بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

خندق

 

عصر کی نماز مسجد نبوی میں ادا کرکے ہم لوگوں نے غزوہ خندق کے مقام کا قصد کیا۔ مسجد نبوی میں ایک پاکستانی صاحب سے، جو مدینہ ہی میں رہتے تھے، میں نے خندق کے مقام کا پوچھا۔ انہوں نے تفصیل سے راستہ سمجھا دیا۔ یہ مسجد نبوی سے محض چار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ یہ مقام "بئر سبع" کہلاتا ہے۔ یہاں سات مساجد ہوا کرتی تھیں جو مختلف صحابہ سے موسوم تھیں۔

          اب اس مقام پر ان مساجد کو شہید کرکے ایک ہی بڑی مسجد کی شکل دی جارہی تھی۔ یہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق خندق عین اس جگہ کھودی گئی تھی جہاں اب سڑک بنی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے جنگ کے کچھ عرصے بعد یہ خندق بند کر دی گئی ہو گئی تاکہ عام لوگوں کو آمد و رفت میں مشکل نہ ہو۔ یہ خندق مدینہ کے دو اطراف میں کھودی گئی تھی جہاں سے کفار کی آمد کا خطرہ تھا۔ باقی دو اطراف میں پہاڑ کچھ اس طرح موجود ہیں کہ وہاں سے کسی بڑے لشکر کی آمد ممکن ہی نہیں۔

          جنگ خندق، مدینہ پر کفار مکہ کی تیسری اور آخری چڑھائی تھی جو جنگ احد کے دو سال کے بعد ہوئی۔ اس مرتبہ کفار قریش نے عرب قبائل کو ملا کر 10000 کا لشکر تیار کیا۔ ان قبائل میں بنو غطفان، مرہ، اشجع، سلیم اور اسد شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ عرب میں اتنا بڑا لشکر پہلے کبھی نہ بنا تھا۔ اتنے بڑے اجتماع کی وجہ سے اس جنگ کو جنگ احزاب بھی کہا جاتا ہے یعنی لشکروں کی جنگ۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس مرتبہ مسلمانوں کا قلع قمع کرکے اسلام کا نام و نشان مٹا دیا جائے لیکن انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا تھا کہ ان کا مقابلہ اللہ کے رسول سے ہے جو اللہ کے بنائے ہوئے قانون کے تحت کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔

          اس مرتبہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے خندق کھود کر دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔ دعوت دین کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد دو سال میں اب 700 سے بڑھ کر 3000 ہو چکی تھی۔ ان افراد نے دن رات کی محنت کرکے خندق کھودی۔ مشہور محقق ڈاکٹر حمید اللہ بیان کرتے ہیں کہ دس دس افراد کی جماعت کو چالیس چالیس ہاتھ لمبی خندق کھودنے کا کام سپرد کیا گیا۔ ان 300 ٹیموں نے مل کر 6000 گز یعنی تقریباً چھ کلومیٹر لمبی خندق کھودی۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ محض جنگ میں لڑنے ہی کا نام نہیں بلکہ جنگ کی ہر طرح کی تیاری بھی جہاد کا حصہ ہے۔ جہاد میں لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے بھی اسلام کی نظر میں مجاہدین فی سبیل اللہ ہوتے ہیں لیکن جہاد اسلام کے نزدیک، ظلم کے خلاف ایک منظم حکومت کی کاروائی ہوتی ہے نہ کہ افراد یا گروہوں کی پھیلائی ہوئی بدنظمی ۔

          خندق کی وجہ سے کوئی بڑی لڑائی درپیش نہ ہوئی۔ کفار کے لشکر کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ بیک وقت اس خندق کو پھلانگ سکیں۔ ان کا محاصرہ طویل ہوتا گیا۔ عرب کے مشہور جنگجو عمرو بن عبدود نے ایک مقام سے خندق پھلانگ لی اور اسلامی لشکر کے سامنے آگیا۔ یہ شخص اپنی بہادری و شجاعت اور حربی مہارت کے باعث 1000 سوار کے برابر مانا جاتا تھا۔

          سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، جو اس وقت 28 برس کے تھے، اس کے مقابلے پر آئے۔ آپ سے تعارف پر وہ کہنے لگا ، ”تم ابھی بچے ہو اور میرے دوست کے بیٹے ہو، میرے مقابلے پر نہ اؤ، خواہ مخواہ مارے جاؤ گے۔“ آپ نے اس کا مقابلہ کیا اور اس کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد کسی کو خندق عبور کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ اس حکمت عملی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر جنگی قوت کا توازن مخالف کے پلڑے میں ہو تو دو بدو مقابلے سے بچنا (Avoidance) بہترین حکمت عملی ہوا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے لیڈر اس حکمت عملی کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور ہر موقع پر ممولے کو شہباز سے لڑانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ پوری قوم کو تو یہ درس دیتے ہیں البتہ اپنی اولاد کو ان معاملات سے دور رکھتے ہیں۔

          یہود کے قبیلے بنو قریظہ کا اہل اسلام سے یہ معاہدہ تھا کہ وہ ان سے جنگ نہ کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے بدعہدی کی اور پیچھے سے مسلمانوں پر حملے کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ اس نے حملہ آوروں میں سے ایک اہم شخصیت صاحب نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ کا ذہن تبدیل کیا اور وہ ایمان لے آئے۔ انہوں نے مشرکین اور بنو قریظہ کے مابین ایسی غلط فہمیاں پیدا کیں کہ ان کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد آندھی و طوفان کی صورت میں نازل کی جس کے نتیجے میں شدید سردی ہو گئی اور کفا ر کے خیمے اکھڑ گئے۔ لشکر کے سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ، جو ابھی ایمان نہ لائے تھے، ایسے بدحواس ہوئے کہ بندھے ہوئے اونٹ پر سوار ہو کر اسے بھگانے لگے۔ جب رسی نے آگے بڑھنے نہ دیا تو اپنی تلوار سے رسی کاٹ کر اونٹ کو آزاد کیا۔ اس جنگ کے بعد بنو قریظہ کی بد عہدی کی سزا دی گئی اور ان میں سے ایک گروہ کو قتل اور دوسرے کو جنگی قیدی بنایا گیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:

اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اس نے تم پر کیا ہے۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تمہیں نظر نہ آتی تھیں۔ اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے۔ جب وہ اوپر اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں ، کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت اہل ایمان خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا دیے گئے۔

            یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا ، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کئے تھے ، وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے۔ جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا، ’اے اہل یثرب! تمہارے لئے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو۔‘ جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی سے یہ کہہ کر رخصت طلب کر رہا تھا کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں ، حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے۔ دراصل وہ (محاذ جنگ سے) فرار ہونا چاہتے تھے۔ اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اس وقت انہیں فتنے کی دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا۔ ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی۔۔۔۔

            درحقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔ سچے مومنوں نے جب حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹہے، ’یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول کی بات بالکل سچی تھی۔‘ اس واقعہ نے ان کی ایمان اور سپردگی کو اور بڑھا دیا۔۔۔۔

            اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا اور وہ کوئی فائدہ حاصل کئے بغیر اپنے دل کی جلن لئے یونہی پلٹ گئے اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لئے کافی ہوگیا۔ اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو۔ اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جہاں تم نے کبھی لشکر کشی نہ کی تھی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الاحزاب 33:9-27 )

          یہ جنگ میں ہوئی۔ اس جنگ کے بعد مشرکین عرب کبھی اہل اسلام پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ اگلے سال یعنی 6ھ میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم 1500 جانثاروں کی معیت میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے مکہ تشریف لے گئے۔ اس موقع پر اہل مکہ سے حدیبیہ کے مقام پر صلح ہو گئی۔ یہودی جو مدینہ پر حملے کی تیاریوں میں مصروف تھے، میں جنگ خیبرکے نتیجے میں مغلوب ہوئے۔ اس کے بعد اہل مکہ نے حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے 10000 قدوسیوں کے لشکر کے ساتھ مکہ فتح کر لیا۔

میں پورے عرب سے قبائل کے وفود نے آ کر اسلام قبول کیا۔ اسی سال سورہ توبہ نازل ہوئی جس میں عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ پر حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو نہ ماننے کے باعث اللہ تعالیٰ کے عذاب کی آخری قسط نازل ہوئی۔ مشرکین کی سزا موت اور اہل کتاب کی سزا جزیہ مقرر کی گئی۔ مشرکین کی سزا پر وسیع پیمانے پر عمل درآمد نہ ہوسکا کیونکہ اہل عرب نے عذاب سے قبل ہی ایمان قبول کرلیا البتہ اہل کتاب پر جزیہ کی سزا نافذ کی گئی اور وہ عرب میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو کر رہ گئے۔

10ھ  میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے حج ادا کیا جس موقع پر پورا عرب اسلام کے زیر نگیں آچکا تھا۔اس کے بعد 11ھ میں آپ وفات پاگئے۔ آپ کے بعد محض دس بارہ سال کے عرصے میں قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں مغلوب ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے وہ پورا علاقہ بنی اسماعیل کے تسلط میں دے دیا جسے تورات میں اولاد ابراہیم کی میراث کہا گیا ہے۔

          ایسا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت کی متمدن دنیا کے قلب میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے علمبرداروں کی حکومت قائم کی جائے تاکہ اس زمانے کی دنیا کی دیگر اقوام جزا و سزا کے اس قانون کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکیں اور ان پر اللہ کی حجت قائم ہو سکے۔ بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے جزا و سزا کا یہ واقعہ قرآن مجید میں محفوظ کر دیا گیا ہے جس کی تاریخی حیثیت میں اس کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں کوئی اختلاف موجود نہیں۔ اس طرح پوری نسل انسانی پر اللہ کی حجت پوری کرد ی گئی ہے۔ اب یہ انسان کی مرضی ہے کہ وہ ان واقعات کو محض تاریخ سمجھ کر نظر انداز کر دے یا پھر اس سے آخرت کی جزا و سزا کا قانون اخذ کرکے اپنی دنیاوی زندگی کو آخرت کی تیاری پر لگا دے۔

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability