بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

احد

مسجد نبوی سے احد پہاڑ محض دس منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ مسجد نبوی کے باب فہد سے احد پہاڑ صاف نظر آتا ہے۔ یہاں سے بالکل سیدھی ایک روڈ احد تک جاتی ہے۔ ہم اس کی بجائے خالد بن ولید روڈ سے روانہ ہوئے کیونکہ پارکنگ سے اس کا فاصلہ کم تھا۔ سیکنڈ رنگ روڈ پر پہنچ کر ہم احد کی طرف مڑے اور اس کے دامن میں پہنچ گئے۔ یہ براؤن رنگ کا پہاڑ ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مجھ سے محبت رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یہاں اکثر تشریف لایا کرتے تھے۔ پہاڑ کی بلندی کچھ زیادہ نہیں لیکن پھیلاؤ کافی زیادہ ہے۔ احد کے دامن میں چھوٹی سی پہاڑی ہے جو کہ تیر اندازوں کی پہاڑی کے نام سے مشہور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرور زمانہ سے یہ پہاڑی گھس کر اب کافی چھوٹی ہو گئی ہے۔

اصلاح کا صحیح طریقہ

پہاڑ کے دامن میں شہدائے احد کا قبرستان تھا جس کے گرد چار دیواری تھی ۔ کوئی قبر بھی ایک ہاتھ سے زیادہ بلند نہ تھی۔ قبرستان کی دیوار پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پر عربی، انگریزی، اردو اور کئی زبانوں میں زیارت قبور سے متعلق احادیث درج تھیں جن میں قبر پرستی کی مذمت کی گئی تھی۔ اپنے نقطہ نظر کو زبردستی دوسروں پر مسلط کرنے کی بجائے یہ طریقہ کار نہایت ہی موثر ہے۔ اگر کسی شخص پر جبراً اپنا عقیدہ مسلط کیا جائے تو اس سے صرف ضد پیدا ہوتی ہے اور مخاطب اپنے عقیدے پر مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ ایک متعصب شخص کے لئے دوسرے مسلک کے کسی فرد کی بات ، ایک دشمن کی بات ہوتی ہے جسے وہ صرف تعصب اور منفی ذہن کے ساتھ سنتا ہے ۔

اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنی بات کی بجائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بات کو سامنے رکھ دیا جائے اور فیصلہ اس کے اپنے ضمیر پر چھوڑ دیا جائے ۔ مخاطب کو خود سے مختلف کوئی مخلوق فرض کرنے کی بجائے اسے اپنا بھائی سمجھنا چاہئے اور محبت و ہمدردی کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی غلطی اور اس کی اصلاح کے امکان کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ہمارے مذہبی لوگ جب دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں تو وہ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہم تو حق پر ہیں، غلطی اگر ہے تو مخاطب ہی کے عقیدے یا عمل میں ہو سکتی ہے۔ دعوت دین ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اس میں مخاطب کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی مد نظر ہونی چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ مخاطب کا نقطہ نظر درست ہو اور ہمارا غلط ہو۔ اس رویے کو امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اس طرح بیان کیا ہے۔ ”ہم اپنی رائے کو درست سمجھتے ہیں لیکن اس میں غلطی کا امکان تسلیم کرتے ہیں اور مخالف کی رائے کو غلط سمجھتے ہیں لیکن اس کے درست ہونے کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔“

اپنا نقطہ نظر مخاطب کو پہنچانے کے بعد اس پر ڈنڈا لے کر مسلط ہونے کی بجائے اسے غور و فکر کا موقع بھی دینا چاہیے۔

جنگ احد

احد پہاڑ اور تیر اندازوں کی پہاڑی کو دیکھتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے جنگ احد کا منظر گردش کرنے لگا۔ جنگ احد حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی مدینہ ہجرت کے تین سال بعد ہوئی۔ بدر میں کفار کو جب شکست ہوئی تو انہوں نے مکہ جا کر فوراً اگلی جنگ کی تیاری شروع کردی۔ان کے سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ، جو بعد میں اسلام لائے، نے خود پر لذیذ کھانے حرام کر لئے۔ ایک سال کے بعد 3000 افراد کے لشکر جرار نے مدینہ پر چڑھائی کر دی۔ اہل مدینہ میں سے لڑنے والے بمشکل 1000 نکل سکے۔ ان میں سے بھی 300 منافقین تھے جو اپنے سردار عبد اللہ بن ابی کی سرکردگی میں راستے ہی میں ساتھ چھوڑ گئے۔

جنگی پلاننگ کے سلسلے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی رائے یہ تھی کہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ عبد اللہ بن ابی کی بھی یہی رائے تھی۔ نوجوان صحابہ کی رائے یہ تھی کہ باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ اکثریت کے نقطہ نظر کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے باہر نکل کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْکے قرآنی حکم پر پوری طرح عمل کرنے والے تھے۔ آپ ایسے معاملات میں ، جن کا تعلق وحی سے نہ تھا، خود سے اختلاف رائے کی اجازت بھی بخوشی دیا کرتے تھے۔ کاش ہمارے راہنما آپ کے اسوہ حسنہ سے راہنمائی حاصل کریں، جن سے اختلاف رائے کرنے والے کو زندیق، کافر، گستاخ اور منکر کا خطاب دیا جاتا ہے۔ عبداللہ بن ابی اس بات پر ناراض ہو کر اپنے ساتھیوں کو لے کر چلا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس کی رائے نہیں مانی تھی۔

          مدینہ سے نکل کر آپ نے احد پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ ڈالا۔ جنگی حکمت عملی کے تحت پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھا اور 50 تیر اندازوں کا ایک دستہ چھوٹی پہاڑی پر متعین کیا تاکہ آپ کے لشکر کی پشت محفوظ ہو جائے۔ جب کفار کا لشکر سامنے آیا تو پہلے ہی ہلے میں سیدنا ابوبکر، عمر، علی، ابودجانہ، ابو عبیدہ اور حمزہ رضی اللہ عنہم نے کفار کے چھکے چھڑا دیے اور وہ بیس افراد کے قتل کے بعد بھاگ کھڑے ہوئے۔ اسلامی لشکر ان کا مال و اسباب لوٹنے لگا اور اس میں پہاڑی پر متعین تیر اندازوں کا دستہ بھی آ کر شریک ہوگیا۔ اس غلطی کے نتیجے میں ان کی پشت غیر محفوظ ہوگئی۔

          لشکر کفار میں شامل نوجوان خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ)، جو ابھی ایمان نہ لائے تھے اور جنگ حکمت عملی (War Tactics) کے میدان میں سپر جینئس کی حیثیت رکھتے تھے، واپس پلٹے اور اسی پہاڑی درے سے ہو کر اسلامی لشکر پر پیچھے کی جانب سے حملہ آور ہوئے جس سے اسلامی لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر سامنے سے بھاگنے والے کفار بھی پلٹ کر حملہ آور ہوئے۔ اب مسلمان دو طرف سے نرغے میں آگئے اور یکایک 70 صحابہ جام شہادت نوش کرگئے جن میں سب سے نمایاں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ تھے۔

          پتھراؤ کے نتیجے میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے۔ سیدنا ابوبکر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہمانے جان پر کھیل کر آپ کی حفاظت کی۔ یہ مشہور ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم شہید ہوگئے۔ اس پر بعض لوگوں نے ایمان ترک کرنے کا ارادہ کیا۔ کچھ دیر بعد کفار کا لشکر اگلے سال بدر کے میدان کا چیلنج دے کر واپس ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بچی کھچی طاقت جمع کرکے ان کا پیچھا کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر تھکن سوار کردی اور وہ مڑ کر مقابلے پر نہ آئے۔

          غزوہ بدر کی طرح اس جنگ میں بھی اللہ تعالیٰ کا قانون دینونت پوری طرح کارفرما نظر آتا ہے۔ اس قانون کو ایک اسکالر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ یہ معاملہ ہو جائے کہ اگر ہم نماز پڑھیں تو فوراً ہزار روپے ملیں اور اگر نہ پڑھیں تو فورا ً ایک کوڑا پڑے تو ظاہر ہے کہ ہم میں سے کوئی نماز ترک نہ کرے گا۔ یہ معاملہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتا ۔ ہماری نیکیوں کی جزا اور برائیوں کی سزا ہمیں آخرت میں ملے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم کی دونوں شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے ساتھ اسی دنیا میں یہ معاملہ کیا ہے۔

          سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے لے کر آج تک کی بنی اسرائیل کی تاریخ اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے لیکر آج تک بنی اسماعیل کی تاریخ، اس بات کی گواہ ہیں کہ ان کے ساتھ بحیثیت قوم دنیا میں جزا و سزا کے معاملات کئے گئے ہیں تاکہ یہ دوسری قوموں کے لئے عبرت کا باعث بنیں اور انہیں آخرت پر یقین حاصل ہو۔

          بنی اسرائیل جب نیکی پر کاربند ہوئے تو دنیا ان کے سامنے مفتوح ہوگئی۔ ان کی سلطنت عراق سے لے کر افریقہ تک پھیل گئی اور دنیا کے بڑے بادشاہ ان کے باجگزار ہوئے۔ جب انہوں نے برائی کا راستہ اختیار کیا تو نبوکد نضر سے لے کر ٹائٹس اور آخر کار ہٹلر جیسے حکمران ان پر مسلط ہوئے جنہوں نے ان کا قتل عام کیا۔ بعینہ یہی معاملہ بنی اسماعیل کے ساتھ ہوا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پیروی کی تو انہیں دنیا میں اس کی جزا ملی اور اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر ان کے سامنے مفتوح ہوئے، یہاں تک کہ بلوچستان سے لے کر مراکش تک کے علاقے محض چند سال میں ان کے زیر نگیں آگئے لیکن جب انہوں نے کوئی غلطی کی تو اسی دنیا میں انہیں اس کی سزا بھگتنا پڑی۔

          چونکہ احد میں بنی اسماعیل کے لشکر کے ایک اہم حصے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی، اس لئے انہیں اس کی سزا فوراً ملی اور انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ انہیں اپنی مردانہ آبادی کے دس فیصد حصے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ قرآن مجید نے اسے اس طرح بیان کیا ہے:

دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب ہو گے اگر تم مومن ہو۔ اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔ یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا کہ اللہ آزماناچاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (حق کے) گواہ ہوں۔ کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں۔ اور وہ اس آزمائش کے ذریعے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کفار کی سرکوبی کر دینا چاہتا تھا۔

            کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو آزمایا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔ تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے! مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی۔ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا۔

            محمد محض اللہ کے رسول ہیں۔ ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ یاد رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے، انہیں وہ جزا دے گا۔ کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مر سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے۔ ۔۔۔

            اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہ ہوئے، انہوں نے کمزوری نہ دکھائی، وہ (باطل کے آگے) سرنگوں نہ ہوئے۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ ان کی دعا بس یہی تھی، ’اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اسے معاف کردے۔ ہمارے قدم جما دے اور کفار کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔‘ آخر کار اللہ نے ان کو دنیا میں (سرفرازی کی صورت میں) بدلہ بھی دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت میں عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل والے لوگ پسند ہیں۔۔۔۔

            اللہ نے (مدد کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا ، وہ تو اس نے پورا کردیا۔ ابتدا میں اس کے حکم تم ہی ان لوگوں کو قتل کر رہے تھے۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مال غنیمت) ، تم اپنے امیر کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔ اس لئے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے۔ تب اللہ نے تمہیں کفار کے مقابلے میں پسپا کردیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔

            یاد کرو جب تم بھاگے جا رہے تھے۔ کسی طرف پلٹ کر دیکھنے کا ہوش تمہیں نہ تھااور رسول تمہارے پیچھے تمہیں پکار رہے تھے۔ اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تمہیں رنج پر رنج دیے تاکہ آئندہ کے لئے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو، اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

            اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے۔ ایک دوسرا گروہ جس کے لئے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا۔۔۔۔

            تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے، ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھاکہ ان کی بعض کمزوریوں کے باعث شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دیے تھے۔ اللہ نے انہیں معاف کر دیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔۔۔۔

            جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے پکار پر لبیک کہا، ان میں سے جو اشخاص نیک اور پرہیزگار ہیں ، ان کے لئے بڑا اجر ہے۔ (اٰل عمران 3:140-172 )

عجوہ کھجور

احد کے دامن میں بہت سے ریڑھی والے کھڑے کھجوریں بیچ رہے تھے۔ یہاں کئی افریقی خواتین نے زمین پر بہت سی اشیا کی دکانیں لگائی ہوئی تھیں جہاں وہ مکمل باپردہ لباس میں چیزیں بیچ رہی تھیں۔ ریڑھیوں پر جا بجا بہت سی جڑی بوٹیاں بک رہی تھیں۔ بیچنے والے ان جڑی بوٹیوں سے مخصوص زنانہ امراض سے لے کر دل کی بیماریوں کے علاج کا دعویٰ کر رہے تھے۔ مجھے چونکہ ان کے خواص کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اس لئے میں نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔

          پورے عرب میں سب سے سستی اور اعلی کوالٹی کی کھجوریں مدینہ منورہ میں ملتی ہیں۔ ایک ریڑھی والا ”عجوہ، عجوہ“ کی آواز لگا رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس عجوہ کھجور ہے جو دوسری اقسام کی کھجور کی نسبت دوگنی قیمت پر فروخت ہو رہی تھی۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو عجوہ بہت پسند تھی۔ میں نے بھی آدھا کلو عجوہ خریدی۔ یہ عام کھجور سے کافی چھوٹی تھی اور اس میں گٹھلی بھی برائے نام ہی تھی۔ اس کا ذائقہ بھی بہت مختلف تھا۔ یہاں یہ خاصی سستی دستیاب ہو گئی ورنہ مسجد نبوی کے پاس تو یہ پچاس ساٹھ ریال فی کلو کے حساب سے بکتی ہے۔

          یہاں سے رخصت ہو کر ہم نے گاڑی پر احد کے گرد ایک چکر لگایا۔ یہ پورا علاقہ کھجور کے فارمز سے بھرا ہوا تھا۔ درختوں پر کھجور کے زرد خوشے لٹک رہے تھے۔ یہ زرد کچی کھجور پنجاب اور سندھ میں ’ڈوکے‘ کہلاتی ہے۔احد کے آخری کونے پر مدینہ کی تیسری رنگ روڈ گزر رہی تھی۔ ہم اس پر احد کے دوسری طرف آگئے۔ دوسری جانب یہ پہاڑ عمودی چٹانوں پر مشتمل تھا۔ تیسری رنگ روڈ اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی شہر کے گرد گھوم رہی تھی۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ تیسری رنگ روڈ حرم مدینہ کی باؤنڈری پر بنائی گئی ہے۔ جمعہ کی نماز کا وقت قریب تھا۔ رنگ روڈ کا چکر لگا کر ہم لوگ علی بن ابی طالب روڈ پر آگئے جو سیدھی مسجد نبوی تک جا پہنچتی ہے۔

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability