بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جبل نور اور غار حرا

 

عابد کا گھر شارع ام القریٰ پر حرم سے تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اگلی صبح میں تن تنہا پیدل ہی سوئے حرم چل پڑا۔ راستے میں میں نے ایک بنگالی ریسٹورنٹ پر رک کر کافی کا گلاس لیا اور پیدل چلتا گیا۔ میں نے موبائل پر اپنے دوسرے کزن ابرار کو کال کی۔ ابرار سعودی عرب کے ابو جدائل گروپ میں ملازم تھے اور ان دنوں غار حرا کے بالکل نیچے جبل نور کے دامن میں ان کا سائٹ آفس تھا۔ ابرار نے مجھے حرم کے باب فہد پر پہنچنے کے لئے کہا۔ تقریباً آدھ گھنٹے میں میں حرم پر پہنچ گیا۔ جب میں باب فہد پر پہنچا تو ابرار وہاں کھڑے دانت نکال رہے تھے۔

          رسمی کلمات کے بعد ہم لوگ مسجد الحرام میں داخل ہوگئے۔ جمعہ کی صبح تھی۔ چھٹی کا دن ہونے کے باعث اکثر لوگ فجر کی نماز کے بعد محو استراحت تھے۔ ان دنوں محرم کے آخری ایام تھے ۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی حاجی رخصت ہوئے تھے اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے ابھی ویزوں کا اجرا شروع نہیں ہوا تھا۔ یہ حرم کی زیارت کا آئیڈیل وقت تھا۔ مجھے امید تھی کہ اس مرتبہ حجر اسود کا بوسہ نصیب ہو ہی جائے گا۔

          جب ہم لوگ مطاف تک پہنچے تو واقعتا رش بہت ہی کم تھا لیکن ’قطرہ قطرہ مل کر دریا بن جاتا ہے‘ کی سی کیفیت تھی۔ ہماری طرح کے رش سے بھاگنے والے تین چار سو افراد عین اس وقت بھی وہاں موجود تھے ۔ شاید یہ مسجد الحرام کا کم سے کم رش ہوگا۔ خیر ہم نے اطمینان سے طواف کیا، حطیم میں نوافل ادا کئے اور باب مروہ سے نکل کر جبل نور کی طرف روانہ ہوگئے۔ ابرار کے کیمپ پر پہنچ کر کچھ دیر سستانے کے بعد ہم جبل نور پر چڑھنے کے لئے تیار ہوگئے۔

          جبل نور مکہ سے طائف اور پھر ریاض جانے والی سیل ہائی وے کے کنارے واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دور میں بھی یہ راستہ ہی رہا ہوگا۔ آپ کے گھر سے پیدل یہاں تک آٹھ دس کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا۔ جبل نور کا سلوپ کافی زیادہ ہے۔ شروع میں اس پر چڑھتے ہوئے راستہ 45 کے زاویے پر اٹھتا ہے اور درمیان میں جا کر تقریباً 60 کے زاویے پر مڑ جاتا ہے۔ پہاڑی کے درمیان تک روڈ بنا ہوا ہے جہاں گاڑی جا سکتی ہے۔ آگے پیدل ٹریک ہے۔ راستے کے شروع میں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پر عربی ، انگریزی، اردو، فرنچ اور ایک آدھ اور زبان میں یہ تحریر درج تھی۔

”برادران اسلام! نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس پہاڑی پر چڑھنا، اس پر نماز پڑھنا، اس کے پتھروں کو چھونا، اس کے درختوں پر گرہیں لگانا، اس کی مٹی، پتھر اور درختوں کی شاخوں کو بطور یاد مشروع نہیں کہا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی سنت کی اتباع ہی میں ہم سب کے لئے بھلائی ہے۔ اس لئے آپ اس کی مخالفت نہ کریں۔ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے، ”اللہ کے رسول تم سب کے لئے بہترین نمونہ ہیں۔“

          حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دین کو اسی طرح لینا چاہیئے جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دیا ہے۔ آپ نے کبھی بھی جبل نور پر چڑھنے، اس پر نماز پڑھنے ، اس کے پتھروں کو چھونے ، اس کی مٹی اور پتھر کو ساتھ لے جانے کا حکم نہیں دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہم سے کہیں زیادہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے محبت کرنے والے تھے۔ انہوں نے بھی آپ کی زندگی میں یا آپ کے بعد ایسا نہیں کیا۔ اس لحاظ سے یہ اعمال یقینی طور پر دین اور شریعت کا حصہ نہیں ہیں۔ ہاں دین اور شریعت سے ہٹ کر ان کی ایک تاریخی اہمیت ضرور ہے جو کسی بھی بڑی شخصیت کے ساتھ کسی چیز کی نسبت ہونے سے پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

          میرا اس پہاڑ پر چڑھنے کا مقصد ان جگہوں کو دیکھنا تھا جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے وقت گزارا تھا۔ ان جگہوں کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی حیات طیبہ اور آپ کے معمولات سامنے آتے ہیں جو آپ کی سیرت کے طالب علم کی حیثیت سے میرے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ ان جگہوں سے آپ کی تعلق کی بنا پر ایک جذباتی وابستگی بھی ہر مسلمان کو ہوتی ہے لیکن اس کو بہرحال دین اور شریعت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیئے۔

          فروری کا مہینہ تھا اور دھوپ میں کوئی خاص گرمی نہ تھی لیکن ہمارا پسینہ چھوٹنے لگا۔ روڈ کا سلوپ بہت زیادہ تھا۔ پہاڑی ٹریک تک پہنچتے پہنچتے ہم پسینے سے نہا چکے تھے۔ ابرار کا تعلق دیہاتی ماحول سے تھا۔ میں شہری ماحول سے تعلق رکھنے کے باوجود پابندی سے اسکواش کھیلنے کا عادی تھا اور اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ٹریکنگ میرا شوق رہا تھا۔ اس کے باوجود اس پہاڑ کی چڑھائی خاصی مشکل معلوم ہو رہی تھی۔

          پہاڑی ٹریک پتھروں پر مشتمل تھا۔ بعض جگہوں پر اسے سیڑھیوں کی شکل دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ شاید یہ ٹریک ہم پاکستانیوں ہی کو مشکل لگ رہا تھا ورنہ بعد میں ایک اور سفر میں میں نے دیکھا کہ اس ٹریک پر ترک بابے اور مائیاں قلانچیں بھرتے ہوئے اوپر جارہے ہیں اور واپس آ رہے ہیں۔ تقریباً دو سو میٹر کی بلندی پر ایک چھپر ہوٹل تھا۔ اس ہوٹل کے بعد راستے نے باقاعدہ سیڑھیوں کی شکل اختیار کرلی۔ جگہ جگہ کچھ افراد ہاتھ میں کشکول نما برتن لئے کھڑے تھے اور سیڑھیاں بنانے کے لئے چندہ مانگ رہے ہیں۔ یہاں کی حکومت اس پہاڑ پر چڑھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتی ورنہ یہاں چیئر لفٹ لگانا کیا مشکل تھا۔ اسی وجہ سے یہ لوگ یہاں کھڑے تھے اور چندے میں سے کچھ رقم سیڑھیوں پر لگا کر باقی سے اپنا خرچ نکال رہے تھے۔

          جبل نور کی چوٹی تک پہنچنے میں ہمیں 45 منٹ لگے۔ پہاڑوں پر چڑھنے کا میرا اسٹائل یہ ہے کہ میں دس بیس قدم اٹھاتا ہوں، پھر چند سیکنڈ رک کر سانس لیتا ہوں اور پھر آگے چل پڑتا ہوں۔ جب ضرورت محسوس ہو تو رک کر دو تین منٹ آرام بھی کرلیتا ہوں۔ اس کے باوجود ہم خاصی جلدی اوپر پہنچ گئے تھے۔ پہاڑ کی بلندی سے دور دور تک پھیلا ہوا مکہ نظر آر ہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دور میں آبادی یہاں سے کافی دور رہی ہوگی جبھی آپ نے اس پہاڑ کا انتخاب فرمایا۔ اب مکہ اور شہروں کی طرح پھیلتا ہوا اس پہاڑ سے بھی پرے تک پھیل چکا ہے۔ سامنے البیک ریسٹورنٹ کا چمکتا ہوا زرد اور سرخ رنگ کا سائن بورڈ نظر آرہا تھا۔ مکہ شہر مختلف وادیوں میں پھیل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان وادیوں کو ملانے والی بہت سی سڑکیں پہاڑوں کے بیچ میں بنائی گئی سرنگوں سے گزرتی ہیں۔

جبل نور

          اچانک میری نظر دور چمکتی ہوئی مسجد الحرام پر پڑی۔ مسجد کے مینار پوری شان کے ساتھ فضا میں ایستادہ تھے اور مسجد کا منظر یہاں سے بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یہاں تشریف لاتے ہوں گے تو شاید یہاں سے کعبہ بھی نظر آتا ہو۔ مسجد کے بیک گراؤنڈ میں زیر تعمیر 65 منزلہ حرمین ٹاورز کی عمارت بھی نظر آرہی تھی۔ یہ بھی ٹوئن ٹاورز بنائے جارہے ہیں۔ شاید ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا یہ فیشن پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔

          اب ہم پہاڑی کے دوسری جانب اترنے لگے۔ یہاں باقاعدہ سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ تھوڑا سا اترنے پر ایک غار آگیا۔ یہ پہاڑ کے آر پار جانے والا غار تھا۔ اس میں بڑی بڑی چٹانیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں اور اتنا تنگ راستہ تھا کہ بمشکل جسم کو موڑ توڑ کر انسان رینگتا ہوا ان چٹانوں کے درمیان سے نکل سکتا ہے۔ مجھے اپنے 40 انچ کے پیٹ کے ساتھ خاصی مشکل پیش آئی ۔ نجانے یہاں 50-55 انچ سائز کے پیٹ والے عرب لوگ یہاں سے کیسے گزر جاتے ہوں گے جن کے آگے میں خود کو خاصا سمارٹ محسوس کرتا ہوں۔ اس غار سے گزرنے کے بعد ہم پہاڑ کی دوسری جانب تھے اور ہمارے سامنے پہاڑ کی دیوار میں غار حرا موجود تھا۔

غار حرا

          غار حرا ایک چھوٹا سا غار ہے جس میں بمشکل ایک آدمی نماز پڑھ سکتا ہے۔ یہاں آگے پیچھے دو جاءنماز رکھے ہوئے تھے جن پر چار افراد نوافل ادا کر رہے تھے۔ یہاں سے بھی مسجد الحرام صاف نظر آرہی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ بعثت سے قبل حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کے لئے اس جگہ کا انتخاب کیوں فرمایا؟

          مجھے سمجھ میں آیا کہ مکہ اس دور میں بھی ایک مرکزی شہر کی حیثیت رکھتا تھا۔ کثیر تعداد میں لوگ حج اور عمرہ کرنے کے لئے یہاں آیا کرتے کیونکہ یہ عبادات سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے یہاں جاری تھیں۔ اس کے علاوہ مکہ ایک بڑا تجارتی شہر بھی تھا اور یمن سے شام جانے والی بین الاقوامی تجارتی شاہراہ کا ایک اہم جنکشن تھا۔ شہر کی اس گہما گہمی کی وجہ سے آپ نے جبل نور کا انتخاب فرمایا ہوگا۔ دور جاہلیت میں بھی تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت ایک معمول کی بات تھی اور عرب کے بہت سے لوگ اسے اختیار کیا کرتے تھے۔ اسے اصطلاحاً "تحنُس" کا نام دیا گیا تھا۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اسے دین میں اعتکاف کی شکل میں جاری فرما دیا۔

          میں ان چٹانوں کو دیکھنے لگا۔ یہاں ہر طرف میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے مبارک ہاتھوں اور قدموں کے نشانات اب بھی موجود ہوں گے۔ میرے لئے یہ احساس ہی کافی تھا کہ میں اس مقام پر موجود ہوں جہاں کی فضا میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے کبھی سانس لیا ہوگا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر درود بھیجا۔ درود کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے لئے دعا ہے۔ ظاہر ہے ہماری دعاؤں کے کرنے یا نہ کرنے سے آپ کی شان پر کیا اثر پڑتا ہوگا۔ لیکن یہ دعا محبت کی نشانی ہے۔

          ایک سخی جب فقیر کو کچھ دیتا ہے تو فقیر جواب میں اور کچھ نہیں تو دعا کرکے ہی اس کا جواب دیتا ہے۔ میری ذات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے بے شمار احسانات ہیں۔ سب سے بڑا احسان تو یہ ہے کہ آپ کے ذریعے مجھے اپنے پروردگار کی پہچان نصیب ہوئی اور میں اس کے کلام پاک کی لذت سے آشنا ہوا۔ میں اس کے جواب میں آپ کو کچھ دینے کی اوقات نہیں رکھتا، صرف آپ کے لئے اپنے رب سے دعا کرکے الفت و عقیدت کا نذرانہ ہی پیش کر سکتا ہوں۔ اللھم صل علی محمد و علی اٰل محمد کما صلیت ابراہیم و علیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم و علیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔

          جمعہ کی نماز کا وقت قریب آرہا تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ جمعہ کی نماز مسجد الحرام میں ادا کی جائے۔ چنانچہ ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ ذرا سا اوپر چوٹی پر پہنچے اور پھر اترنا شروع کیا۔ جو فاصلہ ہم نے پینتالیس منٹ میں چڑھ کر طے کیا تھا، اسے اترنے میں ہمیں پندرہ منٹ لگے۔ اب ہم نیچے آبادی میں تھے جہاں ایک وین حرم جانے کے لئے تیار تھی۔ اس میں بیٹھے اور حرم جا پہنچے۔ اب کی ہم باب السلام سے داخل ہوئے جو صفا و مروہ کی سعی کی گیلری کے عین درمیان میں واقع ہے۔

          ہم لوگ سیدھے فرسٹ فلور پر کعبہ کے سامنے جا کر بیٹھ گئے۔ جمعہ کی اذان ہورہی تھی۔ ایسا روح پرور منظر اس سے پہلے زندگی میں دیکھنا مجھے کبھی نصیب نہ ہوا تھا۔ اذان کے بعد امام صاحب نے خطبہ دیا۔ سعودی عرب میں مساجد پر حکومت کا کنٹرول ہے اور جمعہ کے خطبات بھی وزارت سے تیار ہو کر آتے ہیں۔ یہ خطبات مکمل طور پر اصلاحی موضوعات پر مشتمل ہوتے ہیں اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔ الحمد للہ سعودی عرب میں فرقہ واریت موجود نہیں ہے اور لوگ الگ الگ نقطہ نظر رکھنے کے باوجود ایک ہی امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ ہمارے ہاں فرقوں کے زیادہ تر فتنے مساجد کی پرائیویٹائزیشن سے پیدا ہوئے ہیں۔

          نماز کے بعد مسجد سے نکلنے کا مرحلہ تھا۔ شروع شروع میں میں اکثر مسجد سے نکلتے ہوئے کوئی نہ کوئی غلطی کر ہی جاتا تھا۔ اس بار غلطی یہ ہوئی کہ میں نے اندر کی بجائے باہر کی طرف سے جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ مجھے خاصا مہنگا پڑا۔ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور سفید ماربل اس کی روشنی کو کسی آئینے کی طرح منعکس کر رہا تھا۔

          پہلے تو مجھے احساس نہ ہوالیکن تھوڑی دور جا کر آنکھیں چندھیا گئیں۔ اب چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ میں نے آنکھوں کو بند کیا اور پھر تقریباً ایک ملی میٹر کے برابر ایک آنکھ کھول کر چلنا شروع کیا۔ میرا انداز بالکل نابینا لوگوں کا سا تھا۔ آنکھوں سے بری طرح پانی بہہ رہا تھا اور میں بن لادن گروپ کے ان انجینئرز کی جان کو رو رہا تھا جنہوں نے حرم کے صحن میں لگانے کے لئے سفید ماربل کا انتخاب کیا تھا۔ بڑی مشکل صحن سے گزر کر بس سٹاپ تک آیا اور ایک وین میں بیٹھ کر عابد کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس دن کے بعد سے میں نے مستقلاً سن گلاسز اپنی گاڑی میں رکھ لئے جو میں صرف حرم میں ہی استعمال کرتا ہوں۔

 

اگلا باب                                              فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability