بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قاہرہ

مصر بھی پاکستان کی طرح ایک آرمی سٹیٹ ہے۔ شرم الشیخ سے لے کر قاہرہ تک ہر شہر میں جگہ جگہ یہاں کے صدر حسنی مبارک کی تصاویر نظر آئیں جو کہ ائر فورس کے چیف تھے۔ چونکہ ہم اردن میں سلطان کی لاتعداد تصاویر دیکھ کر آ رہے تھے اس لئے یہ تصاویر ہمیں کافی کم محسوس ہوئیں۔ مبارک یہاں 1981ء سے برسر اقتدار ہیں۔ مصر کی سیاست اور معیشت فوج کے مضبوط قبضے میں ہے۔ صدارتی الیکشن میں ان کے علاوہ کسی اور امیدوار کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ پاکستان کی طرح ان کی پارلیمنٹ بھی فوج کے ماتحت رہ کر کام کرتی ہے۔ مصری فوج کا کردار بھی پاکستانی فوج کی طرح ہی ہے۔ اپنے ملک کے معاملے میں دونوں شیر ہیں البتہ دشمن کے مقابلے میں مصری فوج کے ساتھ بھی وہی معاملہ پیش آیا جو 1971 میں پاکستان آرمی کے ساتھ پیش آیا تھا۔

†††† مصر میں روز مرہ استعمال کی عام اشیا کی قیمتوں سے اندازہ ہوا کہ یہاں اشیا کی قیمتیں تقریباً سعودی عرب جتنی ہی ہیں البتہ یہاں کے لوگوں کی آمدنی کا معیار پاکستان جیسا ہے۔ پیٹرول اگرچہ سستا ہے لیکن لوگوں کی قوت خرید کے مطابق مہنگا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بھی گاڑیاں LPG پر چلائی جاتی ہیں جو پیٹرول پمپوں پر عام دستیاب ہے۔ ناصر کے دور میں کی گئی نیشنلائزیشن نے معیشت کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا۔ یہاں بے روزگاری بھی عام ہے۔ افرادی قوت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے جو مصر کے صرف چھ فیصد رقبے پر ممکن ہے۔ یہاں زراعت صرف دریائے نیل کے اطراف میں یا پھر ڈیلٹا کے علاقے ہی میں ہو سکتی ہے۔

†††† سویز سے نکلے تو ویسا ہی منظر تھا جیسا کہ ہمارے دیہاتی علاقوں میں ہوتا ہے۔ سرسبز لہلہاتے کھیت، ٹریکٹر ٹرالیاں، سرخ اینٹوں کے مکانات، اڑتی ہوئی دھول اور ان سب کے علاوہ دیہاتی چھپڑ جسے اردو میں جوہڑ کہتے ہیں۔ ایک گھنٹے میں ہم قاہرہ جا پہنچے۔ میں چونکہ گوگل ارتھ پر تفصیل کے ساتھ قاہرہ شہر کو دیکھ کر اس کا نقشہ سمجھ چکا تھا اس لئے کوئی مشکل نہ ہوئی۔ بجائے شہر میں داخل ہو کر ٹریفک میں پھنسنے کے ہم لوگ رنگ روڈ پر ہو لئے۔

†††† قاہرہ افریقہ کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسے دنیا کا سولہواں بڑا شہر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی آبادی اس وقت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب تھی۔ یہ شہر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بسایا ہوا ہے۔ اس زمانے میں اس کا نام "فسطاط" تھا۔ بعد میں جب فاطمی حکمرانوں نے مصر فتح کیا تو اس کو از سر نو آباد کر کے اس کا نام قاہرہ رکھا۔ اب یہ ایک جدید شہر ہے۔ اپنے پہلے تاثر میں یہ ہمیں لاہور اور کراچی سے زیادہ متاثر کن نہ لگا۔ اگر قاہرہ سے دریائے نیل اور تاریخی مقامات کو نکال دیا جائے تو یہ ایک عام سا شہر ہے۔ گرد و غبار اور گاڑیوں کے دھویں کے باعث خلیجی ممالک کے شہروں کی نسبت یہ کافی گندا سا محسوس ہوا۔ اہل مصر کی آبادی کا پچیس فیصد اس شہر میں آباد ہے۔

†††† رنگ روڈ سے باہر "القاہرۃ الجدید" کا علاقہ تھا۔ یہ پوش علاقہ تھا۔ دور سے ہی اعلی درجے کے رہائشی کمپاؤنڈ نظر آ رہے تھے جو کسی طرح بھی خلیجی ممالک کے کمپاؤنڈز سے کم نہ تھے۔ آگے جا کر معلوم ہوا کہ اس طرح کےپوش علاقوں کےعلاوہ قاہرہ میں کچی آبادیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب میں امیر اور غریب علاقوں میں فرق ضرور ہوتا ہے لیکن اتنا زیادہ نہیں۔ وہاں کے غریب لوگوں کے علاقوں میں بھی کم از کم زندگی کی بنیادی سہولیات جیسے پکی سڑکیں، سیوریج، بجلی، پانی اور پیٹرول وغیرہ دستیاب ہوتی ہیں۔ مصر میں امیر اور غریب کا یہ فرق پاکستان کی طرح بہت زیادہ ہے۔

†††† تھوڑی دیر میں ہم دریائے نیل کو پار کر کے اہرام تک جا پہنچے۔ قاہرہ دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر واقع ہے جبکہ مغربی کنارے پر "جیزہ" کا شہر ہے جو کہ ایک الگ گورنریٹ کا حصہ ہے۔ عملی طور پر قاہرہ اور جیزہ اس طرح ایک ہی شہر ہیں جیسا کہ ہمارے ہاں لاہور اور شاہدرہ ہیں۔ قاہرہ کے اہرام دراصل جیزہ میں واقع ہیں۔

†††† جیسے ہی ہم لوگ اہرام پہنچے، ایجنٹ ٹائپ کے لڑکوں نے ہم پر یلغار کر دی۔ یہ لڑکے ہم پر ویسے ہی ٹوٹ پڑے تھے جیسا کہ ایوبیہ اور نتھیا گلی کے علاقوں میں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کے لڑکے ان کی نسبت کافی مہذب ہوتے ہیں۔ یہ لڑکے سیاحوں کو غلط معلومات دے کر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ میں چونکہ ان سے نمٹنے کا طریقہ اچھی طرح جانتا تھا اس لئے ان سے جان چھڑانا مشکل ثابت نہ ہوا۔ اہرام کے محافظوں سے معلوم ہوا کہ اہرام دیکھنے کا وقت صبح ساڑھے سات سے شام چار بجے تک ہے۔ اس وقت ساڑھے چار بج رہے تھے اس لئے اہرام بند تھے۔ یہاں مغرب کا وقت آّٹھ بجے تھا اس لئے یہ اوقات عجیب سے معلوم ہو رہے تھے۔

نیل کے کنارے پر ایک شام

اب ہم واپس رنگ روڈ پر آئے اور سوئے نیل روانہ ہوئے۔ دریائے نیل کی کورنیش کے ایگزٹ سے نکل کر ہم لوگ نیل کی کورنیش پر آ گئے۔ یہ سڑک نیل کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ بنائی گئی ہے۔ کورنیش سے عام طور پر دریائے نیل نظر نہیں آتا کیونکہ کورنیش اور نیل کے درمیان چپے چپے پر ریسٹورنٹ بنا دیے گئے ہیں۔ ہمیں پہلا ریسٹورنٹ میرینا کلب کا نظر آیا چنانچہ ہم اسی میں داخل ہو گئے۔ یہ ایک صاف ستھرا اور کافی بڑا ریسٹورنٹ تھا۔

†††† ہوٹل میں کلاسیکی مصری موسیقی چل رہی تھی۔ یہ اسی قسم کی موسیقی تھی جیسی میں نے کراچی سے گوادر جاتے ہوئے سنی تھی۔ اگر مکرانی موسیقی میں پشتو میوزک کو ملا دیا جائے تو مصری موسیقی برآمد ہوگی۔ مجھے موسیقی سے بالعموم اور کلاسیکل موسیقی سے بالخصوص سخت چڑ تھی اس لئے ہم لوگ ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر نیل کے کنارے بچھی کرسیوں پر جا بیٹھے۔

†††† کسی بھی قوم کی موسیقی اس کے مزاج کی عکاس ہوتی ہے۔ پنجاب میں سکھوں ہی کو دیکھ لیجیے، شادی بیاہ سے لے کر جنازے تک ڈھول کو ان کے ہاں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ ہماری موسیقی کی بنیاد اردو شاعری پر ہے جو الفاظ کے طوطا مینا اور تخیل کی پرواز کے لئے مشہور ہے۔ یہ شاعری انسان کو اس کی حقیقی زندگی سے کاٹ کر خیالی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں وہ جس تخیل کی جس وادی میں چاہے بھٹکتا پھرتا ہے۔ جب تخیل سے نکل کر انسان حقیقی زندگی میں آتا ہے تو حقائق کی تلخی اسے کچھ زیادہ ہی تلخ محسوس ہوتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر تخیل سے لطف اندوز ہونے کی بجائے زندگی کے حقائق کا سامنا کرنا اچھا لگتا ہے خواہ وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہمجھے موسیقی کے شور کی بجائے سکون اور پن ڈراپ خاموشی پسند ہے۔ بہرحال ہر کسی کو اپنے مزاج کے مطابق کسی چیز کو پسند اور ناپسند کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

دریائے نیل کا کنارہ

†††† نیل پر آ کر بیٹھے تو ہم فطرت کے نہایت ہی قریب تھے۔ ڈھلتا ہوا سورج، سنہری دھوپ، نیل کا پرسکون نیلا پانی، دریا کے درمیان سرسبز جزیرے، پرندوں کی چہچہاہٹ اور پانی کی سرسراہٹ ایسا سماں باندھ رہی تھی کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ فضا میں ایک خاص قسم کی رومانویت موجود تھی۔

†††† رومانویت کے بارے میں بھی اہل برصغیر عجیب قسم کے افراط و تفریط میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف تو ان کے ہاں مرد و زن پر عجیب و غریب پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور دوسری طرف ان کی تمام رومانوی داستانوں کا اختتام شادی پر ہو جاتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جہاں سے رومانس کو اصولا شروع ہونا چاہیے، وہاں آ کر وہ ختم ہو جاتا ہے۔ شادی کے بعد بیوی کو صرف شوہر سے نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان سے نمٹنا پڑتا ہے جو عموماً شوہر اور بیوی کے تعلقات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

†††† ہمارے معاشرے شوہر اور بیوی کا رشتہ محبت، رومانس اور دوستی کا نہیں بلکہ آقا یا غلام یا پھر مخدوم اور خادم کا رشتہ ہے۔ اسی فلسفے کے باعث خواتین کے لئے ازدواجی زندگی میں عموماً کوئی کشش باقی نہیں رہتی جس کے باعث ان کی دلچسپی کا مرکز شوہر کی بجائے بچے اور گھر کے کام بن جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوہر کی دلچسپیاں گھر سے باہر کی سرگرمیوں سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی زن و شو کے تعلق کو صحیح معنوں میں انجوائے کر سکے تو انسان کا گھر جنت کا نمونہ بن جائے۔ اس کے لئے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر ارشد جاوید صاحب کی کتب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ ان کی کتب اس لنک پر دستیاب ہیں:

http://www.noorclinic.com/Book1/book1_home.htm

†††† اس مقام پر آ کر دریائے نیل اپنے سات ہزار کلومیٹر طویل سفر کے تقریباً اختتام پر تھا۔ مزید دو سو کلومیٹر کے بعد اسے بحیرہ روم میں جا گرنا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنا طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد بھی دریائے نیل لبالب بھرا ہوا تھا۔ آسمان کا نیلا رنگ دریائے نیل سے پوری طرح منعکس ہو رہا تھا۔ نیل کے بیچوں بیچ موجود سبز جزیرے اس نیلے رنگ کے ساتھ مل کر فطرت کا دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔ میرا اپنا تعلق بھی پانچ دریاؤں کی سرزمین سے ہے لیکن بغیر کسی تعصب کے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اتنا خوبصورت دریا میں نے اس سے پہلے نہ دیکھا تھا۔

دریائے نیل

دریائے نیل کو دنیا کا سب سے بڑا دریا یا دوسرا بڑا دریا سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر دنیا کے زیادہ تر دریا شمال سے جنوب کی طرف بہتے ہیں۔ دریائے نیل، دنیا کے ان چند دریاؤں میں شامل ہیں جو جنوب سے شمال کی طرف بہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مصر جنوبی مصر کو بالائی مصر (Upper Egypt) اور شمالی مصر کو زیریں مصر (Lower Egypt) کہتے ہیں۔ ہم چونکہ پاکستان سے آئے تھے اس لئے ان اصطلاحات ہضم کرنا کافی دشوار محسوس ہوا۔

†††† دریائے نیل دراصل دو دریاؤں کا مجموعہ ہے۔ اس کی ایک شاخ بحر ازرق یا نیلا دریا کہلاتی ہے۔ یہ دریا ایتھوپیا میں واقع "ترانہ جھیل" سے شروع ہوتا ہے اور سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب آ کر دوسرے دریا بحر ابیض یا سفید نیل میں مل جاتا ہے۔ بحر ازرق، ترانہ جھیل کے قریب نہایت ہی خوبصورت آبشار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

†††† سفید نیل کا سفر بہت طویل ہے۔ اس کا آغاز بالعموم جھیل وکٹوریہ سے مانا جاتا ہے جو کہ کینیڈا کی جھیلوں کے بعد روئے زمین پر میٹھے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ یہ جھیل کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ اور روانڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ پورا علاقہ بہت سے جھیلوں پر مشتمل ہے جو مختلف دریاؤں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ جھیل وکٹوریہ سے نکل کر دریائے نیل جھیل کیوگو سے ہوتا ہوا جھیل البرٹ میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں سے یہ سوڈان میں داخل ہوتا ہے۔

†††† سوڈان رقبے سے اعتبار سے افریقہ اور مسلم دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ پورے سوڈان سے گزرتا ہوا دریائے نیل مصر میں داخل ہوتا ہے جہاں اس دریا پر سب سے بڑا ڈیم "اسوان ڈیم" بنایا گیا ہے۔ مصر کو سیراب کرتا ہوا یہ دریا قاہرہ کے قریب دو شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جو آگے جا کر مزید تقسیم ہو جاتی ہیں۔ یہ علاقہ ڈیلٹا کہلاتا ہے۔ یہ شاخیں بحیرہ روم میں جا گرتی ہیں۔

†††† دریائے نیل دور قدیم سے افریقی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے حام کی اولاد افریقہ کے علاقوں میں جا کر آباد ہوئی۔ ان کے دوسرے بیٹوں میں سام کی نسلیں مشرق وسطی اور یافث کی نسلیں وسطی ایشیا میں جا کر آباد ہوئیں۔ حام کی اولاد نے دریائے نیل اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر آبادی اختیار کی۔ بہت سے افریقی ممالک کے نام بھی حام کی اولاد میں بڑے سرداروں کے نام پر پڑے۔ بائبل کے مطابق 'مصر' حام کے بیٹے اور نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے کا نام ہے۔

قاہرہ میں دریائے نیل کی مشرقی شاخ

دریائے نیل کی مغربی شاخ (پس منظر میں قاہرہ کی بلند و بالا عمارتیں)

 

دریائے نیل نے قدیم دور میں بہت سی افریقی تہذیبوں کو جنم دیا جن میں فراعین کی مصری تہذیب شامل ہے۔ اس دور کی سپر پاورز کا تعلق بھی زیادہ تر افریقہ ہی سے رہا ہے۔ صدیوں کے ارتقائی عمل میں افریقہ دوسری اقوام سے پیچھے رہ گیا جس کے باعث اس کی سپر پاور کی حیثیت ختم ہوئی اور بالآخر بنی اسرائیل کے دور میں دنیا کا اقتدار حام کی نسلوں سے سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے بیٹے سام کی نسلوں کو منتقل ہوا۔ سام کی اولادیں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کی حکومت دنیا پر تقریباً اڑھائی ہزار برس قائم رہی۔ اس کے بعد دنیا کا اقتدار سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے تیسرے بیٹے یافث کی نسلوں کو منتقل ہوا۔

†††† وسطی ایشیا کے تاتاری اور ترک یافث ہی کی اولاد ہیں۔ جدید دور میں یورپ، روس، امریکہ، جاپان اور چین بڑی طاقتیں بنے۔ یہ لوگ بھی یافث ہی کی نسلوں میں سے ہیں۔ یافث کی نسلیں اس وقت شمالی و جنوبی امریکہ، آسٹریلیا، یورپ، روس، چین اور پورے مشرقی ایشیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ یافث کی ان نسلوں کے بعض لوگوں میں سام کی نسلوں کے خلاف نفرت کا رویہ پایا جاتا ہے جسے اینٹی سامیت (Anti-Semitism) کہا جاتا ہے۔

†††† ماہرین ارضیات کے خیال میں افریقہ کا شمالی علاقہ دور قدیم میں بہت زرخیز تھا۔ موسمی تبدیلیوں کے باعث 8000 قبل مسیح میں یہ علاقہ صحرائے اعظم میں تبدیل ہو گیا جس کے باعث ان علاقوں کے رہنے والوں کو دریائے نیل کے اطراف میں ہجرت کرنا پڑی۔ اس وقت بھی مصر کی آبادی کا بڑا حصہ دریائے نیل کے اطراف میں آباد ہے۔ نیل کا ڈیلٹا دنیا کے زرخیز ترین علاقوں میں سے ہے۔ یہاں پانی کی کوئی کمی نہیں جس کے باعث بہترین قسم کی فصلیں یہاں ہوتی ہیں۔ جدہ میں ہم نے ڈیلٹا کا چاول کھانے کی کوشش کی تھی لیکن پنجاب کے چاول کے مقابلے میں زیادہ اچھا محسوس نہ ہوا۔ سعودی عرب میں پنجاب کا چاول، مصری چاول کے مقابلے میں پانچ گنا مہنگا ہے۔

†††† غروب آفتاب تک ہم دریائے نیل کے کنارے، موسم اور مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ہوٹل والوں نے دریا کے پانی میں ڈائرکٹ موٹر لگائی ہوئی تھی جس سے دریا کے پانی کو کھینچ کر چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا۔ دریا کے کنارے پر ریلنگ لگی ہوئی تھی جس کے پار جانا قانونی طور پر ممنوع تھا۔ قریب ہی ایک کافی بڑا بحری جہاز کھڑا تھا۔ قاہرہ میں بڑے بڑے ہوٹل، کیسینو، نائٹ کلب اور دیگر عیاشی کے اڈے انہی بحری جہازوں میں قائم ہیں۔

†††† ہم اب مصری کھانوں سے تنگ آ چکے تھے اس لئے فاسٹ فوڈ ہی کو ترجیح دی۔ ہمیں سرو کرنے والے صاحب مصر کے کسی دور دراز گاؤں سے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کافی گپ شپ کی۔ یہ معلوم ہونے پر کہ میں پاکستانی ہوں، وہ بہت خوش ہوئے۔ ان صاحب کے علاوہ مصریوں میں پاکستانیوں سے خاص محبت اور گرم جوشی کا وہ جذبہ دیکھنے کو نہیں ملا جو کہ اردن میں نظر آیا تھا۔

†††† ریسٹورنٹ کے ایک کمرے کو مسجد کی شکل دی گئی تھی۔ مصر میں بھی پاکستان کی طرح خواتین کے لئے علیحدہ ہال کا رواج نہ تھا۔ مغرب کی نماز میں یہاں موجود نمازیوں نے مجھے امامت کے لئے آگے کر دیا۔ کچھ دیر یہاں بیٹھنے کے بعد ہم روانہ ہوئے۔

قاہرہ کا آزادی چوک

اب ہماری منزل قاہرہ کا اندرون شہر تھی۔ میرے کولیگ احمد نادر نے مشورہ دیا تھا کہ قاہرہ میں "میدان التحریر" یعنی آزادی چوک کا رخ کروں کیونکہ زیادہ تر ہوٹل یہیں واقع ہیں۔ راستے میں ایک جگہ ہم نے پٹرول لیا۔ مصر میں تیل کے بزنس پر ایگزون موبل کا قبضہ ہے۔ دیگر تیل کی کمپنیاں جیسے شیل اور ٹوٹل موجود ہیں لیکن موبل یہاں مارکیٹ لیڈر ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مصر میں اب تک آکٹین 80 دستیاب ہے۔ ان دنوں شاید ان کے ہاں آکٹین 92 نیا نیا لانچ ہوا تھا جس کی ہر جگہ بہت ایڈورٹائزنگ کی گئی تھی۔ ہم لوگ تو سعودی عرب میں آکٹین 95 استعمال کرنے کے عادی تھے اس لئے یہ سب عجیب سا لگ رہا تھا۔

†††† گوگل ارتھ کے نقشوں کی مدد سے ہم سیدھے میدان التحریر جا پہنچے۔ یہ کراچی کے صدر جیسا علاقہ تھا۔ یہاں کی خاص بات یہ تھی کہ یورپ کے شہروں کی طرح مصریوں نے بھی قدیم عمارتوں کو محفوظ کر لیا تھا۔ یہاں موجود سب کی سب عمارتیں کافی پرانی تھیں۔ ان کے طرز تعمیر سے یہ لگ رہا تھا کہ یہ انیسویں صدی میں انگریزوں نے تعمیر کی ہوں گی۔ عمارتوں کی ساخت اور طرز تعمیر کراچی کی ایمپریس مارکیٹ جیسا تھا۔

قاہرہ کی ٹریفک

قاہرہ میں کراچی یا راولپنڈی کی طرز کی کالی پیلی ٹیکسیاں چل رہی تھیں لیکن ان کے رنگوں کی ترتیب الٹ تھی یعنی پوری ٹیکسی زرد رنگ کی اور چھت سیاہ رنگ کی۔ شہر میں بہت اژدھام تھا اور لوگ بسوں سے اسی طرح لٹک کر سفر کر رہے تھے جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ یہاں بھی نفسا نفسی کا عالم تھا۔ پیدل لوگ چلتی گاڑیوں کے درمیان سڑک پار کر رہے تھے اور گاڑیوں والے انہیں راستہ دینے کو تیار نہ تھے۔ ہر طرف ہارن کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

†††† میں سعودی عرب میں رہنے کے باعث وہاں کی ڈرائیونگ کی اخلاقیات کا عادی ہو چکا تھا۔ سعودی عرب میں یہ رواج ہے کہ گاڑی والے رفتار آہستہ کر کے یا گاڑی روک کر پیدل چلنے والوں کو پہلے راستہ دیتے ہیں۔ اگر دو گاڑیوں کا آمنا سامنا ہو جائے تو دوسری گاڑی کو نکلنے کا راستہ پہلے دیا جاتا ہے۔ ہارن بجانے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ ہفتے میں ایک آدھ بار ہی ہارن بجانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اپنی اسی عادت کے باعث میں نے رک کر پیدل چلنے والوں کو سڑک پار کرنے کا راستہ دیا۔ اس پر ان لوگوں نے خوشگوار حیرت سے مجھے دیکھا۔ میری یہ حرکت پیچھے آنے والوں کو پسند نہ آئی جس کا اظہار انہوں نے ہارن بجا کر کیا۔

†††† فٹ پاتھوں پر کھڑے ٹورسٹ گروپوں کے ایجنٹ لوگوں کو گھیرنے کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ ہم پر بھی انہوں نے طبع آزمائی کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ ہم لوگوں کا مزاج کچھ ایسا بن گیا ہے کہ ہم بڑے گروپوں میں سیر و تفریح کو پسند نہیں کرتے۔ جو آزادی انسان کو اپنے طور پر سفر کر کے میسر ہوتی ہے، گروپ کی صورت میں اس کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے۔

قاہرہ کا اندرون شہر

قاہرہ کی ایک کچی آبادی

†††† قاہرہ کے فائیو اسٹار ہوٹل کافی مہنگے تھے کیونکہ یہ سیزن کا عروج تھا۔ ہم نے ایک آدھ فور اسٹار کہلانے والا ہوٹل بھی دیکھا لیکن یہ ٹھہرنے کے قابل معلوم نہ ہوا۔ خوش قسمتی سے ہمیں "کینیڈین ہاسٹل" کی عمارت نظر آ گئی۔ یہ نہایت ہی صاف ستھرا ہاسٹل تھا اور ریٹ بھی بہت مناسب تھے۔ اسٹاف کا رویہ بھی بہت اچھا تھا۔ یہاں کراچی کے صدر کی طرح پارکنگ کا مسئلہ تھا لیکن ہوٹل کے کاؤنٹر پر موجود صاحب نے میرے ساتھ اپنے ایک کولیگ کو بھیج دیا جنہوں نے ایک چارجڈ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کروا دی۔

†††† رات کے کھانے کے طور پر میں پہلے ہی 'چونسا' سے ملتے جلتے مصری آم خرید چکا تھا۔ کھانے پر معلوم ہوا کہ ہمارا چونسا اس کی نسبت بہت لذیذ ہے۔ اگلے دن ہم نے 'لنگڑا' سے ملتے جلتے آم بھی خریدے جس کا ذائقہ واقعی اپنے لنگڑے آم سے ملتا جلتا تھا مگر گٹھلی کے ساتھ ریشہ بہت تھا۔ صبح ہم جلد ہی بیدار ہو گئے۔ ناشتہ کمرے کے کرائے میں شامل تھا۔ یہاں لانڈری کی سہولت بھی ارزاں نرخوں پر دستیاب تھی۔ ہاسٹل کی ایک دیوار پر ایک خوبصورت پینٹنگ آویزاں تھی جس میں قدیم دور کی ایک دکان کو دکھایا گیا تھا۔

قدیم دور کی دکان کی تصویر کشی

†††† ڈائننگ ہال میں ایک جاپانی گروپ موجود تھا۔ یہ لوگ بڑے عجیب ہوتے ہیں، گھنٹوں ایک دوسرے کے سامنے صم بکم بنے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ بھی شاید ہمارے صوفیا کی طرح کم کھانے، کم سونے اور کم بولنے کے قائل ہیں۔ میں بھی کسی حد تک اس نقطہ نظر کا قائل ہوں لیکن یہ بات بھی ہے کہ بری گفتگو سے خاموش رہنا اور خاموش رہنے سے اچھی گفتگو کرنا افضل ہے۔ اسی طرح کم کھانے اور کم سونے میں بھی اعتدال ہونا چاہیے اور انسان کو اپنی جسمانی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔ ناشتے کی میز پر اٹلی کے دو صاحبان سے ملاقات ہوئی۔ یہ باپ بیٹا تھے اور اٹلی سے مصر دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔

†††† ہاسٹل میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی دستیاب تھی۔ کافی دن سے میں نے نہ تو ای میل چیک کی تھی اور نہ ہی پاکستانی اخبار نہیں دیکھے تھے۔ انٹرنیٹ پر یہ دونوں کام کرنے کے بعد ہم قاہرہ کی سیاحت کے لئے تیار ہو گئے۔ ہماری پہلی منزل قاہرہ کا عجائب گھر تھی جو کہ میدان التحریر پر ہی واقع تھا۔ یہ عجائب گھر اتنا بڑا ہے کہ اگر اس میں موجود ہر چیز کو دیکھنے پر ایک منٹ بھی لگایا جائے تب بھی اس پورے عجائب گھر کو دیکھنے کے لئے آٹھ مہینے درکار ہوں گے۔

تاریخ کے مطالعے کا مقصد

بہتر ہو گا کہ ہم اس عجائب گھر کی سیر سے پہلے مصر کی قدیم تاریخ پر کچھ نظر ڈال لیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ اب مسلسل تاریخ پڑھ کر بور ہو رہے ہوں گے لیکن تاریخی مقامات کے سفر نامے پڑھنے میں ایسا تو ہوتا ہی ہے۔ میری کوشش یہ رہی ہے کہ اس سفر نامے میں تاریخی واقعات کو گنجلک انداز میں پیش کرنے کی بجائے سادہ اور سبق آموز انداز میں پیش کیا جائے۔ اس کوشش میں میں کتنا کامیاب ہوا ہوں اس کا فیصلہ آپ ہی کر سکتے ہیں۔

†††† تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لئے عموماً دو نقطہ ہائے نظر رائج ہیں۔ ایک نقطہ نظر تو یہ ہے کہ انسان "تاریخ برائے تاریخ" کے طریقے پر قدیم اقوام کی ہسٹری کا مطالعہ کرے اور ان کے حالات جاننے کی کوشش کرے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ "تاریخ برائے سبق" کے طریقے پر انسان تاریخی واقعات کا تجزیہ کرے اور ان سے اپنے لئے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ مجھے یہ دوسرا طریقہ پسند ہے۔ اگر سبق حاصل نہ کرنا ہو تو میرے نزدیک تاریخ کا مطالعہ سوائے وقت کے ضیاع کے اور کچھ نہیں ہے۔

†††† تاریخ کے مطالعے کا ایک اور نقطہ نظر بھی ہے جو ہم مسلمانوں میں بہت مقبول ہے اور وہ ہے "تاریخ برائے فخر"۔ اس طریقے سے انسان کو سوائے اپنے تابناک ماضی پر فخر کر کے اپنی انا کی تسکین کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ زوال پذیر قومیں اپنے زوال کے اسباب کا تجزیہ کر کے ان کو دور کرنے کی بجائے 'پدرم سلطان بود' کے تخیلاتی ماحول میں پھنسی رہتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے ماضی کے مقابلے میں ان کا حال اور مستقبل مزید خراب ہوتا چلا جاتا ہے۔

مصر کی قدیم تاریخ

مصر کی قدیم تاریخ سات ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ دنیا کی تواریخ میں یہ سب سے طویل تاریخ ہے۔ بائبل کے مطابق مصر کو سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے مصر نے آباد کیا۔ مصر کی اولاد موجودہ مصر اور فلسطین کے علاقوں میں جا آباد ہوئی اور بائبل کی تصنیف کے زمانے تک یہ لوگ ان علاقوں پر حکومت کرتے رہے۔ سوائے اولاد ابراہیم کے اور کوئی قوم سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام تک اپنے مکمل شجرہ نسب سے آگاہ نہیں ہے۔

†††† آج سے بارہ ہزار برس قبل مصر کے لوگوں نے غلے کو پیسنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ اس زرعی ثقافت کے بعد پتھر کے دور میں پتھر کے بنے اوزار کے ذریعے شکار کے پیشے کا آغاز ہوا۔ دس ہزار برس قبل اس علاقے میں شمالی افریقی قبائل آباد ہوئے کیونکہ اس دور میں شمالی افریقہ کا پورا علاقہ صحرائے صحارا میں تبدیل ہوا تھا۔ اب سے آٹھ ہزار سال قبل ان کے ہاں گلہ بانی اور عمارتوں کی تعمیر کا سراغ ملتا ہے۔

†††† 3100 قبل مسیح میں ان کے ہاں خاندانی بادشاہت کا آغاز ہوا۔ یہ بادشاہت موجودہ اسوان سے لے کر ڈیلٹا تک کے پورے زرعی علاقے پر محیط تھی۔ یہ سلطنت مختلف خاندانوں کے پاس رہی جن کی تعداد اکتیس ہے۔ یہ سلسلہ 330 قبل مسیح تک چلتا رہا جب اسکندر اعظم نے مصر فتح کر کے خاندانی بادشاہتوں کے اس سلسلے کو ختم کر دیا۔

†††† تیسرے خاندان سے لے کر چھٹے خاندان تک کا زمانہ "قدیم سلطنت (Old Kingdom)" کہلاتا ہے۔ اس دور میں لاشوں کو محفوظ کر کے ممیاں بنانے کی صنعت کا آغاز ہوا۔ بڑی بڑی عمارتیں جن میں اہرام مصر بھی شامل ہیں، بنائی گئیں۔ اس دور کا دارالحکومت میمفس تھا جو موجودہ جیزہ کے علاقے میں واقع تھا۔ اہرام دراصل اس دور کے شاہی قبرستان میں بنائے گئے۔ 2575 قبل مسیح میں موجودہ بڑا اہرام، فرعون خوفو کے دور میں تعمیر کیا گیا۔ چھٹے خاندان کے دور میں فرعون پیپی کے دور میں مصر کو عروج حاصل ہوا جو کہ اس کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔

†††† اگلے پانچ سو سال کا عرصہ طوائف الملوکی کا دور رہا اور پانچ مختلف خاندانوں نے مصر پر حکومت کی۔ اس دور میں پورے مصر میں خانہ جنگی جاری رہی۔ 2055 قبل مسیح میں منتو حوتب دوئم نے اس انتشار کا خاتمہ کر کے ایک مضبوط حکومت کی بنیاد رکھی جو کہ درمیانی سلطنت (Middle Kingdom)" کہلاتی ہے۔ یہ سلطنت آمن ام ہات سوئم نامی فرعون کے زمانے میں اپنے عروج کو پہنچی۔

ہکسوس بادشاہ

انیسویں صدی قبل مسیح میں مصر پر سامی النسل ہکسوس بادشاہوں نے حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ جب سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام یہاں آئے تو انہی کی حکومت تھی۔ ان کے دور میں بنی اسرائیل کو یہاں آباد ہونے کا موقع ملا۔ اس کے کچھ عرصے بعد ان غیر ملکی بادشاہوں کے خلاف ایک زبردست قوم پرستی کی تحریک اٹھی اور ہکسوس بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ لوگ پندرھویں اور سولہویں خاندان پر مشتمل تھے۔ اسی دور میں بنی اسرائیل کو غلام بنایا گیا۔

†††† سترہویں خاندان کے دور میں دارالحکومت کو میمفس سے تھیبس منتقل کیا گیا۔ تھیبس عین اس مقام پر واقع تھا جہاں آج کا "لقصر" یا "الاقصر" شہر موجود ہے۔ توتن خامون کے دور میں مصر کو بڑا عروج حاصل ہوا۔ اس کے کچھ عرصے بعد مصر میں اخناتون نامی فرعون کی حکومت آئی جس نے بے شمار دیوتاؤں کی بجائے ایک خدا کی عبادت کو فروغ دیا۔ اخناتون کی وفات کے بعد مصری پھر بہت سے دیوتاؤں کی عبادت کرنے لگے۔

†††† اخناتون کے بعد مصر میں رعمسیس دوئم کی حکومت آئی۔ اسی زمانے میں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی اور آپ نے بنی اسرائیل کو ان سے آزاد کروایا۔ رعمسیس کا بیٹا فرعون منفتاح سمندر میں غرق ہوا جس کی لاش بعد میں ملی اور اس کی ممی بنائی گئی۔

†††† بعد کا دور جدید سلطنت (New Kingdom) کا دور ہے۔ اس میں مختلف خاندان اقتدار میں آئے۔ مصر چونکہ ایک زرخیز ملک تھا اس لئے اس پر ایران اور یونان کی سلطنتوں کے حملے ہوتے رہے ۔ بالآخر اکتسویں خاندان کے دور میں، جو کہ ایران کے ہخامنشی خاندان کا دور تھا، اسکندر اعظم نے مصر کو فتح کر کے خاندانی بادشاہت کے دور کا خاتمہ کر دیا۔ اسکندر نے اپنے نام سے اسکندریہ کا شہر بسایا اور اسے مصر کا دارالحکومت قرار دیا۔

†††† 323 قبل مسیح میں بابل میں اسکندر کی موت کے بعد اس کے جرنیلوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ مصر کا علاقہ پٹولمی اول کے حصے میں آیا جس نے فرعون کا لقب اختیار کر کے مصر پر اپنی حکومت قائم کی اور اگلے تین سو سال یہاں حکومت کرتے رہے۔ اس خاندان کی آخری ملکہ قلوپطرہ تھی جس نے روم کے بادشاہ سیزر سے شادی کر لی تھی۔ 30ء میں قلوپطرہ کی موت کے بعد مصر رومی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

رومی دور

اگلے چھ سو برس یہاں رومی سلطنت قائم رہی۔ تیسری صدی میں رومی بادشاہ قسطنطین کے عیسائیت قبول کرنے کے بعد یہ علاقہ عیسائی مبلغین کا گڑھ بن گیا اور یہاں کے مقامی باشندوں کی اکثریت نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت کو بطور مذہب اپنا لیا۔ پورے مصر میں بے شمار خانقاہیں اور گرجے تعمیر کئے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں روم و ایران کی بڑی جنگ ہوئی جس کے دوران ایران کے بادشاہ خسرو نے مصر بھی فتح کر لیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد ہرقل نے مصر کو دوبارہ فتح کر کے بازنطینی سلطنت کا حصہ بنا دیا۔

مسلمانوں کا دور

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مصر کے گورنر مقوقس کو خط لکھ کر اسلام لانے کی دعوت دی تھی جسے اس نے سنجیدگی سے سنا تھا لیکن اسلام قبول نہ کیا تھا۔ 639ء میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں چار ہزار کا ایک لشکر مصر بھیجا۔ آپ نے اپنی اعلی درجے کی حربی مہارت کے باعث صرف ڈیڑھ سال کے عرصے میں ہی سینا سے لے کر مصر کا دارالحکومت اسکندریہ فتح کر لیا۔ اس فتح میں مصر کے عیسائیوں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا کیونکہ وہ رومی حکومت اور دوسرے فرقوں کے عیسائیوں کے مظالم سے سخت تنگ تھے۔

†††† سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ یہاں کے گورنر مقرر ہوئے جو اعلی پائے کے منتظم اور جرنیل تھے۔ آپ نے موجودہ لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش کے علاقوں کو فتح کر لیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد مسلمانوں نے بحیرہ روم پار کر کے سپین بھی فتح کر لیا۔ خلافت راشدہ کے بعد مصر بنو امیہ اور بنو عباس کی بادشاہتوں کے دور میں ایک صوبہ رہا۔

†††† عباسی بادشاہوں کی کمزوری کے باعث مصر میں طولونی اور پھر اخشیدی بادشاہوں کی حکومت قائم رہی۔ یہ لوگ عباسی بادشاہ کو خلیفہ مان کر اس کا نام خطبوں میں لیتے لیکن کاروبار سلطنت اپنی مرضی سے چلاتے گویا اس حکومت میں عباسی خلیفہ کو برائے نام اقتدار حاصل تھا۔ بالآخر 971ء میں یہاں تیونس کے فاطمی بادشاہوں کی حکومت آئی جو اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ فاطمیوں نے قاہرہ کی بنیاد رکھی اور اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ انہوں نے ایک سو سال حکومت کی جس کے بعد ملک طوائف الملوکی کا شکار ہو گیا۔ مزید سو سال کی طوائف الملوکی کے بعد صلاح الدین ایوبی نے 1183ء میں مصر کو اپنی سلطنت میں شامل کر کے اسے اپنا مرکز بنایا۔

†††† ایوبی کے جانشین ان کی طرح باصلاحیت نہ تھے۔ ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا جو اورنگ زیب عالمگیر کے جانشینوں کے ساتھ ہوا تھا۔ بھائیوں میں اقتدار کے لئے جنگ چھڑ گئی۔ حکومت ان کے غلاموں کے قبضے میں چلی گئی جو مملوک سلطان کہلائے۔ مملوکوں کی حکومت 1517ء تک رہی جب عثمانی بادشاہ سالم اول نے مصر فتح کر کے اسے سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا دیا۔

مصر کی جدید تاریخ

عثمانی بادشاہوں کی حکومت میں مصر پر حکومت ان کے لئے ایک مشکل کام رہی۔ 1798ء میں نپولین کی قیادت میں یہاں فرانس نے قبضہ کر لیا جسے 1805ء میں محمد علی پاشا نے ختم کر کے اپنی حکومت کی بنیاد رکھی۔ محمد علی کی حیثیت عثمانیوں کے گورنر کی سی تھی۔ اس کے بعد مصر کی سعودی عرب کی قدیم سلطنتوں کے ساتھ جنگیں بھی ہوئیں۔ محمد علی کو مزید جنگوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے جانشینوں نے انگریزوں سے تعلقات بڑھائے اور 1869ء میں نہر سویز کھودی گئی۔ انیسویں صدی کے اواخر تک مصر پر انگریزوں کا قبضہ مستحکم ہو چکا تھا۔ ان کے قبضے کے دوران مصر پر کٹھ پتلی بادشاہوں کی حکومت رہی۔

†††† 1922ء میں مصر آزاد ہوا۔ اس کے بعد ان کے ہاں مغرب پرست بادشاہوں کی حکومت رہی جو اپنی عیاشی کے لئے مشہور تھے۔ 1952ء میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں جمال عبدالناصر نے شاہ فاروق کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس وقت سے مصر میں فوجی حکومت کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے۔

قاہرہ کا عجائب گھر

ہاسٹل سے نکل کر ہم لوگ پیدل ہی چل کر مصر کے قومی عجائب گھر جا پہنچے۔ عجائب گھر میں داخلے کا ٹکٹ پچاس مصری پاؤنڈ (تقریباً پانچ سو روپے) کا تھا۔ عجائب گھر کے باہر مختلف فرعونی ادوار کے مجسمے نصب تھے۔ اندر کیمرہ لے جانے کی اجازت نہ تھی جس کے باعث ہم تصاویر لینے سے محروم رہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پابندی اس لئے لگائی گئی تھی تاکہ لوگ خود تصویر کھینچنے کی بجائے وہاں موجود دکانوں سے سی ڈیز وغیرہ خریدیں۔

پورٹیبل قبریں اور ماسک

اندر جا کر ہماری نظر فرعون توتن خامون عرف توت کے ماسک پر پڑی۔ یہ ماسک دراصل دھات یا پتھر سے بنے ہوئے تابوت ہوتے تھے۔ ان پر فرعون کا چہرہ بنایا جاتا اور حنوط شدہ ممی کو اس کے اندر رکھ کر پتھر کی بنی ہوئی قبر میں رکھا جاتا۔ اس قبر کو تابوت اور لاش سمیت اہرام میں رکھ دیا جاتا۔

†††† فرعون توت غالبا اٹھارہویں خاندان کا مشہور فرعون ہے۔ اس سے میرا کبھی کوئی تعلق نہیں رہا لیکن اس نے اپنے مرنے کے چار ہزار سال بعد میرے لئے ایک خالصتاً ذاتی مسئلہ کھڑا کر دیا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس فرعون کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں لاہور کی نہر پر کیمپس پل کے پاس ریڑھوں پر بکنے والے شہتوت آ جاتے ہیں اور انہیں کھانے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اس کوالٹی کے شہتوت مجھے کبھی سوائے طائف کے اور کہیں نصیب نہیں ہوئے۔ قاہرہ میں کہیں شہتوت کا نام و نشان بھی نہ تھا اس لئے سوائے فرعون توت کے نام کو کوسنے کے میں کچھ نہ کر سکتا تھا۔

†††† فراعین کی پورٹیبل قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے ہم اوپر کی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ اس قسم کی پورٹیبل قبریں بلوچوں کے ہاں بھی بنائی جاتی تھیں اور کراچی سے باہر نکلتے ہوئے نیشنل ہائی وے پر اسی قسم کا قبرستان بھی آتا ہے۔ اوپر جا کر معلوم ہوا کہ ممی سیکشن میں جانے کے لئے علیحدہ ٹکٹ لینا پڑے گا جو سو پاؤنڈ میں دستیاب تھا۔ ہم یہاں ممیاں دیکھنے تو آئے تھے چنانچہ ٹکٹ لینا پڑا۔ ہمارے ہاں کے شیخ، بنیے اور میمن تو بلاوجہ ہی مشہور ہیں، پیسہ کمانا تو کوئی مصریوں سے سیکھے۔

ممی سیکشن

ہم لوگ ممی سیکشن میں داخل ہوئے۔ اس سیکشن میں کم از کم تیس چالیس فرعونوں کی ممیاں تو ہوں گی۔ ممی کیا تھی، ہڈیوں کے سالم ڈھانچے ہی تھے۔ ان کے چہروں سے گوشت وغیرہ کب کا سوکھ چکا تھا البتہ ڈھانچہ پورے کا پورا صحیح سلامت موجود تھا جس پر کھال منڈھی ہوئی تھی۔ یہاں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے فراعین رعمسیس اور منفتاح کی ممیاں بھی موجود تھیں۔ منفتاح کی ممی کی جب پٹیاں کھولی گئیں تو اس پر نمک کی تہہ بھی برآمد ہوئی۔ قرآن مجید کی یہ آیات میرے ذہن میں گردش کرنے لگیں:

وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْياً وَعَدْواً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلاَّ الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ. أَالآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنْ الْمُفْسِدِينَ. فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً وَإِنَّ كَثِيراً مِنْ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ۔ اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر میں سے گزار کر لے گئے۔ فرعون اور اس کے لشکر ظلم و زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے۔ یہاں تک کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو بول اٹھا، "میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اس کے سوا کوئی نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں اطاعت کرنے والوں میں سے ہوں۔" (جواب دیا گیا)، "تم اب ایمان لاتے ہو، حالانکہ اس سے پہلے تک تم نافرمانی کرتے رہے اور تم فساد برپا کرنے والوں میں سے تھے۔ اب ہم صرف تمہاری لاش کو بچائیں گے تا کہ بعد کی نسلوں کے لئے تم نشان عبرت بنو۔" (یونس 10:90-92)

ان ممیوں کو دیکھ کر انسان کو دنیا کی بے ثباتی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں اس وقت جتنے بھی لوگ شیشے کے شو کیسوں میں بند بے حس و حرکت لیٹے ہوئے تھے، وہ سب کے سب اپنے زمانوں میں نہایت ہی باجبروت حکمران تھے۔ ان میں سے بہت سوں نے خود کو اپنے جیسے انسانوں کا خدا قرار دیا اور انہیں اپنے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت ان فراعین کے جسم انہی عام انسانوں کے رحم و کرم پر تھے۔ ان کی روحیں اللہ تعالی کے حضور پہنچ چکی تھیں اور اپنے دنیا کے اعمال کا بدلہ وصول کر رہی ہوں گی۔ نیک فراعین اللہ تعالی سے اپنے نیک اعمال کی جزا پا رہے ہوں گے اور برے فراعین اپنے برے اعمال کی سزا بھگت رہے ہوں گے۔

بچگانہ تصاویر اور بھدے مجسمے

ممی سیکشن سے نکل کر ہم باہر آ گئے۔ اب ہمارے سامنے فراعین کے دور کی تصاویر تھیں۔ یہ اسی قسم کی تصاویر تھیں جیسی ہمارے بچے اسکول کی ابتدائی جماعتوں میں بناتے ہیں۔ یہ تمام تصاویر دو جہتی (Two dimensional) تھیں۔ اس دور میں شاید تصویر سازی ہی میں سہ جہتی (Three dimensional) تصویر بنانے کا رواج نہ ہو گا۔ اس کے لئے یہ لوگ مجسمہ سازی کرتے ہوں گے۔

†††† تصاویر کے بعد ہم لوگ مجسموں کے سیکشن میں جا نکلے۔ اہل مصر نے شاید اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھا، اس کے مجسمے بنا ڈالے۔ ہر طرح کے جانوروں کے مجسمے ہمارے ارد گرد تھے۔ بادشاہوں کے مجسمے بھی تھے۔ کچھ مجسمے ان کے مذہبی تصورات کے مطابق دیوتاؤں کے تھے۔ اہل مصر کی مجسمہ سازی میں ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کے مجسمے کافی بھدے بھدے سے تھے۔ انہی کے ہم عصر موہن جو دڑو اور ٹیکسلا سے ملنے والے مجسمے ان کی نسبت نفاست کا شاہکار تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ہندوستان کے ہاں مجسمہ سازی کا فن مصر کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ تھا۔

قدیم مصر میں ملاحوں کی زندگی بشکریہ www.molon.de

فرعون توت کا ماسک بشکریہ www.molon.de

پتھر کی ایک تابوت نما قبر

تصاویر بشکریہ www.molon.de

پتھر پر لکھائی بشکریہ www.molon.de

 

عام آدمی کے مجسمے

ان میں ایک سیکشن ہمیں نہایت ہی دلچسپ لگا کیونکہ وہ بادشاہوں کے برعکس وہاں کے عام آدمی کی زندگی کی عکاسی کرتا تھا۔ ان لوگوں نے اپنے ہاں موجود مختلف پیشوں کی مجسموں کے ذریعے عکاسی کی تھی۔ کہیں کسان ہل چلا رہا تھا، کہیں سپاہی ہتھیار تھامے کھڑا تھا، نانبائی تنور پر روٹیاں لگا رہا تھا، دودھ والا ہمارے لاہوریوں کی طرح بڑی سی کڑاہی میں دودھ لئے بیٹھا تھا، اور ملاح کشتی چلا رہا تھا۔ عجائب خانے میں دو کشتیاں بھی موجود تھیں۔ ان کے تختے وغیرہ کہیں ملے ہوں گے جسے ماہرین نے جوڑ کر اس دور کی کشتی کی شکل دی تھی۔ ایسی کشتیاں میں نے اپنی کینجھر جھیل پر دیکھی تھیں۔

قدیم مصر کا رسم الخط (Script)

اس میوزیم میں اہل مصر کی لکھائی کے بہت سے نمونے دیے گئے تھے۔ ان کے ہاں زیادہ تر پتھر کی سلوں پر لکھا جاتا تھا۔ یہ تصویری رسم الخط تھا جس میں چھوٹی چھوٹی تصاویر کے ذریعے بات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس طرز تحریر کو "گلپٹک آرٹ (Glyptic Art) " کا نامدیا گیا ہے۔ قدیم مصری رسم الخط کو "ہائیرو گلائف (Hieroglyphs) " کہا جاتا ہے۔ اس میں کہیں ایک تصویر سے مراد ایک حرف ہوتا ہے اور کہیں ایک تصویر ایک لفظ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ یہی رسم الخط بعد میں ترقی یافتہ ہو کر موجودہ رسم الخط کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم دور میں حرف 'ن' سے مراد مچھلی ہوتی تھی اور 'ن' کو ترچھا کر کے دیکھا جائے تو یہ دراصل مچھلی کے سر کی تصویر تھی۔ اسی طرح 'ط' سے سانپکو مراد لیا جاتا تھا۔ کنڈلی مارے سانپ کی شکل کسی حد تک 'ط' سے ملتی ہے۔

†††† میرے ذہن میں فن تحریر کے ارتقاء کے بارے میں کئی اشکال دور ہوئے۔ مسلمانوں کے ہاں چونکہ مجسمہ سازی اور تصویر سازی پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اس لئے ان کے ہاں آرٹسٹوں کی پوری توجہ فن خطاطی پر مرکوز ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فن تحریر ان کے ہاں اس قدر ترقی کر گیا کہ آج جو جو کام ہم لوگ کمپیوٹر کی مدد سے کر سکتے ہیں، وہ لوگ ہاتھ کی مدد سے کیا کرتے تھے۔

†††† قدیم دور میں لوگ پتھروں کی سلوں، چمڑے اور درختوں کی چھال پر لکھا کرتے تھے۔ جب کاغذ ایجاد ہوا تو اس فن میں بڑی ترقی ہوئی۔ کاغذ کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو اوپر اور نیچے لکڑیوں سے باندھ لیا جاتا اور لکھنے کے بعد نقشوں کی طرح اسے رول کر کے رکھ دیا جاتا۔ اس رول کو طومار (Scroll) کہتے ہیں۔ قدیم دور کی جو لائبریریاں دریافت ہوئی ہیں ان میں یہی اسکرول بڑی تعداد میں ملے ہیں۔

†††† میں اپنے تحریر کرنے کے طریق کار پر غور کرنے لگا۔ ہم لوگ کمپیوٹر پر لکھتے ہیں۔ ہم سے صرف ایک نسل پہلے کے مصنفین کاغذ پر لکھا کرتے تھے۔ تحریر کی اصلاح اور اس میں تبدیلیوں کے لئے انہیں کافی کاٹ پیٹ سے کام لینا پڑتا تھا۔ ان کی تحریروں کو کاتب اور اس کے بعد کمپوزر دوبارہ لکھا کرتے۔ مصنفین کو اپنا مدعا کاتبوں کو سمجھانے کے لئے بہت مغز ماری کرنا پڑتی۔ حوالہ جات کی تلاش کے لئے انہیں کئی کئی دن لائبریریوں میں مغز ماری کرنا پڑتی۔ اس کے بعد کہیں جا کر کتاب طباعت کے مراحل سے گزرتی۔ طباعت کے بعد اس کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے بہت بڑے نیٹ ورک کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ اگر کوئی قاری اس کتاب کو تلاش کرنا چاہتا تو اسے بہت سی لائبریریوں کی کیٹلاگز کھنگالنا پڑتیں۔

†††† اب یہ تمام مراحل آسان ہو چکے تھے۔ ہماری نسل کے مصنفین براہ راست کمپیوٹر پر لکھتے ہیں۔ تحریر کی اصلاح اور اس میں تبدیلی کرنا بہت آسان ہے۔ میں تو تحریر کی فارمیٹنگ بھی ساتھ ساتھ ہی کرتا جاتا ہوں کیونکہ اس سے اپنی فکر کو منظم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ حوالہ جات تلاش کرنے کے لئے بہت سی کتب ای بکس کی شکل میں دستیاب ہیں جن میں سرچ کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ جیسے ہی تحریر مکمل ہوتی ہے، صرف چند بٹن دبانے سے یہ انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا کو میسر ہو جاتی ہے۔ تھوڑی سی محنت کے بعد یہ تحریر گوگل جیسے سرچ انجنز میں اچھی رینکنگ پر آ جاتی ہے۔ اگر کوئی اپنی تحریر کو کاغذی صورت میں بھی لانا چاہے تو یہ مراحل بھی نسبتاً آسان ہیں۔ ان سب سہولتوں پر ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

†††† میوزیم سے نکل کر ہم باہر آئے۔ ریسپشن سے اپنا کیمرہ واپس لیا۔ باہر موجود مجسموں اور تحریروں کی کچھ تصاویر بنائیں اور واپس چل پڑے۔ پارکنگ سے گاڑی لے کر ہم باہر نکلے۔

قاہرہ کی کچی آبادی

اہرام تک جانے کا ایک راستہ تو ہمارے علم میں تھا لیکن ہم قاہرہ شہر بھی دیکھنا چاہ رہے تھے، اس لئے دوسرے راستے سے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک کچی آبادی میں داخل ہوگئے۔ یہ آبادی بڑی حد تک لاہور کی بستی سیدن شاہ سے مشابہ تھی۔ ویسا ہی گندا نالہ، اس کے کناروں پر بنے کچے پکے مکان اور تنگ و تاریک گلیاں۔ مکانات تو خیر جیسے بھی تھے، ان سب کی چھتوں پر لگے ہوئے ڈش انٹینا بہت نمایاں تھے۔

†††† کچی آبادیاں دراصل بے گھر افراد کی اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں وجود پذیر ہوتی ہیں۔ خالی پڑی ہوئی زمینوں پر لوگ آ کر قابض ہو جاتے ہیں اور یہاں اپنے گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ چونکہ یہ علاقے کسی پلاننگ کے بغیر بنتے ہیں اس لئے ان میں سڑکوں، سیوریج، بجلی، پانی اور گیس کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔ افراد خانہ کی کثیر تعداد اور جگہ کی قلت کے باعث لوگوں کے دل تنگ ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں اجتماعی سوچ کا فقدان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین فٹ کی گلی کے لئے بھی جگہ چھوڑتے ہوئے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ جب مکانات بن جاتے ہیں تو آہستہ آہستہ حکومت پر دباؤ ڈال کر بجلی، پانی اور گیس کی سہولیات حاصل کر لی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ایسی آبادیاں ہر جگہ موجود ہیں۔ ان آبادیوں کا اپنا ہی کلچر ہوتا ہے۔ بعض بستیوں میں تو پوش علاقوں کی نسبت بے حیائی اور بے پردگی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔

†††† اس آبادی میں بھی رکشا چل رہے تھے جو ویسے ہمیں قاہرہ میں نظر نہ آئے تھے۔ ہم نے یہاں رک کر ایک دکان سے آئس کریم خریدی۔ یہاں نیسلے کی آئس کریم دستیاب تھی۔ دنیا میں نیسلے اور یونی لیور کی والز آئس کریم کے کاروبار میں بڑی کمپنیاں ہیں۔ میں والز آئس کریم میں کام کر چکا ہوں اور اس سے میری کچھ جذباتی وابستگی بھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیسلے کی آئس کریم کوالٹی اور ذائقے میں والز سے بہت بہتر محسوس ہوئی۔ یہاں پھلوں کی منڈی بھی تھی جہاں مردوں کے علاوہ بوڑھی خواتین بھی ریڑھیاں لگائے کھڑی تھیں۔ یہاں سے ہم نے آم اور انگور خریدے۔ مصر کا انگور بالکل پاکستان کے انگور جیسا تھا۔

ستونوں پر مصری گلپٹک آرٹ

شیر کا مجسمہ

پتھر کا باکس

پتھر کی قبر

پتھر کی کشتی

ابو الہول کا ایک مجسمہ

 

فراعین کے مجسمے

فرعون رعمسیس ثانی کی ممی

بشکریہwww.panoramio.com

فرعون منفتاح کی ممی بشکریہwww.anubis4_2000.tripod.com

اہرام مصر

تھوڑی دیر میں ہم اہرام کے مین گیٹ پر پہنچ گئے۔ اہرام کے علاقے میں گاڑی لے جانے کی اجازت تھی۔ اہرام کے علاقے کے لئے پچاس پاؤنڈ کا ایک ٹکٹ تھا اور کسی بھی اہرام کے اندر جانے کے لئے ایک اور ٹکٹ خریدنا پڑتا۔ پورے علاقے میں دھول اڑ رہی تھی۔ سعودی عرب کے تاریخی مقامات کی نسبت یہ علاقہ کافی گندا سا لگ رہا تھا۔

†††† اس علاقے تین بڑے اور متعدد چھوٹے اہرام تھے۔ تصاویر میں دیکھ کر میرا یہ خیال تھا کہ اہرام کی بیرونی دیواریں بالکل مسطح ہوں گی لیکن حقیقت میں ایسا نہ تھا۔ بڑے بڑے چوکور پتھر ایک دوسرے کے اوپر رکھے کر گارے وغیرہ سے جوڑے گئے تھے۔ پتھروں کی ہر قطار اپنی نچلی قطار سے اندر کی جانب اور چھوٹی تھی۔ اس طرح سیڑھیوں کی شکل میں اوپر جا کر یہ عمارت ایک مخروط (Pyramid) کی صورت اختیار کر گئی تھی۔

†††† ان میں بڑا اہرام، بادشاہ خوفو کا تھا جو چوتھے خاندان کا دوسرا بادشاہ تھا۔ 2550 قبل مسیح کے لگ بھگ، خوفو نے اپنا مقبرہ بنانے کا حکم دیا۔ اس مقبرے کی تعمیر میں بیس سال کا عرصہ لگا۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں پتھر کے بیس لاکھ بلاک کام آئے جن کا اوسط وزن اڑھائی ٹن فی بلاک تھا۔ ان میں سب سے بڑے بلاکس کا وزن نو ٹن کے قریب تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ وزنی چیزوں کو بلندی پر پہنچانے کا کوئی طریقہ دریافت کر چکے تھے۔ ماہرین مصریات کا خیال ہے کہ ان پتھروں کو انہوں نے بھاری تختوں پر رکھ کر انہیں رسوں کے مدد سے کھینچ کر اوپر پہنچایا ہو گا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ قدیم دور کے لوگ اتنے لمبے چوڑے ہوتے تھے کہ یہ بلاک ان کے لئے اینٹوں کے طور پر ہی استعمال ہوتے ہوں گے مگر فراعین کے جسموں کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور کے لوگ بھی ہمارے جیسے ہی تھے۔

†††† دوسرا اہرام، خوفو کے بیٹے خفری کا جبکہ تیسرا اہرام مینکارس کا تھا۔ ان کے علاوہ یہاں 54 دیگر چھوٹے اہرام ہیں جو شاہی خاندان کے دیگر افراد سے منسوب ہیں۔ ان اہرام کا بلڈنگ میٹیریل پہنچانے کے لئے ان لوگوں نے دریائے نیل کا استعمال کیا۔ جب نیل میں طغیانی آتی تھی تو یہ پھیل کر اہرام کے علاقے تک جا پہنچتا تھا۔ اس سے ان لوگوں کو مال و اسباب یہاں پہنچانے میں آسانی ہوتی ہو گی۔

†††† 500 قبل مسیح میں مشہور یونانی تاریخ دان ہیروڈوٹس نے اہرام کا سفر کیا اور اپنی کتب میں ان کا ذکر کیا۔ اس کے مطابق یہ ان اہرام کی تعمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے کام کیا۔ ہیروڈوٹس نے یہ سفر اہرام کی تعمیر کے دو ہزار سال بعد کیا تھا۔ جدید ماہرین مصریات کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے قریب رہی ہو گی۔ اب اہرام کی تعمیر میں بہت سے لوگوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں لیکن ظاہر ہے، بادشاہوں کی اس کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔ ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفرنامے میں ان کا ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

ان کا شمار ان عجائب میں ہوتا ہے جن پر زمانے گزر گئے۔ لوگ اس بارے میں کثرت سے بات کرتے ہیں اور ان کے معاملے اور تعمیر میں غور و خوض کرتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ یہ ان علوم کے نتیجے میں تعمیر ہوئے جو انہوں نے اخنوخ یعنی ادریس علیہ الصلوۃ والسلام سے حاصل کیے۔ ۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ طوفان (نوح) سے پہلے مصر کے ایک بادشاہ نے خواب دیکھا اور اس کی بنیاد پر اھرام بنانے کا حکم دیا۔ اس کی تعمیر میں ساٹھ برس صرف ہوئے۔

اہرام کے اندر فرعون کی قبریں تھیں۔ اہرام کے دروازے سے ایک تنگ و تاریک راستہ اوپر جا رہا تھا۔ اس راستے کے اختتام ایک کمرے میں ہو رہا تھا۔ یہاں پتھر کی قبر میں فرعون کا تابوت جس پر اس کی شکل بنی ہوتی تھی رکھا جاتا تھا جس میں اس کی ممی موجود ہوتی تھی۔ فرعون کے کمرے کے نیچے ایک کمرہ ملکہ کے لئے بنا ہوا تھا۔ دروازے سے ایک اور تنگ و تاریک راستہ اہرام کے تہہ خانوں کی طرف جا رہا تھا جہاں ایک اور کمرہ موجود تھا۔

†††† فرعون کی لاش کے ساتھ بہت سے ہیرے جواہرات اور دیگر ساز و سامان کے علاوہ لونڈی غلام بھی بند کر دیے جاتے کیونکہ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد کی زندگی میں فرعون کو ان سب چیزوں کی ضرورت ہو گی۔ ہیرے جواہرات کا تو خیر کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس بند جگہ جو کچھ ان غلاموں کے ساتھ ہوتا ہو گا اس کے تصور سے ہی روح لرز جاتی ہے۔

†††† یہ اہرام ساڑھے چار ہزار سال سے یہاں موجود ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کی آمد سے قبل ہی چور ڈاکوؤں نے ہیرے جواہرات لوٹ لیے اس لئے ماہرین کو سوائے ممیوں، قبروں، تابوتوں اور تختیوں کے اور کچھ نہ ملا۔ ابن بطوطہ کا بیان ہے کہ مامون الرشید نے اہرام کو کھولنے کے لئے ایک مہم روانہ کی۔ اس نے منجنیقوں نے ذریعے پتھر برسائے جس سے اہرام کھل گئے اور اندر کثیر دولت انہیں مل گئی۔ بہرحال جو نوادرات ملے، انہیں مصر کے عجائب گھر میں محفوظ کر دیا گیا ہے اور مصر کے لئے آمدنی کا باعث ہے۔ اہرام مصر کا شمار دنیا کے سات قدیم عجائب میں ہوتا ہے۔

خوفو کا اہرام

چھوٹے اہرام

ابوالہول (Sphinx)

اہرام سے ہٹ کر اب ہم ابوالہول (Sphinx) کی طرف آ گئے۔ دوپہر کا وقت تھا اور کافی گرمی ہو رہی تھی۔ بہت سے مغربی سیاح گھوڑوں پر سوار تھے۔ ان میں سے بعض کو اس شدید دھوپ میں بھی رومانس کی سوجھ رہی تھی۔ ہم لوگ تو خیر گاڑی میں فل اے سی میں بیٹھے تھے۔ میری اہلیہ اہرام سے کوئی خاص متاثر نہ ہوئیں۔ ان کے خیال میں یہ تمام احمق لوگ تھے جو ان بے ڈھنگی عمارتوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔

†††† ابوالہول یا اسفنکس دنیا کا ایک ہی پتھر سے بنا ہوا سب سے بڑا مجسمہ ہے۔ یہ 185 فٹ لمبا، 20 فٹ چوڑا اور 65 فٹ بلند ہے۔ اس مجسمے کا جسم شیر کا اور شکل انسان کی سی ہے۔ فراعین کے دور میں یہ مجسمہ سورج دیوتا کے مظہر کے طور پر بنایا گیا۔ اس دور میں سورج کو شیر سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ اس کے قدموں میں مندروں کے آثار بھی ملتے ہیں۔ شرک بھی کیسا عظیم فتنہ تھا کہ اس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو عقلی و منطقی انداز میں سوچنے سے ہٹا دیا تھا۔ اللہ تعالی کے دین اسلام کا یہ دنیا پر احسان ہے کہ اس نے شرک سے دنیا کو نجات دلا کر عقل و دانش کو فروغ دیا۔

†††† ابوالہول کی چند تصاویر لے کر ہم اہرام کی سائٹ سے باہر آ گئے۔ اب بھوک لگ رہی تھی اور ہمارے سامنے ایک ہی جگہ پر کے ایف سی اور پزا ہٹ نظر آ رہے تھے۔ ہم نے ایک بڑا زنگر برگر اور چھوٹا اسپائسی پزا خریدا اور اوپر والی منزل پر جا کر بیٹھ گئے۔ اب ابوالہول اور اہرام ہمارے سامنے تھے اور شیشوں سے ان کا منظر چمکتی دھوپ میں بھلا لگ رہا تھا۔

ابو الہول کا مجسمہ (پس منظر میں تینوں اہرام نظر آ رہے ہیں)

ابو الہول

†††† کھانا کھا کر ہم لوگ یہاں سے روانہ ہوئے۔ دریائے نیل پر سے گزرتے ہوئے میں نے پل پر رک کر دوپہر میں نیل کی تصاویر لیں جو کہ بہت خوبصورت آئیں۔ اب ہماری منزل مسلم دور کا قاہرہ تھی جس کا آغاز فسطاط سے ہوتا تھا۔

فسطاط

قدیم دور سے جیزہ کی آبادی دریائے نیل کے مغربی کنارے پر آباد تھی۔ جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے یہ علاقہ فتح کیا تو آپ نے دریا کے مشرقی کنارے پر ایک شہر کی بنیاد رکھی جو مسلم افواج کے خیموں کی مناسبت سے یہ "مصر الفسطاط" یعنی خیموں کا شہر کہلایا۔ یہاں آپ نے ایک مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔ اس علاقے کو مصر کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اس سے پہلے مصر کا دارالحکومت اسکندریہ تھا۔ دارالحکومت کو شفٹ کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ خلیفہ دوم، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خیال میں اسکندریہ مصر کی اصل آبادی سے کافی ہٹ کر تھا اور وہاں سے پورے مصر کو کنٹرول کرنا مشکل تھا۔ اس شہر کو آباد کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ رہی ہو گی کہ عام مسلمان اپنے مفتوحین کے عقائد و اعمال سے متاثر نہ ہو سکیں۔

†††† فاطمی دور میں قاہرہ آباد کیا گیا۔ 1168ء میں فسطاط شہر کو صلیبی حملوں کے باعث یہاں کے باشندوں نے خود آگ لگا دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ نہ چاہتے تھے کہ ان کا مال و اسباب دشمن کے قبضے میں آئے۔ بعد میں یہ شہر ایوبی سلطنت کا حصہ بنا۔ دور جدید میں جب قاہرہ شہر پھیلا تو فسطاط اس کا ایک محلہ بن گیا۔

†††† ہماری منزل سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے منسوب مسجد تھی۔ مسجد کو ڈھونڈنے میں ہمیں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ یہ مسجد 642ء میں عین اس مقام پر بنائی گئی جہاں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنا خیمہ نصب کیا تھا۔ اس مسجد کو متعدد بار تعمیر کیا گیا۔ اس کی موجودہ تعمیر 1875ء میں محمد علی پاشا کے دور میں کی گئی۔

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی ایک نامور شخصیت ہیں۔ آپ کا باپ عاص بن وائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دعوت کا شدید دشمن تھا۔ اسلام دشمنی آپ کو ورثے میں ملی تھی۔ آپ کا خاندان مکہ کی مملکت میں سفارت کی ذمہ داریاں رکھتا تھا۔ حبشہ میں ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو واپس لانے کے لئے آپ ہی وفد لے کر نجاشی کے دربار میں گئے لیکن ناکام رہے۔ جنگ احد میں آپ نے مسلمانوں کے خلاف قریش کے ایک اہم دستے کی قیادت کی۔ آپ نے اسلام لانے پر اپنی بیوی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی جو بعد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔

†††† آپ کے بیٹے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اوائل جوانی ہی میں اسلام قبول کر چکے تھے اور اپنے زہد و تقوی کے باعث مشہور ہیں۔ احادیث کی بہت بڑی تعداد ان سے مروی ہے۔ اسلام کی دعوت آہستہ آہستہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کےدل میں گھر کرتی گئی۔ ایک دن آپ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر کے مکہ سے نکلے۔ راستے میں آپ کی ملاقات سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو اسی ارادے سے گھر سے نکلے تھے۔ دونوں نے اکٹھے مدینہ پہنچ کر اسلام قبول کیا۔

†††† سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں اہم ترین ذمہ داریوں تفویض کیں۔ سریہ ذات السلاسل میں انہیں لشکر کا امیر بنایا گیا۔ اس لشکر میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ بھی شامل تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کسی بھی کام کے لئے تقرری خالصتاً میرٹ پر کیا کرتے تھے۔

†††† سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو عمان کا گورنر مقرر کیا۔ آپ کو ضرورت پڑنے پر اردن، فلسطین اور شام کے محاذوں پر بھیجا گیا جہاں آپ فوج کے سینئر عہدے دار کی حیثیت سے سیدنا خالد بن ولید اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ مسلم فوج کے امیر بنے۔ آپ کی تجویز پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو مصر کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا۔

†††† صرف 4000 افراد پر مشتمل فوج کے ساتھ آپ نے جزیرہ نما سینا فتح کر لیا۔ اس کے بعد ہیلو پولس یا عین الشمس کا معرکہ ہوا۔ اس معرکے میں بازنطینی فوج مشہور جرنیل تھیوڈور کی قیادت میں سامنے آئی۔ مسلم افواج کی تعداد 15000 اور بازنطینی فوج کی تعداد 20000 کے قریب تھی۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بھی مانے ہوئے جرنیل تھے۔ آپ نے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو ایک حصہ جنگ سے نکل گیا اور ایک طویل چکر کاٹ کر بازنطینی فوج کے پچھلی جانب آ پہنچا۔ اب دشمن دو جانب سے گھر چکا تھا۔ یہ جنگ مصر کی فتح میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

†††† 641ء میں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے مصر کا دارالحکومت اسکندریہ فتح کر لیا۔ اس کے بعد خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے آپ نے فسطاط کیا نیا شہر آباد کر کے اسے دارالحکومت بنایا۔ کچھ عرصہ آپ مصر کے گورنر رہے۔ اس دوران آپ نے عدل و انصاف سے حکومت کی۔ ایک موقع پر آپ کے بیٹے نے ایک مصری کو کوڑا مار دیا۔ اس نے حج کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شکایت کی۔ آپ نے سیدنا عمرو اور ان کے بیٹے دونوں کو کوڑا مارنے کی سزا سنائی۔ اس کی وجہ آپ نے یہ بیان کی، "تمہارے بیٹے کو یہ جرأت اس لئے ہوئی ہے کہ وہ گورنر کا بیٹا ہے۔"

†††† مصر سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو شام بھیج دیا گیا جہاں آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نئے علاقے میں تعمیر و ترقی کا کام کرتے رہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ کو دوبارہ مصر کا گورنر مقرر کیا گیا۔ آپ نے یہاں نوے برس کی عمر میں وفات پائی۔

مسجد عمرو بن عاص

مسجد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مسلم آرکی ٹیکچر کا شاہکار تھی۔ حویلی نما مسجد صحن کے چاروں طرف بنی ہوئی تھی۔ درمیان میں کھلا صحن تھا۔ ایسا ہی ڈیزائن لاہور کی بادشاہی مسجد کا ہے۔ مسجد کے صحن میں ایک قدیم فوارہ تھا جسے اب پانی پینے والے کولر کی شکل دی جا چکی تھی۔ وضو کا انتظام مسجد سے ہٹ کر تھا۔ یہاں میں نے زندگی میں پہلی بار کسی مسجد میں کھڑا ہو کر پیشاب کرنے والے ٹائلٹ دیکھے۔ ہم جب مسجد پہنچے تو یہاں عصر کی اذان ہو رہی تھی۔ کچھ دیر میں نے مسجد کی تصاویر لیں۔ اتنی دیر میں جماعت کا وقت ہو گیا۔ امام صاحب بغیر ریش کے تھے کیونکہ اہل مصر کے نزدیک داڑھی رکھنا ضروری نہیں ہے۔

†††† نماز سے فارغ ہو کر میں نے مسجد کے امام صاحب سے امام شافعی کی مسجد کا راستہ دریافت کیا۔ اگلی صف میں موجود ایک صاحب کہنے لگے، "میں اس طرف ہی جا رہا ہوں، آپ میرے پیچھے آ جائیے۔" اب ہم ان کے پیچھے لگ کر روانہ ہوئے۔ تھوڑی دور جا کر انہوں نے ہمیں امام شافعی کی مسجد کو جانے والے راستے تک پہنچا دیا۔

مسجد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ

مسجد عمرو بن عاص کا اندرونی حصہ

امام شافعی کی مسجد

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد ایک قدیم آبادی میں واقع تھی۔ یہ آبادی بالکل لاہور کے دھرم پورے کی پرانی آبادی کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ گلی میں لگے گھنے درختوں کے سائے تلے ریڑھیوں پر عجیب و غریب شکلوں والے مشروبات بک رہے تھے۔ جس طرح ہمارے ہاں فالودے کی دیگوں کو سرخ کپڑا چڑھا کر نمایاں کیا جاتا ہے، اسی طرح کی کچھ دیگیں بھی نظر آئیں۔ تھوڑی دور جا کر ہم امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد تک پہنچ گئے۔

†††† یہ مسجد 1891ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس مقام پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی عمر بسر کی تھی۔ مسجد کے اندر نہایت خوبصورت شیشے کا کام کیا گیا تھا۔ مسجد کے اندر اور باہر خطاطی کے فن پارے دیواروں پر تراشے گئے تھے۔ مسجد کی چھت اور دیواروں پر لکڑی کا نفیس کام بھی کیا گیا تھا۔ مسجد کے ساتھ ہی امام صاحب کا مزار بھی تھا جہاں کا ماحول گڑھی شاہو میں بی بی پاک دامن کے مزار جیسا لگ رہا تھا۔ مزار کے اندر خواتین قبر کی طرف رخ کئے اپنی منتوں مرادوں میں مشغول تھیں۔

†††† مسجد اور مزار کے باہر بھکاریوں کی کثرت تھی۔ غیر ملکی سمجھتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کی کوشش تھی کہ ہم انہیں کچھ دے کر جائیں۔ مزار کے مجاور نے بھی ہماری بڑی آؤ بھگت کی اور بتایا کہ امام صاحب کی قبر کے ساتھ صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھائی کی قبر بھی ہے۔ یہ صاحب بھی چاہ رہے تھے کہ ہم انہیں کچھ دے دلا کر رخصت ہوں۔ ہم لوگ چونکہ اس قسم کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں چاہتے اس لئے کچھ دینے دلانے سے گریز کیا۔ ہمارے بہت سے لوگ پیشہ ور بھکاریوں کو رقم دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اس کی بجائے ہمیں اپنی تمام رقوم کو ایسے افراد پر خرچ کرنا چاہیے جو کہ محنت مزدوری کرتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں اتنی آمدنی میسر نہیں ہوتی کہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ ہمارے ہاں تو مزارات کو باقاعدہ کمرشل مقاصد کے لئے بنایا جاتا ہے۔ مصر میں بھی یہ رجحان تھا مگر ہماری نسبت کم تھا۔

امام محمد بن ادریس شافعی

امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ علیہ 150ھ یا 767ء میں پیدا ہوئے۔ آپ فلسطین میں غزہ کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ مکہ میں آپ نے تعلیم حاصل کی اور پھر مدینہ جا کر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں شامل ہو گئے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد آپ بغداد چلے گئے۔ یہاں آپ نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ کو اپنے اساتذہ امام مالک، امام محمد اور ان کے استاذ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم سے خاص عقیدت تھی۔

†††† ہارون رشید کی طرف سے آپ کو نجران کا قاضی مقرر کیا گیا۔ عدل و انصاف سے آپ کی وابستگی نے آپ کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ آپ نے کچھ فیصلے ایسے کئے جو گورنر کو پسند نہ آئے۔ سازشیوں نے آپ کو اس عہدے سے ہٹوانے کی کوشش کی۔ آپ یہ سب چھوڑ کر علمی تحقیق میں مشغول ہو گئے۔ آپ نے سب سے پہلے اصول فقہ کے فن کو مدون کیا۔ اسی بنا پر آپ کو اصول فقہ کا بانی کہا جاتا ہے۔ آپ کی کتاب "الرسالہ" اس فن میں پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ میں نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے جو اس لنک پر دستیاب ہے ۔

مسجد امام شافعی کا بیرونی حصہ

مسجد شافعی کا اندرونی حصہ

†††† امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی تحقیقات کے نتیجے میں اسلامی قانون کا شافعی مسلک وجود میں آیا جس کے پیروکار افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ آپ کے ہم عصر علماء نے آپ کو پوری قوم کے برابر ذہین قرار دیا۔ آپ علم کلام اور تصوف کی پیچیدہ بحثوں سے دور رہتے تھے۔ آپ کی تحقیق کا میدان "عملی زندگی کے مسائل اور ان کا حل" تھا۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر احادیث میں منقول دعا پڑھ کر میں باہر آیا اور بھکاریوں سے بچتا بچاتا گاڑی میں بیٹھا۔

صلاح الدین ایوبی کا قلعہ

اب ہماری اگلی منزل صلاح الدین ایوبی کا قلعہ تھی۔ تھوڑی دیر ہی میں ہم وہاں جا پہنچے۔ ایوبی کا قلعہ سادگی اور ہیبت کا مجموعہ نظر آ رہا تھا۔ قلعے کے اوپر مسجد کے مینار نظر آ رہے تھے۔ یہ مسجد محمد علی پاشا نے 1816ء میں تعمیر کروائی تھی۔ مسجد کے گنبد سفید رنگ کے تھے۔

†††† قلعے کی دیواریں مضبوط پتھروں سے بنی ہوئی تھیں اور تقریباً عمودی تھیں۔ یہ قلعہ صلاح الدین نے قاہرہ کی حفاظت کے نقطہ نظر سے تعمیر کیا تھا۔†††† قلعے کا دروازہ لاہور کے شاہی قلعے کے چھوٹے دروازے جیسا ہی تھا جس کے دونوں جانب برجیاں بنی ہوئی تھیں۔ اس سفر میں صلاح الدین سے تعلق رکھنے والا یہ تیسرا قلعہ تھا جو ہم دیکھ رہے تھے۔ اس سے قبل ہم شوبک اور کرک کے قلعے دیکھ چکے تھے۔

†††† قلعے کے باہر مسجد سلطان حسن بنی ہوئی تھی جو بذات خود ایک قلعہ معلوم ہوتی تھی۔ یہ مسجد مملوک سلطان حسن نے 1356ء میں تعمیر کروائی تھی۔ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے سے قبل ہی سلطان حسن کو قتل کر دیا گیا تھا۔

†††† مسجد اور قلعے کی چند تصاویر لینے کے بعد ہم لوگ جامعۃ الازہر کی جانب روانہ ہوئے۔ یہ پرانا شہر تھا اس لئے اس کی سڑکیں کافی تنگ تھیں۔ تھوڑی دور جا کر ایک بڑی عمارت نظر آئی جو تاریخی لگ رہی تھی۔ میں نے قریب ایک دکاندار سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ مصر کی تاریخی لائبریری تھی جسے اب عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تھوڑی دور جا کر ازہر اسٹریٹ آ گئی۔ اب ہم اسی پر ہو لئے۔ تھوڑی دور جا کر ہم جامعۃ الازہر پہنچ گئے۔ سڑک کے ایک جانب مسجد تھی اور دوسری جانب الازہر یونیورسٹی کی ایڈمنسٹریشن کی عمارت تھی۔

جامعۃ الازہر

جامعۃ الازہر کا شمار عالم اسلام کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ اس یونیورسٹی کی اصل تخصیص (Specialization) فقہ ہے۔ یہاں تمام فقہی مسالک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے طالب علم فقہی معاملات میں دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھتے ہیں اور اپنے مسلک کے بارے میں زیادہ متشدد نہیں ہوتے۔ جامعۃ الازہر میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز اب سے تقریباً ایک ہزار سال قبل 975ء میں ہوا۔ یہ ادارہ فاطمی دور میں قائم کیا گیا۔ پوری مسلم دنیا کے علماء کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ انہیں ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔

مسجد سلطان حسن

صلاح الدین ایوبی کا قلعہ اور محمد علی پاشا کی مسجد

ایوبی کے قلعے کا دروازہ

قاہرہ کی قدیم لائبریری

جامعۃ الازہر

مکانات والا قبرستان

†††† ماضی قریب میں جامعۃ الازہر نے مسلم دانش کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے قدیم فقہا نے اسلامی قانون پر جو کام کیا تھا، اس کی بنیاد یہ تھی کہ مسلمانوں کی ایسی حکومت قائم ہے جو دین کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں زیادہ تر مسلم ممالک مغربی اقوام کے زیر نگیں آ گئے۔ اس وقت اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایسا فقہ مرتب کیا جائے جو مغلوب مسلم قوم کے مسائل کا حل پیش کرتا ہو۔ جدید سائنسی ایجادات کے علاوہ فلسفہ، سیاسیات، معاشیات اور معاشریات کے میدانوں میں مغربی ترقی نے بہت سے فقہی احکام کے بارے میں کچھ ایسے مسائل پیدا کر دیے جن کا جواب قدیم انداز میں تعلیم یافتہ اہل علم کے پاس نہیں تھا۔

†††† ان میں سے بہت سے علماء تو ان مسائل کو سمجھنے کی اہلیت ہی نہ رکھتے تھے کیونکہ ان کے تعلیمی اداروں میں علم کلام اور فقہ کے جو مسائل پڑھائے جاتے تھے، وہ زمانی تبدیلیوں کے باعث غیر ضروری (Obsolete) ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کے ہاں علمی جمود کا یہ عالم تھا کہ انیسویں صدی کے اواخر میں جامعۃ الازہر ہی میں سید جمال الدین افغانی پر یہ اعتراض کیا گیا کہ وہ بزرگوں کے طریقے کے خلاف جغرافیے کے تعلیم ہاتھ میں زمین کا گلوب لے کر کیوں دیتے ہیں۔

†††† دور جدید کے زندہ مسائل اب یہ نہیں رہے کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟ خدا کے عرش پر استوا کی حقیقت کیا ہے؟ ناپاک کنویں کو کیسے پاک کیا جائے؟ وضو کرنے والے تالاب کا سائز کیا ہو؟ بیع عینہ اور بیع سلم کیا چیز ہے؟ ان سب کی بجائے اب مسلم اہل علم کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں یہ مسائل اہم ترین ہیں کہ خدا کے وجود کے عقلی دلائل کیا ہیں؟ کسی شخصیت کو خدا کا سچا رسول ثابت کرنے کا معیار کیا ہے؟ کیا بینکوں کا موجودہ سود ربا کی تعریف پر پورا اترتا ہے؟ فنون لطیفہ جیسے مصوری و موسیقی کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ کیا بغیر حکومت کے جنگی کاروائیاں کرنا درست ہے؟ کیا قرآن کی بیان کردہ سزائیں موجودہ دور میں دینا عدل و انصاف کے تقاضوں پر پورا اترنا ہے؟ جدید معاشرے میں اسلام کے اصولوں کی روشنی میں خواتین کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ دور جدید کو اسلام سے ہم آہنگ کیسے کیا جائے؟

†††† جامعۃ الازہر کے علماء نے دور جدید کے اس چیلنج کا جواب سب سے پہلے دیا۔ ان کے ہاں اہل علم کی ایک ایسی نسل تیار ہوئی جو نہ صرف ان مسائل کا ادراک رکھتی تھی بلکہ انہوں نے ان مسائل پر تحقیق کی اور ان کے مختلف اہل علم نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ ان میں محمد عبدہ، رشید رضا، طہ حسین، الطحطاوی جیسی شخصیات پیدا ہوئیں۔

†††† دلائل کی بنیاد پر جامعۃ الازہر کے علماء کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن انہوں نے جو عمل شروع کیا ا س کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی انہی کاوشوں کے نتیجے میں صدیوں سے قائم جمود کے ختم ہونے کا عمل شروع ہوا اور اب امریکہ و یورپ کی یونیورسٹیوں سے لے کر ملائشیا تک مسلم اہل علم دور جدید کے تقاضوں اور اداروں کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

†††† حالیہ عشروں میں جامعۃ الازہر پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہاں انتہا پسندوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ الازہر کے عمائدین اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ جامعۃ الازہر کے صدر احمد الطیب کے مطابق الازہر کے تحت چلنے والے اسکولوں ہی میں یہ بات سکھا دی جاتی ہے کہ تمام فقہی مسالک درست ہیں اور ان میں سے کوئی ایک حق یا باطل نہیں۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ الازہر سے تعلیم یافتہ شخص انتہا پسند بن سکے۔ الازہر کے علماء یورپ اور امریکہ سے مستشرقین سے بھی مکالمے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

†††† جامعۃ الازہر کے باہر ایک بڑا بازار تھا جس میں خالصتاً مولویانہ قسم کی چیزیں یعنی ٹوپیاں، تسبیحیں، مسواکیں اور دینی کتابیں وغیرہ فروخت ہو رہی تھیں۔ مسجد کی عمارت کا آرکی ٹیکچر کافی خوبصورت تھا اور قدیم مسلم ماہرین فن کے آرٹ کے نمونے اس کے در و دیوار پر نظر آ رہے تھے۔

†††† مصر میں ہم نے ایک اچھی چیز یہ دیکھی کہ یہ لوگ اپنے آثار قدیمہ کی قدر و قیمت سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ مصر کی معیشت کا بڑا حصہ ٹورازم پر منحصر ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے پاکستان میں محکمہ آثار قدیمہ تو ہے لیکن یہ لوگ دیگر سرکاری محکموں کی طرح اپنے کام میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ آثار قدیمہ کی حفاظت سے لے کر ان کی مارکیٹنگ تک بہت سے ایسے کام ہیں جن کے ذریعے ٹورازم کو فروغ دیا جا سکتا ہے مگر ہمارے لوگ ان سب کاموں سے غافل ہی نظر آتے ہیں۔

†††† اس کے برعکس بھارت نے قدیم ہندو مندروں سے لے کر مسلمانوں کی بنائی ہوئی عمارتوں کو اپنا تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے تاج محل کی مارکیٹنگ اس طرح سے پوری دنیا میں کی ہے کہ اسے دنیا کے سات جدید عجائب میں شمار کر لیا گیا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح بھارت میں صرف تاج محل دیکھنے کے شوق میں جاتے ہیں اور بھارتی عوام کے لئے روزگار کا باعث بنتے ہیں۔

مکانات والا قبرستان

کچھ دیر یہاں تصاویر لینے کے بعد ہم لوگ آگے نکلے۔ کچھ دور جا کر ہمارے سامنے ایک نئی چیز تھی۔ یہ یہاں کا قدیمی قبرستان تھا۔ اہل مصر کے ہاں یہ رواج ہے کہ ہر خاندان قبرستان میں جگہ خریدتا ہے اور اس پر ایک مکان نما عمارت تعمیر کر لیتا ہے۔ اس خاندان کے تمام لوگوں کی قبریں اس مکان کے اندر بنتی ہیں۔ یہاں بہت سے مکانات تھے جن پر باقاعدہ نیم پلیٹس لگی ہوئی تھیں۔ ان کے اندر خاندان کے لوگوں کی قبریں تھیں۔ ہمارے ہاں تو پبلک قبرستان کی زمین پر زبردستی قبضہ کر کے ایک خاندان کی قبروں کو اکٹھا بنایا جاتا ہے لیکن یہاں اس رواج کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی گئی تھی۔

دریائے نیل کی وادی میں

اب ہم دوبارہ دریائے نیل کی طرف جا رہے تھے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ قاہرہ سے کچھ باہر نکل کر دریائے نیل کی کھلی فضا میں شام بسر کی جائے۔ اس مرتبہ ہم دریا پار کر کے اس کے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ کورنیش پر چلے جا رہے تھے۔ کافی دور جا کر ہمیں میریٹ ہوٹل کا قائم کردہ ایک ریزارٹ نظر آیا۔ اس میں جب داخل ہوئے تو ہمارے موڈ خراب ہو گئے کیونکہ یہاں باقاعدہ رقص گاہ بنی ہوئی تھی۔ شکر ہے کہ اس دن رقص و سرود کا کوئی پروگرام نہ تھا اس لئے یہ جگہ خالی پڑی تھی۔ ہمارے لئے یہ اچھی بات تھی ورنہ ہمیں کوئی اور جگہ تلاش کرنا پڑتی۔ ہمارے علاوہ یہاں ایک آدھ اور فیملی موجود تھی۔ †††† ہم لوگ ریزارٹ سے نکل کر دریا کے کنارے بیٹھ گئے اور شام تک وہیں بیٹھے رہے۔ کھانا بھی وہیں کھایا اور پھر نکل کر اپنے ہوٹل کی طرف آ گئے۔ قاہرہ میں یہ دن خاصا خوشگوار گزرا تھا۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability