بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مصر کا بحری سفر

†††† عقبہ کے حسین ساحل پر غروب آفتاب کا منظر دیکھنے کے بعد چند منٹ میں ہم بندرگاہ پر جا پہنچے۔ اب مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ میں نے بندرگاہ کے گیٹ پر محافظ سے مصر کی بندرگاہ "نویبع" جانے والی فیری کے بارے میں پوچھا۔ وہ صاحب مصر کے شہر منصورہ سے تعلق رکھنے والوں کے سے انداز میں گفتگو کرنے لگے۔ میں نے غلطی سے ان صاحب سے پوچھ لیا، "آپ کہیں منصورہ سے تعلق تو نہیں رکھتے؟" وہ ناراض ہو گئے اور مزاح کے سے انداز میں کہنے لگے، "آپ نے مجھے مصری کہا،اب آپ اندر نہیں جا سکتے۔"

†††† انہوں نے بتایا کہ نو بجے ایک فیری نویبع کے لئے روانہ ہو رہی ہے۔ ہم نے سوچا کہ بجائے ہوٹل میں رات گزارنے کے کیوں نہ رات میں سمندر کی سیر کا لطف اٹھایا جائے۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ ایک بار آپ اندر چلے گئے تو باہر نہ آ سکیں گے۔ ہم لوگ اندر داخل ہوئے۔ فیری کی روانگی میں ایک گھنٹے کا وقت تھا۔ جلدی جلدی نماز ادا کی۔ فیری کا ٹکٹ خریدا۔ یہاں ٹکٹ امریکی ڈالر میں فروخت ہوتے تھے۔ بالغ فرد کا ٹکٹ چالیس ڈالر، بچی کا تیس ڈالر اور گاڑی کا ٹکٹ سو ڈالر کا تھا۔ گاڑی کی ٹرپ ٹکٹ اور پاسپورٹوں پر مہر لگوائی۔ اردن والوں نے ملک سے جانے پر فی کس پانچ اردنی دینار ایگزٹ ٹیکس وصول کیا۔

†††† اردن اور مصر زمینی راستے سے منسلک تو ہیں لیکن درمیان میں پندرہ بیس کلومیٹر کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ عقبہ سے نویبع کا فاصلہ سو کلومیٹر سے بھی کم ہے لیکن اسرائیلی علاقے کی وجہ سے تمام گاڑیوں کو یہ سفر فیری کے ذریعے کرنا پڑتا ہے۔ فیری چلانے والی اس کمپنی کا نام "عرب برج" رکھا گیا ہے یعنی عرب کا پل۔

عرب برج کی سروس کا معیار

ٹکٹ خریدنے اور امیگریشن وغیرہ کے مراحل سے گزرنے میں ہمیں ایک گھنٹہ لگ گیا۔ اب نو بج رہے تھے اور فیری کی روانگی کا وقت ہو رہا تھا۔ فیری پر سفر کرنے کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا اس لئے ہم خاصے پرجوش ہو رہے تھے۔ نو بجے روانگی کا کوئی اعلان نہ ہوا۔ ساڑھے نو اور دس بھی بج گئے۔ میں نے معلومات کے کاؤنٹر سے پوچھا تو ان صاحب نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور بولے، "ما فی معلوم"۔

†††† ہمارے علاوہ اور بھی پچیس تیس گاڑیاں وہاں کھڑی تھیں۔ نمبر پلیٹوں سے معلوم ہوا کہ یہ سب سعودی عرب، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات سے آنے والے لوگ ہیں جو مصر جا رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر مصری فیملیاں تھیں جبکہ کچھ سعودی لوگ بھی تھے جو سیاحت کے لئے مصر جا رہے تھے۔

†††† انتظار طویل ہوتا گیا۔ عرب لوگ بڑے اطمینان سے بیٹھے تھے۔ یہ لوگ شاید تجربہ کار تھے۔ ساڑھے بارہ بجے جا کر اعلان ہوا کہ پہلے گاڑیوں والے فیری پر آ جائیں۔ اب ہم لوگ چل پڑے۔ فیری ایک پلیٹ فارم سے لگی ہوئی تھی۔ اب ہمیں فیری کے سامنے لائنوں میں کھڑا کر دیا گیا اور ایک گھنٹہ مزید انتظار کروانے کے بعد اندر داخل ہونے کے لئے کہا گیا۔ یہاں گاڑیوں کے لئے دو منزلیں بنی ہوئی تھیں۔ ہمیں اوپر والی منزل کی جانب بھیج دیا گیا۔ یہ ایک وسیع و عریض پارکنگ تھی جس میں بلا مبالغہ سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہو سکتی تھیں۔

†††† ضروری سامان لے کر ہم لوگ سیڑھیوں کے ذریعے اوپر جا پہنچے۔ استقبالیہ کاؤنٹر پر ہمارے پاسپورٹ لے لئے گئے۔ ہم لوگ عرشے پر جا پہنچے۔ یہاں کافی چہل پہل تھی۔ کچھ لوگ نیچے کیبن لے کر سو گئے تھے جبکہ ہماری طرح کچھ لوگ تازہ ہوا میں عرشے پر موجود تھے۔ فیری کے چلنے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہ آ رہا تھا۔

†††† انتظار مزید طویل ہوتا گیا۔ میں نے نیچے جھانکا تو عجیب منظر تھا۔ خراب گاڑیوں کی ایک بڑی کھیپ مصر لے جائی جا رہی تھی۔ ایک صاحب خراب گاڑی میں بیٹھے تھے اور دوسرے درست گاڑی کے اگلے بمپر کو خراب گاڑی کے پچھلے بمپر سے جوڑے اسے دھکا لگاتے لا رہے تھے۔ اس طریقے سے انہوں نے خراب گاڑیاں فیری میں چڑھائیں۔ اس کے بعد بسوں کی باری آئی اور پندرہ بیس بسیں فیری میں سوار ہوئیں۔ آخری نمبر ٹرکوں کا تھا جو سامان سے لدے ہوئے فیری میں داخل ہوگئے۔ اس پورے عمل میں مزید تین گھنٹے نکل چکے تھے اور فیری اپنے اعلان کردہ وقت سے ساڑھے سات گھنٹے لیٹ ہو چکی تھی۔

†††† صبح ساڑھے چار بجے جا کر فیری چلی۔ اس فیری سے مجھے اپنے بچپن کے زمانے میں جہلم اور گجرات کے درمیان چلنے والی بسیں یاد آ رہی تھیں۔ یہ بسیں جہلم سے "لاہور" کا بورڈ لگا کر روانہ ہوتیں اور ان کے کنڈکٹر لہور لہور کی آوازیں لگا کر سواریاں اکٹھی کرتے۔ لاہور کی بس سمجھ کر لاہور جانے والے ناواقف مسافر بھی ان میں چڑھ جاتے۔ راستے میں کسی بھی مقام پر کوئی بھی شخص اگر بس کو رکنے کا اشارہ کرتا تو بس رک جاتی اور لوگ اپنی بکریوں اور مرغیوں سمیت چڑھ آتے۔ کسی سواری کو چھوڑ دینا ان کے نزدیک کفران نعمت ہوتا۔ راستے میں سرائے عالمگیر، کھاریاں اور لالہ موسی پر یہ بسیں دیر تک انتظار کرتیں اور پچھلی بس آنے پر آگے روانہ ہوتیں۔ جہلم سے گجرات تک پچاس کلومیٹر کا سفر یہ بسیں عموماً تین سے چار گھنٹے میں طے کیا کرتیں۔

†††† گجرات پہنچ کر لاہور جانے والے غریب مسافروں کو یہ گوجرانوالہ جانے والی ایسی ہی بسوں میں منتقل کرتیں جو انہیں مزید تین گھنٹے میں پچاس کلومیٹر دور گوجرانوالہ پہنچاتیں۔ وہ بسیں ان مسافروں کو گوجرانوالہ سے لاہور جانے والی بس میں بٹھا دیتیں۔ اس طرح جہلم سے لاہور کا 170 کلومیٹر کا سفر آٹھ نو گھنٹے میں طے ہوتا۔ گجرات سے واپسی پر یہ بسیں "راولپنڈی" کا بورڈ لگا دیتیں اور یہی عمل دوہراتے ہوئے جہلم آ جاتیں اور پنڈی کے مسافروں کو گوجر خان کی بس پر منتقل کر دیا جاتا جو گوجر خان پہنچ کر مسافروں کو راولپنڈی کی بس پر بٹھا دیتیں۔ اس طرح جہلم سے راولپنڈی کا سو کلومیٹر کا سفر پانچ گھنٹے میں طے ہوتا۔

†††† عرب برج انٹرنیشنل فیری سروس تھی تاہم اس کے مقابلے پر مجھے جہلم گجرات لوکل بس والوں کی سروس کافی بہتر معلوم ہو رہی تھی۔ اگر رات نو بجے سے حساب لگایا جائے تو عقبہ سے نویبع تک سو کلومیٹر کا سفر ہم لوگوں نے گیارہ گھنٹے میں طے کیا تھا۔ تمام مسافر شاید اس وقت اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کو کوس رہے تھے جس کے باعث ایک گھنٹے کا سفر گیارہ گھنٹے میں طے ہوا تھا۔ اگر بیچ میں یہ مسئلہ نہ ہوتا تو یہ سفر ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے ہو جاتا۔ یہ عرب برج والوں کی بدقسمتی تھی یا مسافروں کی خوش قسمتی کہ عقبہ اور نویبع کے درمیان کوئی اور بندرگاہ نہ تھی ورنہ یہ لوگ وہاں بھی رک کر کم از کم چھ آٹھ گھنٹے تو ضائع کر ہی دیتے۔

†††† ہم لوگوں نے توبہ کی کہ آئندہ کبھی فیری پر سفر نہ کریں گے یا کم از کم کسی مسلم ملک میں فیری پر سفر نہ کریں گے۔ وقت ایسی دولت ہے جسے کبھی بھی کیش کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کی جو اقوام وقت کی قدر کرتی ہیں، وہی آج دنیا میں کامیاب ہیں اور جو وقت کو اس طرح ضائع کرتی ہیں، وہی زمانے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ مشرق وسطی میں بالعموم یہ رواج ہے کہ لوگ وقت کی پابندی شاذ و نادر ہی کیا کرتے ہیں۔

†††† خلیجی ممالک سے بہت سے مصری اسی راستے سے ہر سال چھٹیوں میں مصر جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصر کے ہوائی جہاز کے کرائے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً اس زمانے میں جدہ سے کراچی کے 3000 کلومیٹر کا ریٹرن ٹکٹ 1700 ریال کا تھا جبکہ جدہ سے قاہرہ کے 1600 کلومیٹر سفر کا کرایہ 2500 ریال تھا۔ اگر کوئی صاحب اپنے پانچ فیملی ممبرز کے ساتھ بھی یہ سفر کریں تو ساڑھے بارہ ہزار ریال میں وہ صرف قاہرہ پہنچا کرتے تھے۔ قاہرہ سے آگے جانے کا کرایہ الگ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کے پاس مصر پہنچ کر گاڑی کی سہولت بھی نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مصری دو دن کی یہ خواری اٹھا کر بذریعہ فیری مصر جانے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ ایک تو یہ سفر بہت سستا تھا اور دوسرے ان کے پاس مصر میں اپنی گاڑی بھی موجود ہوا کرتی تھی۔

سمندر میں چاندنی رات

اس منفی پہلو سے ہٹ کر اس سفر کا ایک مثبت پہلو بھی تھا اور وہ تھا سمندری سفر کا مزہ۔ ہمارا یہ سفر دو ملکوں کے درمیان سفر ہی نہ تھا بلکہ ہم ایشیا سے افریقہ کی طرف جا رہے تھے۔ ایشیا سے باہر نکلنے کا میرے لئے یہ پہلا موقع تھا۔ فیری چلنے کے بعد تازہ ہوا ہمارے چہروں سے ٹکرانے لگی۔ اس دن رجب کی پندرہویں رات تھی اور تقریباً پورا چاند نکلا ہوا تھا۔ چاندنی سمندر اور اس کے گرد و نواح میں پہاڑوں کو روشن کر رہی تھی۔ سمندر میں چاند کا جھلملاتا ہوا عکس منظر کو اور بھی دلفریب بنا رہا تھا۔ خاصا رومانٹک ماحول تھا۔

†††† اگر ہم کسی مغربی ملک کی فیری میں سوار ہوتے تو دنیا و ما فیہا سے بے خبر جوڑے سر عام رومانس میں مشغول ہو جاتے لیکن اس وقت فیری کے تمام کے تمام مسافر عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے باحیا لوگ تھے چنانچہ کسی کے لئے رومانس کا کوئی موقع نہ تھا۔ اہل مغرب نے نجانے زندگی کے اس حسن کو سر عام انجام دے کر اتنا بدصورت کیوں بنا دیا ہے۔

†††† سمندر میں رات کو میرا یہ پہلا سفر تھا۔ اتنا صاف آسمان اس سے پہلے میں نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ ستاروں کی بہت بڑی تعداد آسمان پر موجود تھی جس میں دب اکبر کے سات ستارے الگ سے نظر آ رہے تھے۔ قرآن مجید نے اس آسمان کو "آسمان دنیا" قرار دیا ہے جس کی وسعتوں کی پیمائش نوری سالوں میں کی جاتی ہے۔ ایسے ہی سات آسمان اور ہیں جو نجانے کتنے بڑے اور کتنے حسین ہوں گے۔ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔

†††† میں رات کو جلدی سونے کا عادی ہوں۔ پوری رات جاگنے کے باعث اب نیند آنے لگی۔ ہم لوگوں عرشے پر ہی اپنے سلیپنگ بیگ بچھائے بیٹھے تھے۔ میں یہیں لیٹ کر سو گیا۔ ایک گھنٹے بعد اذان کی آواز سے آنکھ کھلی۔ یہ دراصل اذان کی بجائے اقامت کی آواز تھی۔ جلدی سے نیچے ٹائلٹ تک گیا۔ کثرت استعمال کے باعث یہ ٹائلٹ نہایت ہی گندا ہو چکا تھا۔ میں نے باہر سنک سے صرف وضو کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ اوپر پہنچا تو جماعت ہو چکی تھی۔ خیر اپنی نماز ادا کی اور وہیں بیٹھ گیا۔ سمندر میں غروب آفتاب کے مناظر تو بہت مرتبہ دیکھے تھے لیکن طلوع آفتاب کا منظر دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا جس میں ابھی ایک گھنٹا باقی تھا۔

فیری، جس میں ہم نے سفر کیا

†††† موبائل فون پر نظر پڑی تو یہاں سعودی موبائل سروس "الجوال" کے سگنلز آ رہے تھے۔ ان کی کوریج اتنی شاندار تھی کہ سعودی عرب کے دور دراز دیہات میں بھی سگنل آتے تھے اور اب سمندر میں بھی ان کی کوریج موجود تھی۔ اب تک تو ہم انٹرنیشنل رومنگ پر گھر بات کرتے آئے تھے جس کے باعث بیلنس ختمہونے کے قریب تھا۔ جیسے ہی لوکل سگنلز ملے میں نے گھر کا نمبر ملایا۔ والدہ سے بات ہوئی۔ وہ فجر کی نماز کے لئے اٹھی ہوئی تھیں۔ خلیج عقبہ اور جدہ کے طلوع و غروب کے اوقات میں ایک گھنٹے کا فرق تھا۔ جدہ میں اس وقت سورج طلوع ہونے کے قریب تھا۔ نماز کے بعد انہوں نے کال کی اور ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔

سمندر میں طلوع آفتاب کا منظر

مشرق کی جانب شفق کی سرخی پہلے ہی نمودار ہو چکی تھی۔ تھوڑی دیر میں سورج طلوع ہونے لگا۔ سعودی عرب کی پہاڑیوں کے بیچ میں سے پہلے اس نے اپنا کنارہ نکالا۔ پھر نصف دائرے کی شکل اختیار کی اور آخر پورا ہو گیا۔ اس پورے عمل میں دو تین منٹ سے زیادہ وقت نہ لگا ہو گا۔ میں نے کیمرا آن کر کے اس پورے منظر کی ویڈیو بنا لی تھی۔ اب سورج کا عکس نیلے پانی میں پڑ رہا تھا۔

نویبع کا ساحل

†††† اب ہم حقل اور طابہ کے بیچ میں سے گزر کر نویبع کے قریب ہو رہے تھے۔ اچانک عربی میں اعلان ہوا، "جہاز پر سوار پاکستانی مسافر کاؤنٹر سے رجوع کریں۔" اس اعلان کے ساتھ ہی ہم لوگ جہاز میں مشہور ہو گئے۔ ہر شخص حیرت سے ان سرپھرے پاکستانیوں کی جانب دیکھ رہا تھا جو اس راستے سے مصر جا رہے تھے۔ اپنا سامان سمیٹ کر ہم لوگ کاؤنٹر پر پہنچے۔ یہاں امیگریشن آفیسر بیٹھے تھے۔ عرب برج سروس کی واحد اچھی بات یہ تھی کہ امیگریشن کے مراحل فیری ہی میں طے کر لیے جاتے تھے۔

†††† میری پاکستانیت کے باعث یہ صاحب بھی مجھے کوئی نامی گرامی اسمگلر یا سکہ بند قسم کا دہشت گرد سمجھ رہے تھے لیکن فیملی کے باعث انہیں اپنی رائے تبدیل کرنا پڑی۔ پوچھنے لگے، "مصر میں آپ کہاں جائیں گے۔" میں نے کہا، "سینٹ کیتھرین، قاہرہ اور اسکندریہ۔" کہنے لگے، "کہاں رکیں گے۔ ہوٹل کا نام بتائیے" میں نے کہا، "وہاں پہنچ کر ہی ہوٹل دیکھیں گے۔ اگر آپ کوئی مخصوص ہوٹل چاہتے ہیں تو ہم وہاں رک جائیں گے۔" کہنے لگے، "خیر جہاں بھی جائیے، آپ کی مرضی۔ اگر آپ کا ارادہ سات دن سے زیادہ قیام کا ہو، تو قریبی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کر دیجیے گا۔" یہ کہہ کر انہوں نے پاسپورٹ میرے حوالے کئے، اپنا بریف کیس اٹھایا اور یہ جا وہ جا۔

†††† نویبع پہنچے تو نیلے سمندر، براؤن پہاڑیوں اور نیلے آسمان نے ہمارا خیر مقدم کیا۔ یہاں سمندر کا پانی نہایت ہی صاف و شفاف تھا۔ جیسے ہی فیری اپنے پلیٹ فارم پر لگی، وقت ضائع کرنے کا عمل دوبارہ شروع ہوا۔ پہلے ٹرک نکلے، پھر بسیں اور آخر میں چھوٹی گاڑیاں۔ ہم لوگ چونکہ سب سے پہلے داخل ہوئے تھے اس لئے اب ہماری باری سب سے آخر میں آئی۔

مصر کے سرکاری افسران

امیگریشن آفیسرز کے علاوہ مصر کے سرکاری آفیسرز اپنے رویے اور کرپشن کی عادات میں بالکل ویسے ہی تھے جیسا کہ ہمارے پاکستانی آفیسر ہوا کرتے ہیں۔ کسٹم والوں کو ہمارے سامان میں سوائے کپڑوں اور ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے اور کوئی چیز نہ ملی۔ کمپیوٹر بھی میں نے سفر نامے کے نوٹس اور تصاویر کے بیک اپ کے لئے ساتھ رکھ لیا تھا۔ انہیں ایک ہی اعتراض تھا کہ گاڑی میں آگ بجھانے والا آلہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے گاڑی میں آگ لگے تو انسان اپنی جان بچانے کے لئے دور بھاگے گا یا پھر آلہ تلاش کر کے آگ بجھانے کی کوشش کرے گا۔

†††† ان کی فرمائش پر سب لوگوں کو انہی کے سنٹر سے آگ بجھانے والا آلہ خریدنا پڑا۔ کسٹم کے بعد آخری مرحلہ ٹریفک پولیس کا تھا جو بہت ہی صبر آزما ثابت ہوا۔ اس موقع پر مجھے اپنے وہ ایجنٹ یاد آئے جو سرکاری دفاتر کے باہر موجود ہوتے ہیں اور معمولی سی رقم لے کر سارے کام کروا دیتے ہیں۔ مصر میں ایسے ایجنٹ بھی نایاب تھے اور سرکاری اہل کار ہمارے اہل کاروں سے بڑھ کر بیوروکریٹ تھے۔

†††† عرب برج والوں کی سروس نے ہمیں فیری پر سفر کرنے سے توبہ کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ٹریفک پولیس والوں نے ہمیں آئندہ اپنی گاڑی پر خلیجی ممالک سے باہر سفر کرنے سے توبہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہاں کے سرکاری اہل کاروں کی نسبت اردن کے سرکاری اہل کار نہایت ہی مستعد اور سعودی عرب کے سرکاری اہل کار تو فرشتہ صفت معلوم ہو رہے تھے۔

†††† چار گھنٹے کی خواری کے بعد گاڑی کے کاغذات اور ٹوٹی پھوٹی مصری نمبر پلیٹیں ملیں۔ یہاں بہت سے مصری بچے نمبر پلیٹیں تبدیل کرنے پر بے تاب نظر آ رہے تھے۔ نمبر پلیٹیں تبدیل کروائیں اور بالآخر نویبع کی بندرگاہ سے ہم باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ گزشتہ رات عقبہ کی بندرگاہ میں داخل ہونے سے لے کر نویبع کی بندرگاہ سے نکلنے تک ہمارے سولہ گھنٹے ضائع ہو چکے تھے۔ اچھی بات یہ تھی کہ اب ہم مصر میں کہیں بھی جانے کے لئے آزاد تھے۔

بندرگاہ پر طویل وقت صرف کرنے کے دوران ہمیں کئی مشاہدات ہوئے اور ہم نے اپنے مشاہدے کے دوران مصریوں کی چار اقسام دریافت کیں۔

مصریوں کی چار اقسام

پہلی قسم کے مصری بڑے بڑے جسم اور بڑے بڑے چہروں کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں کا بڑے سے بڑا چہرہ بھی ان کے چھوٹے سے چھوٹے چہرے سے چھوٹا ہوتا ہے۔ بڑے جسم کے ساتھ ساتھ بالعموم یہ موٹے دماغ کے لوگ ہوتے ہیں اور بات ذرا مشکل ہی سمجھتے ہیں۔

†††† دوسری قسم کے مصری نہایت صاف رنگت کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے خواہ کبھی اسکول کا منہ بھی نہ دیکھا ہو پھر بھی شکل سے نہایت ہی سوبر اور اعلی تعلیم یافتہ نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا انداز نہایت ہی مہذب ہوتا ہے۔

†††† تیسری قسم کے مصریوں کو ہم نے "ایکٹر مصریوں" کا خطاب دیا۔ یہ عموما گھنگریالے بالوں والی نسل ہے۔ یہ گفتگو کے ساتھ ساتھ پورا ڈرامہ رچاتے ہیں۔ ان کی بات سمجھنے کے لئے آپ کو عربی تو کیا بلکہ دنیا کی کوئی بھی زبان سیکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ لہجے کے اتار چڑھاؤ، چہرے کے تاثرات، جسم کی حرکات و سکنات اور اس کے علاوہ نان وربل زبان (Non Verbal Language) کے جتنے بھی طریق ہائے کار دنیا میں دریافت ہو چکے ہیں، ان کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ خوف کا شکار ہوں تو ایسا نقشہ کھینچیں گے کہ آپ لرز کر رہ جائیں۔ اگر حیرت کا اظہار کریں گے تو آپ کو بھی حیران کر کے ہی چھوڑیں گے اور اگر غصے میں ہوں گے تو آپ کو غصہ دلا کر رہیں گے۔

†††† چوتھی قسم کے مصری یہاں کے دیہاتی بدو ہیں۔ دوسرے عرب ممالک کے بدوؤں کی طرح نہایت ہی کشادہ دل، پر خلوص اور مہمان نواز۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر آپ ان کے علاقے میں چلے جائیں اور ان کی کسی بھیڑ یا مرغ وغیرہ کی طرف پسندیدگی سے دیکھ لیں تو یہ اس جانور کو ذبح کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں۔ جزیرہ نما سینا کے زیادہ تر حصوں میں بدو ہی آباد ہیں۔

زبان کا مسئلہ

سعودی عرب میں اپنے ڈیڑھ سالہ قیام کے دوران میں نے خاصی حد تک عربی زبان سیکھ لی تھی۔ اس زبان کے بل بوتے پر یمن سے لے کر اردن تک کے علاقے میں، میں باآسانی سفر کر چکا تھا جس کے باعث زبان کے بارے میں میری قوت خود اعتمادی میں کافی اضافہ ہو چکا تھا۔ میرا خیال تھا کہ مصریوں کے 'گ' کی جگہ 'ج' رکھ کر میں ان کی زبان بھی آسانی سے سمجھ لوں گا۔

†††† جیسے ہی ہم نے مصر کی سرزمین پر قدم رکھا، مصریوں کی زبان سن کر میری ساری خود اعتمادی اڑنچھو ہو گئی اور کانفیڈنس کا تاج محل دھڑام سے زمین بوس ہو گیا۔ مصری تو میری بات کسی نہ کسی حد تک سمجھ رہے تھے لیکن ان کی زبان میں "اعزک، اقلک اور اش تعوذےےےے؟؟؟" کے علاوہ کچھ پلے نہ پڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ مصریوں نے عربی میں متروک افریقی زبانوں کے جنتر منتر شامل کر کے ایک نئی زبان تخلیق کی ہے۔ میری حالت اس انگریز کی سی ہو رہی تھی جس نے آکسفورڈ کے کسی اعلی تعلیم یافتہ پنجابی پروفیسر سے پنجابی زبان سیکھی اور اس کے بل پر جھنگ اور میانوالی کے دیہات کی سیاحت کے لئے نکل کھڑ ا ہوا جہاں کی زبان خود پنجابیوں کو سمجھ نہیں آتی۔

†††† اردو کی بجائے پنجابی کی مثال دینے کی وجہ یہ ہے کہ اہل زبان کے علاوہ کیرالہ سے لے کر افغانستان تک اردو عام لوگوں کے رابطے کی زبان ہے۔ جس کسی کو بھی اردو آتی ہے، وہ ہر علاقے کے شخص کی بات آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ پنجابی کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ ہر سو کلومیٹر پر تبدیل ہوتی ہے، ہر دو سو کلومیٹر پر اس میں کافی فرق واقع ہوتا ہے اور ہر پانچ سو کلومیٹر پر یہ اتنی بدل جاتی ہے کہ اسے سمجھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability