بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سفر حج

اب حج کا موسم قریب آ رہا تھا۔ چونکہ سعودی عرب میں یہ میرا پہلا سال تھا اس لئے حج کا موقع ہمیں زندگی میں پہلی مرتبہ مل رہا تھا۔ ہم کسی صورت بھی اس موقع کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔ عید الفطر کے فوراً بعد عمرے کے زائرین واپس جانے لگے اور حرمین شریفین خالی ہونے لگے۔ ذیقعد کی آمد کے ساتھ ہی حجاج کے قافلے دھڑا دھڑ جدہ پہنچنے لگے۔ ہمارا گھر چونکہ جدہ ایر پورٹ سے کچھ ہی فاصلے پر تھا اس لئے تمام جہاز ہمارے گھر کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایر پورٹ پر جا اترتے۔ ایک دن میں نے دس منٹ تک ان جہازوں کا شمار کیا تو محض دس منٹ میں سات آٹھ جہاز اتر چکے تھے۔

††††††††† ہم نے حج کی تیاریاں ڈیڑھ ماہ پہلے ہی شروع کر دیں۔ میرا تجربہ ہے کہ اگر مناسب تیاری اور پلاننگ سے کسی کام کو کیا جائے تو اس میں پریشانیاں کم سے کم ہوتی ہیں۔ تیاریوں کا آغاز ہم نے منی، مزدلفہ اور عرفات کا سروے کر کے کیا۔ گوگل ارتھ پر تفصیل سے ایک ایک مقام کا جائزہ لیا۔ منی کے نقشے کو اچھی طرح سمجھا۔ عرفات کے انفرا اسٹرکچر کا جائزہ لیا۔ حج کے لئے ضروری ساز و سامان خریدنے کے لئے جدہ کے "بلد" کا رخ کیا جو کہ جدہ کا "اندرون شہر" ہے۔ اس کے بازاروں کو کراچی کے صدر یا لاہور کی انارکلی پر قیاس کر لیجیے۔ اپنی شاپنگ کے دوران ہم نے سلیپنگ بیگ، ایک عدد خیمہ، سامان کھینچنے والی ٹرالی اور ماریہ کے لئے پرام خریدی۔

††††††††† حج سے چار ہفتے قبل ہم لوگ مکہ گئے اور منی، مزدلفہ اور عرفات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ میری اہلیہ کو شیطان دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ کہنے لگیں، "حج کے دنوں میں تو ماریہ کو سنبھالنے کے باعث میں شیطان کے دیدار سے محروم رہوں گی، اس لئے ابھی دکھا دیجیے۔" جب ہم منی پہنچے تو وہاں حج کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں اور سینکڑوں کارکن صفائی اور دیگر کاموں میں مشغول تھے۔ ہم لوگ پل پر ہی گاڑی کھڑی کر کے شیطان کے دیدار کے لئے روانہ ہوئے۔ ان دنوں جمرات برج کو فائنل ٹچ دیا جا رہا تھا۔ نئے جمرات برج کے ساتھ یہ پہلا حج تھا۔

††††††††† پہلے جمرات پتلے پتلے ستونوں کی شکل میں تھے جن پر چاروں طرف سے سنگ باری کی جاتی تھی۔ لوگ چاروں طرف سے آتے اور انہیں واپسی کا راستہ نہ ملتا۔ درست نشانہ لگانے کی کوشش میں حجاج بھگدڑ کا شکار ہوتے اور بہت سی قیمتی جانیں یہاں ضائع ہوتیں۔ جدید پل کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ لوگ ایک طرف سے آئیں اور رمی کرتے ہوئے دوسری طرف سے نکل جائیں۔ قدیم پتلے ستونوں کی جگہ اب چوڑے چوڑے ستون بنا دیے گئے تھے۔ جمرات کو دیکھ کر میری اہلیہ کو کافی مایوسی ہوئی کیونکہ یہ سیدھے سادے ستون تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہاں پر شیطان کی کوئی خوفناک سی صورت بنی ہو گی لیکن ایسا کچھ نہ تھا۔

قدیم جمرات

Description: 149603773PLEYGK_fs

††††††††† منی میں بہت سے مقامات پر منی کے خیموں کے تفصیلی نقشے دیے گئے تھے۔ ہم نے ان نقشوں کا تفصیلی مطالعہ کیا تاکہ بعد میں مشکل نہ ہو۔ منی دراصل ایک ٹینٹ سٹی ہے جہاں مستقل خیمے بنے ہوئے ہیں۔ آگ لگنے کے واقعات کے باعث اب ان خیموں کو فائر پروف میٹریل سے بنایا گیا ہے۔ پہلے لوگ خیموں میں کھانا پکاتے جس کے باعث آگ لگ جاتی۔ اب کئی خیموں کے علیحدہ کچن بنا دیے گئے ہیں۔

††††††††† منی کے بعد ہم نے مزدلفہ کا رخ کیا۔ مسجد مشعر الحرام دیکھی اور منی سے عرفات براستہ مزدلفہ جانے والی سڑکوں کا جائزہ لیا۔ عرفات میں مسجد نمرہ دیکھی، جبل رحمت دیکھا اور عرفات کے رنگ روڈ کا تفصیلی جائزہ لیا۔

††††††††† مزدلفہ کے بیچوں بیچ دو چوڑی سڑکیں سیدھی عرفات کی طرف جارہی تھیں جس پر "طریق المشاۃ" لکھا ہوا تھا۔ یہ پیدل حج کرنے کا راستہ تھا۔ بہت سے حجاج سے ہم سے سنا تھا کہ گاڑیوں کے ذریعے حج کرنے والے بہت خوار ہوتے ہیں۔ اگرچہ منی سے عرفات تک وسیع سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے لیکن گاڑیوں کی تعداد کے باعث ٹریفک جام ہو جاتا ہے اور کئی کئی گھنٹے کے سفر کے بعد لوگ چند کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہم نے طے کیا کہ گاڑیوں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے زور بازو بلکہ زور ٹانگ پر حج کیا جائے۔ ٹانگوں کے اسٹیمنا میں اضافے کے لئے میں نے روزانہ اپنی اہلیہ کو چھ چھ کلومیٹر پیدل چلانا شروع کر دیا۔

††††††††† جدہ میں بہت سے حج گروپ آپریٹ کرتے ہیں جو جدہ سے حجاج کو لے کر جاتے ہیں اور واپس وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر ان کی سروس کے بارے میں لوگوں کے یہی تاثرات تھے کہ ان کی خدمات نہ ہی حاصل کی جائیں تو اچھا ہے چنانچہ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کسی گروپ کی بجائے خود ہی حج کریں۔ بعد کے تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ ہمارے دونوں فیصلے درست تھے۔

آٹھ ذوالحجہ

حج کی تیاریوں میں وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور سات ذوالحج کی شام آ پہنچی۔ شام کو تمام چیزیں پیک کرکے ہم اگلی صبح روانگی کے لئے تیار ہو گئے۔ فجر کی نماز کے بعد ہم نے ڈٹ کر ناشتہ کیا اور سوئے منی چل پڑے۔

††††††††† ہمارا خیال تھا کہ جدہ مکہ روڈ پر بہت رش ہو گا لیکن یہاں خلاف توقع بہت سکون تھا کیونکہ بیرون ملک سے آنے والے حاجی سات تاریخ سے پہلے ہی مکہ پہنچ چکے تھے اور جدہ سے جانے والے گزشتہ رات بسوں کے ذریعے منی پہنچ چکے تھے۔ ان بے چاروں نے 75 کلومیٹر کا فاصلہ چھ چھ گھنٹوں میں طے کیا تھا۔ اب سڑک پر بہت کم بسیں تھیں۔ اس وقت وہی سر پھرے جا رہے تھے جنہوں نے ہماری طرح اپنے بل بوتے پر حج کا ارادہ کیا تھا۔

††††††††† جدہ اور مکہ کے راستے میں تین چیک پوسٹیں لگا دی گئی تھیں جن میں سے ہر ایک پر بس والوں کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جاتی تھی۔ ہمیں کسی نے نہ پوچھا، چنانچہ ہم لوگ محض پینتالیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد مکہ میں داخل ہو گئے۔ میں نے ایک بقالے سے تیس ریال کا موبائل کارڈ خریدا جو کہ ان صاحب نے بتیس ریال میں دیا کیونکہ آج ان کی کمائی کا دن تھا۔

††††††††† مکہ کے تھرڈ رنگ روڈ پر ٹریفک جام تھا کیونکہ اب اہل مکہ منی کے لئے نکل آئے تھے۔ ہم نے سروس لین پکڑی اور کسی نہ کسی طرح ہم منی کے قریب پہنچے۔ روڈ سے ہٹ کر ایک طرف کسی سرکاری محکمے کی بڑی اچھی پارکنگ تھی جس میں ہمیں خوش قسمتی سے جگہ مل گئی۔ یہاں گاڑی کھڑی کر کے ہم نے سامان کو ٹرالی پر باندھا۔ ماریہ کو پرام میں بٹھایا۔ اب میں ٹرالی کھینچنے لگا اور میری اہلیہ ماریہ کو دھکیلنے لگیں۔ یہ جگہ مقام سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

††††††††† بے شمار حاجی جوق در جوق منی کی طرف جا رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ادا کی گئی خداوند قدوس کی پکار کو اسی رب نے پوری دنیا میں ایسے پھیلایا ہے کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس فریضے کی ادائیگی کے لئے چلے آتے ہیں۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کے انسانوں کی اکثریت اپنے رب سے کس قدر محبت کرتی ہے۔ اگرچہ انسان کبھی اس کی نافرمانی کر بیٹھتا ہے لیکن پھر بھی اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کا امتحان یہ نہیں کہ اس سے کبھی کوئی گناہ سر زد نہ ہو بلکہ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے سر جھکا کر رہے اور اگر کبھی نافرمانی ہو جائے تو فوراً اس کی طرف رجوع کر کے توبہ کی جائے۔

Description: File 02

††††††††† ہم بھی اہل محبت کے اس قافلے میں شامل ہو گئے جو دو ان سلی چادریں اوڑہے سوئے منی چلے جا رہے تھے۔ گاڑیوں میں بیٹھے لوگ ٹریفک جام کے باعث گھنٹوں سے ایک ہی مقام پر کھڑے تھے جبکہ پیدل چلنے والے چلے جا رہے تھے۔ آدھ گھنٹے میں ہم منی کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ ہم لوگ عبدالعزیز برج پر چلتے گئے اور منی کے دوسری جانب جا پہنچے جہاں رش کم تھا۔ ایک نسبتاً پرسکون گوشہ دیکھ کر ہم نے خیمہ نصب کیا اور بیٹھ کر اذکار کرنے لگے۔

††††††††† منی کا نقشہ کچھ اس طرح سے ہے کہ پورے منی کے طول میں بہت سے سڑکیں ہیں جو مزدلفہ اور عرفات تک جاتی ہیں۔ منی کے عرض کو دو پل تقسیم کرتے ہیں جن کے نام شاہ عبدالعزیز اور شاہ خالد کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ خالد برج جمرات کے قریب واقع ہے جبکہ عبدالعزیز منی کے وسط میں۔ اس کے بعد ایک اور پل فیصل برج ہے جو مزدلفہ کے قریب واقع ہے۔

††††††††† تھوڑی دیر میں ظہر کا وقت ہو گیا۔ حج کے دنوں میں نمازیں قصر اور جمع کرکے ادا کی جاتی ہیں۔ ہمارا قیام کویتی مسجد کے قریب تھا۔ منی میں صرف دو مساجد ہیں، ایک مسجد خیف اور دوسری کویتی مسجد۔ مجھے رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ میں مسجد کے استنجا خانے میں پہنچا تو یہاں ہر ٹائلٹ کے سامنے طویل قطار موجود تھی۔ میرا نواں نمبر تھا۔ اس بھیانک تجربے کے باعث میں نے عزم کر لیا کہ دوران حج کم سے کم کھانا اور پینا ہے تاکہ یہ مسئلہ دوبارہ درپیش نہ ہو۔

††††††††† ظہر و عصر کی نمازوں سے فارغ ہو کر میں واپس اپنے خیمے میں آگیا اور اب میری اہلیہ مسجد چلی گئیں۔ یہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم لوگ اذکار و اوراد میں مشغول رہے۔ اس سال میرے دو دوست عامر اور نوخیز بھی حج کر رہے تھے۔ نوخیز خان اپنے نام کے برعکس، طویل داڑھی والے بھرپور قسم کے جوان مرد ہیں جن میں لاہوریوں اور پٹھانوں کی خصوصیات اکٹھی پائی جاتی ہیں۔ عامر کا تعلق کراچی سے ہے۔ شام کو عامر سے فون پر بات ہوئی جن کا خیمہ ہمارے قریب ہی تھا۔ وہ مجھے اپنے پاس بلا رہے تھے تاکہ میں انہیں منی کا نقشہ تفصیل سے سمجھا سکوں۔

††††††††† میں عامر کے پاس پہنچا تو اپنے خیمے کے دروازے پر ہی اپنی ہمیشہ کی سی تشویش ناک صورت کے ساتھ موجود تھے۔انہیں اس بات پر تشویش لاحق تھی کہ کثیر تعداد میں افریقی خواتین نے منی کے سڑکوں کے کناروں پر قبضہ جمایا ہوا تھا جہاں وہ چولہے جلائے مزے سے بیٹھی تھیں۔ ان کے پاس انڈے، کافی، چائے، ڈبل روٹی، بسکٹ اور کھانے پینے کی بہت سے اشیا دستیاب تھیں۔ بھگدڑ کی صورت میں انہی چولہوں میں آگ لگ کر کافی نقصان کر سکتی تھی۔ میں انہیں قریب لگے ہوئے ایک نقشے کے قریب لے گیا اور انہیں منی، مزدلفہ اور عرفات کے طول و عرض سے آگاہ کیا جس کے نتیجے میں ان کی تشویش میں کوئی خاص فرق واقع نہ ہوا۔

Description: File 02

††††††††† واپس پہنچا تو نوخیز کا فون آ گیا جو اتفاق سے عامر کے خیمے میں ہی موجود تھے اور اپنے بچوں کے باعث کافی پریشان معلوم ہو رہے تھے۔ میرے ذہن میں ایک آئیڈیا پیدا ہوا کہ رات کیوں نہ مزدلفہ کے قریب گزاری جائے لیکن ساتھ والے خیمے والوں نے بتایا کہ وہاں شدید ترین رش ہو گا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اتنی پرسکون جگہ چھوڑ کر نہ جائیں۔ ان کی بات بالکل درست تھی کیونکہ یہ جگہ جہاں ہر وقت دس بارہ افراد فی سیکنڈ کے حساب سے گزر رہے تھے، اس مقام کی نسبت بہت پر سکون تھی جہاں پچاس ساٹھ افراد فی سیکنڈ کے حساب سے گزر رہے ہوں۔

††††††††† مغرب اور عشا کی نمازوں کے بعد ہم نے بمشکل ایک دکان سے کھانا لیا جو مقدار اور معیار دونوں اعتبار سے ناکافی تھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ جلد سے جلد سویا جائے کیونکہ اگلا دن نہایت ہی پر مشقت تھا۔ تقریباً ساڑہے آٹھ بجے ہم سونے کے لئے لیٹ چکے تھے جس کا ہمیں اگلے دن خاطر خواہ فائدہ ہوا۔

حج کی حقیقت

قرآن مجید میں حج کا حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے:

وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالاً وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ. لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ. ثُمَّ لِيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ۔(الحج 22:27-29)

"لوگوں میں حج کی منادی کر دو۔ وہ دور دراز کے گہرے پہاڑی راستوں سے چلتے ہوئے تمہارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ان اونٹوں پر سوار ہو کر بھی جو سفر کی وجہ سے دبلے ہو گئے ہوں گے، تاکہ اپنے لئے منفعت کی جگہوں پر پہنچیں اور چند متعین دنوں میں اپنے ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا کئے ہیں۔ (پھر تم ان کو ذبح کرو) تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ پھر چاہیے کہ یہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔"

جاوید احمد صاحب اپنی کتاب میزان میں بیان کرتے ہیں کہ حج دراصل تمثیل کی زبان میں شیطان کے خلاف جنگ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو راندہ درگاہ کیا تو اس نے اللہ تعالی کو چیلنج کیا کہ وہ اس کے بندوں کو ہمیشہ گمراہ کرے گا۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ شیطان کا یہ چیلنج قبول کر لیا گیا ہے اور اللہ کے بندے اب قیامت تک اس کے دشمن شیطان کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ اسی جنگ کو حج کی صورت میں ممثل کر دیا گیا ہے۔ اللہ کے بندے اپنے پروردگار کی ندا پر دنیا کے مال و متاع اور اس کی مصروفیات سے ہاتھ اٹھاتے ہیں، پھر لبیک لبیک کہتے ہوئے میدان جنگ یعنی منی میں پہنچ جاتے ہیں اور مجاہدین کے طریقے پر اس وادی میں ڈیرا ڈال دیتے ہیں۔

††††††††† اگلے دن عرفات کے کھلے میدان میں پہنچ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اس جنگ میں کامیابی کے لئے دعا و مناجات کرتے ہیں اور اپنے امام کا خطبہ سنتے ہیں۔ تمثیل کے تقاضے سے میدان جنگ کی طرح نمازوں کو قصر اور جمع کر کے ادا کرتے ہیں اور شام کو راستے میں مزدلفہ کے میدان میں قیام کرتے ہیں۔ اگلے دن یہ میدان جنگ میں اترتے ہیں اور اپنے دشمن شیطان پر سنگ باری کرتے ہیں، اپنے جانوروں کو رب کے حضور قربان کرتے ہیں اور سر منڈا کر اپنے رب کے حضور نذر کے پھیروں کے لئے اس کے اصلی معبد یعنی کعبہ اور دین ابراہیمی کی قدیم قربان گاہ مروہ پر حاضر ہوتے ہیں۔

نو ذو الحجہ

فجر کے وقت میری آنکھ کھلی۔ ہم نے قریب ہی ہونے والی جماعت میں نماز ادا کی، خیمہ لپیٹا، سامان کو ٹرالی پر اور ماریہ کو پرام میں باندھا، قریبی دکان سے کافی پی اور چلنے کے لئے تیار ہو گئے۔ سورج طلوع ہونے تک ہم روانہ ہو چکے تھے۔ ہم سے پہلے بے شمار لوگ عرفات کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔ انسانوں کا ایک ختم نہ ہونے والا ریلہ تھا جو چلا جا رہا تھا۔ صبح کا وقت تھا اور دسمبر کے آخری ایام۔ طائف سے آنے والی سرد ہوائیں منی سے گزر رہی تھیں۔ اچھی خاصی سردی ہو رہی تھی۔ عامر کے مشورے کے مطابق میں نے ایک اچھا کام یہ کیا تھا کہ ایک ہلکا سا کمبل ساتھ رکھ لیا تھا۔ اب وہی کمبل احرام کی اوپر والی چادر کا کام دے رہا تھا۔

††††††††† تھوڑی دور جا کر منی ختم ہو گیا اور مزدلفہ کا آغاز ہو گیا۔ یہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پر لکھا تھا "عرفات ۱۱کلومیٹر"، گویا ہمیں اس دن کل سترہ اٹھارہ کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرنا تھا۔ یہاں ٹریفک بری طرح جام تھا اور پیدل چلنے والے مزے سے چلے جارہے تھے۔ ایک جیسے احرام باندھے، سامان کو ٹرالیوں پر کھینچتے لوگ ایک ردھم میں چلے جا رہے تھے۔ شیطان سے جنگ کی مماثلت سے کہیں سنا ہوا یہ نغمہ میرے کانوں میں گونجا۔

تیز چلو غازیو، سامنے منزل ہے وہ

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ

††††††††† مزدلفہ کے وہ حصہ جو منی کے قریب ہے، اس میں بھی منی کی طرز پر خیمے لگے ہوئے تھے۔ مجھے ان خیموں کی وجہ سمجھ میں نہ آئی۔ بعد میں کسی سے معلوم ہوا کہ زیادہ رقم دے کر حج کرنے والے وی آئی پی حضرات کو مزدلفہ کی رات ان خیموں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم مسلمانوں میں وی آئی پی کلچر اس بری طرح سرایت کر گیا ہے کہ ہم حج جیسی عبادت میں بھی اس سے چھٹکارا نہیں حاصل کر پاتے۔ اگر یہ خیمے آرام کی غرض سے لگائے گئے ہیں تو ان کے مستحق وی آئی پیز کی بجائے بوڑہے اور معذور افراد زیادہ ہیں۔

††††††††† تھوڑی دور جا کر خیمے ختم ہو گئے۔ افریقی خواتین پلوں کے نیچے بھی اپنے اسٹال لگائے بیٹھی تھیں اور ہر طرح کا ناشتہ مہیا کر رہی تھیں۔ عرفات کے راستے پر طہارت خانوں کا نظام بہت شاندار تھا۔ دو دو سو میٹر کے فاصلے پر طہارت خانے بنے ہوئے تھے جن کی مسلسل صفائی کی جا رہی تھی۔ ان کے ساتھ ہی وضو کی جگہ اور پانی کے کولر بھی تھے۔ یہاں بجلی کے سوئچ بھی دیے گئے تھے تاکہ لوگ اپنے موبائل کی بیٹری چارج کر سکیں اور لوگ ایسا کر رہے تھے۔

††††††††† مزدلفہ کے اختتام پر ایک طویل چڑھائی شروع ہو گئی۔ یہاں لوگ تھک تھک کر بیٹھنے لگے۔ اس مقام پر کسی صاحب دل نے منرل واٹر کی بوتلوں کے کریٹ رکھ دیے تھے اور لوگ اپنی ضرورت کے مطابق یہاں سے پانی لے رہے تھے۔ ہم نے بھی تین بوتلیں لیں اور آگے چل پڑے۔ چڑھائی کا اختتام پہاڑی کی چوٹی سے کچھ نیچے ہی ہوا اور اب ڈھلوان شروع ہوئی۔ عرفات اب پانچ کلومیٹر رہ گیا تھا۔

حاجیوں کی نقل و حرکت

Description: Hajj movement

††††††††† منی اور مزدلفہ تو ایک دوسرے سے متصل ہیں لیکن عرفات منی سے کافی فاصلے پر ہے۔ بائیں جانب بہت بڑا بس اسٹیشن تھا جہاں کئی ہزار بسیں کھڑی تھیں۔ یہ حجاج کی نقل و حرکت کی بسیں تھیں جن کا ایک حصہ اس وقت واقعتاً حرکت میں تھا۔ تھوڑا سا آگے بڑہے تو ایک موڑ مڑتے ہی مسجد نمرہ سامنے نظر آنے لگی۔

تیز چلو غازیو، سامنے منزل ہے وہ

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ

††††††††† ††††††††† ٹریفک جام سے نکلنے والی بسیں اب ہمیں کراس کر کے آگے بڑھ رہی تھیں۔ بعض حجاج نے ہمیں اس نظام کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ بتایا کہ ان سے دوران حج نقل و حرکت کا پورا کرایہ وصول کیا گیا ہے لیکن عین موقع پر بسوں والے غائب ہو گئے اور ڈبل رقم کے لالچ میں ان حجاج کی بجائے عام سواریاں اٹھانے لگے۔ حج کے موقع پر یہ رویہ!!!! شاید اسی اخلاقی انحطاط کے باعث دنیا میں ہماری کوئی وقعت باقی نہیں رہی۔

Description: File 03

††††††††† عرفات کے قریب پہنچ کر یہ سڑک مسجد نمرہ سے دور ہٹنے لگی۔ دراصل یہ پیدل کا راستہ نہیں تھا۔ پیدل راستہ تو مزدلفہ کے بیچوں بیچ سے گزر کر عرفات کی جانب آ رہا تھا۔ لوگ اب سڑک سے اتر کر کچے پر ہو لئے۔ ہم بھی اسی طرف چلے لیکن یہاں پرام اور ٹرالی کو چلانا ناممکن ہو گیا۔ خیر کسی نہ کسی طرح اسے عبور کر کے ہم ایک پکے نالے تک آ پہنچے۔ نالے میں چلنا آسان تھا۔ اس سے نکل کر ہم عرفات کی اندرونی سڑک پر آ پہنچے۔ یہاں ہم سے زبردست غلطی یہ ہوئی کہ ہم مسجد نمرہ کی جانب چل پڑے جس کا خمیازہ ہمیں آّگے جا کر بھگتنا پڑا۔

††††††††† اب ہمیں کافی بھوک لگ رہی تھی۔ راستے کے ایک جانب کلیجی کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ یہ ایک بنگالی صاحب تھے جو توے پر کلیجی کی کٹا کٹ بنا رہے تھے۔ ہم نے دس ریال میں ایک پلیٹ لی۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک روٹی دی۔ میں نے ان سے اور روٹی مانگی اور کہا کہ رقم لے لیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ کچھ دیر بعد ان کے دل میں نہ جانے کیا خیال آیا کہ بغیر اضافی رقم کے ایک اور روٹی دے گئے۔ کلیجی کا ناشتہ کر کے ہم آگے چلے۔ مسجد نمرہ سامنے نظر آ رہی تھی لیکن عرفات کی ابتدائی حد ابھی اڑھائی کلومیٹر دور تھی۔

مسجد نمرہ

Description: masjid-nimrah-arafat

††††††††† پیدل چلنے والے راستے پر سوائے ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیوں کے کسی گاڑی کو آنے کی اجازت نہ تھی جس کی وجہ سے اس دو سو فٹ کھلے روڈ پر لوگ چلے جا رہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے گروپوں کا جلوس سا بنایا ہوا تھا۔ گروپ کو اکٹھا رکھنے کے لئے گروپ لیڈر نے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ جنہیں جھنڈا میسر نہ ہوا انہوں نے ڈنڈوں پر لفافے باندھ کر جھنڈے کا کام لیا ہوا تھا۔ ایک صاحب کو اور کچھ نہیں ملا تو انہوں نے ڈنڈے پر سرخ رنگ کا ایک لوٹا ہی باندھ رکھا تھا۔ اسی قسم کا جھنڈا ہماری سیاسی جماعتوں کو اپنا لینا چاہیے۔

Description: File 03

††††††††† بلند آواز میں لوگ پڑھتے جا رہے تھے، "لبيك اللهم لبيك. لا شريك لك لبيك. إن الحمد والنعمة لك والمك. لا شريك لك." یہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اس صدا کا جواب ہے جو انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر کی تھی۔ اب یہ صدا پوری دنیا میں پھیل چکی ہے جس کے جواب میں اللہ کے بندے یہ دلنواز ترانہ پڑھتے ہوئے شیطان کے خلاف جہاد کے لئے عرفات کے میدان کی طرف رواں دواں تھے۔

††††††††† راستے میں ایک صاحب وہیل چیئر پر بیٹھے جا رہے تھے اور کیلا کھا رہے تھے۔ انہوں نے کیلا کھا کر اس کا چھلکا راستے پر اچھال دیا۔ یہ بے حسی کی انتہا تھی۔ ایک معذور شخص کو تو اس حرکت کے نتائج کا اچھی طرح اندازہ ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ یہ چھلکا کسی اور کو وہیل چیئر پر پہنچاتا، میں نے لپک کر اسے اٹھا لیا اور کسی ڈسٹ بن کے انتظار میں ہاتھ میں لئے چلنے لگا۔ میرے ساتھ ہی دو لاہوریے چلے جا رہے تھے۔ انہوں نے میرے ہاتھ سے چھلکا چھین کر کیلے کی ایک ریڑھی پر رکھ دیا۔

††††††††† عرفات کے رش کے باعث بعض لوگ عرفات کی حدود سے باہر ہی رکے ہوئے تھے۔ یہ نہایت ہی غلط عمل ہے کیونکہ وقوف عرفات حج کا رکن اعظم ہے۔ اللہ کرے یہ لوگ بعد میں کسی وقت عرفات کے اندر آگئے ہوں۔ جیسے ہی ہم عرفات کی حدود کے قریب پہنچے، ہمیں اپنی اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑا جو ہم نے اس راستے پر آ کر کی تھی۔ لوگ راستے پر صفیں بنائے بیٹھے تھے جس کے باعث راستہ تنگ ہو گیا تھا۔ اس مقام سے نکلنے والے لوگ کم تھے اور گھسنے والے زیادہ جس کے نتیجے میں انتہائی درجے کی دھکم پیل ہو رہی تھی۔ منظم انداز میں چلنے والی فوج ایک ہجوم بلکہ ریوڑ کی شکل اختیار کر چکی تھی۔

††††††††† ہجوم کی نفسیات یہ ہے کہ انسان اس موقع پر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور اگر اسے کوئی دھکا پڑتا ہے تو وہ اسے آگے والے کو منتقل کر دیتا ہے۔ اس موقع پر اگر کوئی نیچے گر پڑے تو لوگ اس کا لحاظ کیے بغیر اسے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ اگر ایسی حالت میں نظم و ضبط کا دامن نہ چھوڑا جائے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ افسوس ہمارے وہ حضرات جو حج کی تربیت دیتے ہیں، بالعموم فقہی مسائل کی جزئیات یا مخصوص دعاؤں کے حفظ تک ہی اپنی تربیت کو محدود رکھتے ہیں اور رش میں چلنے اور اٹھنے بیٹھنے کے آداب سے حجاج کو بہرہ ور نہیں کرتے۔

††††††††† میں دو مرتبہ گرا اور میری ٹرالی کئی مرتبہ الٹی لیکن اللہ تعالی کا کرم یہ رہا کہ بچت ہو گئی۔ میں اگلی جانب سے ماریہ کی پرام کے لئے ڈھال بنا ہوا تھا اور میری اہلیہ پچھلی جانب سے۔ قریب ہی چند پاکستانی بیٹھے تھے جنہوں نے ہماری مدد کی اور ہمیں اپنی صفوں میں جگہ دی۔ راستے سے ہٹ کر کافی خواتین ایک جانب بیٹھی تھیں۔ میری اہلیہ ان میں چلی گئیں اور میں انہی صفوں میں گھس کر بیٹھ گیا۔ یہ دھکم پیل ظہر کی اذان تک جاری رہی۔

††††††††† اپنے محسنوں سے تعارف ہوا۔ ان میں ایک صاحب کوٹلی آزاد کشمیر کے رہنے والے تھے اور دوسرے ملتان کے۔ ایک فیصل آباد کے ریاض صاحب تھے جو مکہ میں ملازمت کرتے تھے۔ وہ اور ان کی اہلیہ حجاج کی خدمت کرنے میں پیش پیش تھے۔

Description: File 02

††††††††† اذان کی صدا بلند ہوئی اور امام صاحب نے مختصر خطبہ کے بعد دو رکعت ظہر اور دو رکعت عصر کی نمازیں پڑھائیں۔ یہاں کئی ٹرک اپنے کنٹینرز کے ساتھ کھڑے تھے جن کی چھتوں پر بھی لوگ چڑہے ہوئے تھے۔ قریب ہی ایک بلند ٹاور تھا جس پر حج کی کوریج کے لئے کیمرے لگائے گئے تھے۔ نماز کے بعد دوبارہ دھکم پیل کا آغاز ہوا۔ اس مرتبہ اس کی شدت کئی گنا زیادہ تھی۔ ہم لوگ فوراً اٹھ کر دیوار کی طرف چلے گئے تاکہ بپھرے ہوئے ہجوم سے خود کو بچایا جا سکے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس دھکم پیل کے باعث متعدد افراد کچل کر شہید ہو گئے۔

††††††††† اس دھکم پیل کی وجہ بڑی مقدس تھی کہ لوگوں کی اکثریت جبل رحمت تک پہنچنا چاہ رہی تھی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران حج قیام فرمایا تھا۔ دین میں یہ کہیں لازم نہیں ہے کہ حجاج جبل رحمت تک جائیں۔ پورے عرفات میں کہیں بھی قیام کیا جاسکتا ہے لیکن لوگ اپنی اور دوسروں کی جانوں کو خطرات میں ڈالتے ہوئے وہاں جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ چیز بھی ہماری تربیت کی کمی ہے کہ ہم ایک ایسی چیز کے لئے جس کا دین میں کوئی حکم نہیں دیا گیا، کے لئے انسانی جان کی حرمت کی پرواہ نہیں کرتے جس کی تلقین قرآّن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بار بار فرمائی ہے۔

††††††††† رش کچھ کم ہوا تو بند کنٹینرز کے دروازے کھلنے لگے۔ ان میں صاحب ثروت لوگوں کی جانب سے حجاج کے لئے کھانے پینے کی اشیا تھیں۔ رضا کار یہ اشیا حاجیوں میں بانٹنے لگے۔ بہت سے افراد نے یہ خدمت سنبھال لی کی کنٹینرز سے اشیا وصول کر کے انہیں ہاتھ در ہاتھ منتقل کرتے ہوئے خواتین اور بچوں تک پہنچایا جائے۔ یہ طریق کار اتنا کامیاب ہوا کہ ہر شخص تک وافر مقدار میں جوس، بسکٹ اور پھل وغیرہ پہنچ گئے۔

††††††††† میرے قریب فیصل آباد کے کچھ حضرات کھڑے تھے۔ اہل فیصل آباد کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عام بات بھی کریں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے جگت کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب کے موبائل پر کال وصول ہوئی جو ان کے کسی دوست کی جانب سے تھی۔ انہوں نے چھوٹتے ہی مخصوص جگت لگانے والے انداز میں پوچھا، "آصف! زندہ بچ گیا ایں۔" یہ زندہ دلی کی خوبصورت مثال تھی کیونکہ آصف صاحب دھکم پیل میں کہیں غائب ہو گئے تھے۔ ان کے ساتھی امید کر رہے تھے کہ وہ کہیں کچل کر اگلے جہان پہنچ چکے ہوں گے۔

††††††††† چونکہ ٹاور پر کیمرے لگے ہوئے تھے اس لئے کئی افراد اس کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے گزر رہے تھے حالانکہ ٹاور تقریباً مینار پاکستان جتنا بلند تو ہو گا۔ فضا میں کئی ایمبولینس ہیلی کاپٹر گردش کر رہے تھے کیونکہ اس ہجوم میں گاڑی کا چلنا ناممکن تھا۔ ایمرجنسی خدمات دینے کے لئے بھی لوگ موٹر سائیکل پر آتے جاتے ہیں لیکن یہاں موٹر سائیکل کا داخلہ بھی ناممکن تھا۔ قریب ہی ایک خاتون بے ہوش ہو گئیں۔ اطلاع دینے پر ٹاور میں موجود ڈسپنسری سے ایک ڈاکٹر صاحب بڑی مشکل لوگوں کو پھلانگتے پہنچے اور انہیں طبی امداد دی۔

††††††††† یہاں کچھ افغانی بھائیوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ یہ لوگ سعودی عرب ہی میں سیٹل تھے۔ ان کا تعلق تاجک نسل سے تھا۔ یہ افغانیوں کی وہ نسل تھی جو پاکستان ہی میں پل بڑھ کر جوان ہوئی تھی۔ ان کی اردو بہت صاف تھی۔ وہ یہ جان کر بہت خوش ہوئے کہ میرا تعلق جہلم سے ہے کیونکہ انہوں نے بھی جہلم میں کافی وقت گزارا تھا۔

††††††††† جیسے جیسے سورج ڈھل رہا تھا، ہجوم کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ہم لوگ بمشکل کھڑے تھے اور اللہ تعالی کا ذکر کر رہے تھے۔ ہجوم اور دیگر مشکلات انسان کو حج کے اصل مقصد سے غافل کر دیتی ہیں جو کہ اللہ تعالی کی یاد ہے۔ ذکر الہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنے میں یہ وقت گزر گیا۔ اس موقع پر جو بھی دعا یاد آئی وہ کر ڈالی۔ یہ قبولیت کی گھڑی تھی۔ میرا سر کھڑے کھڑے ہی اپنے رب کے حضور سجدے کی نیت سے جھک گیا۔ یہ شکر کا مقام تھا جس نے اس عاجز و حقیر بندے کو حج کی سعادت نصیب فرمائی۔

††††††††† بعض لوگ اس افراتفری میں عرفات سے نکلنا چاہتے تھے حالانکہ ایسا غروب آفتاب کے بعد کیا جانا تھا۔ پولیس والوں نے عرفات کا گیٹ بند کر دیا جس کے نتیجے میں ہجوم ایک جگہ رک گیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہ تھا جبکہ پیچھے سے آنے والوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کے بازوؤں میں بازو ڈال کر زنجیر بنا لی تاکہ بپھرا ہوا ہجوم خواتین پر نہ چڑھ جائے۔ یہ ترکیب کامیاب رہی اور اس زنجیر کے ذریعے کئی مرتبہ ہم نے اس ہجوم کو روکا۔ بہت سے لوگ بے چارے اپنے سامان کو کندھوں پر اٹھائے گھنٹوں کھڑے رہے کیونکہ اسے زمین پر رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔

شام کو عرفات کا منظر

Description: arafat-before-sunset

††††††††† سورج غروب ہوتے ہی عرفات کا گیٹ کھول دیا گیا اور ہجوم سرکنے لگا۔ میں نے اپنی اہلیہ اور ماریہ کو سامان سمیت ایک چھوٹی سی چار دیواری میں کھڑا کر دیا تاکہ ہجوم سے بچا جا سکے۔ اس چار دیواری میں جنریٹر لگا ہوا تھا اور تھوڑی سی جگہ تھی۔ اس جگہ ہم تقریباً دو گھنٹے بیٹھے رہے تاکہ ہجوم میں کچھ کمی واقع ہو تو ہم بھی جا سکیں۔ یہاں ایک شامی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ ان کے پاس ہلکی پھلکی فولڈنگ کرسیاں تھیں جو انہوں نے ہمیں پیش کیں۔ ان کی فیملی بھی اسی جنریٹر میں محصور تھی۔

††††††††† یہ بزرگ شام کے کسی اسکول کے ریٹائرڈ استاد تھے۔ انہیں برصغیر کی تاریخ سے کافی دلچسپی تھی لیکن عربی کے علاوہ کوئی اور زبان نہ جانتے تھے۔ مجھے بھی جس قدر عربی آتی تھی، ان سے گپ شپ کی۔ وہ علامہ اقبال کی خدمات سے واقف تھے اور مغل بادشاہوں کے بارے میں بھی اچھی خاصی واقفیت رکھتے تھے۔ ایسے لوگ عرب معاشرے میں بہت کم پائے جاتے ہیں جو برصغیر کے بارے میں اتنا جانتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف علوم میں برصغیر کے ماہرین نے جو کام کیا ہے وہ زیادہ تر اردو، انگریزی اور فارسی زبانوں میں ہے۔ عربی میں بہت کم کام کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اہل عرب عربی کے علاوہ دیگر زبانوں سے بالعموم ناآشنا ہی ہوتے ہیں۔

††††††††† ریاض صاحب تو اپنا بوری بستر سمیٹ کر اپنے اہل و عیال سمیت جلد ہی روانہ ہو گئے۔ تقریباً دو گھنٹے کے بعد ہم بھی اٹھے اور اپنے ساز و سامان کو گھسیٹتے ہوئے بس اسٹاپ تک آئے جہاں بسوں اور ویگنوں کی ایک دنیا موجود تھی مگر ایک ہی مقام پر گھنٹوں سے ساکت کھڑی تھی۔ ان میں سے کسی گاڑی میں کوئی گنجائش نہیں تھی اور لوگ چھتوں پر بھی بیٹھے تھے۔ میری اہلیہ اب کافی تھک چکی تھیں اور ان کے لئے چلنا دشوار تھا۔ بھوک بھی کافی لگی ہوئی تھی۔ میں نے انہیں کہا کہ اگر ہم یہاں ساری رات بھی بیٹھے رہیں تو سواری اور خوراک ملنا مشکل ہے۔ زیادہ مناسب یہ ہو گا کہ ہمت کر کے پیدل ہی چلیں۔ اس راستے میں خوراک ملنے کا امکان بھی ہے۔ اس لالچ نے انہیں پیدل چلنے پر قائل کر لیا۔

††††††††† پیدل راستے پر رش اب اتنا کم تو ہو ہی چکا تھا کہ چلنا ممکن تھا۔ سڑک پر بے پناہ کوڑاکرکٹ پڑا ہوا تھا۔ ظاہر ہے جہاں سے لاکھوں افراد گزرے ہوں وہاں ایسا ہونا تو لازم ہے۔ ہم بھی کسی نہ کسی طرح ٹرالی اور پرام کو دھکیلتے ہوئے چلنے لگے۔ اچانک راستے میں ایک جگہ اعلان ہونے لگا، "چائے تیار ہے، جو صاحبان پینا چاہیں وہ آ کر 'اپنے خرچ' پر چائے پئیں۔" ہم نے بھی ان صاحب سے کافی خریدی اور پھر چلنے لگے۔ مزدلفہ ہم سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

††††††††† راستے میں ایک جگہ کچھ بنگالی بھائی ایک بڑا سا پتیلا ٹرالی پر رکھے لے جا رہے تھے۔ ہم نے انہیں روک کر ان سے دال روٹی خریدی اور بیٹھ کر کھانے لگے۔ اتنی شدید بھوک میں جو مزا اس دال روٹی میں آیا، شاید ہی کبھی آیا ہو گا۔ ہمارے قریب ہی کراچی کی ایک میمن فیملی آ کر رکی۔ یہ بہادر آباد کے رہنے والے تھے۔ وہ صاحب کھانے والوں سے قیمت پر تکرار کرنے لگے۔ ان کی خواتین نے ماریہ کو بہت پیار کیا اور اسے حجن بوا کا خطاب دیا۔

††††††††† کھانا کھا کر ہم روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ ساتھ ایک انڈین بزرگ وہیل چیئر پر جا رہے تھے اور ان کا سعادت مند پوتا انہیں دھکیل رہا تھا۔ مجھ سے وہ اگلے دن کے بارے میں استفسار کرنے لگے۔ بے چارے نہایت ہی سیدھے سادے لوگ تھے۔ میں نے پوتے کو مشورہ دیا کہ وہ اگلے دن اپنے دادا کی طرف سے رمی خود ہی کر آئے اور انہیں جمرات کی طرف نہ لے کر جائے۔

††††††††† تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں ہم مزدلفہ پہنچے۔ جو لوگ بسوں میں آ رہے تھے، ان میں سے زیادہ تر صبح فجر کے وقت مزدلفہ پہنچ پائے تھے۔ ایک جگہ جماعت ہو رہی تھی۔ ہم نے بھی مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کیں اور سونے کے لئے مناسب جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ روڈ پر بھی جگہ جگہ لوگ لیٹے تھے۔ جو جلد پہنچ گئے تھے، انہیں خیمہ نصب کرنے کی جگہ بھی مل گئی تھی۔ اب کم از کم خیمے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ ایک پہاڑی کے کنارے پر ہمیں بڑی آئیڈیل جگہ ملی۔ یہاں ایک کانٹے دار جھاڑی تھی جس کے ساتھ ہم سلیپنگ بیگ بچھا کر لیٹ گئے۔ اس جھاڑی کے باعث لوگوں کی آمد و رفت بھی ممکن نہ تھی۔

دس ذوالحجہ

دن بھر کی مشقت کے بعد دل کھول کر نیند آئی اور پتہ بھی نہ چلا کہ کب صبح ہوئی۔ جب آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ سورج نکلنے میں بیس منٹ باقی ہیں۔ جلدی جلدی وضو کیا اور نماز ادا کی۔ رات کی بچی کھچی دال روٹی کھائی اور چلنے کے لئے تیار ہو گئے۔ نکلنے سے پہلے حوائج ضروریہ سے فراغت ضروری تھی۔ مزدلفہ کے ٹوائلٹس کے سامنے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ چونکہ ہم لوگ مزدلفہ کے کنارے پر تھے اس لئے میں نے عرفات کی جانب رخ کیا اور مزدلفہ سے باہر ایک ٹوائلٹ کا رخ کیا۔ یہ تقریباً خالی پڑا ہوا تھا۔

††††††††† ہم ابھی چلنے ہی لگے تھے کہ ایک صاحب نے لسی کی بوتلیں لا کر دیں۔ پورا مزدلفہ بھی کوڑا کرکٹ سے بھرا پڑا تھا جو لاکھوں لوگوں کے قیام کا نتیجہ تھا۔ میں نے سوچا کہ قدیم زمانے میں جب لشکر کوچ کرتے ہوں گے تو ان کی باقیات سے دشمن کے جاسوس باآسانی لشکر کی نقل و حرکت کا اندازہ لگا لیتے ہوں گے۔ ابھی ہم مزدلفہ سے نکل ہی رہے کہ نوخیز خان کا فون آ گیا۔ کہنے لگے ہم صبح سے بس میں بیٹھے ہیں لیکن ٹریفک جام کی وجہ سے چلنا مشکل ہے۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ بس سے اتر کر پیدل ہی چل پڑیں۔ مزدلفہ سے منی زیادہ دور نہیں۔

اب ہم مشعر الحرام کے پاس سے گزر رہے تھے۔ اس مقام پر اب مسجد بنا دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے:

فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنْ الضَّالِّينَ ۔ (البقرۃ 2:198) "جب تم عرفات کی طرف سے نیچے اترو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو کیونکہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تم گمراہوں میں سے تھے۔"

غالباً اس آیت میں نیچے اترنے سے مراد وہ ڈھلوان ہے جس سے اتر کر انسان مزدلفہ کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ آیت کریمہ کے حکم کے مطابق ہم نے یہاں اپنے رب کا ذکر کیا، سبحان اللہ و بحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔

Description: File 03

††††††††† اس سے آگے نکلے تو کافی کی طلب محسوس ہوئی۔ ایک اسٹال سے کافی لی۔ وہ صاحب ساری رات کے جاگے ہوئے تھے، بے خیالی میں کافی کے کپ میں ٹی بیگ ڈال گئے۔ میں نے توجہ دلائی تو کہنے لگے کہ میں نیا بنا دوں؟ میں نے ان کا نقصان کرنا مناسب نہ سمجھا اور زندگی میں پہلی اور شاید آخری مرتبہ ٹی بیگ والی کافی پی۔ عجیب سا ذائقہ تھا۔

††††††††† اب ہم وادی محسر میں داخل ہو چکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس مقام سے تیزی سے گزرے تھے، اس لئے ہم نے بھی رفتار کچھ تیز کر دی۔ جب ہم فیصل برج کے پاس پہنچے تو اچانک ناک سے حلوہ پوری کی خوشبو ٹکرائی۔ دیکھا تو دونوں جانب عارضی طور پر پاکستانی ہوٹل بنے ہوئے تھے۔ ایک طرف توند والے لاہوریے پوریاں تل رہے تھے تو دوسری طرف مانسہرہ ہزارہ ہوٹل والے خان صاحب توے پر پٹھانوں والے پراٹھے بنا رہے تھے، ایک طرف نان چنے بک رہے تھے اور ایک صاحب تو شاید بونگ اور پائے کے پتیلے لئے بیٹھے تھے۔ ہمیں رات کی ٹھنڈی دال روٹی کھا لینے پر کافی افسوس ہوا کہ اس کی وجہ سے ہم اس ہائی کولیسٹرول ناشتے سے محروم رہ گئے تھے۔

††††††††† یہاں ایک ریڑھی سے میں نے پاکستانی کینو خریدے۔ اب میں ایک ہاتھ سے ٹرالی کھینچ رہا تھا جس میں میں نے کینو کا لفافہ بھی تھاما ہوا تھا۔ اس موقع پر میں نے ایک محیر العقول کارنامہ سر انجام دیا اور وہ یہ تھا کہ ایک ہاتھ میں کینو لے کر اسی ہاتھ سے اسے چھیلا، پھر اس کی پھاڑیاں الگ کیں اور پھر اسی ہاتھ سے اسے کھا بھی گیا۔ کیا آپ ایسا کارنامہ سر انجام دے سکتے ہیں؟

††††††††† اب ہم مزدلفہ کے آخری کونے میں تھے اور منی میں داخل ہوا چاہتے تھے۔ میں نے قریب لگے نقشے سے اپنی پرسوں والی لوکیشن تلاش کی اور اس جانب جانے والی گلیوں کا تعین کرنے لگا۔ دو انڈین بزرگ میرے پاس کھڑے تھے۔ بے چارے بہت پریشان تھے کیونکہ وہ اپنے گروپ سے بچھڑ گئے تھے۔ وہ مجھے اپنے خیمے کا نمبر بتا کر اس کی لوکیشن بتانے کا کہہ رہے تھے۔ میں نے نقشہ دیکھ کر ان کے خیمے کی لوکیشن کا تعین کیا جو یہاں سے قریب ہی تھا اور انہیں راستہ سمجھا دیا۔ اب ایک پنجابی صاحب نے مجھ سے اسی خدمت کے لئے کہا، میں نے انہیں بھی لوکیشن سمجھائی۔ اس کے بعد تو وہاں مجمع لگ گیا۔ لوگوں نے مجھے نجانے کیا سمجھا کہ کئی پاکستانی، انڈین، عرب، انڈونیشین مجھ سے اپنے اپنے خیمے کی لوکیشن پوچھنے لگے اور میں کسی ماہر مجمع باز کی طرح اردو، انگریزی، پنجابی اور عربی میں تقریر جھاڑ رہا تھا۔ اس مجمع بازی میں میری مداریانہ صلاحیتوں کا کوئی کمال نہ تھا بلکہ یہ ان بے چاروں کی مجبوری تھی کہ وہ اپنے گروپوں سے بچھڑ کر اب خیمے تلاش کرتے پھر رہے تھے۔

††††††††† اس سے میرے ذہن میں ایک نیا آئیڈیا پیدا ہوا۔ جدہ اور مکہ میں مقیم بہت سے لوگ حج کے دنوں میں حجاج کی خدمت کے لئے رضا کارانہ طور پر منی، مزدلفہ اور عرفات جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ حجاج کو بلامعاوضہ کھانے پینے کی چیزیں فراہم کریں۔ یہ خدمت نہایت ہی عمدہ ہے لیکن خدمت کا دوسرا رخ یہ بھی تھا کہ راستہ بھولے ہوئے حجاج کو راستہ سمجھایا جائے۔ اس کی طرف بہت کم لوگوں نے توجہ دی ہے۔ نقشہ پڑھ کر اپنے خیمے تک پہنچنا ہر شخص کے لئے ممکن نہیں۔

††††††††† حجاج کی خدمت کے لئے سرکاری طور پر بھی ہزاروں رضا کار متعین کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ صرف عربی زبان سے واقف ہوتے ہیں اور انہیں بالعموم منی کا زیادہ علم بھی نہیں ہوتا۔ میں نے جب بھی کسی رضا کار سے کسی بارے میں کچھ پوچھا تو "واللہ! ما فی معلوم، ما ادری" کا جواب ملا۔ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ جتنا عرصہ سعودی عرب میں ہوں، انشاء اللہ آئندہ سال سے یہاں آ کر یہی خدمت انجام دیا کروں گا۔

††††††††† مجمع کچھ چھٹا تو ہم نے آگے بڑھنے کا ارادہ کیا۔ اب ہم منی میں داخل ہو رہے تھے۔ منی کے آغاز سے ہی پیدل چلنے والے راستے پر کئی کلومیٹر طویل چھت بنا دی گئی ہے تاکہ گرمی میں حجاج دھوپ سے محفوظ رہیں۔ یہ چھت منی کے آغاز سے لے کر مسجد الحرام تک بنائی گئی ہے۔ زیادہ اچھا ہو اگر اس چھت کو عرفات تک بنا دیا جائے۔ ان دنوں سردی تھی، اس لئے یہ چھت دن کی بجائے رات کو زیادہ کار آمد تھی۔

††††††††† طریق المشاۃ سے ہٹ کر ہم لوگ گلیوں میں داخل ہوئے۔ یہ ایرانی حجاج کا علاقہ تھا۔ منی میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہ ایک ملک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک مخصوص علاقہ دے دیا جائے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ ایرانی حجاج نہایت ہی منظم طریقے سے کام کرتے ہیں۔ ان کے ہر گروپ کے پاس جھنڈا ہوتا ہے جسے لے کر گروپ لیڈر چلتا ہے اور تمام افراد ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ اس علاقے میں صفائی کا معیار بھی نسبتاً بہتر تھا۔

††††††††† گیارہ بجے تک ہم اپنے آٹھ ذو الحجہ والے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ یہاں ہم نے خیمہ نصب کیا۔ اہلیہ اور ماریہ کو وہیں چھوڑ کر میں رمی کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ نوخیز اور عامر کے پھر فون آئے۔ پوچھنے لگے کہ کہاں پہنچے ہیں۔ وہ بے چارے ابھی تک مزدلفہ سے روانہ ہی نہ ہو پائے تھے اور فجر کے وقت سے بسوں میں بیٹھے تھے۔ ان کا گروپ اچھا تھا کہ انہیں کم از کم بسیں فراہم کر دی گئی تھیں ورنہ بہت سے گروپوں نے ٹرانسپورٹ کی رقم وصول کر لی تھی اور بسیں فراہم نہ کی تھیں۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں کسی گروپ وغیرہ سے منسلک نہیں ہوا۔

††††††††† راستے میں لوگ جگہ جگہ ایک دوسرے کا سر مونڈنے میں مصروف تھے۔ افریقی زائرین کا ایک گروپ رمی کر کے واپس آ رہا تھا۔ یہ لوگ کسی فوج کی طرح لیفٹ رائٹ کرتے دندناتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ اس طرح کی حرکت سے دوسرے حجاج کو تکلیف ہوتی ہے، اس کا خیال کرنا چاہیے۔ مختلف گلیوں سے ہوتا میں جمرات کی طرف جا رہا تھا۔ اب میں پاکستانی اور انڈین حجاج کے علاقے میں تھا۔

††††††††† پاکستانی حج مشن کا دفتر ایک خیمے میں قائم تھا اور اس کے بالکل سامنے انڈین حج مشن کا دفتر تھا۔ میں اس منظر کو دیکھ کر خاصا محظوظ ہوا۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے سوکنوں کی طرح لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر رہتے بھی نہیں۔ ایک اچھی چیز یہ تھی کہ دونوں حج مشن والوں نے ایک ایک خیمہ ان لوگوں کے لئے مختص کیا ہوا تھا جو اپنے گروپ سے بچھڑ گئے ہیں۔ ایسے بزرگوں کو کوئی یہاں چھوڑ جاتا ہے اور ان کے لواحقین یہاں سے انہیں لے جاتے ہیں۔

††††††††† کنکریاں ہم نے صبح ہی مزدلفہ سے جمع کر لی تھیں۔ بعض لوگ یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ کنکریاں مزدلفہ ہی سے جمع کی جائیں۔ اس کی کوئی دینی حقیقت نہیں۔ کنکریاں کہیں سے بھی جمع کی جا سکتی ہیں۔ ہاں مزدلفہ میں یہ آسانی ہے کہ وہاں کنکریاں بکثرت دستیاب ہیں۔

††††††††† میری ٹانگوں میں آپس میں رگڑ لگنے کے باعث اب زخم ہونے لگے تھے۔ دراصل مجھ سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ خیمے سے روانہ ہوتے وقت میں ویزلین لگانا بھول گیا تھا۔ زیادہ پیدل چلنے والے افراد کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ جمرات کا پل میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ اس سال جمرات کو تین منزلہ بنا دیا گیا تھا۔ اگلے سالوں میں حکومت کا یہ ارادہ تھا کہ مزید کئی منزلیں تعمیر کی جائیں۔ شیطان کی علامتیں یعنی جمرہ صغری، وسطی اور عقبہ کے ستون تہہ خانے سے نکلتے ہوئے اوپر کی منزل تک جا رہے تھے۔ اب یہ ستون چوڑے بنا دیے گئے تھے جن کے دو جانب سے سنگ باری کی جارہی تھی۔ لوگ ایک طرف سے آ کر دوسری جانب جارہے تھے۔ یہ پہلا حج تھا جس میں جمرات کے پاس کوئی شخص کچل کر شہید نہیں ہوا تھا۔

††††††††† میں نے سب سے اوپر والی منزل کا انتخاب کیا۔ جمرات کے پل پر دو طرف سے چڑھائی تھی۔ پیدل لوگوں کی ٹریفک کا نظام قابل تعریف تھا اور رضا کار لوگوں کو گائیڈ کر رہے تھے۔ پہلے چھوٹا شیطان آیا۔ اس کے بعد درمیانہ شیطان اور پھر بڑا شیطان۔ مجھے اپنے علاوہ اپنی اہلیہ اور ماریہ کی جانب سے بھی رمی کرنا تھی جس کے لئے میں گن کر کافی پتھر لے کر چلا تھا۔

††††††††† بڑے شیطان کے پاس ایک لاہوری صاحب جنون کے عالم میں کھڑے تھے اور کسی پنجابی ہیرو کی طرح شیطان کو للکار رہے تھے: "اوئے ایہہ وٹا اودا جیہڑا توں میرے کولوں جھوٹ بلایا۔ ٹھاہ۔ ایہہ اودا جیہڑا توں میرے کولوں غیبت کرائی۔ ٹھاہ۔ اہہہ اودا جیہڑا ۔۔۔۔۔" انہوں نے شیطان کو ہر کنکری کے ساتھ شیطان کو وہ جرم یاد دلایا جو اس نے انہیں بہکا کر کیا تھا۔ ننھے منے انڈونیشینز کو کنکریاں مارنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی، چنانچہ وہ یہ فریضہ اچھل اچھل کر انجام دے رہے تھے۔

††††††††† رمی جمار دراصل شیطان کے خلاف جنگ کا کلائمیکس ہے۔ مجاہدین کا یہ لشکر منی میں اکٹھا ہوتا ہے، پھر عرفات کے میدان میں جاتا ہے جو معبد کا قائم مقام ہے۔ پھر واپس مزدلفہ آ کر پڑاؤ ڈالتا ہے۔ اس کے بعد میدان جنگ میں اترتا ہے۔ رمی جمار دراصل شیطان پر حملہ ہے۔ چونکہ قیامت تک کے لئے انسان اور شیطان کی جنگ جاری ہے، اس لئے اس جنگ کو حج کی صورت میں ممثل کیا گیا ہے۔ اس جنگ کا سبق یہ ہے کہ اپنی عام زندگی میں بھی اس دشمن کو کوئی موقع نہ دیا جائے اور اپنے رب کے سچے بندے بن کر رہا جائے۔ اگر کبھی شیطان اپنی کوشش میں کامیاب ہونے لگے تو فوراً توبہ کے ذریعے اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا جائے۔ غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے لیکن اللہ کے سچے بندے کبھی اپنی غلطیوں پر قائم نہیں رہتے۔ وہ توبہ کر کے اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں۔

††††††††† اب نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ جمرات برج پر کافی جگہ خالی تھی۔ ایک طرف ہونے والی جماعت میں میں نے ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں اور آگے چل پڑا۔ یہاں سے یہ سیدھی سڑک مسجد الحرام تک جا رہی تھی۔ رمی جمار کے بعد طواف کرنا حج کا اہم ترین رکن ہے۔ چونکہ پچیس تیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنے کے باعث ہم بری طرح تھکے ہوئے تھے، اس لئے ہم نے ارادہ کیا کہ یہ فریضہ اگلے دن انجام دیا جائے۔

††††††††† اپنے خیمے میں واپس پہنچ کر میں نے قصر کر کے احرام کھولا۔ ہمارے خیمے کے قریب ہی بہت سے اسٹال لگے ہوئے تھے جہاں دنیا جہان کی اشیا دستیاب تھیں۔ ایک صاحب بہت سی سر مونڈنے والی مشینیں لئے بیٹھے تھے۔ جو بھی ان سے اس مشین کا پوچھتا، وہ مشین اٹھا کر اس کے سر پر ایک "ٹک" لگا دیتے جس پر اسے مشین خریدنا پڑتی۔

††††††††† قریبی مستقل خیموں میں ایک انڈونیشین گروپ ٹھہرا ہوا تھا۔ یہ اتنے کھلے دل کے لوگ تھے کہ انہوں نے اپنے ٹوائلٹ عام لوگوں کے استعمال کے لئے کھول دیے تھے۔ یہاں میں نے غسل کیا اور عام لباس پہن لیا۔ اس کے بعد میں لمبی تان کر سویا اور مغرب کے وقت آنکھ کھلی۔ شام میں نوخیز کا فون آیا۔ معلوم ہواکہ وہ لوگ بمشکل مغرب کے وقت منی پہنچ پائے تھے۔ انہوں نے رمی رات کے وقت کی تھی۔ مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کر کے ہم نے کھانا کھایا اور نیند کا فائنل راؤنڈ شروع کیا۔

گیارہ ذوالحجہ

صبح فجر کی نماز کے بعد ہم بیت اللہ کے لئے روانہ ہوئے۔ میں دعا کر رہا تھا کہ گاڑی صحیح سلامت اپنی جگہ پر موجود ہو۔ جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ دعا قبول ہوئی ہے۔ قریب ہی بڑی بڑی بسیں کھڑی تھیں جن کے شامی ڈرائیور اور کنڈیکٹر بسوں کے اندر سوئے پڑے تھے۔ ایک ڈرائیور نے جگہ بنا کر گاڑی نکالنے میں مدد کی۔ اس وقت منی سے لے کر مسجد الحرام تک ٹریفک بلاک تھی اور لوگ کئی کئی گھنٹے میں یہ آٹھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر پا رہے تھے۔ چونکہ مجھے مکہ کے راستوں سے کچھ واقفیت ہے، اس لئے میں نے شہر کے باہر کی سڑکوں کا ایک طویل چکر کاٹا اور پندرہ منٹ میں مسجد الحرام پہنچ گیا کیونکہ اس راستے میں ہمیں صرف ایک سگنل ملا تھا۔ اپنی اہلیہ اور ماریہ کو حرم کے نیچے سرنگ میں اتار کر میں پارکنگ کی تلاش میں روانہ ہوا۔ خلاف توقع ایک گلی میں آسانی سے پارکنگ مل گئی ورنہ پارکنگ پلازا والے تو پچاس ریال فی گھنٹہ کے حساب سے چارج کر رہے تھے۔

††††††††† واپسی پر میں نے اہلیہ کے لئے شاورما اور پیپسی اور اپنے لئے کیلے اور کینو خریدے۔ ہماری ملاقات مسجد کے بیرونی صحن میں ایک متعین مقام پر ہوئی۔ ناشتہ کرنے کے بعد ہم باب عبدالعزیز سے حرم میں داخل ہوئے۔ ایک پرسکون جگہ اہلیہ کو بٹھا کر میں طواف کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ پہلے میں مطاف میں داخل ہوا جہاں لوگ ایک دوسرے میں پیوست چیونٹی کی رفتار سے چل رہے تھے۔ میں نے یہاں طواف کرنا مناسب نہ سمجھا اور چند فٹ کا فاصلہ طے کر کے ہی باہر آ گیا۔ اب میں حرم کی چھت پر جا پہنچا جہاں طواف کا ایک پھیرا ایک کلومیٹر کا پڑتا ہے۔ یہاں لوگ نارمل رفتار میں چل رہے تھے۔ صرف حجر اسود کے سامنے جہاں سے طواف کا پھیرا شروع ہوتا ہے، کچھ Bottleneck تھی ورنہ کوئی مسئلہ نہ تھا۔

Description: File 03

††††††††† طواف کے دوران پنجاب کے کسی گاؤں کی ایک اماں سے ملاقات ہوئی جو وہیل چیئر پر بیٹھی تھیں۔ وہ اپنے خاوند سے بچھڑ گئی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان کے خاوند کے پاس موبائل ہے، کہنے لگیں، "ہے تے سہی پر او میرے کول اے۔" میں نے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں، وہ خود کسی سے موبائل لے کر آپ سے رابطہ کر لیں گے۔ میں نے ان کی کرسی کو دیوار کے ساتھ ایسی جگہ لگا دیا جہاں وہ تمام طواف کرنے والوں کو دیکھتی رہیں اور انہیں تفصیل سے سمجھا دیا کہ اس جگہ کی کیا نشانیاں ہیں تاکہ وہ اپنے خاوند کو بتا سکیں۔

††††††††† تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں طواف کے پھیرے مکمل کر کے میں نیچے پہنچا۔ اب اہلیہ کی باری تھی۔ انہوں نے نیچے سے ہی طواف شروع کیا لیکن مطاف کی بجائے مسجد کے اندر سے طواف کرتی رہیں جہاں زیادہ رش نہ تھا۔ طواف کے ساتھ ہی ہمارا حج مکمل ہو گیا۔ اب احرام کی تمام پابندیوں ختم ہو چکی تھیں۔ عصر کی نماز تک ہم لوگ حرم ہی میں رہے۔

††††††††† عصر کے بعد ہم واپسی کے لئے نکلے۔ پارکنگ والی گلی تک ہم لوگ پیدل ہی آئے۔ گاڑی لے کر جیسے ہی ہم روڈ پر آئے تو بہت سے لوگ پریشان کھڑے تھے جنہیں منی کے لئے سواری نہیں مل رہی تھی۔ ہم نے بھی مراکش کے ایک صاحب اور ان کی اہلیہ کو ساتھ بٹھا لیا۔ حرم سے منی تک پورا روڈ بلاک تھا اس لئے ہم نے ایک اور سڑک پکڑی۔ جب ہم منی کے پاس پہنچے تو وہاں بھی یہی حال تھا۔ ایک عرب صاحب نے یہ صورتحال دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی آنے اور جانے والی سڑکوں کے درمیان موجود ٹریفک آئی لینڈ پر چڑھائی اور زبردستی یو ٹرن لے کر واپس مڑ گئے۔ میں نے بھی ان کی تقلید کا ارادہ کیا لیکن دوسری جانب موجود ٹریفک پولیس کی گاڑی دیکھ کر اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا۔

††††††††† ان صاحبان کو منی کے قریب اتار کر ہم واپس ہوئے اور اپنی سابقہ پارکنگ جا پہنچے۔ ہمیں دیکھ کر شامی ڈرائیور بہت خوش ہوئے اور ہمیں کھانے کی دعوت دی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ کہنے لگے کہ اگر آپ کو جگہ کا مسئلہ ہے تو رات ہماری بس میں بھی سو سکتے ہیں۔ شام کے لوگ پاکستانیوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اب ہم واپس منی پہنچے۔ میں نے اہلیہ کو پل پر ہی بٹھا دیا جہاں بہت سے کویتی خواتین اپنے بچوں کو لئے بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے مرد رمی کے لئے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہمیں فلاسک میں سے عربی قہوہ پیش کیا۔

††††††††† اس دن کی رمی بھی کافی آسان ثابت ہوئی۔ رمی سے فارغ ہو کر میرا ارادہ تھا کہ مغرب اور عشا کی نمازیں مسجد خیف میں ادا کی جائیں۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو پوری مسجد میں بے شمار لوگ لیٹے ہوئے تھے اور نماز کی کوئی جگہ نہ تھی۔ مجبوراً باہر نمازیں ادا کرکے واپس ہوا۔ اہلیہ کو لے کر ہم اپنے خیمے کی جانب روانہ ہوئے۔ مجھے خیال آیا کہ آج اکتیس دسمبر ہے، دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو نیو ائر نائٹ منا رہے ہوں اور رنگ رلیوں میں مصروف ہوں گے۔ اللہ تعالی کا یہاں موجود لوگوں پر کتنا کرم ہے کہ یہ آج کی رات ان خرافات کی بجائے اس کو راضی کرنے کے لئے حج میں مصروف ہیں۔ یقیناً اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ سب اللہ تعالی کا فضل ہے۔

††††††††† ابھی ہم اپنے خیمے کے قریب ہی پہنچے تھے کہ ایک خاتون نے ہم سے اپنے خیمے کی لوکیشن پوچھی اور اس کے ساتھ ہی زار و قطار رونے لگیں۔ ان کے خاوند ظہر کے وقت سے ان سے بچھڑ گئے تھے اور وہ اپنی بچی اور جیٹھ کے ہمراہ اپنے خاوند اور خیمے کو اس وقت سے ڈھونڈ رہی تھیں۔ ہم نے انہیں تسلی دی کہ آپ کے خاوند یقیناً خیمے میں پہنچ چکے ہوں گے اور آپ کی تلاش میں ہوں گے۔ ہم آپ کو خیمے تک پہنچا دیتے ہیں۔

††††††††† ہماری گفتگو سن کر کراچی کے ایک صاحب بھی آ گئے۔ لکھنو کے صاف ستھرے لہجے میں کہنے لگے، "بہت سے لوگوں کو اپنے خیمے نہیں مل رہے۔ میں بھی اسی سلسلے میں نکلا ہوں کہ ایسے لوگوں کی مدد کی جائے۔ اگر اس فیملی کو آپ ان کے خیمے تک پہنچا رہے ہیں تو میں کسی اور کی تلاش میں نکلتا ہوں۔" اگر ان کی طرح کچھ اور لوگ بھی یہ کام کر سکیں تو بہت سے لوگوں کی مشکل آسان ہو سکتی ہے۔

††††††††† ہم لوگ اس فیملی کو ان کے خیمے تک پہنچانے کے لئے چلے۔ یہ لوگ امریکہ سے حج کے لئے آئے تھے۔ بنیادی طور پر پاکستانی تھے، لیکن اب امریکن نیشنل تھے اور شکاگو میں مقیم تھے۔ نقشے سے پڑھ کر ان کا خیمہ تلاش کیا جو اتفاق سے قریب ہی تھا۔ انہیں وہاں پہنچا کر ہم واپس ہوئے اور آ کر ایک بار پھر لمبی تان کر سو گئے۔

بارہ ذوالحجہ

اگلے دن علی الصبح رمی کر کے ہم نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور واپس روانہ ہوئے۔ جب پارکنگ میں پہنچے تو شامی ڈرائیور اخبار کے ساتھ ہمارے منتظر تھے جس میں صدام حسین کی پھانسی کی خبر نمایاں تھیں۔

††††††††† ایک باب ختم ہوا۔ صدام نے اپنے دور میں ملک میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا، بے شمار افراد اس کے ظلم کا شکار ہوئے، لوگوں کی شخصی آزادیاں سلب ہوئیں، خواتین کی عزتیں پامال ہوئیں اور بچوں کو زہریلی گیسوں سے قتل کیا گیا۔ اس کے بعد یہی سب کچھ کویتیوں کے ساتھ کیا گیا۔ امت مسلمہ لئے یہ بات باعث شرم ہے کہ ایسا ظالم و جابر شخص ان کا ہیرو قرار پایا۔

††††††††† امریکہ نے عراقی عوام کو صدام کے ظلم سے نجات دلانے کا اعلان کر کے اس پر چڑھائی کر دی جس کے نتیجے میں عراقی عوام صدام کے ظلم سے نکل کر ایک طرف امریکی فوج اور دوسری طرف اپنے عسکریت پسندوں کے ظلم کا شکار ہو گئے۔ امریکی فوج اور عسکریت پسند ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا نقصان تو کم ہی ہوتا ہے، لیکن مجبور و بے بس عراقی عوام مارے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ ظلم کب ختم ہو گا۔ اگر امریکہ عراق سے نکل بھی گیا تو عراق کے عسکریت پسند، افغانستان اور فلسطین کی طرح آپس میں لڑنے لگ جائیں گے اور کئی برس تک عراقی عوام کو امن نصیب نہ ہو پائے گا۔ بہرحال ہم عراقی عوام کے لئے دعا ہی کر سکتے تھے، جو ہم نے کی۔

††††††††† مکہ سے واپسی پر ہم جدہ کی بجائے الٹی سمت میں یعنی طائف کی طرف روانہ ہوئے کیونکہ مجھے یقین تھا کہ جدہ روڈ پر ٹریفک بری طرح بلاک ہو گی۔ جب ہم میدان عرفات کے پاس پہنچے تو نہایت افسوس ہوا کہ عرفات آنے کا یہ راستہ نہایت ہی آسان تھا۔ روڈ سے اتر کر کچے میں گاڑی کھڑی کر دی جاتی اور ہم چند سو میٹر کا فاصلہ طے کر کے عرفات کے کنارے پر وقوف کر لیتے اور مسجد نمرہ کے قریب جو دھکم پیل تھی، اس سے بچ جاتے۔

††††††††† حرم مکہ کی حدود سے باہر شمیسی (حدیبیہ) سے آنے والی سڑک مکہ طائف روڈ سے مل رہی تھی جو کرسچن بائی پاس کہلاتی ہے۔ ہم اس بائی پاس کے ذریعے مکہ جدہ روڈ تک پہنچے تو ایک گھنٹے میں اپنے گھر پہنچ گئے جہاں میری والدہ، اسما اور فاطمہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ انہوں نے ہمیں حج کی مبارک دی۔ اس کے بعد والدہ کے بنائے ہوئے مزیدار کھانے کھا کر ہم انہیں حج کی داستان سنانے لگے۔ میں نے حساب لگایا تو ہم نے دوران حج پانچ دن میں تقریباً 55 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا تھا۔

حج کے تجربات

سفر حج سے جو تجربات مجھے حاصل ہوئے، ان میں چند تجاویز کی شکل میں آپ کی خدمت میں پیش ہیں تاکہ اپنے حج کے دوران آپ زحمت سے بچ سکیں۔

         حج کے دوران نظم و ضبط اور صبر و تحمل کا خیال رکھیں۔ یہ قدم قدم پر آپ کی مدد کرے گا۔

         اگر آپ کے ساتھ فیملی ہے تو عرفات میں مسجد نمرہ اور جبل رحمت کے قریب جانے کی کوشش نہ کیجیے۔

         اگر آپ کو پیدل چلنے کی عادت ہے تو بہتر ہے کہ پیدل حج کریں۔ اس سے آپ ٹریفک جام کے مسائل سے بچ جائیں گے۔

         آج کل ہر شخص کے پاس موبائل فون ہے۔ اگر آپ کو انٹرنیشنل رومنگ کی سہوت میسر نہیں بھی ہے تب بھی اپنے موبائل سیٹ سعودی عرب لے آئیے اور یہاں سے حجاج کے لئے سستا کنکشن لے لیجیے۔ بچھڑنے کی صورت میں یہ بہت مفید ہو گا۔

         منی میں کوئی ایسا مقام طے کر لیجیے جس تک ہر کوئی آسانی سے پہنچ سکے۔ بچھڑنے کی صورت میں سب لوگ اسی مقام پر آ جائیں۔

         اگر آپ کو بے سہارا بوڑہے، معذور، بچے یا خواتین ملیں تو ان کی مدد کیجیے۔ اللہ تعالی آپ کی مدد کرے گا۔ انہیں ان کے ملک کے متعلقہ حج مشن کے خیمے تک پہنچا دیجیے۔ ان کے لواحقین انہیں وہاں سے لے لیں گے۔

حج کے انتظامات اور جدید ٹیکنالوجی

تیس لاکھ افراد کا ایک جگہ اکٹھا ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ اتنی غیر معمولی تعداد کے لئے انتظامات بھی جب تک غیر معمولی نہ ھوں، حجاج کو مناسب خدمات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ حج کے موجودہ انتظامات کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ یہ حجاج کی اتنی بڑی تعداد کے لئے بالکل ناکافی ہیں۔ اگرچہ سعودی حکومت حجاج کو زیادہ سے زیادہ خدمات فراھم کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس میں ابھی بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔ حج کے انتظامات کی بہتری کے لئے چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔

†††††† موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال حج کے انتظامات میں کرکے حجاج کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔ سعودی حکومت، ہر ملک کی مسلم آبادی کے تناسب سے حجاج کا کوٹہ دنیا بھر کے ممالک میں تقسیم کرتی ہے۔ کئی حکومتیں حج کے انتظامات اپنے پاس رکھتی ہیں جبکہ بعض حکومتیں انہیں پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے حوالے کر دیتی ہیں۔ پاکستان کے حجاج کے لئۓ دونوں طرح کے نظام رائج ہیں۔ حج کے انتظامات کا آغاز حجاج کی رجسٹریشن سے ہوتا ہے۔ میری رائے میں اسی مقام سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہو جانا چاہیے۔

†††††† اس ضمن میں پہلا قدم ہر ملک میں حج رجسٹریشن سنٹرز کا قیام ہے۔ نادرا کے سنٹرز کی طرز پر یہاں بائیو میٹرک (Biometric)†† سکینرز نصب کئے جائیں جن کے ذریعے حجاج کے چہرے اور فنگر پرنٹس لے لئے جائیں۔ ان سنٹرز کی تعداد بہرحال اتنی ہونی چاہیے کہ تمام حجاج کو طویل قطاروں میں انتظار کروانے کی بجائے جلد از جلد فارغ کیا جاسکے۔تمام ممالک سے یہ بائیو میٹرک ڈیٹا سعودی عرب کے مرکزی حج ڈیٹا بیس میں منتقل کر دیا جائے۔

†††††† سعودی عرب میں فی الوقت حج آپریشن جدہ اور مدینہ ائر پورٹس پر جاری رہتا ہے۔ ان ائر پورٹس پر امیگریشن کاؤنٹرز پر سکینرز نصب کئے جائیں جن کے سامنے سے گزرنے پر یہ خود بخود حاجی کی آمدورفت کو ریکارڈ کرلیں۔ جدہ سے لے کر مکہ تک تین یا چار چیک پوسٹیں قائم کی جاتی ہیں جہاں حجاج کی کسی کسی بس کو چیک کیا جاتا ہے۔ جس بس کو چیکنگ کے لئے منتخب کیا جاتا ہے، ان کے حجاج کو صبر آزما انتظار سے گزرنا پڑتا ہے۔ چیک پوسٹوں پر پولیس کے اہل کاروں کے پاس بھی ایسے ہی پورٹیبل سکینر ھوں جسے وہ بس میں بیٹھے حجاج کے چہروں کے سامنے سے گزارتے جائیں۔ جس شخص کا ڈیٹا مرکزی ڈیٹا بیس میں موجود نہ ہو گا، سکینر اس کی نشاندہی کر دے گا۔ اس شخص کو بس سے اتار کر مزید تفتیش کی جائے اور بس کو فورا روانہ کر دیا جائے۔ اس پورے عمل میں ایک دو منٹ سے زیادہ وقت درکار نہیں ہو گا۔

†††††† حج کے انتظامات میں سب سے بڑا مسئلہ وہ لوگ پیدا کرتے ہیں جو حکومت کی اجازت کے بغیر منی پہنچجاتے ہیں۔ ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ ان کے اجازت نہ لینے کی بڑی وجہ اجازت دینے کا طریق کار ہے۔ اگرچہ سعودی حکومت کی طرف سے یہ اجازت نامہ مفت جاری کیا جاتا ہے لیکن یہ صرف ٹور آپریٹرز کی وساطت سے جاری ہوتا ہے۔ یہ حضرات کسی کو اجازت نامہ جاری کروانے کے لئے یہ شرط رکھتے ہیں کہ ان سے رہائش، کھانے اور ٹرانسپورٹ کا پورا پیکج لیا جائے ۔ پیکج کی رقم بہت زیادہ اور خدمات کا معیار عموما بہت ناقص ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ کسی کو مجبور کیا جائے اسے نماز پڑھنے کی اجازت اسی صورت میں دی جائے گی جب وہ ایک ناقص چیز مہنگے داموں خریدے گا۔ اس شرط کا کوئی اخلاقی اور شرعی جواز موجود نہیں ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے حج رجسٹریشن سنٹر قائم کرے جہاں ہر آنے والے کو رجسٹریشن کے بعد بلا امتیاز حج کی اجازت دی جائے۔ منی اور عرفات کی گنجائش کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک معقول تعداد کو اجازت دینے کے بعد یہ سلسلہ موقوف کر دیا جائے اور انہیں اگلے برس یہ سعادت حاصل کرنے کے لئے کہا جائے۔

†††††† غیر قانونی انٹری روکنے کے لئے منی، مزدلفہ اور عرفات کے گرد باؤنڈری وال بنا دی جائے۔ اس دیوار کو کئی منزلہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس میں ہزاروں کی تعداد میں دروازے بنائے جائیں تاکہ لاکھوں حجاج کی آمد و رفت میں مشکل نہ ہو۔ ہر دروازے پر بائیو میٹرک اسکینر ہوں جو گزرتے ہوئے حجاج کی آمد و رفت کو ریکارڈ کریں۔ ان تینوں میدانوں کو زونز میں تقسیم کر دیا جائے اور ایک زون سے دوسرے زون کے راستے پر اسکینر نصب ھوں جو ہر شخص کا مکمل ریکارڈ رکھ سکیں کہ کس وقت وہ کہاں پر ہے۔

††††††††† حجاج کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اس وقت درپیش ہوتا ہے جب ان کا کوئی عزیز ہجوم میں گم ہو جائے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے جگہ جگہ کاؤنٹر بنائے جانے چاہیں جہاں کسی بھی حاجی کے کوائف بتانے پر کمپیوٹر کی مدد سے اس کی موجودہ لوکیشن بتائی جاسکے۔ انہی کاؤنٹرز کو قربانی کے کوپن فروخت کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حجاج کے پیکج میں سستی موبائل سم بھی شامل ہونی چاھیئے۔ آج کل ہر شخص کے پاس موبائیل سیٹ ہے۔ سعودی عرب پہنچنے پر وہ یہ سم اپنے موبائیل میں لوڈ کرلے جس کی مدد سے اس کا رابطہ اپنے عزیزوں سے قائم رہ سکتا ہے۔

†††††† انفارمیشن ٹیکنالوجی کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ہونے والی جدید ایجادات کا بھرپور استعمال بھی حج کے انتظامات کو بہتر بنا سکتا ہے۔ منی کا میدان، فکس خیموں پر مشتمل ہے۔ حال ہی میں یہاں عمارتوں کی تعمیر بھی تجرباتی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ پورے منی میں خیموں کی جگہ بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں جن میں اپارٹمنٹ کی بجائے خیمے ہی بنائے جاسکتے ہیں۔ ان عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ سے زیادہ حجاج کے لئے فریضہ حج کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔

††††††††† ان عمارتوں کی تعمیر میں اس بات کا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان میں داخلے کے راستے کشادہ رکھے جائیں، ایمر جنسی ایگزٹس موجود ہوں، ہر عمارت میں آگ بجھانے کا انتظام موجود ہو اور ہر منزل پر کثیر تعداد میں طہارت خانے موجود ہوں۔ ایسے افراد جو کسی ٹور آپریٹر کے بغیر حج کر رہے ہیں، ان کے لئے، ان کی تعداد کے تناسب سے عمارتیں مخصوص کی جائیں جہاں وہ اپنے خیمے لگا کر آرام سے عبادت کر سکیں۔ ان عمارات کی ہر منزل پر بائیو میٹرک اسکینر لگے ہوں جو لوگوں کی آمد و رفت کو مانیٹر کر رہے ھوں۔ خیموں کے موجودہ نمبرز کی ترتیب خاصی نامعقول ہے۔ اس کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

††††††††† منی کے موجودہ راستے کافی تنگ ہیں۔ منی میں راستوں کو تنگ کرنے میں سب سے بڑا کردار غیر قانونی اسٹالز کا ہے۔ ان اسٹالز کی بھی رجسٹریشن کی جائے اور ہر عمارت کی ہر منزل میں ان کے لئے جگہ مخصوص کی جائے ۔ راستوں میں اسٹالز لگانےسے سختی سے روکا جائے۔ عمارات کی تعمیر سے حجاج کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اسی تناسب سے منی کے راستوں کو بھی کشادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے سال تک منی کا سب سے خطرناک حصہ جمرات کا ایریا تھا۔ اس سال جمرات برج کی تعمیر سے یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو گیا ہے۔ یہ ایک بہت اچھا منصوبہ ہے جس کے مطابق جمرات برج کو کئی منزلہ تعمیر کرنے کا پروگرام ہے۔

††††††††† مسجد الحرام سے عرفات براستہ منی و مزدلفہ، ٹرانسپورٹ کے انتظام میں بھی انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اس روٹ پر ٹرین چلانے کا منصوبہ نہایت عمدہ ہے۔ منی سے عرفات تک چار بڑے روڈ ہیں لیکن حجاج کی غیر معمولی تعداد کے باعث ان پر حج کے ایام میں گاڑیاں بلاک رہتی ہیں اور چند کلومیٹر کا فاصلہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ نئے روڈز کی تعمیر کی بجائے زیادہ بہتر ہے کہ انہی سڑکوں کو کئی منزلہ تعمیر کیا جائے۔

††††††††† بلاکیج کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈرائیور حضرات سڑک کے درمیان میں بس روک کر مسافر بٹھانے لگتے ہیں جس سے دور دور تک روڈ بلاک ہو جاتا ہے۔ گاڑیوں کو صرف متعین کردہ بس اسٹاپس پر روکنے کی اجازت ہونی چاہیے، اس کے لئے ضروری ہے کہ جگہ جگہ روڈ سے ہٹ کر بڑے بڑے بس اسٹاپ بھی تعمیر کئے جائیں۔ بیمار اور معذور افراد کے لئے پیدل راستے کے ساتھ ساتھ ائر پورٹ کی طرز پر متحرک بیلٹ نصب کرنے سے ان کے لئے کافی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔ مکہ کے قریب ایک جدید اور بڑے ائر پورٹ کی تعمیر بھی بہت ضروری ہے تاکہ جدہ اور مدینہ ائر پورٹس پر بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ جدہ مکہ قدیم روڈ کو بھی موٹر وے بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جدہ سے مکہ حجاج کے لئے دو راستے میسر ہوں۔

††††††††† حج چونکہ ایک دینی فریضہ ہے اس لئے اسے زیادہ سے زیادہ سستا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غریب لوگ بھی حرم کی زیارت کا شوق پورا کر سکیں۔ حج و عمرہ کے سفر میں مکہ و مدینہ کی مہنگی رہائش گاہوں کا متبادل یہ ہے کہ ان دونوں شہروں کے خالی میدانوں میں کیمپنگ سائٹس قائم کی جائیں جہاں لوگ اپنے خیمے لگا کر رہ سکیں۔ ان سائٹس میں پبلک ٹائلٹ سے لے کر دکانوں تک ہر سہولت میسر ہو اور یہاں سے حرمین تک ائر کنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں۔

†††††† حجاج کے لئے حالیہ میڈیکل سہولتیں اچھی ہیں لیکن انہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ رش کی وجہ سے ایمبولینس کو مریض تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس مشکل کو ایمبولینس ہیلی کاپٹروں میں اضافہ کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

Description: web stats