بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسکندریہ

اگلے دن ہم جلد بیدار ہوئے۔ گھر سے نکلے ہوئے ہمیں کافی دن ہو چکے تھے اور اب ہمارا دل یہ چاہ رہا تھا کہ اڑ کر گھر پہنچ جائیں۔ ہم لوگ اپنے بچوں، والدہ اور گھر کو بہت مس کر رہے تھے۔ پہلے تو ہمارا پروگرام تھا کہ اسکندریہ دیکھ کر ہم لوگ لقصر جائیں اور وہاں سے الغردقہ یا ہرغادہ لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر ہم نے طے کیا کہ بس اسکندریہ دیکھ کر ہی واپسی کا سفر کیا جائے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ فراعین کی تاریخ میں مجھے کوئی بہت زیادہ دلچسپی نہ تھی۔ رہا ہرغادہ تو اس کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہاں کا ماحول شرم الشیخ جیسا ہی ہے اس لئے اس میں بھی ہمیں کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔

†††† ناشتہ کر کے ہم لوگ اب رنگ روڈ پر آئے۔ یہاں سے ایک سڑک فیوم کے نخلستان (Fayum Oasis) کی جانب نکل رہی تھی۔ یہ مصر کا بڑا نخلستان ہے اور یہاں ایک بڑی جھیل، "جھیل قارون" بھی موجود ہے۔ رنگ روڈ سے ہوتے ہوئے ہم اسکندریہ جانی والی طریق صحراوی یا ڈیزرٹ ہائی وے پر آ گئے۔ یہ مصر کی موٹر وے تھی اور مصری اس پر اسی طرح فخر کرتے تھے جیسا کہ پاکستانی اپنی موٹر وے پر کرتے ہیں۔

مصر کی موٹر وے

چار پاؤنڈ کا ٹول ٹیکس ادا کرنے کے بعد ہم لوگ موٹر وے پر آ گئے۔ کہنے کو تو یہ تین لین والی موٹر وے تھی لیکن شکل و صورت سے کوئی عام سی ہائی وے لگ رہی تھی۔ روڈ کے دونوں طرف باڑ بھی نہ تھی اور ٹریفک بھی خاصا بے ہنگم نظر آ رہا تھا۔ سب سے بائیں طرف کی تیز رفتار لین پر خراماں خراماں چلنے والوں کا قبضہ تھا۔ ٹرک اور بسیں بھی درمیانی اور بائیں لین پر آئی ہوئی تھیں۔ راستہ مانگنے کے باوجود کوئی راستہ دینے کو تیار نظر نہ آ رہا تھا۔

†††† مجھے کراچی کی منی بسوں کے پٹھان ڈرائیوروں سے سیکھے گئے ڈرائیونگ کے وہ تمام گر یاد آ گئے جو سعودی عرب میں میں بھلا چکا تھا۔ مجھ میں سویا ہوا پاکستانی جاگ اٹھا۔ مصری کتنی ہی بے ہنگم ڈرائیونگ کیوں نہ کر لیں وہ ہم پاکستانیوں سے آگے ہیں بڑھ سکتے۔ اب میں نے ڈرائیونگ کے تمام انٹرنیشنل قوانین کو بالائے طاق رکھا اور بڑے اطمینان سے 140 کی رفتار پر زگ زیگ انداز میں ڈرائیونگ شروع کر دی۔ پھر کیا تھا، راستہ جیسے بالکل صاف ہو گیا اور ہم پھنس پھنس کر چلتی ہوئی ٹریفک کے درمیان سے نکلتے چلے گئے۔ میری یہ عادت بہرحال غلط تھی اور جب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو میں نے اس سے توبہ کی۔ اوور اسپیڈنگ کر کے انسان اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔کہیں کہیں یہ روڈ چار لین پر مشتمل تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرکوں والی لین بالعموم خالی تھی اور ہر کوئی بائیں طرف کی تیز رفتار لین پر گھسا چلا آ رہا تھا۔ کئی مرتبہ تو ایسا ہوا کہ مجھے اوور ٹیک کے لئے تیز لین سے دو لین پار کر کے دائیں جانب ٹرکوں کی لین پر آنا پڑا۔

†††† مجھے اس وقت اپنے پاکستان کی موٹر وے یاد آئی۔ شہروں میں چلنے والی بے ہنگم ٹریفک موٹر وے پر پہنچ کر نہایت ہی منظم ہو جاتی ہے۔ یہ کمال ہماری موٹر وے پولیس کا ہے۔ انہوں نے پہلے تعلیم و تربیت اور پھر قانون کے حقیقی نفاذ کے ذریعے پاکستانیوں جیسی قوم کی عادات تبدیل کر دی ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت اور قانون کے حقیقی نفاذ کے ذریعے ہر قوم کو سدھارا جا سکتا ہے۔

†††† میں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی موٹر ویز بھی دیکھی ہیں۔ بغیر کسی جانبداری کے میں اطمینان سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے کوئی موٹر وے ہماری موٹر وے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اگرچہ خلیجی ممالک کی سڑکوں کا معیار وہی ہے جو پاکستانی موٹر وے کا ہے لیکن ہمارے ہاں خدمات کا معیار ان کی نسبت بہت بلند ہے۔ خوبصورت اور اعلی درجے کے ریسٹ ایریا، پبلک فون، پولیس کی خدمات، موبائل ورکشاپ، حد رفتار پر کنٹرول، ٹریفک قوانین کی پابندی ان سب معاملات میں ہماری موٹر وے کا موازنہ امریکہ اور یورپ کی اعلی درجے کی موٹر ویز سے کیا جا سکتا ہے۔

6 اکتوبر کا شہر

قاہرہ سے باہر نکلے تو ہماری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا، "مدینہ 6 اکتوبر"۔ یہ دراصل قاہرہ کے قریب ہی ایک جدید صنعتی شہر ہے جس کا نام عرب اسرائیل جنگ کی اہم تاریخ پر رکھا گیا ہے۔ مصر میں یہ عام رواج ہے کہ نئے بسائے گئے شہروں، پلوں اور سڑکوں کے نام اہم تاریخوں پر رکھ دیے جاتے ہیں جیسے 26 جولائی روڈ، 6 اکتوبر شہر وغیرہ۔

†††† روڈ کے دونوں کناروں پر ہورڈنگز کا جال بچھا دیا گیا تھا تاکہ ہر آنے جانے والے کی توجہ ان کی طرف ہو اور اس کے نتیجے میں حادثات پیش آئیں۔ شدید آندھی اور طوفان کے وقت یہ ہورڈنگز گر کر جانی و مالی نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ اس معاملے میں سعودی عرب میں بہت اچھے قوانین مرتب کئے گئے ہیں۔ ان کے ہاں ہائی ویز پر کبھی ایک خاص حد سے زیادہ ہورڈنگز نہیں لگانے دی جاتیں اور ان کا سائز اور لوکیشن ایسی ہوتی ہے کہ یہ ڈرائیور کو متوجہ نہ کریں اور کسی حادثے کی صورت میں روڈ پر نہ گر سکیں۔

†††† کہنے کو تو یہ طریق صحراوی تھی لیکن اس کے دونوں جانب بھی کھیت ہی تھے جن میں دور دور تک پھیلا ہوا سبزہ آنکھوں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ یہ دریائے نیل کے ڈیلٹا کا علاقہ تھا۔ میں نے اس سے قبل میر پور ساکرو اور کیٹی بندر میں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کا نظارہ بھی کیا تھا لیکن نیل کا ڈیلٹا، ہمارے ڈیلٹا کی نسبت بہت سرسبز تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہاں پانی کی کوئی کمی نہ تھی۔

†††† ہمیں ڈگی سے کچھ اشیا نکالنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے روڈ کے ایک جانب گاڑی روکی۔ یہاں ایک بزرگ اپنی گاڑی روک کر سب کھڑکیاں کھولے مکھیوں کو انجوائے کر رہے تھے۔ دروازہ کھولنے کے باعث یہ مکھیاں ہمارے ہاں بھی آ گھسیں۔ جب گاڑی چلی تو یہ اپنی ہم جولیوں سے بچھڑنے کے باعث کافی بے چین ہوگئیں۔ بڑی مشکل ہم نے ان سے نجات حاصل کی۔

†††† اسی ہائی وے پر افریقی سفاری پارک آیا جو یہاں کا چڑیا گھر تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے میں ہم لوگ اسکندریہ کے ٹول پلازہ پر جا پہنچے۔ یہاں نام نہاد موٹر وے ختم ہو رہی تھی اور عام سڑک شروع ہو رہی تھی۔ اس سے آگے ابھی اسکندریہ 50 کلومیٹر دور تھا۔ تھوڑی دور جا کر میکڈونلڈ نظر آیا۔ یہاں سے ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا۔

جھیل ماریوت

اب ہم اسکندریہ میں داخل ہو رہے تھے۔ سڑک کے دونوں جانب جھیل نظر آ رہی تھی۔ یہ یقیناً بحیرہ روم کا پانی تھا جو زمین کے اندر سے نکل کر جھیل کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ یہ "جھیل ماریوت" کہلاتی ہے۔ منظر کافی خوبصورت تھا۔ اس جھیل کے کناروں پر ہماری ہالیجی جھیل کی طرح بہت سے سرکنڈے اگے ہوئے تھے جن کے باعث پوری جھیل سبز رنگ کی نظر آ رہی تھی۔

ٹرام

ان نظاروں کو دیکھتے ہوئے ہم آبادی میں داخل ہوئے۔ ایک جگہ سگنل بند تھا۔ یہاں ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ایک ایسا منظر ہمارے سامنے تھا جو ہم نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یہ قدیم زمانے کی ٹرام تھی جو اسکندریہ میں ابھی تک چل رہی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ٹرام یہاں پر 1860ء سے اسی طرح چل رہی ہے۔

†††† چار بوگیوں پر مشتمل ٹرام تنگ لائن پر ہمارے سامنے سے گزر رہی تھی۔ اس کی بوگیاں بھی انگریزوں کے دور کی معلوم ہو رہی تھیں۔ اس کے لئے کسی پھاٹک وغیرہ کے تکلف کی ضرورت بھی نہ تھی۔ جہاں سے یہ گزرتی، اس طرف کا سگنل بند ہو جاتا اور ٹرام آہستہ آہستہ گزر جاتی۔

†††† اسکندریہ (Alexandria)، مصر کی فتح کے بعد اسکندر اعظم نے اپنے نام پر آباد کیا اور اسے لقصر کی جگہ مصر کا دارالحکومت بنایا۔ یہ پٹولمی اور رومن بادشاہوں کے دور میں مصر کا دارالحکومت رہا۔ مصر کی مشہور ملکہ قلوپطرہ کا دارالحکومت بھی یہی تھا۔ یہاں مشہور رومی فاتح پومپی مصر کے خواجہ سراؤں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ بعد میں پومپی سے حکومت چھیننے والے سیزر نے یہاں حملہ کیا تو قلوپطرہ سے شادی کر بیٹھا۔ قلوپطرہ کے بعد یہ شہر رومی سلطنت کا صوبائی دارالحکومت قرار پایا۔

†††† سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب مصر فتح کیا تو انہوں نے اسکندریہ کی جگہ فسطاط کو مصر کا دارالحکومت بنایا جو بعد میں قاہرہ کے اندر جذب ہو گیا۔ اسکندریہ کا لائٹ ہاؤس دنیا کے سات قدیم عجائب میں شمار ہوتا تھا۔ یہ لائٹ ہاؤس زلزلے کے باعث چودھویں صدی میں تباہ ہو گیا۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں اس مینار کی خستہ حالت کا ذکر کیا ہے۔ جب اس وقت کی معلوم دنیا کا چکر لگا کر ابن بطوطہ بیس برس بعد واپس اسکندریہ پہنچے تو یہ مینار منہدم ہو چکا تھا۔

†††† اسکندریہ کا موسم مصر میں سب سے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ یہاں شدید گرمی کے موسم میں بھی زیادہ گرمی نہیں ہوتی۔ مصر کے امراء اپنی گرمیاں گزارنے کے لئے اسکندریہ کا رخ کرتے ہیں۔ اسکندریہ کے شمال مغرب میں ساحل کے ساتھ ساتھ بہت سے ریزارٹ اور ٹورسٹ ولیج بنے ہوئے ہیں۔ اسکندریہ کی لائبریری دنیا کی قدیم ترین لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔

اسکندریہ کی ٹرام اور ٹریفک

منتزہ پیلس پارکاور بحیرہ روم

منتزہ پیلس پارک

اسکندریہ کا انڈر پاس

منتزہ پیلس پارک

ہم لوگ چونکہ اب تاریخی مقامات سے سیر ہو چکے تھے اور آج ہی ہمارا واپسی کا پروگرام تھا اس لئے ہم نے فیصلہ کیا کہ کسی تاریخی مقام کو دیکھنے کی بجائے جتنا وقت بھی ہے بحیرہ روم کے ساحل پر گزارا جائے۔ گوگل ارتھ پر میں نے ساحل پر واقع پارک بھی دریافت کیا تھا جو "منتزہ پیلس پارک" کہلاتا ہے۔ ہم اب سیدھے کورنیش پر جا پہنچے۔ کورنیش پر زیادہ تر انگریزوں کے دور کے قدیم طرز کے ہوٹل بنے ہوئے تھے۔ ان ہوٹلوں کو اسی طرح برقرار رکھا گیا تھا۔ ہم اب ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتے تھوڑی دیر میں اس پارک میں جا پہنچے۔

†††† ساحل سمندر پر واقع یہ پارک بہت خوبصورت تھا۔ یہ انگریزوں کے دور کا بنا ہوا تھا اور لاہور کے لارنس گارڈن کی طرز کا تھا۔ ہر طرف گھنا سبزہ اور پھول ہی پھول تھے۔ ساحل سمندر پر اتنا سبزہ میں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ یہاں زیادہ رش بھی نہیں تھا چنانچہ ہم لوگوں نے یہیں وقت گزارنے کا فیصلہ کیا اور خوب انجوائے کیا۔

†††† پارک کے قریب ایک چھوٹا سا جزیرہ بھی تھا جہاں جانے کے لئے پل بنا ہوا تھا۔ میں نے ایک صاحب اس کا راستہ پوچھا تو کہنے لگے، "اگر آپ گزیرہ پر جانا چاہتے ہیں تو اس طرف سے چلے جائیے۔" ہم اسی طرف ہو لئے اور گزیرے پر پہنچ گئے۔ اسکندریہ میں ہم نے یہ بات نوٹ کی کہ یہاں کے لوگ قاہرہ کی طرح لالچی اور گھیرنے والے نظر نہیں آئے۔ یہاں موجود خدمات پیش کرنے والے لوگ قریب آ کر مہذب انداز میں اپنی خدمات پیش کرتے اور انکار پر خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتے۔ قاہرہ کے لوگوں کی طرح سیاحوں کے پیچھے پڑ جانا ان کی عادت نہیں تھی۔

†††† گزیرے میں بھی پارک بنا ہوا تھا اور یہاں بھی گھنا سبزہ تھا۔ پارک میں بہت سے لان بنے ہوئے تھے۔ یہاں گھنا سبزہ تھا اور مختلف لوگ اپنی فیملیوں سمیت یہاں بیٹھے تھے۔ بحیرہ روم کی چھالیں دیواروں سے ٹکرا کر بلند ہو رہی تھیں اور لوگوں کو بھگو رہی تھیں۔ دور دور تک نیلا سمندر اور گھنا سبزہ نظر آ رہا تھا۔ سمندر کا پانی بھی صاف و شفاف تھا۔ یہاں آ کر بحیرہ روم کافی چوڑا ہو جاتا ہے۔ اس سمندر کے دوسری جانب ترکی کا شہر پٹارا تھا جو یہاں سے زیادہ سے زیادہ ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گا۔ قاہرہ کی نسبت یہاں کا ماحول کافی صاف ستھرا تھا اور لوگ زیادہ تر اپنی فیملیوں کے ساتھ ہی تھے۔

اسکندر اعظم

اسکندریہ سے مجھے اس شہر کا بانی اسکندر اعظم یاد آ گیا۔ یونان کے رہنے والے اس شخص نے نوجوانی ہی میں دنیا کے بڑے حصے کے سکون کو تہہ و بالا کر دیا۔ مصر سے لے کر ہندوستان کے علاقوں کو تاخت و تاراج کرتا چلا گیا۔ ہندوستان سے واپسی پر بابل کے علاقے میں بیمار پڑا اور اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا کہ جب مجھے دفنانے لگو تو میرے ہاتھ کفن سے باہر رکھنا تاکہ دنیا کو عبرت ہو کہ اتنا بڑا فاتح ہو کر بھی میں دنیا سے خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔ اسکندر نے زندگی کی جو حقیقت مرتے دم دریافت کی، اگر ہم اسے اپنی زندگی میں دریافت کر لیں تو لوٹ کھسوٹ اور چھینا جھپٹی سے اپنی زندگی کو پاک کر سکتے ہیں۔

†††† کافی دیر اس پرسکون ماحول سے لطف اندوز ہو کر ہم واپس ہوئے۔ گیٹ کے قریب مسجد میں نماز ادا کی۔ باہر نکل کر ایک بقالے سے ہم نے بسکٹ اور کولڈ ڈرنک خریدے۔ اسکندریہ میرے ایک کولیگ علاء حمزہ رہتے تھے اور ان دنوں چھٹیوں پر گھر واپس آئے ہوئے تھے۔ علاء نے بہت خلوص سے مجھے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی اور اس پر اس قدر اصرار کیا تھا کہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کی دعوت محض رسمی نہیں ہے۔ ان کے خلوص کے جواب میں فون بھی نہ کرنا بے مروتی ہوتی۔ میں نے بقالے کے مالک سے ایک فون کی درخواست کی جسے انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے علاء کا نمبر ملا کر مجھے دیا۔ میں نے علاء سے معذرت کی کہ ان کی طرف نہیں آ سکا اور اب واپس جا رہا ہوں۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability