بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دمام، الخبر اور بحرین کاز وے

 

نومبر کے مہینے میں مجھے ایک دفتری کام سے "الخبر" جانا پڑا جو سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ہے۔ خبر اور دمام دونوں جڑواں شہر ہیں جن کے درمیان محض بیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ ان کے قریب ہی "ظہران" کا علاقہ بھی ہے جہاں سعودی آرامکو کے ہیڈ کوارٹرز ہیں۔ یہ خطہ اور اس کا سمندر تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور دنیا کا تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔

††††††††† اس سفر میں میرے ساتھ ایک کولیگ محمد فوزی سلام بھی الخبر جا رہے تھے۔ ہمیں وہاں تین کمپنیوں کا انفارمیشن سسٹمز آڈٹ کرنا تھا۔ میرا پروگرام صرف ایک دن کا تھا۔ میں کام شروع کروا کے شام کو واپس جدہ آ جاتا جبکہ فوزی نے وہاں تین دن رک کر تفصیلی آڈٹ کرنا تھا۔ فوزی کا تعلق مصر سے ہے اور کمپیوٹر سافٹ وئیر سے انہیں جنون کی حد تک عشق ہے۔ وہ ہر طرح کے سافٹ وئیر کی معلومات کا چلتا پھرتا ذخیرہ ہیں اور ہمیں جب بھی کسی بھی سافٹ وئیر کی ضرورت پڑتی ہے، ہم انہی سے پوچھ لیتے ہیں اور نوے فیصد معاملات میں وہ ہمارا مسئلہ حل کر دیتے ہیں۔

††††††††† ہماری فلائیٹ صبح سات بجے کی تھی چنانچہ میں پانچ بجے بیدار ہوا، اس کے بعد فوزی کے موبائل پر فون کر کے انہیں جگایا، غسل کیا، سوٹ پہنا، وتر کی تین رکعتیں ادا کیں، کافی کا ایک کپ پیا، اہلیہ کو خدا حافظ کہا اور روانہ ہو گیا۔ مجھے ٹیکسی کا سفر نجانے کیوں ناپسند ہے۔ پھر اس پر مستزاد صبح صبح کہاں سے ٹیکسی ڈھونڈتا، چنانچہ میں اپنی ہی گاڑی پر ائر پورٹ روانہ ہو گیا۔ ابھی فجر کی جماعت ہونے میں کچھ وقت تھا اور میرا ارادہ تھا کہ فجر کی نماز ائر پورٹ پر ادا کروں۔

††††††††† ائر پورٹ پہنچ کر میں عام پارکنگ کی بجائے غلطی سے ایک اور پارکنگ میں جا گھسا۔ وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ یہ پہلی پارکنگ سے بہتر ہےکیونکہ یہاں سارا دن گاڑی چھت کے اندر محفوظ طریقے سے کھڑی رہتی۔ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے علاوہ کوئی سامان میرے پاس نہ تھا۔ ائر پورٹ میں داخل ہوتے ہی میں سیدھا آٹو میٹک چیک ان مشین کے پاس گیا اور اس سے بورڈنگ پاس کیا۔ اگر آپ کے پاس اضافی سامان نہ ہو تو چیک ان کاؤنٹر پر جانے کی بجائے آپ مشین سے بھی بورڈنگ پاس حاصل کر سکتے ہیں۔ میں واپسی کا بورڈنگ پاس بھی اسی وقت حاصل کر چکا تھا۔

††††††††† تھوڑی دیر میں محمد فوزی بھی جھومتے جھامتے آ پہنچے۔ عام مصریوں کی طرح فوزی بھی وسیع و عریض وجود اور چہرے کے مالک ہیں۔ جدہ ائر پورٹ پر ٹنل کی سہولت نہ تھی چنانچہ بس کے ذریعے ہم لوگ جہاز تک پہنچے۔ کثیر تعداد میں مصری اور سعودی ایگزیکٹوز دمام جا رہے تھے۔ سعودی تو زیادہ تر اپنے قومی لباس "توپ" میں ملبوس تھے جبکہ مصریوں نے ایک سے بڑھ کر ایک سوٹ پہن رکھے تھے۔ بلاشبہ مصری نہایت ہی خوش لباس قوم ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب کے لوگ اپنے کلچر کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اپنے لباس اور زبان پر اصرار کرتے ہیں۔ عربوں کے بارے میں ہمارے ہاں "عیاش" لوگوں کا تصور ہے جو بالکل غلط ہے۔ میرے اندازے کے مطابق عربوں کے عیاش لوگوں کا تناسب ہماری قوم کی نسبت کافی کم ہے۔ دراصل لوگوں نے دولتمندی کے ساتھ عیاشی کا تصور منسوب کر لیا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ بہت سے دولتمند ایسے ہیں جو اللہ تعالی کو نہیں بھولتے اور اس کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔

††††††††† ہماری قسمت میں ایک چھوٹا بوئنگ 737 جہاز تھا۔ پی آئی اے کے ایسے جہازوں دونوں طرف تین تین نشستیں ہوتی ہیں لیکن یہاں ایک لائن میں پانچ نشستیں تھیں جس کی بدولت جہاز کھلا کھلا لگ رہا تھا۔ میں حسب عادت کھڑکی والی طرف بیٹھ گیا۔ فوزی کی سیٹ پیچھے تھی۔ دور مکہ کی جانب سے پہاڑیوں کے درمیان سورج طلوع ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں یہ سورج بادلوں کے درمیان چھپ گیا۔ صبح کے سفر میں ایسے بہت سے خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

††††††††† تھوڑی دیر میں جہاز کی فاصلہ اور رفتار بتانے والی اسکرین آن ہو گئی۔ دمام 1205 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ بذریعہ سڑک یہ فاصلہ 1400 کلومیٹر کے قریب ہے۔ جدہ سے دمام تک موٹر وے بنی ہوئی ہے جس کی بدولت یہ فاصلہ بارہ گھنٹے میں طے کیا جا سکتا ہے۔ ہم چونکہ زیادہ رقم خرچ کرکے جہاز پر جا رہے تھے اس لئے یہ فاصلہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہونا تھا۔ اس دنیا کا یہ اصول ہے کہ زیادہ رقم خرچ کرو تو زیادہ سہولیات ملتی ہیں۔ یہی اصول اصلی دنیا یعنی آخرت میں بھی کار فرما ہے کہ زیادہ نیکیاں کرو تو جنت میں زیادہ سہولیات دستیاب ہوں گی۔

††††††††† جہاز میں فلائیٹ سیفٹی کا حسب معمول بور کر دینے والا لیکچر شروع ہو گیا۔ سعودی ائر لائنز کی فلائیٹوں میں یہ لیکچر بذریعہ اسکرین دیا جا رہا تھا۔ ہم لوگ دنیا میں اپنی حفاظت کے بارے میں کس قدر فکر مند ہیں لیکن اصل زندگی یعنی آخرت میں جہنم سے حفاظت سے اکثر اوقات غفلت برت جاتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی سیفٹی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔

††††††††† تھوڑی دیر بعد جہاز ٹیک آف کر گیا۔ اب ہمارے بائیں جانب ابحر کریک نظر آ رہی تھی۔ یہ واٹر اسپورٹس کا مقام ہے جہاں لوگ پانی میں واٹر اسکوٹرز اور چھوٹی لانچوں کے ذریعے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ جنت میں ایسے مقام بکثرت ہوں گے جہاں لوگ دودھ، شہد اور جنت کے پانی کے دریاؤں میں لطف اندوز ہوا کریں گے۔

††††††††† درۃ العروس کے مقام کے اوپر سے گزرتے ہوئے ہم دمام کی طرف مڑ گئے۔ ہمارے نیچے سے پہلے جدہ مدینہ روڈ گزرا اور پھر مکہ مدینہ ہائی وے۔ اب نیچے سیل کبیر کے سیلابی پانی کا راستہ نظر آ رہا تھا جس میں لوگوں نے کھیت اگائے ہوئے تھے۔ بادل گہرے ہوتے جا رہے تھے جو جہاز سے چند سو فٹ نیچے ہوں گے۔ مجھے اپنا اسکردو سے اسلام آباد کا سفر یاد آیا جب ایسا ہی منظر تھا لیکن چند سو فٹ نیچے بادلوں کی جگہ برف پوش چوٹیاں اور گلیشیر نظر آ رہے تھے۔ ہم لوگ نانگا پربت کے پاس سے گزرے تھے جو جہاز کی نسبت بلند تھی اور ہمیں جہاز سے بھی اسے دیکھنے کے لئے اوپر دیکھنا پڑا تھا۔

††††††††† بادلوں کی کثرت دیکھ کر میرے ذہن اللہ تعالی کی تخلیقی قوت کی طرف چلا گیا۔ اللہ تعالی جب کوئی چیز تخلیق کرتا ہے تو اس کے جلال کی بدولت وہ چیز بنتی ہی چلی جاتی ہے۔ دور بادلوں میں ایک جھیل سی نظر آ رہی تھی جو کہ یقیناً ایک سراب تھا۔ ایسے ہی سراب صحراؤں میں بھی نظر آتے ہیں۔ یہ دنیا بھی اسی قسم کا سراب ہے جسے بعض لوگ اصل زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں۔

††††††††† اب ہم ریاض کے علاقے سے گزر رہے تھے جہاں زمین پر گول کھیت نظر آ رہے تھے۔ کچھ دیر کے بعد ہم ریاض دمام ہائی وے کے اوپر سے گزرتے ہوئے دمام ائر پورٹ پر لینڈ کر گئے جو شہر سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ لینڈ کرتے ہی ایک خوشگوار حیرت نے ہمارا استقبال کیا۔ ائر پورٹ پر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ جدہ میں رہتے ہوئے ہم لوگ بارش کو ترس گئے تھے جو یہاں ہمیں دستیاب ہو رہی تھی۔ عرب کے مشرقی علاقوں میں نومبر سے لے کر جنوری تک اچھی خاصی بارش ہو جاتی ہے۔

††††††††† ائر پورٹ پر فوزی سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں کہا کہ وہ اپنا سامان لے کر رینٹ اے کار کے کاؤنٹرز پر آ جائیں۔ سعودی عرب کے اکثر شہروں میں ائر پورٹ شہر سے کافی دور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسی والے بہت زیادہ رقم وصول کرتے ہیں۔ اگر آپ کرائے پر گاڑی لے لیں تو یہ کافی سستی پڑتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ٹیکسی والوں کے نخروں سے بھی بچ جاتے ہیں اور اپنی آزادی سے جہاں چاہے جا سکتے ہیں۔

††††††††† رینٹ اے کار والے سب سے پہلے بڑی اور مہنگی گاڑیاں کرائے پر اٹھاتے ہیں اور سب سے آخر میں چھوٹی گاڑیاں نکالتے ہیں۔ میں چونکہ تین دن پہلے ہی ایک چھوٹی کار بک کر چکا تھا اس لئے مجھے ایک ننھی منی سی ہونڈا سوک دستیاب ہو گئی۔ ظاہر ہے جہاں شیور لیٹ کیپریس کا شمار بھی درمیانی گاڑیوں میں کیا جائے وہاں سوک تو چھوٹی گاڑی ہی کہلائے گی۔

††††††††† میں دمام اور الخبر میں پہلی مرتبہ آیا تھا۔ چونکہ میں گوگل ارتھ کے ذریعے شہر کا تفصیلی مطالعہ کر چکا تھا اس لئے راستے کا تعین کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی اور ہم باآسانی خبر کی کورنیش پر جا پہنچے جہاں گلف میریڈین ہوٹل تلاش کرنے میں ہمیں کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوا جو ہمارے دفتر کے قریب ہی تھا۔ پہنچے سے قبل میں نے یہاں کے کولیگ محمد علی صاحب کو موبائل کے ذریعے اطلاع دے دی تھی، وہ بھی یہیں آ پہنچے اور ہمیں اپنی گاڑی کے پیچھے لگا کر دفتر لے گئے۔ دفتر میں اختر صاحب سے ملاقات ہوئی جن کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ اختر صاحب ہمیں کلائنٹ کے دفاتر میں لے گئے۔ دوپہر میں ہم نے چائنا ٹاؤن کا رخ کیا جو خبر کا سب سے بہترین چائینز ریسٹورنٹ ہے۔ فوزی کے لئے چائینیز کھانا کھانے کا یہ پہلا موقع تھا۔ انہیں یہ کافی پسند آیا البتہ جھینگے کھانے کے باعث انہیں متلی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی کیونکہ وہ سی فوڈ کے عادی نہ تھے۔

الخبر کی کورنیش

††††††††† شام میں کام سے فارغ ہوتے ہی ہم بحرین کاز وے کی طرف روانہ ہوئے۔ بحرین کاز وے دراصل ایک پل ہے جو خبر اور بحرین کے جزیروں کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے۔ اس پل کی لمبائی تقریباً تیس کلومیٹر ہے۔ یہ پل سمندر پر تعمیر کیا گیا ہے۔ خبر کے اوقات بھی عجیب و غریب ہیں۔ خبر اور جدہ کے سورج کے طلوع و غروب کے اوقات میں ایک گھنٹے کا فرق ہے۔ اس حساب سے یہاں ساڑہے چار بجے ہی مغرب کی اذان ہو گئی۔ یہی وجہ ہے چند کلومیٹر دور بحرین میں وقت ایک گھنٹہ آگے ہے۔

††††††††† بحرین سعودی عرب کے مشرقی ساحل سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بڑا جزیرہ ہے جو کہ آزاد ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ ارد گرد کے چھوٹے موٹے جزائر بھی بحرین کی ملکیت ہیں۔ یہ عرب ممالک میں پہلا ملک ہے جس نے مغربی کلچر کو اپنایا۔ بحرین کے جزائر اپنے فطری حسن کے باعث سیاحوں کے لئے بہت کشش رکھتے ہیں۔

††††††††† بحرین کاز وے پر داخل ہونے کے بیس ریال وصول کئے گئے۔ فوزی نے امریکن سسٹم کے تحت مجھے دس ریال دینا چاہے لیکن میں نے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ میں یہ رقم آپ کے موبائل سے کال کر کے وصول کر لوں گا۔ بحرین سے پہلے دو چھوٹے چھوٹے مصنوعی جزیرے آتے ہیں جو کہ سعودی عرب اور بحرین کا بارڈر ہے۔ ان میں سے ایک جزیرہ بحرین میں اور دوسرا سعودی عرب میں واقع ہے۔ دونوں جزائر پر ایک جیسے ٹاور تعمیر کیے گئے تھے جن میں سے سعودی ٹاور سبز اور بحرینی ٹاور سرخ رنگ کا تھا۔

††††††††† مغرب کی اذان ہوئے پندرہ منٹ گزر چکے تھے چنانچہ ہم نے جزیرے کی مسجد میں جلدی جلدی نماز ادا کی۔ اب اندھیرا چھا چکا تھا۔ ہم نے گاڑی ایک جگہ کھڑی کی اور پیدل ہی جزیرے کے طول و عرض کی پیمائش کرنے لگے۔ ان جزائر پر سبزہ بالخصوص اگایا گیا تھا۔ بارش سے دھل کر یہ سبزہ نکھرآیا تھا۔ ہم ساحل پر جا پہنچے۔ آسمان پر چودھویں کا چاند چمک رہا تھا جس کا عکس سمندر کے پرسکون پانی میں پڑ کر جھلملا رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر فوزی پر رومانٹک موڈ طاری ہونے لگا۔ مجھے کہنے لگے، "مسٹر مبشر! آپ جانتے ہیں کہ یہ منظر خواتین کے لئے بڑی کشش رکھتا ہے اور وہ اس ماحول میں بہت رومانٹک ہو جاتی ہیں۔" میں چونکہ اس معاملے میں بالکل ہی نابلد تھا اس لئے یہ میری معلومات میں اضافہ تھا۔

††††††††† ان جزائر کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا سکون تھا۔ ہمارے پاس چونکہ پاسپورٹ نہ تھے اس لئے ہم بحرین میں داخل ہونے سے قاصر تھے۔ گاڑیاں امیگریشن پلازا سے لگی ہوئی تھیں۔ لوگ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے امیگریشن آفیسر کو اپنے اور گاڑی کے کاغذات پکڑاتے جو ان پر مہر وغیرہ لگا کر واپس کر دیتا۔ یہی عمل بحرینی پلازا پر دوہرایا جاتا جس کے بعد مملکت بحرین کا آغاز ہو جاتا۔ بحرین کا دارلحکومت مانامہ یہاں سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ بہت سے لوگ جنہیں دمام کی فلائیٹ نہیں ملتی، وہ بحرین میں آ اترتے ہیں اور بذریعہ کاز وے خبر یا دمام پہنچ جاتے ہیں۔

††††††††† کافی دیر یہاں گزار کر ہم واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ کچھ وقت خبر کی کورنیش پر بھی گزارا جائے۔ یہاں سے کاز وے کی لائٹس نہایت ہی دلفریب منظر پیش کر رہی تھیں۔ میں نے پکا ارادہ کیا کہ کبھی کھلے وقت میں فیملی کے ساتھ یہاں کا سفر کروں گا۔ عشا کی نماز، جو کہ سوا چھ بجے ہی ہو گئی، ادا کرنے کے بعد میں نے فوزی کو ان کے ہوٹل پر اتارا۔ اسی دوران موبائل پر میری بات یونی لیور کے ایک سابقہ کولیگ نوید سے ہو گئی جو یہیں مقیم تھے۔ ان کی پرزور دعوت پر میں ائر پورٹ جاتے ہوئے ان کی طرف گیا جہاں دس منٹ گپ شپ کرکے اور جوس پی کے میں ائر پورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ لیٹ ہونے کے باوجود میں جہاز میں وقت پر داخل ہوا کیونکہ میں اپنا بورڈنگ پاس صبح ہی جدہ سے حاصل کر چکا تھا۔ رات گیارہ بجے کے قریب میں اپنے گھر واپس آ پہنچا۔

 

اگلا باب†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability