بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

خیبر، مدائن صالح اور تبوک

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے متعلق مقامات کا سفر میں کر ہی چکا تھا۔ اہم مقامات میں اب خیبر اور تبوک کے مقامات ہی باقی رہ گئے تھے۔ قوم ثمود کا مقام، مدائن صالح ان دونوں کے درمیان پڑتا ہے اس لئے ہم نے ان کا ایک ساتھ سفر کرنے کا ارادہ کیا۔ ہمارا پروگرام یہ تھا کہ یہ علاقے دیکھتے ہوئے ہم اردن اور پھر مصر کی طرف نکل جائیں گے۔

††††††††† جدہ میں رہنے والی پاکستانی و ہندوستانی کمیونٹی کو بالعموم سیر و تفریح اور ایڈونچر سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ ان کی اکثریت کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مدائن صالح کیا چیز ہے۔ ایسا ذوق صرف اہل امریکہ و یورپ یا پھر جاپانیوں میں پایا جاتا ہے اور یہ لوگ جوق در جوق تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔ میں ان دنوں جدہ کے بیکر انسٹی ٹیوٹ میں سرٹیفائیڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (CMA) کی کلاس میں لیکچر دے رہا تھا۔ یہ کلاس زیادہ تر مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے سینئر ایگزیکٹوز پر مشتمل تھی۔ اسی کلاس میں ایک سوئس نو مسلم پال بام گارٹنر بھی تھے جو سیر و سیاحت کے شوقین تھے۔ میں نے جب ان سے مدائن صالح جانے کا ذکر کیا تو انہوں نے ڈھیروں لٹریچر لا کر میرے حوالے کر دیا۔ پال کے ٹورازم کے شوق کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسی سال انہوں نے سعودی عرب سے لے کر سوئٹرز لینڈ تک سفر اپنی کار میں کیا تھا۔

مدائن صالح کا اجازت نامہ

مدائن صالح کو دیکھنے کے لئے وزارت آثار قدیمہ سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔ میں نے پال کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اپنی کمپنی سے ایک درخواست لکھوا کر، چیمبر آف کامرس سے اس کی تصدیق کروانے کے بعد وزارت آثار کو فیکس کر دیا۔ ایک ہفتے کے بعد انہوں نے جواب میں اجازت نامہ مجھے فیکس کیا جس پر نام، قومیت اور تاریخیں غلط درج تھیں۔ میں نے ان تفصیلات کو درست کرنے کی درخواست انہیں بھیجی تو ایک ہی دن میں درست نام، قومیت اور تاریخ کے ساتھ اجازت نامہ آ گیا۔

††††††††† چونکہ ہمیں ایک طویل سفر درپیش تھا اس لئے اس سفر کی بہت سی تیاریاں کیں اور جولائی کے آخری ہفتے میں ہم جدہ سے صبح نو بجے روانہ ہوئے۔ ہمارا پروگرام یہ تھا کہ ظہر کی نماز مسجد نبوی میں ادا کر کے آگے کا سفر کیا جائے۔ جب ہم مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو ظہر کی اذان ہو چکی تھی۔ وضو کرنے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور پر حاضری دی اور ایک طرف بیٹھ کر میں ذکر و درود میں مشغول ہو گیا۔

††††††††† ان دنوں کراچی سے میرے یونی لیور کے ایک دوست اور سابق کولیگ عامر اوصاف مدینہ آئے ہوئے تھے۔ ہم موبائل پر ایک دوسرے سے ملنے کا مقام اور وقت طے کر چکے تھے۔ طویل عرصے بعد یہ ملاقات خاصی یادگار رہی۔ میں انہیں البیک پر لے گیا جس کے کھانے کو انہوں نے بہت پسند کیا۔ کافی دیر پرانی یادیں تازہ کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے۔

††††††††† اسی اثنا میں میری اہلیہ بھی مسجد کی پارکنگ میں پہنچ چکی تھیں۔ سفر پر روانگی سے پہلے ہمیں کچھ شاپنگ کرنا تھی۔ ہم لوگ مسجد نبوی کے پاس ہی واقع شاپنگ سینٹر میں چلے گئے جہاں اہلیہ نے اپنے لئے ایک اضافی برقعہ خریدا، میں نے ایک چھتری خریدی اور ایک منی چینجر سے اردنی دینار، مصری پاؤنڈ اور امریکی ڈالر حاصل کئے جن کی ضرورت ہمیں سعودی عرب سے نکل کر پڑ سکتی تھی۔

خیبر کا راستہ

اب ہم مدینہ سے تبوک جانے والی سڑک پر روانہ ہوئے۔ ایک پیٹرول پمپ سے ٹینکی فل کروا کر جب ہم شہر سے باہر نکلے تو پہلا بورڈ نظر آیا: خیبر 170 کلومیٹر۔ مدینہ سے خیبر تک روڈ، سنگل لیکن اچھی کوالٹی کی تھی۔ راستے میں کئی مقامات پر ساتھ چلنے والے پہاڑ قریب آ کر راستے کو تنگ کر دیتے۔ اس جگہ جب قریب سے کوئی ٹرک گزرتا تو اس کی ہوا کا پریشر مجھے اسٹیرنگ پر محسوس ہوتا۔ ایسی جگہ پر چھوٹی گاڑی الٹ بھی سکتی ہے۔

گمشدہ اونٹ اور گواچی گاں

راستے میں کئی جگہ بورڈ لگے ہوئے تھے جن پر گمشدہ اونٹوں کی اطلاع کے لئے ہیلپ لائن دی ہوئی تھی۔ جانور خواہ کوئی بھی ہو اس کے مسائل ایک سے ہوتے ہیں۔ مجھے اس سے پنجابی کا "گواچی گاں" کا محاورہ یاد آ گیا۔ ہمارے دیہات میں جب کسی کی گائے بھینس کھل کر غائب ہو جاتی ہے تو ایک کہرام برپا ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب چونکہ ہماری نسبت کافی ترقی یافتہ ملک ہے اس لئے اس مسئلے کے حل کے لئے انہوں نے ایک محکمہ بنا دیا ہے۔ جس کسی کا اونٹ گم ہو جائے وہ اس نمبر پر اطلاع کرے اور جو بھی کسی شتر بے مہار کو دیکھے وہ بھی اسی نمبر پر اطلاع کرے۔ اس محکمے کے لوگ آّ کر اونٹ کو پکڑ لیں گے اور اس کے مالک کے حوالے کر دیں گے۔ دوسرے سعودی محکموں کی طرح اس محکمے کی سروس کیسی ہے، اس کا کوئی تجربہ مجھے نہ ہو سکا کیونکہ میں نے اونٹ پالنے کا شوق کبھی نہیں پالا۔

††††††††† ڈیڑھ گھنٹے میں ہم لوگ خیبر جا پہنچے۔ خیبر کا پورا علاقہ آتش فشانی چٹانوں پر مشتمل ہے جسے عربی میں "حرات خیبر" کہا جاتا ہے۔ پانی کی موجودگی اور آتش فشانی مادے کے باعث یہاں کی زمین بہت زرخیز ہے۔ جب ہم لوگ شہر میں داخل ہوئے تو عصر کی نماز کا وقت تھا۔ ہائی وے پر ایک مسجد کے قریب گاڑی کھڑی کی۔ یہاں ایک بس رکی ہوئی تھی جس میں شامی زائرین کا ایک قافلہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد اپنے وطن واپس جا رہا تھا۔ ایک شامی اماں، مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھی، دنیا و مافیہا سے بے خبر،سوٹے لگا رہی تھیں۔

†††††††††††††††††† وضو کر کے میں مردوں کی جانب اور میری اہلیہ ماریہ سمیت خواتین کی جانب چلی گئیں۔ مسجد کی پہلی جماعت تو چکی تھی۔ اب ہم لوگ دوسری جماعت میں نماز ادا کر رہے تھے۔ شام کے ایک صاحب نے امامت کی۔ ان لوگوں کے ہاں رواج ہے کہ نماز کے بعد سب لوگ ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں۔ مجھ سے مل کر یہ لوگ بہت خوش ہوئے کیونکہ میں ان میں واحد پاکستانی تھا۔ میں نے ان لوگوں سے خیبر کے قلعے کے بارے میں پوچھا لیکن انہیں اس کا علم نہ تھا۔ باہر ایک صفائی کرنے والے بنگالی بھائی سے میں نے اس کا راستہ دریافت کیا تو انہوں نے راستہ سمجھا دیا۔

††††††††† خیبر ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ بازار ہمارے چھوٹے شہروں کے بازاروں جیسا تھا۔ شہر کے مرکزی چوک میں صراحیوں کا ڈیزائن بنایا گیا تھا۔ یہاں بدوؤں کی آبادی تھی۔ یہ لوگ عموماً بہت خوش اخلاق ہوتے ہیں۔ میں نے راستے میں ایک بدو سے قلعے کے بارے میں معلوم کیا تو وہ اپنی گاڑی آگے لگا کر ہمیں وہاں تک چھوڑ کر آئے۔

خیبر کا قلعہ

خیبر کی قدیم آبادی کچے مکانات کے کھنڈرات پر مشتمل تھی۔ ہموار کئے گئے پتھروں کو مٹی اور گارے کی مدد سے ایک دوسرے کے اوپر جوڑا گیا تھا اور ان پر کھجور کے تنوں اور پتوں کی مدد سے چھت ڈالی گئی تھی۔ پورے علاقے میں کھجور کے درخت ہر جانب پھیلے ہوئے تھے جن پر ادھ پکی کھجوروں کے خوشے لٹک رہے تھے۔ کھنڈرات کی گلیوں میں بعض مقامات پر ہمارے دیہات اور کچی آبادیوں کی طرح چھتیں بنا دی گئی تھیں جن کے اوپر سے مکانات کے بالا خانے ملے ہوئے تھے۔ اکثر مکانات کی چھتیں گر چکی تھیں مگر ان کی دیواریں سلامت تھیں۔ مکانات ایک پہاڑی کے دامن میں واقع تھے۔ پوری پہاڑی کے گرد محکمہ آثار قدیمہ والوں نے باڑ لگا کر اسے محفوظ کر دیا تھا اور یہاں داخلہ ممنوع تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر مرحب کا قلعہ نظر آ رہا تھا۔

††††††††† قدیم دور میں جب بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰکے دو عذاب، پہلے نبو کد نضر اور پھر ٹائٹس جیسے ظالم فاتحین کی صورت میں نازل ہوئے تو یہ لوگ جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔ ان مواقع پر یہود کے بعض قبائل فلسطین سے نکل کر شمالی عرب کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔ ان لوگوں نے عبرانی تہذیب اور ثقافت کو چھوڑ کر عربی تہذیب اور زبان اختیار کر لی۔ متمدن دنیا سے تعلق رکھنے کے باعث انہیں بہت سے ایسے ہنر آتے تھے جن کی بدولت ان کی معیشت مضبوط ہوئی اور آہستہ آہستہ یہ اس مقام پر آ گئے کہ انہوں نے عرب قبائل کو سودی قرضوں کے جال میں پھنسا لیا۔

††††††††† بنی اسرائیل میں اپنی نسلی مفاخرت کے باعث ایک غلط نظریہ پروان چڑھ گیا تھا۔ یہ لوگ خود کو متمدن اور دوسروں کو وحشی (Gentiles) قرار دینے لگے۔ ان کے نزدیک اپنے لوگوں سے سود لینا گناہ اور دوسروں سے سود لینا جائز ٹھہرا۔ سود کے علاوہ ان میں دوسری برائی یہ در آئی کہ ان لوگوں نے جادو ٹونے کا کاروبار بھی شروع کر لیا۔ خداوند واحد کی توحید سے وابستہ ہونے کے باوجود ان میں طرح طرح کے شرکیہ عقائد و افعال سرایت کرنے لگے۔ ان کے نیک لوگوں نے اصلاح کی کافی کوشش کی لیکن ان کی بات پر کسی نے کان نہ دھرا۔

††††††††† عرب کے یہود اس بات سے آگاہ تھے کہ ان کی معیشت اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے جب عرب کے دیگر قبائل ایک دوسرے سے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کئے رکھیں۔ یہود کے مختلف قبائل، مختلف عرب قبیلوں کے حلیف بن گئے اور انہیں ایک دوسرے سے جنگ پر اکسانے لگے۔ ان جنگوں میں یہود کے قبائل ایک دوسرے سے بھی لڑتے رہے۔ یثرب کے مشہور قبائل اوس و خزرج کی جنگ میں یہودی قبیلے بنو قینقاع نے خزرج اور بنو نضیر اور بنو قریظہ نے اوس کا ساتھ دیا تھا۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد میثاق مدینہ کے تحت تمام یہودی قبائل نے آپ کو مدینہ کا حکمران تسلیم کر لیا تھا۔ انہیں مکمل مذہبی آزادی دی گئی تھی۔ اسی معاہدے کے مطابق ان پر یہ لازم تھا کہ مدینہ پر کسی حملے کی صورت میں یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدینہ کا دفاع کریں گے۔ ان لوگوں نے اس معاہدے کی بارہا خلاف ورزی کی اور بدر و احد کی جنگوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔ کئی مرتبہ ان کے اوباشوں نے مسلم خواتین سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری رکھا جس پر نوبت قتل و خون تک پہنچ گئی۔ ان کی انہی حرکتوں کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کے دو قبائل بنو قینقاع اور پھر بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا تھا۔ بنو نضیر نے اپنی جلاوطنی سے قبل رسول اللہ کو شہید کرنے کی سازش بھی کی تھی۔

††††††††† مدینہ سے جلاوطن ہو کر ان لوگوں کی اکثریت خیبر میں آباد ہو گئی۔ یہاں پر بھی یہ لوگ سازشوں سے باز نہ آئے اور مدینہ پر حملے کی تیاری کرنے لگے۔ انہوں نے خیبر میں سات قلعے بنائے جن میں مرحب پہلوان کا قلعہ سب سے بڑا اور مضبوط تھا۔

††††††††† 6ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد، مسلمانوں اور مشرکین مکہ میں جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اب یہود کی شرپسندی کافی بڑھ چکی تھی۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پندرہ سو کے لشکر جرار کے ساتھ خیبر پر حملہ کیا اور سوائے مرحب کے قلعے کے، ان کے تمام قلعے بھی فتح ہو گئے۔ قلعہ مرحب جو کو پہاڑی پر بنا ہوا تھا اور اس کے گرد پتھروں کی فصیل تھی، فتح کرنا ایک مشکل کام تھا۔ مسلمانوں کی کئی جماعتوں نے اسے فتح کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔"

††††††††† سب صحابہ اسی اشتیاق میں رہے کہ شاید وہ خوش نصیب میں ہی ہوں۔ اگلے دن لشکر کا جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا گیا۔ آپ نے اپنی بے مثال شجاعت کے ذریعے یہ قلعہ ایک ہی دن میں فتح کر لیا اور مرحب پہلوان جو جنگی امور کا مانا ہوا ماہر تھا، آپ کے ہاتھوں قتل ہوا۔

††††††††† میں اس قلعے کو دیکھنے لگا۔ زمین سے تقریباً سومیٹر بلند پہاڑی پر واقع یہ قلعہ دیکھنے ہی میں ناقابل تسخیر لگ رہا تھا۔ اس کے ہر جانب سے پہاڑی کا سلوپ 60 سے 75 ڈگری کے زاویے پر تھا۔ اگر کوئی فوج اس پر حملہ کرتی تو قلعے سے اس پر پتھروں اور تیروں کی بارش کی جاسکتی تھی۔ اس قلعے کو فتح کرنا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی ذہانت اور جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

††††††††† یہود انبیا کرام کے ساتھ تعلق کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ انہیں یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ اللہ کے رسول کے مقابلے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ لیکن ان کی سرکشی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ انہوں نے اللہ کے رسول کا مقابلہ کیا اور مغلوب ہوئے۔ اس کی سزا انہیں یہ دی گئی کہ ان پر مغلوبیت اور مسلمانوں کے ماتحت رہنے کا عذاب مسلط کیا گیا۔ ارد گرد کے یہود نے فتح خیبر سے مرعوب ہو کر صلح کر لی۔ ان علاقوں میں موجودہ حائل، العُلا اور تیماء کے علاقے شامل ہیں۔

††††††††† یہ لوگ اس علاقے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک آباد رہے۔ معاہدے کے تحت ان پر لازم تھا کہ اپنی فصلوں کا نصف اسلامی حکومت کو بطور خراج دیں گے۔ مسلمانوں نے ان سے عدل و انصاف کا ایسا سلوک کیا کہ جو صاحب بھی ان سے خراج وصول کرنے جاتے، وہ فصل کے بالکل برابر دو حصے کر کے انہیں کہتے کہ جو پسند ہو، وہ رکھ لو۔ یہود کے معقول لوگ اس پر کہتے کہ اسی انصاف پر زمین و آسمان قائم ہیں۔ اس حسن سلوک کے باوجود یہ لوگ یہاں پر بھی اپنی سازشوں اور مکاریوں سے باز نہ آئے جس کی پاداش میں انہیں خیبر سے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جلا وطن کیا گیا۔

العُلا کا راستہ

خیبر سے نکل کر ہم لوگوں نے ایک بدو صاحب سے "العُلا" جانے والی سڑک کا پوچھا۔ اپنی مہمان نوازی کے باعث وہ کافی دیر ہمیں اپنے پیچھے لگا کر اس روڈ تک چھوڑ آئے۔ یہاں سے العُلا شہر اب 150 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جسے سوا گھنٹے میں طے کر کے ہم لوگ العُلا شہر جا پہنچے۔

††††††††† یہ سڑک اب سیدھی ساحلی شہر "الوجہ" کی طرف جا رہی تھی۔ "العلا" جانے کے لئے ایک سڑک شہر کے اندر جا رہی تھی۔ یہاں چند پولیس والے قالین بچھائے آرام فرما رہے تھے۔ یکایک انہیں اپنی ڈیوٹی کا خیال آیا اور انہوں نے ہمیں روک کر کاغذات طلب کئے۔ میرے پاس اقامہ نہ تھا کیونکہ وہ میں نے اپنی کمپنی کو دے کر ان سے پاسپورٹ لے لیا تھا۔ اس پر انہوں نے کافی غور و خوض کیا اور میرا پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس دیکھ کر جانے کی اجازت دے دی۔ یہ پہلا موقع تھا جب فیملی کی موجودگی میں پولیس والوں نے چیکنگ کی ہو۔

مدائن صالح ہوٹل

العلا شہر میں دو ہی اچھے ہوٹل ہیں: العرق ہوٹل اور مدائن صالح ہوٹل۔ میں جدہ ہی سے مدائن صالح ہوٹل میں بکنگ کروا چکا تھا۔ راستے میں ایک خان صاحب سے مدائن صالح ہوٹل کا راستہ پوچھا اور شہر کی گلیوں سے گھوم کر ہم ہوٹل تک پہنچ گئے۔ پہلے ہم غلطی سے ہوٹل کے سامنے ایک شادی ہال میں جا گھسے اور پھر درست راستے سے ہوٹل میں داخل ہوئے۔ یہ ایک منزلہ خوبصورت اور صاف ستھرا ہوٹل تھا۔ چیک ان کرنے کے بعد ہم کمرے میں داخل ہوئے۔ ہوٹل والوں سے گپ شپ پر معلوم ہوا کہ غیر ملکی زیادہ تر یہاں سردیوں کے موسم میں آتے ہیں جبکہ گرمیوں میں سعودی فیملیاں ہی یہاں کا رخ کرتی ہیں۔ان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہوٹل کے چیف کک پاکستانی ہیں لیکن یہاں ہمیں کوئی پاکستانی یا چائینز کھانے دستیاب نہ ہو سکے چنانچہ بخاری چاولوں پر گزارا کیا اور جلد ہی سو گئے۔

††††††††† صبح اٹھ کر نماز کے بعد کانٹی نینٹل ناشتہ کر کے ہم لوگ ہوٹل سے نکلنے کے لئے تیار ہوگئے۔ ہوٹل کے باہر کا منظر نہایت ہی دلفریب تھا۔ سامنے کھلی وادی میں دور دور تک سبزہ اور کھجور کے درخت نظر آ رہے تھے۔ ان کے بیک گراؤنڈ میں عجیب و غریب شکلوں والے پہاڑ نمایاں تھے۔ ہوٹل کے دوستانہ اسٹاف سے میں نے شیر کے مقبروں (Lion Tombs) اور مدائن صالح کے راستے معلوم کر لیے تھے۔ اس اسٹاف میں ایک لاہوریے صاحب بھی تھے۔

††††††††† ہوٹل سے نکل کر ہم لوگ لائن ٹامبز کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ہوٹل سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے اور راستہ کچا تھا۔ سامنے عجیب و غریب انداز میں کٹے ہوئے پہاڑ نظر آ رہے تھے۔ کچھ انگلی نما چٹانیں تھیں تو کچھ ایسی چٹانیں تھیں جیسے بہت سے بھوتوں نے سر اٹھا رکھے ہوں۔ ایک چٹان کی شکل تو بالکل اونٹ کے سر جیسی تھی۔ یہاں کچے مکانات کے کھنڈرات تھے جیسے ہم خیبر میں دیکھ آئے تھے۔ لائن ٹامبز کے گرد باڑ لگا دی گئی تھی جس کے باعث اندر جانا ممکن نہ تھا۔

††††††††† ابھی ہم واپس آ ہی رہے تھے کہ میرے موبائل پر مدائن صالح ہوٹل والوں کا فون آ گیا۔ وہ بڑی معذرت سے یہ بتا رہے تھے کہ غلطی سے انہوں نے ناشتے کی رقم بل میں شامل نہیں کی۔ ہم ہوٹل واپس ہوئے اور انہیں ناشتے کی رقم ادا کر کے العلا شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔ شہر سے ہم نے پیٹرول کی ٹنکی فل کروائی۔ پمپ پر ایک پاکستانی صاحب تھے جو کھاریاں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہاں سے ہم لوگ مدائن صالح کی جانب روانہ ہوئے جو صرف بیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ سید مودودی صاحب کے 1959 کے سفر نامے میں مدائن صالح کا فاصلہ العلا سے تیس میل بتایا گیا ہے جو کسی طور پر بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ ان کے سفر کے وقت کوئی اور طویل راستہ ہو لیکن اب یہ محض بیس کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔

مدائن صالح کے آثار

مدائن صالح کا پورا راستہ عجیب و غریب چٹانوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایسا منظر میں نے اپنے طویل سفروں میں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ایک وسیع صحرا تھا اور اس میں جا بجا پتھریلی چٹانیں گویا رکھی ہوئی تھیں۔ انہی چٹانوں کو اندر سے کھود کر قوم ثمود نے اپنے گھر تیار کیے تھے۔

††††††††† آثار کے گیٹ پر ایک چوکی بنی ہوئی تھی جس میں خلاف توقع ایک نہایت ہی خوش اخلاق پولیس مین موجود تھے۔ انہوں نے بڑی خوش اخلاقی سے ہمارا استقبال کیا اور اجازت نامہ طلب کیا۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ اور گاڑی کے کاغذات طلب کر کے ان کا اندراج کیا اور ہمارے لئے گیٹ کھول دیا۔ گیٹ پر آثار کا ایک نقشہ بھی بنا ہوا تھا۔ ان پتھریلی چٹانوں کے بیچ میں جہاں جہاں قوم ثمود اور نبطی قوم کے آثار تھے، اس کے ارد گرد باڑ لگا کر پورے علاقے کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔

††††††††† مدائن صالح کے پورا علاقے پر ایک کچا رنگ روڈ بنایا گیا جس پر کار آسانی سے چل سکتی تھی۔ اس رنگ روڈ کو قوم ثمود اور نبطی قوم کی مختلف عمارتوں کے درمیان سے گزارا گیا تھا۔ گاڑی کو روڈ پر کھڑا کر کے پیدل ان عمارتوں تک جایا جا سکتا تھا۔ ان عمارتوں میں قصر االصانع، قصر الفرید اور قصر البنت زیادہ مشہور تھیں۔ یہ محلات بھی عام عمارتوں کی طرح تھے لیکن ان سے بڑے تھے۔ باقی عام لوگوں کی رہائشی عمارتیں ہوں گی۔ وہاں لکھے گئے کتبوں کے مطابق یہ نام ماہرین آثار قدیمہ کے دیے ہوئے ہیں۔ اس علاقے کا قدیم نام "الحجر" ہے۔

††††††††† ان گھروں کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ گھر پہاڑوں کو کھود کر بنائے گئے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود کی انجینئرنگ کتنی ترقی یافتہ تھی۔ ہر گھر کے دروازے پر نہایت ہی خوبصورت گیٹ بنایا گیا تھا جو کہ دراصل پہاڑ ہی میں کھودا گیا تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ قوم ثمود نے یہ گھر کھودے ہوں گے اور ان کے کئی ہزار سال بعد جب یہ علاقہ نبطی قوم کے زیر اثر آیا تو انہوں نے اپنے دارالحکومت پیٹرا کی طرح یہاں بھی گیٹ بنا کر اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہو گا۔ بعض دروازوں پر مختلف شکلوں کے مجسمے بھی کھدے ہوئے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہاں بنا کچھ بھی نہیں تھا بلکہ سب کچھ کھود کر بنایا گیا تھا۔ میں نبطیوں کے آرٹ کی داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔

††††††††† ایک عام سے گھر میں داخل ہونے کے بعد میں نے قصر البنت کا رخ کیا۔ دروازے زمین سے کافی بلند تھے۔ غالباً اتنی بلندی پر گھر بارش اور سیلاب کے باعث بنائے گئے ہوں گے۔ اس دور میں لکڑی کی سیڑھی استعمال کی جاتی ہو گی جس کی جگہ اب لوہے کی سیڑھی لگا دی گئی تھی۔ دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی ان کا ڈرائنگ روم تھا۔ بعض گھروں میں یہ ڈرائنگ روم دروازے سے ایک فٹ گہرا کھودا گیا تھا اور بعض گھروں میں یہ ایک چبوترے کی شکل میں ایک فٹ بلند تھا۔ دیواروں میں جا بجا مختلف سائز کے طاقچے کھودے گئے تھے جو سامان رکھنے کے کام آتے ہوں گے۔

††††††††† ڈرائنگ روم کے اندر دو مزید کمرے کھودے گئے تھے۔ شاید ایک بیڈ روم کے طور پر اور دوسرا سامان کے کمرے کے طور پر استعمال ہوتا ہو گا۔ دیواریں، فرش اور چھت کسی آلے سے رگڑ کر بالکل ہموار کر دی گئی تھیں۔ ایسا ہی آرکی ٹیکچر تمام عمارتوں کا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ بعض جگہ طاقچوں کی تعداد زیادہ اور بعض عمارتوں میں کم تھی۔ ظاہر ہے ہر عمارت کے مکین نے اپنی ضرورت کے مطابق طاقچے بنائے ہوں گے۔

††††††††† قصر البنت سے باہر بہت سی بھوت نما چٹانیں نظر آ رہی تھیں جو آثار کی حدود سے باہر تھیں۔ ان میں انگلی نما اور سر نما چٹانیں نمایاں تھیں۔ اب ہم نبطیوں کے کنویں (Nabatean Well) کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اس کے گرد گرل لگا کر اسے محفوظ کر دیا گیا تھا۔ یہاں لکھے ہوئے ایک کتبے کے مطابق اس علاقے میں ساٹھ کے قریب کنویں دریافت ہوئے ہیں۔

††††††††† میں نے کنویں کے اندر جھانکا تو حیران رہ گیا۔ ہمارے پنجاب میں کنویں زمین کھود کر نکالے جاتے ہیں اور کنویں کی تکمیل کے بعد اس میں اینٹیں لگا کر انہیں پختہ کر لیا جاتا ہے۔ یہاں صورتحال الٹ تھی۔ یہ کنواں چٹان کو بالکل گولائی میں کاٹ کر کھودا گیا تھا۔ اس کنویں کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ یہاں زمین میں شاید پانی نہ ہو بلکہ اس کنویں میں بارش کا پانی ذخیرہ کیا جاتا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ دونوں طرح کے پانیوں سے فصلوں کو سیراب کیا جاتا ہو۔ قریب ہی علاقے میں ہمیں کھیت اور کھجوروں کے باغات بھی نظر آ رہے تھے۔

قوم ثمود پر عذاب

اب مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہونے لگی۔ اکبر الہ آبادی کے ایک شعر کے مطابق ان آثار کی کھدائی سے کلچر تو منوں کے حساب سے دریافت کیا جا رہا ہے لیکن عبرت کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ اس علاقے میں دنیا کی دو متمدن قومیں یکے بعد دیگرے آباد رہیں اور پھر نیست و نابود ہو گئیں۔ افسوس اس سے کوئی عبرت نہیں پکڑتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب تبوک کے سفر کے دوران یہاں سے گزرے تو آپ نے صحابہ کرام کو ثمود کے انجام پر عبرت دلائی اور فرمایا کہ یہاں سے جلدی گزر جاؤ کیونکہ یہ سیر گاہ نہیں بلکہ عبرت کا مقام ہے۔ میرے ذہن میں قرآن مجید کی ان آیات کا مفہوم گردش کرنے لگا جو قوم ثمود سے متعلق ہیں:

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا، 'اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آ گئی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے۔ لہذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے۔ اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آ لے گا۔ یاد کرو اس وقت کو جب اللہ نے تمہیں قوم عاد کے بعد اس کا جانشین بنایا۔ تمہیں زمین میں یہ مرتبہ دیا کہ تم اس کے وسیع میدانوں میں عالیشان محل بناتے ہو اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی صورت میں تراشتے ہو۔ اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہو جاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔'

†††††† اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقے کے ان لوگوں سے، جو ایمان لے آئے تھے، کہا، 'کیا تم واقعی جانتے ہو کہ صالح اللہ کا پیغمبر ہے؟' انہوں نے جواب دیا، 'بے شک! جس پیغام کے ساتھ انہیں بھیجا گیا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔' ان بڑائی کے دعوے داروں نے کہا، 'جس چیز پر تم ایمان رکھتے ہو، ہم اس کے منکر ہیں۔'

†††††† پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور پوری سرکشی کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے اور بولے، 'اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم واقعی رسول ہو۔' آخر کار انہیں ایک دہلا دینے والی آفت نے آ لیا۔ اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے اور صالح یہ کہتے ہوئے ان کی بستیوں سے نکل گئے کہ، 'اے میری قوم! میں نے تو اپنے رب کا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور تمہاری بہت خیر خواہی کی۔ مگر میں کیا کروں کہ تمہیں اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں۔' (الاعراف 7:73-79)

قوم ثمود دراصل قوم عاد کے ان لوگوں کی نسل میں سے تھی جو سیدنا ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے تھے۔ یہ لوگ اس علاقے میں آ کر آباد ہوئے جو اب مدائن صالح یا الحجر کہلاتا ہے۔ ان کا زمانہ اب سے تقریباً چھ ہزار سال قبل کا تھا۔

††††††††† قوم ثمود بھی دوسری اقوام کی طرح شرک کا شکار ہو گئی تھی۔ جب ان کے رسول سیدنا صالح علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اللہ کے دین کی دعوت دی تو انہوں نے آپ سے اس کی کوئی نشانی طلب کی۔ آپ نے ان کی فرمائش پر اللہ کی طرف سے ایک اونٹنی بطور نشانی پیش کی جو کہ پتھریلی چٹان سے نمودار ہوئی تھی۔ اس کھلی نشانی کے بعد بھی انہوں نے آپ کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اس قوم کو تباہ کر دیا گیا کیونکہ رسول کی آمد کسی قوم کے لئے روئے زمین پر قیامت صغری برپا کر دینے کے مترادف ہوا کرتی ہے۔ ان لوگوں نے اپنے رسول کا انکار کیا جس کی پاداش میں انہیں اسی دنیا میں سزا دے کر قیامت تک کے لئے آنے والی نسلوں کے لیے باعث عبرت بنا دیا گیا۔ ان کی اس داستان عبرت کو دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتب بائبل اور پھر قرآن کا حصہ بنا کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔ اب یہ ہر انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ انہیں محض قصے کہانیاں سمجھ کر نظر انداز کرے، یا ان سے تاریخی معلومات کشید کرے یا پھر عبرت حاصل کر کے ان سے اپنی موجودہ زندگی کو اصل زندگی کے لیے سنوارنے کی کوشش کرے۔

††††††††† قوم ثمود کے تقریباً ساڑہے تین ہزار سال بعد بعد اس علاقے پر نبطیوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یہ لوگ سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد سے تھے۔ ان کا دارالحکومت موجودہ اردن کے علاقے میں واقع تھا جس کا نام "پیٹرا (Petra)" تھا۔ ان کا دوسرا بڑا شہر یہی مدائن صالح تھا۔ ان کی تاریخ کو کسی قدر تفصیل سے میں نے پیٹرا کے باب میں بیان کیا ہے۔

حجاز ریلوے

اب ہم لوگ آثار کے شمال کی طرف ہو لیے۔ یہاں کی قابل دید چیز مدائن صالح کا ریلوے اسٹیشن تھا۔ انیسویں صدی میں ریل کی ایجاد کے بعد ترکی کی عثمانی حکومت کی یہ خواہش تھی کہ ایک ریلوے لائن دمشق سے لے کر مدینہ تک بچھائی جائے جسے آگے مکہ تک لے جایا جائے۔ بالآخر بیسویں صدی کے آغاز میں یہ ریلوے لائن بچھائی گئی۔ اس ریلوے کو "حجاز ریلوے" کا خطاب دیا گیا۔ اس لائن کو بچھانے کے لئے ترک حکومت نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے چندے کی اپیل کی۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر اس چندے میں حصہ لیا کیونکہ یہ حرمین شریفین کے نام پر مانگا گیا تھا۔ صرف پنجاب سے ہی پیر جماعت علی شاہ صاحب نے لاکھوں روپے کا چندہ اکٹھا کر کے بھیجا جو آج کے اربوں روپے کے برابر ہے۔

††††††††† حجاز ریلوے کا پہلا فیز 1907 میں مکمل ہوا جس کے نتیجے میں دمشق سے مدینہ تک کا فاصلہ جو ڈیڑھ مہینے میں طے ہوتا تھا، اب محض چار دن کا رہ گیا۔ یہ ریلوے لائن دمشق سے عمان ، تبوک اور مدائن صالح کے راستے مدینہ پہنچتی تھی۔ مدینہ سے مکہ تک کا دوسرا فیز کبھی مکمل نہ ہو سکا۔ اس کے ٹھیک ایک سو سال بعد 2007 میں سعودی حکومت نے مکہ سے مدینہ تک ریلوے لائن بچھانے کا اعلان کیا ۔

††††††††† عربوں میں ترکوں کے خلاف ایک عمومی نفرت پائی جاتی تھی۔ اس کی وجہ ترکوں کا عربوں سے امتیازی سلوک تھا۔ عثمانی ترکوں نے عربوں کی عباسی سلطنت کو ختم کر کے اپنی حکومت کی بنیاد رکھی تھی۔ سلطنت عثمانیہ، جو سولہویں صدی سے انیسویں صدی تک تقریباً چار سو سال تک دنیا کی سپر پاور کے رتبے پر فائز رہ چکی تھی، بیسویں صدی کے اوائل میں یورپ کے مرد بیمار کا خطاب حاصل کر چکی تھی۔ اس ریلوے لائن کے نتیجے میں دمشق سے مدینہ تک ہزاروں عربوں کے ہوٹلوں اور سراؤں کا کاروبار بھی ختم ہوا جو حجاج کی وجہ سے قائم تھا۔

††††††††† ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت نے بھی اس علاقے میں ترکی کی حکومت کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا تھا۔ لارنس آف عریبیا کا کردار بھی اسی سے متعلق ہے۔ کرنل لارنس نے اس علاقے میں ایک عظیم بغاوت منظم کی جسے "عرب بغاوت (Arab Revolt)" کا نام دیا گیا جس کی قیادت اس وقت کے مکہ کے گورنر شریف حسین کر رہے تھے۔ اس موضوع پر ایک فلم بھی بنی ہے۔

††††††††† ترکی کی حکومت نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری جب انہوں نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا۔ جرمنی کی شکست کے بعد انگریزوں نے ترکی کے حصے بخرے کرنے شروع کیے جس کے نتیجے میں سعودی عرب، اردن، شام اور لبنان کی حکومتیں وجود پذیر ہوئیں۔ اسی دور میں دور دراز سے یہودیوں کو بھی لا کر فلسطین میں آباد کیا گیا اور اسرائیل کی بنیاد بھی رکھی گئی جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد باقاعدہ آزاد ملک کا درجہ دیا گیا۔

††††††††† نجد کے سعودی حکمرانوں اور حجاز کے ہاشمی خاندان کے درمیان بھی اس دور میں جنگیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ہاشمی خاندان کی حکومت صرف اردن تک محدود ہو گئی اور نجد کے ساتھ ساتھ حجاز کا علاقہ بھی سعودی خاندان کے زیر نگیں آ گیا۔ اردن کے موجودہ شاہ عبداللہ، شریف حسین کے پڑپوتے ہیں۔

††††††††† ہندوستان کے مسلمان بڑے ہیخوش فہم واقع ہوئے ہیں۔ انہوں نے 1919 میں ترکی کی ملوکیت کو بچانے کے لئے تحریک شروع کی جس پر خلافت کا لیبل لگا ہوا تھا۔ اس تحریک کے ساتھ ساتھ بعض عاقبت نا اندیشوں کے زیر اثر تحریک ہجرت شروع ہوئی۔ لاکھوں مسلمان اپنا گھر بار اونے پونے بیچ کر افغانستان ہجرت کر گئے جس نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بے چارے لٹے پٹے واپس آئے اور طویل عرصے تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی پوری تاریخ ایسی ہی عاقبت نا اندیشیوں سے بھری پڑی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہم اپنی بے وقوفیوں کو بھی دوسروں کی سازش سے تعبیر کرتے ہیں۔

††††††††† عرب بغاوت میں حجاز ریلوے کی پٹریوں کو اکھاڑ دیا گیا تھا۔ اب اس کے نشانات صرف ریلوے اسٹیشنز کی صورت میں موجود ہیں جنہیں سعودی حکومت نے آثار قدیمہ کے طور پر محفوظ کر لیا ہے۔ مدائن صالح کے ریلوے اسٹیشن کا ڈیزائن ہمارے قدیم اسٹیشنز جیسا تھا۔ یہ تنگ گیج کی پٹری تھی جس پر ریلوے کی تین ویگنز کی باقیات اب بھی موجود تھیں۔ ایک طرف ریلوے ورکشاپ بھی تھی جس میں ایک صحیح سالم انجن کھڑا ہوا تھا جو بالکل ہمارے قدیم سیاہ کوئلے کے انجنز جیسا تھا۔ اس پر اس کی تاریخ پیدائش 1906 بھی لکھی ہوئی تھی۔ ایک طرف کوئلے کا ذخیرہ کرنے والے ڈرم بھی پڑے ہوئے تھے۔ اس انجن کا سائز ہمارے سیاہ انجنز سے چھوٹا تھا۔

††††††††† کچھ دیر پلیٹ فارم پر گھومنے کے بعد ہم واپس ہوئے۔ اب ہم قصر الخریمات کے قریب سے گزر رہے تھے۔ یہ بھی قوم ثمود اور نبطیوں کے آّثار تھے۔ کچھ آگے جا کر ہمیں دو عظیم الشان اژدہے نظر آئے۔ یہ ایک جیسی دو چٹانیں تھیں جن کے منہ اژدہے کی مانند تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ دو اژدہے منہ بند ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔

††††††††† گیٹ سے باہر نکلے تو دائیں جانب ایک فارم ہاؤس پر نظر پڑی۔ گیٹ کے پولیس والے ہمارے قریب آئے اور عربی میں کہنے لگے کہ آپ فارم میں چلے جائیں، یہاں اچھی قسم کی انجیر دستیاب ہو جائے گی۔ چونکہ وہاں کوئی ذی روح ہمیں نظر نہ آ رہا تھا چنانچہ ہم نے واپسی کی ٹھانی۔ باہر مین روڈ پر نکلے تو ایک بقالے پر نظر پڑی جس میں وزیرستان کے ایک خان صاحب براجمان تھے۔ خان صاحب سے کچھ دیر گپ شپ کر کے اور پانی کی بوتل خرید کر ہم مدائن صالح سے روانہ ہو گئے۔

کچھوے اور ہاتھی والی چٹانیں

مین روڈ پر ایک چٹان بالکل کچھوے کی مانند نظر آ رہی تھی۔ مشہور زمانہ ہاتھی والی چٹان بھی اس کے قریب ہی واقع تھی۔ چٹانوں والے علاقے سے نکل کر ہم ایک کھلی وادی میں جا نکلے۔ اس دن جمعہ تھا۔ میں کسی مسجد کی تلاش میں تھا جو مین روڈ پر ہی مل جائے تاکہ جمعہ کی نماز ادا کر کے سفر آگے جاری رکھا جائے۔

††††††††† اب روڈ تھا اور ہم تھے۔ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر طے کرتے ہوئے چالیس منٹ میں ہم مدینہ تبوک ہائی وے پر جا نکلے۔ اس زمانے میں مجھےگاڑی تیز چلانے کی گندی عادت تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ بعد میں یہ عادت چھوٹ گئی۔یہاں سے العلا سے آنے والی روڈ سیدھی حائل کی طرف جا رہی تھی۔ ہم نے ایگزٹ پکڑا اور تبوک کی جانب اپنا رخ کر لیا۔ ساتھ ہی ایک مسجد نظر آ رہی تھی۔ میں نے وہاں گاڑی روک دی۔ جمعہ کی نماز کا وقت ہو رہا تھا لیکن اس مسجد میں شاید جمعہ نہ ہوتا تھا۔ اس لئے ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم لوگ آگے روانہ ہوئے۔

††††††††† صحرا میں دھوپ بہت تیز تھی اور روشنی ریت سے ٹکرا کر آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ میں نے اپنی اہلیہ سے سن گلاسز کا پوچھا تو انہوں نے کہیں سے چشمہ برآمد کر کے میری آنکھوں پر ٹکا دیا۔ یہ اسی ڈیزائن کا چشمہ تھا جو ہمارے لڑکے لگا کر موٹر سائیکلوں پر ہیرو بنے پھرتے ہیں۔ عام حالت میں تو میں اسے قطعاً استعمال نہ کرتا لیکن اب مجبوری تھی چنانچہ میں نے خود کو ایسا ہی چھچھورا ہیرو فرض کر لیا اور چشمہ لگا لیا۔ ناک پر یہ چشمہ عجیب سی سرسراہٹ پیدا کر رہا تھا جس کی مجھے بالکل عادت نہ تھی۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ گاڑی کی چھت میں کوئی کنڈا ہو جس سے دھاگا باندھ کر اس چشمے کو ناک سے کچھ اوپر اٹھا دیا جائے تاکہ یہ ناک پر عجیب و غریب سرسراہٹ پیدا نہ کرے لیکن بھلا ہو ٹویوٹا کمپنی کا جنہوں نے گاڑی کی چھت میں ایسی کوئی چیز نہ لگائی تھی۔ اب ایک بالکل سفید رنگ کا صحرا شروع ہو چکا تھا۔

تیماء

منزلوں پر منزلیں مارتے ایک گھنٹے میں ہم تیماء جا پہنچے۔ اس نام کی مناسبت سےقیمہ کھانے کو دل چاہ رہا تھا لیکن جس ہوٹل پر ہم رکے وہاں سوائے عرب کھانوں کے کچھ دستیاب نہ تھا چنانچہ ہمیں رز بخاری یا بخاری پلاؤ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔ یہ پلاؤ ہمارے تڑکے والے چاولوں کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اگر تڑکے والے چاولوں سے نمک، مرچ اور دوسرے مصالحے غائب کر دیے جائیں تو باقی یہ بخاری پلاؤ بچتا ہے۔

††††††††† میں تو بخاری پلاؤ کے نام ہی سے الرجک تھا اس لئے اپنے لئے پھل وغیرہ خریدنے کے لئے میں ساتھ واقع منی سپر مارکیٹ میں جا گھسا جہاں ایک عرب، عربی لباس زیب تن کیے نہایت ہی فصیح و بلیغ پنجابی میں فون پر تقریر فرما رہے تھے۔ میں نے کیلے اور سیب خریدے۔ انہوں نے مجھے نجانے کیا سمجھا کہ مجھ سے عربی بولنے لگے۔ میں نے جب ٹھیٹھ پنجابی میں جواب دیا تو وہ بڑے خوش ہوئے۔

††††††††† تیماء ایک صاف ستھرا چھوٹا سا شہر تھا۔ یہاں کی خاص بات "مشکیزہ چوک" تھا جہاں ایک مشکیزے کی شکل کا فوارہ لگایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک گلوب چوک بھی تھا جہاں زمین کا ایک گلوب بنا ہوا تھا اور اس کے ارد گرد خوبصورت پارک بنایا گیا تھا۔ میرا مشاہدہ ہے کہ سعودی عرب کے چھوٹے شہر کافی خوبصورت بنائے جاتے ہیں۔ مشکیزے چوک پر ایک پاکستانی صاحب کھڑے تھے اور ٹرکوں سے لفٹ کے طالب تھے۔ میں نے اہلیہ سے مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ انہیں ساتھ بٹھا لیاجائے لیکن اس سے قبل کہ ہم ان تک پہنچتے، ایک ٹرک رک گیا اور انہیں اپنے ساتھ بٹھا لیا۔

††††††††† تاریخی اعتبار سے عہد رسالت میں تیماء میں بھی یہودی آباد تھے جنہوں نے فتح خیبر کے بعد خود ہی سرنڈر کر دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ اب ہمارا رخ مغرب کی جانب ہو چکا تھا اور ہم تبوک کی جانب رواں دواں تھے۔ العُلا سے اگر ایک روڈ حجاز ریلوے کے ساتھ ساتھ بنا دی جاتی تو تبوک تک کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کم ہو جاتا لیکن اب ہمیں انگریزی حرف U کی طرح سفر کرنا پڑا تھا۔

آبپاشی کا نظام

††††††††† ایک سفید کریسیڈا ہمارے پیچھے آ رہی تھی جس کا فاصلہ نہ تو ہم سے کم ہو رہا تھا اور نہ ہی زیادہ۔ کچھ دیر کے بعد ان صاحب کو جوش آیا اور وہ ہمیں کراس کر گئے۔ کچھ دیر کے بعد ہم نے انہیں کراس کر لیا۔ وہ شاید یہ سمجھے کہ ہم ان سے ریس لگا رہے ہیں، چنانچہ وہ پھر ہمیں کراس کر گئے۔ میں نے جان بوجھ کر رفتار آہستہ کر لی تاکہ ان کی غلط فہمی دور ہو سکے۔ کافی دیر بعد ہم انہیں کراس کرنے لگے تو انہوں نے بریک لگا کر اور فلیش جلا کر ہمیں خبردار کیا۔ دراصل ان کے آگے ایک پولیس کی گاڑی جا رہی تھی۔ میں نے بھی رفتار کم کر لی۔

††††††††† تھوڑی دور جا کر "عرعر" کا ایگزٹ آ گیا۔ یہاں سے ایک روڈ "دومۃ الجندل" اور عرعر کی طرف جا رہی تھی۔ عرعر ایک سرحدی شہر ہے جو اردن اور عراق کی سرحد پر واقع ہے۔ دومۃ الجندل ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ عہد رسالت میں یہاں ایک بڑا تجارتی میلہ لگا کرتا تھا جس میں یمن، مکہ اور شام سے آنے والے تجارتی قافلوں کا مال بکا کرتا تھا۔ یہی سڑک اردن اور عراق کی سرحد کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہوئی کویت اور پھر آگے قطر، عرب امارات اور عمان تک جاتی ہے۔

تبوک

عصر کے بعد ہم تبوک کے قریب جا پہنچے۔ اب روڈ کے دونوں طرف گول کھیت نظر آ رہے تھے۔ اس وقت انہیں پانی دیا جا رہا تھا۔ آبپاشی کے اس نظام کو دیکھنے کا یہ میرے لئے پہلا موقع تھا۔ لوہے کی ایک طویل گرل تھی جس پر پائپ لگے ہوئے تھے اور پانی فوارے کی صورت میں دونوں طرف گر رہا تھا۔ اس گرل کے نیچے پہیے لگے ہوئے تھے۔ جب یہ گرل گردش کرتی ہے تو گولائی کی صورت میں پورے کھیت کو سیراب کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں کھیت گول شکل کے ہوتے ہیں۔ یہ نظام ہمارے آبپاشی کے نظام سے بدرجہا بہتر ہے۔ اس میں پانی کا درست استعمال کیا جاتا ہے اور اسے بلاوجہ ضائع نہیں کیا جاتا۔

††††††††† ہمارے پاکستان میں ایک بڑی برائی یہ ہے کہ پانی کو نہایت ہی بے دردی سے ضائع کیا جاتا ہے۔ لوگ نل کھلے چھوڑ کر بند کرنا بھول جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہمارے زیر زمین پانی کے ذخائر دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ دریاؤں کے پانی کی مینجمنٹ کا نظام ایسا ہے کہ کبھی تو ہم خشک سالی کا شکار ہو جاتے ہیں اور کبھی سیلاب کا۔ اگر ہم نے مناسب تعداد میں ڈیم نہ بنائے تو باقی پاکستان کا انجام بھی وہی ہو گا جو دریائے ہاکڑہ کے خشک ہونے کے بعد چولستان کا ہوا تھا۔ ہمارے کھیت صحراؤں میں تبدیل ہو جائیں گے اور ہم پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے۔

††††††††† پانی دینے کے باعث اب ہماری ناک سے گیلی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو ٹکرا رہی تھی۔ دونوں طرف کھیت اور سبزہ اور روڈ پر چارہ لے جانے والی گاڑیوں کے باعث ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہم پنجاب کے کسی دیہاتی روڈ پر سفر کر رہے ہیں۔ انہی کھیتوں کے درمیان سفر کرتے ہوئے ہم تبوک شہر میں داخل ہوگئے۔

††††††††† ایک پیٹرول پمپ سے ہم نے ٹنکی دوبارہ فل کروائی۔ پمپ والے صاحب پاکستانی تھے۔ ان سے میں نے اس مقام کا دریافت کیا جہاں غزوہ تبوک کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قیام فرمایا تھا۔ اس مقام پر بعد میں مسجد بنا دی گئی تھی جو مسجد رسول کہلاتی تھی۔ انہوں نے مجھے راستہ سمجھا دیا۔ اب ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر ہو لیے۔ پہلے مسجد ابوبکر آئی۔ روایت ہے کہ یہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قیام فرمایا تھا۔ اس کے بعد ہم مسجد رسول پر پہنچ گئے۔ سادہ سی مسجد تھی اور اس پر محکمہ اوقاف کا بورڈ لگا ہوا تھا جس میں اس مسجد کو آثار قدیمہ میں شامل قرار دیا گیا تھا۔ مسجد کی موجودہ تعمیر 1409ھ یا 1989ء کی تھی۔ مسجد کے قریب ہی وہ چشمہ تھا جسےاللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دعا پر جاری فرمایا تھا۔ آپ نے تبوک اور اس کے گرد و نواح کے لئے پانی کی دعا فرمائی تھی۔ یہ دعا پوری ہوئی اور اب تبوک ایک زرعی علاقہ ہے۔

غزوہ تبوک

ہجرت کے نویں سال جب مکہ، طائف اور عرب کا بیشتر حصہ اسلامی حکومت کے زیر نگیں آ چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خطوط لکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے ان علاقوں کو متعین فرما دیا تھا جہاں انہوں نے فوجی کاروائی کے ذریعے شرک کی حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔ انہی سلطنتوں میں شمال کی غسانی سلطنت بھی تھی۔ یہ سلطنت موجودہ اردن کے علاقوں کے علاوہ تبوک تک پھیلی ہوئی تھی اور قیصر روم کی باجگزار تھی۔ اس کا حکمران شرحبیل اگرچہ اہل کتاب عیسائیوں سے تعلق رکھتا تھا مگر نہایت ہی بدتمیز شخص تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قاصد کو شہید کروا دیا تھا جس پر جنگ موتہ ہوئی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

††††††††† رومی افواج قبیلہ بنو غسان کو ملا کر مدینہ پر حملہ کرنے کے تیاریاں کر رہی تھیں۔ شدید گرمی اور خشک سالی کے دن تھے اور اہل مدینہ کی پورے سال کی محنت کھجوروں کی فصل کی صورت میں تیار تھی۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آگے بڑھ کر رومی افواج کا مقابلہ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس مقابلے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رومی افواج کی تعداد لاکھوں میں تھی اور اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتیں تو حق کی وہ شمع جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے 22 برس کی جدوجہد سے روشن کی تھی، بجھنے کا امکان تھا۔

††††††††† حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے جانثاروں کے سامنے یہ معاملہ رکھا۔ اس موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بڑھ چڑھ کر ایثار کیا۔ سیدنا عثمان غنی اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما نے بڑی بڑی رقمیں اور اونٹ پیش کیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا آدھا سامان لے آئے۔ انہیں امید تھی کہ شاید آج وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نیکی میں آگے بڑھ جائیں لیکن جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا پورا سامان اٹھا لائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کبھی ابوبکر سے نیکی میں آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ خواتین نے اپنے زیور اتار کر دے دیے، غریب صحابہ نے محنت مزدوری سے جو کمایا لا کر پیش کر دیا اور بہت سے جانثار صحابہ اپنی پکی ہوئی فصل چھوڑ کر شدید گرمی کے موسم میں مدینہ آ پہنچے۔

††††††††† ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جن کے پاس سواری تک نہیں تھی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کی کہ اگر اسلحہ اور سواری کا انتظام ہو جائے تو ہماری جانیں قربان ہونے کے لئے حاضر ہیں۔ جن کو سواریاں نہ مل سکیں وہ اس پر روتے تھے کہ ہم اس سعادت سے محروم رہ گئے۔ اس موقع پر منافقین بھی تھے جو حیلے بہانے سے پیچھے رہنا چاہتے تھے۔

††††††††† تیس ہزار کا لشکر جرار لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم روانہ ہوئے۔ سامان کی اس قدر قلت تھی کہ صرف دس ہزار کو سواری میسر آ سکی تھی اور لوگ باری باری اونٹوں پر سوار ہوتے تھے۔ قیصر روم، اہل کتاب ہونے کے ناطے، یہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اللہ کے رسول کا مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ رسول کے ساتھ مقابلے میں اسے کبھی غلبہ نصیب نہ ہو گا۔ اس نے جب سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خود مقابلے کے لئے تشریف لا رہے ہیں تو اس نے اپنی فوجیں ہٹا لیں۔

††††††††† اس فتح بلاجنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عربوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں جو روم اور مدینہ کی سلطنتوں کے درمیان بفر اسٹیٹس کی حیثیت رکھتی تھیں، اسلامی حکومت کی مطیع ہو گئیں۔ دومۃ الجندل، ایلہ اور موجودہ اردن کے عیسائی حکمرانوں نے جزیہ دے کر اسلامی حکومت کے تحت رہنا قبول کر لیا۔ اس فتح کے بعد منافقین کو بھی بے نقاب کر دیا گیا اور ان کی اکثریت نے سچے دل سے اسلام قبول کر لیا۔

††††††††† اس غزوہ میں منافقین کے علاوہ تین صاحب ایمان صحابہ اپنی سستی کے باعث شریک نہ ہو سکے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے منافقین کا عذر تو قبول کر لیا لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان تین اصحاب کو یہ سزا دی گئی کہ ان کا سماجی بائیکاٹ کر دیا گیا۔ ان حضرات سے دشمن بادشاہوں نے رابطہ کیا کہ تم ہم سے آ ملو لیکن ان کا اخلاص ایسا تھا کہ انہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ اس نے ان کی توبہ قبول کر کے ان کی سزا معاف کر دی۔

††††††††† مسجد سے نکل کر ہم لوگ مین روڈ پر آئے۔ یہاں حجاز ریلوے کا تبوک کا ریلوے اسٹیشن ہمارے سامنے تھا۔ شہر سے نکل کر ہم لوگ اردن کی طرف جانے والی سڑک پر آئے۔ مجھے سعودی عرب کے سرحدی قصبے کے نام کا علم نہیں تھا البتہ اردن کے سرحدی قصبے کا علم تھا۔ پولیس چوکی پر میں نے ایک پولیس والے سے اس کا پوچھا تو انہوں نے خندہ پیشانی سے راستے کی تفصیلات کا بتا دیا۔

††††††††† قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے متعلق مقامات، کا سفر میں اب مکمل کر چکا تھا۔ اب ہمارے سفر کا دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا تھا جس میں اردن اور مصر کے مقامات شامل تھے۔ اس کی تفصیلات اس سفر نامے کے دوسرے حصے میں ملاحظہ فرمائیے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability