بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مدینہ کے تاریخی مقامات

جنت البقیع

جنت البقیع مدینہ منورہ کا تاریخی قبرستان ہے۔ یہ مسجد نبوی کی شرقی دیوار کے ساتھ ہی واقع ہے۔ پہلے مسجد اور قبرستان کے درمیان ایک محلہ تھا لیکن 1985ء کی تعمیر و توسیع کے بعد مسجد اور بقیع میں کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ یہ قبرستان روضہ انور سے محض دو منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے۔ اس کا دروازہ عموماً فجر اور عصر کے بعد کھولا جاتا ہے۔ عصر کی نماز کے بعد میں بقیع کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں بھی حسب روایت زیارت قبور سے متعلق احادیث درج تھیں۔

          اب سے تقریباً سو سال قبل بقیع کا نقشہ بھی ہمارے پاکستان کے قبرستانوں جیسا تھا جہاں لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے احکامات کے خلاف پختہ قبریں اور ان پر عالیشان عمارتیں تعمیر کی ہوئی تھیں۔ 1905ء میں ان عمارات کو گرا دیا گیا اور تمام قبور کو ایک ہاتھ کے برابر کر دیا گیا۔ یہاں یہ متعین کرنا ممکن نہیں ہے کہ کون صحابی کہاں دفن ہیں کیونکہ عہد صحابہ میں قبروں پر کتبے لگائے جاتے تھے اور نہ ہی انہیں پختہ بنایا جاتا تھا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قبر کے بارے میں البتہ روایات مشہور ہیں۔ یہ قبر ، قبرستان کے راستے کے عین بیچ میں واقع ہے۔

          یہاں پہنچ کر مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میرے سامنے ہے۔ یہاں مدفون 10000 صحابہ ، ہزاروں تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد امت کے بے شمار علماء و صالحین۔یہاں مدفون صحابہ میں سب سے مشہور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی صاحبزادیاں سیدہ زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن بھی یہیں دفن ہیں۔ امہات المومنین بھی، سوائے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے، سب کی سب یہیں ہیں۔ آپ کے صاحبزادے ابراہیم اور نواسے حسن رضی اللہ عنہما بھی یہیں ہیں۔ تابعین میں سب سے مشہور سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ بھی یہاں ہیں۔ امام مالک علیہ الرحمۃ بھی اسی قبرستان میں دفن ہیں۔

          یہاں پر کئی قبریں مزید آنے والوں کے لئے کھدی ہوئی تھیں۔ کھلی قبر پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ اے انسان! تو جتنا چاہے زمین کے اوپر چل پھر لے، ایک دن تجھے میرے پاس ہی آنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قبرستان انسان کو دنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت کی یاد دلاتا ہے اور اسے اس کی اصل منزل کی یاد دہانی کرواتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں بقیع میں صحابہ و اہل بیت کے قریب جگہ ملے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ آخرت میں معاملہ انسان کے اعمال پر ہی ہوگا۔ اگر کسی کے عقائد و اعمال درست نہیں تو جیسے صحابہ کرام کی زندگی میں ان کا ساتھ مفید نہیں ویسے ہی ان کے قریب قبر بھی انسان کو کچھ نفع نہیں دے سکتی۔ منافقین بھی حضور اور صحابہ کے ساتھ رہے اور بقیع ہی میں دفن ہوئے لیکن ان کا انجام جہنم ہی ہوگا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یہاں اکثر رات کے آخری حصے میں تشریف لاتے اور فرماتے:

” اے اہل ایمان کے شہر والو! السلام علیکم! کل (روز قیامت) تمہیں وہ سب ملنے والا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ تم (اور تمہارا حساب و کتاب) قیامت تک کے لئے موخر کیا جارہا ہے۔ ان شاءاللہ ہم بھی جلد ہی تمہارے پاس آنے والے ہیں۔ اے اللہ ! بقیع غرقد میں مدفون لوگوں کی مغفرت فرما۔“

          اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اپنے سفر آخرت کو ہمیشہ یاد رکھا کرتے۔ کاش ہم بھی ایسا کر سکیں۔ اس قبرستان میں میں نے یہاں پہلی مرتبہ ’لحد‘ کا ڈیزائن دیکھا۔ ہمارے پاکستان میں قبر کا جو ڈیزائن بنایا جاتا ہے اسے’صندوق‘ کہتے ہیں۔ یعنی قبر میں ایک چوکھٹا سا بنایا جاتا ہے اوراس میں مردے کو لٹا کر اس پر سلیں رکھ دی جاتی ہیں۔ لحد میں قبر کے اندر ایک بغلی قبر کھودی جاتی ہے اور اس میں مردے کو لٹا کر اصل قبر کو مٹی سے بھر دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی قبر مبارک اسی طرز کی تھی۔

مسجد قبا

حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہجرت فرما کر سب سے پہلے قبا میں قیام پذیر ہوئے۔ یہ اس زمانے میں مدینہ کی نواحی بستی تھی۔یہاں کی آبادی بھی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دعوت کے نتیجے میں اسلام قبول کر چکی تھی۔ اس مقام پر آپ نے ایک مسجد تعمیر فرمائی جسے قرآن مجید نے بعد میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مسجد قرار دیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔

 

لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ۔ (التوبہ9:108 )  ”ایک ایسی مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقوی پر رکھی گئی ہو ، اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ (اے نبی!) آپ اس میں (نماز کے لئے) کھڑے ہوں۔ وہاں ایسے لوگ ہیں جو (اپنے جسم و روح کو ) پاک کرنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“

          مسجد قباء مکہ سے آنے والی طریق الہجرہ پر واقع ہے۔ اگر آپ مکہ کی طرف سے مدینہ میں داخل ہوں تو کہیں مڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سڑک سیدھی مسجد قبا تک جاتی ہے۔ قبا کا علاقہ نہایت ہی زرخیز اور سر سبز و شاداب ہے۔ مسجد قبا کے ارد گرد گھنا سبزہ ہے اور کھجور کے کئی فارم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے زمانے میں بھی یہ ایک زرعی علاقہ تھا۔ احادیث کی کتب میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زراعت سے متعلق کئی روایات ملتی ہیں جو کہ ایک باقاعدہ زمیندار تھے۔

          ہم لوگ مغرب سے کچھ دیر قبل ہی مسجد قبا جا پہنچے۔ نماز سے پہلے ہم نے قبا کے پورے علاقے کو دیکھنے کا ارادہ کیا۔ یہ پورا علاقہ خاصا سر سبز و شاداب تھا۔ مسجد کے جنوب میں پانچ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بہت بڑا پارک تھا جو ہمارے کراچی کے سفاری پارک سے ملتا جلتا تھا۔ مغرب کے وقت ہم مسجد میں جا پہنچے اور نماز ادا کی۔ مسجد کافی بڑی اور خوبصورت تھی۔ نمازیوں کی بہت بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔ مجھے بمشکل صحن میں جگہ مل سکی۔

          ایک حدیث میں مسجد قبا میں دو رکعت نماز پڑھنے کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اس سے عمرہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم بھی یہاں نماز پڑھنے کے لئے ہر ہفتے تشریف لایا کرتے تھے۔ ظاہر ہے مقصد محض نماز کی ادائیگی نہیں بلکہ قبا کے لوگوں کی تعلیم و تربیت رہا ہوگا۔ اس مسجد کی پہلی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے کی۔ دوسری تعمیر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اضافہ کیا گیا۔بعد میں اس کی تعمیر و تجدید ہوتی رہی۔ مسجد کی موجودہ تعمیر شاہ فیصل کے دور میں 1968ء میں ہوئی جس میں 1985ء میں اضافہ کیا گیا۔ اب مسجد میں 20000 افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔

مسجد قبلتین

مسجد قبلتین وہ مسجد ہے جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نماز کی امامت فرما رہے تھے اور دوران نماز تبدیلی قبلہ کے احکام نازل ہوئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف فرما ہوئے تو میثاق مدینہ کے مطابق مدینہ کے تمام مسلم و غیر مسلم باشندوں نے آپ کو اپنا حکمران تسلیم کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک امت ہونے کا شعور پیدا کرنے کے لئے ہمیں ایک قبلے کی طرف منہ کرکے نماز کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کو اپنی پوری امت کا قبلہ مقرر کیا تھا۔ بنی اسماعیل ہمیشہ اس سے وابستہ رہے ۔ بنی اسرائیل بھی شروع میں اسی کی طرف منہ کرکے نماز اور قربانی کا اہتمام کرتے رہے۔ تورات میں تفصیل سے خیمہ عبادت کا ڈیزائن بتایا گیا ہے اور اس کا رخ جنوب یعنی کعبہ کی طرف تھا۔ جب سیدنا سلیمان علیہ السلام نے یروشلم میں بیت المقدس کی مسجد تعمیر فرمائی تو اس کے کچھ عرصے بعد بنی اسرائیل نے اسے اپنا قبلہ قرار دے لیا۔

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بعثت کے وقت ذریت ابراہیم کی دونوں شاخیں اپنے اپنے قبلے کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے تھے اور اس کے بارے میں شدید نوعیت کے تعصب میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں اقوام کے وہ افراد جو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی پیروی پر متفق ہو چکے تھے، کی آزمائش کے لئے مدینہ ہجرت کے بعد کچھ عرصے کے لئے بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلہ مقرر کیا۔ اس سے بنی اسماعیل کے تعصب پر ضرب پڑی لیکن ثابت قدم قریشی صحابہ نے اللہ کے حکم کے سامنے تمام تعصبات کو قربان کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ برس کے بعد دوبارہ کعبہ کو قبلہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ جو مسلمان ہو چکے تھے یا مسلمانوں کے قریب تھے، آزمائے گئے اور ان میں سے منافقین کا پردہ چاک ہو گیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”نادان لوگ ضرور کہیں گے : انہیں کیا ہوا، کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے، اس سے یکایک پھر گئے؟ (اے نبی!) آپ ان سے فرمائیے: مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ تو اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ”امت وسط“ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں کے سامنے حق کی گواہی دو اور رسول تم پر حق کی گواہی دیں۔ پہلے جس کی طرف تم منہ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ آزمانے کے لئے قبلہ بنایا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے۔ معاملہ تھا تو بڑا سخت، لیکن ان لوگوں کے لئے سخت ثابت نہ ہوا جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے۔ اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ یقین جانو وہ لوگوں کے حق میں بہت رحیم و کریم ہے۔

یہ تمہارے منہ کا ہم بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم تمہیں اسی قبلے کی طرف پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد الحرام کی طرف رخ پھیر دو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ یہ اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ حکم ان کے رب کی طرف ہی سے ہے اور برحق ہے، مگر اس کے باوجود یہ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ تم ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے اؤ، یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ان کے قبلے کی پیروی کرو گے۔ ان میں سے کوئی گروہ بھی ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اگر اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے ، تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تمہارا شمار یقینا ظالموں میں سے ہو گا۔ (البقرہ 2:143-145)

          مسجد قبلتین، مسجد نبوی سے تقریباچار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یہاں بشر بن براءبن معرور کے ہاں دعوت پر تشریف لائے تھے۔ یہاں ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا اور آپ نے نماز ادا کی۔ تیسری رکعت میں یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ نے اس کے حکم کے مطابق اپنا رخ تبدیل کیا۔ چونکہ یہ 180 درجے کی تبدیلی تھی، اس لئے لامحالہ آپ کو چل کر مخالف سمت میں آنا پڑا ہوگا اور صحابہ کو اپنی اپنی جگہ پر ہی اپنا رخ تبدیل کرنا پڑا ہوگا۔ بعد ازاں اس حکم کی منادی پورے مدینہ میں کی گئی۔ بہت سی دوسری مساجد میں لوگ نماز پڑھ رہے تھے جنہوں نے حالت نماز میں اپنا رخ تبدیل کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دور کا مدینہ صرف موجودہ مسجد نبوی تک ہی محدود نہ تھا۔

          ہم عصر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ جب یہاں پہنچے تو بہت رش تھا اور لوگ مسجد دیکھنے کے آ رہے تھے۔ بعض لوگ یہاں نوافل بھی ادا کررہے تھے۔ زیارت اور عبادت کی نیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے صرف تین مساجد یعنی مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کی طرف بطور خاص سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔ کسی اور مقام کی طرف بطور خاص عبادت کے لئے سفر کرکے جانے سے آپ نے منع فرمایا ہے۔ بہت سے لوگ ان مقامات کے دیکھنے کو ”زیارت“ کا عنوان دیتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ان تمام مقامات کو صرف ایک تاریخی یادگار کے طور پر دیکھناچاہئے نہ کہ کسی دینی اہمیت کے پیش نظر یہاں آنا چاہئے۔

          مسجد قبلتین بھی جدید بنی ہوئی ہے۔ یہ سفید رنگ کی بہت بڑی مسجد ہے جس کے اطراف میں گھنا سبزہ اور درخت ہیں۔ سنا ہے پرانی مسجد میں شمال اور جنوب دونوں جانب محراب تھی جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ اس مسجد میں یروشلم اور مکہ ، دونوں جانب منہ کرکے نماز پڑھی گئی ہے لیکن جدید تعمیر میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آرہی تھی۔ یہ عام مساجد جیسی تھی۔ محض اتنا تھا کہ اس مسجد کا آرکیٹکچر بہت خوبصورت تھا اور پوری مسجد سبز درختوں کے درمیان بہت بھلی لگ رہی تھی۔ یہ منظر مسجد قبا سے کسی حد تک مشابہ تھا۔ ان مقامات کو دیکھنے کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی اور طریق الہجرہ پر سفر کرتے ہوئے ساڑہے تین گھنٹے میں جدہ پہنچ گئے۔


اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability