بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جنگ موتہ اور ڈیڈ سی

اب ہماری اگلی منزل "شوبک" تھی جہاں سے ہم رات کوگزرے تھے۔ شوبک نسبتاً بلندی پر واقع ایک پرفضا مقام تھا اور یہاں کی پہاڑیاں بھی خاصی سرسبز تھیں۔ یہ علاقہ کسی حد تک نتھیا گلی سے مشابہ تھا۔ اس وقت سبز گھاس کی رنگت زرد ہو چکی تھی مگر چنار کے درختوں کا سبز رنگ زرد بیک گراؤنڈ میں اچھا لگ رہا تھا۔

          بیس منٹ میں ہم شوبک جا پہنچے۔ شوبک شہر میں ہم نے اردنی لڑکوں سے قلعے کا راستہ پوچھا۔ یہ لڑکے اچھی خاصی انگریزی بول رہے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم پاکستانی ہیں تو بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے، "ویلکم ٹو جارڈن"۔ پورے اردن میں ہمیں یہ تجربہ ہوا کہ اردنی لوگ نہایت ہی گرمجوش ہوتے ہیں اور پاکستانیوں سے خاص محبت کرتے ہیں۔ جس شخص کو بھی یہ علم ہوا کہ ہم پاکستانی ہیں، بہت تپاک سے پیش آیا۔

شوبک کا قلعہ

شوبک کا قلعہ، صلیبی جنگوں کے فاتح عیسائیوں نے 1115ء کے لگ بھگ تعمیر کیا تھا اور اسے مونٹریال کا نام دیا تھا۔ یہ قلعہ اسی دور کی یادگار تھی۔ اپنی تعمیر کے صرف 75  سال بعد اسے صلاح الدین ایوبی نے فتح کر لیا۔ قلعہ ایک پہاڑی پر بنا ہوا تھا۔ ہم جس طرف سے آئے تھے، اس جانب سے قلعے تک پہنچنے کے لئے نیچے اترنا ضروری تھا کیونکہ ہم جس پہاڑی پر موجود تھے وہ قلعے والی پہاڑی کی نسبت بلند تھی۔ قلعے کے اب کھنڈرات ہی باقی تھے۔ قلعے کی بعض دیواروں پر صلاح الدین ایوبی کے دور میں قرآنی آیات بھی کندہ کی گئی تھیں۔

خطاطی یا مجسمہ سازی؟

دنیا کی قدیم اقوام نے اپنی آرٹسٹک صلاحیتوں کے اظہار کے لئے مجسمہ سازی اور تصویر سازی کو ذریعہ بنایا۔ ان کے اہل دانش جب بھی کسی تصور یا فکری کاوش کو بیان کرنا چاہتے تو وہ اس کے اظہار کے لئے مجسمہ تراشتے یا پھر تصویر بناتے۔ اسی سے مذہبی راہنماؤں نے فائدہ اٹھایا اور اپنے باطل معبودوں کے مجسمے بھی بنانا شروع کر دیے جس کے نتیجے میں مجسمہ سازی اور تصویر سازی کے فن کا بڑا حصہ شرک کو پھیلانے میں صرف ہونے لگا۔

     جب دین اسلام نے توحید کی دعوت دی تو شرک کو مٹانے کی خاطر پرستش کی غرض سے بنائے ہوئے مجسمے اور تصویریں بھی ممنوع قرار دیں۔ مسلمانوں کی مجسمہ بیزاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے ہاں صدیوں میں بڑا مجسمہ ساز یا مصور پیدا نہ ہو سکا۔ پچھلے چودہ سو سالہ تاریخ کی تاریخ میں ان فنون کے تمام بڑے نام غیر مسلموں کے ہاں ہی ملیں گے۔ اس رویے نے مسلمانوں کی تمام آرٹسٹک صلاحیتوں کا رخ خطاطی اور تحریر کے فن کی طرف کر دیا۔ مسلم کاتبین نے فن خطاطی کو اس کے عروج پر پہنچا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چودہ سو سال میں دنیا کے تمام بڑے خطاط سب کے سب مسلمان ہی تھے۔

شوبک کا قلعہ

     اس فن میں ان کی مہارت کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اب سے کئی سو برس قبل مسلم کاتبین صرف اپنے ہاتھ سے وہ سب کچھ کر سکتے تھے جو آج ہم کمپیوٹر پر انتہائی ترقی یافتہ سافٹ وئیر جیسے ورڈ، پاور پوائنٹ اور کورل ڈرا کی مدد سے کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ان تحریروں اور ان کی فارمیٹنگ کے شہ پارے مخطوطوں کی کسی بھی قدیم لائبریری میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہی مسلمانوں نے ریاضی میں عربی ہندسے ایجاد کیے جنہیں پوری دنیا نے قبول کر لیا۔ ظاہر ہے بڑی رقموں کو لکھنے میں یہ ہندسے نہایت ہی ممد و معاون ہیں۔ رومن انداز میں اٹھاسی کے عدد کو LXXXVIII لکھنے کی بجائے 88 لکھنا کتنا آسان لگتا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد مسلم کاتبین کا یہ فن اب کمپیوٹر میں منتقل ہو رہا ہے۔

صلیبی جنگیں

زیادہ اچھا ہے اگر اس مقام پر صلیبی جنگوں کی تاریخ بھی مختصراً بیان کر دی جائے۔ 640ء کے آس پاس سیدنا ابوعبیدہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی قیادت میں مسلم افواج نے اردن اور شام کے علاقے فتح کر لئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں یروشلم بھی بغیر کسی جنگ کے اسلامی حکومت کا حصہ بنا۔ بعد میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گورنری اور پھر بادشاہت کےدور میں یہ علاقہ سلطنت اسلامیہ کا سب سے طاقتور صوبہ بن گیا۔

     یورپ کے عیسائیوں نے مسلمانوں کی ان فتوحات اپنے مذہب پر حملہ سمجھا مگر وہ حملہ کی جرأت نہ کر سکے۔ چار سو سال بعد جب بغداد کی عباسی سلطنت کمزور پڑی تو عیسائیوں نے یلغار کر دی۔ ان کی افواج زیادہ منظم تو نہ تھیں لیکن مسلمانوں کی کمزوری کے باعث یروشلم ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ کم و بیش نوے برس اہل یورپ کی حکومت موجودہ فلسطین، لبنان اور اردن کے علاقوں پر قائم رہی۔ اس یلغار کے خلاف شام کے حکمران عماد الدین زنگی نے بند باندھا۔ ان کی وفات کے بعد حکومت ان کے بیٹے نور الدین زنگی کے پاس آئی اور نور الدین کے بعد حکومت صلاح الدین ایوبی کے حصے میں آئی جن کے دور میں مسلمانوں کو یروشلم دوبارہ واپس ملا۔

صلاح الدین ایوبی

صلاح الدین ایوبی مسلم جرنیلوں اور فاتحین میں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر مسلم تاریخ کے دفاعی جرنیلوں کی فہرست بنائی جائے تو ان کا نام سر فہرست ہو گا۔ اپنی حربی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں کا ان کا شمار سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بعد ماہر ترین جرنیلوں میں کیا جا سکتا ہے۔

     ایوبی 1138ء میں عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد موجودہ لبنان کے شہر بعلبک کے گورنر تھے۔ انہوں نے دمشق میں تعلیم حاصل کی۔ انہیں شام کے سلطان نور الدین زنگی نے اپنے ساتھی شیر کوہ کے ساتھ مصر کی فتح کے لئے بھیجا۔ اس دور میں نور الدین اور مصر کے فاطمی حکمرانوں کے درمیان جنگیں جاری تھیں۔ مصر کی فتح کے کچھ عرصہ بعد صلاح الدین ایوبی کو یہاں کا گورنر مقرر کیا گیا۔ نور الدین زنگی کی وفات کے بعد ایوبی شام اور مصر کے حکمران بن گئے۔

     دسویں صدی کے اواخر میں یورپ کے صلیبی حکمرانوں کے ایک اتحاد نے مسلم دنیا پر حملہ کر کے موجودہ ترکی، لبنان، اردن اور فلسطین کے علاقوں پر اپنی حکومتیں قائم کر لی تھیں۔ یہ جنگیں بالعموم مذہبی جذبے سے لڑی گئیں۔ یہ افواج آپس میں بھی پوری طرح متحد نہ تھیں ورنہ پورے عالم اسلام کو ان کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ ان کے ہاں آپس میں بھی سیاسی اور مذہبی اختلافات پوری شدت سے موجود تھے۔

     ایوبی کے بادشاہ بننے کے بعد ان کا مقابلہ اس علاقے کے صلیبی حکمرانوں سے ہوا۔  1177ء میں ایوبی کو صلیبی حکمرانوں کے ایک اتحاد کے خلاف ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی افواج کو از سر نو منظم کیا اور صلیبی مملکتوں پر یلغار کر دی۔ 1179ء سے 1191ء تک مختلف جنگوں میں ایوبی نے موجودہ اردن اور فلسطین کا بیشتر حصہ فتح کر لیا۔ 1185ء میں ایوبی نے کرک کا قلعہ فتح کر کے رینالڈ دی شاٹلن کو موت کے گھاٹ اتارا۔ 1187ء میں ایوبی نے تین حکمرانوں کی متحدہ فوج کو شکست دے کر صلیبی افواج کے دارالحکومت یروشلم کو فتح کر لیا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں صلیبی حکومت صرف موجودہ اسرائیل اور لبنان کے چند علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔

     ان فتوحات کے بعد اہل یورپ نے ایک بار پھر یلغار کر دی جس کی قیادت انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ اول کر رہے تھے جو کہ رچرڈ شیر دل (Richard the Lion Heart)  کہلاتے تھے۔ 1191ء میں ایوبی اور رچرڈ کی افواج کا مقابلہ ہوا۔ رچرڈ کی بہادری کے باعث ایوبی ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ جب ایوبی کو معلوم ہوا کہ رچرڈ کا ذاتی گھوڑا جنگ میں زخمی ہو گیا ہے تو انہوں نے دو بہترین گھوڑے اور کچھ تحائف رچرڈ کو روانہ کئے۔ رچرڈ کے زخمی ہونے پر ایوبی نے اپنے ذاتی معالج کو رچرڈ کے علاج کے لئے بھیجا۔

     1192ء میں رچرڈ اور ایوبی میں رملہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ ہوا جس کے مطابق یروشلم پر مسلم افواج کا قبضہ تسلیم کر لیا گیا اور مسلمانوں نے عیسائی زائرین کے لئے یروشلم کھول دیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد رچرڈ واپس انگلینڈ چلے گئے۔ دوسری طرف 1193ء میں ایوبی نے بھی دمشق میں وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے ذاتی خزانے کا جائزہ لیا گیا تو اس میں اتنی رقم بھی نہ تھی جس سے ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایوبی اپنی ذاتی آمدنی کا بڑا حصہ غربا پر خرچ کیا کرتے تھے۔

     باوجود اس کے کہ ایوبی یورپی حکمرانوں کے خلاف مصروف جنگ رہے تھے، اہل یورپ کے ہاں ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور ان کی عظمت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ رچرڈ نے ایوبی کا مسلم دنیا کا سب سے عظیم حکمران تسلیم کیا۔ فرنچ مصنف رینی گراؤزے لکھتے ہیں:

یہ بھی بالکل درست ہے کہ ان کی شرافت، زہد و تقوی، انتہا پسندی سے اجتناب، آزادی سے محبت اور اخلاق، جو کہ ہمارے قدیم مورخین کا طرہ امتیاز تھا، کے نتیجے میں انہیں فرینک شام کے علاقے میں بھی اتنی ہی مقبولیت حاصل ہوئی جو انہیں اسلامی دنیا میں حاصل تھی۔ (Grousse, Renee (1970). The Epic of the Crusades. Orion Press.)

اس مقبولیت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ایوبی نے مختلف عیسائی فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو یروشلم میں وہ مذہبی آزادی عطا کی جو ان کے ہم مذہب لیکن مخالف فرقے کے حکمران انہیں دینے کو تیار نہ تھے۔ ایوبی کی فتوحات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ان کی فتوحات کی دو بڑی وجوہات تھیں: مضبوط انٹیلی جنس اور مضبوط بحری قوت۔ ایوبی نے ایسا انٹیلی جنس کا نظام تشکیل دیا جس کی جڑیں دشمن کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس نظام میں مخالف فرقوں کے عیسائی بھی ایوبی کو اہم معلومات بروقت فراہم کر دیتے جو ان کی فتح میں ممد و معاون بنتیں۔

     ایوبی کی فتوحات کی ایک بڑی وجہ ان کے اہل مغرب پر ٹیکنالوجی میں برتری تھی۔ ان کے دور میں ماہرین فن نے ایسی ہانڈیاں ایجاد کیں جن میں آتش گیر مادہ بھرا ہوتا۔ دشمن کے بحری جہازوں پر ان ہانڈیوں کو چھوٹی منجنیقوں کے ذریعے پھینکا جاتا اور اس کے پیچھے جلتے ہوئے تیر چھوڑ دیے جاتے۔ ٹیکنالوجی کی اس برتری کے باعث ایوبی نے تقریباً تمام بحری معرکوں میں کامیابی حاصل کی۔

     ایوبی عجز و انکسار کا پیکر تھے۔ ایک بار انہوں نے اپنے کسی چاپلوس کو یہ کہتے سنا کہ ہمارا سلطان خالد بن ولید سے بھی بڑا جرنیل ہے۔ انہوں نے اس شخص کی سخت گوشمالی کی اور کہا، "مجھے سلطان بننے سے زیادہ عزیز ہے کہ میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی فوج کا ایک عام سپاہی ہوتا۔" ایوبی اپنی فوج میں رات کو گشت کیا کرتے اور فوج کی صورت حال کا براہ راست مشاہدہ کرتے۔

     ایک بار انہوں نے اپنے ایک کمانڈر کو اپنے کسی ماتحت کو اس بات پر ڈانتے ہوئے سنا کہ وہ اپنا فارغ وقت کتابوں کے مطالعے میں صرف کرتا تھا۔ ایوبی نے اسی ماتحت کو کمانڈر کی جگہ دی اور اس کمانڈر کو علم حاصل کرنے کے کورس پر بھیج دیا۔

     ایک مرتبہ بردہ فروشوں نے ایک عیسائی عورت کے بچے کو اغوا کر کے غلام بنا کر بیچ دیا۔ اس عورت نے اپنی فریاد ایوبی کے سامنے پیش کی۔ ایوبی نے اپنی ذاتی جیب سے اس بچے کو اس کے مالکان سے خرید کر عورت کے حوالے کیا اور متعلقہ افراد کو سزا دی۔

     ایوبی دو مرتبہ حسن بن صباح کے حشیشین کا شکار ہوتے ہوتے بچے۔ یہ ایک خود کش قاتل گروہ تھا جو معاوضے پر اہم ترین شخصیات کو قتل کرنے کا فریضہ انجام دیتا تھا۔ ان کے شکاروں میں سلجوقی سلاطین اور وزیر اعظم نظام الملک طوسی بھی شامل تھے۔ ایوبی نے اس قاتل گروہ کی سرکوبی کی بہت کوشش کی لیکن ان کا مکمل خاتمہ نہ کر سکے۔ ایوبی کی وفات کے بعد انہیں دمشق کی بنو امیہ کے مسجد کے باغ میں دفن کیا گیا۔

طریق زراعی اور طریق صحراوی

قلعہ دیکھنے کے بعد اب ہم شوبک سے آگے نکلے۔ اردن اور مصر میں شہروں کے درمیان دوہری سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ کچھ سڑکیں زرعی میدانوں سے گزرتی ہیں اور "طریق زراعی" کہلاتی ہیں جبکہ دوسری قسم کی سڑکیں صحراؤں سے گزرتی ہیں اور "طریق صحراوی" کہلاتی ہیں۔ صحرائی سڑکیں عموماً تیز ٹریفک کے لئے ہوتی ہیں۔

     میرا ارادہ زرعی روڈ سے جانے کا تھا۔ تھوڑی دور جا کر شوبک کی چھاؤنی آئی۔ ایک فوجی نے ہمیں روکا۔ میں سمجھا کہ شاید یہ کاغذات وغیرہ چیک کرنا چاہتے ہیں لیکن ان صاحب کو لفٹ درکار تھی۔ ہماری پچھلی سیٹ پر سامان بکھرا ہوا تھا۔ میں نے جلدی سے اسے سمیٹ کر انہیں یہاں بٹھا دیا۔

     اردن کے دیہی علاقوں میں لفٹ دینے اور لینے کا عام رواج ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ابھی تک ہمارے پاکستان کی طرح اسٹریٹ کرائمز عام نہیں ہوئے۔ لفٹ دینا ایک نہایت ہی اچھا عمل ہے۔ اس کے نتیجے میں لفٹ دینے والے کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن لینے والے کا بہت بڑا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ ہمارے یہاں جرائم پیشہ لوگوں نے لوٹ مار کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو اس سہولت سے بھی محروم کیا ہے جس کا جواب انہیں اپنے دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دینا پڑے گا۔

     ان فوجی صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ میں صحرائی روڈ سے کرک جاؤں۔ اس سے ایک گھنٹے کا سفر کم ہو جائے گا۔ پچیس کلومیٹر کے بعد "حسنیہ" کا قصبہ آیا۔ یہاں وہ صاحب اتر گئے اور ہمیں اپنے گھر چلنے کی بھرپور دعوت دی۔ ہم شکریہ ادا کر کے آگے چل پڑے۔

مستنصر حسین تارڑ اور مولانا وحید الدین خان

پچاس ساٹھ کلومیٹر کے بعد کرک کا ایگزٹ آیا۔ ہم لوگ اب صحرائی روڈ  سے دوبارہ زرعی روڈ پر آ گئے۔ تھوڑی دور جا کر آبادی آئی۔ یہاں ایک دکان پر رک کر ہم نے کافی اور کولڈ ڈرنکس لئے۔ جب کافی پی تو عجیب سا ذائقہ تھا۔ میری اہلیہ نے چکھ کر بتایا کہ یہ بکری کے دودھ کی کافی ہے۔ مجھے سفر نامہ نگاری کے اپنے استاد مستنصر حسین تارڑ یاد آ گئے جنہیں اندلس کے سفر کے دوران ایک ہوٹل میں بکری کی کافی ملی تھی اور انہوں نے اس پر بہت برا مانا تھا کیونکہ گجرات کا جٹ تارڑ کبھی اپنے دشمن کو بھی بکری کا دودھ پیش نہیں کرتا۔ میں تعلق بھی اگرچہ گجرات کے قریب ہی جہلم کے علاقے سے تھا لیکن میرے لئے بکری کا دودھ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی، چنانچہ کافی پی لی۔

     سفر نامہ لکھنے کے فن میں میرے دو روحانی استاد ہیں۔ ایک مستنصر حسین تارڑ اور دوسرے مولانا وحید الدین خان۔ ان دونوں حضرات سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کے سفر ناموں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ تارڑ صاحب کے سفر ناموں سے میں نے قدرتی مناظر کو بیان کرنے (Naturegraphy) اور مختلف کلچرز کے متنوع پہلوؤں کو دیکھ کر شگفتگی سے بیان کرنے کا فن سیکھا ہے۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کے سفر ناموں سے میں نے تذکیر اور نصیحت کا پہلو لیا ہے۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے واقعات سے مولانا عبرت اور سبق اخذ کرتے ہیں، وہ ان کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مولانا نہایت ہی سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں اور مزاح کو دوسرے درجے کی چیز سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں میرا طرز عمل ان سے مختلف ہے۔

جنگ موتہ کا مقام یا مقام جعفر

میں نے وہاں موجود دکاندار سے جنگ موتہ کے مقام کے متعلق پوچھا۔ پہلے تو وہ نہ سمجھے، لیکن جب میں نے سیدنا زید بن حارثہ، جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا تو وہ سمجھ گئے۔ کہنے لگے، "اچھا اچھا! آپ "مقام جعفر" کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ کہاں سے آئے ہیں؟" میں نے انہیں بتایا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں۔ وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے مجھے اس مقام کا راستہ بتا دیا۔

     دکان کے سامنے کوئی کالج تھا جس کی مسجد میں نماز ظہر ادا کرنے کے بعد ہم لوگ آگے بڑھے۔ جنگ موتہ کا مقام یہاں سے محض دس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ تھوڑی دیر میں ہم وہاں پہنچ گئے۔ یہاں قریب ہی ایک نہایت خوبصورت نیلے گنبد والی مسجد بنی ہوئی تھی۔

     جنگ موتہ ایک وسیع میدان میں ہوئی تھی۔ اب اگرچہ اس مقام پر آبادی ہو چکی تھی لیکن اس میدان کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ میدان میں شہداء موتہ کی قبریں تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کبھی ان قبروں پر بھی مزارات بنے ہوں گے۔ قریب ہی ایک چبوترے پر ایک تختی لگی ہوئی تھی جس میں شہداء موتہ کے نام لکھے گئے تھے۔ میدان کے بالکل سامنے "جامعہ موتہ" یعنی موتہ یونیورسٹی کا گیٹ تھا جو کہ اردن کی بڑی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔   ہم نے شہداء موتہ کی قبور پر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعلیم کردہ زیارت قبور کی دعا پڑھی۔ اس مقام اور گرد و نواح کی تصاویر بنائیں اور وہاں سے واپس چلے آئے۔

جنگ موتہ

جنگ موتہ اسلامی تاریخ میں ایک ایسی جنگ ہے جس کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اہل عرب پر اتمام حجت کے بعد، دوسرے ممالک کے بادشاہوں پر اتمام حجت کے لئے اپنے قاصدوں کے ذریعے خطوط ان ممالک کو بھیجے تھے۔ اس وقت موجودہ اردن کے علاقے پر غسانی بادشاہوں کی حکومت تھی جو قیصر روم کے ماتحت تھے۔ اہل کتاب ہونے کے باوجود اس بادشاہ نے سرکشی کا ثبوت دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قاصد کو شہید کر دیا۔ اس کی سزا دینے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تین ہزار کا ایک لشکر غسان کے بادشاہ کی طرف بھیجا تھا۔

     جب قیصر روم کو اس لشکر کی اطلاع ملی تو وہ ایک لاکھ کی فوج لے کر اپنے حلیفوں کی مدد کے لئے مقابلے پر آ گیا۔ بعض روایات کے مطابق قیصر کے لشکر کی تعداد دو لاکھ تھی۔ ایک یا دو لاکھ کے اس لشکر کے مقابلے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد صرف تین ہزار تھی جس کی قیادت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کر رہے تھے۔ دونوں لشکروں کا مقابلہ موتہ کے میدان میں ہوا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ہدایت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے کمان سنبھالی۔ آپ بھی کچھ دیر میں شہید ہو گئے۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کمانڈر بنے۔ آپ بھی دلیرانہ طریقے سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ہدایت کے مطابق عام مسلمانوں کی رائے کے مطابق سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کمانڈر مقرر کیا گیا۔

     سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ایمان لائے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ اپنی اعلی درجے کی حربی مہارت کے باعث حالت کفر میں آپ جنگ احد میں مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچا چکے تھے۔ آپ نے نئی حکمت عملی ترتیب دی۔ شام ہو رہی تھی۔ آپ یہ محسوس کر چکے تھے کہ طاقت کے اس عظیم فرق کے باعث یہ جنگ جیتنا ناممکن ہے۔ آپ نے افواج کو پیچھے ہٹا کر انہیں نئے سرے سے منظم کیا۔ کچھ سپاہیوں کو پیچھے بھیج کر انہیں دوبارہ نعرے لگاتے ہوئے آنے کو کہا۔ اس سے قیصر کی افواج یہ سمجھیں کہ مسلمانوں کو نئی کمک میسر آ گئی ہے۔ وہ بھی پیچھے ہٹ گئے۔ اس جنگ میں سیدنا خالد کے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹیں۔

     سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو نہایت مہارت سے بچایا اور میدان جنگ چھوڑ دیا۔ آپ کی اس حکمت عملی سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ اگر طاقت کے تناسب میں فرق بہت زیادہ ہو تو اپنی طاقت کو محفوظ کر لینا ہی سب سے اچھی حکمت عملی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے بھی یہ شرط رکھی تھی کہ جنگ کے دوران ان کی طاقت کا تناسب دشمن کی طاقت کے مقابلے میں کم از کم نصف ضرور ہونا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، "اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہیں تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار آدمی صابر ہیں تو وہ دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آّئیں گے۔" (الانفال 8:66)

     ہمارے ان لیڈروں کو بھی اس سے سبق سیکھنا چاہیے جو طاقت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو جنگ پر اکساتے رہتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ایک اور ایک لاکھ کے تناسب پر بھی میدان جنگ میں کود جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بہت سے اپنی اولاد کو میدان جنگ سے دور رکھتے ہیں اور دوسروں کی اولادوں کو میدان جنگ میں جھونکتے رہتے ہیں۔

جنگ موتہ کا مقام

شہدا موتہ کی قبریں

     اس جنگ میں اگرچہ مسلمانوں کو فتح نہ ہو سکی لیکن اردگرد کے علاقے کے لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ وقت کی سپر پاور کی ایک یا دو لاکھ کی فوج، تین ہزار مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو ان کے دل سے قیصر کا رعب جاتا رہا۔ اس کے ڈیڑھ برس بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تبوک پر یلغار کی تو کوئی بھی آپ کے مقابلے پر نہ آیا اور اس علاقے کے تمام حکمرانوں نے جزیہ قبول کر کے اسلامی حکومت کے تحت رہنے کو اختیار کر لیا۔

     اس موقع پر یہ بھی اچھا ہے کہ میں ان جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تعارف کرواتا چلوں جنہوں نے اس جنگ میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔ ہمارے لوگ خلفاء راشدین اور مشہور صحابہ کے کارناموں سے تو واقف ہوتے ہیں لیکن ان نسبتاً غیر معروف صحابہ سے زیادہ واقف نہیں۔

سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے۔ آپ کو بچپن میں اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔ کئی ہاتھوں سے بکتے ہوئے آپ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ اس دوران آپ کے والد کو بھی آپ کی خبر پہنچ گئی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو منہ مانگی رقم کی آفر کر دی۔ آپ نے فرمایا، "اگر زید تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میں کوئی رقم نہ لوں گا۔" زید نے اپنے والدین کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا برتاؤ اپنے ملازموں کے ساتھ بھی کیسا ہوتا ہوگا۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔

     جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو سیدنا ابوبکر، علی اور خدیجہ رضی اللہ عنہم کے بعد آپ چوتھے شخص تھے جو ایمان لائے۔ طائف کے سفر میں زید حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب وہاں کے اوباشوں نے آپ پر سنگ باری کی تو زید نے یہ پتھر اپنے جسم پر روکے۔

     حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن زینب رضی اللہ عنہا سے کر دی تھی۔ ان میں نباہ نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی۔ دور جاہلیت کی یہ رسم تھی کہ منہ بولے بیٹوں کا معاملہ سگی اولاد کی طرح کیا جاتا اور ان کی طلاق یافتہ بیویوں سے نکاح حرام سمجھا جاتا۔ اس رسم کے بہت سے سنگین معاشرتی نتائج نکل رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ زینب سے شادی کر لیں تاکہ اس رسم کا خاتمہ ہو۔ اسی تناظر میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا ذکر سورۃ احزاب میں آیا ہے۔ جنگ موتہ میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ مسلم افواج کے کمانڈر تھے۔ آپ نے بہادی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضور کے کزن تھے۔ آپ اور آپ کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سابقون الاولون میں شامل ہیں۔ جب کفار کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو ان میاں بیوی نے حبشہ کی طرف ہجرت کی جس کی تفصیلات میں پہلے حصے میں بیان کر چکا ہوں۔ کفار نے نجاشی سے ان مہاجرین کی واپسی کی بات کی جسے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ناکام بنا دیا۔ آّپ کی حیثیت حبشہ کی مسلم کمیونٹی کے سربراہ کی سی تھی۔

     فتح خیبر کے فوراً بعد سات ہجری میں آپ حبشہ سے مدینہ آ گئے۔ اس موقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ آپ نے فرمایا، "مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے فتح خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کے واپس آنے کی۔" آپ نے اس موقع پر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کو دو ہجرتوں کے اجر کی خوشخبری دی۔ جنگ موتہ میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا جعفر کو سیدنا زید کا نائب بنایا تھا۔

     جب حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اسلامی فوج کا جھنڈا گرنے سے قبل ہی سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے تھام لیا۔ دشمن نے آپ کے دونوں بازو یکے بعد دیگرے شہید کر دیے لیکن انہوں نے جھنڈا نہ چھوڑا اور لشکر کی کمان کرتے رہے۔ بالآخر آپ شہید ہو گئے۔ اس جنگ کی تفصیلات اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بذریعہ وحی بتا دی تھیں اور آپ نے اس پورے واقعے کو اہل مدینہ کو سنایا۔ اس کے بعد آپ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ ان کے بچوں کو پیار کیا اور یہ اندوہ ناک خبر آپ کے اہل و عیال کو سنائی۔ ان کے خاندان کی بعض عورتیں زور زور سے رو رہی تھیں جس پر حضور نے انہیں سختی سے منع فرمایا۔

     اس جنگ میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو نوے کے قریب زخم آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "کئے ہوئے بازوؤں کے بدلے جعفر کو جنت میں دو پر عطا ہوئے ہیں۔" اسی سبب سے آپ کا لقب جعفر طیار مشہور ہوا۔ آپ کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد، آپ کے اہل و عیال کی کفالت کی غرض سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیوہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی۔ آپ کے بچوں میں سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے تاریخ میں شہرت پائی۔ آپ اپنی سخاوت کے لئے مشہور تھے۔ جب آپ فوت ہوئے تو اہل مدینہ کے غرباء میں کہرام مچ گیا۔

سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ

جنگ موتہ کے تیسرے قائد سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ انصار میں سے تھے۔ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے متعدد مرتبہ اپنی عدم موجودگی میں آپ کو اہل مدینہ کا حاکم مقرر فرمایا۔ آپ دور جاہلیت میں اہل عرب کے چوٹی کے شعراء میں شمار ہوتے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی شاعری دین اسلام کے لئے وقف ہو گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آپ کے شعر بہت پسند تھے اور آپ کئی مرتبہ ان اشعار کو پڑھا کرتے تھے۔

     سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دعوت دین میں بہت سرگرم تھے۔ انصار کے بہت سے لوگ آپ کی دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں ایمان لائے جن میں سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر لوگ بھی شامل ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عبداللہ کے دعوتی اجتماعات کو ایسے اجتماعات قرار دیا جن پر فرشتے بھی فخر کرتے ہیں۔

     جنگ موتہ کے لئے روانہ ہونے سے قبل عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا، "یا رسول اللہ! عین ممکن ہے کہ میں آپ سے دوبارہ نہ مل سکوں۔ مجھے نصیحت فرمائیے۔" آپ نے فرمایا، "عبداللہ! تم ایسی سرزمین پر جا رہے ہو جہاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے والے کم ہی ہیں۔ جس قدر سجدے ممکن ہو سکیں، کرنا۔ اللہ کو کثرت سے یاد رکھنا، کیونکہ وہی مدد کرنے والا ہے اور تمہیں ہمیشہ اس کی مدد کی ضرورت ہو گی۔ اگر تم یہ محسوس کرو کہ تمہارے اعمال اچھے نہیں، تو ان خیالات کی وجہ سے شیطان کی جانب سے دین اور عبادت سے دور کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دینا۔ اگر تمہیں اپنے دس گناہ یاد ہوں تو عبادت کر کے (اور توبہ کی مدد سے) انہیں نو کرنے کی کوشش کرنا۔ اپنے اعمال کو مزید برا کرنے کی بجائے اس موقع کو اپنی اصلاح کے لئے استعمال کرنا۔"

     رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس حدیث کو مدنظر رکھا جائے تو انسان اس مایوسی سے بچ سکتا ہے جو گناہوں کے نتیجے میں شیطان پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اب میں گناہ تو کر ہی چکا، میں بہت برا تو ہو ہی چکا، کیوں نہ مزید گناہ کروں۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسی کیفیت سے نکل کر توبہ اور عبادت کرنے کی تلقین سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو فرمائی۔

     آپ ایک مرتبہ بے ہوش ہو کر پڑے جس پر آپ کی بہن رو رو کر بین کرنے لگیں اور آپ کے فضائل بیان کرنے لگیں۔ جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے انہیں فرمایا، "مجھ سے پوچھا جا رہا تھا کہ کیا تم ایسے ہی ہو؟"

جنگ موتہ میں آپ سیدنا زید اور جعفر رضی اللہ عنہما کے بعد بے جگری سے لڑے اور جام شہادت نوش فرمایا۔ اس موقع پر آپ کی نصیحت کے مطابق آپ کی بہن نے کوئی بین نہ کیا۔

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

جنگ موتہ کے چوتھے قائد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں جن کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ 592ء میں پیدا ہوئے۔ آپ قریش کے مشہور اسلام دشمن لیڈر ولید بن مغیرہ کے بیٹے تھے۔ اسلام دشمنی آپ کو ورثے میں ملی تھی لیکن اپنی سعید فطرت کے باعث اسلام کے پیغام پر غور کرتے رہے اور بالآخر آپ نے جنگ موتہ سے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کر لیا۔ اپنی جنگی حکمت عملی کے باعث جنگ موتہ میں آپ نے اسلامی لشکر کو تباہی سے بچا لیا۔

     آپ کی جنگی مہارت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کامیاب مسلم جرنیلوں کی ایک فہرست بنائی جائے تو بلا کسی تعصب اور جانب داری کے، آپ کا نام پہلے نمبر پر ہو گا۔ تاریخ عالم میں آپ کا موازنہ سکندر، چنگیز خان، تیمور اور نپولین سے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان فاتحین اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ میں فرق یہ ہے کہ ان فاتحین کی جنگیں لالچ یا قوم پرستی کے جذبے کے تحت لڑی گئی تھیں جبکہ سیدنا خالد کی تمام جنگیں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے لڑی گئی تھیں۔ یہ فاتحین اپنے ظلم و ستم کے لئے مشہور ہیں لیکن سیدنا خالد سے کوئی ظلم منسوب نہیں۔

     جنگ موتہ کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خالد کو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کو جھٹلانے کی پاداش میں دنیا کے متمدن حصے کے حکمرانوں کو مغلوبی کی جو سزا دی تھی، اس کے بڑے حصے پر عمل درآمد سیدنا خالد کے ہاتھوں سے ہوا۔ اسی کے باعث آپ کو اللہ کی تلوار کہا گیا ہے۔

     جنگ موتہ کے چند ماہ بعد مکہ فتح ہوا جس میں سیدنا خالد کا کردار کلیدی تھا۔ تبوک کی لشکر کشی کے بعد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ کو دومۃ الجندل کی فتح کے لئے بھیجا جہاں کے حکمران نے لڑے بغیر صلح کر لی۔ 630ء کا پورا عشرہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی فتوحات کا عشرہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں تمام اہم معرکوں میں آپ قائد کی حیثیت شریک رہے۔ مسیلمہ کذاب اور منکرین زکوۃ کے خلاف جنگ کے سالار آپ ہی تھے۔

     مرتدین کی سرکوبی کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ عرصے کے لئے آپ کو فتح ایران کے لئے بھیجا۔ کئی معرکوں میں آپ نے کامیابی حاصل کی لیکن اس کے بعد شام میں آپ کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے پر آپ کو شام کے محاذ پر بھیج دیا گیا۔ موجودہ اردن اس دور میں شام ہی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس پورے علاقے کی فتح سیدنا خالد کے ہاتھوں ہی ہوئی۔

     مسلمانوں میں یہ تاثر عام ہو چکا تھا کہ خالد بن ولید کی شرکت ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو سپہ سالاری سے ہٹا دیا۔ اس واقع کو بعض متعصب مورخین نے کچھ اور رنگ دیا لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے سیدنا عمر رضی اللہ  عنہ سے تعلقات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد بھی ہر معرکے کے عملی قائد خالد ہی تھے۔ اپنی وفات کے وقت آپ نے اپنی وصیت میں اپنی جائیداد کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں تقسیم کیے جانے کی وصیت کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خالد رضی اللہ عنہ کو ہرگز معزول نہیں کیا تھا بلکہ ان کی جذباتیت کو کنٹرول کرنے کے لئے ان کے اوپر امین الامت سیدنا ابوعبیدہ  رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا تھا۔ بعد کے تمام معرکوں میں  خالد ہی کمانڈر ہوتے تھے البتہ آخری فیصلہ ابوعبیدہ کیا کرتے تھے۔

     شام کی فتح میں فیصلہ کن کردار جنگ یرموک کو حاصل ہے۔ یہ معرکہ موجودہ اردن کے شمالی حصے میں ہوا۔ یہ علاقہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب ہے۔ مسلم فوج تھکن سے چور تھی اور اسے آرام کی ضرورت تھی۔ اس موقع پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے صرف ساٹھ جانثاروں کے ساتھ پورا دن رومی فوج کے ساٹھ ہزار لشکر کو الجھائے رکھا اور پوری مسلم فوج آرام کرتی رہی۔ پانچ دن کی جنگ کے بعد جنگ مسلم فوج نے جیت لی۔ اسلامی فوج کے سپریم کمانڈر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس فتح کا سارا کریڈٹ خالد کو دیا۔ اس جنگ کی تفصیلات کو وکی پیڈیا کے مقالہ نگاروں نے نقشو ں کی مدد سے نہایت ہی خوبی سے بیان کیا ہے۔ اگر آپ ان تفصیلات سے سے دلچسپی رکھتے ہیں تو اس لنک پر کلک کیجیے۔

 http://en.wikipedia.org/wiki/Battle_of_Yarmouk

     اس کے بعد دمشق فتح کرنا زیادہ مشکل ثابت نہ ہوا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسی کے قریب جنگوں میں حصہ لیا اور کسی میں بھی ناکام نہ ہوئے۔ وقت کی دو سپر پاورز ایران اور روم کی فتح میں آپ کا کردار کلیدی رہا۔ آپ نے شام کی فتح کے بعد 642ء میں حمص ہی میں وفات پائی۔ آپ کو آخری دم تک یہ دکھ تھا کہ میدان جنگ میں شہادت کی بجائے آپ کی موت بستر پر واقع ہو رہی ہے۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔

کرک کا قلعہ اور رینالڈ دی شاٹلن

ان عظیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں یہ چند حقیر سے کلمات پیش کرنے کے بعد اب ہم واپس اپنے سفر پر آتے ہیں۔ جنگ موتہ کے مقام سے رخصت ہونے کے بعد ہم واپس کرک روڈ پر آئے اور کرک شہر کی طرف ہو لئے۔ کرک شہر چند پہاڑیوں پر آباد ہے۔ دور سے پہاڑی کی چوٹی پر واقع کرک کا قلعہ نظر آ رہا تھا۔

     شوبک کے قلعے کی طرح یہ قلعہ بھی صلیبی فاتحین کا تعمیر کردہ ہے جو بعد میں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں فتح ہوا۔ کرک کا قلعہ موٹی موٹی دیواروں پر مشتمل ہے۔ قلعہ قدیم دور کے کرک شہر سے کچھ فاصلے پر تھا۔ شہر کے لوگ خطرے کے وقت قلعے میں پناہ لیتے۔ قلعے کے دو درجے ہیں۔ اوپر والا حصہ صلیبی حکمرانوں کا تعمیر کردہ ہے جبکہ نچلا حصہ بعد میں مملوک سلاطین کے دور کا تعمیر کیا ہوا ہے۔ آپ کو ترتیب کچھ الٹ لگ رہی ہو گی لیکن یہ معاملہ ایسا ہی ہے۔ چونکہ قلعہ پہاڑی پر واقع ہے، اس لئے ایسا کرنا ممکن تھا۔

     یہ قلعہ 1142ء میں تعمیر کیا گیا اور اپنے وقت میں ناقابل تسخیر سمجھا جاتا رہا۔ سلطان نور الدین زنگی نے اسے فتح کرنے کی کافی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ کرک کے قلعے پر صلیبی جنگوں کا مشہور ہیرو رینالڈ دی شاٹلن قابض تھا۔ یہ یروشلم کے صلیبی بادشاہ بالڈون چہارم کا نائٹ (Knight) تھا۔ یہ شخص نہایت ہی ظالم اور دغا باز تھا۔

کرک کا قلعہ

     اس شخص نے متعدد مرتبہ صلاح الدین ایوبی سے معاہدے کیے لیکن ہر بار انہیں توڑ دیا۔ اس نے قزاقوں اور ڈاکوؤں کا ایک گروہ بنایا اور تجارتی قافلوں پر حملے کرنے لگا۔ دمشق سے قاہرہ جانے والی شاہراہ جو کرک کے قریب سے ہی گزرتی تھی، رینالڈ کے حملوں سے محفوظ نہ رہی۔ جب صلاح الدین ایوبی نے اس کی شکایت بالڈون سے کی تو بالڈون نے جواب دیا، "میں خود اس شخص سے بہت تنگ ہوں، یہ میرے اختیار میں نہیں۔" رینالڈ نے بحری قزاقوں کا ایک گروہ بنایا جس کے ذریعے اس نے سمندر میں بھی لوٹ مار شروع کی۔ وہ اس گروہ کے ذریعے مکہ اور مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس گروہ کو ایوبی کے بھائی عادل نے شکست دے کر گرفتار کیا۔

     صلاح الدین نے 1187ء میں کرک کا قلعہ فتح کیا۔ رینالڈ کو اس کی بدعہدیوں کے باعث ایوبی نے اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ بعض مسیحی مورخین رینالڈ کو اپنے شہید کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن ان کے انصاف پسند مورخین اسے ایک ظالم ڈاکو ہی سمجھتے ہیں۔

پہاڑ سے ڈیڈ سی کا نظارہ

یہاں رک کر میں نے چند لوگوں سے "بحر میت" یعنی ڈیڈ سی کا راستہ دریافت کیا اور اب ہم ڈیڈ سی طرف ہو لئے۔ سڑک اب پہاڑوں پر گھومتی ہوئی اوپر جا رہی تھی۔ میرے لئے پہاڑی سڑک پر گاڑی چلانا ایک بہترین تفریح کی حیثیت رکھتا ہے۔ تھوڑی سی پہاڑی ڈرائیونگ نے مجھے ذہنی طور پر فریش کر دیا۔ چند ہی منٹ میں ہم چوٹی پر جا پہنچے۔ چوٹی سے پہاڑ کی دوسری طرف نظر پڑی تو ڈیڈ سی ہمارے سامنے تھا۔

     سامنے فلسطین کے پہاڑ نظر آ رہے تھے۔ ماحول پر کچھ دھند سی چھائی ہوئی تھی۔ پھر بھی سبز و سیاہ پہاڑوں کے درمیان ڈیڈ سی کا نیلگوں پانی اچھا لگ رہا تھا۔ میں نے یہاں گاڑی روک کر فطرت کے اس نظارے کی کچھ تصاویر بنائیں۔ پہاڑ کی اس چوٹی پر ہم سطح سمندر سے لگ بھگ تین ہزار فٹ کی بلندی پر تھے۔ یہاں سے ڈیڈ سی پر پہنچنے کے لئے ہمیں پہاڑ کی جڑ تک پہنچنا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے لئے ہمیں تین ہزار نہیں بلکہ چار ہزار فٹ کی گہرائی میں اترنا تھا۔

روئے زمین پر سب سے زیادہ نشیبی علاقہ

ڈیڈ سی اور اس کے اطراف کا علاقہ، پانی اور برف سے باہر روئے زمین کا سب سے نشیبی علاقہ ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی -1100 فٹ ہے۔ اسی منفی گیارہ سو کا مطلب یہ ہے کہ یہ علاقہ سطح سمندر سے گیارہ سو فٹ کی گہرائی میں واقع ہے۔ زمین پر اس سے نیچا مقام تو پھر سمندر کی تہہ ہی ہو سکتی ہے۔ ماہرین ارضیات (Geologists) کا خیال ہے کہ تیس لاکھ سال قبل یہ مقام بحیرہ احمر کا حصہ تھا۔ بیس لاکھ سال قبل یہ علاقہ اونچا ہونا شروع ہوا جس کے باعث ڈیڈ سی، ریڈ سی سے کٹ کر رہ گیا۔ ڈیڈ سی میں تمام تر پانی دریائے اردن کے ذریعے آتا ہے۔ اس کے علاوہ چند چھوٹے موٹے چشمے پہاڑوں سے آ کر اس میں گرتے ہیں۔

     اب ہم نیچے اترنے لگے۔ سڑک کے کنارے متعدد بورڈ لگے تھے، جن میں گاڑی کو بھاری گیئر میں رکھنے کی تلقین کی گئی تھی۔ مسلسل اترائی کے وقت گاڑی کو بھاری گیئر میں رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ بریکوں استعمال کم سے کم کیا جائے۔ اگر اترائی پر بریکوں کو بہت زیادہ استعمال کیا جائے تو اس کے نتیجے میں یہ جام ہو کام کرنا چھوڑ سکتی ہیں، جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلتا کہ یا تو پہاڑ سے ٹکرا کر گاڑی کو روکا جائے یا پھر اسے کسی کھائی میں گرنے دیا جائے۔ یہ دونوں صورتیں ہمارے لئے قابل قبول نہ تھیں، چنانچہ میں نے گاڑی کو L گیئر میں ڈالا اور پاؤں کو ایکسیلیریٹر سے ہٹا لیا۔ اب گاڑی کشش ثقل کے تحت نیچے جا رہی تھی اور بھاری گیئر اسے سنبھالے ہوئے تھے۔ اب میرے دونوں پاؤں آزاد تھے۔ صرف چند موڑوں پر مجھے بریک کا استعمال کرنا پڑا ورنہ ہم لوگ آسانی سے اس فری فال کو انجوائے کر رہے تھے۔

     جیسے ہی ہم نیچے پہنچے، ایک چیک پوسٹ نے ہمارا استقبال کیا۔ اب ہم عقبہ سے ڈیڈ سی آنے والی سڑک پر تھے۔ چیک پوسٹ پر تعینات اردنی فوجی نے ہم سے پاسپورٹ مانگے۔ پاکستانی پاسپورٹ دیکھ کر وہ چونکا اور بولا، "آپ پاکستانی ہیں؟" میں سمجھا کہ تفتیش کا ایک طویل سلسلہ شروع ہونے کو ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو مسکرا کر بولا، “Welcome to Jordan”۔ پورے اردن میں یہی معمول رہا۔ ہم جب بھی کسی چیک پوسٹ پر رکتے، فوجی ہمارے پاسپورٹ دیکھ کر چونکتے، پاکستانی ہونا کنفرم کرتے اور ویلکم تو جارڈن یا مرحبا بالاردن کے الفاظ ضرور کہتے۔ اس سے ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ اہل اردن پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ خوش فہمی درست تھی۔

پہاڑ کی چوٹی سے ڈیڈ سی کا نظارہ

نمک کی جھیلیں

ہم جس مقام پر پہاڑوں سے نازل ہوئے تھے، وہ ڈیڈ سی اور اس کے جنوب میں واقع نمک کی جھیلوں کے بالکل درمیان واقع تھا۔ ڈیڈ سی کے جنوب میں نمک کی جھیلیں واقع ہیں۔ یہ مصنوعی جھیلیں ہیں جن میں ڈیڈ سی سے نہر نکال کر پانی لایا گیا ہے۔ اس پانی کو خشک کر کے اعلی درجے کا نمک اور دوسرے کیمیکل حاصل کئے جاتے ہیں۔ ڈیڈ سی کے بیچوں بیچ اردن اور اسرائیل کی سرحد ہے۔ یہ سرحد نمک کی جھیلوں سے بھی اسی طرح گزرتی ہے۔ سرحد کے دونوں جانب یہ جھیلیں واقع ہیں۔ انہی کیمیکلز پر اردن کی معیشت کا انحصار ہے۔

بئر سبع (Beersheba) اور الخلیل (Hebron)

ہمارے بالکل سامنے فلسطین کا علاقہ جن میں بئر سبع (Beersheba) کا شہر واقع تھا۔ اس شہر کے شمال میں تھوڑے فاصلے پر حبرون (Hebron) کا شہر واقع ہے جو عربی میں الخلیل کہتا ہے۔ میں گوگل ارتھ پر اس سارے علاقے کو تفصیل سے دیکھ چکا تھا، اس لئے ان مقامات کی درست لوکیشن سے واقف تھا۔ تل ابیب یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق کے مطابق یہ علاقہ چھ ہزار سال سے آباد ہے۔

     ان دونوں شہروں کو انبیاء کرام  کی تاریخ میں خاص الخاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان شہروں کو اللہ کے خلیل، سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی دعوت توحید کا مرکز بنایا تھا۔ آپ نے بئر سبع کے علاقے میں قربان گاہ تعمیر فرمائی تھی اور مصر سے واپسی پر آپ نے حبرون میں زمین خرید کر یہاں قیام فرمایا تھا۔ حبرون کو عربی میں سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسالم کی مناسب سے ہی "الخلیل" کہا جاتا ہے۔ یہاں پر ایک مسجد بھی ہے جو عربی میں "الحرم الابراہیمی" کے نام سے مشہور ہے۔ یہیں پر وہ مشہور غار ہے جسے باپ کی غار (Cave of Patriarchs) کہا جاتا ہے۔ بائبل کے مطابق سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ سارہ رضی اللہ عنہا کو یہاں دفن کیا تھا۔ اس کے بعد سیدنا ابراہیم، اسحاق،  یعقوب علیہم الصلوۃ والسلام بھی یہیں دفن ہوئے۔ سیدنا اسحاق و یعقوب کی بیویاں ربقہ اور راحل رضی اللہ عنہما بھی یہیں دفن ہیں۔ روایت ہے کہ سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی میت کو بھی مصر سے یہاں لا کر دفن کیا گیا۔

     یہ مقامات اردن کا حصہ تھے لیکن 1967ء کی جنگ کے نتیجے میں یہ اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں ان مقامات پر نہیں جا سکا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ یہ مقامات اب اسرائیل میں واقع ہیں اور پاکستانی، سعودی، اردنی اور اسرائیلی قوانین کے مطابق اسرائیل میں میرا داخلہ ممنوع تھا۔

سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام

سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات طیبہ اللہ تعالیٰ کے لئے تسلیم و رضا کا اعلی ترین نمونہ ہے۔ آپ دجلہ و فرات کے درمیان واقع عراق کے شہر "اُر" کے رہنے والے تھے۔ آپ کو خداوند واحد کی توحید کا علم بلند کرنے کی پاداش میں نمرود نے آگ میں ڈال دیا تھا۔ اس کے بعد نمرود پر اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب نازل ہوا اور اللہ کے رسول کے مقابلے پر کھڑے ہونے کے جرم میں اسے ہلاک کر دیا گیا۔

     اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام عراق سے ہجرت فرما کر پہلے موجودہ شام میں واقع شہر حاران تشریف لے گئے اور اس کے بعد ارض فلسطین میں تشریف لائے۔ آپ نے بیت ایل (یروشلم)، حبرون اور بئر سبع کے علاقوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے مراکز قائم کیے جنہیں بائبل میں قربان گاہ کہا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ مصر تشریف لے گئے جہاں کے بادشاہ نے آپ کے دینی دعوت سے متاثر ہو کر آپ کی خدمت میں مال و اسباب اور جانور پیش کیے۔ مصر سے واپسی پر آپ دوبارہ فلسطین کے علاقے میں پہنچے۔ ان تمام سفروں میں سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے ہمراہ تھے۔

     اسی دور میں اللہ تعالی کے حکم سے تمام مردوں کا ختنہ کیا گیا۔ اگرچہ اہل مغرب نے اس سنت ابراہیمی اور فطری عمل کو کافی عرصہ ترک کیے رکھا لیکن اب جدید تحقیقات کے نتیجے میں یہ لوگ بھی دوبارہ ختنہ کو اپنا رہے ہیں۔ جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ختنہ ایڈز سے بچاؤ کی نہایت ہی موثر تدبیر ہے۔

اولاد ابراہیم اور اللہ تعالی کی جزا و سزا کا قانون

یہاں آپ نے دریائے اردن اور ڈیڈ سی کے مشرق میں سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام کو آباد ہونے کا حکم دیا اور خود ڈیڈ سی کے مغرب میں حبرون کے مقام پر رہائش اختیار کی جہاں آپ نے اللہ تعالیٰ کے لئے قربان گاہ قائم فرمائی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا:

"جس جگہ تم ٹھہرے ہوئے ہو، وہاں سے اپنی نگاہ اٹھا کر شمال و جنوب اور مشرق و مغرب کی طرف نظر دوڑاؤ۔ یہ سارا ملک جو تم دیکھ رہے ہو، اسے میں تمہیں اور تمہاری نسل کو ہمیشہ کے لئے دوں گا۔ میں تمہاری نسل کو خاک کے ذروں کے مانند بناؤں گا۔ اگر کوئی شخص خاک کے ذروں کو گن سکے تو وہ تمہاری نسل کو بھی گن سکے گا۔ جاؤ اور اس ملک کے طول و عرض میں (اللہ کے دین کی دعوت پھیلانے کے لئے) گھومو کیونکہ میں اسے تمہیں دے رہا ہوں۔" (کتاب پیدائش 13:15-17)

بائبل کی ان آیات سے بنی اسرائیل نے ایک غلط معنی اخذ کیا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ملک ہمیں اولاد ابراہیم ہونے کے ناطے عطا کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَإِذْ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ. یاد کرو جب اللہ نے ابراہیم کو چند باتوں سے آزمایا اور وہ ان میں پورا اترے، تو اس نے کہا، "میں تمہیں انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔" ابراہیم نے عرض کیا، "اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟" فرمایا، "میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔" (البقرۃ 2:124)

اللہ تعالیٰ کا دنیا میں عروج دینے کا وعدہ صرف اولاد ابراہیم کے صرف ان لوگوں سے تھا جنہوں نے ابراہیم کی پیروی میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی۔ بائبل کے مصنفین نے اللہ تعالیٰ کے ان رسولوں کی زندگیوں کے بعض پہلوؤں پر روشنی تو ڈالی ہے لیکن ان کی سیرت کے اہم ترین حصے یعنی ان کی دعوتی سرگرمیوں اور طریق ہائے کار پر زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

     اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اس نے انسان کو پیدا کیا۔ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں اللہ تعالیٰ انسان سے اس کی دنیاوی زندگی کے اعمال کا حساب لے گا۔ نیک اعمال والوں کے لئے جنت ہے اور بروں کے لئے جہنم۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کے دین کے بنیادی مقدمات جنہیں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس بات کی یاد دہانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی بھیجے جو دلائل اور براہین کی مدد سے اس بات کو یاد دلاتے رہے۔

     عام انبیاء کرام کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور غیر معمولی انتظام کیا اور وہ یہ تھا کہ انہی انبیاء میں سے کچھ کو منصب رسالت پر فائز کیا۔ یہ رسول زمین پر اللہ کی حجت بن کر آئے اور وہ قیامت جو پوری نسل انسانیت کے لئے ایک خاص وقت پر لگے گی، ان کی قوموں کے لئے دنیاوی زندگی میں لگا دی گئی۔ اگر کسی قوم نے اپنے رسول کی پیروی کی تو اسے دنیا میں سرفراز کر دیا گیا۔ اس کی مثال سیدنا یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم ہے۔ دوسری طرف اگر کسی قوم نے رسول کے سامنے سرکشی دکھائی تو اسے دنیا میں سزا دے دی گئی۔ یہ آسمانی عدالت اور قیامت صغریٰ سیدنا نوح، ھود، صالح، شعیب، لوط اور ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اقوام کے لئے لگی تھی اور ان کی اقوام کو اس دنیا ہی میں سزا دے کر تباہ و برباد کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے اس انتظام کو قرآن مجید میں دینونت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

     سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے تک شخصی دینونت کا دور ہوا کرتا تھا۔ اللہ کا ایک رسول اپنی قوم کے سامنے آتا۔ رسول کو ماننے کی صورت میں قوم کو دنیا ہی میں کامیاب و کامران کر دیا جاتا اور نہ ماننے کی صورت میں دنیا ہی میں عذاب آتا۔ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دینونت کا دور شروع فرمایا۔

     اب اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کا انتخاب کر لیا۔ یہ قوم سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد تھی۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں آخرت کی جزا و سزا کا جیتا جاگتا نمونہ بنا دیا۔ جب جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، انہیں دنیا ہی میں اس کا اجر سرفرازی کی صورت میں مل گیا۔ اور جیسے ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، انہیں دنیا ہی میں ذلت، نامرادی، مغلوبی اور آپس کے قتل و غارت کی صورت میں سزا دی گئی۔

     یہ معاملہ اللہ تعالیٰ نے دو ادوار میں کیا۔ پہلے دور میں اولاد ابراہیم کی ایک شاخ بنی اسرائیل کو منتخب کیا گیا اور بائبل میں کیے گئے اس وعدے کے مطابق انہیں دریائے فرات سے لے کر دریائے نیل تک کے علاقے پر حکومت دی گئی۔ اس علاقے میں اس دور کی تمام اقوام قینی، قنیزی، قدمونی، حتی، فرزی، رفائیم، اموری، کنعانی، جرجاسی اور یبوسی بنی اسرائیل کے ماتحت کر دیے گئے (کتاب پیدائش 15:21)۔ بنی اسرائیل کے ساتھ جزا و سزا کا یہ معاملہ چلتا رہا۔ ان کی سرکشی کے نتیجے میں ان پر پہلے نبوکد نضر اور پھر ٹائٹس جیسے فاتحین کی شکل میں عذاب آیا۔ جب ان کی سرکشی اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار کیا تو پھر قیامت تک کے لئے ذلت اور عیسی علیہ الصلوۃ والسلام  کے پیروکاروں کے ماتحت رہنے کا عذاب ان پر مسلط کر دیا گیا۔

     سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بیٹے اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کو عرب کا ملک دیا گیا۔ ان کی دینونت کا دور محمد رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہوا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی تو چند سال میں بلوچستان سے لے کر سپین تک کا علاقہ ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو پھر ان پر اللہ کے عذاب کا پہلا کوڑا آپس کی جنگوں کی صورت میں برسا اور پھر تاتاریوں، صلیبیوں اور بالآخر ان کے اپنے بھائیوں یعنی بنی اسرائیل کے یہودیوں کے ہاتھوں انہیں سزا دی گئی۔ مستقبل میں معلوم نہیں کہ اولاد ابراہیم کی ان دونوں شاخوں یعنی بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کو ان کی نیکیوں پر کیا اجر ملے گا اور ان کے اجتماعی گناہوں کی کیا سزا انہیں اسی دنیا میں دی جائے گی۔

     اولاد ابراہیم کی اس تاریخ کا مقصد دوسری تمام اقوام کے لئے آخرت کی جزا و سزا کا ایک نمونہ بنا دینا تھا تاکہ پوری نسل انسانیت اولاد ابراہیم سے سبق حاصل کرے کہ جو کچھ ان کے ساتھ اجتماعی حیثیت میں اس دنیا میں ہوا، وہی کچھ ہم سب کے ساتھ انفرادی حیثیت میں آخرت میں عنقریب ہونے ہی والا ہے۔

ڈیڈ سی روڈ

فلسطینی علاقے کو دیکھتے ہوئے اور اولاد ابراہیم کی تاریخ کا عبرت آموز تذکرہ کرتے ہوئے ہم شمال کی جانب روانہ ہوئے۔ اب ہم ڈیڈ سی روڈ پر سفر کر رہے تھے۔ یہ سڑک ڈیڈ سی کے مشرقی کنارے پر بنائی گئی ہے۔ ایسی ہی ایک سڑک اس کے مغربی کنارے پر اسرائیل میں موجود ہے۔ سعودی عرب سے فل کروائی گئی پیٹرول کی ٹنکی اب نصف سے بھی کم رہ گئی تھی چنانچہ ہم نے گاڑی روک کر سعودی عرب کے پیٹرول کی کین کو ٹنکی میں انڈیلنا شروع کیا۔ "کپی" کے بغیر یہ کافی مشکل کام ثابت ہوا لیکن بہرحال ہو گیا۔

قوم لوط کا علاقہ

کچھ دور آگے چلے تو ہمارے دائیں جانب عجیب و غریب کٹے پھٹے پہاڑ شروع ہو گئے۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ اس علاقے میں کوئی ایٹم بم پھٹا ہو گا جس کے باعث ان پہاڑوں کی یہ حالت ہوئی ہو گی۔ میرے ذہن میں قرآن مجید اور بائبل کی یہ آیات گونجنے لگیں:

"پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو الٹ پلٹ کر دیا اور ان پر پکی مٹی کے پتھر برسائے جس میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں سے (اپنے ہدف کے لئے) نشان زدہ تھا۔" (ہود 11:82)

"دوسرے دن صبح سویرے ابرہام اٹھے اور اس مقام کو پلٹے جہاں وہ خداوند کے حضور (نماز کے لئے) کھڑے ہوتے تھے۔ انہوں نے نیچے سدوم اور عمورہ اس میدان کے سارے علاقے پر نظردوڑائی اور دیکھا کہ اس سرزمین سے کسی بھٹی کے دھویں جیسا گہرا دھواں اٹھ رہا تھا۔" (کتاب پیدائش 19:27-28)

جی ہاں، جہاں سے ہم گزر رہےتھے،  یہ علاقہ سدوم اور عمورہ کا علاقہ تھا۔ جب لوط علیہ الصلوۃ والسلام یہاں آباد ہوئے تو بائبل کے بیان کے مطابق، یہ دور دور تک سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔ اہل سدوم نہایت ہی بدکار قوم تھی۔ یہ لوگ دوسری اخلاقی خرابیوں کے علاوہ ہم جنس پرستی کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔ بعض احمق لوگ اس فعل بد کو لواطت کہتے ہیں۔ سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام وہ پاکباز ہستی ہیں جنہوں نے اس فعل بد کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس فعل کو آپ سے موسوم کرنا یقیناً آپ کی شان میں بہت بڑی گستاخی ہے۔

     اللہ کے رسول کو جھٹلانے اور اپنی برائی پر اصرار اور سرکشی کے باعث قوم لوط پر اللہ کا عذاب آیا۔ قرآن مجید کے مطابق ان پر مٹی کے دہکتے پتھروں کی بارش کر کے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ بائبل کے مطابق اس میں گندھک کی آمیزش بھی تھی۔ امریکی محقق رون وائٹ نے اس علاقے کی مٹی کے بارے میں جو تحقیقات کی ہیں، ان کے مطابق اس علاقے میں گندھک کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اس علاقے میں عام زمین کے اوپر ایک اور زمینی تہہ(Geological Layer)  پائی جاتی ہے جو رون کی تحقیقات کے مطابق عذاب والے مٹی اور پتھروں کی تہہ ہے۔ ان کی تحقیقات کو دیکھنے کے لیے اس لنک کو کلک کیجیے۔

 http://wyattmuseum.com/cities-of-the-plain.htm

     قرآن مجید نے جہاں جہاں اس قوم کا ذکر کیا وہاں ان کی اس بدفعلی کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس مقام پر قرآن مجید کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑی کہ یہ بھی کوئی برائی ہے۔ قرآن نے اس کا ذکر ایک طے شدہ (Established) برائی کے طور پر کیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوری تاریخ انسانیت میں ہم جنس پرستی کو ایک برائی کی حیثیت ہی حاصل رہی ہے۔ اس سے استثنا صرف سدوم اور قدیم یونان کے لوگوں کو حاصل ہے یا پھر آج کے اہل مغرب میں سے ہم جنس پرستوں (Gays & Lesbians) کا ایک اقلیتی گروہ ہے جو اس فعل کی حمایت میں سرگرم ہوا ہے۔  ان گروہوں سے ہٹ کر باقی اہل مغرب بھی اس فعل کو گناہ ہی سمجھتے ہیں۔

     اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں نیکی اور بدی کا جو شعور ودیعت کیا ہے، انسانوں کی قلیل تعداد اس فطرت کو کبھی کبھی مسخ بھی کر لیا کرتی ہے جیسا کہ انسانوں نے اللہ تعالیٰ کی آسمانی ہدایت کو بھی کہیں کہیں مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس موقع پر اچھا ہے اگر میں سید مودودی صاحب کا ایک اقتباس نقل کرتا چلوں کیونکہ فطرت کے اس بیان کے لئے میں ان سے بہتر الفاظ نہیں پا رہا:

یہ بات بالکل صریح حقیقت ہے کہ مباشرت ہم جنسی قطعی طور پر وضع فطرت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالی نے تمام ذی حیات انواع میں نر و مادہ کا فرق محض تناسل اور بقائے نوع کے لئے رکھا ہے اور نوع انسانی کے لئے اس کی مزید غرض یہ بھی ہے کہ دونوں صنفوں کے افراد مل کر ایک خاندان وجود میں لائیں اور اس سے تمدن کی بنیاد پڑے۔ اسی مقصد کے لئے مرد اور عورت کی دو الگ صنفیں بنائی گئی ہیں، ان میں ایک دوسرے کے لئے صنفی کشش پیدا کی گئی ہے، ان کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب ایک دوسرے کے جواب میں مقاصد زوجیت کے لئے عین مناسب بنائی گئی ہے اور ان کے جذب و انجذاب میں وہ لذت رکھی گئی ہے جو فطرت کے منشا کو پورا کرنے کے لئے بیک وقت داعی و محرک بھی ہے اور اس خدمت کا صلہ بھی۔ مگر جو شخص اپنے ہم جنس سے شہوانی لذت حاصل کرتا ہے وہ ایک ہی وقت میں متعدد جرائم کا مرتکب ہوتا ہے:

اولاً وہ اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خلل عظیم برپا کر دیتا ہے جس سے دونوں کے جسم، نفس اور اخلاق پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ثانیاً وہ فطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکاب کرتا ہے، کیونکہ فطرت نے جس لذت کو نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کے ساتھ وابستہ کیا تھا وہ اسے کسی خدمت کی بجا آوری اور کسی فرض اور حق کی ادائگی اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چرا لیتا ہے۔

ثالثاً وہ انسانی اجتماع کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے کہ جماعت کے قائم کیے ہوئے تمدنی اداروں سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے، اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے ، اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ (تفہیم القرآن ج 2 ، ص 52)

سدوم اور عمورہ کا علاقہ

 

آج کے ہم جنس پرست اپنے غلیظ کاموں کے جواز میں جو پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس کی بنیاد میں وہ بائیو کیمسٹری کے کچھ تصورات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہم جنس پرست انسان کے جسم و دماغ میں کچھ کیمیکلز ایسے ہوتے ہیں جن کے باعث اس کا فطری میلان صنف مخالف کی بجائے اپنی ہی صنف کی طرف ہو جاتا ہے۔ یہ میلان ان کے ڈی این اے میں ہی ودیعت کیا ہوا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ چیز ان کے اختیار میں نہیں، اس لیے معاشرے کو ہم جنس پرستوں کو قبول کر لینا چاہیے۔

     ان کے اس مغالطے کا کم از کم اردو لٹریچر میں مجھے جواب نہیں ملا اس لیے اس پر کچھ جملے لکھنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اگر ہم جنس پرستوں کے کیمیکلز میں کچھ مسئلہ ہے بھی، تو معاشرے کو ان کے مضر اخلاقی اثرات سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کا علاج کیا جائے۔ میڈیکل سائنس اب اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ ادویات کی مدد سے اس مسئلےکو دور کیا جا سکتا ہے۔ رہا مسئلہ جینز اور ڈی این اے کا تو یہ ابھی تک محض ایک مفروضہ ہے جسے کوئی بھی ثابت نہیں کر سکا۔ ہم جنس پرستوں کے مسائل پر کی گئی تحقیقات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کم عمری ہی میں بری صحبتوں کا شکار ہو کر یہ عادات اپنا لیتے ہیں جو عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ کسی اچھے ماہر نفسیات بالخصوص ہپناٹسٹ یا پھر اچھے سائیکاٹرسٹ کی مدد سے ان عادات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

     ہم لوگ اس مقام سے جلدی جلدی گزرے کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی۔ کچھ آگے جا کر میں نے گاڑی روکی اور ہم ڈیڈ سی کو دیکھنے لگے۔ یہ جھیل سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت سے بحر لوط بھی کہلاتی ہے۔ ڈیڈ سی کافی گہرائی میں تھا اور جہاں جہاں اس کا نیلگوں پانی چٹانوں سے ٹکرا رہا تھا وہاں نمک کی واضح تہہ بھی جمی ہوئی تھی۔ سطح سمندر سے ہزار فٹ گہرائی میں ہونے کے باعث یہاں کافی گرمی تھی۔

     ساتھ ہی پہاڑ پر ایک انسان نما چٹان نکلی ہوئی تھی۔ اس کے بارے میں بعض لوگوں نےیہ مشہور کر دیا ہے کہ یہ لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی تھی، جو اپنی قوم سے بہت محبت کرتی تھی جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے اسے بھی عذاب کا شکار کر دیا تھا۔ آپ کی بیوی کے پیچھے رہ جانے اور عذاب کا شکار ہونے کا ذکر قرآن میں موجود ہے لیکن اس چٹان کے بارے میں روایت کچھ درست معلوم نہیں ہوتی۔ اس سے یہ بھی  معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام سے رشتہ داری انسان کی نجات کی ضمانت نہیں ہے بلکہ ان کی سچے دل سے پیروی ہی انسان کو نجات دلائے گی۔ اللہ کے رسولوں کا سچا پیروکار جنت میں ان کے ساتھ ہو گا جب کہ ان کا نافرمان رشتے دار جہنم میں ان سے کہیں دور ہو گا۔

وادی محجب

کچھ آگے چلے تو ہم وادی محجب میں جا نکلے۔ یہاں پہاڑوں سے آنے والی ایک ندی، آبشار کی صورت میں نیچے گر رہی تھی۔ اس مقام پر ڈیڈ سی روڈ سے کچھ دور ہٹ گیا تھا۔ سڑک پہاڑوں کے ساتھ ساتھ تھی اور سڑک اور ڈیڈ سی کے درمیان ایک نہایت ہی سر سبز و شاداب وادی تھی جس میں گھنا سبزہ موجود تھا۔ یہ سبزہ، محجب کے چشمے ہی سے اگایا گیا تھا۔ اس پر ایک گیٹ بھی لگا ہوا تھا جس کے باعث ہم اندر نہ جا سکے۔

محجب کا چشمہ بشکریہ www.panoramio.com

     راستے میں دو تین چیک پوسٹیں آئیں جہاں "باسبورت؟۔۔۔باکستانی؟؟۔۔۔۔ ویلکم ٹو جارڈن!!!" کے مراحل سے گزرتے ہوئے ہم ڈیڈ سی کے آخر تک پہنچ گئے۔ سڑک پر جا بجا فوجی گاڑیاں کھڑی تھیں جن میں مسلح جوان بیٹھے ہوئے تھے۔ ہر گاڑی پر ایک مشین گن بھی نصب تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام گنوں کا رخ اسرائیل کی بجائے اپنے ہی ملک اردن کی جانب تھا۔

     ڈیڈ سی کی لمبائی پچاس پچپن کلومیٹر کے قریب تھی۔ ڈیڈ سی کے شمالی کنارے کے تقریباً وسط میں دریائے اردن بل کھاتا ہوا ڈیڈ سی میں گرتا نظر آ رہا تھا۔ اردن کی یہ خوبی مجھے بہت پسند آئی کہ تمام تاریخی مقامات کے لیے تھوڑے تھوڑے وقفے پر بورڈ اور تیر کے نشانات موجود تھے جس کے باعث کسی سے راستہ پوچھنا نہیں پڑ رہا تھا۔

     بپتسمہ کی سائٹ یہاں سے محض دس کلومیٹر کے فاصلے پر تھی جو سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بپتسمہ کے لیے مشہور ہے۔ ابھی سورج غروب ہونے میں کافی وقت تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر ہم سورج غروب ہونے تک بپتسمہ سائٹ اور جبل نیبو دیکھ لیں تو ہمارا ایک دن بچ جائے گا اور ہم رات تک عقبہ پہنچ سکتے ہیں۔ اس خیال کے تحت ہم بپتسمہ سائٹ جا پہنچے لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سائٹ پانچ بجے بند ہو جاتی ہے۔ اب ہم وہیں رات گزارنے پر مجبور تھے۔

وادی اردن اور دریائے اردن

ڈیڈ سی کے شمال اور جنوب کا علاقہ وادی اردن کہلاتا ہے۔ یہ وادی دریائے اردن کے مشرقی اور مغربی کناروں پر واقع ہے اور نہایت ہی سر سبز و شاداب ہے۔ ہم واپس آ رہے تھے کہ ایک ہوٹل کے بورڈ پر نظر پڑی جس پر عربی میں لکھا تھا، "دریائے اردن کی تازہ مچھلی دستیاب ہے۔" میرے ذہن میں تونسہ بیراج پر ملنے والی دریائے سندھ کی تازہ مچھلی کی یاد تازہ ہو گئی اور میں نے گاڑی اس طرف موڑ لی۔ تھوڑی دور جا کر ہوٹل کے آثار نظر آئے مگر یہ بند تھا۔ ہوٹل کے چوکیدار نے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ ہوٹل بند ہے۔ میں نے کہا، "پھر سڑک پر لگے اس بورڈ کو اتاریے۔"

     میں نے ان صاحب سے پوچھا، "کیا یہاں کوئی ایسا مقام ہے جہاں سے ہم جا کر دریائے اردن کو دیکھ سکیں۔" معلوم ہوا کہ یہ پورا علاقہ اردن کی فوج کے کنٹرول میں ہے اور پورے دریا پر سوائے بپتسمہ سائٹ کے کوئی ایسا مقام نہیں جہاں سے دریا کو دیکھا جا سکے۔

     دریائے اردن شمال میں شام، لبنان اور ترکی کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے۔ شمالی علاقے میں یہ تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہوا شام اور اسرائیل کی سرحد کا کام دیتا ہوا، گولان پہاڑیوں کے نزدیک بحیرہ طبریہ یا گلیل کی جھیل میں جا گرتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل ہے۔ یہ جھیل سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ اسی جھیل کے کنارے وہ پہاڑی ہے، جہاں آپ کا دیا ہوا وعظ، بہت مشہور ہوا۔ جھیل کے کناروں پر آباد شہر سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی منادی سے گونجتے رہے۔ آپ کے بعض حواری اسی جھیل کے مچھیرے تھے۔ اسی کے جنوب مغرب میں آپ کا آبائی شہر ناصرہ بھی ہے۔

     گلیل کی جھیل سے نکل کر دریائے اردن تقریباً سو کلومیٹر کا مزید فاصلہ طے کر کے ڈیڈ سی میں آ گرتا ہے۔ درمیان میں یہ دریا اردن اور اسرائیل کی سرحد کا کام دیتا ہے۔ اس کے مشرقی کنارے پر اردن اور مغربی کنارے پر فلسطین کا علاقہ ہے۔ گزشتہ سالوں میں دریائے اردن کا مغربی کنارہ عالمی میڈیا میں بہت مشہور ہوا ہے۔ یہ کنارہ اب فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول ہے۔

     دریائے اردن اور اس کے معاون دریائے یرموک پر اسرائیل اور شام نے ڈیم تعمیر کیے ہیں جن کے باعث دریا بہت حد تک سوکھ گیا اور اس کا ایکو سسٹم بری طرح تباہ ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ دریا ایک کلومیٹر چوڑا تھا لیکن اب اس کی چوڑائی صرف تین میٹر رہ گئی ہے۔ دریا سے پہنچنے والے پانی کی کمی کے باعث ڈیڈ سی بھی مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔

     ہم اب وادی اردن سے واپس ہوئے۔ راستے میں بہت سے خانہ بدوش بیٹھے تھے جو اپنے انداز و اطوار اور رہن سہن سے بالکل ہمارے خانہ بدوشوں کی طرح لگ رہے تھے البتہ ان کی رنگت سرخ و سپید تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ بے چارے فلسطینی مہاجر ہوں گے۔ بھیڑوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ بھی ہمارے راستے میں آیا۔ اب ہم واپس ڈیڈ سی پہنچے۔ میں نے سوچا کہ رات یہیں گزار لی جائے۔ یہاں موو اینڈ پک، میریٹ اور چند اور فائیو اسٹار ہوٹل موجود تھے۔ جب ایک نسبتاً پرانے ہوٹل سے کرایہ پوچھا تو ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ یہاں ایک رات کا کرایہ چار سو اردنی دینار (بتیس ہزار پاکستانی روپے) تھا۔ جگہ بھی کوئی بہت خوبصورت نہ تھی۔ میرے نزدیک اتنی رقم خرچ کرنا اسراف تھا، چنانچہ ہم نے ارادہ کیا رات یہاں کی بجائے عمان شہر کے کسی ہوٹل میں گزاری جائے۔

ڈیڈ سی پارک

اب ہم قریب ہی واقع ڈیڈ سی پارک میں جا بیٹھے جو کہ ڈیڈ سی کے کنارے بنایا گیا تھا۔ لوگ یہاں ڈیڈ سی پر تیرنے کا شوق پورا کر رہے تھے۔ اس جھیل میں نمک کی کثرت کے باعث پانی بہت بھاری ہے اور اس میں کوئی چیز ڈوب نہیں سکتی۔ مشہور ہے کہ ڈیڈ سی کی سطح پر لیٹ کر آپ اخبار بھی پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں پانی کافی گندا ہو رہا تھا جس کے باعث میں نے اس تجربے کا ارادہ کینسل کر دیا البتہ بچوں کو دکھانے کے لیے نسبتاً صاف مقام سے ایک بوتل میں ڈیڈ سی کا پانی بھر لیا۔ اس پانی کا ٹچ بھی عجیب و غریب تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہاتھ پانی کی بجائے گاڑھے شوربے میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ شوربے جیسی چپچپاہٹ بھی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے ذرا سا پانی کو چکھا تو ابکائی کرتے کرتے بچا۔ ایسا ذائقہ دنیا کے کسی سمندر کے پانی میں نہیں ہو گا۔

ڈیڈ سی میں نمک

     سامنے فلسطین کی پہاڑیوں میں سورج غروب ہو رہا تھا۔ ایسا اداس کر دینے والا غروب آفتاب کا منظر میں نےپہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ماحول کبھی خوش یا اداس نہیں ہوتا۔ یہ انسان کے اندر کی خوشی یا اداسی ہوتی ہے جس کے باعث وہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی اداس دیکھتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہاں موجود اور لوگوں کو غروب آفتاب کا یہ منظر نہایت ہی دل خوش کن لگ رہا ہو۔ میری اداسی کی وجہ یہ تھی کہ میں فلسطین کی جدید تاریخ کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اس خطے کے مظلوم اور بدنصیب باشندے غیروں کی چیرہ دستیوں اور اپنوں کی حماقتوں کا شکار رہے ہیں۔

     مناسب ہو گا اگر اس مقام پر کچھ تجزیہ مسئلہ فلسطین کا بھی ہو جائے۔ میری کوشش ہوگی کہ مکمل غیر جانب داری اور بغیر کسی تعصب کے یہ تجزیہ کیا جائے۔ اس تجزیے میں اپنی رائے دینے سے احتراز کرتے ہوئے صرف حقائق اور ان کے نتائج بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔ ان حقائق کو آپ تفصیل سے وکی پیڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس کوشش میں میں کتنا کامیاب ہوا ہوں، اس کا فیصلہ آپ لوگ ہی کر سکتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین

اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلانے اور ان کے مقابلے میں سرکشی دکھانے کے جرم میں 70ء میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا عذاب رومیوں کی صورت میں نازل ہوا۔ رومیوں نے کثیر تعداد میں بنی اسرائیل کو غلام بنا کر انہیں دنیا کے مختلف حصوں میں جلا وطن کر دیا۔ یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ دنیا کے اکثر ممالک میں ان کے ساتھ نہایت ہی برا سلوک کیا گیا اور ان پر ظلم و ستم روا رکھا گیا۔ اس سے استثنا مسلم یا پھر شمالی یورپ کے چند ممالک کو حاصل رہا ہے۔ اس وقت سے لے کر موجودہ دور تک بنی اسرائیل کی یہ شدید خواہش رہی ہے کہ ان کا بھی اپنا کوئی وطن ہو۔

     1200ء سے کثیر تعداد میں اسرائیلی انفرادی طور پر ارض مقدس یعنی فلسطین کا رخ کرتے رہے اور ان میں بعض خاندان یہاں سیٹل بھی ہوئے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ ان کے اپنے ممالک میں انہیں مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہ رہے تھے جبکہ مسلم حکومتوں نے اپنی رواداری کے باعث ان پر ظلم و ستم روا نہ رکھا۔ ہاں اگر کبھی یہود کی طرف سے کوئی بغاوت سا سازش کی گئی تو اسے سختی سے کچلا ضرور گیا۔

     جن جن ممالک میں یہود رہتے تھے، انہوں نے بڑی محنت سے ان معاشروں میں اپنا مقام بنایا اور آہستہ آہستہ یہ لوگ ان معاشروں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں آ گئے۔ انیسویں صدی کے ربع آخر تک یورپ میں رہنے والے یہود اس بات پر متفق ہو چکے تھے کہ ہمیں اپنا وطن ضرور حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے 1882ء میں صیہونیت (Zionism) کی تحریک قائم کر لی جو جلد ہی مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے یہودیوں میں مقبول ہوتی چلی گئی۔

     بیسویں صدی کے اوائل تک صیہونیت کی تحریک پوری دنیا میں پھیل چکی تھی اور ورلڈ زیونیسٹ آرگنائزیشن (WZO) کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔ اس تنظیم کی بنیاد رکھنے میں صیہونیت کی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کا کردار نمایاں تھا۔ ہرزل ہنگری سے تعلق رکھنے والے صحافی تھے۔ انفرادی طور پر یہودی فلسطین کے علاقوں میں جا کر زمینیں خرید کر آباد ہونے لگے۔

     صیہونی تنظیم نے یہ کوشش کی کہ ترکی کے سلطان عبدالحمید سے فلسطین میں وسیع پیمانے پر یہودیوں کی آباد کاری کی اجازت حاصل کر لیں لیکن اس میں ناکامی کے بعد انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی۔ صیہونی تحریک نے اپنے وطن کے لئے متبادل تجاویز پر غور بھی کیا جس میں یوگنڈا اور ارجنٹینا بھی شامل ہیں لیکن ارض مقدس یعنی فلسطین کے علاوہ کسی علاقے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

     1914ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جس میں دنیا کی چار سپر پاورز، برطانیہ، فرانس، روس (اتحادی قوتیں) اور جرمنی مد مقابل تھیں۔ یہود نے اس جنگ میں اتحادیوں کا ساتھ دیا۔ اس جنگ میں ترکی نے غیر ضروری طور پر جرمنی کا ساتھ دیا۔ ترکی کی سلطنت عثمانیہ اس دور میں اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ "یورپ کا مرد بیمار" کہلاتی تھی۔ ترکی فلسطین اور عرب علاقوں پر 1517ء سے قابض تھا۔ ان چار سو سالوں میں ترکوں نے عربوں کی معاشرت کو نہ سمجھتے ہوئے ان سے اچھا سلوک نہ کیا تھا جس کے باعث عرب، ترکوں کے خلاف ہر طاقت کا خیر مقدم کرنے کو تیار تھے۔

     مکہ کے گورنر شریف حسین اور برطانیہ میں ایک معاہدہ طے پا گیا۔ اس معاہدے کے تحت، شریف حسین نے سلطان کے خلاف بغاوت کر دی اور برطانیہ نے ان کا ساتھ دیا۔ جب ترکی کو شکست ہوئی اور برطانوی افواج یروشلم پہنچیں تو یہاں کے عرب باشندوں نے برطانوی جنرل ایلن بی کا بطور نجات دہندہ کے والہانہ استقبال کیا۔ اس دوران برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور وزارت خارجہ کے موجودہ عہدے دار، لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط میں فلسطین کو یہود کا وطن بنانے کی منظوری دے چکے تھے۔ یہ اعلان بعد میں منظر عام پر آیا۔ اس کا متن کچھ یوں ہے:

Foreign Office,
November 2nd, 1917.

Dear Lord Rothschild,

I have much pleasure in conveying to you, on behalf of His Majesty's Government, the following declaration of sympathy with Jewish Zionist aspirations which has been submitted to, and approved by, the Cabinet:

"His Majesty's Government view with favour the establishment in Palestine of a national home for the Jewish people, and will use their best endeavours to facilitate the achievement of this object, it being clearly understood that nothing shall be done which may prejudice the civil and religious rights of existing non-Jewish communities in Palestine, or the rights and political status enjoyed by Jews in any other country".

I should be grateful if you would bring this declaration to the knowledge of the Zionist Federation.

Yours sincerely

Arthur James Balfour (Source: http://en.wikipedia.org/wiki/Balfour_Declaration%2C_1917 )

   موجودہ اردن اور اسرائیل کے پورے علاقے کو Emirate of Transjordan کا خطاب دیا گیا اور اس پر شریف حسین کے بیٹے شاہ عبداللہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ عالمی طاقتوں کی منظوری سے اس علاقے کو برطانوی مینڈیٹ دے دیا گیا۔ اس طرح یہاں اصل حکومت سلطنت برطانیہ کی تھی۔ 1917ء سے لے کر 1947ء کے تیس سالوں میں کثیر تعداد میں یہودیوں کو یہاں لا کر بسایا گیا۔ اس دوران بہت سے عرب مسلمانوں نے اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ منہ مانگے داموں فروخت کر دیں۔

     یہودی چند ہی سالوں میں فلسطین کی معیشت پر چھا گئے۔ جب انہوں نے ملازمتوں کے معاملے عربوں سے امتیازی سلوک شروع کیا تو عربوں کو احساس ہوا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ 1936ء سے 1939ء کے عرصے میں عربوں نے احتجاج شروع کیا جو برطانوی حکومت نے ناکام بنا دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ فلسطین سے نکل گیا۔ اس موقع پر معاملہ اقوام متحدہ کے سپرد ہوا۔ دنیا کی دو بڑی طاقتیں امریکہ اور روس اسرائیل کے حق میں تھیں چنانچہ فلسطینی علاقے کو عربوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس علاقے میں یہودیوں کی آبادی اب بھی عربوں سے کہیں کم تھی لیکن کل فلسطینی علاقے کا 55% یہودیوں کو اور 45%  عربوں کو دینے کا اعلان کیا گیا۔ عربوں نے اس تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

     14 مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر مصر، اردن، شام، لبنان، سعودی عرب اور عراق نے اعلان جنگ کر دیا اور اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کی سرحدوں کی کافی توسیع ہو گئی اور فلسطین کا 77% حصہ اس کے کنٹرول میں آ گیا۔ اسرائیل نے تمام عرب ممالک سے سیز فائر معاہدات کیے اور اس کے باشندے اپنے ملک کی تعمیر میں لگ گئے۔

     اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی اردن، لبنان اور دوسرے عرب ممالک میں مہاجر بن کر رہ گئے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں دنیا بھر سے کثیر تعداد میں یہودی اسرائیل آ کر آباد ہونے لگے جس کے نتیجے میں اسرائیل کی عرب آبادی میں کمی اور یہودی آبادی میں اضافہ ہوا۔

     1956ء میں مصر نے شرم الشیخ کے پاس خلیج عقبہ کے راستے کو بند کر کے اسرائیلی بحری جہازوں کا راستہ روک دیا۔ اسی دوران مصر نے نہر سویز کو قومیا لیا۔ برطانیہ اور فرانس کی مدد سے اسرائیل نے مصر پر حملہ کر کے پورے جزیرہ نما سینا پر قبضہ کر لیا جس کے نتیجے میں اسرائیل کے علاقے میں تین گنا اضافہ ہو گیا۔ بعد میں یہاں اقوام متحدہ کی فورس متعین ہو گئی۔ اس وقت مصر کے صدر جمال عبد الناصر تھے جو پرجوش تقریروں، دھمکیوں اور جذباتی نعرے بازی میں ہمارے بھٹو صاحب سے دو ہاتھ آگے تھے۔

     1967ء میں ناصر نے اسرائیل کو بحیرہ روم میں غرق کرنے کے ارادے سے حملے کا ارادہ کیا لیکن اس سے پہلے ہی اسرائیل نے مصر، اردن اور شام پر بیک وقت حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں جزیرہ نما سینا، غزہ کی پٹی اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔

     اپنے علاقوں کو واگزار کروانے کے لئے ناصر کے جانشین انور سادات نے 1973ء میں شام کی مدد سے اسرائیل پر حملہ کیا۔ شروع میں دونوں محاذوں پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی لیکن امریکی امداد کے نتیجے میں اسرائیل نے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ 1978ء میں سادات نے کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل سے صلح کر کے اسے تسلیم کر لیا جس کے بدلے اسرائیل نے جزیرہ نما سینا مصر کو واپس کر دیا۔ غزہ کی پٹی کا علاقہ بدستور اسرائیل کے پاس ہی رہا جس کے بارے میں یہ طے پایا کہ یہ فلسطینی ریاست کو دے دیا جائے گا۔ 1994ء میں اردن اور اسرائیل کے درمیان بھی امن سمجھوتہ طے پا گیا۔ شام (سوریا) کے ساتھ اسرائیل کا تنازعہ تاحال چل رہا ہے لیکن اس دوران کوئی جنگ وقوع پذیر نہیں ہوئی۔ لبنان پر اسرائیل نے 2006ء میں حملہ کیا لیکن حزب اللہ کی مزاحمت کے باعث پسپائی اختیار کی۔

فلسطین اور اس کے گرد و نواح کا نقشہ

     ان تمام تنازعات نے فلسطینیوں کو تنہا کر دیا۔ انہوں نے مختلف تنظیموں کی صورت میں اسرائیل کے خلاف گوریلا جنگ جاری رکھی۔ 1974ء میں فلسطینی تنظیموں کا اتحاد "منظمہ التحریر الفلسطینیہ (Palestine Libaration Organization)" یا PLO معرض وجود میں آیا۔ اس تنظیم نے تیرہ چودہ سال مسلح جدوجہد جاری رکھی۔ اردن اور لبنان میں مقامی افواج سے ان کے تصادم کے نتیجے میں ان ممالک نے PLO  کی حمایت چھوڑ دی۔ بالآخر 1993ء میں ان کے لیڈر یاسر عرفات نے مسلح جدوجہد ترک کر کے پر امن جدوجہد کا اعلان کیا۔

     1987ء میں پہلا انتفادہ شروع ہوا جس میں فلسطینیوں نے اسرائیلی ٹینکوں پر چھوٹے چھوٹے پتھر مار کر پر امن احتجاج کرنا شروع کیا۔ 1993ء میں یاسر عرفات نے اوسلو امن معاہدے کے تحت امن کے عمل کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ اس دوران اسرائیل میں اعتدال پسند اسحاق رابن کی حکومت تھی جنہیں بعد میں انتہا پسند یہودیوں نے ہلاک کر دیا۔ اس پیچیدہ معاہدے کے تحت دریائے اردن کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر اقتدار تدریجی طور پر فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کیا جانا تھا۔

     PLO کوئی دینی تحریک نہ تھی۔ یہ خالصتاً سیکولر قوم پرستی کی تحریک تھی۔ اس کے رد عمل میں حماس معرض وجود میں آئی جو اپنا تعلق اسلام سے جوڑتی ہے اور ایک اسلامی ریاست بنانے کی خواہاں ہے۔ حماس نے مسلح جدوجہد جاری رکھی۔ یہ عوامی مقبولیت اختیار کرتی گئی اور 2006ء کے الیکشن میں حماس اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ جیسے ہی حماس کو ادھورے اقتدار میں حصہ ملا، فلسطینیوں میں پھوٹ پڑ گئی اور اب تک حماس اور الفتح کے کارکن ایک دوسرے کے خلاف مصروف جنگ ہیں۔ 2007ء میں سعودی حکومت کی کوششوں سے ان میں خانہ کعبہ میں صلح کروائی گئی ہے لیکن اس صلح کی آئے دن خلاف ورزی ہوتی رہتی ہے۔

     اب اہل فلسطین کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو کچھ مل گیا ہے، اسے صبر و شکر سے قبول کریں۔ قومی اتحاد کو فروغ دیں اور عسکریت کے راستے کو ترک کر کے اپنے ملک کو سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے مضبوط کرنے کی جدوجہد کریں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ اسرائیل کے خاتمے کے لئے اپنی ختم نہ ہونے والی جدوجہد جاری رکھیں۔ چونکہ اس وقت تمام عالمی طاقتیں بشمول امریکہ، یورپی یونین اور روس واضح طور پر اسرائیل کی حمایتی ہیں اس لئے اس جدوجہد کی کامیابی کا اگلے پچاس سو برس تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

     یہ تو تھا مسئلہ فلسطین کا سیاسی پہلو۔ اس مسئلے کا مذہبی پہلو یروشلم کا شہر ہے۔ یہ شہر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس سرزمین ہے۔ تینوں مذاہب کے مقدس مقامات اس شہر میں واقع ہیں اس لئے ہر ایک کی خواہش ہے اس شہر کو ان کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔ مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور فی الوقت اردن کے ایک ادارے کے سپرد ہیں جبکہ دیوار گریہ اور دیگر مقامات اسرائیل کے زیر انتظام ہیں۔

گوریلا جنگ کے معاشرے پر اثرات

ان سب مسائل کے علاوہ مسئلہ فلسطین کا ایک معاشرتی پہلو بھی ہے۔ جنگ خواہ کسی قسم کی بھی ہو، معاشرے پر نہایت ہی بھیانک اثرات مرتب کرتی ہے۔

     جنگ کے جو اثرات ہمیں افغان معاشرے پر نظر آتے ہیں بعینہ وہی اثرات فلسطینی معاشرے پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کثیر تعداد میں فلسطینی مہاجرین کی صورت میں عرب ممالک میں موجود ہیں۔ ان میں سے جو لوگ کچھ پڑھ لکھ گئے وہ تو اچھی ملازمتیں کر رہے ہیں لیکن جو ایسا نہ کر سکے، وہ کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں۔

     جو لوگ فلسطینی اتھارٹی یا اسرائیل کے علاقوں میں رہتے ہیں، ان کی معاشی حالت، مسلسل جنگ میں رہنے کے باعث کافی خراب ہے۔ ان لوگوں کو یہود کی جانب سے امتیازی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ طویل عرصے تک ایسے حالت میں رہنے کے باعث انسان کی نفسیات پر نہایت ہی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کی نوجوان نسل منفی طرز فکر کا شکار ہو جاتی ہے۔

     گوریلا جنگ کو برقرار رکھنے کے لئے گوریلا تنظیموں کو مجرم تنظیموں سے روابط بڑھانے پڑتے ہیں۔ اس سے یہ تنظیمیں جرائم کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے منشیات اور اسلحہ کی فروخت کے نتیجے میں معاشرے میں منشیات اور اسلحہ کا استعمال عام ہوتا ہے جس کے باعث خاندان کے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ مزاحمت کرنے والے گوریلے دشمن پر حملہ کرنے کے بعد عام لوگوں میں آ کر چھپ جاتے ہیں جس کے باعث یہ عام لوگ حکومت کی سکیورٹی فورسز کے ظلم و تشدد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے نازک پہلو خواتین کی عفت و عصمت کا معاملہ ہے۔ سکیورٹی فورسز کے اہل کار تشدد کے دوران ان کی عفت و عصمت سے بھی کھیلتے ہیں جو کہ ان کی نفسیاتی موت کے مترادف ہوتا ہے۔

     مسلسل جنگ اور دہشت کے عالم میں معیشت کمزور پڑتی جاتی ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ ایسی جگہ سرمایہ کاری کرتا ہے جہاں اس کا کم از کم اصل سرمایہ محفوظ ہو۔ اس وقت دنیا میں ایسا کون سا سرمایہ کار ہو گا جو افغانستان، عراق اور فلسطین میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہو۔ سرمایے کے نکلنے سے امیر لوگوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن متوسط اور غریب طبقے کے کاروبار ماند پڑتے ہیں اور نوکریاں ختم ہونے لگتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی ہر معیشت میں متوسط اور غریب طبقے کے کاروبار اور ملازمتوں کا انحصار امیر لوگوں کے سرمائے پر ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگ ترقی کر جاتے ہیں جو اسلحہ، منشیات اور جنگی خدمات کی صنعتوں سے وابستہ ہوں۔

     انسان کی بھوک ایسی ظالم شے ہے کہ وہ اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی بلکہ اس کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہی بھوک نوجوان لڑکوں کو چور، ڈاکو اور دہشت گرد میں تبدیل کر دیتی ہے اور نوجوان لڑکیوں کو طوائف بننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جب اپنے ارد گرد اسلحہ فروشوں، منشیات فروشوں، قاتلوں، ڈاکوؤں اور طوائفوں کو دیکھتے ہیں جو عیاشی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں تو ان کی نفسیات بگڑ جاتی ہے اور یہ بھی انہی لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔

     ایسے ماحول میں انٹیلی جنس کلچر بھی تیزی سے فروغ پاتا ہے۔ معمولی رقم کے لئے بیٹا باپ کے خلاف، بیوی شوہر کے خلاف اور بھائی بھائی کے خلاف مخبری کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں مقتدر طبقات اور وار لارڈز اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے ایک مستقل دہشت (Terror) کی فضا برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ عوام کو جذباتی نعروں کے ذریعے بے وقوف بنایا جاتا ہے اور لاشوں کی سیاست کی جاتی ہے۔ ایسے میں ان لوگوں کو مذہبی طبقے سے بھی حمایتی مل جاتے ہیں جو اس صورتحال کر برقرار رکھنے کے لئے مذہب کا استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

     فلسطین، کشمیر، افغانستان، چیچنیا اور ایسے تمام علاقوں کی پچاس سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حالات میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ اگر ہم پوری انسانی تاریخ میں دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کا جائزہ لیں تو یہ معلوم ہو گا کہ کوئی قوم صرف اور صرف پر امن ماحول، مثبت طرز فکر اور تعلیم کے حصول کے ذریعے ترقی کر سکتی ہے۔ قوموں کی ترقی کا کوئی شارٹ کٹ راستہ دنیا میں سرے سے پایا ہی نہیں جاتا۔ ترقی کے لئے دنیا کی تمام اقوام کو اسی طویل اور کٹھن راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ دور کیوں جائیے، جاپان اور چین کا افغانستان اور فلسطین سے موازنہ کر لیجیے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

     بیسویں صدی کے نصف اول میں دنیا بھر کی قوموں نے برطانوی اور فرانسیسی استعمار سے آزادی کی جدوجہد کی۔ ان میں سے صرف اور صرف وہ اقوام آزادی کے بعد ترقی کی منازل طے کر سکی ہیں جنہوں نے اپنے ہاں آزادی اظہار، پر امن ماحول، مثبت طرز فکر اور تعلیم کو فروغ دیا ہے۔ باقی اقوام آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی انہی حالات میں محصور ہیں جن میں وہ آزادی سے قبل تھیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ "ایک اعلی تعلیم یافتہ نوجوان، امت مسلمہ کے لئے ایک خود کش بمبار سے کہیں زیادہ مفید ہے۔"

عمان شہر

غروب آفتاب کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکل آئے۔ اب ہماری منزل عمان تھی جہاں ہمیں رات بسر کرنا تھی۔ عمان ڈیڈ سی سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ہمارا سفر اب مسلسل بلندی کا سفر تھا۔ راستے میں ایک جگہ مسجد آئی۔ وہاں رک کر مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہم آگے روانہ ہوئے۔

     ہم عمان میں داخل ہوئے تو اہل اردن نے آسمان پر 'شرلیاں' یعنی ہوائیاں چھوڑ کر ہمارا شاندار استقبال کیا۔ پورا آسمان آتش بازی کے باعث رنگا رنگ ہو رہا تھا۔ خیر یہ تو ہماری خوش فہمی تھی ورنہ یہ ان کا کوئی خاص تہوار لگ رہا تھا۔ بعد میں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج طلباء کے رزلٹ کا دن تھا۔ مجھے دوپہر میں محبت اور جوش سے کھلائی گئی مٹھائی یاد آئی جو ان صاحب نے اپنے بیٹے کے پاس ہونے کی خوشی میں کھلائی تھی۔ ہمارے ہاں تو لوگ صرف اپنے جاننے والوں اور پڑوسیوں ہی کو مٹھائی کھلاتے ہیں جبکہ وہ صاحب ہر آنے جانے والے کو مٹھائی کھلا رہے تھے۔

     اہل اردن رزلٹ کے دن کو باقاعدہ تہوار کی صورت میں مناتے ہیں۔ میرے دفتر کے ایک کولیگ اسماعیل عمان کے رہنے والے تھے اور ان دنوں چھٹیوں پر آئے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے موبائل پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ بعد میں ان سے معلوم ہوا کہ اس دن رزلٹ کے تہوار کے باعث موبائل کمپنیوں کے نیٹ ورک جام تھے۔

     عمان ایک صاف ستھرا پہاڑی شہر نکلا۔ میں کسی ایسے علاقے کی تلاش میں تھا جہاں ہوٹلوں کی کثرت ہو۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور سے معلوم کیا تو وہ صاحب بولے، 'میرے پیچھے آئیے۔' مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے وہ ہمیں عمان کے اندرون شہر (Downtown) میں لے آئے۔ یہ علاقہ لاہور کے لنڈا بازار یا کراچی کے لائٹ ہاؤس سے مشابہ تھا لیکن ان کی نسبت بہت صاف ستھرا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ سیاحوں کی کثرت کے باعث کسی ہوٹل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب وہ صاحب اپنا ریٹ بڑھانے کے لئے ہمیں اندرون شہر کی گلیوں میں بلاوجہ گھمانے لگے۔ پہلے تو میرا جی چاہا کہ خاموشی سے پیچھے رہ کر کہیں اور گاڑی موڑ لوں لیکن اسی وقت انہوں نے ایک ہوٹل کے سامنے ٹیکسی روک دی۔

     یہ صاحب اردنی تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے شلوار قمیص پہنی ہوئی تھی۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگے، "مجھے معلوم ہے کہ یہ پاکستانی لباس ہے لیکن یہاں بھی بہت مقبول ہے۔" ہوٹل پرانا مگر صاف ستھرا تھا۔ ٹیکسی والے صاحب کی کوشش تھی کہ اگلی صبح ہم اپنی گاڑی یہیں چھوڑ کر ان کی ٹیکسی پر ڈیڈ سی چلیں مگر جب میں نے انہیں بتایا کہ ہم پہلے ہی ڈیڈ سی دیکھ آئے ہیں اور اگلے دن ہمارا عقبہ جانے کا پروگرام ہے تو وہ کافی مایوس ہوئے۔ ہوٹل والوں سے اپنا کمیشن اور مجھ سے پانچ دینار وصول کر کے وہ رخصت ہوگئے۔

     ہم لوگ کھانا کھانے کے لئے ریسٹورنٹ میں آئے لیکن یہاں کاؤنٹر پر سجی شراب کی بوتلوں کو دیکھ کر ہم نے یہاں بیٹھنا مناسب نہ سمجھا اور کھانا کمرے ہی میں منگوا لیا۔ میں نے ان کے کک سے پوچھا، "آپ کے پاس کوئی انڈین یا پاکستانی ڈش ہے۔" کہنے لگے، "کری مل جائے گی۔" بھیڑ کے گوشت کی کری آئی تو معلوم ہوا کہ یہ ہماری ہانڈی کی نہایت ہی ابتدائی شکل ہے۔ شدید بھوک لگی تھی، اس لئے یہ کھانا خاصا لذیذ محسوس ہوا۔

     اگلا دن چونکہ اردن میں ہمارا آخری دن تھا اس لئے ہم لوگوں نے جلد ہی نیند کی آغوش میں پناہ لی تاکہ اگلے اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability