بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مکہ کے دیگر تاریخی مقامات

حدیبیہ

اس دن رمضان کی پہلی تاریخ تھی۔ 23 ستمبر کا دن تھا اور سعودی قومی دن کی چھٹی بھی تھی۔ ہم نے اس دن مکہ کے تاریخی مقامات دیکھنے کا ارادہ کیا۔ ہم لوگ ظہر کی نماز سے کچھ دیر پہلے روانہ ہوئے اور عین نماز کے وقت حدیبیہ جا پہنچے۔ یہاں چیک پوسٹ کے ساتھ ہی ایک مسجد بنا دی گئی ہے۔ مسجد کافی پرانی تھی۔ صحرا میں لو چل رہی تھی۔ ہم مسجد میں داخل ہوۓ۔ اسی مقام پر صلح حدیبیہ ہوئی تھی۔

6ھ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم، 1400 صحابہ کے ساتھ اللہ تعالی کے حکم سے عمرے کے لئے  مکہ تشریف لائے۔ اہل مکہ نے آپ کو عسفان کے مقام پر روکنے کی کوشش کی۔ آپ راستہ بدل کر دشوار گزار راستوں سے حدیبیہ کے مقام پر پہنچے۔ یہاں آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر مکہ میں بھیجا۔ اہل مکہ نے انہیں روک لیا اور یہ افواہ پھیلا دی کہ عثمان شہید کر دیے گئے۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بیعت لی کہ وہ میدان جنگ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تاریخ میں یہ ”بیعت رضوان“ کے نام سے جانی جاتی ہے کیونکہ قرآن مجید نے ان بیعت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خوشخبری سنائی ہے۔

          سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر عمرہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد اہل مکہ نے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ ، جو بعد میں اسلام لائے ، کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے صلح کی پیش کش کی اور کچھ شرائط پیش کیں۔ ان شرائط میں صرف ایک شرط مسلمانوں کے حق میں تھی کہ قبائل کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ قریش یا مسلمانوں ، جس سے چاہے مل جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک فائدے کے لئے باقی تمام شرائط کو قبول کرلیا جو بظاہر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف تھیں۔

           اس سے ہمارے ناعاقبت اندیش لیڈروں کو سبق حاصل کرنا چاہیے کہ بڑے فائدے کے لئے چھوٹے مفادات کو قربان کرنا ہی عملی سیاست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو فتح مبین قرار دیا۔ اس موقع پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد صرف 1400 تھی۔ دو سال کے عرصے میں اس صلح کی بدولت یہ تعداد 10000 تک جا پہنچی۔ جب قریش نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اسے توڑ دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ کو فتح کرلیا۔ قرآن مجید نے اس صلح کو فتح مبین قرار دیا:

"ھم نے تمہیں کھلی فتح عطا کر دی تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی تمام کوتاہیوں کو معاف کرے، تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے۔ ---------- جو لوگ آپ کی بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ کی بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ (فتح 48:1-10)

مسجد جعرانہ

حدیبیہ میں ظہر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہم آگے روانہ ہوئے۔مکہ کے تیسرے رنگ روڈ سے ہم نے منیٰ کا رخ کیا۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ منیٰ کا پورا نقشہ دیکھ لیا جائے تاکہ حج کے موقع پر کوئی پریشانی نہ ہو۔ منیٰ سے فارغ ہو کر ہم مسجد جعرانہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ مسجد طائف جانے والے سیل کبیر والے راستے پر موجود ہے۔ جعرانہ کے مقام پر حرم کی حدود ختم ہو جاتی ہیں اور فٹ بال کا ایک بہت بڑا اسٹیڈیم نظر آتا ہے۔ اس اسٹیڈیم پر نہایت کی خوبصورت قابل حرکت فلڈ لائٹس لگی ہوئی ہیں۔ جعرانہ کے ایگزٹ سے ایک سڑک نکل کر مسجد جعرانہ کی طرف جاتی ہے جو یہاں سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

          اس مسجد کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ غزوہ حنین کے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہاں مال غنیمت تقسیم کیا تھا۔ پھر اسی مقام سے آپ نے احرام باندھ کر عمرہ ادا فرمایا تھا۔ اسی موقع پر آپ نے قریش کے نومسلموں کی تالیف قلب کے لئے انہیں کچھ زیادہ مال عطا فرمایا تاکہ یہ لوگ ایمان پر مضبوطی سے قائم ہو جا‎‏‏ئیں۔ اس پر انصار کے بعض نوجوانوں کو یہ خیال آیا کہ آپ انہیں اپنے ہم قوم ہونے کے ناتے زیادہ نواز رہے ہیں۔

          اگر آپ آمرانہ انداز میں حکومت کر رہے ہوتے تو ان نوجوانوں کو سزا دیتے لیکن آپ نے اس کی بجائے انصار کو جمع کیا اور تفصیل سے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ قریش کے نومسلموں کو زیادہ مال کیوں دیا گیا ہے؟ اس موقع پر آپ نے انصار کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ،”لوگ تو مال و دولت لے جائیں گے جبکہ تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے۔“ آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد بھی آپ کا ٹھکانہ انصار کے ساتھ ہی ہوگا۔ یہ ایک نہایت ہی جذباتی منظر تھا۔ انصار کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی ۔ یہ خوشی کے آنسو تھے جو ظاہر کرتے تھے کہ انصار کو حضور سے کتنی محبت تھی۔

مقام تنعیم

مدینہ جانے والے راستے پر تنعیم کے مقام پر حرم مکہ کی حدود ختم ہوتی ہیں۔ یہاں ایک مسجد ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موسوم ہے۔ دور قدیم سے مکہ کے رہنے والے عموماً عمرہ ادا کرنے کے لئے یہاں آ کر احرام باندھتے ہیں۔ ویسے تو اہل مکہ کسی بھی جانب حرم کی حدود سے باہر جا کر احرام باندھ کر عمرہ کرنے کے لئے آسکتے ہیں لیکن ان کی ترجیح یہی مسجد عائشہ ہوتی ہے کیونکہ یہ مسجد الحرام سے قریب ترین ہے اور یہاں سے حرم تک ٹرانسپورٹ باآسانی دستیاب ہے۔

          اس مسجد کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی مخصوص وجوہات کے باعث عمرہ ادا نہ کر سکی تھیں۔ حج کے بعد انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے اس حسرت کا اظہار کیا تو آپ نے انہیں ان کے بھائی عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس مقام تک بھیجا جہاں سے انہوں نے احرام باندھ کر واپس کعبہ آ کر عمرہ ادا کیا۔ جب سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تو سب لوگوں کو حکم دیا کہ وہ مقام تنعیم سے احرام باندھ کر آ کر عمرہ ادا کریں۔

حجون ، جبل خندمہ اور فتح مکہ

مسجد جعرانہ سے ہم لوگ حجون کے علاقے کی طرف آ نکلے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے حضور فتح مکہ کے موقع پر شہر میں داخل ہوئے تھے۔ اب یہاں بازار ہی بازار ہیں۔

صلح حدیبیہ کی شرائط کے تحت اہل مکہ اور مسلمانوں میں دس سال کے لیےجنگ بندی ہوئی۔ صرف دو سال بعد قریش کے حلیف بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ  پر شب خون مارا اور قریش نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ حدیبیہ کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی جو قریش کی جانب سے ہوئی۔ اس کے بعد اس معاہدے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تھی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دس ہزار قدوسیوں کا لشکر جرار تیار کیا اور مکہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس لشکر کا ذکر بائبل کی کتاب استثنا میں موجود ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی وفات سے پہلے ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے ارشاد فرمایا:

خداوند سینا سے آیا، اور شعیر سے ان پر ظاہر ہوا، اور کوہ فاران سے ان پر جلوہ گر ہوا، وہ جنوب سے اپنی پہاڑی ڈھلانوں میں سے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔ (کتاب استثنا 33:2-3 )

 آپ کی تیاریوں کی خبر سن کر قریش کے سردار ابوسفیان مدینہ آئے اور آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ مکہ پر حملہ نہ کریں۔ ابو سفیان چونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے سسر بھی تھے، اس لئے انہوں نے اپنی بیٹی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی سفارش بھی کروانا چاہی جس پر وہ تیار نہ ہوئیں۔

حجون سے نکل کر ہم جبل خندمہ کی طرف سے حرم میں داخل ہوئے۔ فتح مکہ کے موقع پر حضور نے مختلف دستوں کو مختلف اطراف سے مکہ میں داخل فرمایا تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، خندمہ سے داخل ہوئے۔ مکہ کے چند سرکشوں نے ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ مکہ بڑی آسانی سے فتح ہوگیا۔ پورا مکہ فتح ہونے میں گنتی کے صرف چند لوگ قتل ہوئے جنہوں نے سیدنا خالد کے دستے کے سامنے مزاحمت کی تھی۔

مکہ پر حملے سے قبل ہی ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے تھے۔ رسول اللہ نے ان تمام لوگوں کے لئے معافی کا اعلان کر دیا جو جنگ میں مزاحمت نہ کریں، اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیں، یا کعبہ میں پناہ لے لیں یا پھر ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے لیں۔ اہل مکہ نے تیرہ سالہ دعوت میں رسول اللہ کے ساتھ جو سلوک کیا تھا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہ تھا۔ انہیں بھی اپنی زیادتیوں کا پورا احساس تھا۔ حضور نے ان سب کو کعبہ کے پاس اکٹھا فرمایا اور ان سے فرمایا، ”میں تمہیں وہی کہوں گا جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھاکہ آج کے دن تم پر کوئی گرفت نہیں۔“

     اس عام معافی کے نتیجے میں تمام اہل مکہ ایمان لائے۔ ان میں بڑے بڑے اسلام دشمنوں ابوجہل اور امیہ بن خلف کے بیٹے عکرمہ اور صفوان بھی ایمان لائے۔ ان دونوں حضرات نے بعد میں ساری عمر اسلام کی خدمت میں لگا دی اور روم و ایران کے خلاف کئی معرکوں میں داد شجاعت دی۔

منی، مزدلفہ اور عرفات

مکہ کے قریب یہ تین تاریخی میدان ہیں جہاں حج ادا کیا جاتا ہے۔ اب یہ جدید مکہ کے اندر شامل ہو چکے ہیں۔ ان کا تفصیلی تذکرہ آگے حج کے باب میں آ رہا ہے۔

غار ثور

تفصیل کے لئے دیکھیے باب سفر ہجرت۔

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability