاص قدرتی خوبصورتی نہیں رکھتیں۔

          جدہ کے مشرق میں "مرمہ جھیل" واقعہ ہے۔ اس جھیل کے بارے میں عام لوگ زیادہ نہیں جانتے۔ میں نے اس جھیل کو گوگل ارتھ پر دریافت کیا اور ایک دن وہاں جا دھمکا۔ یہ میٹھے پانی کی نہایت ہی خوبصورت جھیل ہے جس کے قدرتی مناظر بڑی حد تک کینجھر جھیل سے مشابہ ہیں۔

جدہ کے لینڈ مارکس

جدہ راؤنڈ اباؤٹس کا شہر ہے۔ شہر کے بہت سے چوراہوں پر راؤنڈ اباؤٹ بنے ہوئے ہیں جن کے درمیان آرٹ کے نمونے تخلیق کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور سائیکل چوک ہے۔ یہاں کم و بیش پچاس فٹ اونچی سائیکل بنائی گئی ہے جسے بعض لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے کی سائیکل قرار دیتے ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ حضرت آدم و حوا کی ملاقات یہیں ہوئی تھی۔ پرانے شہر میں سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی قبر بھی موجود ہے جو کہ ظاہر ہے اکثر مزارات کی طرح جعلی ہے۔ دیگر لینڈ مارکس میں بحری جہاز، ہوائی جہاز، جیومیٹری باکس کا سیٹ، زمین کا گلوب، انجینئرنگ کے اوزار، نظام شمسی کا ماڈل اور کشتیاں نمایاں ہیں۔ میں آرٹ کے ان شاہکاروں کو دیکھ کر عربوں کے ذوق سے خاصا متاثر ہوا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس میں ان کا کوئی کمال نہیں۔ انہوں نے شہر کو خوبصورت بنانے کے لئے مختلف کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا جنہوں نے آرٹ کے یہ نمونے تخلیق کئے۔ جدہ میں دنیا کا سب سے بڑا نمکین پانی کا فوارہ بھی بنایا گیا ہے جو کہ سمندر کی ایک کریک میں واقع ہے۔

 

جدہ کے ریسٹورنٹس

جدہ کا ذکر مکمل نہ ہوگا اگر اس کے ریسٹورنٹس کا ذکر نہ کیا جائے۔ چونکہ یہ ایک کاسمو پولیٹن شہر ہے، اس لئے اس میں بہت سے ممالک کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ موجود ہیں۔ ایسے افراد کو، جو انٹرنیشنل کھابہ گیری کے شوقین ہوں، میرا مشورہ ہے کہ اگر وہ یہاں آئیں تو جدہ کے کثیر القومی ریستورانوں کا مزہ بھی ضرور چکھیں۔ یہاں سعودی، لبنانی، انڈونیشین، وسطی ایشیائی، ایرانی، امریکی، یورپین، انڈین اور پاکستانی ریسٹورنٹس کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

           سعودی عرب کا سب سے زیادہ چلنے والا فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ”البیک“ ہے۔ ہر وقت یہاں افراد کا مجمع لگا رہتا ہے۔ بعض جگہ اس کے بالکل سامنے یا ساتھ ”کے ایف سی“ بھی پایا جاتا ہے جو عموماً خالی پڑا رہتا ہے۔ اگر آپ البیک میں جا کر آرڈر بک کروائیں تو آپ کو تیس چالیس افراد کے بعد کا نمبر ملتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کی باری دس منٹ ہی میں آ جاتی ہے۔ مجھے البیک کا شرمپ (جھینگا) سینڈوچ بہت پسند آیا۔

          جدہ کی ”سبعین اسٹریٹ“ کو یہاں کی فوڈ اسٹریٹ کہا جاسکتا ہے۔ یہاں آپ کو ہر قسم کے ریسٹورنٹس ملیں گے۔ خاص طور پر زیادہ تر پاکستانی ریستوران یہیں پر واقع ہیں جہاں تمام روایتی پاکستانی کھانے دستیاب ہیں۔ کھانے زیادہ تر لاہوری اسٹائل میں بنائے جاتے ہیں اور ان کے کاؤنٹرز پر بھی عموماً لاہوریے ہی اپنے مخصوص اسٹائل میں توند نکالے براجمان نظر آتے ہیں۔ مجھے چونکہ کھانے پینے میں لاہوری کھانے پسند ہیں، اسلئے کراچی میں اپنے چھ سالہ قیام کے دوران میں اس ذائقے کو ترس گیا تھا۔ جدہ آکر مجھے دوبارہ یہ ذائقہ ملا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔

       جدہ میں جنوبی ہندوستان بالخصوص حیدر آباد دکن اور مدراس کے کھانے بھی ملتے ہیں۔ ہم لوگوں کے لئے ان کا ذائقہ عجیب سا ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگ ان کھانوں میں املی کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ شمالی ہندوستان اور پاکستان کے کھانوں کو یہ لوگ پنجابی کھانے کہتے ہیں اور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

سعودی عرب کا نظام حیات

سعودی عرب میں سلفی نقطہ نظر سے تعلق رکھنے والوں کی حکومت ہے۔ علماء کا حکومتی معاملات میں خاصا عمل دخل ہے۔ تمام مساجد سرکاری کنٹرول میں ہیں جس کی وجہ سے یہ ہماری طرح اکھاڑے بنائے جانے سے محفوظ ہیں۔ یہاں کی مساجد عام طور پر کویت کی طرح بہت خوبصورت نہیں ہیں۔طہارت خانے بھی بس گزارے لائق ہی ہوتے ہیں۔ حکومت کا ایک محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ اس کے اہل کار مطوع کہلاتے ہیں۔ یہ سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور کسی ایسے شخص کو جس نے ان کے نزدیک،  قابل اعتراض حرکت کی ہو، گرفتار کر لیتے ہیں۔

          سعودی پولیس ہمارے ہاں کی نسبت کچھ بہتر ہے۔ عام طور پر یہ کسی کو تنگ نہیں کرتے لیکن کبھی کبھار اگر کوئی ان کے نرغے میں آجائے تو اس کی جان بڑی مشکل چھوٹتی ہے۔ ان کے آفیسرز تک انگریزی سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لئے اگر کوئی ان کے قبضے میں آجائے تو اسے اس وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے جب تک کوئی انگریزی بولنے والا پولیس مین نہیں آجاتا یا پھر وہ شخص اپنے کسی عربی جاننے والے سے رابطہ نہیں کرلیتا۔

          سعودی خواتین عموماً مغربی لباس پہنتی ہیں لیکن باہر نکلتے ہوئے یہ برقع ضرور پہن لیتی ہیں جو ”عبایہ “ کہلاتا ہے جس کی وجہ سے بے حیائی نظر نہیں آتی۔ گھر کے اندر یہ خواتین اپنے سسر، دیور اور کزنز وغیرہ سے پردہ کرتی ہیں۔

ان کی معاشرت میں ایک اچھی چیز یہ ہے کہ شادی کے وقت ہی والدین اولاد کو الگ کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ہاں ساس بہو ، نند بھابی اور دیورانی جیٹھانی کے جھگڑے کافی کم ہیں۔ ہمارے ہاں جائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے آپس کے جھگڑے اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ خواتین بے چاری بس گھٹ گھٹ کر زندگی گزارتی ہیں۔ جب وہ اپنی جوانی اسی حالت میں گزار کر بڑھاپے میں داخل ہوتی ہیں تو وہ اپنی بہو کے لئے ویسی ہی بن جاتی ہیں جیسی ان کی ساس ان کے لئے تھی۔      

          حالیہ سالوں میں سعودی معاشرے میں ایک تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ معاشرہ اب لبرل ازم کی طرف جارہا ہے۔ شخصی آزادیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب سے چند سال پہلے غیر ملکی افراد اپنے کفیل کی تحریری اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہیں جاسکتے تھے لیکن اب یہ پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ غیرملکیوں کے کاروبار کرنے پر پابندی تو عائد ہے ہی لیکن امید ہے کہ اگلے چند سالوں میں یہ اٹھا لی جائے گی۔فیملی ساتھ ہو تو پولیس بھی بلاوجہ تنگ نہیں کرتی۔ موجودہ سعودی حکمران شاہ عبداللہ ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے ایک وژن رکھتے ہیں۔ انہوں نے متعدد مقامات پر بڑی بڑی انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کی ہیں جن میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ لگانے کے لئے راغب کیا جارہا ہے۔ ان میں رابغ کا صنعتی زون بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

 

اگلا باب                                              فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability