بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مادبہ، جبل نیبو اور بپتسمہ سائٹ

صبح اٹھ کر ہم نے چیک آؤٹ کیا۔ روزانہ کانٹی نینٹل ناشتہ کرنے کے باعث ہم اب اس سے تنگ آ چکے تھے اور دل یہ چاہ رہا تھا کہ کہیں سے پائے، نان چنے یا حلوہ پوری کا ناشتہ مل جائے۔ عمان میں چھوٹی سی پاکستانی کمیونٹی رہتی ہے لیکن ان کا علاقہ اور ہوٹل ڈھونڈنے کا وقت ہمارے پاس نہ تھا۔ صبح کا وقت تھا اور لوگ اپنے دفاتر اور دکانوں کی جانب جا رہے تھے۔ اندرون شہر کی دکانیں بھی صبح آٹھ بجے ہی کھل رہی تھیں۔

     اردن کے بارے میں سنا تھا کہ یہاں بے حیائی بہت زیادہ ہے لیکن ایسا کچھ محسوس نہ ہوا۔ سوائے مغربی سیاحوں کے تمام اردنی مرد و خواتین نہایت ہی معقول لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان کی خواتین کی غالب اکثریت کا لباس باپردہ تھا البتہ چہرے کے نقاب کا ان کے ہاں کوئی رواج نہ تھا۔ اگر  مغربی سیاحوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو اردنی معاشرہ ہمارے پاکستانی معاشرے کی نسبت نہایت ہی مہذب اور باپردہ معاشرہ معلوم ہو رہا تھا۔

     ہوٹل کے کاؤنٹر سے میں مادبہ جانے والا راستہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔ ہم لوگ اب عمان سے عقبہ جانے والی ہائی وے پر آ گئے جو "کنگ ہائی وے" کہلاتی ہے۔ عمان کے قریب ہی سیدنا ابوعبیدہ، معاذ بن جبل، شرحبیل بن حسنہ، عمیر بن ابی وقاص اور ضرار بن ازور رضی اللہ عنہم کی قبریں تھیں جن پر ہم وقت کی کمی کے باعث جا نہ سکے تھے۔ زیادہ اچھا ہو گا کہ ہم آگے بڑھنے سے قبل اپنے ان بزرگوں کی سیرت سے کچھ واقفیت حاصل کرتے چلیں۔

سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ

سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نہایت ہی جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ اسلام لانے سے قبل بھی اہل قریش میں نہایت ہی معزز اور شریف سمجھے جاتے تھے۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو دور جاہلیت میں بھی اپنی شرم و حیا، شرافت، بہادری اور اعلیٰ اخلاق کے باعث مشہور تھے۔ آپ کا شمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تبلیغ کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دعوت ایمانی کو ابتدائی دنوں ہی میں قبول کیا۔ کفار مکہ کے ظلم کے باعث حبشہ ہجرت کی اور پھر دوبارہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ کو "امین الامت" یعنی امت کے سب سے زیادہ دیانتدار شخص کا خطاب دیا۔

     جنگ بدر میں آپ کا باپ جراح، جو کہ اسلام کا بڑا دشمن تھا، کفار کی جانب سے لڑ رہا تھا اور اس نے آپ پر حملہ کر دیا۔ آپ مسلسل اپنے باپ کے حملوں سے بچتے رہے لیکن بالآخر اس کا مقابلہ کر کے اسے قتل کیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ تمام معرکوں میں شریک رہے۔

     آپ نہایت ہی اعلیٰ پائے کے منظم و مدبر تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو شام کی افواج کا کمانڈر انچیف مقرر کیا۔ آپ نے شروع میں اردن کا کچھ علاقہ فتح کیا۔ جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شام پہنچے تو آپ نے بخوشی ان کے لئے کمانڈر انچیف کا عہدہ چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دوبارہ خالد کی جگہ اسلامی افواج کا کمانڈر انچیف بنایا لیکن آپ نے تمام جنگوں میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی حربی مہارت کا بھرپور استعمال کیا اور تمام جنگی اقدامات انہی کے مشورے سے کئے۔

     سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی صلاحیتوں سے اس قدر متاثر تھے کہ انہیں اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنا چاہتے تھے۔ شام کا بڑا حصہ آپ ہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔ اسی دوران مسلم افواج کے علاقے میں طاعون پھیل گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بے پناہ اصرار کے باوجود آپ نے اپنی افواج کو اس مصیبت میں چھوڑ کر آنا پسند نہ کیا اور بالآخر طاعون کے مرض ہی میں وفات پائی۔ وادی اردن میں آپ کے مزار کے ساتھ مسجد اور لائبریری بھی بنی ہوئی ہے۔

مسجد ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بشکریہ www.travbuddy.com  

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ انصار کے سابقون الاولون میں شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم آپ کو آپ کی غیر معمولی ذہانت کے باعث بہت پسند کرتے تھے۔ آپ نے معاذ کو "حلال و حرام کا سب سے بڑا عالم " قرار دیا۔ احادیث کی کتب میں آپ کی روایت کردہ احادیث حکمت اور تدبر کا عالی شان ذخیرہ ہیں۔ آپ کے ساتھ حضور کی گفتگو اعلی پائے کے علمی اور فکری مسائل پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ کی ذہانت اور معاملہ فہمی کے باعث آپ کو یمن کا گورنر مقرر کیا۔ اس موقع پر آپ، معاذ کے ساتھ ساتھ چلتے گئے اور آپ کو حکومت کے طریق ہائے کار سمجھاتے گئے۔

     سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ادوار میں شام کے معرکوں میں شریک رہے اور فوج کے بڑے حصے کی قیادت کرتے رہے۔ طاعون کے مرض میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ کو کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا لیکن چند ہی دن بعد آپ نے بھی اسی مرض میں وفات پائی۔

سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ

سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ بھی قدیم صحابہ میں سے ہیں۔ آپ ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے۔ آپ نے اپنے مضبوط ایمان، شجاعت، ذہانت اور انتظامی صلاحیتوں کے لحاظ سے شہرت پائی۔ سیدنا خالد اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور فوج کے اہم حصوں کی قیادت آپ کو سونپی جاتی تھی۔ اردن اور شام کی فتح میں آپ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو شام کو گورنر بھی مقرر کیا۔ آپ نے بھی اسی طاعون کے مرض میں وفات پائی جس میں ابوعبیدہ اور معاذ بن جبل جیسی نادر روزگار شخصیات سے اسلامی فوج محروم ہوئی۔

سیدنا عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

سیدنا عمیر بن ابی وقاص، مشہور صحابی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم آپ سے بہت محبت کرتے تھے۔ شام کی فتوحات میں آپ کو فوج اور مدینہ کے مرکز کے درمیان رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی جو آپ نے بطریق احسن نبھائی۔ آپ کو بعد میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نائب مقرر کیا گیا۔ آپ کی وفات بھی طاعون کے اسی مرض میں ہوئی۔

سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ

سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ آخری دور کے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔ آپ سیدنا خالد کے نائب اول تھے۔ جنگی مہارت اور شجاعت میں آپ کا موازنہ سیدنا خالد جیسے عبقری سے کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اپنے جنگی منصوبوں میں ضرار کی جنگی مہارت سے بہت فائدہ اٹھاتے۔ بہادری کا یہ عالم تھا کہ میدان جنگ میں انفرادی مقابلوں کے لئے نکلتے، پہلے اپنا خود اتارتے، پھر زرہ اور پھر قمیص بھی اتار دیتے۔ رومی افواج آپ سے بہت خوفزدہ تھیں اور ان کے بڑے بڑے بہادر آپ کا مقابلہ کرنے سے کتراتے تھے۔

     ضرار کی ہمشیرہ خولہ رضی اللہ عنہا بھی شجاعت میں اپنے بھائی سے کم نہ تھیں۔ ایک مرتبہ ضرار رضی اللہ عنہ رومی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے جس پر خولہ نے اس فوجی دستے پر حملہ کر کے ان کے چھکے چھڑا دیے جو ضرار کو لے کر جا رہا تھا۔ اپنے بھائی کو آزاد کروا کر آپ دوبارہ اپنے لشکر میں پلٹ آئیں۔ ضرار رضی اللہ عنہ کی وفات بھی اسی طاعون میں ہوئی۔

     ان نابغہ روزگار ہستیوں کی شہادت کے بعد اسلامی فوج کی قیادت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی جن کا نقطہ نظر طاعون کے معاملے میں مختلف تھا۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے پوری فوج کو اس طاعون زدہ علاقے سے نکال لیا۔ بعد میں آپ نے مصر فتح کیا۔ آپ کی سیرت کو میں، انشاء اللہ مصر کے باب میں بیان کروں گا۔

بھوک کا مسئلہ

ہم لوگ اب عمان سے نکل رہے تھے اور بھوک بھی شدید لگ رہی تھی جس کے باعث میری اہلیہ مجھ سے کچھ ناراض لگتی تھیں۔ میں راستے ہی میں جدہ سے لائے ہوئے بھنے ہوئے چنے کھا کر کچھ گزارا کر چکا تھا۔ دوسری طرف میری گاڑی بھی اپنی آواز سے کچھ ناراضی کا اظہار کر رہی تھی۔ میں کسی ریسٹ ایریا کی تلاش میں تھا جہاں ان دونوں کی ناراضگی کو دور کرنے کا کچھ اہتمام کیا جا سکے۔ تھوڑی دور جا کر ہمیں ایک بہت بڑا ریسٹ ایریا نظر آیا جس پر میکڈونلڈ کا گول M نظر آ رہا تھا۔ بریک لگاتے لگاتے ہم کچھ آگے نکل گئے لیکن ریسٹ ایریا کے باہر نکلنے والے راستے سے ہمیں اندر جانے کا موقع مل گیا۔

     سب سے پہلے ہم میکڈونلڈ گئے اور بڑے سائز کے میک عریبیا کا آرڈر دیا۔ میکڈونلڈ، کے ایف سی، ہارڈیز اور پزا ہٹ کی سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں ان کا ذائقہ اور ریٹ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ سنا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں جہاں حلال خوراک مشکل سے دستیاب ہوئی ہے، وہاں یہ ریسٹورنٹ حلال گوشت کا انتظام کرتے ہیں جس کے باعث تمام مسلمان گاہک انہی کی طرف جاتے ہیں۔ کاروبار اپنے کسٹمر کو سمجھ کر اسے مطمئن کرنے کا نام ہے، جو ایسا کر لے گا وہ کاروبار میں کامیاب ہو گا۔ اسی طرح دعوت دین میں جو اپنے مخاطب کو سمجھ کر اسے اپنے رویے اور دلائل کے ذریعے مطمئن کر دے گا، اس کی دعوت کامیاب ہو گی۔ مارکیٹنگ کے اصول دین کی دعوت کے معاملے میں بھی اتنے ہی کارآمد ہیں جتنا کاروبار کے معاملے۔

تبلیغی جماعت کا مبلغ

اہلیہ اور ماریہ کو میک عریبیا دلا کر میں گاڑی کو سروس اسٹیشن پر لے گیا اور اس کا انجن آئل تبدیل کروایا۔ سروس اسٹیشن کے مالک کا رویہ بہت دوستانہ تھا۔ یہ صاحب اٹھارہ بیس برس کے نوجوان اردنی تھے۔ سرخ و سپید رنگت پر براؤن داڑھی بہت جچ رہی تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میں پاکستانی ہوں، تو ان کا پہلا سوال یہ تھا، "کیا آپ کبھی تبلیغی جماعت کے اجتماع میں رائیونڈ گئے ہیں؟" یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں عمان سے واپس جا رہا ہوں، انہوں نے مجھے اپنے ہفتہ وار اجتماع کی بھرپور دعوت دی اور اجتماع گاہ کا پورا نقشہ بنا کر دیا۔ ایسا کرنے کی وجہ تبلیغی بھائیوں کا یہ نظریہ ہے کہ "ہمیں ہر حال میں اور ہر شخص کو دعوت دینا چاہیے، اگر وہ ہماری دعوت قبول نہ بھی کرے، تب بھی اللہ تعالیٰ اس دعوت کے نتیجے میں کہیں اور کسی کو ہدایت دے گا۔"

     تبلیغی جماعت عالم اسلام کی سب سے بڑی تبلیغی و اصلاحی تحریک ہے۔ چودہ صدیوں سے مسلمانوں کے ہاں معاشرے کی اصلاح کے لئے کی جانے والی کاوشوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ اس عمل کو تجدید و احیائے دین کا نام دیا گیا ہے۔ تجدید و اصلاح کی یہ روایت ہمارے ہاں اتنی مضبوط ہے کہ دنیا کی کوئی قوم اس معاملے میں مسلمانوں کی ہمسری نہیں کر سکتی۔

     بیسویں صدی کے نصف اول میں برصغیر کے مسلمانوں میں تجدید و احیائے دین کے دو ماڈل سامنے آئے۔ ان میں پہلا نقطہ نظر یہ تھا کہ معاشرے کی اصلاح اوپر سے کی جائے۔ اسے ہم Top-Down Approach کا نام دے سکتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق حکمت عملی یہ وضع کی گئی کہ خدائی فوجداروں کی ایک جماعت بنائی جائے جو دین پر پوری طرح عمل کرنے والی ہو۔ یہ جماعت جیسے بھی ممکن ہو، اقتدار حاصل کرے اور حکومتی طاقت کے زور پر معاشرے کی اصلاح کا کام کرے۔  

     اس تحریک کو برصغیر میں مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال اور سید ابوالاعلی مودودی جیسے عبقری میسر آ گئے۔ مولانا آزاد اور علامہ اقبال کی کوششیں تو زیادہ تر نظریاتی محاذ پر مرکوز رہیں لیکن مودودی صاحب نے نظریاتی میدان کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں اتر کر باقاعدہ ایک جماعت بھی بنا ڈالی۔ معاشرے کی اصلاح کا پروگرام لے کر قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی سیاست کے میدان میں اتر آئی۔

     اسی نقطہ نظر کے تحت مختلف مسلکوں سے تعلق رکھنے والوں نے بھی اپنی جماعتیں بنائیں۔ ساٹھ ستر سال کی اس جدوجہد میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اتنا ضرور ہوا ہے کہ ان کی کوششوں کی نتیجے میں پاکستان کا اسلامی تشخص قائم ہو سکا ہے مگر عملی زندگی میں اس کے اثرات بہت زیادہ نمایاں نہیں ہیں۔ اسی طرز پر تمام مسلم ممالک میں مذہبی سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔ ان کے نتائج بھی پاکستان سے کچھ مختلف ثابت نہ ہوئے۔ ٹاپ ڈاؤن ماڈل اختیار کرنے والی بعض جماعتوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ بھی اختیار کیا جس کی انتہائی صورت اب القاعدہ اور طالبان کی صورت میں موجود ہے۔

     بحیثیت مجموعی ٹاپ ڈاؤن ماڈل کو پچھلے ستر برس میں ایران اور افغانستان کے علاوہ کہیں بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں ترکی میں اسلام پسند جماعت "جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی" کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ میرے خیال میں تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کو ترکی کی جماعت کے طریق کار کا مطالعہ کر کے ان سے سیکھنا چاہیے۔ ان کے طریق کار کا تجزیہ میں نے اپنے سفرنامہ ترکی میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

     تجدید و احیائے دین کا دوسرا ماڈل Bottom Up Approach تھی جسے تبلیغی جماعت نے اختیار کیا۔ جماعت کے بانی مولانا الیاس، سید مودودی کی طرح بہت بڑے مفکر تو نہ تھے لیکن اعلی پائے کے منتظم اور عملی میدان کے آدمی تھے۔ تھوڑے ہی عرصے میں تبلیغی جماعت ہندوستان کی حدود سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گئی۔ تبلیغی جماعت کی شاخیں مسلم ممالک کے علاوہ غیر مسلم ممالک میں بھی قائم ہیں۔ رائے ونڈ میں ہونے والا تبلیغی اجتماع دنیا میں حج کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع سمجھا جاتا ہے۔

     تبلیغی جماعت کی دعوت نے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ مزدور پیشہ دیہاتیوں سے لے کر فوج اور انٹیلی جنس کے جرنیل، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سینئر ایگزیکٹوز اور بڑی بڑی یونیورسٹی کے پروفیسر تبلیغی جماعت میں شامل ہیں۔ ان کی دعوتی جدوجہد کے نتیجے میں مختلف شعبوں کے بڑے نام بھی تبلیغی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس میں وہ شعبے بھی شامل ہیں جو دینی طبقے کے نزدیک اینٹی اسلامک ہیں۔ پاکستان میں اس کی حالیہ مثال لیجنڈ کرکٹر سعید انور، انضمام الحق اور محمد یوسف ہیں۔ شوبز کی دنیا سے جنید جمشید جیسے بڑے گلوکار اور متعدد ٹی وی اور فلم آرٹسٹ بھی تبلیغی جماعت سے متعلق ہوئے۔

     اس باٹم اپ ماڈل کو تبلیغی جماعت کے علاوہ دنیا بھر میں بہت سی جماعتوں اور افراد نے اختیار کیا۔ اس ماڈل کا نظریہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کی اصلاح کرنا چاہیے اور لوگوں کا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے دین سے قائم کرنا چاہیے۔ جب معاشرے کی اکثریت دین پر کاربند ہو گی تو اس کے نتیجے میں حکومت بھی اسلامی ہو جائے گی۔ مختلف مسلم اور غیر مسلم ممالک میں بے شمار افراد اور جماعتیں اس طریقے سے اپنے معاشرے کی اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ ان افراد میں قدیم طرز کے علماء کے ساتھ ساتھ بہت سے جدید تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔

ہماری دعوت کامیاب کیوں نہیں ہے؟

ہماری دینی جماعتوں اور دین دار افراد کی ان تمام فتوحات کے باوجود معاشرے پر ہماری اصلاحی کاوشوں کے بڑے اثرات نمایاں نظر نہیں آتے اور مسلم ممالک کے معاشرے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میری ناقص رائے کے مطابق اس معاملے میں ہماری تمام دینی اور اصلاحی تحریکوں کے طریق کار میں چند سقم پائے جاتے ہیں جنہیں دور کیے بغیر ہم معاشرے کی اصلاح نہیں کر سکتے۔

     تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دعوت میں ایک بنیادی عنصر یہ رہا ہے کہ وہ اپنے معاشرے کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اسی کی زبان میں اللہ کی توحید کی دعوت پیش کیا کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس بات کا بار بار ذکر کیا ہے کہ ہم نے ہر قوم میں انہی میں سے رسول بھیجا جو انہی کی زبان میں دعوت پیش کیا کرتا تھا۔

     ہماری تمام دینی تحریکوں کی جدوجہد، دعوت دین کے اس بنیادی عنصر سے محروم ہے۔ ہمارا پورا دینی طبقہ نہ تو آج کے جدید معاشروں کی نفسیات اور عمرانی ترکیب سے واقف ہے اور نہ ہی وہ ان کی زبان بولتا اور سمجھتا ہے۔ اگر چہ بظاہر یہ خواتین و حضرات اردو یا اپنی مادری زبان ہی بول رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے الفاظ، تراکیب، اسالیب اور گفتگو کا انداز سامعین کے لئے اتنا ہی اجنبی ہوتا ہے جتنا کہ کوئی اور زبان ہو سکتی ہے۔

     اگر ہم اپنے دینی طبقے کے لباس، رہن سہن، لائف اسٹائل، گفتگو کے انداز، کھانے پینے کے آداب، نشست و برخاست کے طریقے، غرض کسی چیز کا بھی جائزہ لیں تو اس میں یہ اپنے مخاطب معاشروں سے بالکل مختلف جگہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایک صاحب علم کے الفاظ میں ہمارے داعین کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ "دنیا کو کیا ہونا چاہیے؟" وہ اس بات کو قطعی نظر انداز کر جاتے ہیں کہ "دنیا اس وقت ہے کیا؟" یہ جانے بغیر کہ آپ اس وقت کہاں کھڑے ہیں، آپ یہ طے کر ہی نہیں سکتے کہ آپ کو کس طرح اپنی منزل پر پہنچنا ہے۔  یہ چیز اتنی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اس کے باعث ہمارے معاشروں کی اکثریت دین دار افراد کی بات سننے کے لئے بھی تیار نظر نہیں آتی۔

     میرے رائے میں مبلغین کی تربیت کے دوران انہیں نفسیات (Psychology) اور عمرانیات (Sociology) کے مبادیات کی تعلیم دینا اشد ضروری ہے۔ پوری دنیا میں تمام مسلم کمیونیٹیز کو چھوڑ کر صرف امریکی مسلمانوں نے اس بات کی اہمیت کو محسوس کیا ہے اور انہوں نے اسلامی سوشل سائنسز کے چند ادارے قائم کیے ہیں۔ جس احباب اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں، وہ تفصیلی بحث کے لئے حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے امریکی دانشور مقتدر خان کے ان آرٹیکلز سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

 http://www.ijtihad.org/IslamicSocialSciences.htm   

http://www.theglobalist.com/StoryId.aspx?StoryId=3255

     ہمارے دین دار افراد اور تحریکوں کے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوائے چند لوگوں کے، ان کی دعوتی جدوجہد کا محور و مرکز قرآن مجید نہیں رہا۔ بہروپیوں کو نظر انداز کر کے اگر ہم اپنے کاز سے انتہائی مخلص لوگوں کا بھی جائزہ لیں تو ان کے ہاں بھی دعوت دین کا مقصد اپنے مسلک یا گروہ کی دعوت، فقہی مسائل کی تبلیغ، من گھڑت روایات میں بیان کئے گئے فضائل کے ذریعے چند مخصوص عبادات و رسوم پر عمل درآمد یا پھر بہت ہوا تو سوچے سمجھے بغیر قرآن مجید کو حفظ کرنے کی کوشش ان کی جدوجہد کا مقصد ہوتی ہے۔

     ہماری اکثریت کے ہاں اخلاقیات، جو دین کا اہم ترین جزو ہیں، سرے سے زیر بحث ہی نہیں آتے اور اگر آتے بھی ہیں تو ان پر وہ زور نہیں دیا جاتا جو دوسرے معاملات میں روا رکھا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک دنیا میں مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے کہ مسلمان علم اور اخلاقیات میں دوسری اقوام سے پیچھے ہیں۔ جب تک ہم علم اور اخلاق میں دوسروں سے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا کی گاڑی میں بیک سیٹ پر ہی سفر کرتے رہیں گے۔ اگر ہم ڈرائیونگ سیٹ پر آنا چاہتے ہیں تو ہمیں علم اور اخلاق میں اپنا معیار دوسروں کی نسبت بلند کرنا ہو گا۔

     قرآن نے پرزور طریقے سے بتایا ہے کہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ یعنی "بے شک ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنا دیا ہے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔" فقہی مسائل کے استنباط کے لئے قرآن و سنت کو سمجھنے کے لیے بہت سے علوم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن محض نصیحت حاصل کرنے کے لیے کسی مخصوص علم یا سالوں کی محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی شخص محض ترجمہ پڑھ کر یا تلاوت مع ترجمہ سن کر بھی نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن مجید میں احکام سے متعلق آیات پورے قرآن کا دس فیصد بھی نہیں جبکہ نصیحت اور تذکیر قرآن کی نوے فیصد سے زائد آیات کا موضوع ہے۔

دوغری دوغری

اردن میں ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ ہم جہاں بھی کسی سے راستہ پوچھتے تو وہ جواب میں کہتا، "دوغری دوغری"۔ میں نے اپنی طرف سے اس کا مطلب یہ فرض کر لیا کہ سیدھے چلے جاؤ۔ چند مرتبہ سیدھے جانے پر جب واقعی وہ مقام مل گیا تو یہ کنفرم ہوا کہ دوغری دوغری کا یہی مطلب یہی ہے کہ سیدھے چلے جاؤ۔ سعودی عرب میں اس مقصد کے لئے "علی الطول" یا "رح سیدھا" کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

مادبہ شہر

میک عریبیا کھانے اور آئل چینج کے بعد میرے دونوں مسائل حل ہو گئے یعنی اہلیہ اور گاڑی دونوں کی ناراضی دور ہو گئی۔  اب ہم کنگ ہائی وے پر روانہ ہوئے۔ تھوڑی دور جا کر ہی 'مادبہ' کا ایگزٹ آ گیا اور ہم شہر کی جانب چل پڑے۔

     مادبہ شہر پہنچے تو لاہور کے دہلی دروازے جیسا ماحول پایا۔ ویسی ہی دکانیں، ویسی ہی ریڑھیاں، الیکشن کے ویسے ہی پوسٹر اور لوگوں کے چہروں پر ویسے ہی تاثرات۔ خود سے مختلف پا کر لوگ ہمیں مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ مادبہ ایک قدیم شہر ہے جو رومی دور کی بہت سی یادیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ہم نے ایک دو افراد سے موزائک چرچ کا پوچھا اور گلیوں میں واقع چرچ تک پہنچ گئے۔ یہ پورا محلہ، عرب عیسائیوں کا علاقہ تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ اس علاقے کے لوگوں نے مغربی تہذیب کو پوری طرح اپنا لیا ہو۔ چرچ کے قریب ہی بہت سی دکانیں بھی تھیں جن میں ایک شراب کی دکان بھی تھی۔

     عیسائیوں کے پادری حضرات سے مجھے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، اس کے مطابق شراب ان کے مذہب میں بھی حرام ہے اور وہ بھی اسے برائی ہی سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے ہاں مذہبی مقامات اور مذہبی تہواروں پر بھی شراب کھلے عام پی جاتی ہے۔ اہل مغرب کی ایک اور عجیب عادت یہ بھی ہے کہ وہ پوری دنیا میں سگریٹ نوشی کے خلاف بھرپور مہم چلا رہے ہیں اور اب سگریٹ کی ایڈورٹائزنگ اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے پر اکثر ممالک میں پابندی لگ چکی ہے لیکن شراب، جس کے نقصانات سگریٹ سے کہیں زیادہ ہیں، نہ صرف یہ کہ کھلے عام پی جاتی ہے بلکہ اس کی ایڈورٹائزنگ بھی ان کے میڈیا پر عام ہے۔

     چرچ کا گیٹ بند تھا۔ ایک صاحب سے میں نے چرچ کے گیٹ کا پوچھا تو وہ مجھے نجانے کیا سمجھے، حیرت سے میری شکل دیکھ کر کہنے لگے، "چرچ جا رہے ہیں تو آپ نے داڑھی کیوں رکھی ہوئی ہے؟" گیٹ کے سامنے ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ اس میں ایک اسی نوے سالہ بزرگ اپنی اہلیہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر میں دونوں نے وقت گزارنے کا اچھا طریقہ ڈھونڈا تھا۔ میں نے ان بزرگ سے چرچ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ موزائک آرٹ کے تمام نمونے اب آرکیالوجیکل پارک اور مادبہ میوزیم میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے ہمیں میوزیم کا راستہ بھی سمجھا دیا جو ساتھ والی گلی ہی میں تھا۔

بازنطینی رومیوں کا موزائک آرٹ

مادبہ میوزیم پہنچے تو وہاں چند عرب خواتین بیٹھی تھیں۔ ان سے تین دینار کا ٹکٹ لیا اور میوزیم دیکھنے نکل کھڑے ہوئے۔ ان خاتون نے یہ بھی بتایا کہ اسی ٹکٹ میں آپ آرکیالوجیکل پارک بھی دیکھ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کی آمد سے پہلے اردن اور شام پر اہل روم کی حکومت تھی۔ ان لوگوں نے مادبہ کے علاقے میں موزائک آرٹ کو بہت فروغ دیا۔ اس آرٹ میں پتھر کے باریک باریک ٹکڑوں کی مدد سے فرش یا دیواروں پر تصاویر اور نقشے بنائی جاتیں۔ یہ فرش ہمارے موزائک یا چپس کے فرشوں سے مختلف ہوتے تھے۔

     میوزیم میں موجود تصاویر میں پھولوں، گھوڑوں، پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی تصاویر شامل تھیں جو کہ چھوٹے چھوٹے پتھروں کی مدد سے بنائی گئی تھیں۔ یہ آرٹ نہایت ہی متاثر کن تھا۔ ارض مقدس کے ایک موزائک نقشے کی تصاویر میں نے انٹر نیٹ پر دیکھی تھیں لیکن وہ یہاں نظر نہ آیا۔ شاید وہ آرکیالوجیکل پارک میں ہو گا۔ یہاں بہت سے ستونوں کے ٹکڑے بھی پڑے تھے۔ اندر شو کیسوں میں قدیم دور کے برتن، زیور، ہتھیار اور سکے وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ قدیم دور کے عرب بدوؤں کے کچھ مجسمے بھی یہاں موجود تھے جنہیں اس دور کا لباس پہنا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ یہ مجسمے دیکھنے میں جیتے جاگتے انسان لگتے تھے۔

     یہاں آرکیالوجیکل پارک کا ایک بروشر بھی نظر آیا۔ وقت کی کمی کے باعث ہم یہاں جا نہ سکے۔ اس پوسٹر میں یہ بتایا گیا تھا کہ چھٹی اور ساتویں صدی میں اردن کے علاقے میں بہت سے گرجا تعمیر کیے گئے تھے۔ جب یہ علاقے مسلمانوں کے زیر اقتدار آئے تو ان گرجوں کو پوری آب و تاب سے برقرار رکھا گیا۔ مسلمانوں کے اقتدار میں ہمیشہ غیر مسلموں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی گئی ہے۔ مذہبی رواداری کی یہ روایت ایسی ہے کہ جس پر تعصب کے اس دور میں بھی بڑی حد تک عمل ہو رہا ہے چنانچہ پاکستان جیسے ملک میں چرچ اور مندر مساجد کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ محفوظ ہیں۔ اکا دکا واقعات کو استثنا قرار دیا جا سکتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی ہم نے ہمیشہ غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔ مذہبی رواداری کی اس روایت کو ہمیں پوری طرح برقرار رکھنا چاہیے۔

اصحاب کہف کی غار

اس پوسٹر میں اصحاب کہف کی غار کی تصویر بھی دی گئی تھی۔ اہل اردن کا دعوی ہے کہ اصحاب کہف کی غار عمان کے قریب واقع ہے۔ یہی دعوی ترکی کے شہر افسس کے بارے میں بھی کیا جاتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی تحقیقات کے مطابق یہ غار پیٹرا میں واقع ہے جبکہ مودودی صاحب کی رائے میں یہ غار افسس میں ہے۔ اصل حقیقت تو اللہ تعالی کے علم میں ہے۔

موزائک آرٹ

 

 

     اصحاب کہف سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی امت کے چند صاحب ایمان نوجوان تھے جن کے دور میں مشرک حکومت نے مذہبی جبر اور تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اہل ایمان کو سزائیں دینا شروع کیں۔ ان نوجوانوں نے اپنا ایمان بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر ایک غار میں پناہ لے لی۔ ان کا کتا ان کے ساتھ تھا۔ توحید کے ان پروانوں کی یہ ادا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آئی اور اس نے انہیں گہری نیند سلا دیا۔ 300 سال تک یہ لوگ سوتے رہے اور ان کی خوراک اور انہیں الٹ پلٹ کرنے کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا رہا۔ جب وہ اٹھے تو یہ سمجھے کہ شاید ہم ایک آدھ دن یہاں سوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو شہر خوراک لانے کے لیے بھیجا۔

     رومی بادشاہ کے عیسائیت قبول کرنے کے نتیجے میں پورا معاشرہ عیسائیت قبول کر چکا تھا۔ یہ صاحب شہر پہنچے تو ان کے تین سو سال پرانے سکوں، لباس اور انداز و اطوار کے باعث لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ یہ لوگ جب انہیں لے کر غار میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں تین سو سال پہلے کے باشندے موجود ہیں۔ سریانی روایات سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ اس دور میں ان کے ہاں آخرت کے عقیدے پر بحث چھڑی ہوئی تھی اور منکرین آخرت کا فتنہ پھیلا ہوا تھا۔ اس روشن دلیل سے ان لوگوں کو اللہ کی حجت پوری ہو گئی۔ اصحاب کہف کا وہیں انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے ان کے مقام پر ایک عبادت گاہ بنا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس بات پر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے کے باعث ان لوگوں پر لعنت فرمائی تھی۔

     سورہ کہف میں یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ہاں ایک معرکۃ الآرا بحث کی طرف اشارہ کیا ہے جو اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے فضول موضوعات پر بحث کرنے سے منع کیا ہے اور یہ تلقین کی ہے کہ انسان کو اصل بات پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

     میوزیم میں ایک بڑے پتھر پر درود شریف کھود کر لکھا گیا تھا۔ ایک جانب غالباً مسلم دور کی ایک میز بھی تھی جس پر نہایت ہی نفاست سے کام کیا گیا تھا۔ پتھر کے بعض گلدان بھی نظر آئے جن پر مسلمانوں نے کام کیا ہوا تھا۔ رومی دور کی تحریریں بھی بعض پتھروں پر نظر آئیں۔

اردنیوں کی پاکستانیوں سے محبت

میوزیم سے باہر نکل کر ہم مین روڈ پر آئے۔ میرے پاس اردنی دینار اب بالکل ختم ہو گئے تھے۔ ہمیں ابھی اردن میں کم از کم دس بارہ گھنٹے اور گزارنا تھے۔ شہر میں منی چینجر کی کوئی دکان نظر نہ آ رہی تھی۔ روڈ پر "اردن اسلامی بینک" کی بڑی سی عمارت نظر آئی۔ میں نے سوچا کہ یہاں کوشش کی جائے۔ بینک میں داخل ہوا تو ایسا لگا جیسے میں غلطی سے کسی مچھلی منڈی میں آ گھسا ہوں۔ یہاں صرف مچھلیاں نہیں تھیں باقی سب کچھ تھا۔ بینک کا کیشئر مچھلی فروشوں کی طرح آوازیں لگا رہا تھا اور لوگ بے ہنگم طریقے سے دھکم پیل کر رہے تھے۔

     میں نے ایک صاحب سے اپنا مسئلہ بیان کیا، انہوں نے دوسرے کی طرف اشارہ کیا۔ دوسرے سے پوچھا تو انہوں نے تیسرے کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے اب تیسرے صاحب سے، جو کاؤنٹر سے ہٹ کر پچھلی میز پر بیٹھے تھے، اپنا مسئلہ بیان کیا تو وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ کچھ دیر میرے مسئلے پر اور پھر اتنی ہی دیر میری شکل کے بارے میں غور و فکر فرمانے کے بعد پوچھنے لگے، "باکستانی؟؟" میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ بس پھر کیا تھا، سیٹ سے اٹھے، لپک کر میری طرف بڑھے، گرمجوشی سے ہاتھ ملایا، مجھ سے دو سو ریال کا نوٹ لیا اور چشم زدن میں ساڑھے سینتیس اردنی دینار لا کر مجھے تھما دیے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور سلام دعا کر کے بینک سے باہر آ گیا۔

     گاڑی میں مسلسل بیٹھے رہنے کے باعث میری اہلیہ کے پاؤں متورم ہو رہے تھے اور وہ کھلی جوتی کی تلاش میں تھیں۔ بازار میں پہنچ کر وہ اپنی جوتی لینے ایک دکان میں داخل ہوئیں اور میں باہر کھڑے ایک ریڑھی والے سے پھل خریدنے لگا۔ یہاں بڑے سائز کا انگور بافراط موجود تھا۔ یہ انگور ہمارے چھوٹے اور بڑے انگور کے درمیان کی کوئی چیز تھا۔ چکھنے پر نہایت ہی لذیذ معلوم ہوا۔ میں نے عربی میں ان صاحب سے انگور کے کریٹ کی قیمت پوچھی تو وہ اٹھ کر رقص کرنے لگے اور اردو میں جواب دیا، 'ایک دینار'۔ میں حیران ہو گیا اور ان سے اردو جاننے کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے دوبارہ رقص شروع کر دیا اور کہنے لگے، "میرے والد اردنی ہیں اور والدہ حیدر آباد (انڈیا) کی ہیں۔" اپنی زبان جاننے والے سے ملاقات ہونے پر جو خوشی محسوس ہوئی، میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔ میں نے کریٹ خریدا، ان صاحب سے مصافحہ کیا اور آگے چل پڑا۔

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور جبل نیبو

اب ہماری اگلی منزل جبل نیبو تھی۔ مادبہ سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ پہاڑ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پہاڑ کی وجہ اہمیت یہ ہے کہ بائبل کے بیان کے مطابق سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات اس پہاڑ پر ہوئی تھی۔ یہ علاقہ اس دور میں موآبی قوم کا علاقہ تھا جسے بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی قیادت میں فتح کیا تھا۔

پھر موسیٰ موآب کے میدانوں سے کوہ نبو کے اوپر پسگہ کی چوٹی پر، جو یریحو کے مقابل ہے، چڑھ گئے۔ وہاں خداوند نے انہیں جلعاد سے دان تک کا سارا ملک، نفتالی کا سارا ملک، افرائیم اور منسی کا علاقہ، اور مغربی سمندر (بحیرہ روم) تک یہوداہ کا ملک، اور کھجوروں کے شہر یریحو کی وادی سے ضغر تک کا سارا علاقہ دکھایا (یعنی موجودہ فلسطین، شام اور اسرائیل کا پورا علاقہ دکھا دیا)۔ پھر خداوند نے ان سے کہا: "یہ وہ ملک ہے جس کا وعدہ میں نے قسم کھا کر ابرہام، اضحاق اور یعقوب سے کیا تھا اور کہا تھا کہ میں اسے تمہاری نسل کو دوں گا۔ میں نے اس ملک کو تمہیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع تو دے دیا لیکن تم (دریائے اردن اور ڈیڈ سی کے) اس پار جا کر اس میں داخل نہ ہو پاؤ گے۔"

اور خداوند کے کہنے کے مطابق خداوند کے خادم موسیٰ نے وہاں موآب میں وفات پائی۔ اور اس نے اسے ملک موآب میں بیت فعور کے مقابل کی وادی میں دفن کیا لیکن آج کے دن تک کوئی نہیں جانتا ہے کہ ان کی قبر کہاں ہے۔ موسیٰ اپنی وفات کے وقت 120 برس کے تھے پھر بھی نہ تو ان کی آنکھیں کمزور ہوئیں اور نہ ہی ان کی طبعی قوت کم ہوئی۔ (کتاب استثنا 34:1-8)

قراآن مجید کے مطابق ارض مقدس کا یہ وعدہ اس بات سے مشروط تھا کہ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کریں گے۔ چونکہ ان کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے قیامت کی جزا و سزا کا ایک نمونہ دنیا میں دکھانے کے لئے کیا تھا، اس لئے ان کی نیکیوں کا بدلہ بحیثیت قوم انہیں اسی دنیا میں سرفرازی کی شکل میں دیا گیا اور ان کی برائیوں کا بدلہ انہیں اس دنیا میں ہی قومی حیثیت سے دیا گیا۔ ان کی غلط فہمی کہ انہوں نے اس وعدے کا استحقاق اپنے اعمال کی بجائے یہ سمجھا کہ وہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہیں۔ اسی غلط فہمی کے باعث وہ آج دنیا کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہی وعدہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ بنی اسماعیل کے ساتھ کیا گیا۔ جب انہیں ان کی بداعمالیوں کی سزا ملی تو وہ بھی یہی سمجھے کہ یہ وعدہ ہم سے اپنے اعمال کی بجائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی امت کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ بھی آج دنیا کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

جبل نیبو

وادی جہاں بنی اسرائیل ٹھہرے رہے تھے

     پہاڑ سے پہلے ایک مسجد آئی جس کا نام عربی اور انگریزی میں مسجد صلاح الدین لکھا ہوا تھا۔ یہیں ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم آگے روانہ ہوئے۔ اردن میں بھی سعودی عرب کی طرح مساجد میں خواتین کا ہال الگ ہوتا ہے۔ تھوڑا آگے چلے تو "عیون موسی" کا مقام آیا۔ یہاں سے ایک روڈ نیچے وادی میں جا رہی تھی۔ ہم بھی ان چشموں تک پہنچے لیکن یہ اب خشک ہو چکے تھے۔ بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسی وادی میں قیام کیا تھا۔ اپنی وفات سے پہلے آپ جبل نیبو پر چڑھے اور وہیں وفات پائی۔ آپ کی قبر نامعلوم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا تھا، "اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں موسیٰ کی قبر دکھاتا۔"

     تھوڑا سا آگے چلے تو ہم جبل نیبو پر تھے۔ سڑک پہاڑ کی بلندی تک جا رہی تھی۔ عین چوٹی پر قدیم دور کا ایک گرجا بنا ہوا تھا جو غالباً بادشاہ جسٹنین نے سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد میں بنایا تھا۔ مغربی سیاح یہاں بھی دھڑا دھڑ بسوں سے اتر رہے تھے۔ ہم لوگ کچھ دیر یہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے اور اس کے بندوں موسی اور محمد علیہم الصلوۃ والسلام پر درود و سلام کے نذرانے پیش کرنے کے بعد آگے روانہ ہوئے۔

     دل تو چاہ رہا ہے کہ یہاں سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت اور بنی اسرائیل کی مختصر تاریخ بیان کر دی جائے لیکن اسے میں کوہ طور پہنچنے تک موخر کرتا ہوں۔

بپتسمہ سائٹ

جبل نیبو سے آگے بڑھے تو اترائی نے ہمارا خیر مقدم کیا۔ اب ہم دوبارہ گہرائی میں جا رہے تھے اور یہ گہرائی سطح سمندر سے بھی نیچے ہمیں لے جاتی۔ سامنے دریائے اردن کے اس پار ارض مقدس نظر آ رہی تھی جو جبل نیبو پر سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھائی گئی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہم بپتسہ سائٹ جا پہنچے۔ گیٹ پر بپتسمہ سائٹ کے منتظم نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ گاڑی یہیں پارک کر کے آپ ٹکٹ لے لیجیے۔ سائٹ کی بس آئے گی اور تمام سیاحوں کو لے کر مقدس مقامات تک جائے گی۔ تعارف پر ان کا نام ایمن معلوم ہوا۔

     مجھے ایمن صاحب کی شکل کچھ جانی پہچانی لگی اور میں نے ان سے اس کا اظہار بھی کیا۔ وہ کہنے لگے، مجھے آپ بھی جانے پہچانے لگ رہے ہیں۔ میں نے کہا، "آپ کبھی جدہ آئے ہیں۔" کہنے لگے، "نہیں! میں تو اردن سے باہر کبھی نہیں نکلا۔" ہم لوگ انتظار گاہ میں آ کر بیٹھ گئے۔

     میرا ذہن ابھی تک ایمن صاحب کی شکل میں ہی الجھا ہوا تھا۔ اس مشکل کو میری اہلیہ نے سلجھایا۔ کہنے لگیں، "ایسے نقش و نگار کے لوگ لاہوریوں میں بہت پائے جاتے ہیں۔" میرے ذہن میں ایک جھماکا ہوا اور اندرون بھاٹی و لوہاری، مصری شاہ، وسن پورہ اور شاد باغ کے رہنے والے بہت سے گوگے، مھنّے، گامے، بلّے، بھولے اور بگے میری آنکھوں کے سامنے آ گئے۔ غیر لاہوریوں کی معلومات کی لئے عرض ہے کہ اہل لاہور میں یہ نام بطور عرف استعمال ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنی عرفیت اتنی عزیز ہوتی ہے کہ نکاح نامے سے لے کر الیکشن کے بینرز تک اور اسکول کے فارم سے لے کر قبر کے کتبے تک ہر جگہ اپنے نام کے ساتھ عرفیت ضرور لکھتے ہیں۔

     رہا مسئلہ یہ کہ ایمن صاحب کو میری شکل دیکھی دیکھی لگی تھی تو یہ کوئی خاص بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ملتی جلتی شکلوں کے لاکھوں یا کم از کم ہزاروں افراد دنیا میں پیدا کئے ہیں۔ اپنے دو چار ہم شکلوں کو میں خود بھی جانتا ہوں۔ میں اگر زندگی میں پہلی مرتبہ بھی دنیا کے کسی گوشے میں چلا جاؤں تو "آپ کو کہیں دیکھا ہے" یا "آپ فلاں صاحب یا ان کے بھائی تو نہیں؟" کے جملے ہر جگہ سننے کو ملتے ہیں۔ مجھے تو یہ خطرہ بھی لاحق ہے کہ کہیں کسی اور کے دھوکے میں کوئی مجھے قتل نہ کر جائے۔ اس بحث سے ثابت یہ ہوا کہ ایمن صاحب سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوئی تھی۔

     ٹکٹ خریدنے کے بعد ہم لوگ گھنے درختوں کی چھاؤں میں بنچوں پر بیٹھ گئے۔ ہمارے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ وہاں موجود تھی۔ ٹھیک دس منٹ بعد بس آ گئی اور ہمیں لاد کر اصل سائٹ کی طرف چل پڑی۔ یہ پورا علاقہ اردن اور اسرائیل کا سرحدی علاقہ تھا۔ تھوڑی دور جا کر ایک چیک پوسٹ آئی اور ایک فوجی نے بس ڈرائیور  سے اجازت نامہ وصول کرنے کے بعد گیٹ کھول دیا۔ اب ہم اردن اور اسرائیل کے درمیان نیوٹرل زون میں داخل ہو چکے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم کسی خشک دریا میں اتر چکے ہیں۔ ایمن صاحب بتانے لگے کہ کسی زمانے میں دریائے اردن اس پورے علاقے پر مشتمل تھا لیکن بعد میں شام اور اسرائیل میں ڈیم بننے کے باعث یہ خشک ہو گیا اور اب صرف دس فٹ کی ایک ندی پر مشتمل ہے۔

     تھوڑی دور جا کر اصل سائٹ آ گئی۔ بس سے اترتے ہی وہاں واقع چرچ کے منتظم پادری صاحب نے گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ پورا علاقہ نہایت ہی سرسبز تھا لیکن شاداب نہ تھا۔ ہمارے ارد گرد پانی کے جنگلات تھے جو اسی قسم کے لگ رہے تھے جیسا کہ ہاکس بے کے علاقے میں سمندری جنگلات ہیں۔ انہی جنگلات کے درمیان کچا راستہ تھا جس پر چل کر ہمیں بپتسمہ سائٹ پر جانا تھا۔ ہمارے علاوہ باقی تمام لوگ ایک ہی فیملی سے تعلق رکھتے  تھے اور پادری صاحب کے گرد گھیرا ڈال کر چل رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک ڈیڑھ دو سالہ بچی بھی تھی۔

     تھوڑی دور جا کر ایمن صاحب میرے قریب آ گئے۔ کہنے لگے، "یہ لوگ دراصل بچی کو بپتسمہ دینے کے لئے آئے ہیں اور سیدھے چرچ جائیں گے۔ آپ میرے ساتھ آئیے۔" میں نے کہا،" میں بپتسمہ کا عمل بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔" کہنے لگے، "ہمارا وقت محدود ہوتا ہے۔ اس صورت میں اصل مقامات رہ جائیں گے۔" اب ہم ان لوگوں سے علیحدہ ہو کر ایک اور پگڈنڈی پر ہو لئے۔ تھوڑی دور جا کر بپتسمہ سائٹ آ گئی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سیدنا یحیی (John the Baptist) علیہ الصلوۃ والسلام نے سیدنا عیسیٰ (Jesus Christ) علیہ الصلوۃ والسلام کو بپتسمہ دیا تھا۔

     اس مقام پر پانچویں یا چھٹی صدی کا لکڑی کا بنا ہوا ایک متروک گرجا بھی موجود تھا جو سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ اس تاریخی گرجا میں بھی موزائک کے فرش پر کئی تصاویر اور نقشے بنائے گئے تھے۔ بپتسمہ کا اصل مقام گہرائی میں تھا۔ ایک طرف اس سائٹ کا نقشہ بھی بنا ہوا تھا جسے کے مطابق اس دور میں دریائے اردن سے پانی کی ایک شاخ (Stream) اس مقام پر آتی تھی۔ یہ شاخ یحیی کے چشمے (John the Baptist Spring) کے نام سے مشہور تھی۔ اسی جگہ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو بپتسمہ دیا گیا تھا۔

بپتسمہ کا مقام کو جانے والا راستہ

بپتسمہ کا مقام

قدیم چرچ کی یادگار

جدید آرتھو ڈوکس چرچ

دریائے اردن (سامنے فلسطینی علاقہ ہے)

بپتسمہ دینے کی خیالی تصویر

بپتسمہ کا پانی

     میں نے ایمن صاحب سے کہا، "میں نے سنا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بپتسمہ کی ایک سائٹ گلیل کی جھیل کے پاس بھی ہے۔" کہنے لگے، "مختلف روایات موجود ہیں۔ اس سائٹ کے اصل مقام ہونے کے تین ثبوت پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک تو بائبل ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بپتسمہ سے پہلے سیدنا عیسی نے دریا پار کیا تھا۔  چونکہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام دریا کے اس پار یروشلم میں تھے تو دریا پار کر کے اسی جگہ آئے ہوں گے۔ دوسرے ان گرجوں سے ملنے والے قدیم نقشے ہیں اور تیسرے اس مقام کی زیارت کرنے والے افراد ہیں جو صدیوں سے تواتر کے ساتھ یہاں آ رہے ہیں۔" اس کی تفصیلات میں نے بعد میں اس مقام کی ویب سائٹ www.baptismsite.com  پر دیکھیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2000ء میں پوپ جان پال دوئم بھی یہاں تشریف لائے اور انہوں نے اس مقام کو مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے بپتسمہ کا اصل مقام قرار دیا۔

پوپ جان پال دوئم اور مذاہب کے مابین مثبت مکالمہ

پوپ جان پال کیتھولک عیسائیوں کی محبوب ترین شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت کا مسلمان بھی بہت احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے عیسائیت اور دیگر مذاہب کے درمیان ایک مثبت مکالمہ شروع کرنے کی اعلی روایت قائم کی۔ اسلام اور دیگر مذاہب کے ساتھ ان کا رویہ احترام اور مثبت گفت و شنید پرمبنی رہا۔ کاش ہمارے ہاں بھی ایسی شخصیات پیدا ہوں جو دوسرے مذاہب کے ساتھ منفی انداز کی مناظرے بازی کی بجائے "مثبت مکالمے" کو فروغ دیں۔ اپنے دین کی تبلیغ دوسروں کے مذہب کی توہین سے نہیں بلکہ ہمیشہ صرف اور صرف مثبت انداز میں مکالمہ کرنے سے ہو سکتی ہے۔

     اسلام کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غیر مسلموں نے اسی صورت میں اسلام قبول کیا ہے جب ان کے سامنے اسلام ایک مثبت ماحول میں سامنے آیا ہے۔ سری لنکا اور بھارت کے جنوبی علاقوں کے علاوہ انڈونیشیا اور ملائشیا اس کی مثال ہیں۔ پچھلے دو سو سال سے ہمارے ہاں جو ذہنیت پیدا ہوئی ہے، اس کے تحت ہم نے دنیا کے سامنے اسلام کو دہشت گردی، نفرت،اور دوسروں کی اہانت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

     اس امیج کو ہماری بے وقوفیوں اور اسلام دشمنوں کے پراپیگنڈے کے تحت غیر مسلموں کے سامنے پوری شدت سے پیش کیا گیا ہے۔ اسلام کو غیر مسلموں کے سامنے ان کے مخالفین کے مذہب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس امیج کے تحت کون ایسا شخص ہو گا جو مثبت طریقے سے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے معجزہ ہے کہ دیار مغرب میں بے شمار لوگ پھر بھی اسلام قبول کر رہے ہیں اور غیر مسلموں کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے۔

     ہمارا ایمان ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام، اللہ تعالیٰ کی جانب سے صرف اور صرف ایک ہی دین لے کر آئے۔ اس دین میں عقائد اور اخلاقیات کے لحاظ سے کوئی فرق نہ تھا البتہ وقتی حالات کی مناسبت سے شرعی احکام میں تھوڑا بہت تغیر واقع ہوتا رہا ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنی شریعت کا عیسائیوں اور یہودیوں کی شریعت سے موازنہ کریں تو ان میں مشترک احکام کی تعداد، اختلافات کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

     ایسا ضرور ہوا ہے کہ بعض غیر مخلص لوگوں نے (بشمول مسلمان کہلانے والوں کے) اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کو اپنی خواہشات، تعصبات اور مفادات کے تحت مسخ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت اتنی واضح ہے کہ اگر کوئی خلوص نیت سے کوشش کرے تو حق تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔ قرآن مجید نے ہمیں اہل کتاب سے گفتگو کرنے کا جو طریقہ بتایا ہے، اس کے مطابق ہماری گفتگو ان کے ساتھ متفق علیہ چیزوں سے شروع ہونی چاہیے۔ اسی چیز کو میں "مثبت مکالمہ" کا نام دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں علماء کہلانے والے بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے برعکس "مناظرہ" کا طریقہ اختیار کیا جو کہ شروع ہی اختلاف سے ہوتا ہے اور اس میں دوسرے کے نقطہ نظر کی توہین کی جاتی ہے جس سے نفرتوں میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

     یہودی، عیسائی اور مسلمان کے درمیان مشترک شخصیت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی شخصیت ہے۔ دین ابراہیمی کی روایت میں مشترک عقائد، اخلاقیات اور شرعی احکام کی تعداد اختلافات سے کہیں زیادہ ہے۔ انہی مشترک عقائد، اخلاقیات اور شرعی احکام کو بنیاد بنا کر مثبت مکالمہ شروع کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ان تینوں مذاہب کے ماننے والوں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہی مکالمہ ہندو مت، بدھ مذہب اور دیگر تمام مذاہب کے ساتھ شروع کیا جا سکتا ہے جن میں اسلام کے ساتھ مشترک عقائد، اخلاقیات اور شرعی احکام کی بڑی تعداد موجود ہے۔

     اس مکالمے کو شروع کرنے کے لئے سب سے اہم کام مثبت ذہن رکھنے والے ایسے اہل علم کی تیاری ہے جو اپنے دین کے ساتھ ساتھ دوسرے ادیان کو بھی کھلے دل سے سمجھنے کے لئے تیار ہوں۔ اپنے ہاں ایسے اہل علم کی تیاری کے ساتھ ساتھ ہمیں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے بھی اپیل کرنی چاہیے کہ وہ بھی اپنے ہاں ایسے مثبت ذہن رکھنے والے اہل علم تیار کریں تاکہ ڈائیلاگ کے اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اہل کلیسا اس معاملے میں پہلے ہی کافی کام کر چکے ہیں۔

آرتھو ڈوکس چرچ

بپستمہ سائٹ سے گزر کر ہم لوگ آگے بڑھے۔ تھوڑی دور جا کر ایک نو تعمیر شدہ چرچ ہمارے سامنے تھا جس کا مسجد اقصی کی طرز کا سنہرا گنبد دھوپ میں چمک رہا تھا۔ میرے استفسار پر ایمن صاحب نے بتایا کہ یہ آرتھوڈوکس فرقے کا چرچ ہے۔ پوپ نے کیتھولک فرقے کے چرچ کی منظوری بھی دے دی تھی جس کا ڈیزائن آرکیٹکٹ تیار کر رہے ہیں۔ پروٹسٹنٹ فرقے کے چرچ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

     اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرقوں اور مسالک کی بنیاد پر مساجد صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بنتیں بلکہ دیگر مذاہب کے ہاں بھی یہ تصور موجود ہے۔ ویسے ہمارے ہاں بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر مساجد میں نے صرف برصغیر ہی میں دیکھیں۔ عالم عرب، اردن، مصر اور ترکی وغیرہ میں اس بات کو کوئی تصور نہیں ہے۔ امریکہ اور یورپ میں چونکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد برصغیر ہی سے گئی ہے اس لئے اپنے فرقہ وارانہ تصورات بھی یہ لوگ وہاں لے گئے اور انہی بنیادوں پر وہاں مساجد کی تعمیر کی۔

     قرآن مجید کا نقطہ نظر اس بارے میں بالکل مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق ایک خدا کی عبادت کے لئے بنائی جانے والی عمارتوں کو صرف خدا ہی کے لئے وقف ہونا چاہیے اور ہر شخص کو اس میں عبادت کرنے کے لئے مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔ قرآن مجید نے ایسے مقامات پر عبادت کرنے سے روکنے کی شدید مذمت کی ہے۔ "وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا۔ اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مساجد میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو۔" (البقرہ 2:114)

     یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مسجد نبوی میں نجران سے آنے والے عیسائی وفد کے ارکان کو اپنے طریقے پر نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ جب یروشلم فتح ہوا تو نماز کے وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نماز کے لئے جگہ تلاش کرنے لگے۔ عیسائی پادریوں نے آپ کو گرجا میں نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "میں نماز پڑھ تو لوں لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ کہیں مستقبل میں کوئی مسلمان اس بنیاد پر اس گرجے پر قبضہ نہ کر لے کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز ادا کی تھی۔" اسی وجہ سے آپ نے گرجا کی سیڑھیوں کے پاس نماز ادا کی۔ اس سے دور اول کے مسلمانوں کی رواداری اور مذہبی آزادی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

     یہاں موجود چرچ کی عمارت نہایت ہی خوبصورت تھی۔ اس چرچ کا افتتاح 2004ء میں کیا گیا۔ بڑے پادری صاحب کے نائب ہمیں لے کر چرچ میں داخل ہوئے۔ بڑے پادری صاحب بھی باریش تھے لیکن ان کے نائب ایک مشت داڑھی کے باعث اچھے خاصے امام مسجد لگ رہے تھے۔ میں نے ان سے جوتے اتارنے کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے، "اس کی ضرورت نہیں"۔

انبیاء کرام کی تصاویر

یہ ایک چھوٹا سا چرچ تھا۔ ہال کا فرش لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ ایک جانب ایک ڈائس رکھا ہوا تھا جہاں پادری صاحب خطبہ دیتے تھے۔ چرچ کی دیواروں پر بہت سی تصاویر پینٹ کی گئی تھیں جن میں سے زیادہ تر سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی تھیں۔ آپ کی حیات طیبہ کے مختلف ادوار کو ان تصاویر میں دکھایا گیا تھا۔ ایک تصویر آپ کے بچپن کی تھی جس میں آپ اپنی والدہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھے۔ ایک تصویر لڑکپن کی تھی۔ ایک اور تصویر میں آپ کو بپتسمہ لیتے دکھایا گیا تھا۔ آپ کی جوانی کی تصاویر بھی یہاں موجود تھیں۔ ایک تصویر سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔ ایک تصویر میں آپ کے صحابہ یا حواری دکھائے گئے تھے۔ ان کے علاوہ مختلف ادوار کے راہبوں کی تصاویر بھی یہاں موجود تھیں۔

     یہاں ایک کتبہ بھی تھا جس پر عربی اور کسی یورپی زبان غالباً اطالوی میں لکھا ہوا تھا، "دریائے اردن کے قریب بپتسمہ سائٹ پر واقع گرجا سے برآمد ہونے والے ان نوادرات کا تعلق اولیاء اللہ سے ہے۔" ان نوادرات میں کسی راہب کی ہڈیاں اور کھوپڑی بھی شامل تھی۔ میری اہلیہ کو انسانی کھوپڑی دیکھنے کا بہت شوق تھا اس لئے میں نے انہیں یہ کھوپڑی خاص طور پر دکھائی۔ انہوں نے کافی حوصلے سے اس کھوپڑی کو دیکھا۔ چرچ کی مرکزی دیوار میں ایک محراب بنی ہوئی تھی جس پر صلیب کا نشان بنا ہوا تھا۔ اس کے اوپر دو تصاویر تھیں جن میں سے ایک حضرت جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔ اس میں ان کےدو پر واضح طور پر دکھائے گئے تھے۔

     قدیم دور سے اللہ کے نیک بندوں کی تصاویر اور مجسمے بنانے کا رجحان مختلف اقوام میں موجود رہا ہے۔ بالعموم یہ تصاویر اور مجسمے ان کی وفات کے بعد ان کی یاد قائم رکھنے کے لئے بنائے گئے۔ کئی نسلوں کے بعد یہ تصاویر انتہائی تقدس اختیار کر جاتیں اور بسا اوقات ان نیک بندوں کی تعلیمات کے بالکل برعکس انہی کی پرستش شروع کر دی جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسی وجہ سے مقدس تصاویر بنانے سے منع فرمایا۔ اسی حکم کے باعث مسلمانوں کے ہاں مذہبی شخصیات کی تصاویر کا رجحان زور نہ پکڑ سکا۔ احادیث میں اگر چہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حلیہ تفصیل سے بیان ہوا ہے لیکن اس کی بنیاد پر کسی نے آپ کی تصویر بنانے کی جرأت نہیں کی ہے۔

     بعد کے ادوار میں جب مسلمان حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکام سے دور ہٹ گئے تو تصاویر پرستی کی جگہ قبر پرستی نے لے لی۔ نیک بندوں کے عالیشان مقبرے بنائے گئے، ان سے منتیں مانی گئیں، ان پر چڑھاوے چڑھائے گئے، ان مقامات پر سالانہ میلے منعقد کئے گئے اور یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا۔ دور جدید میں بہت سے افراد اپنے اساتذہ یا پیر صاحبان کی تصاویر گھروں میں آویزاں کرتے ہیں۔ تقدس کے انتہائی جذبات کے ساتھ صبح اٹھ کر سب سے پہلے ان کی زیارت کرتے ہیں اور انہیں چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں۔

دریائے اردن

اب ہم چرچ سے نکل کر دریائے اردن کی طرف آ گئے۔ دریا کے دونوں جانب گھنا سبزہ تھا جس کے باعث اس کا پانی سبز رنگ کا ہو رہا تھا۔ اس مقام پر دریا کی چوڑائی دس فٹ کے قریب تھی۔ گھنے سبزے کے درمیان دریا کا منظر کافی خوبصورت محسوس ہو رہا تھا۔ عیسائیوں کے نزدیک اس دریا کے پانی کا ایک ایک قطرہ مقدس ہے۔ ان کے ہاں دریائے اردن کو وہی حیثیت حاصل ہے جو ہندوؤں کے ہاں دریائے گنگا کو ہے۔

     ایمن بتانے لگے کہ فلسطینی شہر 'یریحو (Jeriho)' یہاں سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یریحو دنیا کا سب سے قدیم مسلسل آباد شہر ہے۔ بائبل میں بارہا اس کا ذکر آیا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ یہ شہر 9000 سال سے آباد ہے۔ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے سیدنا یشوع بن نون علیہ الصلوۃ والسلام کی قیادت میں اسی مقام کے پاس سے دریائے اردن پار کر کے سب سے پہلے یریحو کو فتح کیا تھا۔ میرے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ کبھی کبھی دریا کے دوسری جانب فلسطینی علاقے میں رہنے والے عیسائی بھی اس مقام کی زیارت کے لئے آتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔

     پوچھنے پر معلوم ہوا کہ 'یروشلم' اس مقام سے صرف26  کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ میرے دل میں ایک انتہائی درجے کی حسرت پیدا ہوئی۔ مسجد اقصیٰ سے اس قدر قریب ہو کر پلٹ جانا ایک ایسی محرومی تھی جسے ہم نے بڑی مشکل برداشت کیا ورنہ میرا دل یہ چاہ رہا تھا کہ لانگ جمپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریا پار کر کے فلسطین میں داخل ہو جاؤں اور وہاں سے کسی طرح یروشلم پہنچ جاؤں لیکن ظاہر ہے ایسا ممکن نہ تھا۔ میرے پاسپورٹ پر لکھے ہوئے الفاظ “Not valid for Israel” ہی مجھے روکنے کے لئے کافی تھے۔ انسان کو اچھی امید رکھنی چاہیے۔ امید ہے کہ اگلے چند سالوں میں فلسطینی اتھارٹی اس قابل ہو جائے گی کہ اپنا ویزا جاری کرنے لگ جائے۔ اس وقت شاید ہمارے لئے ممکن ہو کہ ہم مسجد اقصیٰ کی زیارت کر سکیں۔

بپتسمہ کی رسم

دریا کے کنارے ہی بچی کے بپتسمہ کی رسم جاری تھی۔ پادری صاحب عربی میں دعائیں پڑھنے میں مشغول تھے۔ ان کا انداز بالکل ایسا تھا جیسا کہ پنڈت حضرات اشلوک پڑھتے ہیں یا ہمارے مولوی صاحبان گھروں میں 'ختم' کے موقع پر دعائیں پڑھتے ہیں۔

     'خداوند' کے لئے پادری صاحب لفظ 'اللہ' استعمال کر رہے تھے۔ لفظ 'اللہ' عربی الفاظ 'ال' اور 'الہ' سے مل کر بنا ہے۔ اس کا عربی میں وہی مفہوم ہے جو کہ اردو کے لفظ 'خدا' اور انگریزی کے لفظ 'گاڈ' کا ہے۔ مجھے ایک خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی جب انہوں نے دعاؤں میں "رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ  یعنی اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا" پڑھی۔ اس کے علاوہ بھی اور کئی قرآنی دعائیں انہوں نے اس موقع پر پڑھیں۔

     مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے ایمن صاحب سے اس کے بارے میں پوچھا۔ وہ کہنے لگے، "اردن میں مذہبی امور کا ایک ادارہ ہے جس میں مسلم اور عیسائی علماء اکٹھے کام کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں ایک دوسرے کے مذہب کے بارے میں علم ہوتا رہتا ہے۔" میرے خیال میں ہمارے ہاں بھی اگر اس طرح کے مشترک ادارے بنائے جائیں تو مذاہب کے درمیان مثبت مکالمے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

     دعاؤں کے بعد پادری صاحب نے حاضرین سے اپنے مخصوص عقائد کا اقرار کروایا۔ قریب ہی بپتسمہ کا بڑا سا ٹب رکھا تھا جس میں دریائے اردن کا پانی تھا۔ اس پانی کو بچی پر ڈالا گیا تو وہ رونے لگی۔ مسیحی عقیدے کے مطابق اب یہ بچی دین مسیحی میں داخل ہوئی تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ حدیث یاد آئی جس میں آپ نے فرمایا تھا، "ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔" اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان کا ابتدائی ماحول اس کے افکار اور نظریات پر حاوی ہوتا ہے۔

     میں ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوا۔ والدین، ارد گرد کے ماحول اور مذہبی راہنماؤں نے میرے ذہن میں یہ اتارنے کی کوشش کی کہ جس مذہب، فرقے اور مسلک کو میرے ذہن میں اتارا جا رہا ہے بس دنیا میں وہی حق ہے۔ بڑا ہونے پر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ دنیا کے تمام مذاہب اور نقطہ ہائے نظر کے ماننے والے اسی طرح اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں اور اپنے عقائد کو بچے کے ذہن میں راسخ کر دیتے ہیں وئے جو کہ کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اسی فکر کے تحت میں نے مختلف مذاہب اور نقطہ ہائے نظر کا مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے دوران انصاف پسندی بنیادی اہمیت کی حامل تھی کہ تمام مذاہب اور نقطہ ہائے نظر کو یکساں اہمیت (Weightage) دی جائے اور کسی تعصب کو اس عمل میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

     اس مطالعے کے نتیجے میں مجھے یہی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے پیغمبروں کے ذریعے پہنچایا گیا دین ہی حق ہے۔ اسی دین کا آخری ورژن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے دنیا کو دیا گیا۔  آپ کوئی نیا دین لے کر نہیں آئے بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے اصلی دین کو ان آمیزشوں سے پاک فرما کر اپنی اصل صورت میں جاری کیا جس میں مذہبی راہنماؤں نے بہت سے اضافے کر رکھے تھے۔

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ انسان اگر ذہن کھلا رکھے اور حق کو قبول کرنے میں کسی تعصب کا شکار نہ ہو تو وہ باآسانی حق کو پا سکتا ہے۔ اس کے لئے شرط صرف اور صرف یہی ہے کہ انسان اپنا ذہن کھلا رکھے اور انتہا پسندی کی بجائے اعتدال پسندی کو اپنا شعار بنائے۔

انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق

میڈیا کے منفی کردار کے باعث ہمارے ہاں دوسری قوموں کے بارے میں بڑا ہی غلط تصور پایا جاتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں یہ اتارا جاتا ہے کہ دوسری قوموں کے تمام افراد انتہا پسندوں پر مشتمل ہیں جو ہمیں مار کر اپنا غلام بنا لینا چاہتے ہیں۔ بعینہ یہی کام ان قوموں کا میڈیا ہمارے معاملے میں کرتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ تمام کے تمام مسلمان انتہا پسند ہیں جو پوری دنیا کو اپنا غلام بنا لینا چاہتے ہیں۔

     دقت نظر سے دیکھا جائے تو دونوں جانب کے میڈیا کی پیش کی ہوئی یہ تصویر درست نہیں ہے۔ جس طرح ہر مسلمان انتہا پسند نہیں ہے بلکہ ان کی اکثریت اعتدال پسندوں پر مشتمل ہے، اسی طرح دوسری اقوام کے ہاں بھی اکثریت اعتدال پسندوں پر مشتمل ہی ہے۔ انتہا پسند اگرچہ اقلیت میں ہوتے ہیں لیکن بہت زیادہ منظم ہوتے ہیں اور میڈیا پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز زیادہ شدت کے ساتھ گونجتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور اس میں اعتدال پسندوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔

     انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا تعلق کسی ایک مذہب کے ساتھ نہیں۔ یہ انسانی رویوں کا نام ہے جنہیں باقاعدہ تربیت کے ذریعے کسی بھی مذہب کے ماننے والے فرد کی شخصیت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ انتہا پسند کو شروع ہی سے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ اسے دوسروں کو مارنا ہے خواہ اس کے لئے اسے خود کو ختم کیوں نہ کرنا پڑے۔ اسے دوسروں کو غلام بنانا ہے خواہ اس کے لئے اس کی اپنی زندگی، اپنے لیڈروں کی غلامی میں ہی بسر کیوں نہ ہو۔ اسے دوسروں کو بے عزت کرنا ہے خواہ اس کے لئے اسے اپنی عزت ہی داؤ پر کیوں نہ لگانی پڑے۔ اسے دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے خواہ اس کے لئے اسے اپنی بیوی، اولاد، کاروبار یا زندگی کا نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ انتہا پسند کی پوری زندگی Do or die کی عملی تعبیر ہوتی ہے۔

     اس کے برعکس اعتدال پسند کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کے لئے دوسرے کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ اپنی آزادی کے لئے ہمیں دوسروں کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔ خود کو نقصان سے بچانے کے لئے ہمیں دوسروں کو نقصان سے بچانا چاہیے۔ اپنی عزت کروانے کے لئے دوسرے کی عزت کرنی چاہیے۔ اعتدال پسند کی پوری زندگی 'جیو اور جینے دو' کے فلسفے کی عملی تعبیر ہوتی ہے۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر میں سے کون سا انسانیت کے لئے مفید ہے، یہ جاننے کے لئے بہت بڑا عالم یا مفکر ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے تمام الہامی مذاہب اعتدال پسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔

     اس فیملی کے تمام لوگ نہایت عقیدت سے دعاؤں اور مناجات میں مشغول تھے۔ ان کے مرد تو معقول لباس پہنے ہوئے تھے لیکن خواتین کے لباس مناسب نہ تھے۔ حیا انسان کی فطرت کا حصہ ہے جس میں اس کا لباس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ حیا ہی ہے جو انسان کو بدکاری سے بچاتی ہے۔ بے حیائی انسان کو بدکاری کی طرف لے جاتی ہے۔ اہل مغرب نے اس معاملے میں انسانی فطرت کو بری طرح مسخ کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مقدس ترین مذہبی مقام پر مقدس ترین رسومات کی ادائیگی کے دوران بھی یہ لوگ باحیا لباس پہننے کو ضروری نہیں سمجھ رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے مذہبی راہنما بھی اس پر ان سے کچھ تعرض نہ کر رہے تھے۔

سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام (John the Baptist)

مسیحی روایات کے مطابق دریائے اردن پر بپتسمہ دینے کی رسم سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہوئی۔ آپ نے یروشلم اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں اللہ کے دین کی دعوت دیا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت دراصل بنی اسرائیل کو ان کی طرف مبعوث کئے جانے والے آخری رسول سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے لئے تیار کر دینے کی دعوت تھی۔آپ نے اپنی دعوت کا مرکز بیت عنیاہ (Bethany) کو بنایا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں اس وقت ہم موجود تھے۔ یہ جگہ وادی خرار میں واقع ہے۔

     سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام نہایت ہی سادہ زندگی بسر کرتے۔ آپ اونٹ کے بالوں کا لباس پہنتے، چمڑے کی ایک بیلٹ کمر سے باندھے رکھتے اور ٹڈیوں اور جنگلی شہد کو بطور خوراک استعمال کرتے۔ قرآن مجید نے آپ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

يَا يَحْيَى خُذْ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيّاً. وَحَنَانَاً مِنْ لَدُنَّا وَزَكَاةً وَكَانَ تَقِيّاً. وَبَرّاً بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّاراً عَصِيّاً. وَسَلامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيّاً (مریم 19:12-15)

اے یحیی! کتاب الہی کو مضبوطی سے تھام لو۔ ہم نے انہیں بچپن ہی سے سمجھ بوجھ اور قوت فیصلہ سے نوازا تھا۔ اور اپنی طرف سے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی۔ وہ بڑے پرھیز گار اور والدین کے حق شناس تھے۔ وہ نہ تو جبر کرنے والے اور نہ ہی نافرمان۔ سلام ہو ان پر اس دن جب وہ پیدا ہوئے، جب فوت ہوئے اور جب زندہ اٹھائے جائیں گے۔

ارد گرد کے علاقوں سے بے شمار لوگ سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئے اور آ کر یہاں بپتسمہ لیا۔ یہ بپتسمہ دراصل ایک غسل تھا جس کے دوران یہ لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے۔ پاکیزگی کے احساس کے ساتھ یہ اپنے گھروں کو جاتے اور نیکی کی زندگی بسر کرتے۔ انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی دعوت اعلیٰ ترین اخلاقیات کی دعوت تھی۔ اس علاقے کے گورنر ہیرودوس نے اپنی محبوبہ جو کہ اس کی سوتیلی بیٹی تھی، کی فرمائش پر سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو شہید کروا دیا تھا۔

     آپ کی پوری زندگی اللہ تعالی کے لئے وقف تھی۔ ایک صاحب علم کے الفاظ میں سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام نے جس سر کو چھپانے کے لئے  چھت کے حصول کی کبھی کوشش نہ کی تھی، اسی سر کو اپنے رب کے لئے کٹوا کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔

سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا بپتسمہ

     انجیل یوحنا کے مطابق اسی مقام پر سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوئی۔ آپ نے بھی بپتسمہ لینے کی فرمائش کی۔ سیدنا یحیی نے اس سے منع فرمایا کیونکہ آپ نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا تھا لیکن سیدنا مسیح کے اصرار پر انہیں بپتسمہ دیا۔ اسی موقع پر جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام نازل ہوئے اور آپ پر وحی کا آغاز ہوا۔

     انجیل متی سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس نے سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ورغلانے کی کوشش کی اور آپ کو کہا کہ آپ اگر خدا کے پیارے ہیں تو پہاڑ سے کود کر دکھائیے۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کو آزمانا نہیں چاہیے۔ اس نے آپ کو دنیا کی سلطنتیں دکھائیں اور کہا کہ اگر آپ مجھے سجدہ کردیں تو میں آپ کو یہ سب کچھ دے دوں گا لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا کا حکم یہی ہے کہ صرف اسی کو سجدہ کیا جائے۔

     سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ بنی اسرائیل کے لئے اللہ کی آخری برہان تھے اس لیے آپ کا وجود ہی سراپا معجزہ تھا۔ آپ کی پیدائش بغیر باپ کے بیت لحم میں ہوئی تھی جو کہ یروشلم کے جنوب میں واقع ہے۔ قرآن مجید اور اناجیل کے مطابق یہود نے آپ کی والدہ پر الزام عائد کیا تھا جس کی صفائی آپ نے شیر خوارگی کے عالم میں ماں کی گود میں دی تھی۔

     بادشاہ آپ کے قتل کا درپے تھا جس کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا آپ کو مصر لے گئیں۔ جب بادشاہ مر گیا تو انہوں نے واپس آ کر ناصرہ میں رہائش رکھی جو کہ گلیل کی جھیل کے قریب واقع ہے۔ یہ وہی جھیل ہے جہاں سے دریائے اردن اپنا دوسرا سفر شروع کرتا ہے۔ سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کی گرفتاری کی خبر سن کر عیسی علیہ الصلوۃ والسلام واپس گلیل کے علاقے کی طرف چلے گئے۔

     آپ نے کفر نحوم (Capernahum) نامی شہر میں رہائش رکھی جو کہ گلیل کے کنارے پر واقع ہے۔ آپ کی دعوت کے نتیجے میں جھیل کے چار مچھیرے پطرس، اندریاس، یعقوب اور یوحنا رضی اللہ عنہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کے سابقون الاولون میں شمار ہوئے۔ آپ نے اپنی دعوتی سرگرمیوں کو جھیل کے چاروں طرف کے شہروں میں پھیلا دیا۔ آپ عبادت گاہوں میں جا کر تبلیغ کرتے اور اللہ کے حکم سے مریضوں کو شفا دیتے۔ قرآن مجید کے بیان کے مطابق آپ کی دعا سے کئی مردے زندہ ہوئے، مریض شفا یاب ہوئے، پیدائشی اندھوں کو آنکھیں ملیں اور کوڑھی تندرست ہوئے۔

     سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو جو معجزات عطا ہوئے تھے ان میں یہ بھی تھا کہ آپ اللہ کے حکم سے پرندوں کی مورتیں بنا کر ان میں پھونک مارتے تو وہ زندہ ہو کر اڑ جاتے۔ اللہ تعالی کے بتانے پر آپ لوگوں کو یہ بتاتے کہ وہ کیا کھا کر آئے ہیں اور گھر میں کیا چھوڑ آئے ہیں۔

     بائبل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس زمانے میں ظواہر پرستی کے مرض میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ان کےہاں شرعی احکام کی تو پوری باریک بینی سے پیروی کی جاتی لیکن دین کے بڑے بڑے اخلاقی احکام کو نظر انداز کر دیا جاتا۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اس بات سے تعبیر کیا کہ مچھر تو چھانے جائیں لیکن اونٹ نگلے جائیں۔ تنکوں پر توجہ دی جائے لیکن شہتیر نظر انداز کر دیے جائیں۔ آپ نے اپنی پوری قوت اخلاقیات کی دعوت پر مرکوز کی اور بنی اسرائیل کو اعلی اخلاقیات کی دعوت دی۔

پہاڑی کا وعظ

گلیل کی جھیل کے کنارے واقع ایک پہاڑی پر دیا جانے والا وعظ بہت مشہور ہوا اور بائبل کے مصنفین نے اسے بائبل کا حصہ بنا دیا۔ قرآن مجید نے اس اخلاقی تعلیم کو حکمت سے تعبیر کیا ہے۔ اگر اس وعظ میں دی گئی تعلیمات کا موازنہ قرآن کی اخلاقی تعلیمات کے ساتھ کیا جائے تو ان میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی تھی۔ پہاڑی کے اس وعظ کے چند اقتباسات یہاں نقل کیے جا رہے ہیں:

·         مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب (نرم) ہیں  کیونکہ آسمان کی بادشاہی ان کے لئے ہے۔ مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جنہیں راستبازی کی بھوک و پیاس ہے کیونکہ وہ سیراب ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جو رحمدل ہیں کیونکہ ان پر رحم کیا جائے گا۔ مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو صلح کرواتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے (محبوب) کہلائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی (جنت) انہی کے لئے ہے۔

·         چراغ جلا کر برتن کے نیچے نہیں بلکہ چراغدان پر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ گھر کے سب لوگوں کو روشنی دے۔ اسی طرح تمہاری روشنی کو لوگوں کے سامنے چمکنا چاہیے تاکہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر وہ تمہارے آسمانی باپ (یعنی خدا) کی تمجید کریں۔ (یعنی تمہیں نیکی کی دعوت دینی چاہیے۔)

·         جب تک تمہاری زندگی شریعت کے عالموں اور فریسیوں سے بہتر نہ ہو گی تم آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہو گے۔ (اس میں یہود کے اہل علم کی بے عملیوں کی طرف اشارہ ہے۔)

·         جو کوئی اپنے بھائی کو گالی دیتا ہے وہ عدالت عالیہ میں (خدا کے سامنے) جوابدہ ہو گا۔

·         تم سن چکے ہو کہ زنا نہ کرنا، لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی کسی عورت پر بری نظر ڈالتا ہے وہ اپنے دل میں پہلے ہی اس کے ساتھ زنا کر چکا ہوتا ہے۔

·         اپنے مذہبی فرائض محض لوگوں کو دکھانے کے لئے نہ کرو کیونکہ تمہارا آسمانی باپ اس پر تمہیں اجر نہ دے گا۔

·         جب تم خیرات تو ڈھنڈورا پٹوا کر نہ دو۔ جب تم روزہ رکھو تو ریا کاروں کی طرح اپنا منہ اداس نہ بناؤ۔ ریاکاروں کی طرح  عبادت خانوں اور بازاروں کے موڑ پر کھڑے ہو کر دعا مت کرو۔ دعا میں رٹے رٹائے جملے نہ دوھراؤ۔

·         اگر تم لوگوں کے قصور معاف نہ کرو گے تو تمہارا خدا بھی تمہارے قصور معاف نہ کرے گا۔

·         اپنے لئے زمین پر مال و زر جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ لگ جاتا ہے اور چور نقب لگا کر چرا لیتے ہیں بلکہ اپنے لئے آسمان پر خزانہ جمع کرو جہاں کیڑا اور زنگ نہیں لگتا اور نہ چور نقب لگا کر چراتے ہیں۔ کیونکہ جہاں تمہارا مال ہو گا وہیں تمہارا دل ہو گا۔

·         عیب جوئی نہ کرو تاکہ تمہاری عیب جوئی بھی نہ ہو۔

·         پاک چیز کتوں کو نہ دو اور اپنے موتی سوروں کے آگے نہ ڈالو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ انہیں پاؤں سے روند کر پلٹیں اور تمہیں پھاڑ ڈالیں۔ (یعنی اچھی چیز کم ظرف لوگوں کو نہ دو ورنہ وہ تمہی کو نقصان پہنچائیں گے۔)

·         جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو۔ وہ تمہارے پاس بھیڑوں کے لباس میں آتے ہیں لیکن باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔ تم ان کے پھلوں (تعلیمات) سے انہیں پہچان لو گے۔ (اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے نبیوں اور مذہبی راہنماؤں کا فتنہ بنی اسرائیل میں بھی تھا۔)

سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوتی زندگی

سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت سن کر لوگ بہت حیران ہوئے کیونکہ ان کا انداز اس وقت کے علمائے شریعت سے مختلف تھا۔ ان کے علماء تو بس انہیں چند رسومات کی تلقین کرتے تھے لیکن ان کے اخلاقیات کو بہتر بنانے کی کوئی فکر انہیں نہ تھی۔ کفر نحوم میں رومی فوج کے ایک افسر نے بھی آپ کی دعوت سن کر ایمان قبول کیا۔ ایک عالم شریعت بھی آپ پر ایمان لائے۔ آپ گلیل کی جھیل میں کشتی پر جا رہے تھے کہ ایک طوفان آیا جو آپ کی دعا سے ٹل گیا۔ آپ نے کئی مریضوں کو اللہ کے حکم سے شفا دی۔

     اس دور میں بھی آج کی طرح کسٹم آفیسر ایک نہایت ہی بدنام طبقہ تھا۔ انجیل متی کے مصنف متی رضی اللہ عنہ بھی ایک ایسے ہی کسٹم آفیسر تھے جو آپ کی دعوت پر ایمان لائے۔ اس بات پر فریسی (یہود کا ایک شدت پسند فرقہ) علماء نے ناک بھوں چڑھائی کہ یہ کیسے نبی ہیں جو محصول لینے والوں اور گناہ گاروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو میری زیادہ ضرورت ہے۔

     آپ نے اپنے پیروکاروں میں سے بارہ افراد کو منتخب کر کے انہیں اپنی دعوت پھیلانے کے لئے گرد و نواح کے علاقوں میں بھیجا۔ اسی واقعے کو قرآن نے "مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ۔ کون اللہ کی راہ میں میرا مدد گار ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں۔" کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ آپ نے ان حواریوں کو صرف بنی اسرائیل کے شہروں کی طرف جانے کی تلقین فرمائی۔ آپ نے انہیں غیر مخلص لوگوں سے خبردار رہنے کی نصیحت فرمائی اور انہیں بتایا کہ اس دعوت کے باعث ان پر ظلم و ستم کیا جائے گا اور آپ کی دعوت قبول کرنے والوں سے ان کے گھر والے قطع تعلق کر لیں گے۔

     آپ نے اپنی دعوت سمجھانے کے لئے تمثیل کا اسلوب اختیار کیا اور مختلف مثالوں سے لوگوں کو دین سمجھاتے رہے۔ اس دوران آپ سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کی خبر بھی معلوم کرتے رہے جو بادشاہ کی قید میں تھے۔ اسی دوران بادشاہ نے انہیں شہید کر دیا۔ شہادت کی وجہ یہ تھی کہ بادشاہ کے اپنی سوتیلی بیٹی سے ناجائز تعلقات تھے۔ سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر تنقید کی تھی جس پر اس لڑکی نے بادشاہ سے آپ کے سر کی فرمائش کی۔

     سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مرتبہ پانچ ہزار اور دوسری مرتبہ چار ہزار افراد کو اللہ تعالی کی جانب سے بھیجا گیا کھانا کھلایا۔ تھوڑا سا کھانا بہت سے افراد کے لئے کافی ہو گیا۔ ایسا ہی واقعہ احادیث کی کتب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بارے میں ملتا ہے۔ جناب عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت کو دریائے اردن کے دونوں جانب کے علاقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی البتہ آپ کے اپنے شہر کے لوگوں میں سے زیادہ لوگ ایمان نہ لائے جس پر آپ نے فرمایا، "نبی کی بے قدری اپنے شہر اور رشتہ داروں میں ہوتی ہے اور کہیں نہیں۔"

     آپ کی دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں فریسی، صدوقی اور دوسرے فرقوں کے یہودی علماء آپ کے شدید مخالف ہو گئے۔ یہ لوگ نہایت ہی انتہا پسند لوگ تھے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی پیش گوئیوں کے باعث یہ مسیحا کی آمد کے منتظر تھے۔ اس زمانے میں بنی اسرائیل رومیوں کی غلامی میں تھے۔ ان کی توقع یہ تھی کہ مسیحا ایک بڑے سیاسی لیڈر ہوں گے جو دیکھتے ہی دیکھتے ہمیں غلامی سے نجات دلا کر دنیا میں ہمیں سرفراز کر دیں گے۔ جب یہ مسیحا آئے تو انہوں نے بجائے سیاسی نعرے بازی کے قوم کے اخلاق و کردار کی تعمیر شروع کر دی۔  یہ بات اسرائیلی قوم پرستوں کو پسند نہ آئی چنانچہ انہوں نے آپ کا انکار کر دیا۔ یہ لوگ پچھلے دو ہزار برس سے آج تک مسیحا کے منتظر ہیں اور اس امید میں ہیں کہ مسیحا آ کر انہیں محکومی کی ذلت سے نجات دلائیں گے۔  اگر اسرائیلی آپ کی بات مان کر اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنا لیتے تو انہیں دنیا میں سرفرازی نصیب ہو جاتی مگر افسوس انہوں نے ایسا نہ کیا۔

     یہ لوگ مذہب کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام  سے بحث کرتے لیکن خود بڑے بڑے احکام کی خلاف ورزی کرتے۔ ان لوگوں نے آپ سے ایسے سوالات بھی کئے جن کا مقصد یہ تھا کہ آپ رومی بادشاہ کے عتاب کا شکار ہوں۔ انہوں نے پوچھا، "ہم لوگ قیصر کو ٹیکس دیں یا نہ دیں؟" آپ نے بڑی خوبصورتی سے انہیں ٹال دیا اور سکے پر بنی قیصر کی تصویر دکھا کر فرمایا، "جو قیصر کا ہے اسے دو اور جو خدا کا ہے، وہ اسے دو۔"

     یریحو میں خدا کا پیغام پہنچا کر آپ یروشلم میں داخل ہوئے۔ یہاں لوگ مسجد میں بیٹھے کاروبار کر رہے تھے۔ آپ نے انہیں نکال باہر کیا اور فرمایا، "(تورات میں) لکھا ہے کہ میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا لیکن تم نے اسے ڈاکوؤں کا اڈا بنا رکھا ہے۔" آپ نے مختلف مثالوں سے بنی اسرائیل کے علماء پر چوٹ کی کہ توبہ کرنے والے کسٹم آفیسر اور طوائفیں ان سے پہلے جنت میں جائیں گی کیونکہ انہوں نے یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر توبہ کی تھی۔

بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار

اس وقت یہودی علماء مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے تھے اور ان کے ہاں مناظرے بازی عام تھی۔ ان علماء کا کردار نہایت ہی بھیانک اور دوغلا تھا۔ آپ نے لوگوں کے سامنے ان علماء کی حقیقت بیان کی اور انہیں ایسوں سے ہوشیار رہنے کے لئے کہا۔ آپ کے چند ارشادات یہاں درج کئے جا رہے ہیں۔ بریکٹس میں دیے گئے الفاظ میرے اپنے ہیں۔ ان کے آئینے میں ہم اپنے بہت سے علماء و مشائخ اور مذہبی رہنماؤں کا کردار دیکھ سکتے ہیں:

·         شریعت کے عالم اور فریسی موسی (علیہ الصلوۃ والسلام ) کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ لہذا جو کچھ یہ تمہیں سکھائیں اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔ لیکن ان کے نمونے پر مت چلو کیونکہ وہ کہتے تو ہیں مگر کرتے نہیں۔

·         وہ ایسے بھاری بوجھ جنہیں اٹھانا مشکل ہے، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں اور خود انہیں انگلی بھی نہیں لگاتے۔ (یعنی اپنی فقہی موشگافیوں اور نکتہ رسی سے دین کو بہت مشکل بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔)

·         وہ ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں اور عبادت خانوں میں اعلی درجے کی کرسیاں، اور چاہتے ہیں کہ بازاروں میں لوگ انہیں جھک جھک کر سلام کریں اور 'ربی' کہہ کر پکاریں۔ لیکن تم ربی نہ کہلاؤ کیونکہ تمہارا رب ایک ہی ہے اور تم سب بھائی بھائی ہو۔ (مساوات کی کیا شاندار تعلیم ہے۔)

·         اے شریعت کے عالمو اور فریسیو! اے ریاکارو! تم پر افسوس، کیونکہ تم نے آسمان کی بادشاہی (جنت) کو لوگوں کے داخلے کے لئے بند کر رکھا ہے، کیونکہ نہ تو خود اس میں داخل ہوتے ہو اور نہ ہی ان کو داخل ہونے دیتے ہو جو اس میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

·         اے شریعت کے عالمو اور فریسیو! اے ریاکارو! تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں پر قبضہ کر لیتے ہو اور دکھاوے کے لئے لمبی لمبی دعائیں کرتے ہو۔ تمہیں زیادہ سزا ملے گی۔ (زمینوں پر قبضہ کرنے کی روایت ہمارے مذہبی طبقے میں بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔)

·         اے شریعت کے عالمو اور فریسیو! اے ریاکارو! تم پر افسوس، کیونکہ تم کسی کو اپنا مرید بنانے کے لئے تو تری اور خشکی کا سفر کر لیتے ہو اور جب بنا لیتے ہو تو اسے اپنے سے دوگنا جہنمی بنا دیتے ہو۔ (یعنی اپنے سے دوگنا بے عمل بنا دیتے ہو۔)

·         اے شریعت کے عالمو اور فریسیو! اے ریاکارو! تم پر افسوس، کیونکہ تم پودینہ، سونف اور زیرہ کا دسواں حصہ (عشر) تو خدا کے نام پر تو دیتے ہو لیکن شریعت کی زیادہ وزنی باتوں یعنی انصاف، رحم دلی اور ایمان کو فراموش کر بیٹھے ہو۔ تمہیں لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔

·          اے اندھے رہنماؤ! تم مچھر تو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ (یعنی معمولی باتوں پر تو مین میخ نکالتے ہو لیکن دین کے بڑے بڑے احکامات کو فراموش کئے بیٹھے ہو۔)

·         اے شریعت کے عالمو اور فریسیو! اے ریاکارو! تم پر افسوس، کیونکہ  تم پیالے اور رکابی کو باہر سے تو صاف کر لیتے مگر ان میں لوٹ اور ناراستی (یعنی رزق حرام) بھری پڑی ہے۔

·         اے شریعت کے عالمو اور فریسیو! اے ریاکارو! تم پر افسوس، کیونکہ تم نبیوں کے مقبرے تو بناتے ہو اور راستبازوں کی قبریں آراستہ کرتے ہو ۔۔۔۔ میں تمہارے پاس نبیوں، داناؤں اور شریعت کے عالموں کو بھیج رہا ہوں۔ تم ان میں سے بعض کو قتل کر ڈالو گے، بعض کو صلیب پر لٹکا دو گے اور بعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑوں سے مارو گے۔ (ان کی مردہ پرستی کا احوال زیر بحث ہے کہ زندہ نیک لوگوں سے ایسا سلوک اور مرنے کے بعد ان کے عالیشان مقبرے!!!)

اس کے بعد سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کوہ زیتون پر جا بیٹھے۔ اسی پہاڑ کا ذکر قرآن کی سورہ تین میں آیا ہے۔ اس علاقے میں انجیر کے باغات بکثرت تھے۔ یہاں آپ نے اپنے حواریوں کو قیامت کی نشانیاں بتائیں۔ آپ نے انہیں بنی اسرائیل پر آنے والے عذاب کے بارے میں بتایا اور فرمایا  کہ یروشلم کی مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ آپ نے لوگوں کو خبردار کیا کہ مستقبل میں میرے نام سے یعنی مسیح ہونے کا دعوی کر کے بہت سے لوگ دوسروں کو گمراہ کریں گے۔ آپ نے قیامت کی بہت سی نشانیاں بتائیں۔

     یروشلم سے نکل کر سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام بیت عنیاہ کے مقام پر تشریف لائے اور اپنے حواری شمعون رضی اللہ عنہ کے گھر ٹھہرے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں اس وقت ہم موجود تھے۔ آپ کے بارہ قریبی حواریوں میں سے ایک شخص یہوداہ اسکریوتی نے غداری کی۔ اس نے تھوڑی سی رقم کے عوض یہود کے مذہبی رہنماؤں کو آپ کا پتہ بتا دیا۔

سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے آخری ایام

اس واقعہ کے بعد بائبل اور قرآن مجید میں بیان کئے گئے واقعات میں اختلاف ہے۔ بائبل کے مطابق ان لوگوں نے آپ کو عدالت میں پیش کیا اور ایک جھوٹا مقدمہ چلایا۔ یہوداہ جس نے آپ سے غداری کی تھی، خود کشی کر کے مر گیا۔ اس دن عید کا دین تھا اور یہ دستور تھا کہ رومی حاکم پیلاطس ایک قیدی کو رہا کرتا تھا۔ اس نے آپ کو رہا کرنا چاہا لیکن علماء کے دباؤ کے باعث آپ کی بجائے برابا نامی ایک ڈاکو کو رہا کر دیا۔ آپ کے ساتھ نہایت ہی گستاخی کا سلوک کیا گیا اور صلیب پر چڑھا کر آپ کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کے ایک شاگرد یوسف نے آپ کی میت کو حاصل کر کے دفن کیا۔ آپ کی وفات کے بارے میں چاروں انجیلوں کی روایات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ دفن کرنے کے بعد ہفتے کے دن آپ دوبارہ زندہ ہوئے اور اپنے گیارہ حواریوں سے ملے اور انہیں اپنی دعوت پوری دنیا میں پھیلانے کی تلقین کی۔

     قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے آخری دنوں کے واقعات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے:

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً. بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً۔ (النسا 4: 157-158) اور ان کا قول کہ ہم نے مسیح، عیسی بن مریم رسول اللہ کو قتل کیا ہے۔ حالانکہ فی الواقع نہ تو انہوں نے انہیں قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کر دیا گیا تھا۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے بلکہ وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسیح کو یقین سے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ اللہ زبردست طاقت اور حکمت والا ہے۔

سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت پر سوچتے ہوئے اب ہم واپس جا رہے تھے۔ ایمن صاحب کہنے لگے کہ یہاں گاڑیاں وقت کی بہت پابندی کرتی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ گاڑی ہمیں چھوڑ کر اگلے پھیرے کے لئے چلی جائے۔ ان کا خدشہ درست ثابت ہوا۔ جب ہم اسٹاپ پر پہنچے تو گاڑی موجود نہ تھی۔ ہم انتظار میں بنچ پر بیٹھ گئے۔ اگلے پھیرے میں گاڑی آئی تو ہم اس پر سوار ہو کر واپس پہنچے۔ ایمن صاحب اور نائب پادری صاحب سے الوداعی ملاقات کی اور اپنی گاڑی پر بیٹھ کر ڈیڈ سی کی جانب روانہ ہوئے۔ اب ہماری منزل عقبہ تھی۔

     ایمن صاحب سے میں پہلے ہی راستے کے بارے میں مشورہ کر چکا تھا۔ ڈیڈ سی والی یہی روڈ سیدھی عقبہ جاتی تھی۔ دوسرا راستہ براستہ عمان تھا جو کہ اگر چہ ایک دو رویہ ہائی وے پر مشتمل تھا لیکن وہ لمبا تھا۔ اب ہم دوبارہ ڈیڈ سی کے ساتھ ساتھ جنوب کی جانب چلے جا رہے تھے۔ یہ اردن کی سرحدی روڈ تھی۔ ہمارے ساتھ ساتھ اردن اور اسرائیل کی سرحد چل رہی تھی جو عقبہ تک جاتی تھی۔

ضغر یا غور صافی

پچاس کلومیٹر کے بعد ڈیڈ سی ختم ہو گیا اور ہم نمک والی جھیلوں کے کنارے سفر کرنے لگے۔ تھوڑی دور جا کر "غور حدیثہ" کا گاؤں آیا اور اس کے بعد "غور صافی" کا قصبہ۔ یہ علاقہ نہایت ہی سر سبز وہ شاداب تھا۔ بائبل میں اس علاقے کا "ضغر" آیا ہے۔ یہ سدوم کی سلطنت کا وہ علاقہ تھا جہاں سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام عذاب کے بعد آباد ہوئے تھے۔ اس علاقے میں پناہ لینے کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ سدوم کی قوم کے لوگوں میں سے یہ لوگ ان برائیوں سے پاک رہے ہوں گے جس میں پوری سدومی قوم مبتلا رہی ہے۔ قرآن مجید نے سدوم کی قوم کے علاقے کے سرسبز و شاداب ہونے کا ذکر کیا ہے جو کہ عذاب کے بعد بالکل ہی تباہ ہو گیا تھا۔ اس علاقے سے استثنا ضغر کے علاقے کو حاصل ہے جہاں سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام آباد ہوئے تھے۔

     اب ہم سفید وادی سے گزر رہے تھے۔ یہاں "لوط کی غار" کا بورڈ نظر آیا۔ روایات میں ہے کہ اس غار میں سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام رہا کرتے تھے۔ انبیاء کرام کے کسی گستاخ نے بائبل میں سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی غار سے متعلق ایسا گستاخانہ واقعہ داخل کر دیا ہے جس کے بارے میں سوچتے ہوئے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے دلوں سے خدا کے رسول کی عظمت نکل چکی ہو۔ ایسا یقیناً بنی اسرائیل کے اخلاقی انحطاط کے زمانے میں ہوا ہو گا۔

     نمک کی جھیلوں کے ساتھ ساتھ مختلف سالٹ کمپنیز کے بورڈ نظر آ رہے تھے۔ اردن کا دیہاتی علاقہ بھی ہمارے سندھ اور پنجاب کے دیہاتی علاقوں سے مشابہ تھا۔ ویسا ہی ماحول، ویسے ہی کھیت، ویسی ہی زرعی گاڑیاں، اور بچوں کی شکلوں کے ویسے ہی تاثرات۔ آبادی کے باعث ہم آہستہ آہستہ چل رہے تھے اور پہلے گھنٹے میں ہم بمشکل نوے کلومیٹر کا فاصلہ طے کر پائے تھے۔

وادی عرابہ

غور صافی کے بعد صحرا شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں ہماری رفتار بڑھ گئی۔ دوسرے گھنٹے کے سفر میں ہم نے ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیا۔ اب ہم "بئر مذکور" نامی قصبے سے گزرے۔ یہ علاقہ "وادی عرابہ" کا علاقہ تھا۔

     دور دور تک پہلے سنہرے رنگ کے صحرا، صحرا کے دونوں جانب چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں، ڈھلتا ہوا سورج اور زرد دھوپ مل کر فطرت کا نہایت ہی دلفریب منظر پیش کر رہی تھیں۔ وادی عرابہ کو اس وقت شہرت ملی جب امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے یہاں اردن کے شاہ حسین، فلسطین کے یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیر اعظم اسحاق رابن کی ملاقات کروائی تھی۔

     وادی عرابہ کے متوازی "وادی رم" ہے۔ یہ اس سڑک کے راستے پر واقع ہے جو عمان سے براستہ معان عقبہ تک پہنچتی ہے۔ یہ وادی اپنے فطری حسن کے باعث سیاحوں کے لئے بڑی کشش کا باعث ہے۔ اس وادی کے بعد فلسطین کے پہاڑ ہمارے کافی قریب آ چکے تھے۔ اب ہم عقبہ میں داخل ہوا چاہتے تھے۔

سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی غار (بشکریہ www.panoramio.com )

غار کے قریب آثار

وادی عرابہ

 

 

اگلا باب                                               فہرست                                      پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability