بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جیزان، فیفا اور ابہا

 

اگست میں جدہ میں شدید گرمی پڑ رہی تھی۔ میں ان دنوں دفتر سے چھٹیاں لے کر سعودی عرب میں سیٹل ہونے کی تھکن اتار رہا تھا۔ پاکستان میں عموماً ہر سال گرمی کے موسم میں ہم شمالی علاقہ جات کی طرف جایا کرتے تھے۔ اب یہاں شمالی علاقہ جات کہاں سے لے کر آتے چنانچہ ہم نے جنوبی علاقہ جات کے سفر کا ارادہ کیا۔ جزیرہ نمائے عرب کا جنوب مغربی حصہ ، عرب کے شمالی علاقے کی نسبت کافی سر سبز ہے۔ زمانہ قدیم میں یمن، عرب کے سب سے زرخیز اور امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ قدیم یمن کا کافی بڑا حصہ اب سعودی عرب میں شامل ہے۔ یہ علاقہ خاصا سر سبز و شاداب ہے۔ اگرچہ سبزہ ہمارے شمالی علاقہ جات جتنا تو نہیں لیکن باقی عرب کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔

          ہم لوگ علی الصبح فجر کی نماز کے فوراً بعد روانہ ہوئے۔ بچوں کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ وہ صحرا میں طلوع آفتاب کا منظر دیکھ سکیں۔ ہم لوگوں نے اکثر ساحل پر غروب آفتاب کا منظر تو دیکھا ہی تھا لیکن موجودہ شہری زندگی میں طلوع آفتاب کا منظر ایک خواب سا بن گیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جدید شہری سہولیات نے ہمیں فطرت سے دور کر دیا ہے۔ جدہ رنگ روڈ سے ہم ہراج جانے والی سڑک پر مڑے۔ یہ پرانی گاڑیوں کا مرکز ہے اور یہاں بہت سے شوروم واقع ہیں۔ ہراج سے ایک سڑک سیدھی جیزان کی طرف نکلتی ہے۔ ہم اسی پر ہولئے۔

دور قدیم کا تجارتی راستہ

پولیس چوکی سے ہم گزرے تو ”جیزان 852 کلومیٹر“ کا بورڈ نظر آیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں جیزان پہنچنے کے لئے کم و بیش سات آٹھ گھنٹے کی ڈرائیونگ درکار تھی۔ راستے میں آرام کرنے کا وقت خود ہم پرمنحصر تھا۔ تہامہ کا وسیع ریتلا میدان ہمارے سامنے پھیلا ہوا تھا۔ ہمارے دائیں جانب بحیرہ احمر کا ساحل تھا جو یہاں سے چند کلومیٹر دور ہونے کے باعث نظر نہ آرہا تھا۔ بائیں جانب صحرائی پہاڑیوں کا سلسلہ ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ یہ دور قدیم کا تجارتی راستہ تھا۔ یہاں میرے ذہن میں سورة قریش کے الفاظ گونجنے لگے:

لإِيلافِ قُرَيْشٍ. إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ. فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ. الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ۔  ”چونکہ قریش مانوس ہوئے۔ (یعنی) گرمی اور سردی کے موسموں میں سفر سے مانوس۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔ “ (القریش 106)

          قدیم زمانے کی بین الاقوامی تجارت عرب کے راستے ہوا کرتی تھی۔ دنیا میں ایک جانب ہندوستان اور چین کے ممالک تھے جو اپنی زرعی اور صنعتی پیداوار کے لئے مشہور تھے۔ دوسری جانب روم کی عظیم بازنطینی سلطنت ہوا کرتی تھی۔ دنیا کے ان دونوں کناروں کے درمیان سمندری راستے ابھی پوری طرح دریافت نہ ہوئے تھے۔

          ہندوستان اور چین کے ساحلوں سے بحری جہاز مال بھر کر یمن تک آیا کرتے۔ یہاں عرب ان سے مال خرید لیتے۔ یہ مال عرب لے کر شام تک جایا کرتے، جہاں بحیرہ روم کے راستے آنے والے رومی تاجروں کو وہ یہ مال فروخت کرتے۔ اس کے بدلے وہ کچھ مال رومی تاجروں سے خریدتے اور یمن لا کر ہندی اور چینی تاجروں کو بیچ دیتے۔ یمن اور شام کے یہ سفر بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ تجارتی شاہراہ پر طے ہوتے جو اب کوسٹل ہائی وے کہلاتی ہے۔ صرف مکہ کے پاس جاکر قافلے سمندر سے کچھ دور ہوتے کیونکہ مکہ پورے عرب کا مرکز ہوا کرتا تھا۔اس دور میں ایران کی ساسانی سلطنت خلیج فارس کے راستے ہونے والی تجارت پر اپنا قبضہ جما چکی تھی اس لئے بحیرہ احمر والا راستہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔

          اس دور کا عرب بہت سے قبائل پر مشتمل تھا۔ ان میں سے کئی قبائل کا پیشہ ہی لوٹ مار اور راہزنی تھا۔ یہ قبائل تجارتی قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ قبیلہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد قصی بن کلاب کے زمانے تک پورے حجاز میں منتشر تھا۔ قصی نے انہیں مکہ میں اکٹھا کیا اور اطراف عرب سے آنے والے حجاج کی خدمت کا بہترین نظام قائم کیا۔مکہ میں حج تو سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیہما الصلوة والسلام کے زمانے سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ قریش کی ان کاوشوں کے نتیجے میں پورے عرب میں ان کی عزت بڑھتی گئی لیکن قریش کی مالی حالت کچھ اچھی نہ تھی۔ ان کا گزارا حج کے موقع پر کی جانے والی کمائی پر ہی ہوتا جو پورے سال کے لئے ناکافی تھی۔ ان پر اکثر فاقوں کی نوبت آجاتی اور بعض افراد فاقوں سے جان دے دیتے۔

          قصی کے پوتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا ہاشم کو بین الاقوامی تجارت میں حصہ لینے کا خیال آیا۔ انہوں نے اپنے تین بھائیوں کو ساتھ ملایا اور یمن اور شام کے درمیان تجارت شروع کی۔ انہوں نے گرمی کے موسم میں شام اور سردیوں میں یمن کا سفر کرنا شروع کیا۔ عرب قبائل ، حرم سے ان کے تعلق کے باعث ان کا احترام کرتے تھے چنانچہ ان کے قافلوں کو راہزنوں سے کوئی خطرہ پیش نہ آیا۔ ان کی تجارت چمکتی گئی اور قریش کی غربت دور ہوگئی۔

          مختلف ممالک کی طرف سفر کرنے اور ان کے لوگوں سے ملنے کے باعث ان کا ذہنی افق (Exposure) وسیع ہوتا گیا اور معاملہ فہمی اور فراست میں ان کا کوئی ہم پلہ نہ رہا۔ یہ لوگ اس دور کا رسم الخط بھی دوسرے ممالک سے لے آئے جو بعد میں قرآن لکھنے کے لئے بھی استعمال ہوا۔ قریش میں تعلیم عام ہوئی اور ان میں پڑہے لکھے لوگ دوسرے قبائل کی نسبت زیادہ ہونے لگے۔ایک روایت کے مطابق، عرب کی سرداری جو پہلے حمیر والوں کے پاس تھی، اب قریش کے پاس آگئی۔ اس سورہ میں انہی احسانات کا ذکر کیا گیا ہے اور قریش کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد ابراہیم و اسماعیل اور ان کے بنائے ہوئے گھر کے خدا کی عبادت کیا کریں اور شرک کی غلاظت سے خود کو بچائیں۔

          انسان بڑا ہی ناشکرا واقع ہوا ہے۔ جب اسے مشکل پیش آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے لیکن جب اسے خوشحالی عطا ہوتی ہے تو وہ اس کی نافرمانی پر اتر آتا ہے۔ ایسا ہی قریش کے ساتھ ہوا۔ اس خوشحالی نے انہیں اللہ تعالیٰ کے گھر کے خادم ہونے باوجود اس سے غافل کر دیا۔ جب اللہ نے اپنے آخری رسول کو ان کی طرف مبعوث کیا تو یہ لوگ مقابلے پر کھڑے ہو گئے۔ ان کے صالح عناصر جب ایمان لائے تو انہوں نے ان کا جینا حرام کر دیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب مسلمانوں کی تلواروں کی صورت میں مسلط کر دیا ۔

سنگل روڈ اور لیفٹ ہینڈ ڈرائیو

مکہ اور مدینہ کی طرح جیزان جانے والی سڑک موٹر وے نہیں تھی۔ یہ ایک کافی چوڑی سنگل روڈ تھی لیکن اس کی کوالٹی بہت بہتر تھی۔ پاکستان میں سنگل روڈز کی کوالٹی عام طور پر خراب ہی ہے۔ ایسی اچھی سنگل روڈ میں نے پاکستان میں صرف دو مقامات پر دیکھی ہے: ایک حیدر آباد اور دادو کے درمیان اور دوسری جھنگ اور کبیر والا کے درمیان۔ موٹر ویز پر سفر کے بعد مجھے سنگل روڈ پر گاڑی چلانا عجیب سا لگ رہا تھا۔

اس موقع پر مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جن ممالک میں سڑک کے دائیں جانب چلنے کا اصول (Keep Right)  اپنایا جاتا ہے، ان میں گاڑیوں کے اسٹیرنگ بائیں جانب کیوں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس (Keep Left) والے ممالک میں اسٹیرنگ دائیں جانب ہوتے ہیں۔ اسٹیرنگ کے دائیں بائیں ہونے سے ڈبل روڈ پر تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن سنگل روڈ پر یہ بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔ اگلی گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کے لئے انسان کو دوسری جانب کے ٹریک پر آنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر اگر ڈرائیور روڈ کے درمیان کی طرف ہو تو اوور ٹیکنگ کافی آسان ہو جاتی ہے ورنہ دوسری سمت سے آنے والی گاڑی صحیح طور پر نظر نہیں آتی۔اس سڑک پر بھی ہم آسانی سے 120 سے 140 کی رفتار پر سفر کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی نسبت انسان کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ تجربے سے سیکھتا ہے اور اپنی بنائی ہوئی چیز کو بہتر بناتا جاتا ہے۔ کاش انسان یہی رویہ اپنے اخلاق و کردار کے بارے میں بھی اختیار کر سکے۔

صحرا میں طلوع آفتاب

تھوڑی دور جاکر سورج طلوع ہو گیا۔ ہمارے شرقی جانب پہاڑیوں کے درمیان سے سورج آہستہ آہستہ بلند ہوا اور پھر ہوتا چلا گیا۔ یہ منظر غروب آفتاب سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔ فرق صرف سورج کے گرنے اور چڑھنے کا تھا۔ انسان کی زندگی میں بھی یہ مراحل آتے ہی رہتے ہیں۔ کبھی اس پر زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ وہ زندگی کے مسائل سے نمٹتا ہوا کامیابی کا زینہ طے کرکے چڑھتا جاتا ہے۔ پھر اس کا زوال شروع ہوتا ہے اور وہ مسائل کا شکار ہو کر گرتا چلا جاتا ہے۔

          انسان کی پوری زندگی عروج و زوال کے فلسفے کی عملی تعبیر نظر آتی ہے۔ دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر اور صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ کامیابی کے وقت شکر اور مصیبت کے وقت صبر، یہی انسان کی اصل کامیابی کا راستہ ہے جو اسے اس کی اصل زندگی یعنی آخرت میں ملے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی صبر و شکر کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔

          ہمارے دائیں بائیں اونٹوں کے بہت سے باڑے شروع ہو گئے۔ سنہری، سفید اور سرخ رنگ کے ہر سائز کے اونٹ بہت خوبصورت نظر آ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر ضرورت کی تکمیل کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے صحرائی سفر کے لئے اونٹ پیدا کئے اور پھر اسے عقل دی کہ وہ اس سے بہتر سواریاں بنا سکے۔ یہ سب چیزیں انسان کو اس کے مالک کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ جو اس ترغیب پر اپنے مالک کا واقعی شکر ادا کرتے ہیں۔

شعیبہ اور ہجرت حبشہ

اب ہمیں سمندر کی جانب بجلی اور پانی کا ایک پلانٹ نظر آنے لگا۔ دور افق پر اس کا سفید دھواں پھیل رہا تھا۔ پورے سعودی عرب میں ساحل کے ساتھ یہ پلانٹ لگے ہوئے ہیں جہاں سے بجلی اور سمندر کا صاف شدہ پانی ملک بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ یہ مقام شعیبہ کہلاتا ہے۔ اسی مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بندرگاہ ہوا کرتی تھی۔ اہل مکہ کے ظلم کی چکی میں پستے ہوئے مظلوم مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اجازت سے حبشہ ہجرت کی اجازت دے دی۔ یہ لوگ مکہ سے نکل کر شعیبہ آئے اور یہاں سے کشتیوں پر بیٹھ کر ایتھوپیا کے ساحل پر جا اترے۔ وہاں سے یہ حضرات دارالحکومت ”اکسوم“ پہنچ کر وہیں آباد ہوگئے۔

قریش نے عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہ)، جو بعد میں اسلام لائے، کی قیادت میں ایک وفد وہاں کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا۔ نجاشی نے مسلمانوں کو بلایا۔ اس موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے تفصیل سے اپنے دین کی دعوت نجاشی کے سامنے پیش کی۔ نجاشی ایک انصاف پسند بادشاہ تھا۔ اس نے مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کردیا۔ یہ لوگ طویل عرصہ یہیں رہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ بعد میں مدینہ ہجرت کر گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف عالم کے بادشاہوں کو خط لکھ کر اللہ تعالیٰ کی جانب سے الٹی میٹم دیا تو صرف نجاشی ہی تھے جو ایمان لائے۔ جب انہوں نے وفات پائی تو ان کی نماز جنازہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پڑھائی۔

          ہجرت حبشہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دین حق کے لئے قربانیوں کی ایک عظیم داستان ہے۔ ہم ان لوگوں کا حق ادا نہیں کر سکتے جنہوں نے اپنی جان پر سختیاں جھیل کر اس دین کو اس کی اصل حالت میں ہم تک پہنچایا۔

                    بعد میں ایک موقع پر ہم لوگ شعیبہ کا ساحل دیکھنے کے لئے گئے۔ پاور پلانٹ کے قریب یہ ساحل نہایت ہی دلفریب نظاروں پر مشتمل تھا۔ اس مقام پر بعض لوگ سمندر میں غوطہ خوری کا شوق پورا کرتے ہیں۔ شعیبہ کے بعد ہمیں ایک عجیب قدرتی منظر دیکھنے کو ملا۔ ریت پہاڑوں کی چوٹیوں تک پھیلی ہوئی تھی اور چوٹیاں دھند میں لپٹی ہوئی تھیں۔ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے اور اس کی زبان پر یہی جاری ہوتا ہے کہ فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ۔

سمندر سے نہر

مکہ سے جیزان آنے والی سڑک یہاں ہم سے آملی۔ عین ممکن ہے کہ قریش کے تجارتی قافلے بھی یہیں سے مکہ کے لئے مڑتے ہوں گے۔ اب ہم ”لیث“ کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا ساحلی شہر تھا۔ گاڑی کا میٹر 130 کا ہندسہ دکھا رہا تھا۔ میری گاڑی میں میل بتانے والا میٹر نصب ہے، اس لئے میں یہاں ان میلوں کو کلومیٹرز میں تبدیل کرکے لکھ رہا ہوں۔ لیث، جدہ سے 208 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہم یہ فاصلہ دو گھنٹے میں طے کرکے یہاں پہنچے تھے۔ اس لئے آرام ضروری تھا۔

          گوگل ارتھ پر میں لیث کو تفصیل سے پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ یہاں ہمارے لئے ایک نئی چیز تھی۔ یہاں بہت سے زرعی فارمز موجود تھے اور سمندر سے ایک نہر نکال کر ان فارمز تک پہنچائی گئی ہے۔ اس پانی کو ٹریٹ کر کے پودوں کے لئے قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس نہر کے باعث لیث ہرا بھرا نظر آرہا تھا۔ ہم سیدھے ساحل تک گئے جہاں ایک خوبصورت پارک بنا ہوا تھا۔ بچے یہاں جھولا جھولنے لگے اور ہم لوگ گھر سے ساتھ لائے ہوئے برگر اور پراٹھے کھانے لگے۔ کچھ دیر بعد ہم نہر کی طرف گئے ۔یہاں گھنے ساحلی جنگلات تھے جو بالکل کراچی کے ہاکس بے اور سینڈزپٹ کے جنگلات سے مشابہ تھے۔ ایک بہت بڑی کریک بھی یہاں موجود تھی۔ کچھ دیر یہاں گزار کر ہم نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔

عبرت دلانے والے ڈھانچے

لیث کے بعد ہمیں ریت کے سمندر نے آلیا۔ ایک طویل میدان میں بس ریت ہی ریت پھیلی ہوئی تھی۔ ایک چھپر جو شدید گرمی سے بچنے کے لئے مقامی لوگوں نے تعمیر کیا تھا ، نصف سے زائد ریت میں دفن ہو چکا تھا۔ شاید اس علاقے میں ریت کے طوفان آتے ہوں گے۔سڑک کے ساتھ جابجا گاڑیوں کے ڈھانچے پڑے ہوئے تھے۔ یہ حادثوں میں تباہ شدہ گاڑیاں تھیں۔ شاید انہیں عبرت کے لئے روڈ کے کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔

          مجھے اس میں عبرت کے دو پہلو نظر آئے: ایک تو غیر محتاط ڈرائیونگ کا انجام اور دوسرا غیر محتاط زندگی کے لئے موت کی وارننگ۔ انسان اگر سفر میں غیر محتاط ڈرائیونگ کرے تو اس کا انجام ایکسیڈنٹ اور پھر موت کی صورت میں نکلتا ہے۔ دوسری طرف اگر انسان غیر محتاط زندگی گزارے تو پھر اچانک موت آکر اسے اس کی اصل زندگی کی طرف لے جاتی ہے جو اس کے غیر محتاط رویے کے باعث اس کے لئے خوشگوار نہیں ہوتی۔ جو لوگ ذمہ داری سے اپنی زندگی دین اور اخلاق کے مطابق گزارتے ہیں، ان کی اصل زندگی یعنی آخرت بہت خوشگوار ہو گی۔

مل بانٹ کر کھانے کی برکت

ہم اب ”حمدانہ “سے گزر کر ”مظلائف“ کے قصبے میں داخل ہورہے تھے۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے قصبے تھے۔ میں ان لوگوں کی معیشت کے بارے میں سوچنے لگا۔ سعودی عرب کا صرف مشرقی صوبہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن اس دولت کو بیچ کر جو آمدنی حاصل ہوتی ہے وہ پورے ملک کے عوام پر خرچ کی جاتی ہے جس سے پورے ملک میں خوشحالی آتی ہے۔ انسان اگر مل بانٹ کر کھائے تو سب لوگوں کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں لیکن قوم پرستی کے تنگ نظریے نے انسان کو محدود کر دیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت پر قابض ہیں۔ وہ اسے اپنے مفاد کے لئے خرچ کرتے ہیں اور زمین کے دوسرے حصوں پر موجود ان کے بھائی اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔

مصنوعی کریک

اب ہم ”قنفذہ“ کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ یہ بھی ایک خوبصورت چھوٹا سا شہر تھا۔ ہم شہر کے اندر داخل ہوئے۔ یہاں بھی لیث کی طرح ساحلی پارک تھا جو زیادہ خوبصورت نہ تھا۔ ہلکے سبز رنگ کابحیرہ احمر کا پانی نہایت دلفریب منظر پیش کر رہا تھا۔ سمندر سے شہر میں ایک مصنوعی کریک بنائی گئی تھی جو کہ ایک بہت بڑی نہر کا منظر پیش کر رہی تھی۔ اس کی چوڑائی ہمارے پنجاب اور سندھ کی نہروں سے تین گنا زیادہ تھی۔ دور سمندر میں مچھلیوں کے ٹرالر کھڑے تھے۔ پورے کا پورا ساحل بہت ترتیب سے مصنوعی طور پر تراشا گیا تھا۔ ساحل پر مصنوعی دائرے بنائے گئے تھے جن میں پانی آکر کھڑا ہوا تھا۔ شہر سے ہم نے کھانے پینے کی اشیا  خریدیں اور آگے روانہ ہو گئے۔

گول کھیت

اب ہمیں بہت سے فارم ہاؤسز نے آلیا بلکہ زیادہ درست یہ ہے کہ ہم نے انہیں جا لیا۔ سعودی عرب کے فارم ہاؤسز کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ یہ بالکل گول شکل کے ہوتے ہیں۔ ایسا ان کے آبپاشی کے نظام کی وجہ سے ہے۔ ہمارے یہاں تو پانی بکثرت پایا جاتا ہے اس لئے اسے ضائع بھی بہت کیا جاتا ہے۔ یہاں چونکہ پانی کی قلت ہے اس لئے آبپاشی کے لئے ایک خاص میکنزم اختیار کیا جاتا ہے۔

          اس میکنزم میں پانی کا ایک بہت بڑا پائپ ہوتا ہے جس کے دونوں جانب پہیے لگے ہوتے ہیں۔ درمیان سے یہ پائپ پانی کے مرکزی ذخیرے سے جڑا ہوتا ہے۔یہ پائپ اپنے مرکز کے گرد گردش کرتا ہے۔ موٹر چلا کر پانی اس پائپ میں لایا جاتا ہے جو اس میں موجود سوراخوں سے باریک دھاروں کی شکل میں باہر گرتا ہے۔ یہ پائپ اپنے پہیوں پر حرکت کرتے ہوئے پورے فارم کو سیراب کرتا ہے۔ چونکہ یہ حرکت دائروی ہوتی ہے اس لئے فارم کا ڈیزائن بھی دائروی شکل کا ہوتا ہے۔ گوگل ارتھ کی سیٹلائٹ تصاویر میں یہ فارم سبز رنگ کے بہت سے گول دائروں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔

دائرے والی کریک

سبزے میں سے گزر کر ہم ایک خشک دریا تک جا پہنچے۔ اس کے دونوں کناروں پر چھوٹے چھوٹے شہر آباد تھے جیسا کہ ہمارے تمام دریاؤں پر ہے۔ اس کے بعد ریت کی جگہ سرمئی رنگ کے پتھروں نے لے لی۔ یہاں روڈ سمندر کے بالکل قریب آ چکی تھی۔ سمندر کا پانی ایک کریک کی شکل میں موجود تھا جس کے نیلے پانی کو دیکھ کر مجھے اپنے سندھ کی کینجھر جھیل یاد آگئی جہاں ہم کراچی سے تقریباً ہر مہینے جایا کرتے تھے۔ اس کریک کے بعد ایک اور کریک تھی جو بالکل نصف دائرے کی شکل کی تھی۔ ساحل کا کٹاؤ قدرتی طور پر نصف دائرے کی شکل کا تھا اور بہت خوبصورت نظر آرہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی صناعی واقعی بہت حسین ہے۔ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔

          تھوڑی دور جا کر ہمیں ایک جیسے بے شمار مکانات نظر آئے جن پر شوخ رنگ کئے گئے تھے۔ تیز گلابی، سرخ، طوطے والا سبز، کھلتا ہوا نیلا ، یہ تمام رنگ بہت بھلے لگ رہے تھے۔ دیہاتی کہیں کے بھی ہوں ، ان کا مزاج ملتا جلتا ہے۔ انہیں عموماً شوخ رنگ زیادہ پسند ہوتے ہیں۔ ان مکانات کے ساتھ ایک مسجد بھی تھی جس پر اسی قسم کے رنگ کئے گئے تھے۔ میں نے زندگی بھر اتنی ٹیکنی کلر مسجد نہیں دیکھی۔ اگلا شہر ذھبان تھا۔ اس کے فوراً بعد ”القحمه“ کا قصبہ تھا۔ ہم اب 540 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ بھوک بھی لگ رہی تھی اور ظہر کا وقت بھی ہو رہا تھا۔ ہم نے ایک اچھا سا ریسٹورنٹ دیکھ کر گاڑی روک دی۔

          اس ریسٹورنٹ کے صحن میں گھنا سبزہ اور پھول اگے ہوئے تھے۔ غالباً رات کو یہاں بار بی کیو ہوتا ہوگا۔ ہم فیملی ہال میں جا بیٹھے۔ یہ ایک عرب ہوٹل تھا۔ ایک شوکیس میں مچھلیاں سجی تھیں۔ میں نے ’رہو‘ سے ملتی جلتی تین مچھلیاں پسند کیں اور ان کے تکے بنانے کا آرڈر دیا۔ فش تکہ کے ساتھ چاول بھی ساتھ آئے۔ عرب لوگ بکروں کی طرح مچھلی کو بھی سالم ہی پکاتے ہیں۔ میری فیملی کو آنکھوں والی مچھلی سے خاصی کراہت محسوس ہوئی۔ کھانا مزیدار تھا لیکن اسماءکو پسند نہ آیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ پاکستانی کھانے ملیں۔ میں نے جب اسے یہ بتایا کہ یہاں پاکستانی ہوٹل نہیں ہوتے تو اس نے اسے سخت نا انصافی قرار دیا۔

          ہم باہر نکلے تو سخت لو چل رہی تھی اور ریت اڑ رہی تھی۔ قریب ہی مسجد تھی۔ وہاں جا کر ہم نے نماز ادا کی اور پھر اپنا سفر شروع کیا۔ تھوڑی دور جا کر ہم ”الدرب“ کے قصبے میں داخل ہوئے۔ اب ہم 627 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ یہاں سے ایک روڈ جیزان اور دوسری ابہا کی طرف نکل رہی تھی۔ ہمارا ارادہ چونکہ پہلے جیزان جانے کا تھا اس لئے ہم اس طرف روانہ ہوئے۔

ریت کا طوفان

تھوڑی دور جاکر ریت کا طوفان شدت اختیار کر گیا۔ اس وقت وہی کیفیت تھی جو سردیوں میں لاہور میں دھند کے باعث ہوتی ہے۔ چند فٹ کے فاصلے پر بھی کچھ نظر نہ آ رہا تھا۔ تمام گاڑیوں کی لائٹیں جل رہی تھیں اور سب لوگ 60 کی رفتار سے سفر کر رہے تھے۔ ریت پوری قوت سے گاڑی سے ٹکرا رہی تھی اور تیز ہوا چل رہی تھی۔ کافی دیر ہم آہستہ آہستہ سفر کرتے رہے۔ پورا علاقہ پوٹوہار کی طرح اونچا نیچا تھا لیکن پہاڑیوں کی بلندی کچھ زیادہ نہ تھی۔ روڈ کے دونوں طرف جا بجا فارم ہاؤس نظر آرہے تھے۔ پہلے ”ام خشب“ کا شہر آیا اور اس کے بعد ”صبیہ“۔ اس کے بعد ”ظبیہ “ کا قصبہ تھا۔ یہاں سے کچھ ہی دیر کے بعد ہم جیزان میں داخل ہو چکے تھے۔

جیزان

اپنی منزل پر پہنچ کر سب سے تکلیف دہ مرحلہ ہوٹل کی تلاش ہوتا ہے۔ ایسا ہوٹل جو اپنے ماحول اور قیمت کے لحاظ سے مناسب ہو، تلاش کرنا کافی مشکل کام ہے اور وہ بھی اس وقت جب آپ 850  کلومیٹر کا سفر طے کرکے تھکن سے چور ہوں۔ سعودی عرب میں ہوٹلوں کے علاوہ فرنشڈ اپارٹمنٹ بھی یومیہ کرائے پر ملتے ہیں ۔ہمیں بھی بالآخر ایک اپارٹمنٹ پسند آ گیا۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم ساحل کی جانب روانہ ہوئے تاکہ غروب آفتاب کا منظر دیکھ سکیں۔ یہاں کوئی خاص منظر نہ تھا۔ پانی گرے رنگ کا تھا۔ مغرب کے وقت ہم روانہ ہوئے اور ایک بہت بڑی مسجد میں نماز ادا کی۔ اس کے بعد فیملی کے لئے ایک ترک ریسٹورنٹ سے کھانا پیک کروایا اور اپنے اپارٹمنٹ میں واپس آگئے۔

          جیزان جنوب کی جانب سعودی عرب کا آخری شہر ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا جدید شہر ہے۔ یہ یمن کے بارڈر کے بالکل قریب ہے۔ یمن کا دارلحکومت صنعاءیہاں سے محض تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ صنعاءسے سو کلومیٹر کے فاصلے پر ”سد مآرب (Ma'arib Dam) “ کے مشہور تاریخی آثار ہیں جو یمن میں سیاحوں کے لئے سب سے زیادہ کشش رکھتے ہیں۔

       جیزان شہر، سعودی عرب کے صوبہ جیزان کا دارالحکومت بھی ہے۔ اس کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ 1934 میں سعودی عرب میں شامل ہوا۔ اس شہر کے قریب ہی جزائر فراسان ہیں جو سیاحت کے لئے مشہور ہیں۔ افسوس ہم لوگ ان جزائر کی سیر نہ کر سکے۔

          صوبہ جیزان سعودی عرب کا زرعی علاقہ ہے۔ یہاں کی انجیر اور آم مشہور ہیں۔ سعودی عرب میں آموں کی بہت ورائٹی کھانے کو ملی۔ بغیر کسی تعصب کے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دنیا بھر میں نمبر ون کوالٹی کا آم، پاکستان کا ہے۔ پاکستانی آم بالخصوص چونسا، انور ریٹول اور دوسہری یہاں سب سے مہنگا بکتا ہے۔ اس کے بعد انڈیا کے الفانسو کا نمبر ہے۔ یمنی یا سعودی آم سستا ملتا ہے لیکن اس کی کوالٹی اور ذائقہ بھی پاکستانی آم کے مقابلے میں کچھ نہیں۔

          جیزان کا کلچر سعودی سے زیادہ یمنی ہے۔ ہم لوگ چونکہ غیر عرب ہیں اس لئے اس میں زیادہ فرق محسوس نہیں کرسکے۔ لوگوں کی شکلوں میں یمنی نقوش نمایاں تھے۔ سعودی عرب اور یمن میں سرحدی تنازعہ پایا جاتا ہے۔ یمن، جیزان، نجران ، عصیر اور الباحہ کے سعودی صوبوں پر دعویٰ کرتا ہے۔ اس مسئلے پر دونوں ممالک کے مابین ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔  جیزان میں سلطنت عثمانیہ کے دور کا ایک قلعہ بھی ہے۔

          پہلی جنگ عظیم کے وقت یہ علاقے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔ جنگ کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کے حصے کئے گئے تو 1918 میں شمالی یمن آزاد ملک بن گیا۔ جنوبی یمن پر برطانیہ نے اپنا قبضہ رکھا جو کہ 1967 میں آزاد ہوا۔ 1970 میں جنوبی یمن نے کمیونزم کا نظام اختیار کرلیا۔ 1990 میں یہ دونوں ممالک متحد ہو کر موجودہ یمن کی شکل اختیار کر گئے۔شاید انہوں نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا ہو گا کہ اتفاق میں برکت ہے۔

فیفا ما‏ؤنٹین

صبح ہم دوبارہ فجر کے بعد روانہ ہوئے۔ اب ہماری منزل ”فیفا ماؤنٹین“ تھی۔ پہلے تو ہمارا ارادہ یہیں کسی پاکستانی ہوٹل سے ناشتہ کرنے کا تھا لیکن اس میں دیر ہو جاتی کیونکہ یہاں اتنی جلدی ہوٹل نہیں کھلتے۔ غلطی سے میں ائر پورٹ میں گھستے گھستے بچا۔ پھر ایک پولیس والے سے فیفا کا راستہ پوچھا تو اس نے نہایت خندہ پیشانی سے تفصیل بتائی۔ کچھ دو رجا کر ہم پھر غلط راستے پر مڑ گئے۔ میں نے ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور سے فیفا کا راستہ پوچھا تو اس نے ہمیں صحیح راستے پر ڈالا۔

          اب ہم واپس ’صبیہ‘ کی طرف جار ہے تھے۔ صبیہ سے ہم شرقی جانب مڑے اور فیفا کی طرف روانہ ہوگئے۔ فیفا کے بارے میں میں نے پہلی مرتبہ ایک ٹورازم بروشر پر پڑھا تھا کہ یہ سعودی عرب کے بلند ترین پہاڑ ہیں۔ اس کے بعد میں نے انٹر نیٹ پر فیفا کے بارے میں سرچ کیا تو اس کی کچھ تصاویر ہاتھ لگیں جو فیفا کے رہنے والے ایک انجینئر ماجد الفیفی نے انٹر نیٹ پر رکھی تھیں۔ میں نے ان سے ای میل پر رابطہ کیا اور فیفا کے بارے میں معلومات طلب کیں۔ انہوں نے پرجوش طریقے سے جواب دیا اور مجھے راستے اور موسم وغیرہ کی تفصیل بتائی۔ ان کے مشورے پر ہی میں نے یہ سفر اگست کے مہینے میں رکھا تھا۔

          صبیہ سے آگے عیلانی کے مقام پر میں نے ایک پاکستانی سے کسی ہوٹل کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے ایک انڈین ہوٹل کا بتایا جہاں سے ہم نے ناشتہ لیا اور آگے روانہ ہوئے۔ اگلا شہر ”دائر“ تھا۔ یہ فیفا کا بیس کیمپ تھا۔ یہاں سے اصل چڑھائی شروع ہو رہی تھی۔ فیفا کی بلندی 11000 فٹ ہے۔ یہاں ایک چیک پوسٹ بھی بنی ہوئی تھی۔ ہم نے اس پر موجود فوجی سے فیفا کا راستہ پوچھا تو جواب ملا، ”رح سیدھا“ یعنی سیدھے چلے جاؤ۔ پتہ نہیں عربی میں یہ ’سیدھا‘ کہاں سے آگیا۔ شاید انہوں نے یہ ہم پاکستانیوں سے ہی سیکھا ہے۔

تتہ پانی

چیک پوسٹ کے فوراً بعد ”عین الحارة“ کا بورڈ لگا ہو اتھا۔ یہاں گرم پانی کے چشمے تھے۔ اس نام کا اگر پنجابی یا کشمیری زبان میں ترجمہ کیا جائے تو یہ ”تتہ پانی“ بنے گا۔ اس نام کے کئی مقامات کشمیر میں موجود ہیں۔ ایک مرتبہ راولا کوٹ سے کوٹلی آتے ہوئے راستے میں، ہجیرہ کے بعد ہم تتہ پانی کے مقام سے گزرے تھے۔ یہاں بھی گرم پانی کے چشمے تھے۔ کراچی میں بھی منگھو پیر کے مقام پر گرم چشمے موجود ہیں۔

          عین الحارہ یا تتہ پانی کے فوراً بعد چڑھائی شروع ہو گئی۔ فیفا ماؤنٹین کے علاقے کو زیادہ ترقی نہیں دی گئی۔ یہاں روڈ اچھی کوالٹی کا نہ تھا۔ چڑھائی مالم جبہ یا شوگران جیسی تھی لیکن روڈ بہت گیا گزرا تھا۔ کوئی بھی پہاڑی سڑک بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ سڑک کا زاویہ ایک خاص حد سے زیادہ اونچا نہ ہونے پائے لیکن یہاں تو 45 درجے کے اٹھان بھی موجود تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ چڑھنے کے فوراً بعد ایک اسپیڈ بریکر آ جاتا تھا۔ میں نے گاڑی کو سب سے بڑے گیئر میں ڈالا اور چڑھنا شروع کیا۔ پہاڑ کے گرد گھومتے گھومتے ہم بالآخر چوٹی پر جا پہنچے۔ چوٹی پر فیفا کا قصبہ تھا جو کافی گنجان آباد تھا۔

          فیفا کا پورا پہاڑ بالکل ہمارے شمالی علاقہ جات والا منظر پیش کر رہا تھا۔ ارد گرد کے پہاڑ بھی گھنے سبزے سے ڈھکے ہوئے تھے۔ افسوس اس دن بھی نیچے ڈسٹ اسٹارم کے آثار تھے، اس لئے زمین سے لے کر بلندی تک مٹی دھند کی شکل میں پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے منظر بہت واضح نہ تھا۔ اوپر سے نیچے تک پہاڑ پر اسٹیپس کی صورت میں کھیت بنائے گئے تھے۔ پورے فیفا میں کوئی باقاعدہ ہوٹل نہ تھا البتہ لوگوں نے چھوٹے موٹے کمرے بنا رکھے تھے جنہیں وہ گھنٹوں کے حساب سے کرائے پر دیتے تھے۔ میں نے ایسے ایک دو منی ہوٹل دیکھے لیکن ان کے باتھ روم گندے اور کرائے بہت زیادہ تھے چنانچہ ہم نے یہاں رکنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

مملکت سبا

جنوبی جانب یمن کا بارڈر تھا اور یمنی علاقہ سامنے نظر آرہا تھا۔ ہم کافی دیر وہیں گھومتے رہے۔ ہماری طرح کچھ اور ایڈونچر پسند عرب یہاں آئے ہوئے تھے جو ڈیویلپڈ علاقہ نہ ہونے کے باعث مایوس ہو کر ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ اچانک میرے موبائل پر دو تین SMS آئے۔ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ سعودی عرب کی موبائل کمپنی ”موبائلی“ کے سگنلز ختم ہوگئے ہیں اور انٹرنیشنل رومنگ پر یمن کے ”سبا نیٹ“ کے سگنل آ رہے ہیں۔ سبا نیٹ کمپنی ہمیں یمن آمد پر خوش آمدید کہہ رہی تھی۔ فیفا، سعودی عرب اور یمن کے مابین ایک بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے۔

          یمن قدیم عرب کا سب سے متمدن علاقہ رہا ہے۔ بعض روایات کے مطابق صنعاء سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے سام نے آباد کیا۔ زمانہ قدیم میں یہاں سبائی تہذیب پروان چڑھی۔ اس تہذیب کے بارے میں میں یہاں پر سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن اور وکی پیڈیا سے حاصل کی گئی معلومات کا خلاصہ لکھ رہا ہوں۔ سبا عرب کے ایک قدیم شخص کا نام تھا جس کی اولاد سے کندہ، حمیر، ازد، اشعریین، خثعم، بجیلہ، عاملہ، جذام، لخم اور غسان نامی قبائل پیدا ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک یہ تمام قبائل پورے عرب میں منتشر ہو چکے تھے۔ سبائی تہذیب اپنے وقت کی متمدن دنیا کی امیر ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کی دولت کو ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ بائبل میں بھی اس قوم کی خوشحالی کا ذکر ہوا ہے۔ زبور میں ایک دعا ہے:

”اسی کی عمر دراز ہو۔ سبا کا سونا اسے دیا جائے۔ لوگ اس کے حق میں ہمیشہ دعا کرتے رہیں۔ اور دن بھر اسے برکت دیتے رہیں۔“ (زبور27:51 )

”سبا اور رعما کے سوداگر تیرے ساتھ تجارت کرتے تھے اور تیرے سامان کے عوض ہر طرح کے نفیس مسالے، قیمتی پتھر اور سونا دیتے تھے۔ “ (حزقی ایل 72:22 )

          سبا کا وطن جزیرہ نمائے عرب کا جنوب مغربی کونہ تھا۔ ان کی سلطنت موجودہ یمن میں عدن کی بندرگاہ سے لے کر سعودی عرب کے صوبہ جیزان، نجران، عصیر اور الباحہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ آغاز میں یہ ایک آفتاب پرست قوم تھی۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوة والسلام کے زمانے میں یہاں کی ملکہ بلقیس آپ کے ہاتھ پر ایمان لائی تھی۔  کہا جاتا ہے کہ آپ نے اس ملکہ سے نکاح کر لیا۔ قرآن مجید نے سورة نمل میں یہ واقعہ پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔

          اس زمانے میں یہ قوم ایک خدا پر ایمان لے آئی۔ بعد میں ان میں پھر شرک کا غلبہ ہوا۔ان کا سب سے بڑا دیوتا  "المقہ"  یعنی چاند بن گیا۔ ان کے بادشاہوں نے خود کو خدا اور بندے کے درمیان وسیلہ قرار دینا شروع کیا اور ’مکرب‘ کا لقب اختیار کیا۔ 650 ق م کے بعد ان کے ہاں سیکولر ازم کو فروغ حاصل ہوا ۔ اس زمانے میں انہوں نے مآرب کو اپنا مرکز بنایا۔ غالباً اسی زمانے میں مآرب ڈیم بنایا گیا جس سے مملکت سبا کا شمار دنیا کی امیر ترین اقوام میں ہونے لگا۔

100 ق م کے لگ بھگ ان پر قبیلہ حمیر کے لوگ حکمران ہوئے جنہوں نے چار سو سال حکومت کی۔ 300ء کے بعد ان کا زوال شروع ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک یہ قوم اپنا نام و نشان کھو چکی تھی اور ان کی جگہ قریش کو عرب کے سب سے اہم قبیلے کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔

          قوم سبا کا عروج دو بنیادوں پر قائم تھا: ایک ان کی زراعت اور دوسرے ان کی تجارت۔ اگرچہ اس ملک میں کوئی قدرتی دریا نہیں ہے لیکن بارشیں بکثرت ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس دور میں مآرب جیسا بڑا ڈیم بنا کر پانی کو ذخیرہ کیا اور اس سے نہریں نکالیں۔ آبپاشی کے اس نظام کے نتیجے میں ان کی زراعت انتہائی ترقی یافتہ ہوگئی۔ پورا ملک کسی باغ کا منظر پیش کرنے لگا۔ قرآن مجید کی تعبیر کے مطابق کسی بھی مقام پر کھڑے ہو کر اگر دائیں بائیں نظر دوڑائی جاتی تو باغ ہی باغ نظر آتے۔ تجارت کے میدان میں عدن کی بندرگاہ کو انتہائی ترقی دی گئی۔ چین، ہندوستان، انڈونیشیااور مشرقی افریقہ سے اشیا اور غلام عدن لائے جاتے ۔ سبا کے لوگ انہیں خرید کر مصر اور شام میں فروخت کرتے جہاں سے یہ یورپ اور مغربی افریقہ کے ممالک تک بیچے جاتے۔معاشی اعتبار سے اس قوم کا شمار دنیا کی سپر پاورز میں ہونے لگا۔

          250 ق م کے لگ بھگ اہل مصر نے نہر سویز کی طرز پر ایک نہر دریائے نیل سے بحیرہ احمر کو ملانے کے لئے کھودی اور اس کے ذریعے بحیرہ احمر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن یہ مہم ناکام رہی۔ جب مصر پر روم کا قبضہ ہوا تو روم نے حبشہ پر بھی اپنا تسلط قائم کرلیا۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ، قیصر روم کا ماتحت بن کر حکومت کرنے لگا۔ دوسری طرف سبائیوں میں پھوٹ پڑ گئی اور ان میں آپس میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر یہاں حبشہ کے ماتحت عیسائی حکومت بھی قائم ہوگئی۔ بعد ازاں یہاں یہودیوں کی حکومت بھی کچھ عرصے کے لئے قائم رہی جنہوں نے عیسائیوں پر مذہبی جبر (Persecution) کی انتہا کردی اور نجران میں بہت سے اہل ایمان عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔ اس ظلم کا ذکر سورة اخدود میں آیا ہے۔

          اس قوم کی نافرمانیاں بڑھتی گئیں اور بالآخر ان کو بطور تنبیہ اللہ تعالیٰ نے ایک سخت سزا دی۔ 450ء میں مآرب ڈیم ٹوٹنے کے نتیجے میں ایسا سیلاب آیا جس کی مثال نہیں ملتی۔اس ڈیم کے نتیجے میں ان کی پوری زراعت تباہ ہوگئی۔ ان کی تجارت پر پہلے ہی اہل حبش اور پھر قریش کا قبضہ ہو چکا تھا۔ اس پر مستزاد ان کی خانہ جنگیاں تھیں۔ ان کے بہت سے قبائل عرب کے دوسرے علاقوں میں جا کر آباد ہوگئے۔

           570ء میں ان کے حبشی حکمران ابرہہ نے مکہ پر حملہ کرکے کعبہ کو ڈھانے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نتیجے میں اس کی پوری فوج ہلاک ہوگئی۔575ء میں یہاں ایران کی ساسانی حکومت کا قبضہ ہو گیا جس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب 628ء میں یہاں کے ایرانی گورنر باذان نے اسلام قبول کر لیا۔ بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سیدنا معاذ بن جبل اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو گورنر مقرر فرمایا۔ سبا کے عروج و زوال کو قرآن مجید نے بڑی فصاحت و بلاغت سے اس طرح بیان کیا ہے:

سبا کے لئے ان کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، (جہاں نظر دوڑاؤ تو) دو باغ دائیں اور دو بائیں۔ اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ ملک ہے پاکیزہ و عمدہ اور رب ہے بخشش فرمانے والا۔ مگر وہ منہ موڑ گئے۔ آخر کار ہم نے ان پر سیل العرم (بند توڑ سیلاب) بھیجا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ انہیں دو اور باغ دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔ یہ تھا ان کے کفران نعمت کا بدلہ جو ہم نے انہیں دیا۔ اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے۔

اور ہم نے ان کے اور ان کی بستیوں کے درمیان ، جنہیں ہم نے برکت دی تھی، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور ان میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے سے رکھ دی تھیں۔ چلو پھرو ان راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ۔ مگر انہوں نے کہا، ’اے ہمارے رب! ہمارے راستوں کی مسافت لمبی کر دے۔‘انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل ہی تتر بتر کر ڈالا۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو بڑا صابر و شاکر ہو۔ “ (السبا 34:15-19 )

          ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اس کے بندے اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ اس کا مطالبہ صرف نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا ہے۔ سبا کے اس عروج و زوال کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو بتایا جائے کہ اگر وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنے تو پھر اس کی کامیابی کو ناکامی میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اس دنیا میں ایسا نہ ہو لیکن انسان کی اصل زندگی یعنی آخرت میں ایسا ضرور ہو گا۔

ابہا

کچھ دیر ادھر ادھر گھوم کر ہم واپس ہوئے۔ اترتے ہوئے پھر گاڑی کو سب سے بڑے گیئر پر رکھنا پڑا۔ پہاڑی سفر کے دوران ، مسلسل اترائی میں ہمیشہ بڑا گیئر استعمال کرنا چاہئے ورنہ بریک کا استعمال زیادہ ہو جاتا ہے اور بریکیں گرم ہو کر کام چھوڑ دیتی ہیں۔واپسی پر چوکی پر ہمیں روکا گیا اور اقامہ چیک کرنے کے علاوہ ساتھ گاڑی کی ڈگی بھی چیک کی گئی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یمنی لوگ اس راستے سے انسانوں اور اشیاء کی سمگلنگ وغیرہ کرتے ہوں گے۔ اس کے بعد ہم واپس صبیہ کی طرف روانہ ہوئے۔ صبیہ سے ہم واپس جدہ کے رخ پر روانہ ہوئے۔ ”درب“ کے مقام سے ہم نے اپنا رخ ”ابہا“ کی طرف کر لیا جو یہاں سے محض ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

          درب سے ابہا کا راستہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ ہمارے شمالی علاقہ جات کے راستے ہیں۔ روڈ کے ایک طرف اونچے اونچے پہاڑ تھے اور دوسری طرف دریا۔ ہمارے دریاؤں کے برعکس یہ دریا خشک پڑا تھا۔ ہم نے اسے ”دریائے ابہا“ کا خطاب دیا۔ عرب کے تمام دریا ایسے ہی شدت پسند ہیں۔ اعتدال سے بہنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ یہ سارا سال خشک پڑے رہتے ہیں لیکن جب بارش ہوتی ہے تو پھر ان میں سیلاب ہی آ جاتا ہے۔ مسلسل ڈرائیونگ کے باعث مجھے اب کافی کی طلب ہو رہی تھی۔ ایک پیٹرول پمپ پر شیشوں سے بنی ہوئی خوب صورت کافی شاپ سے میں نے کافی لی۔ بچوں کو کولڈ ڈرنک لے کر دیے اور پھر چل پڑا۔ ہمارے پاکستان میں صرف چائے کا رواج ہے۔ گوادر کے ساحلوں سے لے کر کے ٹو کے بیس کیمپ تک ہر مقام پر چائے دستیاب ہو جاتی ہے لیکن کافی بڑے شہروں میں بھی صرف مخصوص مقامات پر دستیاب ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں کافی ہر جگہ میسر ہے۔

          تھوڑی دور جاکر روڈ ٹوٹی ہوئی تھی۔ پہاڑوں پر نئی روڈ کی تعمیر جاری تھی۔ عارضی طور پر ایک روڈ دریا کے بیچ میں سے گزاری گئی تھی۔ ہم بھی اس سے دریا میں اتر گئے۔ یہاں ڈھیر سارے بندر ایک غول کی صورت میں بیٹھے تھے۔ ماریہ کو بندر بہت پسند ہیں۔ وہ انہیں دیکھ کر شور مچانے لگی۔ بندر اچھل کود رہے تھے۔ مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی سر پھرا ہماری گاڑی میں نہ آ گھسے۔ ان میں ایک بزرگ بندر بھی تھا جو بڑی سنجیدہ صورت بنائے بیٹھا تھا۔ تمام بندر اس کا بڑا احترام کر رہے تھے اور اس کے احکامات پر عمل کر رہے تھے۔ کچھ دیر یہاں رکنے کے بعد ہم روانہ ہوئے۔ اب مسلسل چڑھائی کاسفر تھا۔ ہم آہستہ آہستہ بلندی کی طرف جارہے تھے۔ ابہا اب قریب آتا جارہا تھا۔

          مجھے چونکہ مختلف مقامات کو ایک دوسرے سے تشبیہ دینے کا بہت شوق ہے اس لئے یہ چڑھائی مجھے بالکل مالا کنڈ کی چڑھائی جیسی لگی۔ درگئی سے نکلتے ہی مالا کنڈ کا درہ آجاتا ہے جس کے بیچوں بیچ سرنگ بھی بنی ہوئی ہے۔ درہ ابہا پر ایک کی بجائے دو سرنگیں تھیں۔ کافی اوپر جاکر پہاڑ کو کاٹ کر سڑک بنانے کی بجائے پہاڑ کے گرد ایک پل بنا دیا گیا تھا۔ اگر ایسا ممکن ہو جائے کہ ہر مقام پر پہاڑ پر گول گھومتے ہوئے پل بنا دیے جائیں تو پہاڑ کو ڈائنامیٹ سے اڑانے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے گی جس کے باعث پہاڑوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے۔ مجھے چوں کہ سول انجینئرنگ کی ابجد کا بھی علم نہیں اس لئے انجینئر حضرات سے ان کے فن میں اس منہ ماری پر معذرت کرتا ہوں۔

          آخر کار ہم ابہا جا پہنچے جو طائف کی طرح انتہائی بلندی پر واقع ایک وسیع وادی میں واقع ہے۔ اس کی سطح سمندر سے اوسط بلندی تقریباً 8000 فٹ ہے۔ یہاں موسم خنک تھا۔ سعودی عرب کی شدید گرمی میں جب شہروں میں درجہ حرارت 55 اور صحراؤں میں 80 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، ابہا کا درجہ حرارت 25 سے نہیں بڑھ پاتا۔ ہم ابہا رنگ روڈ پر چل پڑے۔ تھوڑی دورجا کر ہمیں ایک سبز رنگ کی پہاڑی نظر آئی جس پر دائرے کی صورت میں پودے لگائے گئے تھے۔ یہ مقام ’جبل اخضر‘  کہلاتا ہے اور پہاڑی پر پودے مصنوعی طور پر ترتیب سے لگائے گئے ہیں۔ یہ ایک بڑا پکنک سپاٹ ہے۔ اس وقت ہمیں بہت بھوک لگ رہی تھی، اس لئے ایک پاکستانی سے ہم نے پاکستانی ہوٹل کے بارے میں پوچھا اور سیدھے وہیں روانہ ہوئے۔ ہوٹل پر پہنچ کر نان پائے کھانے کے بعد ہم واپس جبل اخضر کی طرف روانہ ہوئے۔

جبل اخضر

پہاڑ پر انٹری کی ٹکٹ 25 ریال تھی۔ اوپر پہنچے تو ایک وسیع پارکنگ تھی جہاں فٹ پاتھوں پر لوگ قالین بچھائے بیٹھے تھے۔ ایک طرف چیئر لفٹ کا پوائنٹ تھا جہاں سے چیئر لفٹ پوری وادی ابہا کا چکر لگا رہی تھی۔ آسمان پر گھنے بادل تھے۔ سعودی عرب آکر ہم لوگ بارش کو ترسے ہوئے تھے۔ ہم نے بارش کی بہت دعا کی لیکن سوائے چند بوندوں کے اور کچھ نصیب نہ ہوا۔کچھ دیر وہاں گزار کر ہم شہرکا چکر لگانے نکلے ۔ یہ چھوٹاسا جدید شہر تھا۔ سعودی عرب کے تمام شہر ہی جدید نظر آتے ہیں کیونکہ حکومت عوام پر رقم خرچ کرتی ہے۔

          مغرب کی نماز کے بعد ہم واپس آئے۔ اندھیرے میں جبل اخضر بہت خوبصورت نظر آ رہا تھا جس پر سبز رنگ کی لائٹیں لگائی گئی تھیں۔ پاکستانی ہوٹل کے قریب ہی ایک فرنشڈ اپارٹمنٹ میں ہمیں بمشکل جگہ ملی۔ اپارٹمنٹ کی ریسپشن پر ابہا کے بارے میں کئی بروشر ملے۔ ایک بروشر میں پورے سال میں کئے جانے والے ثقافتی پروگرامز کی تفصیل دی گئی تھی۔ اگست کے مہینے میں بھی رات کو اچھی خاصی سردی تھی اس لئے اے سی کی ضرورت نہ تھی۔ صبح اٹھ کر ہم لوگ ناشتے کے لئے روانہ ہوئے۔ لاہوری چنے کے ساتھ پراٹھے بہت مزیدار معلوم ہوئے۔ میں نے ہوٹل کے مالک سے ابہا کے تفریحی مقامات کے بارے میں پوچھا۔ ابہا کے مشہور مقامات میں حبلہ کا معلق گاؤں اور  وادی سودہ مشہور تھے۔ چنانچہ ہم نے یہاں جانے کا ارادہ کیا۔

ہم لوگ اب ابہا کے رنگ روڈ پر آگئے۔ یہاں سے ایک سڑک ’خمیس مشیط‘ اور آگے نجران کی طرف نکل رہی تھی جو ابہا سے آگے ایک اور پہاڑی شہر ہے۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ یہاں کا سفر بھی کرتے اس لئے اسے اگلے ٹور کے لئے رکھا اور آگے روانہ ہو گئے۔

نجران

ابہا سے تقریباً اڑھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر نجران ہے جو عرب کا مشہور تاریخی شہر ہے۔ عہد رسالت میں یہ شہر عیسائیت کا مرکز تھا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت یہاں پہنچی تو یہ لوگ ایک وفد کی صورت میں مدینہ حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بہت اچھا سلو ک کیا اور ان کے رہنے کا انتظام مسجد نبوی میں کیا۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے آخری دین کی دعوت دینے کے لئے سورہ آل عمران کی آیات نازل ہوئیں۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور سیدنا عیسی علیہ الصلوة والسلام کی سیرت اور دعوت کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد ان پر اتمام حجت کے لئے آیت مباہلہ نازل ہوئی:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ. الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُنْ مِنْ الْمُمْتَرِينَ. فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ... قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ. اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ (زندہ) ہو جا اور وہ ہوگیا۔ یہ اصل حقیقت ہے جو تمہیں تمہارے رب کی جانب سے بتائی جارہی ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ یہ علم آ جانے کے بعد اگر کوئی آپ سے اس معاملے میں بحث کرے تو آپ فرمائیے: اؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خدا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو۔۔۔۔

اے اہل کتاب! اؤ ایسی بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے مابین مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔اور ہم میں سے کوئی کسی اور اللہ کے سوا اپنا رب نہ بنائے۔ “(اٰل عمران 3:59-64 )

چونکہ یہ لوگ اہل کتاب تھے اور اللہ تعالی کے اس قانون سے واقف تھے کہ وہ اپنے رسول کے مقابلے میں کسی کو کامیاب نہیں ہونے دیتا اس لیے یہ مقابلے پر نہ آئے اور جزیہ دینا قبول کیا۔

بعد میں ایک موقعہ پر نجران جانے کا موقع ملا۔  یہاں ایک بہت بڑا میوزیم ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ سائٹ ہے جسے اصحاب اخدود کی سائٹ کہا جاتا ہے۔ یہ قدیم یمنی تہذیب کا ایک اہم شہر ہے۔ اصحاب اخدود دراصل یہودی تھے جنہوں نے یمن پر عظیم یہودی سلطنت قائم کر رکھی تھی۔ اس زمانے میں یہود و نصاری کے مابین شدید دشمنی تھی۔ کچھ لوگوں نے سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے سچے دین کو اختیار کر لیا۔ یہ بات حکمرانوں سے برداشت نہ ہوئی۔ مذہبی جبر کا دور تھا۔ انہوں نے ایک کھائی میں آگ جلائی اور اہل ایمان کو اس میں پکڑ پکڑ کر پھینکنا شروع کر دیا۔ یہ لوگ کھائی کے کنارے پر بیٹھے اہل ایمان کے جلنے کا نظارہ کر رہے تھے اور اس پر قہقہے لگا رہے تھے کہ اچانک آگ کے شعلے بلند ہوئے اور اس نے ان ظالموں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ قرآن مجید میں ہے:

قُتِلَ أَصْحَابُ الأُخْدُودِ. النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ. إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ. وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ. (البروج 85:4-7) اصحاب اخدود مارے گئے۔ وہ آگ جو بھڑک رہی تھی۔ جب وہ اس پر بیٹھے تھے اور جو کچھ وہ اہل ایمان کے ساتھ کر رہے تھے، اسے دیکھ رہے تھے۔

نجران میں 1940ء کے زمانے کا ایک تاریخی محل بھی ہے جو وہاں کے گورنر کی رہائش تھی ۔  اسے بھی بطور تاریخی عمارت کے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

حبلہ کا معلق گاؤں

ابہا سے ستر کلومیٹر کے فاصلے پر وہ عجوبہ موجود ہے جو حبلہ کا معلق گاؤں کہلاتا ہے۔ ایک اور سفر میں ہم نے اسے دیکھنے کا ارادہ کیا۔ ابہا سے تقریباً 40 منٹ کی ڈرائیو کے بعد جب یہاں پہنچے تو کھلے سے میدان میں ایک بڑا سا پارک بنا ہوا تھا۔ جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو ایک عجیب منظر نگاہوں کے سامنے تھا۔ میدان کے آخری کنارے پر بہت بڑی کھائی تھی جس میں دور نیچے ایک دریائی راستہ تھا۔ پہاڑ کے کنارے پر ایک کیبل کار تھی جو نیچے جا رہی تھی۔ اس پر بیٹھ کر  ہم نیچے پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہم عمودی پہاڑ کے عین درمیان میں کھڑے ہیں۔ اس عمودی پہاڑ کے اوپر اور نیچے دونوں جانب 90ڈگری کی بالکل سیدھی چٹانیں تھیں۔ صرف ایک چھوٹا سا حصہ تھا جہاں ایک گاؤں بنا ہوا تھا۔ یہ مقام نصف دائرے کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ یہی حبلہ کا قدیم معلق گاؤں تھا۔ اس گاؤں کے باسیوں نے حملہ آوروں سے دفاع کے لئے اس مقام پر رہائش اختیار کر رکھی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اب یہاں کیبل کار تھی، قدیم دور میں نیچے آنے کے لئے انہوں نے رسوں وغیرہ کا انتظام کیا ہو گا۔ یہ ایک نہایت ہی متاثر کن جگہ تھی۔ سبزے کی یہاں بہتات تھی اور پانی کا ایک چشمہ بھی تھا۔ یہاں کافی خنکی تھی اور پرانے گاؤں کے کچھ آثار بھی موجود تھے۔

وادی سودہ

آدھ گھنٹے میں ہم سودہ میں داخل ہوگئے۔ بلامبالغہ یہ مقام ہمارے سفر کی معراج تھی۔ اتنی خوبصورت وادی میں نے اب تک سعودی عرب میں نہ دیکھی تھی۔ حقیقی معنوں میں اگر عرب کے مقامات کی بلحاظ قدرتی حسن درجہ بندی کی جائے تو وادی سودہ پہلے نمبر پر آئے گی۔ وادی کے دونوں جانب سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑ تھے جو چوٹی سے لے کر نشیب تک آر ہا تھا۔ ایک جانب ابہا انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل تھا۔

          وادی میں انسانی قد کے برابر بہت سے پودے تھے۔ مجھے ان پودوں کے درمیان ہل چل محسوس ہوئی۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کے درمیان بہت سی فیملیاں بیٹھی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے یہاں کیمپ لگائے ہوئے تھے اور ان میں بیٹھے انجوائے کر رہے تھے۔ وادی میں فرنشڈ اپارٹمنٹ بھی تھے۔ ہمیں افسوس ہوا کہ ہم نے خواہ مخواہ ہی رات ابہا میں گزاری۔ اگر اس جگہ کا پہلے علم ہوتا تو رات یہیں گزارتے۔ موسم میں دھوپ کی تمازت اور ہوا کی خنکی دونوں موجود تھیں۔

          میں سوچنے لگا کہ انسان اتنی کثیر تعداد میں ایسے مقامات پر کیوں آتے ہیں۔ دنیا میں کسی بھی حسین مقام کو دیکھ لیجئے، سیاحوں کے غول کے غول سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ سبزہ، پانی، موسم کی خنکی، دھوپ کی تمازت انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ ہمارے پاکستان میں لوگ جوق در جوق شمالی علاقہ جات کا سفر کرتے ہیں۔اہل مغرب اس معاملے میں بہت باذوق واقع ہوئے ہیں۔ یہ لوگ سارا سال بچت کرتے ہیں اور سالانہ چھٹیوں میں کسی نہ کسی حسین مقام کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

           کافی غور کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ انسان میں فطری طور پر جنت کی شدید خواہش ہے۔اگر کسی بھی انسان سے یہ پوچھا جائے کہ جناب اگر آپ کو ایسے مقام پر رکھا جائے جہاں بہترین باغات ہوں، ان میں نہریں رواں دواں ہوں، آپ کو بہت اچھے ساتھی میسر ہوں، نیک شریک حیات ہو، پیارے پیارے بچے ہوں، مزیدار کھانے اور پھل ہوں، کوئی غم نہ ہو، کوئی بیماری نہ ہو، ہر طرف خوشی ہی خوشی ہو اور موت بھی نہ ہو تو کیا آپ وہاں رہنا پسند کریں گے؟ ہر نارمل انسان کا جواب اثبات میں ہی ہو گا۔ اسی جذبے کے تحت ہر شخص اپنی دنیا کو جنت بنانا چاہتا ہے اور اس کے لئے بھرپور محنت کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔

حبلہ کا معلق گاؤں

          یہ بات تو طے ہے کہ اس دنیا کا ڈیزائن ایسا ہے کہ اس کو جنت نہیں بنایا جاسکتا۔ یہاں آرام کے ساتھ دکھ بھی ہوں گے۔ نعمتوں کے ساتھ تکالیف بھی ملیں گی۔ پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوں گے۔ یہ دنیا جنت کی بعض نعمتوں اور جہنم کے بعض مسائل کا مجموعہ ہے۔اس دنیا کے خالق نے انسان کو ہمیشہ سے بتا دیا ہے کہ ان نعمتوں اور مسائل کو انسان کی اصل زندگی میں الگ کیا جائے گا۔ اگر انسان نعمتوں والی زندگی چاہتا ہے تو اس کے لئے کوئی کڑی شرط نہیں ہے۔ اسے صرف اتنا کرنا پڑے گا کہ وہ خالق کائنات کا نافرمان اور سرکش بندہ بن کر نہ رہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ہر عیب سے بالکل پاک ہو جائے۔ اس سے غلطیاں بھی ہوں گی، کوتاہیاں بھی ہوں گی لیکن اس کے بعد کیا وہ اپنے معبود کے سامنے سرکشی پر اترتا ہے یا توبہ کے ذریعے اپنی کوتاہیوں کو دھونے کی کوشش کرتا ہے؟ یہ اصل امتحان ہے جس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ دنیا میں جنت کے یہ نمونے انسان کو یہی درس دیتے ہیں۔

لوگوں کے لئے مرغوبات نفس یعنی عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے (سواریاں)، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں۔ مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے مال و اسباب ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانہ ہے ، وہ تو اللہ کے پاس ہے۔ آپ کہیے، ’میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں کہ اس سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے۔ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں ، ان کے لئے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی نصیب ہو گی، پاکیزہ شریک حیات ان کے رفیق ہوں گے اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے۔“ (اٰل عمران 3:14-16  )

          کافی دیر یہاں کے موسم اور ماحول سے لطف اندوز ہو کر ہم روانہ ہوئے۔ اب ہماری منزل جدہ تھی لیکن واپسی کے لئے ہم نے کوسٹل ہائی وے کی بجائے پہاڑی راستہ اختیار کیا۔ یہ راستہ پہاڑوں میں سے گزرتا ہوا تنوما، الجرشی، الباحہ، اور حبوب کے راستے طائف آ نکلتا ہے۔ طائف تک کا یہ سفر تقریباً 650 کلومیٹر طویل ہے۔ اگر یہاں موٹر وے ہوتی تو یہ محض چار پانچ گھنٹے کی ڈرائیو تھی لیکن یہ ایک اچھی کوالٹی کی پہاڑی سڑک تھی۔ یہ فاصلہ شاہراہ قراقرم کے راستے اسلام آباد سے گلگت کے مساوی تھا۔ پاکستان میں یہ سفر بارہ تیرہ گھنٹے میں طے ہوتا ہے جبکہ اس راستے سے ابہا سے طائف کا سفر ہم نے آٹھ گھنٹے میں طے کیا۔

ہم لوگ سودہ سے روانہ ہوئے۔ تھوڑی دور جاکر روڈ کے قریب ایک گہری کھائی تھی۔ ہم وہیں رک گئے اور کھائی کا نظارہ کرنے لگے۔ یہ اتنی گہری جگہ تھی کہ کھائی کی تہہ صاف نظر نہ آ رہی تھی۔ یہاں ایک افریقی عرب رنگ برنگے ڈبوں میں کوئی رنگ برنگی چیز بیچ رہا تھا۔ میں نے اس سے طائف کا راستہ کنفرم کیا اور اس چیز کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا کہ یہ حلوے ہیں۔

چار پٹھان

تھوڑا سا آگے چلے۔ اب ہم ایک سر سبز وادی میں تھے۔ اچانک ایک جانب سے چار پٹھان نمودار ہوئے۔ بھاری بھرکم شلوار قمیص پر انہوں نے بڑی بڑی پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ایک لمحے کو ایسا محسوس ہوا کہ ہم شاید دیر یا سوات کی کسی وادی میں ہیں کیونکہ منظر بالکل وہی تھا۔ ایک بورڈ سے معلوم ہوا کہ یہ وادی زبنہ ہے۔ یہ ایک سر سبز وادی تھی اور مخصوص پہاڑی انداز میں سٹیپ بائی سٹیپ کھیت نظر آر ہے تھے۔ یہاں پتھروں کا بنا ہوا ایک مینار بھی تھا۔

عرب ٹورازم

کچھ ہی دیر میں ہم ابہا طائف ہائی وے پر جا نکلے۔ راستے میں ہمیں ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ بے شمار لوگ اپنی جی ایم سی جیپوں کی چھت پر خیمے باندھے ابہا کی طرف جارہے تھے۔ اس علاقے میں جی ایم سی سب سے مقبول جیپ تھی۔ اس کے بعد ٹویوٹا پراڈو کا نمبر تھا۔ پورے عرب سے کثیر تعداد میں لوگ گرمیوں میں ابہا کا رخ کرتے ہیں اور کیمپنگ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب ٹورسٹ ویزا جاری نہیں کرتا لیکن متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور عمان سے ہزاروں سیاح اس مقام پر آتے ہیں۔ ان چھ ممالک کے رہائشیوں کے لئے دوسرے ملک جانے پر ویزا کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

 اگر سارک ممالک بھی عقل سے کام لیں اور آپس میں بغیر ویزا انٹری کردیں تو یہاں ٹورازم کو بہت فروغ مل سکتا ہے کیونکہ پاکستان، بھارت، نیپال اور سری لنکا میں جتنے مقامات سیاحوں کی کشش کے لئے موجود ہیں اتنے شاید پوری دنیا میں نہ ہوں۔ ٹور ازم کو فروغ صرف امن سے ملتا ہے۔ امن کا فائدہ صرف ایک ملک کو نہیں بلکہ سب کو ملتا ہے۔ افسوس ہمارے خطے میں اختلافات کو امن سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

          اب ہمارے ایک جانب عمودی چٹانیں نظر آ رہی تھیں۔ تھوڑی دور جا کر ایک چڑھائی آئی جو بالکل سیدھی تھی۔ یہ عجیب و غریب چڑھائی تھی جو بالکل سیدھی تھی۔ عموماً پہاڑوں پر چڑھنے والی روڈ زگ زیگ انداز میں گھومتی ہوئی اوپر جاتی ہے۔ لیکن یہ تو بالکل سیدھی سڑک تھی جو کئی کلومیٹر تک بس اوپر ہی اوپر جارہی تھی۔ بلندی پر پہنچ کر بندروں نے ہمارا استقبال کیا ۔ بچوں کی خواہش کے مطابق میں نے گاڑی روک دی۔ یہاں اور لوگ بھی رکے ہوئے تھے۔ حسب روایت یہ اپنے بزرگ بندر کے ساتھ تھے جو ایک نوجوان کو کسی بات پر سرزنش کر رہا تھا۔ نوجوان بندر بڑی فرمانبردارسے سر جھکائے اس کی کھری کھری باتیں سن رہا تھا۔ ایک بندر گاڑی کے بونٹ پر بیٹھا تھا۔ کئی بندریاؤں کے بچے ان کے سینے سے لٹکے دودھ پی رہے تھے۔ لوگ انہیں کھانے پینے کے لئے دیتے ہیں ، اسی لئے یہ سارا دن سڑک کے کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔

الباحہ

آگے تنوما اور جرشی کے شہر آئے۔ یہ دونوں شہر وادیوں کے عین درمیان واقع تھے۔ یہاں کے لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی ہی تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے سفر میں ہم جس شہر یا قصبے سے گزرے وہاں ہم نے پاکستانی ضرور دیکھے۔ 450 کلومیٹر کا طویل سفر طے کرنے کے بعد ہم الباحہ پہنچے۔ بچوں کو اب بھوک لگ رہی تھی لیکن شہر میں عصر کی اذان ہو رہی تھی جس کے باعث تمام ہوٹل بند ہو رہے تھے۔ یہ شہر صوبہ الباحہ کا دارلحکومت ہے۔ شہر خاصا ترقی یافتہ نظر آ رہا تھا۔ الباحہ سے طائف جانے کے دو راستے ہیں۔ ہم نے وہاں چند پاکستانیوں سے بہتر اور مختصر راستے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہمیں ایک راستے کے بارے میں بتایا۔ وقت بچانے کے لئے ہم یہاں نہ رکے اور سیدھے چلتے رہے۔ پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم ہائی وے پر ایک مسجد کے قریب جا پہنچے۔ وہاں عصر کی نماز ادا کی ۔ مسجد کے ساتھ واقع ایک ہوٹل سے برگر اور کولڈ ڈرنک لئے اور پھر چل پڑے۔ ہماری کوشش یہ تھی کہ مغرب تک ہم طائف پہنچ جائیں۔

          اب ہمارا گزر وادی بوا سے ہوا۔ یہ مقام مجھے کریم آباد سے آگے درہ خنجراب جیسا لگا۔ کمی صرف دریا کی تھی۔ میری اہلیہ کہنے لگیں، ”آپ ہر مقام کو پاکستان کے کسی مقام سے تشبیہ دیتے ہیں، اگر کوئی اور یہ سفر کرے اور اسے اس کے برعکس احساس ہو تو وہ آپ کو کیا کہے گا۔“ میں نے کہا ، ”میں محض اپنا احساس بیان کرتا ہوں۔قارئین میں سے اگر بالفرض کوئی ایسا ایڈونچر پسند پیدا ہوجائے جو پاکستان کے ان تمام مقامات کا سفر بھی کرے اور پھر سعودی عرب آکر یہ مقامات بھی دیکھے تو میری کوئی ذمہ داری نہیں کہ اسے بھی بالکل یہی احساس ہوگا۔“ وادی بوا سے آگے کھجوروں کے باغات اور کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ اب ہم لمحہ بہ لمحہ طائف کے قریب ہوتے جارہے تھے۔

خیبات بنو سعد

طائف سے ذرا پہلے خیبات بنو سعد کا علاقہ تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شوحطہ نامی گاؤں تھا۔ یہ سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا گاؤں تھا۔ انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش اسی علاقے میں کی تھی۔ جب بنو سعد نے اسلام قبول کیا تو سیدہ حلیمہ اپنی بیٹی کے ساتھ مدینہ پہنچ کر ایمان لائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رضاعی والدہ اور بہن کا بھرپور استقبال کیا اور اپنی چادر بچھا کر انہیں بٹھایا۔ بعد میں انہیں بہت سے تحائف دے کر رخصت کیا۔

          ایک اور سفر کے دوران الباحہ سے طائف آتے ہوئے ہمیں شوحطہ نامی گاؤں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس علاقے میں اب بھی سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ بنو سعد آباد ہے۔ یہ علاقہ الباحہ سے طائف آنے والی ٹورسٹ ہائی وے پر واقع ہے۔ اس کا فاصلہ الباحہ سے قریباً 170 اور طائف سے 70  کلومیٹر ہے۔ بنو سعد کا مرکز اسی ٹورسٹ ہائی وے پر ہے۔ یہاں سے ایک سڑک دیہات کی جانب نکلتی ہے۔ ہم لوگ اسی سڑک کے ذریعے پوچھتے پوچھتے "عقبہ" نامی گاؤں تک پہنچے۔

          یہاں سے آگے کچی سڑک تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم اپنی گاڑی وہیں پارک کر کے ان کی ہائی لکس پر آگے چلیں۔ پچاس ریال میں معاملہ طے ہو گیا۔ گاڑی کا ڈرائیور دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میں سفر نامہ لکھ رہا ہوں تو اس نے فرمائش کی کہ اس سفر نامے میں اس کا نام درج کیا جائے۔ اس نے بطور خاص مجھے اپنا نام لکھوایا جو کہ "محمد رزق اللہ مرزوق الدویبی" تھا۔

          آدھ گھنٹے کے کچے ٹریک کے سفر کے بعد ہم شوحطہ پہنچے۔ گاؤں میں جدید طرز کے مکانات بنے ہوئے تھے۔ ایک پہاڑی پر بنو سعد کی قدیم مسجد تھی جس کے اب پتھر ہی باقی رہ گئے تھے۔ انہی پتھروں کے ذریعے چار دیواری کی گئی تھی۔ غالباً یہ وہ مسجد ہو گی جو بنو سعد کے اسلام قبول کرنے کے بعد تعمیر کی گئی ہو گی۔ مسجد کے ساتھ ہی سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا گھر تھا جو کہ پتھروں کے دو چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل تھا۔ ایک کمرے میں سیدہ اپنے خاوند کے ساتھ رہتی ہوں گی اور دوسرا کمرہ بچوں کے لئے ہو گا۔ اب ان کمروں کے صرف پتھر ہی باقی رہ گئے تھے۔

          مجھے وہ دور یاد آنے لگا جب دو تین سال کی عمر میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم انہی پہاڑیوں پر دوڑا کرتے ہوں گے۔ یہیں آپ نے چھوٹی سی عمر میں بکریاں چرائیں۔ آپ کی رضاعی والدہ اور رضاعی بہن کتنی شفقت سے آپ کی پرورش کیا کرتی ہوں گی۔ انہی پہاڑیوں میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے شق صدر کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ میں ان پہاڑوں کو دیکھنے لگا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن میں اپنی رضاعی والدہ کی بکریاں چرائی ہوں گی۔ اپنی عمر مبارک کے ابتدائی چار سال آپ نے وہیں بسر فرمائے ہوں گے۔ آپ کی برکات سے سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے معاشی حالات میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔

          اس علاقے کے لوگوں کا پیشہ اب بھی گلہ بانی ہے۔ بہت سے مقامات پر جانوروں کے ریوڑ بھی نظر آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی گلہ بانی کی یاد دلایا کرتے تھے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ بشمول آپ کے تمام انبیاء نے گلہ بانی کا پیشہ اختیار فرمایا تھا۔ کچھ دیر یہاں رک کر ہم نے تصاویر کھینچیں۔ اس کے بعد واپس ہوئے اور طائف کی جانب روانہ ہوئے۔

          طائف کے قریب پہنچ کر ٹریفک بہت زیادہ ہو گئی اور گاڑیوں کی طویل قطار چلنے لگی۔ یہ بھی شکر ہے کہ ہم سب 60-70 کی رفتار سے جا رہے تھے۔ سنگل روڈ کی وجہ سے اوور ٹیک کا کوئی موقع نہ تھا۔یہاں کچھ دیر لگی۔ بالآخر ہم طائف جا پہنچے۔ طائف میں ہمارا رکنے کا کوئی پروگرام نہ تھا۔ شہر سے گزر کر ہم وادی ہدا جا پہنچے اور وہاں سے نیچے اترنے لگے۔ اب اندھیرا ہو چکا تھا۔ اس دن جمعہ تھا اور بہت سے لوگ طائف میں دن گزار کر واپس مکہ اور جدہ جارہے تھے۔

          اس وقت یہ 4000 فٹ گہری اترائی بہت خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔پہاڑ کی چوٹی سے لے کر نیچے تک لائٹوں کی ایک حرکت کرتی ہوئی قطار تھی۔یہ بالکل ایسا ہی منظر تھا جیسا کہ ہمارے ہاں تقریبات وغیرہ پر عمارتوں پر متحرک لائٹیں لگائی جاتی ہیں۔بل کھاتی ہوئی سڑک پر لائٹیں حرکت کر رہی تھیں۔ میں نے گاڑی کو بڑے گیئر میں ڈالا تاکہ یہ زیادہ اسپیڈ نہ پکڑ سکے اور بریکوں کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ آخر کار ہم نیچے جاپہنچے۔ کچھ ہی دیر میں ہم مکہ میں تھے۔ شہر کے اندر سے گزرتے ہوئے ہم جدہ ہائی وے پر آگئے اور دس گھنٹے کے طویل سفر کے بعد بالآخر جدہ پہنچ گئے۔

 

سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا مکان

 

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability