بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

عقبہ

صحرائی وادیوں میں سفر کرتے ہوئے ہم عقبہ کے قریب جا پہنچے۔ عقبہ جس خطے میں واقع ہے، یہاں چار ممالک کےسرحدی شہر واقع ہیں۔ بحیرہ احمر کی مشرقی شاخ خلیج عقبہ یہاں آ کر ختم ہوتی ہے۔ سمندر کے مشرقی جانب سعودی عرب کا شہر "حقل" ہے جس سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر اردن کی واحد بندرگاہ "عقبہ" ہے۔ سمندر کے مغربی جانب عقبہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر اسرائیل کی بندرگاہ "ایلہ" ہے جس سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر مصر کا شہر "طابہ" ہے۔

†††† اب ہم ایک دو راہے پر جا پہنچے۔ ہمارے دائیں جانب سڑک ایلہ کی جانب جا رہی تھی اور بائیں جانب عقبہ کی طرف۔ ہم عقبہ کی جانب ہو لئے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی ایک خوشگوار احساس ہوا۔ اتنا صاف ستھرا شہر اب تک میں نے اردن میں نہ دیکھا تھا۔ پورا شہر ہی عمدہ پلاننگ کا شاہکار تھا اور سعودی شہر "الخبر" سے مشابہت رکھتا تھا۔

†††† شہر میں داخل ہو کر ایک مسجد کے پاس ہم جا رکے۔ یہ مسجد ایک پارک میں واقع تھی اور کراچی کی مسجد بیت المکرم کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ مسجد کے دروازوں کے باہر اردن کی "اخوان المسلمون" کے بہت سے اسٹکر لگے تھے۔ اخوان عالم عرب کی سب سے بڑی اسلامی تحریک ہے۔ اس کی تفصیلات انشاء اللہ میں مصر کے باب میں بیان کروں گا۔ عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم لوگ ساحل کی جانب روانہ ہوئے۔

سمندر یا پہاڑی دریا

عقبہ کا سمندر ایسا نقشہ پیش کر رہا تھا جو میں نے اس سے قبل نہ دیکھا تھا۔ یہاں سمندر تنگ ہو کر ایک بہت بڑے پہاڑی دریا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ سمندر کے ایک جانب عقبہ کی بندرگاہ تھی اور دوسری جانب ایلہ کی بندرگاہ۔ دونوں کناروں پر پہاڑ تھے اور درمیان میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر۔ اس دریا نما سمندر میں بہت سے بحری جہاز اور کشتیاں رواں دواں تھے۔ ان میں کچھ اردن اور کچھ اسرائیل کے جہاز تھے۔

سبت کی خلاف ورزی

عقبہ اور ایلہ میں زیادہ فاصلہ نہیں۔ ایلہ دراصل وہ مقام تھا جہاں کے رہنے والی بنی اسرائیل پر اللہ کا عذاب آیا تھا۔ یہ لوگ پیشے کے اعتبار سے مچھیرے تھے۔ اللہ تعالی نے ان کے لئے ہفتے کے دن کام کرنے کو ممنوع قرار دیا تھا۔ یہ لوگ اپنے لالچ کے باعث اس دن بھی مچھلی کا شکار کرتے۔ اس کے لئے انہوں نے جو حیلہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ یہ سمندر سے متصل گڑھے کھود لیتے۔ مچھلیاں تیر کر ان گڑھوں میں آتیں تو ہفتے کے دن یہ ان گڑھوں کا راستہ بند کردیتے اور اتوار کے دن آ کر مچھلی کا شکار کر لیتے۔ اس حیلے کے باوجود ہفتے کو مچھلیوں کے انتظار میں بیٹھ کر اور ان کا راستہ بند کر کے یہ لوگ سبت کے دن کی حرمت کو توڑ رہے تھے۔ چونکہ بنی اسرائیل کا معاملہ یہ رہا ہے کہ انہیں اس دنیا ہی میں ان کے جرائم کی سزا دی گئی ہے تاکہ دوسری قوموں کو عبرت حاصل ہو اس لئے ان کی صورت مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیا۔

عقبہ میں غروب آفتاب۔ سبت کی خلاف ورزی کا مقام

†††† ہم لوگ سورج غروب ہونے کا منظر دیکھتے رہے۔ سمندر کے اس پار پہاڑیوں میں سورج سرخ، نارنجی اور زرد رنگ کے مختلف شیڈ بکھیرتا ہوا غروب ہو گیا۔ اس وقت شام کے آٹھ بج رہے تھے۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ بندرگاہ سے فیری کے بارے میں معلومات حاصل کر لی جائیں اور ٹکٹ بھی خرید لیا جائے تاکہ اگلے دن مشکل نہ ہو۔

اردنی معاشرے کے بارے میں ہمارے تاثرات

عرب ممالک میں عام رواج ہے کہ ہر پبلک مقام پر بادشاہ یا صدر کی تصویر آویزاں کی جاتی ہے۔ اردن میں یہ رواج نہایت ہی شدت سے موجود تھا۔ بندرگاہ، امیگریشن کاؤنٹر، سرکاری عمارات، چوک، دکانیں، ہوٹل ہر جگہ اردن کے بادشاہ عبداللہ کی تصاویر موجود تھیں۔ سلطان کہیں عربی لباس میں ملبوس ہیں تو کہیں سوٹ میں۔ کہیں آرمی کی یونیفارم پہنی ہوئی ہے توکہیں ٹریفک پولیس کی۔ کہیں اپنے والد شاہ حسین کے ساتھ ہیں تو کہیں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ۔ معلوم ہوا کہ یہاں تمام سرکاری محکموں کا سربراہ سلطان ہی ہوتا ہے۔ ان کی ہر ممکن پوز میں لی گئی تصاویر اس قدر تھیں کہ اگر آپ دس منٹ اردن میں سفر کر لیں تو کم از کم بیس تصاویر دیکھنے کو ملیں گی۔

اردن میں ہمارا سفر

†††† اردن کے لباس میں ایک نئی چیز دیکھنے کو ملی۔ دیگر عرب ممالک میں لوگ یا تو عربی لباس یعنی توپ پہنتے ہیں اور سر پر رومال اور گول چکر باندھتے ہیں جسے "قطرۃ" کہتے ہیں یا پھر پینٹ شرٹ وغیرہ پہنتے ہیں۔ اردن کے لوگوں نے ان دونوں لباسوں کو ملا کر ایک نیا لباس ایجاد کیا ہے۔ یہ لوگ نیچے تو پینٹ شرٹ اور ٹائی استعمال کرتے ہیں اور سر پر عربی رومال اور قطرۃ باندھتے ہیں۔

†††† اردن کی معیشت پہلے کافی کمزور تھی۔ عرب ممالک میں یہ غریب ملک سمجھا جاتا تھا۔ عراق کی جنگ کے نتیجے میں بہت سے عراقی سرمایہ کاروں نے اردن میں پناہ لی۔ یہ لوگ اپنا سرمایہ بھی عراق سے اردن لے آئے جس کے باعث اردن میں صنعت کاری کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ اب اردن کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ میں نے سعودی عرب میں اپنی کمپنی کے لئے بہت سے اردنی افراد کے انٹرویو کئے لیکن ان میں سے کوئی پرکشش تنخواہ اور مراعات پر بھی سعودی عرب آنے کو تیار نہ ہوا۔

†††† کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا آغاز صرف اور صرف ایک چیز سے ہوتا ہے اور وہ ہے "بیرونی سرمایہ کاری (Foreign Direct Investment)"۔ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ملک کے قدرتی اور انسانی وسائل بھرپور طریقے سے استعمال میں آتے ہیں۔ انفرا اسٹرکچر بنتا ہے جس سے بہت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔امیر طبقے کے پاس دولت کی کمی نہیں ہوتی لیکن افرادی قوت کی کمی ہوتی ہے۔ یہ افرادی قوت تعلیم یافتہ مڈل کلاس سے حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح امیر طبقے کی خوشحالی میں متوسط طبقہ بھی شریک ہو جاتا ہے۔

†††† امیر طبقے سے متوسط طبقے میں دولت کا بہاؤ تیزی سے ہوتا ہے لیکن متوسط طبقے سے غریب طبقے میں دولت کا بہاؤ کافی سست ہوتا ہے۔ لوئر مڈل کلاس کے لوگوں کو جب دولت ملتی ہے تو وہ اسے زیادہ تر اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لئے صرف کرتے ہیں اور مکان، گاڑی، فرنیچر وغیرہ پر رقم صرف کرتے ہیں۔ بعض لوگ جن کی خواتین بھی کام کرتی ہیں، انہیں گھریلو ملازموں کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں غریب طبقے کے افراد کو روزگار ملتا ہے لیکن ان کی معاشی حالت میں اتنا تغیر واقع نہیں ہوتا جتنا کہ مڈل کلاس کی حالت میں واقع ہوا ہوتا ہے۔ ††† یہی وجہ ہے کہ چین اور بھارت کی معیشتوں نے حال ہی میں جو ترقی کی ہے، اس سے مڈل کلاس کی حالت تو بہت بدل گئی ہے لیکن ان کے ہاں غربت میں واضح کمی نظر نہیں آتی۔

†††† معیشت کے خطوط کو منظم کرنے والوں کو اس بات کا احساس بھی ہونا چاہیے کہ ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات جلد سے جلد معاشرے کے غریب طبقات تک پہنچ سکیں ورنہ جب وہ اپنے سے ملتے جلتے مڈل کلاس کے لوگوں کو بہتر ہوتا دیکھیں گے اور اپنی حالت میں انہیں کوئی فرق نظر نہ آئے گا تو یہ حسرت و مایوسی انہیں جرائم کا راستہ اپنانے پر مجبور کر دے گی۔

†† اہل اردن کے ساتھ گزارے گئے تین دن کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ ان تین دنوں میں اہل اردن کی محبت نے ہمارے دل جیت لئے۔ بحیثیت مجموعی اردنی قوم اخلاقی اعتبار سے بہت بہتر ہے۔ غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ ان کا رویہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ ان کے ٹورازم والے علاقوں میں بھی لالچ اور سیاحوں کو حیلے بہانے سے لوٹنے کا سلسلہ نہیں پایا جاتا۔ان کے سرکاری اہل کاروں کو بھی اپنے کام میں ہم نے مستعد پایا۔ ان اچھی یادوں کے ساتھ اردن سے نکل کر ہم عازم مصر ہوئے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability