بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اردن کا سفر

سعودی عرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے متعلق سائٹس کا میرا سفر مکمل ہو چکا تھا۔ اس کی تفصیل آپ اس سفرنامے کے پہلے حصے میں پڑھ چکے ہیں۔ اب میرا ارادہ تھا کہ سابقہ انبیاء کرام بالخصوص بنی اسرائیل کی جانب مبعوث کیے جانے والے انبیاء کرام علیہم السلام سے متعلق سائٹس کا سفر کیا جائے۔ اس کے علاوہ بحیرہ مردار اور اہرام مصر دیکھنے کی خواہش بھی شدید تھی۔ ان سب عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اردن اور مصر کے سفر کا ارادہ کیا۔

اردن اور مصر کا راستہ

اس سفر کی تیاری میں نے چھ ماہ قبل ہی شروع کر دی۔ اس معاملے میں دفتر کے ایک کولیگ احمد نادر امام سے مجھے بہت سے ضروری معلومات حاصل ہوئیں۔ احمد مصر کے رہنے والے ہیں اور متعدد مرتبہ بذریعہ سڑک جدہ سے قاہرہ جا چکے ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک اور کولیگ محمد فہیم سے بات کرنے کے لئے کہا کیونکہ فہیم گزشتہ سال بذریعہ سڑک قاہرہ گئے تھے، اس لئے ان سے تازہ ترین معلومات ملنے کا امکان تھا۔ جب میں نے فہیم سے بات کی تو وہ بڑے شرمندہ ہوئے۔ کہنے لگے، "واللہ! مجھے مصر کے راستے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ پچھلے سال میں نے تو ایک دوست کی گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی لگائی تھی۔ مجھے نہیں معلوم وہ کن کن راستوں سے گزار کر مجھے قاہرہ لے گیا۔" واضح رہے کہ جدہ سے قاہرہ کا فاصلہ کم و بیش1600 کلومیٹر تھا۔ اردن کے بارے میں معلومات فلسطینی اردنی دوستوں رامی اور اسماعیل سے حاصل کیں۔

††††††††† میں نے گوگل ارتھ کے ذریعے اردن اور مصر کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ایک ایک سائٹ کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے ضروری معلومات حاصل کیں۔ سڑکوں کے نیٹ ورک اور نقشوں کو سمجھا۔ مصر اور اردن کے سفارتخانوں سے ویزا کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور سفر کا پکا ارادہ کر لیا۔

ویزا پراسیسنگ اور کاغذات کی تیاری

جب میں ویزا حاصل کرنے مصر کے سفارتخانے گیا تو کاؤنٹر پر ایک نہایت ہی نستعلیق صاحب تشریف فرما تھے۔ پاکستانی پاسپورٹ دیکھ کر وہ کچھ جھجھکے لیکن پھر میرا سعودی اقامہ اور کمپنی کا لیٹر دیکھنے کے بعد انہوں نے صرف دس منٹ میں ویزا لگا کر پاسپورٹ میرے حوالے کر دیے۔ اردن کے سفارتخانے میں ایک مظلوم صورت صاحب موجود تھے جن کی کوشش تھی کہ کوئی ویزا حاصل نہ کر پائے۔ مجھے کہنے لگے اگر آپ ٹورسٹ ویزا چاہتے ہیں تو اپنی ایمبیسی سے لکھوا کر لائیے اور اگر ٹرانزٹ ویزا چاہیے تو میں ابھی لگا دیتا ہوں۔ ٹرانزٹ ویزا تین دن کا ہوتا ہے جو اردن کی سیاحت کے لئے کافی تھا اس لئے میں نے اسی پر اکتفا کیا۔

††††††††† اس کے بعد اگلا مرحلہ گاڑی کے لئے ٹرپ ٹکٹ بنوانا تھا جس کی حیثیت گاڑی کے پاسپورٹ کی ہوتی ہے۔ اس کے لئے سعودی عرب میں مختلف ایجنسیاں موجود ہیں۔ میں ایک ایجنسی کے دفتر گیا جنہوں نے ضروری کاغذات لے کر پندرہ منٹ میں ٹرپ ٹکٹ مع انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس کے میرے حوالے کر دی۔ اب ہم سفر کے لئے قانونی طور پر بالکل تیار تھے۔

حالۃ عمار

جدہ سے اردن جانے کے دو راستے ہیں۔ ایک تو کوسٹل ہائی وے کا راستہ ہے جو بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ ینبوع، الوجہ، ضباء، البدع اور حقل سے ہوتی ہوئی سیدھی اردن کے شہر عقبہ تک جاتی ہے۔ دوسری سڑک مدینہ، خیبر، تیماء اور تبوک سے ہوتی ہوئی اردن کے شہر معان اور پھر دارالحکومت عمان تک جاتی ہے۔ ہمیں چونکہ خیبر، مدائن صالح اور تبوک کا سفر کرنا تھا، اس لئے ہم نے موخر الذکر کا انتخاب کیا۔

††††††††† تبوک تک کے سفر کے حالات آپ پہلے حصے میں پڑھ چکے ہیں۔ اس لئے اب اس سے آگے کی سنیے۔ تبوک میں مسجد رسول سے نکل کر ہم اردن جانے والی شاہراہ پر آئے۔ اردن کا بارڈر یہاں سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جو ہم نے 45 منٹ میں طے کیا۔ سعودی عرب کا آخری قصبہ "حالۃ عمار" تھا جو بالکل سرحد پر واقع تھا۔ یہاں ساسکو کا ریسٹ ایریا بنا ہوا تھا۔

††††††††† ہم پچھلے دو دن سے حالت سفر میں تھے۔ یہاں میں نے لباس تبدیل کیا اور گاڑی میں پیٹرول کی ٹنکی فل کروائی۔ اردن میں پیٹرول سعودی عرب کی نسبت چھ گنا مہنگا تھا، اس لئے میں نے دو کینیں خرید کر اس میں بھی پیٹرول بھروا لیا اور گاڑی کی ضروری صفائی بھی کروا لی۔ ساسکو کے سری لنکن ملازم نے نہایت خوشدلی سے یہ خدمات انجام دیں۔ اہل سری لنکا کی خوبی یہ ہے کہ یہ لوگ مزاج کے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ غریب ممالک میں شاید سری لنکن دنیا کی سب سے مہذب قوم ہے۔

بارڈر کراسنگ

اب بارڈر کراس کرنے کی باری تھی۔ سعودی بارڈر پر تو ہمیں گاڑی سے اترنا ہی نہ پڑا۔ کسٹم اور امیگریشن کے لئے کھڑکیاں تھیں۔ گاڑی ان پر روک کر کاغذات پکڑائے اور ان صاحبان نے ضروری کاروائی کے بعد وہیں واپس کر دیے۔

††††††††† مغرب کا وقت تھا۔ یہاں جدہ سے ایک گھنٹے کا فرق پڑ چکا تھا اور نماز مغرب شام آٹھ بجے ادا ہو رہی تھی۔ آخری کھڑکی پر موجود صاحبان اندر باجماعت نماز میں مصروف تھے۔ میں بھی گاڑی سے اتر کر ان کے ساتھ جماعت میں شریک ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے جلدی سے اپنی کاروائی مکمل کی اور "مع السلامۃ" کہہ کر رخصت کیا۔

پاکستانیت، داڑھی اور دہشت گردی

اردن کے کسٹم والے نہایت ہی خوش اخلاق نکلے۔ پیٹرول دیکھ کر کہنے لگے کہ اس کی اجازت نہیں ہے لیکن کوئی مسئلہ نہیں آپ لے جائیں۔ گاڑی ایک طرف روک کر ہم تفتیش کے لئے امیگریشن کاؤنٹر پر گئے اور امیگریشن آفیسر کو اپنے پاسپورٹ پیش کیے۔ ایک تو پاکستانی پاسپورٹ اور اوپر سے میری داڑھی!!! ان صاحب کا "تراہ" نکل گیا، سرخ رنگ زرد پڑ گیا اوران کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میرے ساتھ اہلیہ اور بچی کے پاسپورٹ دیکھ کر انہیں کچھ حوصلہ ہوا۔ کہنے لگے، "آپ ذرا انتظار کیجیے۔" تھوڑی دیر میں ان کے باس آئے اور مجھے اکیلے میں اندر بلا لیا اور اس کے بعد ایک طویل انٹرویو شروع کر دیا۔ میں نے انہیں عربی اور انگریزی میں چھپا اپنا بزنس کارڈ پیش کیا۔ بالآخر وہ مطمئن ہوئے اور ہمارے پاسپورٹوں پر مہریں لگا کر ہمیں جانے کی اجازت دے دی۔ شاید اس مقام سے اردن میں داخل ہونے والا میں پہلا پاکستانی ہوں گا۔

††††††††† اسے ہماری بدقسمتی کہیے یا ہماری سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی غلط حکمت عملی کہ پاکستان کا نام دہشت گردی اور اسمگلنگ سے اس طرح منسلک ہو چکا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانیوں کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد ہمارے بعض مذہبی گروپوں کا رویہ جن کے نتیجے میں دین اسلام اور داڑھی جیسی فطری چیز کا تعلق دہشت گردی جیسے جرم سے جوڑ دیا گیا ہے۔

††††††††† داڑھی مرد کی فطرت ہے اور قدیم ادوار سے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے مرد بلا امتیاز داڑھی رکھتے آئے ہیں۔ یہ مردانگی کی علامت ہے اور اس کا براہ راست تعلق خالص مردانہ ہارمونز سے ہے۔ اہل مغرب نے جہاں انسانی فطرت کے بعض اور رویوں کو مسخ کیا ہے وہاں داڑھی منڈوانے کا فیشن بھی دنیا میں عام کر کے انسانی فطرت پر تیشہ چلایا ہے۔ اگرچہ ہمارے فیصل آباد والے یہی تصور مونچھوں کے بارے میں رکھتے ہیں اور "جدی موچھ نہیں او کچھ نہیں" کا راگ الاپتے ہیں۔

††††††††† امیگریشن کے بعد ہم نے Third Party Liability Insurance حاصل کی اور کسٹم والوں سے گاڑی کا اندراج کروا کے اردن میں داخل ہوئے۔ اردن اور سعودی عرب کے وقت میں ایک گھنٹے کا فرق ہے لیکن ان کے ہاں گرمیوں میں وقت کو ایک گھنٹا آگے کر لیا جاتا ہے جس کے باعث ان دنوں وہاں پر بھی وہی وقت تھا چنانچہ ہمیں گھڑیوں سے چھیڑ چھاڑ کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ اب اندھیرا چھا چکا تھا اور ہم لوگ ایک سنگل روڈ پر سفر کر رہے تھے۔ سعودی روڈ کے مقابلے میں اس روڈ کی کوالٹی سے ہی لگ رہا تھا کہ ہم اب نسبتاً غریب ملک میں آ گئے ہیں۔ یہ احساس آگے جا کر اردن کی "کنگ ہائی وے" دیکھ کر مزید پختہ ہوا۔

معان اور مینگورہ

سوا گھنٹے میں ہم لوگ معان پہنچ گئے۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ شہر میں گزرتے ہوئے ایسا لگا جیسے ہم مینگورہ کے بازاروں میں سے گزر رہے ہیں۔ ویسا ہی بازار، وہی شکل و صورتیں اور ویسے ہی لوگوں کے چہروں کے تاثرات۔ ہم لوگ دن کو بارہ بجے مدائن صالح سے نکلے تھے اور اب رات کے دس بج رہے تھے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ رات یہیں گزار لی جائے۔

††††††††† ایک صاحب سے ہوٹل کا پوچھا۔ وہ میری شکل دیکھ کر پوچھنے لگے، 'باکستانی؟'۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بڑے تپاک سے ملے۔ کہنے لگے مجھے پاکستانی بہت پسند ہیں۔ آپ میرے گھر چلیے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ ہمیں ایک ہوٹل تک چھوڑ گئے لیکن اس کا ماحول کچھ پسند نہ آیا۔ یہ ویسا ہی ہوٹل تھا جیسا کہ ہمارے ہاں ٹرک ڈرائیوروں کے لئے ہوٹل ہوتے ہیں۔

††††††††† میں نے ایک دکاندار سے کسی نسبتاً صاف ستھرے ہوٹل کا پوچھا۔ وہ بھی میری پاکستانیت پر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے، "یہاں آپ کو اسی قسم کے ہوٹل ملیں گے۔ بہتر ہے آپ پیٹرا کے قریب وادی موسی چلے جائیں جو صرف چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔" میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ پیٹرا یہاں سے اس قدر نزدیک ہے ورنہ ہماری منزل تو پیٹرا ہی تھا۔

††††††††† اب ہم عمان عقبہ کنگ ہائی وے پر آ گئے جس کے مقابلے میں ہماری جی ٹی روڈ ہزار درجے بہتر تھی۔ کافی دور جا کر احساس ہوا کہ چالیس کلومیٹر پورے ہو گئے ہیں اور ابھی تک پیٹرا کا ایگزٹ نہیں آیا۔ روڈ کے کنارے کچھ گاڑیاں رکی ہوئی تھیں۔ میں یہاں رک کر پیٹرا کا راستہ معلوم کرنے گیا تو ایک صاحب قالین بچھائے مزے سے محو خواب تھے اور ان کی اہلیہ بچوں سمیت پاس ہی بیٹھی تھیں۔ میں نے ان سے راستہ دریافت کیا تو ان کے خاوند اٹھ گئے۔ کہنے لگے، "آپ کافی آگے آ گئے ہیں، بہتر ہے اب سیدھے چلے جائیے، دس کلومیٹر کے بعد پیٹرا کا ایک اور راستہ آئے گا۔" مرتے کیا نہ کرتے، چل پڑے۔ دس کلومیٹر کے بعد واقعی ایگزٹ آ گیا اور ہم شوبک کے راستے پیٹرا پہنچ گئے۔ دراصل معان سے براہ راست پیٹرا آنے والی سڑک اندر اندر سے آتی ہے اور اس سے فاصلہ 50 کلومیٹر کم ہو جاتا ہے لیکن اس پر کوئی بورڈ وغیرہ موجود نہ تھے۔

††††††††† ہم اب اتنا تھک چکے تھے کہ جو پہلا ہوٹل نظر آیا، اس میں قیام کر لیا۔ موسم خاصا سرد تھا۔ بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا کیونکہ یہاں نہ تو ائر کنڈیشنر تھا اور نہ ہی پنکھا جس کے نتیجے میں ساری رات مچھر ہماری تواضع کرتے رہے لیکن تھکاوٹ کے باعث نیند پھر بھی ڈٹ کر آئی۔

 

اگلا باب†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability