بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پیٹرا

اگلی صبح اٹھ کر ہم لوگ بغیر ناشتہ کئے پیٹرا کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ دھوپ تیز ہونے سے قبل ہی پیٹرا کو دیکھ لیا جائے۔ ناشتہ تو بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔ راستے کے لئے ہلکے پھلکے بسکٹ اور کولڈ ڈرنکس لئے اور پیٹرا سائٹ کی طرف چل پڑے۔ پیٹرا کا ٹکٹ خاصا مہنگا یعنی 21 اردنی دینار (تقریباً 1700 پاکستانی روپے) فی کس تھا۔ مغربی سیاح بھی جوق در جوق پیٹرا سائٹ کی طرف آ رہے تھے۔ سالانہ کئی لاکھ افراد پیٹرا کی سیاحت کے لئے آتے ہیں۔ 2007 میں دنیا کے سات نئے عجائب کی جو فہرست تیار ہوئی ہے اس میں پیٹرا بھی شامل ہے۔

††††††††† پیٹرا دراصل نبطی قوم کا دارالحکومت تھا۔ قوم ثمود سے شروع ہونے والا چٹانوں کو تراشنے کا آرٹ نبطیوں کے دور میں کافی ترقی کر گیا۔ سید ابوالاعلی مودودی کی تحقیق کے مطابق یہ فن ایلورا میں اپنے کمال کو پہنچا۔ مدائن صالح اور پیٹرا کی تراشی ہوئی چٹانوں میں واضح فرق نظر آتا ہے جو کسی بھی فن کی ابتدائی اور ترقی یافتہ شکلوں کو ظاہر کرتا ہے۔

مدافن الابراج

††††††††† سید ابوالاعلی مودودی صاحب انہی راستوں پر مجھ سے تقریباً پچاس برس قبل گزرے تھے۔ وہ ایک عالم دین، صحافی، مفکر اور سیاستدان ہونے کے علاوہ تاریخی مقامات کے سیاح بھی تھے۔ انہوں نے اسی نقطہ نظر سے یہ سیاحت کی تھی جس سے اب میں یہ سفر کر رہا تھا۔ مجھے ان کی افکار سے اگرچہ کسی حد تک اختلاف ہے لیکن اپنا بزرگ ہونے کے ناتے میں ان کا حد درجہ احترام کرتا ہوں۔ انسان کسی سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ کرے، اسے ادب و احترام اور دوسروں کی اچھی چیزیں قبول کرنے میں کسی تعصب کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

††††††††† ہم لوگ گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ اب ہم نیچے اتر رہے تھے۔ راستے کو دونوں جانب پہاڑیوں کو کھود کر غاریں بنائی گئی تھیں جو مدائن صالح کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ نہیں لگتی تھیں۔ اب ہمارا گزر مدافن الابراج (Tower Tombs) سے ہو رہا تھا۔ یہ نبطیوں کے مقبرے تھے جن کے اوپر چٹانوں کو تراش کر ستون بنائے گئے تھے۔

السیق (Siq)

کچھ دور جا کر پیٹرا کا پہاڑی راستہ (Canyon) شروع ہو گیا۔ اس مقام پر نبطیوں نے ایک ڈیم بنایا تھا جس کے آثار اب نظر نہ آ رہے تھے۔ اب ہمارے دونوں جانب پتھریلے پہاڑوں کے اونچے اونچے سلسلے تھے اور درمیان میں محض آٹھ دس فٹ چوڑا راستہ تھا جس پر ہم چل رہے تھے۔ یہ راستہ السیق (Siq) کہلاتا ہے۔ اتنے تنگ درے میں دھوپ بھی صحیح طور پر نہ پہنچ پا رہی تھی جس کے باعث ٹھنڈک کا احساس ہو رہا تھا۔ بہت سے لوگ گھوڑا گاڑیوں پر بھی جا رہے تھے جبکہ اکثریت پیدل ہی جا رہی تھی۔ یہ راستہ 1200 میٹر لمبا تھا اور اسے کے گرد پہاڑی چٹانیں سو میٹر تک بلند تھیں۔

سیق اور واٹر چینل

واٹر چینل

سیق پر سفر کرتے ہوئے اچانک میری نظر پہاڑی چٹانوں کی جڑ میں موجود پانی کی نالی (Water Channel) پر پڑی۔ پانی کی یہ نالی بھی چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی تھی جو نبطیوں کی انجینئرنگ کا شاہکار تھی۔ اوپر موجود ڈیم میں بارش کا پانی اکٹھا کیا جاتا اور ان نالیوں کے ذریعے نیچے پیٹرا شہر تک پہنچایا جاتا۔ یہ چینل دو طرح کے تھے۔ جنوبی چینل پہاڑ میں کھدی ہوئی نالی تھی جس پر کہیں کہیں پتھر کی سلیب ڈال کر بند کیا گیا تھا تاکہ پانی حرارت سے بخارات بن کر اڑ نہ جائے۔ قیاس یہ ہے کہ نبطیوں کے دور میں یہ پوری نالی ہی کورڈ ہوتی ہو گی۔ شمالی چینل میں باقاعدہ پائپ ڈال کر اس میں سے پانی گزارا گیا تھا۔ کہیں کہیں پانی کے یہ پائپ اب بھی محفوظ تھے۔

††††††††† چٹانوں کی بلندی پر متعدد مقامات پر طرح طرح کے نبطی آرٹ کے نمونے موجود تھے۔ یہ سب چٹانوں میں کھدے ہوئے تھے۔ شاید نبطیوں نے کچھ ایسے آلات ایجاد کر لئے تھے جن کی مدد سے وہ چٹانوں کو آسانی سے کھود ڈالتے تھے۔ سیق چٹانوں کے درمیان ایسا تنگ راستہ تھا جیسا کہ بعض ایڈونچر فلموں میں دکھائے جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان فلموں میں ایسے راستے پانی کے اندر ہوتے ہیں جبکہ یہاں خشکی تھی۔ بعض مقامات پر چٹانیں ایک دوسرے کے اتنے قریب تھیں کہ یہ ایک دوسرے کو تقریباً مس کر رہی تھیں۔ بعض جگہ جہاں راستہ کچھ کھلا تھا، وہاں دھوپ چٹانوں کے اوپر والے حصے پر پڑ کر نہایت ہی دلکش منظر پیش کر رہی تھی۔ بیچ میں ایک آدھ درخت بھی اگا ہوا تھا جو یقیناً اردنی حکومت کا کارنامہ تھا۔

بلندی پر کھودی ہوئی غاریں

بعض مقامات پر چٹانوں کی بلندی پر نبطیوں کی کھودی ہوئی غاریں بھی موجود تھیں۔ اتنی بلندی پر غاریں کھودنے کی یہی وجہ میری سمجھ میں آئی کہ شدید بارشوں کے دوران سیق میں سیلاب آ جاتا ہوگا اور بلندی پر موجود ان کے گھر محفوظ رہتے ہوں گے۔ نیچے سے اوپر جانے کے لئے وہ لوگ رسی یا لکڑی کی سیڑھی استعمال کرتے ہوں گے۔

††††††††† ہمارے ساتھ ساتھ مغربی سیاحوں کا ایک گروپ بھی چلا آ رہا تھا جن کے ساتھ ایک عرب گائیڈ بھی تھا جو انگریزی اور فرنچ میں بڑی اچھی تقریر کرتا آ رہا تھا۔ پہلے تو میں نے ارادہ کیا کہ اس گائیڈ کی تقریر سے فائدہ اٹھایا جائے لیکن چونکہ ہم نے اسے کوئی رقم نہ دی تھی، اس لئے مجھے یہ فائدہ اٹھانا اچھا محسوس نہ ہوا۔ یہی معلومات میں انٹرنیٹ سے بھی حاصل کر سکتا تھا۔

نبطیوں کے اسٹیٹ بنک کی عمارت (Treasury)

سامنے سے کچھ مغربی سیاح آ رہے تھے۔ میں نے ان سے آگے کے متعلق دریافت کیا۔ لہجے سے یہ لوگ امریکی لگتے تھے۔ بڑی خوش اخلاقی سے ملے۔ کہنے لگے کہ دو سو میٹر کے فاصلے پر "نبطیوں کا خزانہ (Treasury)" ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسے ہی ہم وہاں پہنچے، ایک نہایت ہی دلکش منظر ہمارے سامنے تھا۔ نبطی آرٹ کا شاہکار، خزانے کی عمارت ہمارے سامنے تھی۔ پہاڑ کو ڈیڑھ سو فٹ کی بلندی تک اس خوبصورتی سے تراشا گیا تھا ستونوں پر مشتمل ایک نہایت ہی عالیشان گیٹ معرض وجود میں آ چکا تھا۔

نبطیوں کا خزانہ

††††††††† اس گیٹ کے دو حصے تھے۔ پہلی منزل تک یہ چھ ستونوں پر مشتمل تھا جس کے بعد ویسا ہی تکون نما ڈیزائن بنا ہوا تھا جیسا کہ زیارت میں قائد اعظم کی رہائش گاہ کا ہے۔ اس کے اندر بھی مختلف مجسمے کنداں تھے۔ دوسری منزل پر پھر چھ ستون تھے جن کے درمیان طرح طرح کے مجسمے کھدے ہوئے تھے۔ کنارے والے ستونوں کے اوپر دو مثلثیں بنائی گئی تھیں اور درمیان والے دو ستونوں کے اوپر ایک بہت بڑے شاہی تاج کا ماڈل بنایا گیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ تمام ستون اور آرٹ کے نمونے 'بنائے' نہیں بلکہ 'تراشے' گئے تھے۔ پہاڑی چٹان کو اس خوبصورتی سے تراشا گیا تھا کہ یہ پورا شاہکار معرض وجود میں آیا تھا۔ ہم لوگ نبطیوں کے اس شاہکار کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

††††††††† خزانے کی عمارت کے نیچے ایک تہہ خانہ بھی بنا ہوا تھا جو کہ بند تھا۔ اس عمارت کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ نبطیوں کے اسٹیٹ بنک کی عمارت تھی۔ شاہی خزانہ اس عمارت میں جمع کیا جاتا۔ اب ہم اندر کی طرف چلے۔ اندر ایک بڑا ہال تھا جو کہ مدائن صالح کی عمارات کے اندرونی حصے سے مشابہ تھا۔ یہاں اندر جانا ممنوع تھا۔ میں نے دروازے پر ہی کھڑے ہو کر اندر کی تصاویر لیں۔ بہت سے مقامات پر ترشی ہوئی چٹانوں کے مختلف شیڈ نمایاں ہو رہے تھے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کو یاد دلا رہے تھے۔

††††††††† دروازے کے گارڈ بہت ہی خوش اخلاق تھے۔ میں نے ایک گارڈ سے پیٹرا کے متعلق کچھ معلومات حاصل کیں۔ مغربی سیاح ان کے ساتھ کھڑے ہو ہو کر تصاویر بنوا رہے تھے۔ ایک آنٹی نے ایک گارڈ کو زبردستی اپنے ساتھ چمٹا کر تصویر بنوائی۔ وہ صاحب بہت کھسیانے ہوئے۔ سب لوگوں نے اس منظر کو خوب انجوائے کیا۔ کوئی جوان عورت ایسا کرتی تو شاید وہ صاحب کچھ خوش بھی ہوتے، لیکن اب ان کے حصے میں سوائے کھسیاہٹ کے کچھ نہ آیا۔

نبطیوں کا قدیم بازار

خزانے کی عمارت کے باہر نبطیوں کا قدیم بازار لگایا گیا تھا۔ یہ مقامی لوگ تھے جنہیں نبطیوں کے لباس پہنا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ ہر طرف اونٹ بیٹھے تھے اور مختلف چیزوں کی دکانیں لگی ہوئی تھیں۔ زیادہ تر دکانیں زمین پر تھیں۔ مرد اور خواتین نبطی لباسوں میں سامان بیچ رہے تھے۔ ایک طرف چائے کا ہوٹل بھی تھا جہاں قدیم ہوٹلوں کے انداز میں آگ جلائی گئی تھی۔ یہاں پہنچ کر ہم خود کو دو ہزار برس قبل کے زمانے میں محسوس کر رہے تھے۔ بعض لوگ ان کے فوجیوں کا لباس پہنے، سر پر خود رکھے اور نیزے اور ڈھالیں اٹھائے کھڑے تھے۔ مغربی سیاح ان کے ساتھ بھی کھڑے ہو کر تصاویر بنوا رہے تھے۔

ممر الواجھات (Street of Facades)

خزانے کی عمارت کے سامنے ایک اور عمارت تھی جس پر عام انداز میں آرٹ کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ آگے چلے تو ایک کھلی وادی ہمارے سامنے تھی۔ اس وادی میں پہاڑ پر اوپر تلے بے شمار مکانات کھدے ہوئے تھے۔ یہ نبطیوں کا کوئی محلہ لگ رہا تھا۔ اس جگہ کو "ممر الواجھات (Street of Facades)" کا نام دیا گیا تھا۔اس جگہ ایک دو منزلہ عمارت کھدی ہوئی تھی۔ اس کی اوپر والی منزل کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ جگہ مزدوروں کے آلات اسٹور کرنے کے کام آتی تھی بعد میں یہاں چور ڈاکوؤں نے ڈیرا بنا لیا۔

نبطیوں کا قدیم بازار

نبطی لباس

††††††††† کھلی وادی میں کچھ دکانیں بھی بنی ہوئی تھیں جن پر نبطیوں کے دور کی اشیا کی نمائش کی گئی تھی۔ یہاں دکانیں عرب بدوؤں کی ملکیت تھیں جو عربی کے علاوہ انگریزی اور فرنچ سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔ میں نے ایک دکان کے مالک سے اشیاء کی تصاویر بنانے کی اجازت چاہی۔ وہ کہنے لگے، "آپ بہت ڈیسنٹ آدمی معلوم ہوتے ہیں ورنہ اس کی کوئی اجازت نہیں لیتا۔" اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اشیاء کے بارے میں بریف کرنا شروع کیا۔ یہ تمام اشیاء اردن اور چین میں بنی ہوئی تھیں اور نبطی تہذیب کی نمائش کے لئے یہاں رکھی گئی تھیں۔ مجھے یہ صاحب بہت دیانتدار معلوم ہوئے ورنہ عموماً ایسے مقامات پر لوگ ان چیزوں کو اوریجنل کہہ کر سیاحوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔

††††††††† ان اشیاء میں نبطیوں کے دور کے اوزار، مجسمے، برتن اور زیورات شامل تھے۔ دکان کے مالک کی فرمائش پر میں ان کی دکان کا نام بھی لکھ رہا ہوں The Flints Tones Ė Bedoiun Accessories & More۔ انہوں نے جب مجھ سے اتنا تعاون کیا تو میرا بھی اخلاقی فرض بنتا ہے کہ میں ان کی فرمائش پوری کروں۔

پیٹرا کا اسٹیڈیم یا تھیٹر

ممر الواجھات کے قریب ہی پیٹرا کا اسٹیڈیم بھی تھا۔ یہ رومی طرز کا نصف دائرے کی شکل کا اسٹیڈیم ہے جو رومن تھیٹر کہلاتا ہے۔ یہاں ان کے کھیل کود اور تفریح کے دیگر پروگرام ہوتے ہوں گے۔ اسٹیڈیم کی سیڑھیاں بھی چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی تھیں۔ اس کے بعد شاہی محل تھا۔ جس کے وسیع دروازے پر ستون بنائے گئے ہیں اور مختلف دیوی دیوتاؤں کے بت تراشے گئے ہیں۔

نبطیوں کی تاریخ

آگے بڑھنے سے پہلے بہتر ہے کہ نبطیوں کی کچھ تاریخ بیان کر دی جائے تاکہ قارئین کے ذہن میں کوئی اشکال وارد نہ ہو۔ نبطی ایک تعلیم یافتہ قوم تھی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کا اپنا لکھا ہوا کوئی تحریری ریکارڈ اثری تحقیقات کے نتیجے میں سامنے نہیں آیا۔ ان کی تاریخ کے بارے میں زیادہ تر ریکارڈ ان کی معاصر اقوام سے ہی ملتا ہے۔ نبطیوں کے بارے میں ایک ویب سائٹ www.nabataea.netبھی انٹرنیٹ پر موجود ہے جس پر ان کے بارے میں اب تک میسر تمام معلومات دستیاب ہیں۔

††††††††† قدیم یہودی مورخ جوزیفس کے مطابق، نبطی سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے تھے۔ یہ لوگ شمالی عرب میں آباد ہوئے۔ اس دور میں دوسری قومیں اپنی فوج کے بل پر سلطنتیں قائم کیا کرتی تھیں۔ نبطیوں نے اس کے بالکل برعکس تجارتی بنیادوں پر اپنی سلطنت قائم کی۔ انہوں نے تجارت کو اتنا فروغ دیا کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کی بنیاد رکھی جو موجودہ دور کے اردن سے لے کر سعودی عرب کے مشرقی اور عراق کے جنوبی حصے سے ہوتی ہوئی حضر موت اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔

††††††††† سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو جو قافلہ اپنے ساتھ مصر لے گیا تھا، اس کے بارے میں بھی یہی مشہور ہے کہ وہ نبطیوں کا ایک قافلہ تھا۔ بائبل نے بھی اسے بنی اسماعیل کا قافلہ قرار دیا ہے۔ نبطیوں کا عروج اس زمانے میں ہوا جب اسکندر اعظم (Alexander the Great) یونانی سلطنت کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ نبطیوں کی سب سے بڑی طاقت علم تھی۔ ان کے ایڈونچر پسندوں نے بہت سے برّی اور بحری راستوں کا کھوج لگا کر انہیں تجارت میں استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔

ممر الواجہات

اسٹیڈیم

††††††††† اس دور میں جب معروف تجارتی راستوں پر ایسے قبائل قابض تھے جو لوٹ مار کیا کرتے تھے، نبطیوں نے نئے محفوظ راستے دریافت کیے۔ انہوں نے کوئی ایسی ٹیکنیک دریافت کی جس کے مدد سے وہ پانی کا ذخیرہ اسٹور کر کے اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے۔ اس صلاحیت نے انہیں راستے میں موجود پانی کے ذخائر سے بے نیاز کر دیا جن پر لوٹ مار کرنے والے قبائل کا قبضہ تھا۔

††††††††† اس دور میں بنی اسرائیل زوال پذیر ہو چکے تھے اور ان کی دو بڑی سلطنتیں یہودا اور اسرائیل نبوکد نضر کے حملوں کے باعث تباہ ہو چکی تھیں۔ موجودہ اردن کے علاقے پر ادومیوں (Edomites) کا قبضہ ہو چکا تھا جو کہ سیدنا یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی عیسو علیہ الرحمۃ کی اولاد تھے۔ عیسو کی شادی سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی بیٹی سے ہوئی تھی۔ غالباً اسی رشتے کے باعث نبطیوں کے ادومیوں سے اچھے تعلقات تھے اور انہوں نے ادومیوں کے دارالحکومت "بُشیرہ" جو کہ اردن کے موجودہ قصبے "طفیلہ" کے جنوب میں واقع تھا، کو بنیاد بنا کر پیٹرا کی بنیاد رکھی۔

††††††††† نبطیوں نے اپنے دور میں ارد گرد کی رومی اور مصری سلطنتوں سے اچھے تعلقات رکھے۔ یہ لوگ چونکہ عرب کے صحرائی راستوں سے واقف نہ تھے اس لئے انہوں نے نبطیوں کو تجارت کی آزادی دیے رکھی۔ نبطیوں کے بارے میں ایک اچھی بات یہ بھی ملتی ہے کہ ان میں کسی قدر جمہوری نظام بھی موجود تھا۔ ان کی دعوتوں میں بادشاہ اپنا کھانا خود اٹھا کر لاتا اور اپنی باری پر دوسروں کی خدمت بھی کیا کرتا۔ پیٹرا کے علاوہ یہ لوگ مدائن صالح اور دیگر مقامات پر بھی آباد رہے۔

††††††††† شروع میں تو یہ لوگ سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہونے کے باتے سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے مذہب یعنی دین توحید پر ہی کاربند رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، دوسری قوموں کے زیر اثر، ان میں بھی شرک کا غلبہ ہوا۔ پیٹرا سے ملنے والے مجسموں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی بت پرستی میں مبتلا ہو گئے تھے۔

††††††††† پانچویں صدی قبل مسیح سے لے کر تیسری صدی عیسوی تک تقریباً آٹھ سو سال تک نبطیوں کی حکومت اس علاقے پر قائم رہی۔ دوسری طرف سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ کے پیروکار توحید دعوت کو پھیلانے میں مشغول رہے۔ چوتھی صدی کے اوائل میں رومی بادشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر کے اسے سرکاری مذہب قرار دیا۔ اس کے بعد اہل کلیسا دنیا سے شرک اور مشرکین کو مٹانے کا عزم لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ اسی مہم کے دوران انہوں نے پیٹرا پر بھی حملہ کیا اور نبطیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

††††††††† اس کے بعد سے لے کر آج تک نبطی بکھری ہوئی حالت میں بعض عرب ممالک میں موجود ہیں۔ صحیح بخاری کی بعض احادیث میں نبطیوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہ لوگ عہد رسالت میں بھی شام اور اردن سے اناج اور سبزیاں لے کر مدینہ آیا کرتے تھے۔ جب مسلم افواج نے اردن، مصر اور فلسطین فتح کیے تو ان کی اکثریت نے بھی اسلام قبول کر لیا اور اب یہ اردن کے عرب بدوؤں کی شکل میں دنیا میں موجود ہیں۔

††††††††† نبطیوں کے عروج و زوال سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ اس دنیا میں کسی چیز کو دوام حاصل نہیں۔ کوئی قوت اپنے وقت کی جتنی بڑی قوت بھی ہو، وقت کے ساتھ ساتھ اسے زوال آ ہی جاتا ہے۔ یہی حال انسانی زندگی کا ہے۔ اپنی جوانی اور قوت کے دور میں انسان نجانے خود کو کیا سمجھتا ہے، لیکن اسے اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ ایک دن اسے بھی زوال آئے گا اور اس کے بعد اسے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ دنیا کے یہ عروج و زوال دونوں ہی انسان کے لئے امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر شخص اور ہر قوم کو اس کے کیے کا پھل مل کر رہے گا۔

چانپیں اور مٹھائی

میری چھوٹی بیٹی ماریہ بھی ہمارے ہمراہ تھی۔ کہیں پر وہ پیدل اور کہیں ہم پر سوار ہو کر چل رہی تھی۔ اسے مزید اٹھا کر چلنے سے ہماری ہمت اب جواب دے رہی تھی لہذا ہم نے یہاں سے واپسی کا ارادہ کیا۔ واپسی پر ہم ایک گھوڑا گاڑی میں سوار ہو گئے جس نے ہمیں پیٹرا کے گیٹ پر لا اتارا۔ گھوڑا گاڑی کے کوچوان ایک خوبصورت اردنی نوجوان تھے جو شکل صورت اور لباس سے اچھا خاصا تعلیم یافتہ اور مہذب لگ رہاےتھے۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ہم پاکستانی ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے، "پچھلے سال میں بھی پاکستان میں شمالی علاقہ جات دیکھنے گیا تھا جو مجھے بہت پسند آئے۔" گیٹ سے باہر نکل کر ہم لوگ ایک ریستوران میں جا گھسے کیونکہ اب بھوک بہت شدید لگ رہی تھی۔

††††††††† اس ریستوران میں ہمیں اپنے ٹور کا سب سے اچھا کھانا نصیب ہوا۔ روسٹ کی ہوئی بھیڑ کی چانپوں کے ساتھ لبنانی روٹی نے بہت لطف دیا۔ دراصل یہ ایک لبنانی ریسٹورنٹ تھا۔ عرب ممالک میں صرف لبنان ہی کے کھانے مزیدار ہوتے ہیں۔ ان کے کک دنیا کے بہترین کک مانے جاتے ہیں۔ ایک بار میں نے البیک کھانے کے دوران یہی بات پنجاب سے آئے ہوئے اپنے ایک بزرگ کو بتائی تو وہ فرمانے لگے، "آہ! انہاں نے نائی چنگے ہوندے ہون گے (ہاں! ان کے نائی اچھے ہوتے ہوں گے۔)" ان کے نزدیک فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کک بھی سب کے سب نائی ہی ہوتے ہیں۔

††††††††† کھانے کے ساتھ سویٹ ڈش کا انتظام اللہ تعالیٰ نے ایسے کیا کہ ایک صاحب مٹھائی کا ڈبہ لئے ہوئے ہمارے پاس آئے اور نہایت ہی شستہ انگریزی میں فرمانے لگے، "آج میرے بیٹے کا ہائر اسکینڈری اسکول کا رزلٹ آیا ہے اور وہ کامیاب ہو گیا ہے، اس خوشی میں یہ مٹھائی قبول فرمائیے۔" میں نے جب ایک پیس لیا تو کہنے لگے، "آپ سب کم از کم ایک ایک پیس تو ضرور لیجیے۔" مجھے اپنے پاکستان کے وہ اٹھائی گیر یاد آ گئے جو مٹھائی کھلا کر لوٹ لیتے ہیں لیکن یہ صاحب نہایت ہی نستعلیق اور مہذب لگ رہے تھے۔ ہم نے مٹھائی لے کر رکھ لی۔ ان صاحب نے ہوٹل میں موجود تمام افراد کو مٹھائی پیش کی، اس کے بعد باہر چلے گئے اور گاڑیوں والوں کو روک روک کر مٹھائی کھلانے لگے۔

††††††††† کھانا کھانے کے بعد ہم نے ان کی مٹھائی چکھی، بہت مزیدار تھی۔ مجھے عرب مٹھائیاں ویسے ہی بہت پسند ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے سعودی عرب، اردن اور کویت میں مختلف دکانوں سے مٹھائی لے کر کھائی ہے لیکن جو مزہ لاہور کی عرب مٹھائیوں کی واحد دکان "عریبین ڈیلائٹس" کی مٹھائی میں ہے وہ کہیں نہ پایا۔ جمع خاطر رکھیے، یہ بات میں ان سے کوئی کمیشن لئے بغیر لکھ رہا ہوں۔

††††††††† کھانے کے بعد ہم پیٹرا سے روانہ ہوئے۔ لوگ پیٹرا کو دیکھنے کے لئے تین تین دن لگاتے ہیں لیکن ہمارے پاس کل تین دن کا ہی ویزا تھا جس میں سے ڈیڑھ دن گزر چکا تھا۔

 

اگلا باب†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability