بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مدینہ

ہم اب مدینہ میں داخل ہو رہے تھے۔ بہتر ہوگا کہ آگے بڑھنے سے قبل مدینہ کا نقشہ ذرا تفصیل سے بیان کردیا جائے۔

مدینہ کا نقشہ

موجودہ مدینہ ایک گول شکل کا شہر ہے جس کا مرکز مسجد نبوی ہے۔ مسجد کے گرد ایک سڑک بنی ہوئی ہے جسے مدینہ کا پہلا رنگ روڈ کہا جاتا ہے۔ اس سے چھ سات کلومیٹر کے فاصلے پر دوسری رنگ روڈ ہے جو مدینہ شہر کا ایک چکر لگاتی ہے۔ اس سے مزید فاصلے پر تیسری رنگ روڈ ہے جو شاہ خالد سے موسوم ہے۔ اگر آپ کسی بھی رنگ روڈ پر سفر کریں اور کسی جانب نہ مڑیں تو آپ گھوم کر اسی مقام پر آ جائیں گے جہاں سے چلے تھے۔

          تیسری رنگ روڈ حرم مدینہ کی باؤنڈری لائن ہے۔ اسی روڈ سے مشرقی سمت ریاض ، شمالی سمت تبوک، مغربی سمت بدر اور جنوبی جانب مکہ اور جدہ جانے والی ہائی ویز نکلتی ہیں۔ دوسرا رنگ روڈ موجودہ مدینہ کی آبادی کی باؤنڈری لائن ہے اور پہلا رنگ روڈ مسجد نبوی کی۔ مسجد نبوی سے مختلف سمتوں میں سڑکیں دوسرے اور تیسرے رنگ روڈ تک جاتی ہیں۔ ان کے نام مختلف صحابہ کرام جیسے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کے نام پر رکھے گئے ہیں۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور کا مدینہ، موجودہ شہر کے سیکنڈ رنگ روڈ کے دائرے میں آباد تھا۔ اس دور میں مختلف خاندانوں کی الگ الگ بستیاں تھیں جو اس پورے علاقے میں ایک دوسرے سے وقفے وقفے سے پھیلی ہوئی تھیں۔ موجودہ ٹاؤن پلاننگ میں یہ پورا علاقہ شہر کے اندر آ گیا ہے۔ اپنے تقدس سے ہٹ کر بھی یہ شہر عمدہ ٹاؤن پلاننگ اور فطرت کے حسن کا شاہکار ہے۔

          میقات ذوالحلیفہ کے قریب ہی سیکنڈ رنگ روڈ ، طریق الہجرہ کو کراس کرتا ہے۔یہاں سیاہ رنگ کے قلعے کا ایک ماڈل موجود ہے۔ ہم نے یہاں سے بائیں جانب گاڑی موڑی ۔ تھوڑی دور جا کر عمر بن خطاب روڈ کا ایگزٹ تھا۔ یہاں سے دائیں مڑ کر ہم تھوڑی دور چلے تو فرسٹ رنگ روڈ کا سگنل تھا جس کے دوسری طرف مسجد نبوی اپنی بہاریں دکھا رہی تھی۔ یہ مسجد کی جنوب مغربی سمت تھی اورگنبد خضرا یہاں سے صاف نظر آ رہا تھا۔ یہاں سے اگر سیدھے چلے جائیں تو دو راستے ہو جاتے ہیں، ایک مسجد کے ارد گرد کی گلیوں میں جاتا ہے اور دوسرا مسجد کی بیسمنٹ میں۔

مسجد نبوی

مسجد نبوی میں پارکنگ کا شاندار انتظام ہے۔ آپ ایک ریال فی گھنٹہ کے حساب سے جتنی دیر چاہے وہاں گاڑی کھڑی رکھیں۔ پارکنگ سے باہر نکلنے کے راستے بالکل قریب ہی واقع ہیں اور باہر نکلتے ہی مسجد بالکل سامنے ہوتی ہے۔ دراصل یہ پارکنگ مسجد کے صحن کے نیچے بنائی گئی ہے جو مسجد کا حصہ نہیں ہے۔ مسجد کے عین نیچے تہہ خانوں میں ائیر کنڈیشنگ پلانٹ وغیرہ نصب کیا گیا ہے ۔

          مسجد الحرام کے برعکس، مسجد نبوی عام مسجدوں کی طرح چوکور شکل کی ہے۔ اس کے چاروں طرف مسجد کے صحن ہیں جو سروس ایریا کا کام کرتے ہیں۔ رش کے دنوں میں یہاں صفیں بنا کر نماز بھی ادا کی جاتی ہے۔ صحن کے باہر جنوبی اور شمالی سمت میں ہوٹلز ، ریسٹورنٹس اور مارکیٹیں ہیں۔ ہم پارکنگ کے گیٹ نمبر ایک سے نکل کر اوپر آئے تو سامنے ہی گنبد خضراء پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔

          قبلہ مسجد کی جنوبی سمت میں ہے۔ اس جانب مسجد تھوڑی سی آگے نکلی ہوئی ہے۔ یہ سلطنت عثمانیہ کے زمانے کی مسجد ہے۔ سعودی دور میں دو مرتبہ اس کی توسیع کی گئی ہے جو عثمانی دور کی مسجد سے شمال، مشرق اور مغرب کی جانب ہے۔ اس آگے نکلی ہوئی جنوبی دیوار میں امام صاحب کا مصلیٰ ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی مقرر کی ہوئی مسجد اس کے اندر ہے۔ اسی کو آپ نے جنت کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ ریاض الجنۃ کہلاتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ اس کے کارپٹ سبز رنگ کے ہیں جبکہ پوری مسجد کے کارپٹ سرخ رنگ کے ہیں۔

ریاض الجنۃ کے بائیں جانب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا روضہ ہے۔ یہ دراصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کمرہ تھا جہاں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی وفات ہوئی اور آپ کو یہیں دفن کیا گیا۔ دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے کمرے بھی یہیں تھے ۔ انہی کا ذکر سورة الحجرات میں ہوا ہے۔ سیدہ فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہما کاگھر بھی ساتھ ہی واقع تھا۔

     اس پورے ایریا کے گرد سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں جالیاں لگا کر اسے محفوظ کر لیا گیا تھا۔ تین اطراف میں یہ جالیاں سبز ہیں اور جنوبی سمت میں ان کا رنگ سنہری ہے۔ سنہری جالیوں میں ہی مواجہہ شریف ہے۔ یہ ان جالیوں میں تین سوراخ ہیں جن میں سے بڑے کے عین سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی قبر انور ہے۔ چھوٹے دونوں سوراخوں کے سامنے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں موجود ہیں۔ یہیں کھڑے ہو کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اور آپ کے قریبی ساتھیوں کے لئے سلام پیش کیا جاتا ہے۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے حجرات کے بالکل پیچھے اصحاب صفہ کا چبوترہ ہے۔ یہ اب بھی ایک چبوترے کی شکل میں ہے جس پر لوگ عبادت کرتے ہیں۔ ریاض الجنۃ میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے منبر و مصلیٰ نمایاں ہیں۔ آپ کے مصلیٰ کی جگہ سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے 91ھ میں محراب تعمیر کروائی۔ موجودہ محراب سے ذرا سا دائیں جانب حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا مصلیٰ ہے۔

          آپ کے منبر کی جگہ اب نو سیڑھیوں والا منبر ہے۔ آپ کااصل منبر تین سیڑھیوں کا تھا اور آپ دوران خطبہ اس کی سب سے اوپر والی سیڑھی پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دوسری اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تیسری سیڑھی پر بیٹھا شروع کیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر نبوی کے نیچے مزید سیڑھیاں بنوا کر اصل منبر کو اونچا کر دیا اور بعد کے بادشاہ نچلی سیڑھیوں پر بیٹھتے رہے۔ 654ھ بمطابق 1256ء میں مسجد نبوی میں آگ لگ گئی اور منبر جل گیا۔ اس موقع پر یمن کے بادشاہ مظفر نے منبر بھجوایا۔ اس کے بعد منبر کئی مرتبہ تبدیل ہوا۔ آخری منبر سلطان مراد ثالث عثمانی نے 998ھ میں بھیجا جو اب بھی موجود ہے۔ (تاریخ مدینہ، مطبوعہ دارالسلام)

          ہمارے مسلمان بھائی اپنی قبضہ گروپ والی عادت سے مجبور ہونے کے باعث ریاض الجنۃ میں بھی قبضہ کر کے بیٹھتے ہیں اور دوسرے بھائیوں کو یہاں نماز پڑھنے کا موقع نہیں دیتے اور دھکم پیل جاری رہتی ہے۔ یہی ذہنیت حجر اسود کے بوسے میں کار فرما ہوتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم یہاں تھوڑی سی عبادت کرکے اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے جگہ خالی کردیں۔ خواتین کے لئے ریاض الجنۃ مختلف اوقات میں کھولا جاتا ہے۔ اس دوران مردوں کو وہاں سے نکال کر اس کے تین اطراف میں ریگزین کی دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں اور انہی دیواروں کی مدد سے خواتین کی جانب سے ایک راستہ بنا دیا جاتا ہے۔

          مسجد نبوی کی تعمیر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے مدینہ آمد کے فوراً بعد کی جس میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک ٹیم کی صورت میں کام کیا۔ مسجد کی پہلی توسیع آپ نے تقریباً سات سال بعد خیبر سے واپسی پر کی۔ مسجد کے ستون کھجور کے درختوں کے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان تنوں کو تبدیل کروا دیا کیونکہ یہ کھوکھلے ہو گئے تھے۔ سیدنا عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ادوار میں مسجد کی مزید توسیع کی گئی۔ سیدنا عثمان نے قبلہ کی جانب بھی مسجد میں توسیع کی جو آج تک موجود ہے۔ اس کے بعد ہمیشہ شمال، مشرق اور مغرب کی جانب مسجد میں توسیع کی گئی۔

            ولید بن عبد الملک کے دور میں سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ جو مدینہ کے گورنر تھے ، نے 88ھ میں مسجد کی توسیع و تعمیر کی۔ اس کے بعد مہدی عباسی کے دور میں 161-165ھ میں مزید توسیع کی گئی۔ مصر کے سلطان اشرف قاتیبائ نے 888ھ میں مسجد کی مزید توسیع کی۔ ترکی کے سلطان عبد المجید کے دور میں 1265ھ بمطابق 1849ء میں مسجد نبوی کی از سر نو تعمیر کی گئی۔ سعودی دور میں مسجد کی دو مرتبہ تعمیر و توسیع کی گئی۔ پہلی توسیع 1371-1375ھ  بمطابق 1951-1955ء اور دوسری 1405-1414ھ بمطابق 1984-1994ء میں کی گئی۔ ان دو توسیعات کے نتیجے میں مسجد نبوی جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہوگئی ہے۔ مسجد کے ہر ستون میں سے ایئر کنڈیشنر کا پوائنٹ دیا گیا ہے جس سے ہر وقت تازہ ٹھنڈی ہوا نکلتی رہتی ہے۔ پہلی سعودی توسیع کے بعد مسجد میں 28000 نمازیوں کی گنجائش تھی جو دوسری تعمیر کے نتیجے میں 268000 ہو گئی اور اگر صحنوں کی گنجائش کو ملا لیا جائے تو کل 430000 نمازی اب یہاں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ (تاریخ مدینہ، ص 66-81، مطبوعہ دار السلام)

          موجودہ مسجد نبوی کے بہت سے دروازے ہیں۔ شمالی یعنی قبلہ کی مخالف سمت میں تین بڑے دروازے ہیں جن میں سے درمیان والا باب فہد کہلاتا ہے۔ یہ مردوں کے لئے مخصوص ہے اور دوسرے دو دروازے خواتین کے لئے مخصوص ہیں۔ مسجد کے شمالی حصے میں دائیں اور بائیں خواتین کے لئے مخصوص جگہ ہے جس کے گرد قابل حرکت دیواریں لگا کر پردہ کیا گیا ہے۔ مسجد کی مشرقی اور مغربی دیواروں میں بھی خواتین کے لئے مخصوص دروازے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی دیوار میں باب عبد العزیز اور مغربی دیوار میں باب سعود مردوں کے لئے مخصوص ہے۔ عثمانی دور کی مسجد میں مغربی دیوار میں باب سلام اور باب صدیق ہیں جبکہ مشرقی دیوار میں باب بقیع، باب جبریل اور باب نسا ہیں۔ ان میں سے باب بقیع عین مواجہہ شریف کے ساتھ واقع ہے۔ باب جبریل اور باب نسا سے داخل ہو کر بھی سیدھا حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے روضہ انور کے بالکل قریب پہنچا جاسکتا ہے۔

          مسجد کے اندر دو دروازے باب عمر اور باب عثمان ہیں۔ دراصل یہ پہلی سعودی تعمیر کے دروازے تھے جو اب مسجد کے اندر آگئے ہیں۔ ان دونوں دروازوں کے ساتھ تین منزلہ لائبریری قائم کی گئی ہے۔ مسجد کے درمیان میں کھلی چھت چھوڑ دی گئی ہے جس پر چھتریاں لگی ہوئی ہیں۔ دھوپ اور گرمی میں ان چھتریوں کو کھول دیا جاتا ہے جبکہ رات اور سردی کے دنوں میں انہیں بند کر دیا جاتا ہے۔

          مسجد نبوی دنیا بھر کے بہترین پروفیشنلز کی محنت کا شاہکار ہے۔ بے شمار انجینئرز، آرکیٹکٹس، بڑھئی، معمار، مزدور، ماربل کا کام کرنے والے، الیکٹریشن اور نہ جانے کن کن شعبوں کے ماہرین نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا ہو گا جس کے نتیجے میں یہ شاہکار سامنے آیا۔ مسجد کا پرانا حصہ عثمانی بادشاہوں کا تعمیر کردہ ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں مسجد کی تعمیر کے لئے دنیا بھر کے بہترین ماہرین کو اکٹھا کیا اور انہیں مدینہ میں آباد کیا۔ انہیں حکم دیا گیا کہ اپنا فن اپنی اولاد میں منتقل کردیں۔ جب یہ ماہرین کی یہ نئی نسل جوان ہوئی تو اس سے مسجد نبوی کی تعمیر کروائی گئی۔ دو سو سال گزرنے کے بعد بھی یہ تعمیر ابھی نئی لگتی ہے۔ سعودی توسیع کے دوران اس حصے کو اپنی اصل حالت ہی میں رکھا گیا ہے۔

          کہا جاتا ہے کہ موجودہ مسجد نبوی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے زمانے کے پورے مدینہ شہر پر مشتمل ہے۔ میں نے اٹلس سیرت نبوی میں شائع شدہ عہد رسالت کے مدینہ کا نقشہ دیکھا۔ پھر مسجد نبوی کی لائبریری میں مدینہ کا ماڈل دیکھا۔ ان کے مطابق مدینہ شہر کی تفصیل سے سیاحت کی۔ ان کی روشنی میں میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔

          موجودہ مسجد نبوی زیادہ سے زیادہ محلہ بنی نجار اور ایک آدھ اور محلے پر مشتمل ہے۔ عہد رسالت کا مدینہ، تقریباً آج کے مدینہ کے سیکنڈ رنگ روڈ کی حدود تک پھیلا ہوا تھا۔ بنی معاویہ، بنی عبد الاشھل اور بنی حارثہ کے محلے مسجد نبوی اور جبل احد کے درمیان واقع تھے۔ بنی نجار جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ننھیالی رشتے دار تھے، عین مسجد نبوی کی جگہ اور جنت البقیع کے آس پاس آباد تھے۔ بنی ظفر موجودہ مدینہ کے فرسٹ رنگ روڈ کے باہر جنوب مشرقی سمت میں آباد تھے۔ بنی قریظہ جنوب مشرق ہی میں سیکنڈ رنگ روڈ کے آس پاس آباد تھے۔ ان سے تھوڑا ہٹ کر بنی قینقاع اور بنی نضیر کے محلے اور قلعے تھے۔ قبا مسجد نبوی سے محض سات آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ایسا ضرور تھا کہ اس وقت کے مدینہ کے محلے ایک دوسرے سے ذرا فاصلے پر آباد تھے اور ان میں آبادی نہ تھی جیسا کہ ہمارے ہاں کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں ہوتا ہے۔

          مسجد کے شمالی جانب بڑے بڑے ہوٹل ہیں جو بہت مہنگے ہیں۔ ان کا یومیہ کرایہ پیک سیزن میں 500 ریال اور آف سیزن میں 200 ریال ہوتا ہے۔ اسی طرف فرسٹ رنگ روڈ کے باہر ایک محلہ ہے، جو بنگالی محلہ کہلاتا ہے۔ یہاں سستے کمرے مل جاتے ہیں لیکن ان میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں ہوتا۔ اسی محلے میں بہت سے پاکستانی ہوٹل واقع ہیں جہاں چٹخارے دار کھانے مل جاتے ہیں۔ پاکستان ہاؤس کی دو عمارتیں بھی یہیں واقع ہے۔ مسجد کے مغربی اور جنوبی جانب مارکیٹیں ہیں جہاں بہت سی اشیا برائے فروخت ہوتی ہیں۔ یہ کافی سستی مل جاتی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی قبر انور

میں نے اپنی فیملی کو خواتین کی سائیڈ پر روانہ کر دیا۔ اس کے بعد میں باب بقیع سے مسجد میں داخل ہوا ۔ میرے دائیں جانب مواجہہ شریف کی سنہری جالیاں تھیں۔ ان کے سامنے بہت سے لوگ کھڑے درود و سلام پڑھ رہے تھے۔ ایک صاحب جو یقینا مطوع تھے، جالیوں کے ساتھ کھڑے لوگوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔ میں بھی انہی لوگوں میں آکھڑا ہوا اور سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام پیش کرنے کا موقع ملا۔ میں خاصی دیر وہیں کھڑا درود و سلام کے نذرانے پیش کرتا رہا۔

          درود دراصل حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے لئے اللہ کی رحمت کی دعا ہے۔ آپ یقینا ہماری دعا کے محتاج نہیں لیکن ایک فقیر، سخی کو دعا کے علاوہ کیا دے سکتا ہے۔ مجھ اپنی ذات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے احسانات یاد آنے لگے۔ اس دنیا میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت خدا کی پہچان ہے۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ذات نہ ہوتی تو ہم کس طرح اپنا تعلق اپنے اللہ سے قائم کر پاتے۔ دور قدیم سے پائے جانے والے الہامی مذاہب کو تو خود انہی کے علماءنے بگاڑ دیا تھا۔ حضور کی بدولت ہمیں قرآن نصیب ہوا جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکی۔

          مجھے یقین ہے اس مقام پر اللہ تعالیٰ کے انوار کی بارش ہورہی ہو گی۔ اس میں میرا وجود عجیب سا لگ رہا تھا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ سمندر میں ناپاک قطرہ گرنے سے سمندر کو کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ سمندر اس قطرے کو خود میں فنا کرکے پاک کر دیتا ہے۔ یہ صوفیا کے وحدت الوجود کے فلسفے کی طرح انسان کی ذات کے خدا کی ذات میں جا ملنے والی بات نہیں تھی۔ انسان کے گناہوں کو حرم کی حاضری دھو کر پاک کردیتی ہے اور اس کے وجود کا اس طرح سے تزکیہ ہو جاتا ہے کہ وہ آئندہ گناہوں سے اجتناب کرنے لگتا ہے۔

ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما

سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما صحابہ کرام میں ممتاز ترین حیثیت کے حامل ہیں۔ حضور کی وفات کے موقع پر سب لوگوں نے بالاتفاق سیدنا ابوبکر کو خلیفہ منتخب کر لیا۔ آپ کی پوری زندگی حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ساتھ گزری تھی۔ بچپن کی دوستی، جوانی کا ساتھ، ادھیڑ عمری میں سب سے آگے بڑھ کر قبول اسلام، ساری عمر کی کمائی ہوئی دولت کو حضور کے مشن پر خرچ کر دینا، ہجرت کے سفر میں ہمراہی، غزوات میں شرکت ان سب پر اگر غور کیا جائے تو آپ کی ساری عمر ہی سراپا محبت نظر آتی ہے۔ سوا دو سال کے دور خلافت کی مختصر مدت میں آپ نے مرتدین اور مانعین زکوة  کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کی فتح کی بنیاد بھی رکھ دی جو کہ آپ کی زندگی کا نہایت ہی حیران کن باب ہے۔آپ کی فراہم کی گئی مضبوط بنیادوں پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کی سلطنت کا مکمل خاتمہ کردیا اور قیصر کو ایشیا اور افریقہ سے نکال باہر کیا۔

          میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پہلو میں یہ دونوں ہستیاں آرام فرما تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کیا شان تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی دعا کے نتیجے میں اسلام لائے اور پھر زندگی دین کے لئے وقف کردی۔ آپ کا دور حکومت مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے تابناک باب ہے۔ دینی و دنیاوی اعتبار سے مسلمان آپ کے دور میں جس عروج پر پہنچے وہ پھر کبھی نصیب نہیں ہوا۔

          سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں کی گئی فوجی کاروائی دراصل حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے مشن کی تکمیل تھی۔ تاریخ میں ایسی ہی ایک کاروائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے خلفاء یوشع اور کالب علیہما السلام نے کی تھی۔ امت مسلمہ میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی وہی حیثیت ہے جو سیدنا یوشع و کالب علیہما السلام کی بنی اسرائیل میں تھی۔ فرق یہ ہے کہ وہ دونوں حضرات منصب نبوت پر فائز ہوئے لیکن حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر نبوت کو ختم کردیا گیا ورنہ آپ کے فرمان کے مطابق ابوبکر و عمر بھی نبی ہوتے۔

          حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی تشریف آوری سے قبل دنیا میں شرک کو عالمگیر حیثیت حاصل تھی۔ عرب شرک کا گڑھ تھا۔ دنیا کی ایک سپر پاور ایران کی حکومت بزور قوت لوگوں کو توحید سے برگشتہ کرکے آگ اور دیوتاؤں کی عبادت پر مجبور کرتی تھی۔ دنیا کی دوسری سپر پاور روم اگر چہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت ہونے کے باعث توحید کی علمبردار تھی لیکن انہوں نے اپنے دین میں شرک کو داخل کر لیا تھا۔ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اس کاروائی کے نتیجے میں دنیا کے بڑے حصے سے مذہبی جبر کا خاتمہ ہوا۔ شرک کی آفیشل حیثیت ایسی ختم ہوئی کہ اس کے بعد سے شرک کبھی سر نہ اٹھا سکا۔ آج بھی اگر چہ دنیا بھر کے مذاہب میں شرکیہ عقائد و اعمال موجود ہیں لیکن کوئی سینہ ٹھونک کر شرک کا علمبردار بن کر کھڑا نہیں ہوتا۔ ہندوؤں کے بڑے بڑے سکالرز بھی خود کو اہل توحید قرار دیتے ہیں۔ شرک میں بہت سی قومیں اگرچہ مبتلا ہیں لیکن اسے کوئی اپنا دین ماننے کے لئے تیار نہیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ اس فوجی کاروائی کے نتیجے میں وہ پورا علاقہ حکومت اسلامیہ کے زیر نگیں آ گیا جسے بائبل میں اولاد ابراہیم کی میراث کہا گیا ہے۔ سیدنا یوشع اور کالب علیہما السلام کے دور میں بھی فوجی کاروائی اسی علاقے میں کی گئی تھی۔ (دیکھیے بائبل کتاب یشوع)

مسجد نبوی کی لائبریری اور میوزیم

اب میں عثمانی دور کی مسجد نبوی میں داخل ہوا۔ وسیع و عریض مسجد میں سونے کا انٹر نیشنل مقابلہ ہورہا تھا۔ ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد دنیا و مافیہا سے بے خبر سوئے پڑے تھے۔ مسجد کے اندر باب عمر اور باب عثمان کے پاس ایک سہ منزلہ لائبریری ہے۔ میں اس لائبریری میں جاگھسا۔ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس میں قرآن، تفسیر، حدیث، سیرت، فقہ، اصول، عربی زبان و ادب، صرف و نحو، سیاسیات، نفسیات، معاشیات اور بہت سے موضوعات پر کثیر تعداد میں عربی کتب موجود ہیں۔

          اس لائبریری کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا مخطوطات کا سیکشن ہے جو باب عثمان کے سیکنڈ فلور پر واقع ہے۔ یہاں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذاتی نسخے کی نقل بھی موجود تھی ۔ اصل نسخہ استنبول کے عجائب گھر میں موجود ہے۔ مشہور روایت کے مطابق یہ وہی نسخہ ہے جس کی تلاوت کرتے ہوئے آپ شہید ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ہر دور میں ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن وہاں موجود تھے۔

 دنیا بھر کی اقوام نے اپنی آرٹسٹک صلاحیتوں کا اظہار مجسمہ سازی کے فن سے کیا۔ مسلمانوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں فن کتابت کے لئے وقف کردیں چنانچہ ہمارے ہاں خطاطی کے ایسے ایسے نادر نمونے موجود ہیں جن کی مثال دنیا کی کسی قوم کے ہاں نہیں ملتی۔ یہاں آٹھ سو سال پہلے کا ایک قرآن موجود تھا جس پر بہت سے رنگوں سے کام کیا گیا تھا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جو رزلٹ ہم آج جدید ترین کلرڈ لیزر پرنٹر کی مدد سے حاصل کرتے ہیں، وہ اس دور میں ہاتھ کے کام میں موجود تھا۔ قارئین کے ذوق کی تسکین کے لئے میں یہاں مخطوطات اور نوادرات کی تفصیل درج کر رہا ہوں۔

·      بارہویں صدی کا قرآن مجید، خط نسخ متقن۔ اس میں آیت کے نشان کے دائرے کو سنہرے رنگ میں لکھا گیا ہے۔

·      1038ھ کا لکھا ہوا قرآن مجید۔ سنہرے اور نیلے حاشیوں کے ساتھ۔

·      1296ھ میں مولوی محمد یوسف دہلوی کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن مجید۔ اس میں سنہرے، نیلے اور سبز رنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔

·      بارہویں صدی ہجری کا قرآن مجید۔

·      میانوالی کے احمد یار خان کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن مجید۔

·      گولائی میں لکھا ہوا قرآن مجید۔ اس کے کاتب کی تاریخ وفات 1245ھ تھی۔ ہر صفحے پر ایک دائرہ بنا ہوا تھا جس کے اندر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ یہ بھی قرآن مجید کا کامل نسخہ تھا۔

·      لکڑی کے کور والے قرآن مجید۔ ان کا تعلق فلسطین سے تھا۔

·      قاضی عیاض کی شفا۔ یہ نسخہ 1285ھ کا لکھا ہوا تھا۔

·      804ھ / 1401ء کی شرح الجامع ۔ یہ عمر بن علی بن الملقن انصاری کی تصنیف ہے۔

·      1258ھ میں لکھا گیا بخاری کا نسخہ

·      مسلم کا قدیم نسخہ

·      1343ھ میں سونے کے پانی سے لکھا گیا قرآن مجید۔

·      1880ء میں کھینچی گئی کعبہ اور مسجدنبوی کی نادر تصاویر۔ اس وقت کیمرا نیا نیا ایجاد ہوا ہو گا۔ فوٹو گرافر کا نام صادق بیگ لکھا تھا۔ غالباً یہ ترک ہوں گے۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ان تصاویر کو ڈیویلپ کیا ہے۔ یہ بلیک اینڈ وائٹ تصاویر تھیں۔ ان میں مسجد الحرام کی عمارت ایک منزلہ تھی۔ مقام ابراہیم کے پاس امام صاحب کے منبر کے لئے ایک بلند چبوترہ بنایا گیا تھا۔ یہ اسی قسم کا تھا جیسا کہ مسجد نبوی میں ریاض الجنۃ میں اب بھی موجود ہے۔ بعد کی کسی توسیع میں اس چبوترے کو ختم کردیا گیا۔ مسجد نبوی کی تصاویر میں گنبد خضرا نمایاں تھا اور چار مینار نظر آرہے تھے۔ یہ مینار اب بھی موجود ہیں۔ یہاں جنت البقیع کی تصاویر بھی تھیں جن میں بہت سے مزارات نظر آرہے تھے۔ غالباً 1905ء میں ان مزارات کو گرا کر تمام قبروں کے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے حکم کے مطابق ایک ہاتھ کے برابر کر دیا گیا۔

·      مصر، ایران اور الجزائر کے قدیم کاتبوں کے قلم دوات

·      مدینہ شہر کا ایک3D  ماڈل بھی موجود تھا جو سعودی آرمی نے 1998ء میں بنایا تھا۔ اس میں تمام پہاڑ ، مدینہ کے محلے اور مسجد نبوی نمایاں تھے۔

عہد عثمانی کا قرآن

 

خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی قدیم تصاویر 1881

ریاض الجنۃ

لائبریری سے نکل کر میں ریاض الجنۃ کی طرف آیا۔ یہاں ریگزین کی دیوار لگی ہوئی تھی اور اس کے اندر خواتین نوافل اور اس سے زیادہ دھکم پیل میں مصروف تھیں ۔ ان کی چیخ و پکار باہر بھی سنائی دے رہی تھی۔ میں قریب ہی بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں خواتین کا وقت ختم ہوا ۔ انہیں واپس ان کی جگہ بھیجا گیا اور مردوں کے لئے ریاض الجنۃ کھول دیا گیا۔ میں بھی وہاں داخل ہوا اور دو نفل ادا کئے۔ یہاں سجدہ کرتے ہوئے میرے دل میں یہ دعا تھی :

مل گئے مصطفی اور کیا چاہئے

فضل رب العلاءاور کیا چاہئے

ہے یہ میری جبیں اور ریاض الجنۃ کی زمیں

اب قضا کے سوا اور کیا چاہئے

          اسی اثنا میں عصر کی اذان ہوئی ۔ میں جماعت کے انتظار میں وہیں بیٹھا رہا۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر گردش کرنے لگا جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے ہوں گے اور صحابہ کرام جوق در جوق مسجد کی طرف آتے ہوں گے۔ کچھ ہی دیر کے بعد حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے حجرے کا دروازہ کھلتا ہو گا اور آپ اس میں سے باہر تشریف لاتے ہوں گے اور جماعت ہوتی ہوگی۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم قرآن کی آیات تلاوت کرکے سناتے ہوں گے۔ تعلیم و تعلم کا سلسلہ چلتا ہوگا۔

جو ہم بھی ہوتے واں خاک گلشن، لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن

          چند منٹ بعد جماعت کھڑی ہوگئی۔ نماز کی سعادت حاصل کرنے کے بعد میں وہاں سے نکل آیا تاکہ دوسرے بھائیوں کو بھی موقع مل سکے۔عصر کی نماز کے بعد جنت البقیع کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ میں بھی جنت البقیع کی طرف روانہ ہوا۔ اس کی تفصیل آگے بیان کی جارہی ہے۔

اصحاب صفہ کا چبوترہ

واپسی پر مجھے ریاض الجنۃ کے قریب ہی اصحاب صفہ کے چبوترے کے پاس جگہ ملی۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر آگیا جب مدینہ ہجرت کرنے والے بے سر و سامان اکیلے مرد یہاں رہا کرتے تھے ۔ اہل مدینہ کی برادری ان کی ضروریات کا خیال رکھتی اور چند ہی دن میں یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے۔ یہاں رہ کر یہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے قرآن سمجھتے اور اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہتے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی انہی میں سے ایک تھے جن کی بدولت ہمیں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی سیرت کی تفصیلات کا ایک بڑا حصہ میسر آیا۔

کھجوروں کے پیکٹ اور کرکٹ

          ہم مغرب کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ بہت سے لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اس لئے مسجد میں افطاری کے لئے کھجوروں اور پانی کا انتظام تھا۔ اچانک ایک صاحب کے موبائل کی بیل بجی ۔ انہوں نے ٹون میں کوئی انڈین گانا لگا رکھا تھا۔ سب نے انہیں گھور کر دیکھا ۔ وہ خاصے شرمندہ ہوئے۔ انسان کو ایسا کام ہی نہیں کرنا چاہئے جس سے وہ شرمندہ ہو۔

          اچانک کہیں سے ایک سفید ریش نورانی صورت والے بزرگ نمودار ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک زنبیل سی تھی۔ سب لوگ انہیں اور ان کی زنبیل کو دلچسپی سے دیکھنے لگے۔ انہوں نے اس میں ہاتھ ڈالا اور کھجور کا ایک پیکٹ نکال کر ایک صاحب کو دیا، پھر دوسرے کو اور اس کے بعد سلسلہ چل نکلا۔ زنبیل سے پیکٹ نکلتے آرہے تھے اور وہ لوگوں میں بانٹتے جارہے تھے۔ پچھلی صفوں میں بیٹھے ہوئے حضرات ہاتھ اٹھا کر ان سے فرمائش کرتے تو وہ فوراً پیکٹ اچھال دیتے جسے فرمائش کرنے والے حضرات آسانی سے کیچ کرلیتے۔ ان کی تھرو اتنی شاندار تھی کہ لوگوں کے سروں اور کانوں کے درمیان سے پیکٹ نکل جاتا اور کسی سے نہ ٹکراتا۔ اپنی جوانی میں انہوں نے نجانے کتنے کھلاڑیوں کو رن اؤٹ کیا ہوگا۔ سب حاضرین اس صورتحال کو انجوائے کرنے لگے۔ میں ان کی اس صلاحیت سے اتنا متاثر ہوا کہ اگر میرا بس چلتا تو انہیں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا فیلڈنگ کوچ مقرر کروا دیتا جس کی ہماری ٹیم کو ان دنوں بڑی ضرورت تھی۔ میں نے بھی ایک پیکٹ حاصل کیا۔ اس میں بادام والی کھجوریں تھیں اور بہت مزیدار تھیں۔

          انہی کھجوروں کے باعث ساتھ بیٹھے ہوئے حضرات سے بات چیت بھی ہوئی۔میرے دائیں طرف ایک ایرانی زائر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاحت نہیں کی تھی لیکن بھارت کی سیاحت کر چکے تھے۔ انہوں نے مجھے تہران آنے کی بھرپور دعوت دی اور میں نے انہیں پاکستان آنے کی۔ بائیں طرف ایک پاکستانی بزرگ تھے۔ انہوں نے پنجابی میں مجھ سے پوچھا، ”تسی پاکستان اچ کتھے دے او؟“ میں نے جواب دیا، ”جہلم“۔ یہ سن کر بڑے خوش ہوئے۔ فرمانے لگے، ”جہلم اچ کیہڑے محلے دے؟“ میں نے جواب دیا، ”مشین محلہ نمبر 3۔“ بولے، ”مشین محلے اچ کیہڑی گلی؟“ میں نے اس گلی کا نام بتایا جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔ اب ان کی باری تھی۔ میں نے ان سے یہی سوال کئے تو معلوم ہوا کہ ان کا گھر اس سے اگلی گلی ہی میں تھا۔

          ایک دوسرے ملک میں جب اپنے آبائی علاقے کا کوئی شخص مل جائے تو اس کی کتنی خوشی ہوتی ہے، اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس تجربے سے گزرے ہوں۔ ہم لوگ اگرچہ جہلم کو 1997 میں چھوڑ کر پہلے لاہور اور پھر کراچی میں آباد ہوگئے تھے لیکن بچپن کے محلے کی گلیاں ساری عمر نہیں بھولتیں۔ان سے محلے کے لوگوں کے بارے میں گفتگو ہونے لگی۔ اسی اثنا میں اذان ہوئی۔ ہم نے مغرب کی نماز ادا کی ۔ وہ صاحب اپنی فیملی کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لئے آئے تھے۔ میں نے انہیں جدہ میں اپنے گھر آنے کی بھرپور دعوت دی اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔ اب میں اس سفر نامے کے لئے مسجد کے طول و عرض کی پیمائش کرنے لگا تاکہ قارئین کو مسجد کی تفصیلات سے آگاہ کیا جاسکے۔

عرب بزرگ کا درس

          مسجد کے درمیانی حصے میں ایک عرب بزرگ کرسی پر بیٹھے تھے اور کچھ درس دے رہے تھے۔ طلباء زمین پر بیٹھے نوٹس لے رہے تھے۔ بہت سے پاکستانی بھی ان کے حلقہ درس میں بیٹھے بڑی عقیدت سے سر دھن رہے تھے اگرچہ انہیں اس کی کچھ سمجھ نہ آرہی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر امام مالک علیہ الرحمۃ کا حلقہ درس یاد آگیاجب وہ حدیث پڑھاتے ہوں گے تو دور دور سے آئے ہوئے طالب علم کس طرح ان کا درس سنتے ہوں گے۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہ بزرگ درس ختم کر رہے تھے۔ میں نے ایک طالب علم سے اس کے نوٹس والی کاپی لے کر دیکھا تو میری ہنسی نکل گئی کیونکہ وہ بزرگ Data Collection & Analysis  کا مضمون پڑھا رہے تھے جسے لوگ بڑی عقیدت سے سن رہے تھے۔ غالباً یہ مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر ہوں گے جو طلبا کو ریسرچ کے طریق کار سے آگاہ کر رہے تھے لیکن عربی سے ناواقف لوگ ان کے درس سے عقیدت کشید کر رہے تھے۔

گنبد خضرا

مسجد کی تفصیلات کو نوٹ کرتا ہوا میں باہر آگیا اور دروازوں کی تفصیل نوٹ کرنے کے لئے میں نے مسجد کے گرد چکر لگایا۔ جب میں قبلہ کی جانب پہنچا تو سفید روشنیوں میں نہایا ہوا گنبد خضرا بہت بھلا لگ رہا تھا۔ یہ گنبد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے عین اوپر بنا ہوا ہے۔ ہماری نعتیہ شاعری اس گنبد کے تذکرے پر اپنی معراج پر پہنچتی ہے۔ مجھے مولانا الیاس قادری کے یہ شعر یاد آئے۔

کیسا ہے پیارا پیارا ، یہ سبز سبز گنبد

کتنا ہے میٹھا میٹھا ، میٹھے نبی کا روضہ

جس وقت روح تن سے عطار کی جدا ہو

ہو سامنے خدایا، میٹھے نبی کا روضہ

آپ کی گلیوں کے کتے مجھ سے تو اچھے رہے

ہے سکوں ان کو میسر سبز گنبد دیکھ کر

          نہ صرف گنبد بلکہ اس کے سبز رنگ سے اتنی عقیدت پیدا کی جاتی ہے کہ بہت سے لوگ سبز چادر زمین پر نہیں بچھاتے تاکہ اس پر پاؤں نہ آئیں۔ سبز رنگ کی اشیا کو ٹائلٹ میں نہیں لے جاتے کہ اس سے اس رنگ کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ خدا جانے یہ لوگ گھاس پر چلتے ہوئے کیا کرتے ہوں گے؟ گنبد خضرا سے تمام تر عقیدت کا معاملہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ اس کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے قائم ہے۔

          مجھے اس طرز فکر سے کچھ اختلاف ہے۔ گنبد خضرا سے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی نسبت یقینا قائم ہوتی اگر آپ نے اپنی وفات سے قبل اپنا عالیشان روضہ بنوایا ہوتا ، اس پر سبز گنبد بنوا کر آپ حکم دیتے کہ مجھے اس میں دفن کرنا اور ہر سال یہاں آکر میرا عرس منانا تاکہ دنیا کو تمہارے نبی کی شان کا پتہ چل سکے۔ یا چلئے ایسا معاملہ ہوتا کہ آپ کو اس کا موقع نہیں ملا تو آپ وصیت ہی فرما دیتے اور آپ کے خلیفہ اول اس حکم پر عمل کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس کے بالکل متضاد معاملہ فرمایا۔ میں اپنی طرف سے کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے آپ کی وہ احادیث نقل کرتا ہوں جن پر پوری امت کا اتفاق رائے ہے۔

”جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے قبروں کو پختہ بنانے، انہیں بیٹھنے کی جگہ بنانے اور ان پر عمارتوں کی تعمیر سے منع فرمایا۔ “ (مسلم ، کتاب الصلوة)

”سیدہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے عیسائیوں کے ایک گرجا کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔ آپ نے فرمایا، ’جب بھی ان کا کوئی نیک آدمی فوت ہوتا تو یہ اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیتے۔ اللہ کے نزدیک یہ لوگ روز قیامت بدترین مخلوق میں سے ہوں گے۔“ (بخاری ، کتاب الصلوة)

”سیدہ عائشہ ، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا، ”اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاءکی قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیا۔‘ ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ”(آپ کو حجرے کے اندر اس لئے دفن کیا گیا کہ ) اگر آپ کی قبر مبارک کھلی جگہ پر ہوتی تو حضور کو یہ خدشہ تھا کہ لوگ کہیں اسے عبادت کی جگہ نہ بنا لیں۔ “ (بخاری، کتاب الجنائز)

          جن لوگوں کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ذات سے محبت ہے وہ یقینا یہ چاہیں گے کہ وہ آپ کا اس خدشہ کے مطابق آپ کی قبر انور اور روضہ مبارک کو اس شرک کا مرکز نہ بننے دیں جس کو مٹانے کے لئے آپ کو اس دنیا میں بھیجا گیا۔ آپ کی وفات کے کئی سو سال کے بعد حجرہ عائشہ پر گنبد تعمیر کیا گیا جس کا رنگ سفید تھا۔ بعد میں کسی بادشاہ نے اس پر سبز رنگ کروایا۔ اس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ گنبد کو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے کوئی نسبت نہیں ہے ۔ یہ بعد کے کسی بادشاہ کا کارنامہ ہے۔ اب اگر کوئی اور حکمران اس گنبد پر کوئی اور رنگ کروا دے یا یہاں گنبد کے علاوہ کچھ اور تعمیر کر دے تو کیا اس رنگ یا ڈیزائن کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی طرف کرنا درست ہوگی اور اس سے اسی عقیدت کا مظاہرہ کیا جائے گا جس کا موجودہ گنبد اور اس کے سبز رنگ سے کیا جاتا ہے؟

          اس کے برعکس حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی مسجد کو آپ سے گہری نسبت ہے۔ آپ نے اپنے مقدس ہاتھوں سے اس کی بنیاد رکھی اور اسے اپنی دعوت کا مرکز بنایا۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہماری پوری نعتیہ شاعری میں جو اشعار اس مسجد کی شان میں کہے گئے ہیں، ان کا حصہ بمشکل نصف فیصد بھی نہ ہوگا۔اسی چیز کو Shift of emphasis کہتے ہیں۔ یعنی جس چیز کو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے 100 کی حیثیت دی، ہم نے اسے 20 کر دیا اور جس چیز کی اہمیت 10 تھی، اسے 500 کردیا۔ شاید ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے مزارات ہمارے ذوق کی تسکین کے لئے ناکافی تھے اس لئے ہم نے اپنی طرف ایک اور مزار کا اضافہ مدینے میں کر لیا۔ اس پر غور کرنے کا مقام ہے کہ کیا روز قیامت حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہمارے اس طرز عمل سے خوش ہوں گے یا ناراض؟ آپ کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی کرنے کے باعث ہم آپ کو کیا منہ دکھائیں گے؟

اخوت و مساوات

مسجد میں دنیا بھر سے آئے ہوئے افراد موجود تھے اور بغیر کسی ذات، برادری، رنگ ، نسل اور قوم کی تفریق کے ساتھ ساتھ بیٹھے تھے اور نماز ادا کر رہے تھے۔ معلوم نہیں مسجد میں اس اخوت و مساوات کے مظاہرے کے بعد جب ہم مسجد سے باہر جاتے ہیں تو پھر کیوں اس تفریق میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کا رشتہ دوسری ذات کے لوگوں سے کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں۔

          عشاءکی نماز کے بعد میں نے فیملی کو لیا اور ہوٹل پہنچ گئے۔ میرا تجربہ ہے کہ حرمین میں آپ کے پاس دو موبائل فون ہونے چاہئیں تاکہ فیملی سے رابطہ رہے۔ حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے یہاں کی موبائل کمپنیاں سستے داموں سم فروخت کرتی ہیں۔ جتنی رقم کی سم ہوتی ہے ، اتنا ہی بیلنس اس میں ہوتا ہے۔ موبائل کمپنیوں کے سیل پوائنٹ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے بالکل قریب واقع ہیں۔ اگر آپ حج و عمرے کی ادائیگی کے لئے آ رہے ہیں تو اپنا موبائل سیٹ لے آئیں اور یہاں آکر سم خرید لیں۔ آپ کے قیام کے دوران اس کا بیلنس ختم ہو ہی جائے گا۔

          کھانے کے طور پر ہم نے شاورما پر گزارا کیا جس کی کوالٹی کچھ اچھی نہ تھی۔ میں نے عرب کے کئی شہروں کا شاورما کھایا لیکن ہے جو مزہ اور کوالٹی کراچی کے شاروما میں تھا وہ کہیں نصیب نہ ہوا۔ مدینہ میں ہم لوگ عموماً رات نہیں گزارتے تھے ۔ عام طور پر ہم فجر کے بعد جدہ سے چلتے، دس گیارہ بجے تک مدینہ پہنچتے، وہاں سارا دن گزار کر مغرب کے وقت واپس چلتے اور رات کو نو بجے تک واپس جدہ پہنچ جاتے۔ اس دن ہمارا ارادہ وہیں رکنے کا تھا کیونکہ میں اس سفر نامے کے لئے مدینہ کی تفصیلات اکٹھی کرنا چاہتا تھا۔

          میری اہلیہ نے مجھے یہ بتایا کہ خواتین کی طرف بہت بد نظمی اور ہلچل رہتی ہے۔ خواتین کے طہارت خانے بھی عموماً بہت گندے ہوتے ہیں۔ دھکم پیل، چیخ و پکار اور لڑائی جھگڑا خواتین کے حصے میں عام ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد دنیا میں گھومتے ہیں اس لئے بڑے اجتماعات کے آداب سے واقف ہوتے ہیں لیکن خواتین کو اس کی تربیت نہیں دی جاتی۔خواتین کے حصے میں بطور پولیس، افریقی خواتین تعینات ہوتی ہیں جو سب سے بڑی سختی سے پیش آتی ہیں لیکن اتنے بڑے مجمع کو کنٹرول نہیں کرپاتیں۔

          میری اہلیہ نے یہ واقعہ سنایا کہ ان کے سامنے پنجاب کی دیہاتی عورتوں نے کوئی چیز کھا کر اس کا ریپر مسجد میں پھینک دیا۔ ایک صفائی کرنے والی افریقی خاتون نے آکر سختی سے عربی میں ان سے باز پرس کی تو انہوں نے پنجابی میں اپنی حرکت کا جواز پیش کرتے جواب دیا: ”نی تسی شکر کرو، اللہ نے توانوں اپنے گھر کی خدمت دا موقع دتا اے۔ لوکی کنی دوروں آندے نیں پر تسی ایتھے رہندیاں او۔“(تم شکر کرو کہ اللہ نے تمہیں اپنے گھر کی خدمت کا موقع دیا ہوا ہے۔ لوگ کتنی دور سے آتے ہیں لیکن تم یہاں رہتی ہو۔) ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم گندگی پھیلاتی رہیں اور تم شکر ادا کیا کرو کہ تمہیں اس طرح مسجد کی خدمت کا موقع ملتا رہے۔

          رات میں مسجد نبوی بند کر دی جاتی ہے اور صبح تین بجے اسے تہجد کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔بعد میں مسجد نبوی کو رات بھر کھلا رکھنے کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ صبح جب ہم مسجد پہنچے تو اذان ہوا ہی چاہتی تھی۔ جلدی سے تین رکعت وتر کی نماز ادا کی ہی تھی کہ اذان ہوگئی ۔ اس کے بعد لوگ جوق در جوق آنے لگے۔ دس منٹ بعد جماعت کھڑی ہوگئی۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم واپس آگئے اور نیند کا دوسرا راؤنڈ شروع ہوا۔ آٹھ بجے اٹھ کر ہم پاکستان اسٹریٹ کی طرف روانہ ہوئے جہاں سے حلوہ پوری کا ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے مدینہ کے طول و عرض کی پیمائش کا آغاز کیا۔ اس دن ہم جبل احد اور چند ایک اور مقامات تک گئے۔ دیگر مقامات ہم نے مختلف مواقع پر دیکھے۔

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability