بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بدر

میدان بدر دیکھنے کی مجھے بہت عرصے سے خواہش تھی۔ اب تک ہم لوگ طریق الہجرہ سے مدینہ جاتے رہے تھے۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ جدہ یا مکہ سے مدینہ جانے کے دو راستے ہیں۔ ایک تو وہ راستہ ہے جو اب طریق الہجرہ کہلاتا ہے۔ اسی راستے سے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی۔ اس دور میں یہ راستہ زیادہ استعمال نہیں ہوتا تھا۔ دوسرا راستہ ساحل کے ساتھ ساتھ ہے جو جدہ سے براستہ رابغ، ینبوع کی طرف جاتا ہے۔ بدر کے مقام سے ایک سڑک مدینہ کی طرف نکلتی ہے۔ یہ قدیم دور میں عام استعمال ہونے والا راستہ تھا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ اس دور کی کوسٹل ہائی وے تھی جس پر تجارتی قافلے سفر کیا کرتے تھے۔

بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے یہ قافلے شمال کی طرف جایا کرتے تھے۔ آخرمیں بحیرہ احمر کی دو شاخیں ہو جاتی ہیں۔ دائیں طرف کی شاخ خلیج اردن کہلاتی ہے جس کا آخری سرا 'ایلہ'  اور 'عقبہ' کی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ یہ قافلے خلیج اردن کے ساتھ سفر کرتے ہوئے بحیرہ روم کی کسی بندر گاہ تک جایا کرتے تھے جہاں یہ اپنا سامان فروخت کرتے جو آگے یورپ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں بھیجا جاتا تھا۔ اس دور میں موجودہ اردن، فلسطین اور شام کا پورا علاقہ، شام ہی کہلاتا تھا جو براہ راست قیصر روم کے زیر تسلط تھا۔بائیں شاخ خلیج سویز کہلاتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان کا علاقہ جزیرہ نما سینا کہلاتا ہے۔ یہیں پر کوہ طور واقع ہے۔

میقات جحفہ

اس سفر میں میری والدہ ہمراہ تھیں۔ جدہ سے نکل کر ہم لوگ مدینہ روڈ پر آگئے۔ یہ سکس لین موٹر وے ہے۔ پہلے ائر پورٹ کا حج ٹرمینل آیا۔ اس کے بعد عسفان کا ایگزٹ آیا۔ یہاں سے ایک روڈ عسفان کی طرف جارہی تھی۔ آگے ذھبان اور ثول کے قصبے تھے۔ وادی قضیمہ کے پاس پہنچ کر روڈ دو حصوں میں تقسیم ہور ہا تھا۔ ایک حصہ طریق الہجرہ سے مل رہا تھا اور دوسرا سیدھا ساحل کے ساتھ ساتھ ینبوع کی طرف جارہا تھا۔ ہم کوسٹل ہائی وے کی طرف ہو لئے۔ اب ہم ایک وسیع چٹیل میدان میں سفر کر رہے تھے۔ ہمارے بائیں جانب بحیرہ احمر تھا اور دائیں جانب پہاڑیوں کی طویل قطار تھی۔ جزیرہ نما عرب کا یہ حصہ ”تہامہ“ کہلاتا ہے۔ 130 کلومیٹر کے فاصلے پر جحفہ کا میقات آیا۔ شمالی جانب سے مکہ آنے کے یہ دو راستے ہیں۔ جو لوگ حج یا عمرہ کے لئے براستہ مدینہ آرہے ہوں، ان کے لئے میقات ذو الحلیفہ ہے جو مدینہ سے نکلتے ہی آجاتا ہے۔ دوسری طرف جو لوگ اردن، شام اور مصر سے براستہ کوسٹل ہائی وے آرہے ہوں، ان کا میقات جحفہ ہے۔ قدیم دور میں عمالقہ کے حملوں سے تنگ آ کر قوم عاد کے کچھ افراد یہاں آباد ہوئے تھے۔

          یہاں قریب ہی رابغ کا شہر تھا۔ 2005ء میں شاہ عبداللہ نے یہاں دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ اور اکنامک سٹی بنانے کا اعلان کیا۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑ ی بندرگاہ روٹر ڈیم کی ہے۔ رابغ کی بندرگاہ اس سے بھی دس گنا زیادہ بڑی ہو گی اور یہاں دنیا کے بڑے بڑے بحری جہاز رک سکیں گے۔ اس وقت سعودی عرب میں دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے ذخائر ہیں۔ تیل کی موجودہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے پیش نظر یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ ذخائر 2050ء تک ختم ہو جائیں گے۔ پچھلے پچاس سال سے سعودی عرب ایک صارف معاشرے (Consumer Society) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ لوگ پوری دنیا کو تیل بیچ کر ڈالر حاصل کرتے ہیں اور پھر یہ ڈالر دے کر دنیا بھر سے ضرورت زندگی کی تمام اشیاءحاصل کرتے ہیں۔ سعودی عرب اب انڈسٹرئلائزیشن کے دور سے گزر رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ملک میں زیادہ سے انڈسٹری لگے تاکہ تیل ختم ہونے تک یہ ایک بڑی معیشت بن سکے۔

ابوا اور سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا

          رابغ سے آگے ابواء کا ایگزٹ آیا۔ یہ جدہ سے 190 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے وفات پائی۔ آپ مدینہ میں واقع اپنے میکے تشریف لے گئی تھیں۔ آپ کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم بھی تھے جن کی عمر صرف چھ سال تھی۔ واپسی پر آپ بیمار ہوگئیں اور ابواءکے مقام پر آپ وفات پاگئیں۔ یہیں پر آپ کو دفن کیا گیا۔

          میں نے گاڑی ابواءکی طرف موڑ لی۔ یہ اب بھی ایک چھوٹا قصبہ ہی تھا اور کوسٹل ہائی وے سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ مجھے گمان ہوا کہ اس دور کا راستہ شاید ابواء سے گزرتا ہو لیکن تھوڑا آگے جا کر سنگل روڈ اونچی نیچی پہاڑیوں سے گزرنے لگی۔ اب سمجھ آئی کہ اس دور کا راستہ تو یقینا موجودہ کوسٹل ہائی وے کے پاس ہی ہوگا۔ جب سیدہ آمنہ کی طبیعت خراب ہوئی ہوگی تو قریبی قصبہ یہی ابواء ہوگا۔ قافلے کے لوگ آپ کو کسی حکیم وغیرہ کو دکھانے کے لئے یہاں لائے ہوں گے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی ہو گی۔ دس منٹ میں ہم یہاں پہنچ گئے۔ یہاں ایک بقالہ سے میں نے کولڈ ڈرنک لئے اور دکاندار سے سیدہ کی قبر کے بارے میں پوچھا۔ ان صاحب کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔ انہوں نے مجھے قبر کی لوکیشن تو بتا دی لیکن ساتھ مشورہ بھی دیا کہ آپ وہاں نہ جائیں کیونکہ مطوع حضرات نے عین قبر کے قریب پولیس چوکی بنائی ہے اور یہاں آنے والوں سے بڑی سختی سے پیش آتے ہیں اور ان کا اقامہ وغیرہ ضبط کر لیتے ہیں۔

          ہمارے بعض حضرات اپنی طرف سے یہ فرض کیا لیتے ہیں کہ ایسے مقامات پر جو بھی آتا ہے وہ مشرکانہ افعال کے لئے آتا ہے۔ چنانچہ وہ ہر آنے والے سے ایک جیسا سلوک ہی کرتے ہیں۔ میری عربی اس وقت اتنی رواں نہیں تھی کہ میں انہیں سمجھا سکتا کہ میں یہاں کسی شرک یا بدعت کے لئے نہیں آیا اس لئے ہم نے یہی طے کیا کہ واپس ہو لیا جائے۔

          ہمارے مذہبی لٹریچر میں بہت سی لا یعنی اور تکلیف دہ بحثیں بھی رواج پا گئی ہیں۔ ان میں سے ایک بحث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے والدین کے ایمان کے بارے میں ہے۔ ایک گروہ چند روایات کی بنیاد پر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے والدین کو کافر اور معاذ اللہ ابدی جہنمی قرار دیتا ہے اور دوسرا گروہ چند اور روایات کی بنیاد پر انہیں اہل ایمان میں شامل کرتا ہے۔

          اگر ان بحثوں کا مطالعہ کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں ہمارے اپنے اعمال کا تو کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا البتہ سب سے پہلے یہ پوچھا جائے گا کہ بتاؤ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے والدین مسلمان تھے یا نہیں؟ اس معاملے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمیں خاموشی اختیار کرنی چاہئے اور کوئی بحث نہیں کرنی چاہئے۔ ان حضرات کے بارے میں یہ حسن ظن رکھنا چاہئے کہ وہ دین ابراہیمی پر قائم ہوں گے جیساکہ اعلان نبوت سے قبل خود حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسی بحث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے سامنے کی جاتی تو آپ اس سے سخت رنجیدہ ہوتے۔ یہی رویہ آپ کے چچا ابوطالب کے ایمان کی بحث میں ہونا چاہئے۔

          ابواءسے نکل کر ہم دوبارہ کوسٹل ہائی وے پر آگئے۔ النصائف اور الرائس کے قصبوں سے گزرتے ہوئے ہم وادی صفراء میں داخل ہوئے۔ یہ وادی اسم بامسمیٰ تھی یعنی زرد رنگ کی تھی۔ یہ وادی بہت وسیع تھی اور میدان بدر سے متصلاً واقع تھی۔ یہاں سے کوسٹل ہائی وے ینبوع اور ضباء سے ہوتی ہوئی اردن کی طرف جارہی تھی اور ایک روڈ مدینہ کی طرف نکل رہی تھی۔جدہ اب 265 کلومیٹر پیچھے رہ گیا تھا۔ یہ فاصلہ ہم نے تقریباً پونے دو گھنٹے میں طے کیا تھا۔

          اس مقام سے مدینہ جانے والی پرانی روڈ سنگل تھی اور پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی مدینہ کی طر ف جاتی تھی۔ اب نئی روڈ بنی تھی جو کہ تھری لین موٹر وے تھی۔ یہ نہایت شاندار کوالٹی کی روڈ تھی۔ یہ روڈ بھی پہاڑوں کے بیچ میں سے گزر رہی تھی لیکن اس کے موڑ ایسے بنائے گئے تھے کہ 150 کی رفتار پر بھی اگر موڑ کاٹا جائے تو گاڑی کے الٹنے کا کوئی خطرہ نہ تھا۔ جیسے ہی ہم پہاڑوں میں داخل ہوئے، بدر کا ایگزٹ آگیا۔ اس کا فاصلہ جدہ سے 300 کلومیٹر اور مدینہ سے 156 کلومیٹر تھا۔

بدر کا نظارہ

بدر کے ایگزٹ سے بدر شہر کا فاصلہ محض 5 کلومیٹر تھا۔ راستے میں ایک نہایت ہی خوبصورت پہاڑی نظر آئی۔ یہ سیاہ رنگ کی چٹان پر مبنی پہاڑی تھی لیکن یہ چوٹی تک ریت سے ڈھکی ہوئی تھی۔ ریت بھی صاف سنہرے رنگ کی تھی۔ اس رنگ کی ریت کا شیڈ میں نے اس سے پہلے صرف کراچی کے مغرب میں واقع ساحلی گاؤں "مبارک ویلج" میں دیکھا تھا۔ چمکتی دھوپ میں ریت آنکھوں کو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ انسان جب اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو دیکھتا ہے تو حیرت سے دنگ رہ جاتا ہے۔ دور کیوں جائیے، ہمارا اپنا وجود بھی پکار پکار کر یہ گواہی دے رہا ہے کہ تبارک اللہ احسن الخالقین۔

          بدر ایک چھوٹا سا صاف ستھرا اور خوبصورت شہر تھا۔ عہد رسالت میں یہاں کوئی آبادی نہ تھی لیکن اب یہ ایک شہر بن گیا تھا۔ شہرمیں داخل ہوتے ہی ہمیں ایک ہسپتال نظر آیا۔ اس کے قریب رکی ہوئی کار میں ایک عرب فیملی بیٹھی تھی۔ میں نے مرد سے عربی میں جنگ بدر کے مقام کے بارے میں پوچھا۔ کہنے لگے، آپ میرے پیچھے آ جائیں۔ میں سمجھا شاید انہوں نے اسی طرف جانا ہے۔ میں ان کے پیچھے ہو لیا۔ ہمیں جنگ بدر کے مقام تک پہنچا کر وہ واپس ہو لئے۔ وہ صرف ہمیں وہاں چھوڑنے کے لئے آئے تھے۔

          مہمان نوازی کا یہ مظاہرہ دیکھ کر میں بڑا متاثر ہوا۔ سفر میں میں نے یہ دیکھا ہے کہ چھوٹے شہروں اور دیہات کے لوگ اس قسم کی مہمان نوازی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ عربوں کے بارے میں ہمارے ہاں یہ عام تصور ہے کہ یہ لوگ اخلاق کے اچھے نہیں ہوتے لیکن میرا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ ہم لوگ محض چند لوگوں کی بداخلاقی کو پوری قوم پر محمول کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر عرب نہایت ہی مہمان نواز اور اعلی اخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔ ہاں وہ لوگ جو حجاج اور زائرین کے گروپوں کی خدمت پر معمور ہوتے ہیں، ان میں سے بعض لوگ لالچی اور خود غرض ہوتے ہیں جن کی بدولت پوری عرب کمیونٹی بدنام ہوتی ہے۔

          جس مقام پر ہم کھڑے تھے، وہاں شہداء بدر کی قبریں تھیں۔ ہم نے احادیث میں منقول ، زیارت قبور کے موقع پر پڑھی جانے والی دعا پڑھی۔ ایک اورگاڑی وہاں آکر رکی اور اس میں سے لوگ اتر آئے۔ یہاں ایک چوک سا بنا ہوا تھا۔ اس کے درمیان میں ایک بہت بڑا کتبہ نصب تھا جس پر شہداء بدر کے نام لکھے ہوئے تھے۔ میں یہ نام نوٹ کرنے لگا۔ جنگ بدر میں چودہ صحابہ کرام شہید ہوئے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔

1.               صفوان بن وہب

2.               ذوالشمالین بن عبد عمرو

3.               مہجع بن صالح

4.               عاقل بن کبیر

5.               عبیدہ بن حارث

6.               سعد بن خثیمہ

7.               مبشر بن عبد المنذر

8.               حارثہ بن سراقہ

9.               رافع بن المعلا

10.        عمیر بن الحمام

11.        یزید بن حارث

12.        معوذ بن حارث

13.        عوف بن حارث

14.        عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم۔

          ان میں 6 مہاجر اور 8 انصار تھے۔ انصاریوں میں سے 6 کا تعلق قبیلہ خزرج سے اور 2  کا تعلق اوس سے تھے۔ سیدنا عمیر بن ابی وقاص مشہور صحابی سعد بن ابی وقاص کے بھائی تھے۔ عبیدہ بن حارث قریشی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے رشتے دار تھے۔ آپ جنگ بدر کے پہلے شہید تھے جو انفرادی مقابلوں میں شہید ہوئے۔ میرے سامنے وہ منظر گردش کرنے لگا جب قریش کی طرف سے عتبہ، شیبہ اور ولید میدان میں آئے۔ ان کے مقابلے پر سیدنا حمزہ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نکلے۔ عتبہ اور ولید بالترتیب سیدنا حمزہ اور علی کے ہاتھوں قتل ہوئے البتہ شیبہ نے سیدنا عبیدہ کو زخمی کردیا۔ اس کے بعد اس نے سیدنا علی سے مقابلہ کیا اور مارا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی سیرت پر بننے والی فلم The Message میں یہ منظر بہت خوبی سے فلمایا گیا ہے۔

فلم "میسج" سے جنگ بدر کا منظر

     حسب روایت یہاں بھی ایک پولیس چوکی بنی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر میں ایک پولیس مین نکل آیا اور نہایت ہی درشتگی کے ساتھ سب لوگوں کو وہاں سے جانے کے لئے کہا۔ ہم اس جگہ سے ہٹ کر واپس آئے۔ ایک دیوار پر جنگ بدر کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ یہ ایک اعلیٰ کاوش تھی۔ اس نقشے کے مطابق جہاں اب شہدا کی قبریں ہیں، عین اس جگہ معرکہ ہوا تھا۔

مسلمانوں کا لشکر اس سے ہٹ کر اس جگہ تھا جہاں اب مسجد عریش ہے اور مشرکین کا لشکر اس مقام پر تھا جہاں اب کھجور کا فارم ہاؤس ہے۔ اسی مقام پر ایک کنواں اور حوض بھی تھا جس کو مسلمانوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ ہم اب دائیں جانب موڑ کاٹ کر مسجد عریش کے قریب آگئے۔ یہ ایک بہت بڑی مسجد تھی۔ عربی میں ’عریش‘، چھپر کو کہتے ہیں۔ اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے لئے ایک چھپر بنایا گیا تھا جہاں بیٹھ کر آپ نے ساری رات عبادت کی تھی اور پھر دن کے وقت جنگی ہدایات جاری کی تھیں۔ چھپر کا یہ مقام مسجد کے اندر کہیں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کا قانون دینونت

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت بیان ہوئی ہے کہ اس نے بارہا اس دنیا میں محدود پیمانے پر ایک چھوٹی سی قیامت برپا کی ہے۔ اس کا مقصد یہ رہا ہے کہ لوگوں کے سامنے ایک نمونہ (Sample) آجائے کہ ایسا ہی معاملہ وہ آخرت میں کرنے والا ہے۔ یہ قیامت صغریٰ محض کسی قدرتی آفت (Disaster) کی شکل ہی میں نہیں ہوتی۔اس کا طریق کار یہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے کسی قوم کا انتخاب کرتا ہے۔ اس میں سے ایک رسول منتخب کرتا ہے اور اس پر اپنی وحی بھیجتا ہے۔ اس رسول کے ذریعے قوم کو الٹی میٹم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی روش کو چھوڑ دیں اور ایک اللہ کی عبادت کریں۔ اپنے اخلاقی وجود کا تزکیہ کریں اور خدا کے دین کے علمبردار بن کر دنیا میں رہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اسی دنیا میں آئے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ رسول کی پیروی کریں گے تو اس کی جزا انہیں اس دنیا ہی میں دی جائے گی۔ رسول ایک خاص وقت تک انہیں اپنی دعوت پہنچاتا ہے۔ جب اس قوم پر اتمام حجت ہو جاتا ہے یعنی رسول کی پیروی نہ کرنے کے لئے ان کے پاس سوائے ضد ، عناد اور تعصب کے کوئی عذر باقی نہیں رہتا تو ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔

          اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ نے متعدد رسولوں کا انتخاب کیا۔ سیدنا نوح، ہود، صالح، شعیب، ابراہیم اور لوط علیہم الصلوة والسلام کو اپنی قوموں کی طرف بھیجا گیا۔ ان کے نافرمانوں کو اتمام حجت کے بعد اسی دنیا میں عذاب کا شکار کیا۔ یہ عذاب قدرتی آفات کی صورت میں آیا۔ اس میں اور ہماری آج کی آفات میں یہ فرق ہے کہ وہاں رسول کے ذریعے پہلے سے خبردار کیا گیا۔ اس لئے آج کل کی آفات کو ویسا عذاب قرار دینا درست نہیں۔

          سیدنا موسیٰ علیہ الصلوة والسلام کے ساتھ معاملہ کچھ مختلف ہوا۔ ان پر بنی اسرائیل کے لاکھوں افراد ایمان لے آئے جبکہ فرعون اور اس کے ساتھی ایمان نہ لائے۔ فرعون کو بنی اسرائیل کے سامنے بحیرہ احمر میں غرق کردیا گیا۔ یہ معاملہ اتمام حجت کی آخری شکل تھی۔ اس کے بعد ارد گرد کی اقوام میں کسی کے لئے اللہ تعالیٰ کے وجود ، موسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور آخرت کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اس مقام کے ارد گرد بسنے والی اقوام پر یہ عذاب موسیٰ علیہ السلام کے صحابہ کے ہاتھوں نازل کیا۔ آپ کے خلیفہ اول یوشع اور خلیفہ دوم کالب علیہما السلام نے ان قوموں کو دین حق کی دعوت دی۔ جنہوں نے مان لیا انہیں امان ملی اور جنہوں نے نہ مانا، انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تہہ تیغ کر دیا گیا۔

          تورات میں اللہ تعالیٰ کا فرمان درج ہے:

”اور خداوند نے مجھ (موسیٰ) سے کہا، میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک رسول برپا کروں گا اور میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گااور وہ انہیں وہ سب کچھ بتائے گا جس کا میں اسے حکم دوں گا۔ اگر کوئی شخص میرا کلام، جسے وہ میرا نام لے کر سنائے گا، نہ سنے گا تو میں خود اس سے حساب لوں گا۔ “ (استثنا 18:17-19 )

          اسی فرمان کے تحت اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو رسول متعین کیا۔ آپ کی قوم پر اتمام حجت کیا گیا۔ آپ پر بھی قدیم رسل کے برخلاف بہت سے لوگ ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق آپ کی قوم کو آپ کے صحابہ کے ہاتھوں سزا دی۔ جنگ بدر اس عذاب کی پہلی قسط تھی۔

          جنگ بدر دراصل قریش کی اس لیڈر شپ کے لئے سزائے موت کی حیثیت رکھتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی پر اتر آئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے جنگ سے ایک دن پہلے اپنے مقدس ہاتھوں سے زمین پر نشان لگا دیے کہ فلاں سردار یہاں مرے گا اور فلاں وہاں۔ اگلے دن ایسا ہی ہوا اور ہر لیڈر عین اپنے تعین کردہ مقام پر قتل ہوا۔ قریش کے سردار عتبہ و شیبہ ، انفرادی مقابلوں میں سیدنا حمزہ و علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

          جب یہ لوگ جنگ کے لئے جا رہے تھے تو ان کے ایک عیسائی غلام تھے جن کا نام عداس رضی اللہ عنہ تھا ۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اہل کتاب ہونے کے باعث ، یہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون سے اچھی طرح واقف تھے۔ انہوں نے اپنے آقاؤں کے پاؤں پکڑ کر انہیں جانے سے روکا اور بتایا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جارہے ہیں۔ یہ لوگ دوسرے جاہلی سرداروں کی طرح گھٹیا پن پر کبھی نہ اترے تھے۔ طائف کے سفر میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مدد کی تھی۔ لیکن اپنے قومی تعصب کے باعث اس موقع پر انہوں نے عداس کی بات نہ مانی اور محض قومی غرور میں مقابلہ پر آ اترے جس کے نتیجے میں انہیں عذاب کا مزہ چکھنا پڑا۔

          عذاب کی اس پہلی قسط کے نتیجے میں قریش کی اس لیڈر شپ کا صفایا ہوگیا جن کے بارے میں یہ واضح تھا کہ یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابولہب اس جنگ میں بیماری کا بہانہ کرکے شریک نہیں ہوا۔ اس پر یہ سزا چیچک کی صورت میں مسلط کی گئی اور اسے قبر بھی نصیب نہ ہوئی کیونکہ اس دور کے عرب چیچک سے بہت ڈرتے تھے اور ایسے مریض کو ہاتھ بھی نہ لگاتے تھے۔ اس کے بعد قریش کی لیڈر شپ ان لوگوں کے ہاتھ میں آئی جن کے دل میں کچھ قبولیت کا رجحان باقی تھا۔ بالآخر یہی لوگ ایمان لے آئے۔

          جنگ کے واقعات کچھ اس طرح سے تھے کہ قریش کا ایک قافلہ ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) کی قیادت میں شام سے براستہ کوسٹل ہائی وے آ رہا تھا۔ اہل مکہ اکثر مدینہ پر تاخت کرکے لوٹ مار کرتے رہتے تھے۔ اس لئے جوابی کاروائی یہ کی گئی کہ ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔ اس قافلے میں مکہ کے تمام تاجروں کا سرمایہ لگا ہوا تھا۔ انہوں نے قافلہ بچانے کے لئے 1000 کا لشکر تیار کرکے بھیج دیا۔ قافلہ تو ساحل کے ساتھ ہو کر نکل گیا لیکن اس لشکر نے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا عزم کیا اور پیش قدمی جاری رکھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم محض 313 جانثاروں کے ساتھ تشریف لائے۔ مدینہ سے آنے والا راستہ اس وقت بھی بدر کے مقام پر ساحلی شاہراہ سے ملتا تھا۔ اسی مقام پر جنگ ہوئی۔

          اسلام اور کفر کے لشکروں میں ایک اور تین کا تناسب تھا۔ اس کے باوجوداس جنگ میں محض 14 صحابہ شہید ہوئے جبکہ 70 کفار قتل ہوئے اور 70 قیدی بنائے گئے۔ قتل ہونے والوں میں تمام سرکش لیڈر شامل تھے۔ باقی لوگ بھاگ نکلے۔ قرآن مجید میں اس جنگ کو اس طر ح بیان کیا گیا ہے۔

ُُ”بدر میں اللہ نے تمہاری مدد کی حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے۔ تو اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بن سکو۔اس وقت کو یاد کرو (اے رسول!) جب تم اہل ایمان سے کہہ رہے تھے، ’کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ 3000 فرشتوں سے تمہاری مدد کرے۔بے شک، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو جس آن دشمن تم پر چڑھائی کریں گے، اسی آن تمہارا رب (3000 نہیں بلکہ) 5000 فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ ‘یہ بات اللہ نے تمہیں اس لئے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں۔ فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے ، اللہ کی طرف سے ہے،جو بڑی قوت والااور دانا و بینا ہے۔ (یہ مدد وہ اس لئے تمہیں دے گا )تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے ، ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہو جائیں۔“ (اٰل عمران 3:123-127 )

سورہ انفال کا موضوع ہی جنگ بدر اور اس سے پہلے اور بعد کے واقعات ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں ضرور ملے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ سے تمہارا سامنا ہو۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق، حق ثابت ہو سکے اور باطل، باطل خواہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ اور وہ موقع یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے ۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لئے 1000 فرشتے بھیج رہا ہوں۔ یہ بات اللہ نے اس لئے فرمائی کہ تمہیں خوشخبری ملے اور تمہارے دل مطمئن ہوں ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے، اللہ کی طرف ہی سے ہوتی ہے۔یقینا اللہ زبردست اور دانا ہے۔

وہ وقت یاد کرو جب اللہ غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست کو دور کر ڈالے۔ تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے تمہارے قدم جما دے۔ اور وہ وقت جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کر رہا تھا ، ’میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دل میں رعب ڈالے دیتا ہوں، پھر تم ان کی گردنوں اور جوڑوں پر ضرب لگاؤ۔‘ یہ اس لئے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے، اس کے لئے ، اللہ نہایت ہی سخت گیر ہے۔ یہ ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزہ چکھواور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔۔۔۔۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا۔ (اے نبی!) آپ نے ان کی طرف ریت نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے ان کی طرف پھینکی۔ (مومنین کے ہاتھوں کو اس کام میں استعمال کرنے کا) مقصد یہ تھا کہ اللہ مومنین کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ۔ بے شک اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے، کفار کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والاہے۔ (ان کفار سے کہہ دو) اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔ اب باز آجاؤ تو تمہارے لئے بہتر ہے ، ورنہ پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری فوج خواہ کتنی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔بے شک اللہ مومنین کے ساتھ ہے---------

اس وقت اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا، جب (اے رسول!) آپ ان کے درمیان موجود تھے اور نہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ انہیں عذاب دے۔ لیکن اب وہ کیوں نہ ان پر عذاب نازل کرے جب وہ مسجد الحرام کا راستہ روک رہے ہوں۔ حالانکہ وہ اس کے جائز متولی نہیں ہیں---------

(اے رسول!) آپ ان سے کہیںکہ اگر یہ اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ، اس سے درگزر کر لیا جائے گا، لیکن اگر یہ اپنی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا، وہ سب کو معلوم ہے---------

یاد کرو وہ وقت جب تم وادی کے اس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا۔ اگر اس سے پہلے تمہارا مقابلہ ان سے ہوتا تو تم ضرور پہلوتہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لئے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا ہے ، اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ روشن دلیل کے ساتھ ہلاک ہواور جسے زندہ رہنا ہے، وہ روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔

اور یاد کرو وہ وقت جب، (اے رسول!) اللہ انہیں تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا تھا۔ اگر کہیں وہ تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملے میں بحث شروع کر دیتے۔ لیکن اللہ ہی نے تمہیں اس سے بچایا، وہ سینوں کے حال بہتر جانتا ہے۔ اور یاد کرو اس وقت کو جب اللہ نے ان کی نگاہ میں تمہیں اور تمہاری نگاہ میں انہیں کم کر دکھایا تاکہ جو بات ہونی ہے، اللہ اسے ظہور میں لے آئے اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ “ (الانفال 8:5-44 )

          سفر سے واپس آکر میں نے یہ آیات بار بار پڑھیں۔ ان کا مطالعہ میں پہلے بھی کر چکا تھا لیکن یہ مقامات دیکھنے کے بعد جنگ بدر کی صورتحال جس طرح واضح ہوئی، وہ پہلے نہ ہو سکی تھی۔ یقینا جنگ بدر اللہ کے عذاب کی پہلی قسط تھی جو مشرکین مکہ پر نازل ہوئی۔

          مسجد عریش سے نکل کر ہم واپس ہوئے۔ یہاں میری والدہ نے بچوں کے لئے کچھ کھانے پینے کے لئے لانے کو کہا۔ بدر شہر میں ایک بقالے پر گاڑی روک کر میں اترا۔ بقالے کے مالک ایک خان صاحب تھے جن کا تعلق چارسدہ سے تھا۔ وہ پٹھانوں کی روایتی مہمان نوازی کی روایات کے امین تھے۔ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور چیزوں کی قیمت لینے سے انکار کر دیا۔ میں نے بصد اصرار انہیں یہ رقم دینے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد وہ مصر ہوگئے کہ ان کے گھر چل کر ہم چائے پئیں۔ ان کی دکانداری کا وقت تھا، اس لئے مجھے یہ مناسب نہ لگا۔ بقالے پر ایک عرب بزرگ بھی تشریف فرما تھے۔ وہ میرا انٹرویو کرنے لگے۔ مجھے جس قدر عربی آتی تھی، ان کے سوالوں کا جواب دیا اور باقی باتوں کے لئے خان صاحب کی خدمات بطور مترجم حاصل کیں۔

          بدر شہر سے نکل کر ہم پھر جدید موٹر وے پر آئے۔ یہ ایک پہاڑی موٹر وے تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے موڑ (Curves) اتنے شاندار طریقے سے بنائے گئے تھے کہ 150 کی رفتار سے بھی موڑ کاٹتے ہوئے ذرا بھی محسوس نہ ہوتا تھا۔ بدر کے بعد الحسینیہ، الخیف، الخرمااور الحمراءکے ایگزٹ آئے۔ یہ چھوٹے موٹے قصبے ہوں گے۔ ایک مقام پر پرانی سنگل روڈ بھی ہمیں اپنے ساتھ ساتھ دوڑتی نظر آئی۔ وادی الجی، المسیجد، الفریش کے قصبوں سے گزرتے ہوئے محض 50 منٹ میں ہم بدر سے مدینہ جاپہنچے۔ حرم نبوی کی حدود سے قبل ہی یہ روڈ طریق الہجرہ پر جاملی اور اس کے بعد جبل عیر کے پاس پولیس چیک پوسٹ آگئی جس سے گزر کر ہم مدینہ جا پہنچے۔

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability