بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مکہ

جدہ پہنچنے کے بعد میری شدید خواہش تھی کہ حرمین شریفین کی زیارت کی جائے۔ میں سنیچر کے روز جدہ پہنچا تھا جو کہ سعودی عرب میں ہفتے کا پہلا ورکنگ ڈے ہوتا ہے۔ اگر میں اسی دن مکہ کا رخ کرتا تو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ حرم کعبہ کو صحیح طور پر دیکھ نہ پاؤں گا اور بھاگم بھاگ جدہ واپس آنا پڑے گا۔ میں حرم کعبہ میں اپنے پہلے وزٹ کو یادگار بنانا چاہ رہا تھا۔ چنانچہ میں نے مکہ حاضری کو ویک اینڈ تک موخر کیا اوراس سے اگلے ویک اینڈ پر مدینہ جانے کا ارادہ کیا۔ اس کے بعد حاضریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تادم تحریر جاری ہے۔ اس سفر نامے میں ان تمام اسفار کے چیدہ چیدہ واقعات بیان کئے گئے ہیں۔

          جدہ میں اکثر لوگ جمعرات کو عازم مکہ ہوتے ہیں۔ شام کو حرم کعبہ میں دو یا تین نمازیں پڑھ کر اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد رات کو واپس گھر آ جاتے ہیں۔ بعض لوگ باقاعدگی سے جمعہ کی نماز خانہ کعبہ میں ادا کرتے ہیں۔ جدہ سے مکہ جانے کے تین طریقے ہیں۔ بس، ٹیکسی یا اپنی گاڑی کے ذریعے۔ بس کے سفر کا تو مجھے کوئی تجربہ نہیں ہوسکا۔ ٹیکسی کا سفر کافی آسان ہے۔

          جدہ میں ”باب مکہ “سے مکہ جانے والی ٹیکسیاں مل جاتی ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور عموماً عرب بدو ہوتے ہیں اور مکہ مکہ کی آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ چار سواریاں پوری ہونے پر ٹیکسی چل پڑتی ہے اور فی کس دس ریال کے عوض حرم تک پہنچا دیتی ہے۔ میں نے اپنا پہلا سفر ایسی ہی ایک ٹیکسی پر کیا۔ اپنی کار کے ذریعے سفر سب سے آسان اور سستا ذریعہ ہے۔ چونکہ سعودی عرب میں پیٹرول بہت سستا ہے اس لئے محض دس پندرہ ریال کے پیٹرول میں بڑی سے بڑی گاڑی جدہ سے مکہ جا کر واپس آجاتی ہے۔ اس طرح پوری فیملی کے افراد معمولی سی رقم خرچ کرکے حرم سے ہوکر واپس گھر پہنچ جاتے ہیں۔

          ہمارا یہ معمول تھا کہ ہم عمرہ بالعموم جمعرات کو ادا کرتے تھے کیونکہ اگلے دن چھٹی ہوتی تھی۔ چونکہ جدہ میقات کی حدود کے اندر واقع ہے، اس لئے جدہ کے رہنے والے اپنے گھروں سے ہی احرام باندھ کر روانہ ہوتے ہیں۔ مکہ کے تمام اطراف سے آنے والے راستوں پر میقات مقرر کئے گئے ہیں جہاں سے احرام باندھنا ضروری ہے۔ احرام باندھتے ہی انسان پر کئی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔

احرام

احرام دو چادروں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں سے ایک دھوتی کے طور پر باندھ لی جاتی ہے اور دوسری سینے پر لپیٹ لی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم نے اپنے پروردگار کے حکم پر نت نئی ورائٹی کے لباس چھوڑ کر ایک سادہ ترین لباس اختیار کرلیا ہے جس میں ہم اس کے حضور حاضری دینے کے لئے جارہے ہیں۔ چونکہ حج یا عمرہ شیطان کے خلاف ایک علامتی جنگ ہے، اس لئے اس کی یونیفارم احرام مقرر کی گئی ہے۔

          میرا تعلق اگرچہ پنجاب سے ہے لیکن دھوتی باندھنا میرے لئے ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ اس ائر کنڈیشنڈ لباس کو وہی سنبھال سکتا ہے جسے اس کی اچھی خاصی پریکٹس ہو۔ چونکہ یہ لباس اب شہروں میں متروک ہوتا جا رہا ہے' اس لئے میرے لئے بھی یہ ایک مسئلہ تھا۔ احرام میں دھوتی باندھنے کی مجبوری تھی۔ میرے ایک دوست حافظ عاطف کے ساتھ بھی حج کے موقع پر ایسا ہی مسئلہ درپیش ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے ، جیسا سمجھ میں آیا ، دھوتی باندھ لی۔ جب وہ اپنے عزیزوں کے سامنے آئے تو سب کی ہنسی نکل گئی کیونکہ انہوں نے 'خطائے اجتہادی' سے واجپائی سٹائل میں دھوتی باندھ لی تھی۔

 میں نے بھی جدہ میں مقیم اپنے ایک کولیگ جمیل سے دھوتی باندھنے کا طریقہ دریافت کیا۔ انہوں نے کچھ ایسے فصیح و بلیغ طریقے سے کاغذ کے ایک ٹکڑے کی مدد سے دھوتی باندھنے کا طریقہ عملی طور پر بیان کیا جو مجھے ازبر ہوگیا۔ میں نے اسی طریقے کو آزمایا تو حیرت انگیز طور پر دھوتی بالکل درست طریقے سے بندھ گئی۔ اس کے ہوا میں اڑنے کا بھی کوئی احتمال نہ تھا۔ حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے اپنی پتلون کی بیلٹ بھی دھوتی کے اوپر باندھ لی اور اوپر کے کناروں کو بیلٹ کے گرد دو تین مرتبہ فولڈ کرلیا۔ اس کے باوجود دل پوری طرح مطمئن نہ تھا اور میرے اعصاب کسی بھی متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تنے ہوئے تھے۔

 دو تین بار عمرہ کرنے کے بعد مجھے اس دھوتی پر پورا اعتماد ہوگیااور اس کے بعد میں پوری خود اعتمادی سے اپنے دیہاتی بھائیوں کی طرح دھوتی باندھنے لگا جو دھوتی باندھ کر کبڈی کھیلنے سے لے کر سائیکل چلانے تک تمام کام کر لیتے ہیں۔ احرام کی دوسری چادر کو سینے پر ڈالنا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ پنجاب کی شدید سردی میں ہم لوگ اکثر گرم شال سینے پر لپیٹا کرتے تھے جسے پنجابی میں ”بُکل مارنا‘ ‘کہتے ہیں چنانچہ میں نے دوسری چادر کو بکل مارنے کے سٹائل میں سینے پر لپیٹ لیا۔ خواتین احرام میں عام سلا ہوا لباس استعمال کرتی ہیں چنانچہ ان کے لئے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔

          اگرچہ یہ ایک شہری شخص کا دیہاتی لباس کے ساتھ پہلا تجربہ تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لباس بہت آرام دہ ہے۔ احرام میں اس سادہ لباس کے استعمال کی حکمت غالباً یہ ہے کہ انسان علائق دنیا سے منہ موڑ کر خالصتاً اپنے رب کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ حج اور عمرہ کی اصل روح اپنے رب کریم سے تعلق ہے۔ یہ تمثیلی اسلوب میں شیطان کے خلاف جنگ کا نام ہے۔ انسان دنیا چھوڑ کر مجاہدانہ لباس پہن لیتا ہے اور اپنے رب کریم کے حکم پر شیطان کے خلاف برسر پیکار ہو جاتا ہے۔ عملی زندگی میں انسان کو مسلسل شیطان کے خلاف جنگ درپیش ہوتی ہے۔ حج اور عمرہ انسان کو بتاتے ہیں کہ اس کا رویہ اپنی عملی زندگی میں بھی شیطان کے خلاف ایک دشمن ہی کا ہونا چاہیے کیونکہ وہ ہمیں اپنے رب کریم سے دور لے جانے کی کوشش میں مسلسل مصروف ہے۔

          اب ہم بیسمنٹ میں کھڑی اپنی گاڑی میں آ بیٹھے۔ میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ بکل مار کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا بھی ایک مسئلہ ہوتا تھا کیونکہ سعودی عرب میں سیٹ بیلٹ کی پابندی لازم ہے۔ اس کے لئے آئیڈیل طریقہ یہ ہے کہ اوپر والی چادر کو بغل کے نیچے سے نکال کر ایک کندھا برہنہ کر دیا جائے جیسا کہ طواف کے دوران کرتے ہیں۔ اس طرح سیٹ بیلٹ بھی بڑے آرام سے بندھ جاتی ہے اور ہاتھ بھی آزاد رہتا ہے۔ میری اہلیہ نے ساتھ والی سیٹ سنبھالی اور بچیاں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ میری بڑی بیٹی اسماء قلم اور پیڈ سنبھال کر اس سفر نامے کے لئے نوٹس لینے کے لئے تیار ہوگئی۔ یقینا اسماءکی مدد کے بغیر میں یہ سفر نامہ آپ تک نہ پہنچا سکتا۔

          ہم عزیزیہ کے علاقے میں واقع اپنے گھر سے نکل کر شارع فلسطین پر آئے جو شرقاً غرباً جدہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتی ہے۔ اس سے گزر کر ہم رنگ روڈ پر آگئے۔ یہاں مکہ جانے کے لئے دائیں جانب اور مدینہ جانے کے لئے بائیں جانب مڑنا ضروری ہے۔ اس مقام پر اوور ہیڈ برج کچھ اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ کسی بھی جانب جاتے ہوئے کسی سگنل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہمارے گھر سے حرم مکہ کا فاصلہ تقریباً 75 کلومیٹر ہے جس پر ہمیں صرف تین سگنلز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دو ہمارے گھر کے بالکل پاس اور ایک حرم کے قریب۔ یہ فاصلہ ہم تقریباً 35 سے 40 منٹ میں طے کر لیتے ہیں۔ حجاج کو جدہ ائر پورٹ سے لے کر حرم مکہ تک صرف ایک سگنل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ مکہ میں واقع ہے۔

          چونکہ اس دن جمعرات تھی، اس لئے رنگ روڈ پر ہزاروں گاڑیاں موجود تھیں۔ ہمارے ہاں جمعرات کا دن حلوے پکانے اور مزارات پر حاضریوں کا دن سمجھا جاتا ہے لیکن اہل جدہ اس دن ویک اینڈ کی وجہ سے عمرے کے لئے مکہ روانہ ہوتے ہیں۔ جدہ مکہ موٹر وے آٹھ لین پر مشتمل ہے جن میں سے چار جانے اور چار آنے کے لیےہیں۔ انٹرچینج کے نزدیک یہ موٹر وے ایک طرف سے پانچ چھ لین تک پھیل جاتی ہے۔ ہماری لاہور اسلام آباد موٹر وے پر تو ہمیں دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں آتی لیکن جدہ مکہ موٹر وے پر ہمہ وقت گاڑیوں کا اژدھام رہتا ہے جو ایک دوسرے سے محض بیس بیس فٹ کے فاصلے پر 120 سے 150 کی رفتار پر محو سفر ہوتی ہیں۔

جدہ مکہ موٹر وے

جدہ سے مکہ جانے کے دو راستے ہیں۔ ایک جدہ مکہ موٹر وے اور دوسرا اولڈ مکہ روڈ۔ یہ دونوں راستے ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہوئے مکہ تک پہنچتے ہیں۔ اب سے تقریباً تیس سال پہلے مکہ جانے کا ایک ہی راستہ تھا، لیکن جدید موٹر وے نے ایک اچھا متبادل فراہم کیا ہے جس کی وجہ سے دونوں شہروں میں سفر کا وقت بہت کم ہوگیا ہے۔ اب اولڈ مکہ روڈ کو زیادہ تر بھاری گاڑیاں استعمال کرتی ہیں جبکہ ہلکی گاڑیاں موٹر وے سے مکہ کی طرف سفر کرتی ہیں۔

          شہر کے جنوب مشرقی کونے پر جدہ رنگ روڈ پر شہر کی بندرگاہ اور ساحلی علاقوں سے آنے والی میرین ہائی وے بھی مل جاتی ہے۔ یہ ایلی ویٹڈ (Elevated) ہائی وے ہے جو ایک بیس پچیس کلومیٹر طویل پل پر مشتمل ہے۔ دونوں سڑکوں کے سنگم پر بہت سے کھجور کے درخت لگے ہوئے ہیں۔ ایک کھجور کے درخت کا دیو قامت ماڈل ہے اور اس کے ساتھ ایک مصنوعی قلعہ بھی بنا ہوا ہے۔ ایسے ماڈل قلعے سعودی عرب میں بہت سے مقامات پر سڑکوں کے درمیان بنے ہوئے ہیں۔ اس مقام سے جدہ مکہ موٹر وے شروع ہوتی ہے۔

          یہ روڈ قبلہ رو ہے ۔ دنیا بھی بہت سے دوسرے روڈ بھی قبلہ رو ہوتے ہیں لیکن اس روڈ کی خصوصیت یہ ہے کہ انسان اس پر قبلے کی سمت میں سفر کرتے ہوئے سچ مچ قبلے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ سعادت دنیا میں کسی اور روڈ کو حاصل نہیں ہے۔ طائف، مدینہ اور جیزان سے آنے والے دوسرے راستے ڈائرکٹ مسجد الحرام تک نہیں پہنچتے لیکن یہ روڈ سیدھا حرم تک جاتا ہے۔

          احرام باندھ کر مکہ کی طرف سفر کرنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ اس سفر میں انسان اپنے رب کے دربار میں جارہا ہوتا ہے۔ دنیا میں اپنے محبوب سے ملنے کے لئے انسان کیسا سج سنور کر تیار ہوتا ہے اور کیسے جوش و جذبے کے ساتھ اس کی طرف جاتا ہے۔ یہاں کائنات کے مالک سے ملنے کے لئے جس کی محبت ایک بندہ مومن کا کل اثاثہ ہے، انسان محض دو چادروں میں ملبوس انتہائی سادگی بلکہ فقیری کے عالم میں حاضری دیتا ہے۔ یہ اپنے رب کریم کے حکم کے آگے محبت سے سر جھکا دینے کا نام ہے۔ اس کی لذت وہی جانتے ہیں جو محبت کرنا جانتے ہوں۔ اب سے چار ہزار سال قبل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کے آگے سر جھکاتے ہوئے ایسا ہی ایک سفر کیا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی بیوی ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور ننھے سے اسماعیل علیہ السلام کو اس وادی غیر ذی زرع میں آباد کیا تھا۔ اسی سر جھکانے کی یاد اب دنیا بھر سے لاکھوں افرادآ آ کر تازہ کرتے ہیں۔

          اس سفر کا ترانہ ”لبیک“ ہے۔ "لبيك اللهم لبيك. لا شريك لك لبيك. إن الحمد والنعمة لك والمك. لا شريك لك." ”میں حاضر ہوں ، اے میرے اللہ، میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ بے شک تعریف ،نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لئے ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔“ حج یا عمرہ دراصل حاضر ہونے ہی کا نام ہے۔ میرے پیارے اللہ نے مجھے بلایا اور میں چلا آیا۔ یہی حج ہے۔ یہی عمرہ ہے۔

          جدہ مکہ موٹر وے کے آغاز پر جدہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے ذرا سا آگے ہی ایک وسیع و عریض ریسٹ ایریا تھا۔ اس ریسٹ ایریا میں مسجد، پیٹرول پمپ، سپر مارکیٹ، ریسٹورنٹس ، ورک شاپس اور کئی سہولیات میسر تھیں۔ یہ سب کچھ کافی پرانا بنا ہوا تھا۔ مجھے اپنی موٹر وے کے ریسٹ ایریا یاد آئے جو خوبصورتی اور سروس میں اس ریسٹ ایریا سے بہتر تھے۔

          یہاں سب سے واضح چیز میکڈانلڈ کا سائن بورڈ تھا۔ ہمارے بعض لوگوں کو امریکی ریسٹورنٹس کے نام سے ہی خدا واسطے کا بیر ہے۔ ذرا سا جلوس نکل جائے تو ان پر پتھراؤ شروع کردیتے ہیں اور یہاں تک کہ آگ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے حالانکہ یہ تمام ریسٹورنٹ مسلمانوں ہی کی ملکیت ہیں جو اپنا کاروبار چلانے کے لئے انٹرنیشنل چین سے محض فرنچائز کے طور پر نام استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ غیر مسلموں کی ملکیت بھی ہوں تو کسی بھی انسان، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، کی جان، مال اورآبرو کو نقصان پہنچانا دین اسلام میں جرم عظیم ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اسلام کے نام پر اسلام ہی کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں۔ آگے مکہ جا کر معلوم ہوا کہ حرم کے اطراف میں کے ایف سی، پیزا ہٹ ، ہارڈیز، کوڈو اور دیگر فاسٹ فوڈ کے ریسٹورنٹس نہ صرف موجود ہیں بلکہ بہت اچھا بزنس بھی کرتے ہیں۔

          مجھے اس ریسٹ ایریا کو دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی۔ ابھی سفر شروع ہی نہیں ہوا کہ ریسٹ ایریا آ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ دور دراز سے آنے والے حجاج اور زائرین جدہ ائر پورٹ پر امیگریشن اور دیگر مراحل میں کئی گھنٹے کی خواری برداشت کرنے کے بعد اس ریسٹ ایریا کے مستحق ہیں۔ اس سے تھوڑا سا آگے ایک اور ریسٹ ایریا تھا جہاں ”طازج“ نمایاں تھا۔ یہ ایک عرب فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ہے۔

          طازج سے ذرا سا آگے براؤن رنگ کی پہاڑیاں ہماری منتظر تھیں۔ مجھے پہاڑی سفر ہمیشہ پسند رہا ہے لیکن اس سفر میں فطرت کے حسن کے ساتھ ساتھ عقیدت کا رنگ بھی نمایاں تھا۔ ان پہاڑیوں پر ایک جگہ بورڈ لگا ہوا تھا۔ سیروا و سبحوا اللہ ۔ ”سیر کرو اور اللہ کی تسبیح بیان کرو۔“ میرے خیال میں یہ ایک بندہ مومن کے ہر قسم کے سفر کا مقصد تھا۔ دنیا میں جب بندہ طرح طرح کی بوقلمونیاں دیکھتا ہے تو اس کا ذہن بے اختیار ان کے بنانے والے کی طرف چلا جاتا ہے۔ خدا کی یاد اور اس کی پہچان ہی مومن کے سفر کا مقصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفر میں انسان خود کو فطرت کے زیادہ قریب محسوس کرتا ہے۔

          موٹر وے پر جگہ جگہ عربی میں 120 کے بورڈ نظر آرہے تھے جس کا مطلب ہے کہ اس روڈ پر حد رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ دنیا بھر میں موٹر وے پر 120 کی حد رفتار کا معیار مقرر ہے۔ عرب ممالک میں ہمارے ہاں کی طرح قانون شکنی کی روایت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی تقریباً سبھی لوگ 140 سے 160  کی رفتار پر گاڑی چلا رہے تھے۔ یہ انسان کی شاید فطرت ہے کہ جب اس پر کوئی پابندی لگائی جاتی ہے، تو وہ اس سے تھوڑا سا تجاوز کر ہی جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پابندیاں تھوڑی سی زیادہ لگا دی جاتی ہیں تاکہ فطری تجاوز کرکے بھی انسان حدود ہی میں رہے۔ حد رفتار سے تجاوز کرنا بہرحال ایک اخلاقی جرم ہےکیونکہ انسان نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔

          عرب بھی عجیب ڈرائیور ہوتے ہیں۔ اگر آپ 150 کی رفتار سے تیز رفتار لین پر جارہے ہوں، تب بھی کوئی عرب اچانک 200 کی رفتار سے آئے گا اور آپ کی گاڑی سے چند فٹ کے فاصلے پر لائٹیں جلا بجھا کر آپ کو ہٹنے کے لئے کہے گا۔ آپ کے ہٹنے سے قبل ہی وہ روڈ کے شولڈر کا استعمال کرتے ہوئے آپ کو اوور ٹیک کر جائے گا۔

          پہاڑیوں کے درمیان ”کنگ عبد العزیز میڈیکل سٹی“ کا انٹر چینج نظر آیا۔ یہ میں نے پاکستان والی اصطلاح استعمال کی ہے ورنہ اسے یہاں ”مخرج (Exit)“ کہا جاتا ہے۔ اس سے تھوڑا سا آگے کوئی ٹیلی کمیونیکیشن کی تنصیبات تھیں اور سفید رنگ کے بڑے بڑے ڈش انٹینا نظر آرہے تھے۔ ٹیلی کام کا یہی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں ہم لوگ انڈسٹریل ایج سے انفارمیشن ایج میں داخل ہوئے ہیں۔ایک عام آدمی کو بھی موبائل فون کے ذریعے وہ سہولت میسر ہے جو دور قدیم کے بادشاہوں کو بھی حاصل نہ تھی۔ بے چارے پرانے بادشاہ اہم ترین جنگی معلومات کے لئے بھی اپنے جاسوسوں کے منتظر رہا کرتے تھے جو گھوڑوں پر دنوں کا سفر کرکے معلومات لایا کرتے تھے۔ اب اس سے کہیں کم اہم معلومات، جیسے میچ کی تازہ ترین صورتحال، ہر شخص کو سیکنڈز میں اپنے موبائل پر مل جاتی ہیں۔ خدا جانے کتنے لوگ ہیں جو اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ انفارمیشن ایج کا ایک المیہ یہ ہے کہ معلومات کے انبار میں غور و فکر اور تدبر کرنے کی عادت کم ہوتی جارہی ہے۔

          تھوڑا سا آگے موٹر وے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر سب اپنی رفتار کم کرکے 120 پر لے آئے۔ یہاں کی موٹر وے پولیس بھی ہماری موٹر وے پولیس کی طرح مستعد ہے اور یہ لوگ بلاوجہ کسی کو تنگ نہیں کرتے ۔ اس فورس میں زیادہ تر نوجوان ہی بھرتی کئے گئے تھے البتہ یہ نوجوان پولیس والے اپنی توند کے سائز میں ہماری روایتی پولیس کا مقابلہ کررہے تھے ۔

          ان میں افریقی نسل کے پولیس مین خاصے سمارٹ اور چاک و چوبند نظر آرہے تھے۔ عرب نوجوان بالعموم کافی موٹے تازے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ لوگ کھانے میں پنیر کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ان کے عام نوجوان لڑکے ہمارے گوجرانوالہ اور لاہور کے اسٹینڈرڈ سائز کے پہلوانوں کے برابر ہوتے ہیں۔ ان کے دبلے پتلے لوگوں کو بھی اپنے ہاں کے سیاست دانوں پر قیاس کر لیجئے۔ جدہ میں ہمارے کلب میں کثیر تعداد میں عرب نوجوان آتے ہیں جو الٹی سیدھی ورزشوں کی مدد سے اپنی توند کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر میری طرح ناکام رہتے ہیں۔

          اچانک روڈ کے کنارے گھنا سبزہ آگیا۔ شاید یہ کوئی فارم ہاؤس تھا۔ وسیع و عریض صحرائی ماحول میں یہ سبزہ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔ ہم لوگ ان صحراؤں کو عبور کرنے کے لئے ائر کنڈیشنڈ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ مجھے وہ لوگ یاد آئے جو اپنے رب کی پکار پر حج و عمرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے اونٹ کا تکلیف دہ سفر کرکے یہ صحرا پار کرتے تھے۔ انہیں ایسے نخلستان کیسے لگتے ہوں گے؟

          نخلستان کے بعد براؤن پہاڑیوں کے درمیان سنہرے رنگ کی وادیاں شروع ہوگئیں۔ یہ منظر اتنا دلفریب تھا کہ بے اختیار میری زبان پر یہ حمدیہ گیت جاری ہوگیا ------ تیرے رنگ رنگ، تیرے رنگ رنگ ------ میں جہاں بھی جاؤں دنیا میں تیرے جلوے میرے سنگ سنگ۔ شاید دنیا کا حسن دیکھ کر ہی بعض صوفیا کو وحدت الوجود کا نظریہ ایجاد کرنا پڑا ورنہ قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہر چیز کی تخلیق میں اپنے خالق کی نشانیاں موجود ہیں۔

          سنہری وادیوں میں ریت کے جھکڑ چل رہے تھے۔ جب یہ شدید ہوں تو ان کے جھٹکے چھوٹی موٹی گاڑی کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے عرب کے رہنے والے ان صحرائی راستوں پر کم ازکم 2000 سی سی کی گاڑی میں سفر کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تھوڑا سا آگے ہی بحرہ کا ایگزٹ تھا۔ یہ جدہ اور مکہ کے درمیان ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ روڈ پر جگہ جگہ ہورڈنگز اور بل بورڈ لگے ہوئے تھے۔ چند ایک اشیا کی ایڈورٹائزنگ کے لئے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ سعودی عرب میں یہ چیزیں ابھی تک بے حیائی کی لعنت سے بچی ہوئی ہیں۔ یہ ہورڈنگز پاکستان کی نسبت بڑے سلیقے سے لگائی گئی تھیں اور ان کی تنصیب میں اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ ان سے ڈرائیور کی توجہ سڑک سے نہ ہٹ سکے۔

          بہت سی ہورڈنگز پر سعودی عرب کے نئے شاہ عبد اللہ کی تصاویر لگی ہوئی تھیں جن میں انہیں بادشاہ بننے پر مبارکباد دی گئی تھیں۔ میں سوچنے لگا کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ان ہورڈنگز پر شاہ فہد کی تصاویر ہوتی ہوں گی۔ مجھے وہ واقعہ یاد آیا کہ کوئی بزرگ کسی بادشاہ کے دربار میں گئے تو فرمانے لگے، ”مجھے یہ سرائے پسند نہیں آئی۔“ بادشاہ بے چارہ بہت سٹ پٹایا کہ جناب یہ میرا محل ہے کوئی سرائے نہیں۔ فرمانے لگے، ”سرائے وہ ہوتی ہے جس میں ایک شخص جائے اور دوسرا آئے۔ آپ کے محل میں آپ کے دادا آ کر رہے پھر چلے گئے اور آپ کے والد اس کے مالک بنے۔ وہ بھی گزر گئے اور آپ اس میں رہتے ہیں۔ آپ کے بعد آپ کا بیٹا اس میں رہے گا۔ یہ سرائے نہیں تو اور کیا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا ایک بڑے سائز اور لمبی مدت کی (Long Term) سرائے ہی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس سرائے میں سرائے کی ہی طرح رہتے ہیں اور اپنے اصل گھر کو نہیں بھولتے جو آخرت میں ہمارا منتظر ہے۔

     بحرہ سے تھوڑا سا آگے ہی حرم کی حدود کے آغاز کے سائن بورڈز نظر آنے لگے۔ یہاں سے ایک روڈ نکل کر مکہ کو بائی پاس کرتے ہوئے طائف اور ریاض کی طرف جاتا ہے۔ اس مقام پر ایک چیک پوسٹ بنی ہوئی تھی۔ سعودی پولیس کے بظاہر مستعد نظر آنے والے اہل کار کسی کسی کے کاغذات چیک کر رہے تھے۔ یہ لوگ عموماً فیملی کے ساتھ جانے والے افراد کو چیک نہیں کرتے۔ چیک پوسٹ پر ایک مسجد بھی بنی ہوئی تھی جس کا نام شمیسی مسجد تھا۔ اس مقام کا جدید نام شمیسی اور قدیم نام ”حدیبیہ“ ہے۔ جی ہاں ، یہ وہی مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے  میں عمرہ کے لئے جاتے ہوئے قیام کیا تھا۔ اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

حرم کی حدود

تھوڑا سا آگے چلے تو ایک ہلکے سبز رنگ کی پہاڑی نظر آئی۔ صحرائی علاقے میں ایسے خوبصورت مناظر بکثرت دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سرسبز علاقوں کی سیاحت میں تو ایک ہی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن صحرائی علاقوں کی سیاحت میں فطرت کے بہت سے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بہت ہی خوبصورت بنائی ہے۔ سر سبز کھیت جہاں انسان کو زرعی اشیاء فراہم کرتے ہیں، وہاں لق و دق صحرا تیل ، گیس اور دیگر معدنیات سے معمور ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ فبای اٰلاءربکما تکذبان۔ ”تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔“

          یہاں سے حرم کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سیدنا ابراہیم علیہ الصلوة والسلام نے حرم قرار دیا تھا۔ اخبار مکہ کے مصنف علامہ ازرقی لکھتے ہیں،

”سب سے پہلے حرم کی حدود مقرر کرنے والے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔ سیدنا ابراہیم نے سیدنا جبریل کی ہدایات کے مطابق حرم کی (حدود متعین کرنے والی ) برجیاں نصب کیں۔ پھر ان میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سیدنا تمیم بن اسد خزاعی رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے ان برجیوں کو نئے سرے سے بنایا۔ پھر ان میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی حتی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار قریشیوں کو مقرر فرمایا، جنہوں نے ان کی پھر تجدید کی۔ “ (اخبار مکہ، ازرقی: بحوالہ تاریخ مکہ مطبوعہ دارالسلام: ص 81)

          حرم کی حدود کے آغاز پر ایک گیٹ بنایا گیا ہے جس کے دونوں جانب برجیاں سی بنی ہوئی ہیں۔ یہاں حرم کے آغاز کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اس سے تھوڑا آگے ایک بہت بڑا گیٹ ہے جس کے کے دو بازو روڈ کے دونوں کناروں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے اوپر پتھر کا بنا ہوا قرآن مجید کا بہت بڑا ماڈل ہے۔ حرم کی حدود میں لڑائی جھگڑا، شکار کرنا اور حتی کہ یہاں کی نباتات کو نقصان پہنچانا بھی منع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت سے قبل بھی عرب اس حرمت کا پورا احترام کیا کرتے تھے کیونکہ یہ لوگ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی امت تھے اور آپ کی تعلیمات کم از کم اس معاملے میں پوری طرح زندہ تھیں۔

          حرم کی حدود کے آغاز سے ہی روڈ کے دونوں طرف درختوں کی طویل قطاریں شروع ہوگئیں جو صحرا کے پس منظر میں بہت بھلی معلوم ہو رہی تھیں۔ آگے ایک سرخ رنگ کی وادی تھی۔ روڈ پر دونوں طرف سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر اور استغفر اللہ کے بورڈ نظر آرہے تھے۔ یہ اذکار بندہ مومن کے ہر وقت کے اذکار ہیں۔ خصوصاً سفر میں جب انسان فطرت کے زیادہ قریب ہوتا ہے تو یہ اذکار اسے اپنے پروردگار کی یاد دلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یاد قائم کرنا ہی دین کا اصل مقصود ہے۔ ہمارے ہاں ان اذکار کو جنتر منتر کی شکل دے لی گئی ہے اور ان پر غور کئے بغیر انہیں طوطے کی طرح زبان سے ادا کیا جاتا ہے۔ اگر انسان ان پر غور و فکر کرے تو اپنے پروردگار کی قربت حاصل کرنے کے لئے ان اذکار سے مفید کوئی چیز نہیں۔

          روڈ پر ایک بہت بڑا بورڈ تھا جس پر یہ آیت لکھی ہوئی تھی۔

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ. فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِناً وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً۔ (آل عمران 3:96-97)

” بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی ہدایت کے لئے بنایا گیا، وہ مکہ مبارکہ میں تھا۔ اس میں روشن نشانیاں ہیں اور ابراہیم (کی نماز) کا مقام ہے۔ جو بھی اس میں داخل ہو اسے امان ہے۔ اللہ کے لئے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس گھر کا حج کریں، جو بھی اس کی طرف آنے کی استطاعت رکھتا ہو۔“

Description: File 01

یہ آیت کریمہ، خانہ کعبہ اور مکہ مکرمہ کا بہترین تعارف ہیں۔ بائیں ہاتھ جدہ واپسی والی روڈ کے کنارے ایک بہت بڑا پارک نظر آیا جہاں بچوں کے لئے جھولے وغیرہ لگے ہوئے تھے۔ یہ بہت بڑا پارک ہے۔ یہاں بہت بڑے الفاظ میں ”اسماک دانہ“ لکھا ہوا تھا۔ یہاں کی مچھلی بہت مشہور ہے۔ آپ اپنی پسند کی مچھلی کا انتخاب کیجیے، اس کی رقم ادا کیجیے، اپنی پسند کے اسٹائل میں پکوائیے اور باپردہ ہٹ میں بیٹھ کر تناول فرمائیے۔ اس طرز کے مچھلی ریسٹورنٹ سعودی عرب کی شاہراہوں پر عام ہیں۔

اس پارک کے بعد اچانک ڈھلان شروع ہوگئی ۔ یہ مسلسل ڈھلان تھی جو کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔یوں لگ رہا تھا کہ ہم لوگ مسلسل گہرائی میں جارہے ہوں۔ سامنے نظر پڑی تو "حرمین ٹاورز" کے جڑواں عمارتیں نظر آئیں جو مسجد الحرام کے بالکل ساتھ واقع ہیں۔ روڈ کے کنارے ایک فیروزی رنگ کی پہاڑی نظر آئی اور اس کے بعد مکہ کا تیسرا رنگ روڈ نظر آیا۔ اگر آپ یہاں سے دائیں مڑ جائیں تو سیدھے منیٰ ، مزدلفہ ، عرفات اور پھر ہدا اور طائف کی جانب جا نکلیں گے۔

مکہ میں داخلہ

یہیں پر رابطہ عالم اسلامی کے ہیڈ کوارٹر کا بورڈ تھا۔ جو عرفات کی مخالف سمت میں واقع ہے۔ اس انٹرچینج کے فوراً بعد دائیں جانب ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں کھجور کے درخت بکثرت ہیں۔ پارک سے آگے سگنل تھا۔ یہ جدہ مکہ موٹر وے کا اختتام تھا۔ اس سے آگے اس روڈ کو ”طریق ام القریٰ“ کہتے ہیں اور یہ سیدھی مسجد الحرام پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ اس چوک کو ہم لوگ ”صراحی چوک“ کہتے ہیں۔ یہاں صراحی اور مٹکے کے بہت بڑے بڑے ماڈل نصب ہیں۔ قدیم عرب کے صحرائی ماحول میں ٹھنڈا پانی ایک بہت بڑی نعمت تھی جس کے لئے مٹی کے ان برتنوں کی اہمیت غیر معمولی تھی۔ تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی جگہ کولر اور فریج نے لے لی ہے۔

          صراحی چوک کے ساتھ ”البیک “ تھا۔ یہاں سے روڈ کے دونوں طرف دکانوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ درمیان میں شارع منصور ، طریق ام القریٰ کو قطع کرتی ہے، جس پر ایک اوور ہیڈ برج بنا ہوا ہے۔ عربی میں اوور ہیڈ برج کو "کوبری" کہتے ہیں۔ حرم کے قریب جاکر ایک اور اوور ہیڈ برج آتا ہے۔ اس برج کے اوپر ایک دوراہا ہے۔ اگر آپ دائیں طرف والی روڈ اختیار کریں تو آپ حرم کے بالکل سامنے والے بس اسٹینڈ پر جا پہنچیں گے۔ اگر آپ بائیں طرف والا روڈ اختیار کریں تو یہ آپ کو حرم کے نیچے ایک سرنگ میں لے جائے گا۔ اس سرنگ میں بھی دو بس اسٹاپ ہیں، جہاں سے الیکٹرانک اور سادہ سیڑھیاں چڑھ کر حرم کے اوپر آرہی ہیں۔ دونوں صورتوں میں آپ حرم کے ملک فہد گیٹ یا ملک عبدالعزیز گیٹ کے سامنے آ نکلتے ہیں۔

          میں نے سرنگ والا راستہ اختیار کیا اور اپنی فیملی کو سیڑھیوں کے پاس اتارا اور ان سے حرم کے اندر ملنے کی جگہ کا تعین کیا۔ اس کے بعد میں پارکنگ کی تلاش میں جانکلا۔ مکہ میں بالخصوص حرم کے قریب پارکنگ تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سرنگ سے نکلتے ہی دائیں ہاتھ ایک پارکنگ پلازہ ہے جو پارکنگ کی عدم دستیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیس ریال (تقریباً چار سو اسی روپے ) فی گھنٹہ چارج کرتا ہے۔ یہاں بھی پارکنگ دستیاب نہ تھی۔

Description: File 01

          مکہ کی پولیس روڈ پر پارک کی جانے والی گاڑیاں اٹھانے میں بہت مستعد واقع ہوئی ہے۔ پولیس کو ایسا ہی کرنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ پارکنگ کا معقول انتظام بھی ہونا چاہیے۔ مکہ کے برعکس مدینہ میں پارکنگ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کافی دور جاکر ایک گلی میں مجھے پارکنگ ملی۔ یہاں ہر گھر کے دروازے پر انڈیا کا جھنڈا نظر آ رہاتھا۔ اس گلی کے تمام گھر انڈین حج مشن نے کرائے پر لئے ہوئے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے حج مشن کے مقابلے پر انڈین حج مشن زیادہ منظم طریقے سے کام کرتا ہے اور عازمین حج کو تمام سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انڈین حکومت عازمین حج کے لئے خصوصی سبسڈی دیتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو حج کافی سستا پڑتا ہے۔ ایک غیر مسلم حکومت کی طرف سے حاجیوں کو اتنی سپورٹ اور ہماری مسلمان حکومت حجاج کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟

          میں نے گاڑی پارک کرنے کے بعد قریب کھڑے ایک پولیس والے سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ ان صاحب نے بیزاری سے ”ما فی مشکل (کوئی مسئلہ نہیں)“کے الفاظ کہہ کر جان چھڑائی۔ عرب میں آپ کو یہ الفاظ اکثر سننے میں ملتے ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد میں پندرہ منٹ کا پیدل فاصلہ طے کرکے واپس حرم پہنچا۔ اس مسئلے کا ایک متبادل حل یہ ہے کہ آپ حرم سے کافی فاصلے پر ”کُدَی پارکنگ“ میں گاڑی کھڑی کرکے وہاں سے کسی ٹیکسی وغیرہ کے ذریعے حرم پہنچ سکتے ہیں۔ اگر آپ نے طویل وقت کے لئے حرم میں رکنا ہو تو یہ نسبتاً آسان حل ہے۔

مسجد الحرام

میں نے جب حرم پر پہلی نظر ڈالی تو سامنے ایک دلفریب منظر تھا۔ سامنے مسجد کا وسیع و عریض صحن تھا۔ مسجد الحرام کے باہر چاروں طرف صحن ہے جو سروس ایریا کا کام کرتا ہے۔ یہ اصطلاحی مفہوم میں مسجد کا حصہ نہیں۔ یہ سفید ماربل کا بنا ہوا ہے اور رات میں بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے البتہ دن میں اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ جب بھی دن میں حرم جائیں تو اپنے ساتھ سن گلاسز ضرور رکھیں۔

          صحن میں زیر زمین مردوں اور خواتین کے الگ الگ طہارت خانے تھے۔ ہر طہارت خانے میں فلش کے ساتھ ساتھ ایک شاور بھی لگا ہوتا ہے تاکہ گرمی کا مارا کوئی زائر اگر غسل بھی کرنا چاہے تو اسے اس کی سہولت میسر ہوا البتہ یہاں گرمیوں میں تیز گرم اور سردیوں میں شدید ٹھنڈا پانی دستیاب ہوتا ہے۔ صحن میں لاکر رومز بھی ہیں جہاں آپ اپنی قیمتی اشیا رکھ کر جاسکتے ہیں۔ اس صحن کے ساتھ ہی کئی فائیو سٹار ہوٹل تھے جن کے گراؤنڈ فلور پر بڑی بڑی مارکیٹیں تھیں۔ یہاں چھوٹے موٹے ہوٹلوں سے لے کر بڑے بڑے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس موجود تھے۔

          میرے سامنے حرم کا "ملک فہد گیٹ" تھا جسے عربی میں "باب الملک فہد" کہتے ہیں۔ یہ دروازہ حرم کی جدید ترین توسیع میں بنایا گیا ہے جو کہ 1988 میں کی گئی تھی۔ مسجد الحرام کے5 بڑے اور 54 چھوٹے دروازے ہیں ۔ بڑے دروازوں کے نام باب فہد، باب عبد العزیز، باب صفا، باب فتح اور باب عمرہ ہیں۔ ان میں سے ہر دروازے کے ساتھ دو مینار ہیں جبکہ باب صفا کے ساتھ ایک مینار ہے۔ اس طرح مسجد الحرام کے کل میناروں کی تعداد نو ہے۔

Description: File 02

          میرا مشورہ ہے کہ نئے عازمین اپنی سہولت کے مطابق ان میں سے کسی بڑے گیٹ ہی سے داخل ہوں۔ گیٹ میں داخل ہوتے ہیں دائیں اور بائیں سیڑھیاں اور لفٹیں موجود ہیں جو آپ کو فرسٹ اور سیکنڈ فلور تک لے جا سکتی ہیں۔ اگر فیملی ساتھ ہو تو میں عام دنوں میں فرسٹ فلور کو ترجیح دیتا ہوں کیونکہ یہاں اس طرح کا رش نہیں ہوتا جیسا گراؤنڈ فلور پر موجود ہوتا ہے۔ رمضان اور حج کے دنو ں میں سیکنڈ فلور بھی کھل جاتا ہے جو دراصل مسجد کی چھت ہے۔

          باب صفا (اور اب باب عبدالعزیز) کے ساتھ ہی وہیل چیئرز کا کاؤنٹر موجود ہے جہاں اقامہ یا پاسپورٹ دکھا کر آپ بلامعاوضہ وہیل چیئر لے سکتے ہیں۔ اگر آپ کے ساتھ کوئی بزرگ ، معذور یا چھوٹے بچے ہوں تو میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ وہیل چیئر لازماً لے لیں کیونکہ عمرہ میں تقریباً 8 سے 10 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا ہوتا ہے جو کسی بھی ضعیف شخص کے لئے خاصامشکل ہے۔ خواتین کے لئے بچوں کو اٹھا کر یہ فاصلہ طے کرنا بھی خاصا مشکل ہے۔ باب صفا کے قریب فرسٹ فلور پر آٹومیٹک وہیل چیئرز بھی دستیاب ہیں جو تیس ریال کے عوض کرائے پر لی جاسکتی ہیں۔ انہیں خود ہی چلایا جاسکتا ہے ۔ یہ ان لوگوں کے لئے مفید ہیں جو ضعیف ہوں اور ان کے ساتھ کوئی نوجوان بھی نہ ہو۔ بڑے دروازوں میں سیڑھیوں کے ساتھ وہیل چیئر کے راستے بھی موجود ہیں۔

          مسجد میں جگہ جگہ آب زمزم کے کولر رکھے ہوتے ہیں۔ ان کولرز کے ساتھ ہی ڈسپوزیبل گلاس بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ مسجد کا حسن انتظام ہے کہ ان کولرز میں کبھی پانی اور گلاس کو کبھی ختم نہیں ہونے دیا جاتا۔ اگر آپ مسجد میں کافی وقت گزارنا چاہتے ہیں تو جاتے ہی آب زمزم نہ پئیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی زیادہ پینے سے رفع حاجت کی خواہش زیادہ ہوتی ہے اور مسجد سے لے کر طہارت خانے تک جانے اور آنے کا فاصلہ تقریباً ایک کلومیٹر ہے۔ زیادہ پانی پینے کی بدولت آپ کو بار بار طواف اور سعی چھوڑ کر طہارت خانے کے چکر لگانے پڑیں گے۔ عمرہ اور دیگر عبادات سے فارغ ہو کر آپ واپسی سے پہلے دل کھول کر آب زمزم پینے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں۔

          مسجد میں جوتوں کو ٹھکانے لگانا بھی ایک مسئلہ ہے۔ مسجد میں جگہ جگہ جوتوں کے ڈبے ہیں جن پر نمبر لکھے ہوئے ہیں۔ جب میں پہلی مرتبہ حرم گیا تو 100 نمبر ڈبے میں اپنے جوتے رکھ کر آگے چلا گیا۔ میں خوش تھا کہ نمبر بہت آسان ہے۔ واپسی پر میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا کیونکہ 100 نمبر ڈبہ کہیں نظر نہ آرہا تھا۔ اس ضمن میں یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ڈبے نمبر کے ساتھ ساتھ اس دروازے کا نمبر یا نام بھی یاد رکھیں جس کے راستے پر وہ ڈبہ پڑا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ایک مسئلہ اور درپیش ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے جوتا جہاں رکھ دیا ہے اب واپسی کے لئے بھی وہی راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اگر آپ فیملی کے ساتھ آئے ہیں تو آسان حل یہ ہے کہ تمام جوتے ایک لفافے میں ڈال کر اسے ساتھ ہی رکھ لیں اور کعبہ کے قریب ترین کسی ڈبے میں یہ لفافہ ڈال کر اس کا نمبر یاد کرلیں۔ اس طریقے سے آپ آسانی سے جس راستے سے چاہیں واپس جا سکیں گے۔

کعبۃ اللہ

مسجد الحرام کا مرکز کعبہ ہے۔ اس مسجد کا لے اؤٹ دنیا کی دوسری تمام مساجد سے مختلف ہے۔ تمام مساجد عموماً مربع یا مستطیل شکل کی بنائی جاتی ہیں اور ان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مسجد الحرام چونکہ کعبہ کے گرد تعمیر کی گئی ہے، اس لئے اس کی شکل تقریباً بیضوی ہے۔ اس مسجد میں صفیں بھی دائرے کی شکل میں بنتی ہیں۔ ظاہر ہے ان کا رخ کعبہ کی طرف ہوتا ہے۔

          کعبہ اور مسجد کی عمارت کے درمیان کھلا میدان ہے جسے "مطاف" کہتے ہیں۔ یہاں حجاج اور دیگر زائرین کعبہ کے طواف کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ مطاف بالکل گول شکل کا نہیں ہے بلکہ تقریبا بیضوی شکل کا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد الحرام کی توسیع شمال و جنوب کی طرف زیادہ کی گئی ہے جبکہ مشرق اور مغرب کی طرف اس کی زیادہ توسیع نہیں کی گئی جس کی وجہ سے مسجد بیضوی شکل اختیار کر گئی ہے۔

          اگر مطاف میں جگہ نہ ہو تو طواف فرسٹ یا سیکنڈ فلور پر بھی کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں پر پھیرا خاصا طویل ہوجاتا ہے۔ مطاف میں طواف کرتے ہوئے سات پھیرے لینے کے لئے تقریباً ایک سے دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے لیکن یہی فاصلہ مسجد کے اوپر والے فلورز پر اندازاً سات کلومیٹر ہو جاتا ہے۔

مطاف

Description: 354461

مشہور تاریخی روایات کے مطابق کعبہ کی تعمیر متعدد مرتبہ کی گئی۔ اس کی پہلی تعمیر فرشتوں نے کی جو مرور زمانہ کے ساتھ ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سیدنا ابراہیم علیہ الصلوة والسلام نے اسی جگہ پر اس کی دوبارہ تعمیر سیدنا اسماعیل علیہ الصلوة واالسلام کی مدد سے کی۔ اس موقع پر کعبہ سادہ پتھروں کی عمارت تھی جو بغیر سیمنٹ وغیرہ کے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ اس کی تیسری تعمیر قریش نے کی جو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہونے کے ناتے اس کے متولی تھے۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے اعلان نبوت سے تقریباً پانچ سال قبل بھی کعبہ کی تعمیر کی گئی تھی۔ اس موقع پر مختلف عرب قبائل نے اس میں حصہ لیا۔ ہر قبیلے کے یہ خواہش تھی کہ حجر اسود نصب کرنے کی سعادت اسے حاصل ہو۔ نوبت کشت و خون تک جا پہنچی۔ بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ اگلی صبح جو شخص کعبہ میں داخل ہو گا، اس کا فیصلہ قبول ہوگا۔ اگلے دن تمام قبائل کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ کعبہ میں سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ و الہ وسلم) ہیں۔ سب ہی لوگ آپ کی صداقت، امانت اور دیانت دارانہ فیصلوں کے قائل تھے۔ آپ نے اس قضیے کا فیصلہ یہ فرمایا کہ اپنی چادر بچھا کر اس پر حجر اسود رکھ دیا اور تمام قبائل کے نمائندوں کو اس کے کنارے پکڑا دیے۔ انہوں نے چادر اٹھائی اور آپ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود نصب فرما دیا۔ اس طرح سب لوگ مطمئن ہوگئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعلان نبوت سے قبل حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو عرب معاشرے میں کیا مقام حاصل تھا۔

          قریش کی تعمیر میں کچھ رقم کم پڑ گئی تھی کیونکہ انہوں نے اس کا اہتمام کیا تھا کہ صرف حلال کمائی ہی کعبہ کی تعمیر میں استعمال ہوگی۔ اس وجہ سے کعبہ کی تعمیر مکمل ابراہیمی بنیادوں پر نہ ہوسکی۔ اس کا کچھ حصہ باہر رہ گیا جس کے گرد دیوار بنا دی گئی۔ یہ دیوار حطیم کہلاتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی یہ خواہش تھی کہ آپ اسے دوبارہ ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر فرمائیں ۔

          صحیحین کی روایت کے مطابق آپ نے فتح مکہ کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور یہ بھی فرمایا کہ ، ”ابھی تمہاری قوم کے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں۔ اگر ان کے مرتد ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ایسا کر گزرتا۔“ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے زمانے میں شامی افواج کی سنگ باری سے کعبہ کی چھت جل گئی تھی۔ آپ نے اس کی تعمیر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی خواہش کے مطابق ابراہیمی بنیادوں پر کی۔

          آپ کی شہادت کے بعد عبد الملک بن مروان نے آپ کے کئے ہوئے اضافوں کو گرا کر اس کی صورت قریش کی تعمیر کی طرح کردی۔ بعد میں جب اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث معلوم ہوئی تو اسے اس کا افسوس ہوا لیکن اس نے عمارت کو ایسے ہی رہنے دیا۔ ولید بن عبد الملک کے دور میں اس کے حکم پر کعبہ کے دروازے، پرنالے اور اندرونی ستونوں پر سونے کا کام کیا گیا۔ بعد میں کئی بادشاہوں نے کعبہ کی تعمیر کی خواہش کا اظہار کیا لیکن علماءنے اس کی سختی سے مخالفت کی کیونکہ اس صورت میں یہ ایک کھیل بن جاتا اور جس کا جی چاہتا ، کعبہ کو گرا کر اس کی تعمیر کرتا رہتا۔

          کعبہ کی عمارت چونکہ مکعب نما (Cubical) ہے ، اس لئے اسے کعبہ کہا جاتا ہے۔ اس کے چار کونے ہیں۔ ایک تو حجر اسود والا کونا ہے۔ باقی کونوں کو رکن یمانی، رکن شامی اور رکن عراقی کہتے ہیں کیونکہ ان کا رخ بالترتیب یمن، شام اور عراق کی طرف ہے۔ ہم لوگ جب پاکستان میں نماز پڑھتے ہیں تو ہمارا رخ تقریباً حجر اسود کی طرف ہوتا ہے۔ کعبہ کا طواف اس کی عمارت کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے خلاف گھڑی وار (Anti Clock Wise) سمت میں ہوتا ہے۔ اس کے ہر پھیرے کا آغاز اور اختتام حجر اسود والے کونے سے ہوتا ہے۔ طواف کرنے والوں کے لئے سنت ہے کہ وہ ہر پھیرے میں حجر اسود کا بوسہ لیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تودور سے اس کی طرف اشارہ کر لیں۔ یہ اشارہ بوسے کے قائم مقام ہوتا ہے۔

          جب میں پہلی بار حرم کی زیارت سے فیض یاب ہوا تو میں باب فہد سے داخل ہوا تھا، اس لئے میرے سامنے رکن یمانی تھا۔ کچھ نہ پوچھئے کہ کعبہ کی پہلی زیارت کا کیا لطف تھا۔ اس لطف کی کیفیت کا عالم وہی جان سکتے ہیں جنہیں یہ زیارت حقیقتاً نصیب ہوئی ہو۔ ہمارے ہاں یہ روایت مشہور ہے کہ پہلی نظر کے وقت جو بھی دعا مانگی جائے گی وہ مقبول ہوگی۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ لوگوں نے محض اپنی خوش فہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے منسوب کر دیا ہے۔کعبہ کی حاضری اصل میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری ہے۔ اس پوری حاضری میں جب بھی اور جہاں بھی کوئی دعا مانگی جائے گی، اللہ تعالیٰ اسے اپنی مشیت اور اپنے قانون کے مطابق قبول فرمائے گا۔

          میں طواف کرنے والوں میں شامل ہوئے بغیر گھوم کر حجر اسود کے سامنے آگیا۔ ان دنوں صفر کا مہینہ تھا اور ابھی عمرہ کا سیزن شروع نہیں ہوا تھا، اس لئے زیادہ رش نہیں تھا لیکن یہ کم رش بھی بلامبالغہ سینکڑوں افراد پر مشتمل تھا اس لئے حجر اسود کو بوسہ دینے کا کوئی موقع نہ تھا۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر حجر اسود کی طرف اشارہ کیا۔ یہ اس کے بوسے ہی کی ایک شکل تھی۔

          انسان کی یہ خواہش ہے کہ جب وہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہو تو اس کا رب مجسم صورت میں اس کے سامنے موجود ہو۔ وہ اس کے قدموں سے لپٹے، اس کے ہاتھوں کو چومے، اس کے آگے سر بسجود ہو۔ اسی خواہش کے پیش نظر لوگوں نے اپنے معبودوں کے بت بنائے۔ اصل خدا کو ہم مجسم صورت میں اس دنیا میں نہیں دیکھ سکتے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی زیارت مقرر کر دی جہاں انسان لپٹ کر اپنے رب کے سامنے فریاد کر سکتا ہے۔ اس کے آگے گڑگڑا سکتا ہے۔ حجر اسود کے بوسے کو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ چومنے کے قائم مقام قرار دیا گیا۔ ظاہر ہے، لاکھوں لوگوں کے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ وہ اسے باقاعدہ بوسہ دیں، اس لئے ہاتھ سے اشارے کو بوسے کا قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔ بعض لوگ اشارہ کرکے اپنے ہاتھ کو چوم رہے تھے، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ سنت یہی مقرر کی گئی ہے کہ ہاتھ سے صرف اشارہ کیا جائے۔

Description: File 08

 

Description: File 09

          اگر طواف کرتے ہوئے کعبہ کے قریب رہا جائے تو کم چلنا پڑتا ہے لیکن یہاں رش زیادہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے رک رک کر چلنے کی صورت میں وقت اتنا ہی لگتا ہے جتنا دور سے لمبا چکر لیتے ہوئے لگتا ہے۔میں نے حجر اسود سے طواف کا آغاز کیا۔ حجر اسود والے کونے کے ساتھ ہی کعبہ کا دروازہ ہے۔ کونے اور دروازے کی درمیانی جگہ کو ملتزم کہتے ہیں۔ یہاں لوگ لپٹ کر کھڑے تھے اور اپنے پروردگار کے سامنے زاروقطار رو رہے تھے۔ کعبہ کا دروازہ زمین سے چھ فٹ سے زائد بلند ہے۔ سیاہ غلاف میں سنہرے رنگ کا دروازہ انتہائی دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔

          کعبہ کے اسی طرف سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے منسوب پتھر ہے۔ اسے شیشے کے ایک کیس میں رکھا گیا ہے۔ میں نے قریب ہو کر اس پتھر کو دیکھا، اس پر آپ کے قدموں کے نشانات بنے ہوئے تھے۔ اب میں گھوم کر حطیم کی طرف آگیا۔ یہ ایک بریکٹ کی شکل کی دیوار ہے جو کعبہ کی شمال مغربی سمت میں بنائی گئی ہے۔ اس کے اندر کا حصہ کعبہ میں داخل ہے۔ یہاں لوگ نوافل پڑھ رہے تھے۔ بعض لوگ طواف میں حطیم کے اندر سے گزر جاتے ہیں، یہ درست نہیں کیونکہ طواف پورے کعبہ کے گرد ہونا چاہیے۔ رکن شامی اور رکن عراقی کے سامنے سے گھومتا ہوا میں رکن یمانی تک آ گیا اور پھر تھوڑی دیرمیں دوبارہ حجر اسود تک پہنچ گیا۔ یہاں پر پھر ہاتھ اٹھا کر بوسے کا اشارہ کیا اور دوسرا پھیرا شروع کر دیا۔ میری زبان پر لبیک کا ترانہ جاری تھا اور دل میں اپنے رب کے حضور حاضری کی سی کیفیت تھی۔ یہی کیفیت قائم رکھنا حج اور عمرے کی اصل روح ہے۔

طواف

طواف کے چکر دراصل قربانی کے پھیرے ہیں۔ انسان اپنے رب کے حضور خود کو قربانی کے لئے پیش کرتا ہے۔ یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد ہے۔ رب کا بندہ پروانے کی طرح گھومتا ہوا اپنے رب کے حضور قربان ہونا چاہتا ہے۔ اگر خالصتاً مادہ پرستانہ نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ نقصان کا سودا نہیں، اپنی جان کو اپنے رب کے حضور پیش کرکے انسان وہ کچھ حاصل کر لیتا ہے جس کی قیمت یہ پوری دنیا مل کر بھی ادا نہیں کر سکتی۔

ہجوم کی وجہ سے میرے لئے اپنی نارمل رفتار پر چلنا دشوار ہو رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ دائرے کے باہر کی طرف حرکت کرنے لگا۔ اب کھلی جگہ میسر تھی۔ میرے چلنے میں ایک ردہم پیدا ہونے لگا۔ میں سوچنے لگا کہ دنیا میں دائروی حرکت (Circular Movement) کو ایک عجیب اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کائنات بنائی ہے، اس میں عظیم الجثہ سیاروں اور ستاروں سے لیکر ایک چھوٹے سے الیکٹران تک ہر چیز کسی مرکز کے گرد گردش کر رہی ہے۔ اپنے رب کے آگے سر بسجود کائنات کے آگے مجھے اپنی حیثیت ایک الیکٹران کی سی معلوم ہوئی جو اپنے مرکز (Nucleus) کے گرد گردش کر رہا تھا۔ کعبہ کی موجودگی تو ایک علامتی شکل تھی، دراصل یہ طواف تو اپنے رب کے لئے تھا۔ انسان اپنے رب کو اپنی زندگی کا محور و مرکز مان کر اسی کے گرد گردش کرتا رہے، یہی طواف کا سبق تھا۔ یہاں سے جانے کے بعد بھی اگر اپنا اللہ ہی انسان کے فکر و عمل کا مرکز بنا رہے تو اس نے اس طواف کا حق ادا کردیا ۔

          سات پھیرے کب مکمل ہوئے، اس کا پتہ ہی نہ چلا۔ مطاف میں طواف کرنے والوں کے لئے خاصی جگہ چھوڑ کر پیچھے صفیں بندھی ہوئی تھیں۔ کارپٹ بچھے ہوئے تھے اور لوگ کعبہ کی جانب منہ کئے نماز، اذکار، تلاوت اور دعاؤں میں مشغول تھے۔ ساتواں پھیرا مکمل کرنے کے بعد میں نے ان صفوں میں آ کر دو نفل ادا کئے۔ اگر حجر اسود کی سیدھ میں آپ پیچھے ہٹتے جائیں تو سیدھے صفا کی طرف پہنچ جائیں گے۔ چونکہ مطاف مسجد کی عمارت کی نسبت نشیب میں واقع ہے، اس لئے یہاں سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ میں نے اپنی فیملی سے ملنے کے لئے یہی جگہ طے کی تھی۔ جب وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ سب ہی فیملیوں کا میٹنگ پوائنٹ ہے۔ تھوڑی دیر میں ہم اکٹھے ہوگئے۔ اب صفا و مروہ کی سعی کی باری تھی۔

صفا و مروہ

ہم لوگ حجر اسود کی سیدھ میں چلتے ہوئے صفا تک آئے۔ صفا ایک پہاڑی ہے جس کی عظیم تاریخی و شرعی اہمیت ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دور میں یہ اہل مکہ کے لئے اہم اعلان کرنے کے لئے ادا ہوتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بھی اپنی پہلی عام دعوت یہیں دی تھی۔ آپ نے لوگوں کو یہاں اکٹھا کرکے ان سے پوچھا ، ”اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ پہاڑی کے دوسری طرف ایک فوج آرہی ہے تو کیا تم اس بات پر یقین کر لو گے۔ “لوگوں نے بالاتفاق کہا ، ”بالکل ،کیونکہ آپ جھوٹ نہیں بولتے۔“ اس اعتماد کے بعد آپ نے انہیں اپنی رسالت کی طرف دعوت دی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعوت دین کا کام کرنے والے کا اپنا کردار اعلیٰ اخلاقی صفات کا حامل ہونا چاہیے۔ اب صفا کے صرف چند پتھر ہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں کچھ میٹریل لگا کر محفوظ کر دیا گیا ہے۔

          بہت سے لوگ صفا کے پتھروں پر بیٹھے تھے۔ صفا کے پہلے فلور کی چھت پر بڑا سا ایک گول سوراخ ہے۔ اس کے اوپر دوسرے فلور پر ایک گنبد ہے۔ یہاں دائروی شکل میں یہ آیت لکھی ہوئی تھی۔

 انّ الصفا و المروة من شعائر اللہ۔ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔ ومن تطوع خیرا فان اللہ شاکر علیم۔ (البقرہ 2:158) ۔ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو کوئی حج یا عمرہ کرے، اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے۔ اور جو اپنی طرف سے نیکی میں زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ شاکر و علیم ہے۔“ مشرکین عرب نے کعبہ کی طرح یہاں بھی بت آویزاں کررکھے تھے، اس لئے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ خیال گزرا کہ شاید یہ سعی کوئی جاہلیت کی رسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ واضح فرما دیا کہ یہ سعی جاہلیت کی رسم نہیں بلکہ اللہ کی نشانی اور سنت ابراہیمی ہے۔

          میری بیٹی ماریہ اس وقت ڈیڑھ سال کی تھی۔ چھوٹے بچے کو اٹھا کر طواف اور سعی خاصا مشکل کام ہے۔ بہت سے لوگوں نے تو اس کا حل یہ نکالا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بیلٹ کی مدد سے پشت پر باندھ لیتے ہیں۔ بعض لوگ اس مقصد کے لئے وہیل چیئر کا استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں فوری طور پر یہی حل سوجھا کہ سعی کرنے کے لئے دو پارٹیاں بنائی جائیں چنانچہ میری اہلیہ اسماءاور ماریہ کو لے کر صفا کے پاس بیٹھ گئیں اور میں فاطمہ کو لے کر سعی کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہیل چیئر والا حل زیادہ مناسب ہے۔

صفا و مروہ کی سعی

Description: safa_merve

          سعی کی حقیقت بھی طواف ہی کی طرح ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کے لئے قربانی کے چکر ہیں۔ صفا و مروہ کے درمیان اب ایک ائر کنڈیشنڈ گیلری بنا دی گئی ہے جو تقریباً پون کلومیٹر طویل ہے۔ یہ دو منزلہ گیلری ہے اور اس میں سے بہت سے دروازے باہر اور مسجد الحرام کی طرف کھلتے ہیں۔ فرش اور دیواروں پر اعلیٰ درجے کے سبز و سفید ماربل کا استعمال کیا گیا ہے اور بہت خوبصورت فانوس چھت سے لٹک رہے ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ اب تو یہ حالت ہے، اس وقت کیا عالم ہوگا جب گرمی میں سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے یہاں پھیرے لئے ہوں گے۔

          تقریباً پانچ چھ منٹ میں ہم مروہ پر پہنچ گئے۔ صفا کے برعکس یہاں اب پہاڑی کی کوئی نشانی موجود نہیں۔ صرف فرش تھوڑا سا اوپر اٹھتا ہے۔ مروہ پر پہنچ کر ایک پھیرا مکمل ہو جاتا ہے۔ امام حمید الدین فراہی کی تحقیق کے مطابق مروہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربان گاہ ہے۔ جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:

”سعی اسماعیل علیہ السلام کی قربان گاہ کا طواف ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر اس قربان گاہ کو دیکھا تھا اور پھر حکم کی تعمیل کے لئے ذرا تیزی سے چلتے ہوئے مروہ کی طرف گئے تھے۔ بائیبل میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے:

’تیسرے دن ابراہیم نے نگاہ کی اور اس جگہ کو دور سے دیکھا۔ تب ابراہیم نے اپنے جوانوں سے کہا: تم یہیں گدھے کے پاس ٹھیرو۔ میں اور یہ لڑکا، دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سجدہ کرکے تمہارے پاس لوٹ آئیں گے۔ (پیدائش 22:4-5

چنانچہ صفا و مروہ کا یہ طواف بھی نذر کے پھیرے ہی ہیں جو پہلے معبد کے سامنے اور اس کے بعد قربانی کی جگہ پر لگائے جاتے ہیں۔“ (قانون عبادات)

          اس قربانی کے بارے میں دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ منی میں ہوئی تھی۔ یہاں پر دعا کرنے کے بعد ہم نے صفا کی طرف رخ کرکے دوسرا پھیرا شروع کیا۔ دوران سعی سبز نشانوں کے درمیان لوگ تیز چل رہے تھے بلکہ دوڑ رہے تھے۔ اس مقام پر حضور نے اپنی رفتار تیز کی تھی۔ صفا پر پہنچ کر اب میں اور فاطمہ بیٹھ گئے۔ میں نے ماریہ کو اٹھا لیا اور میری اہلیہ اسماء کو لے کر سعی کے لئے نکل کھڑی ہوئیں۔

          جب یہ لوگ دو پھیرے مکمل کرکے واپس پہنچے تو میں نے سوچا کہ اوپر والے فلور پر رش کم ہوگا اور نسبتاً آسانی سے سعی ہو جائے گی۔ چنانچہ ہم لوگ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر والے فلور پر چلے گئے۔ یہاں واقعی رش بہت کم تھا، چنانچہ بڑے اطمینان سے سعی مکمل ہوگئی۔ اس کے بعد ہم نے یہ معمول بنا لیا کہ ہم ایک وہیل چیئر لے لیتے اور جو بھی تھک جاتا وہ اس پر ماریہ کو لے کر بیٹھ جاتا اور باقی افراد پیدل چلتے رہتے۔

          مجھے خیال آیا کہ اگر حکومت یہاں پر متحرک بیلٹ لگا دے تو بہت سے لوگوں کو آسانی ہو جائے کیونکہ وہیل چیئر لگنے سے کئی لوگوں کے پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح طواف کرنے کے لئے پہلے یا دوسرے فلور پر ایک بڑی سی متحرک بیلٹ لگا دی جائے جس پر معذور افراد کو وہیل چیئر سمیت کھڑا کردیا جائے۔ بس اسٹاپ اور باتھ رومز سے لے کر ان بیلٹس تک مزید بیلٹیں بھی لگا دینی چاہیئیں۔ شاید مستقبل میں کسی وقت حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد کر ڈالے۔

          صفا سے شروع ہونے والی سعی کے ساتویں پھیرے کا اختتام مروہ پر ہوتا ہے۔ اس پر عمرہ ختم ہو جاتا ہے اور احرام کھولنے کی اجازت ہوتی ہے۔ احرام کھولنے کے لئے سر منڈوانا یا بال کٹوانا ضروری ہے۔ دور قدیم میں جب کسی کو اپنی غلامی میں لیا جاتا تو اس کے بال منڈوا یا کٹوا دیے جاتے تھے۔ عمرہ کے اختتام پر یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ بندے نے اپنے آپ کو اپنے رب کی غلامی میں مکمل طور پر دیا ہوا ہے۔

حلق یا قصر

مروہ کے دونوں فلورز پر ایک بڑا دروازہ ہے جس کے باہر بہت سے ہیئر کٹنگ سیلون ہیں۔ برادر مکرم ریحان احمد یوسفی کے بقول اگر آپ نے زیادہ پیسے دے کر خراب بال کٹوانے ہوں تو یہاں سے کٹوائیے۔ اس سلسلے میں میری تحقیقات یہ ہیں کہ اگر آپ کا ارادہ سر منڈوانے کا ہو تو آپ یہاں ذوق فرما سکتے ہیں۔ ہاں اگر آپ بال کٹوانے کا ارادہ رکھتے ہوں تو پھر حرم سے دور کسی حجام کا رخ کیجئے۔ زیادہ بہتر ہے کہ کسی پاکستانی یا انڈین سیلون سے بال کٹوائیں ورنہ عرب نائی آپ کے ہیئر اسٹائل کو نہ سمجھنے کے باعث اس کا بیڑا غرق کر سکتا ہے۔ ہاں اگر آپ فوجی بھائیوں کی طرح پیالہ کٹ بال رکھتے ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں۔

          مجھے فن حجامت سے کوئی شغف نہیں۔ ایک حجام بھائی سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق سر مونڈنا اس فن کی مبادیات میں سے ہے اور یہ کام اس فن کے سیکھنے والے اپنے ابتدائی ایام میں سیکھ لیتے ہیں۔ چونکہ حرم کے قریب دکانیں اپنی کمرشل اہمیت کی بنا پر بہت مہنگی ہیں، اس لئے سیلونز کے مالک اپنی کاروباری لاگت کم کرنے کے لئے اناڑیوں کو بھرتی کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ مشین کی مدد سے سر مونڈنا تو با آسانی سیکھ جاتے ہیں لیکن بال کاٹنے کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتے چنانچہ یہ آپ کے بالوں کا وہی حال کرسکتے ہیں جو ایک ارنا بھینسا نازک برتنوں کی دکان کا کرتاہے۔ شاید اس لئے عرب نائیوں کی دکان پر ”صالون الحلاقہ“ لکھا ہوتا ہے کہ اؤ اور ٹنڈ کرواتے چلے جاؤ۔

          باب مروہ کے باہر وسیع صحن میں طہارت خانے موجود ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ عین اس مقام پر ابوجہل کا گھر ہوتا تھا۔ مسجد کے باہر صحن پر لوگ اس طرح دھرنا دیے بیٹھے تھے جیسے ہماری سیاسی جماعتیں دھرنا دیتی ہیں۔ یہ نہ صرف مرد تھے بلکہ ان میں خواتین بھی تھیں۔ ان کے بچے ادھر ادھر کھیل رہے تھے۔ دراصل مسجد کے اندر کھانے پینے کی چیزیں لانا ممنوع ہے، اس لئے لوگ عبادت سے فارغ ہو باہر آتے ہیں، دکانوں سے کھانے پینے کی چیزیں خریدتے ہیں ، صحن میں بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں اور پھر عبادت کے لئے مسجد کا رخ کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی جائے ولادت

باب مروہ سے تھوڑے سے فاصلے پر، بس اسٹاپ کے قریب ہی لائبریری کی وہ عمارت تھی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا گھر ہوا کرتا تھا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی جائے پیدائش تھی۔ اس سے کچھ فاصلے پر جناب ابو طالب کا گھر تھا جنہوں نے والدہ اور دادا کی وفات کے بعد آپ کی خدمت کی۔

          میں تصور ہی تصور میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دور کے مکہ کو دیکھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ولادت، جوانی ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی، معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ سے لے کر دعوت دین کے آغاز کے مراحل میری نگاہوں کے سامنے گردش کرنے لگے۔ صفا پر پہلا وعظ، مکہ میں جگہ جگہ دین کی دعوت، سرداروں سے خطاب، عام لوگوں سے خطاب یہ سب مناظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔

          مکہ چٹیل پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ شدید گرمی میں یہاں کے پتھر انگاروں کی طرح تپ جاتے ہیں اور ہم ننگے پاؤں زمین پر قدم نہیں رکھ سکتے۔ مجھے سیدنا بلال، عمار ، یاسر اور سمیہ رضی اللہ عنہم یاد آئے جنہیں ان کے بے رحم آقا حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی دعوت قبول کرنے کے سبب اس تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینوں پر دہکتے ہوئے پتھر رکھ دیا کرتے تھے لیکن دین کے ان جانثاروں کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔

          مروہ سے واپس آکر ہم لوگ مسجد میں داخل ہوگئے اور پہلے فلور پر جا کر عین کعبہ کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ یہاں پر کعبہ انتہائی دلفریب منظر پیش کر رہا تھا۔ حرم میں رات کو فلڈ لائٹس کا اتنا خوبصورت نظام ہے کہ اس کے آگے ہمارے کرکٹ اسٹیڈیمز کی لائٹس کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔ جب دودھیا لائٹ سیاہ و سنہری کعبہ پر پڑتی ہے اور اس کے بیک گراؤنڈ میں مطاف کا سفید فرش ہوتا ہے، تو آنکھیں اس منظر کو دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ آپ نے کعبہ کی جو زیادہ تر تصاویر دیکھی ہوں گی، وہ اسی رخ اور اسی مقام سے لی گئی ہیں۔ اگر چہ حرم میں تصاویر کشی کی ممانعت ہے لیکن لوگ دھڑا دھڑ اپنے موبائل فونز کی مدد سے کعبہ کی تصاویر اتار رہے تھے۔ ایک پولیس مین نے انہیں اس سے منع کیا اور باز نہ آنے پر ان کے موبائل چھین لئے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس سفر نامے اور اپنی ویب سائٹ میں اپنی بجائے دوسروں کی کھینچی ہوئی تصاویر کو جگہ دی ہے۔

          یہاں بہت سکون تھا۔ میری اہلیہ نماز اور اذکار میں مشغول ہوگئیں۔ میں نے ریک میں سے ایک قرآن مجید اٹھا لیا۔ مسجد میں ہر جگہ اس طرح کے ریک رکھے ہوئے ہیں اور ان میں قرآن مجید مختلف زبانوں میں ترجمے کے ساتھ موجود ہیں۔مجھے اس ریک میں زیادہ تر فرنچ اور جرمن زبان کے ترجمے نظر آئے۔ میری یہ عادت رہی ہے کہ حرم مکہ میں میں اکثر قرآن مجید کی مکی سورتوں کی تلاوت کرتا ہوں اور حرم مدینہ میں مدنی سورتوں کی۔ اس طرح سیدنا ابراہیم اور حضور علیہما الصلوة والسلام کے ادوار کا ایک پیارا سا نقشہ سامنے آ جاتا ہے۔ سامنے وہی مقامات ہوتے ہیں جہاں اللہ کے یہ برگزیدہ رسول اور ان کے ساتھیوں کی دینی جدوجہد میں مختلف واقعات پیش آئے ہوتے ہیں۔ میں نے قرآن کھولا تو سامنے سورہ ابراہیم تھی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا نے میرے سامنے وہ نقشہ کھینچ دیا جب آپ نے اپنی اولاد کی ایک شاخ کو اس مقام پر آباد کیا تھا۔ آپ کے اس اقدام کا مقصد اس دعا سے پوری طرح واضح ہوتا ہے۔

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِناً وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الأَصْنَامَ. رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيراً مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ. رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنْ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنْ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔ (ابراہیم 14:35-37)

اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے رب سے دعا کی، ”اے میرے رب! اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا دے، مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے محفوظ فرما دے۔ اے میرے رب! ان (بتوں) نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کر دیا ہے، تو جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ میں سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو بے شک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ اے میرے رب! میں نے اپنی اولاد کو اس زراعت سے محروم اس وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس آباد کر دیا ہے تاکہ یہ نماز قائم رکھیں۔ اس لئے لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر تاکہ وہ ان کی طرف (دین کا تعلق قائم کرنے کے لئے) آئیں اور انہیں پھلوں سے رزق دے تاکہ یہ شکر گزار بن سکیں۔“

          کافی دیر یہاں گزارنے کے بعد ہم لوگوں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ واپسی کے وقت ہم سے ایک غلطی ہوگئی۔ زیادہ آسان یہ تھا کہ ہم لوگ فرسٹ فلور پر ہی چلتے ہوئے باب عبد العزیز یا باب فہد تک پہنچتے اور سیڑھیاں اتر کر باہر نکل جاتے لیکن ہم صفا کے پاس کی سیڑھیاں اتر کر گراؤنڈ فلور پر آگئے اور اپنی طرف سے شارٹ کٹ مارنے کے چکر میں ایک غلط راستے پر چل نکلے۔

          تھوڑی دور جا کر احساس ہوا کہ ہم غلط آگئے ہیں۔ یہاں ہر طرف خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ میری اہلیہ کے لئے کوئی مسئلہ نہ تھا، وہ بڑے اطمینان سے ان کی صفیں پھلانگتی ہوئی بچوں کے ساتھ مطاف کی طرف نکل گئیں جبکہ میں وہیں بے یارومددگار کھڑا رہ گیا۔ میں واپس مڑا تو وہاں بھی بہت سی خواتین صفیں بنا چکی تھیں۔ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، زندگی میں پہلی مرتبہ میں ایسی صورتحال سے دوچار ہوا تھا۔ میرے لئے تو مردوں کی صفیں پھلانگنا بھی ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے کجا میں خواتین کی صفیں پھلانگتا۔

          میں اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اچانک میری نظر ایک اور صاحب پر پڑی جو میری ہی صورتحال سے دوچار تھے لیکن میرے برعکس ان کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ یہ صاحب شکل سے پنجابی اور لہجے سے حیدر آباد دکن کے معلوم ہوتے تھے۔ سر استرے کے تازہ تازہ اثر سے سفید لائٹوں میں چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ وہ بڑے اطمینان سے خواتین کی صفوں کو پھلانگتے ہوئے آرہے تھے۔ یہاں زیادہ تر مصر، شام اور سعودی عرب کی بوڑھی خواتین بیٹھی تھیں جنہیں ان صاحب کی یہ حرکت ایک آنکھ نہ بھائی۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر پوری فصاحت و بلاغت کے ساتھ ان صاحب کو عربی میں کوسنے دینے شروع کردیے ۔ غالباً یہ ’ککھ نہ رہوے ‘ ٹائپ کے کوسنوں کا عربی ترجمہ تھا ۔ ان صاحب پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ، انہوں نے باقاعدہ لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچا کر ان عربی کوسنوں کا اردو میں جواب دیا، ”اری اماں! تم بھی تو ہماری طرف آ جاتی ہو، کیا ہوا اگر غلطی سے ہم یہاں آگئے۔“

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِناً وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الأَصْنَامَ. رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيراً مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ. رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنْ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنْ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔ (ابراہیم 14:35-37)

اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے رب سے دعا کی، ”اے میرے رب! اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا دے، مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے محفوظ فرما دے۔ اے میرے رب! ان (بتوں) نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کر دیا ہے، تو جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ میں سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو بے شک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ اے میرے رب! میں نے اپنی اولاد کو اس زراعت سے محروم اس وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس آباد کر دیا ہے تاکہ یہ نماز قائم رکھیں۔ اس لئے لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر تاکہ وہ ان کی طرف (دین کا تعلق قائم کرنے کے لئے) آئیں اور انہیں پھلوں سے رزق دے تاکہ یہ شکر گزار بن سکیں۔“

          کافی دیر یہاں گزارنے کے بعد ہم لوگوں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ واپسی کے وقت ہم سے ایک غلطی ہوگئی۔ زیادہ آسان یہ تھا کہ ہم لوگ فرسٹ فلور پر ہی چلتے ہوئے باب عبد العزیز یا باب فہد تک پہنچتے اور سیڑھیاں اتر کر باہر نکل جاتے لیکن ہم صفا کے پاس کی سیڑھیاں اتر کر گراؤنڈ فلور پر آگئے اور اپنی طرف سے شارٹ کٹ مارنے کے چکر میں ایک غلط راستے پر چل نکلے۔

          تھوڑی دور جا کر احساس ہوا کہ ہم غلط آگئے ہیں۔ یہاں ہر طرف خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ میری اہلیہ کے لئے کوئی مسئلہ نہ تھا، وہ بڑے اطمینان سے ان کی صفیں پھلانگتی ہوئی بچوں کے ساتھ مطاف کی طرف نکل گئیں جبکہ میں وہیں بے یارومددگار کھڑا رہ گیا۔ میں واپس مڑا تو وہاں بھی بہت سی خواتین صفیں بنا چکی تھیں۔ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، زندگی میں پہلی مرتبہ میں ایسی صورتحال سے دوچار ہوا تھا۔ میرے لئے تو مردوں کی صفیں پھلانگنا بھی ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے کجا میں خواتین کی صفیں پھلانگتا۔

          میں اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اچانک میری نظر ایک اور صاحب پر پڑی جو میری ہی صورتحال سے دوچار تھے لیکن میرے برعکس ان کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ یہ صاحب شکل سے پنجابی اور لہجے سے حیدر آباد دکن کے معلوم ہوتے تھے۔ سر استرے کے تازہ تازہ اثر سے سفید لائٹوں میں چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ وہ بڑے اطمینان سے خواتین کی صفوں کو پھلانگتے ہوئے آرہے تھے۔ یہاں زیادہ تر مصر، شام اور سعودی عرب کی بوڑھی خواتین بیٹھی تھیں جنہیں ان صاحب کی یہ حرکت ایک آنکھ نہ بھائی۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر پوری فصاحت و بلاغت کے ساتھ ان صاحب کو عربی میں کوسنے دینے شروع کردیے ۔ غالباً یہ ’ککھ نہ رہوے ‘ ٹائپ کے کوسنوں کا عربی ترجمہ تھا ۔ ان صاحب پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ، انہوں نے باقاعدہ لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچا کر ان عربی کوسنوں کا اردو میں جواب دیا، ”اری اماں! تم بھی تو ہماری طرف آ جاتی ہو، کیا ہوا اگر غلطی سے ہم یہاں آگئے۔“

          ان کی قوت خود اعتمادی دیکھ کر میں دنگ رہ گیا جس کی میں اس وقت خاصی کمی محسوس کر رہا تھا۔ میری حالت تو یہ تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ میں نے فوری طور پر دل ہی دل میں انہیں اپنا نجات دہندہ قرار دیا ، لپک کر ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے تاکہ وہ کہیں ہاتھ سے پھسل نہ جائیں اور تیزی سے ان کی پیروی شروع کی۔ ان کے صف پھلانگنے کے نتیجے میں بننے والے خلا کا میں نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ چند سیکنڈ میں ہم اس مصیبت سے چھٹکارا پا چکے تھے۔ مجھے اصولاً اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا لیکن بدحواسی میں نے پیچھے بھی مڑ کر نہ دیکھا اور سر پر پاؤں رکھ کر مطاف کی طرف بھاگا جہاں میری اہلیہ اور بچے میری حالت زار پر ہنس رہے تھے۔ میری اہلیہ کہنے لگیں ، ”خدا کا شکر ادا کریں کہ یہ عرب خواتین تھیں ، پاکستانی یا انڈین خواتین نہیں تھیں۔“ میں نے اس جملے کی معنویت پر کافی غور کیا اور جب اس کا مطلب سمجھ میں آیا تو سچ مچ خدا کا شکر ادا کیا۔

          باب فہد کے راستے باہر نکلنے میں ہمیں دس منٹ لگ گئے۔ باہر نکل کر ہم نے ایک کولر سے دل کھول کر آب زم زم پیا۔ اس کے بعد میں نے اپنی فیملی کو سٹاپ پر کھڑا ہونے کے لئے کہا اور خود گاڑی لانے کے چل پڑا۔ گاڑی خوش قسمتی سے وہیں موجود تھی جہاں میں اسے چھوڑ کر گیا تھا۔ اس پر پولیس کی نظر نہیں پڑی تھی۔ میں اسے لے کر واپس آیا اور بال بچوں کو اس میں لاد کر اپنے کزن عابد کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا جو مکہ ہی میں مقیم ہیں۔ یہاں آکر ہم نے بھابی سے قینچی مانگی اور خود ہی پورے سر کے مختلف حصوں سے بال کاٹ کر احرام کھولا۔

حضور کے دور کا مکہ

Description: Makkah Prophet's time L

 

Description: File 09

اگلا باب                                              فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

 

Description: web stats