بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈکیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مصر سے سعودی عرب براستہ اردن

اب ہماری واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا۔ ہمارے سامنے دو راستے تھے۔ ایک تو وہی واپس قاہرہ اور وہاں سے سویز۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ ڈیلٹا میں سے گزرتے ہوئے پورٹ سعید تک جائیں اور وہاں سے نہر سویز کے ساتھ ساتھ سویز شہر تک چلیں۔ میں ذاتی طور پر دوسرے راستے کے حق میں تھا کیونکہ یہاں دریائے نیل کی شاخیں سمندر میں گرتی تھیں اور علاقہ سرسبز تھا لیکن لوگوں سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس راستے میں زرعی اور آبادی والا علاقہ ہونے کے باعث بہت رش ہو گا۔ اسی وجہ سے ہم لوگ جن قدموں پر گئے تھے انہی پر واپس آ گئے۔

بیجوں سے تیار کردہ کا کھانا

قاہرہ سے ہوتے ہوئے ہم لوگ مغرب کے وقت سویز پہنچ کر نہر سے پہلے والے ریسٹ ایریا میں جا پہنچے۔ اس وقت ہمیں شدید بھوک لگ رہی تھی اور شوربے والی کوئی چیز کھانے کو دل چاہ رہا تھا۔ ہوٹل والے سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہاں شوربہ دستیاب ہے۔ جب شوربہ ہمارے سامنے آیا تو یہ شاید خربوزے یا کسی اور چیز بیجوں کا بنا ہوا سالن تھا۔

†††† کھانے سے فارغ ہو کر نماز ادا کی۔ نہر سویز کی سرنگ پار کر کے اب ہمیں نویبع تک مزید تین سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ اب ہم دوبارہ جزیرہ نما سینا میں تھے۔ میری تین سالہ بچی ماریہ جو مسلسل سفر کر کر کے اب بذات خود فطرت کے مناظر کو سمجھنے لگی تھی، کہنے لگی، "ابو! وہ دیکھیں، سین!!!۔" جب سین پر نظر پڑی تو واقعتاً ایک نہایت ہی دلفریب منظر سامنے تھا۔

صحرا میں طلوع ماہتاب

اب سے پہلے ہم نے صحرا میں طلوع آفتاب کا منظر تو دیکھا تھا لیکن طلوع ماہتاب کا منظر دیکھنے کا ہمارے لئے یہ پہلا موقع تھا۔ چاند کی غالباً اٹھارہ یا انیس تاریخ تھی۔ سینا کی پہاڑیوں کے پیچھے سے سرخ رنگ کا چاند آہستہ آہستہ طلوع ہو رہا تھا۔ جیسے جیسے چاند بلند ہوتا گیا، اس کی سرخی سفیدی میں بدلتی گئی۔ کچھ ہی دیر میں پورا صحرا روشن نظر آ رہا تھا۔

بدتہذیبی کا جواب

رات کی ڈرائیونگ میں بھی مصری ڈرائیور خاصے غیر مہذب ثابت ہوئے۔ سامنے سے آتے ہوئے تیز لائٹیں ہلکی کرنا تو دور کی بات، قریب آ کر انہیں مزید جلا بجھا کر سامنے والے کی آنکھوں کو خیرہ کر دینا ان کا خاص انداز تھا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کی بجائے سامنے والا اپنی رفتار کم کر لے۔ سعودی عرب میں اس کے برعکس لوگ سامنے سے آتی گاڑی دیکھ کر خود ہی لائٹیں ہلکی کر لیتے ہیں تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ میں بھی چونکہ یک طرفہ اخلاقیات کے نظریے کا قائل نہیں ہوں اس لئے جو شخص بھی ایسا کرتا میں نے بھی اس کے ساتھ وہی عمل دوہرانا شروع کر دیا۔

†††† بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر کوئی ان کے ساتھ اخلاقی رویہ اختیار کرے تو یہ اسے بے وقوف سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا علاج یہی ہے کہ ان کے ساتھ بالکل ویسا ہی سلوک کیا جائے جو وہ دوسروں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ ہاں اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ انسان خود پہل نہ کرے اور کسی کی زیادتی کا جواب دیتے ہوئے اس کے ساتھ صرف اتنا ہی کرے جتنا اس نے کیا ہو۔ حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں انسان کو اللہ تعالی کے ہاں جواب دہ ہونا پڑے گا۔

†††† جوابی کاروائی کا یہ اصول صرف ان معاملات کے لئے ہے جو قانون کے دائرے میں آتے ہوں۔ ایسے معاملات جو قابل دست اندازی قانون ہوں، ان کے معاملے میں انسان کو صرف اور صرف قانون سے رجوع کرنا چاہیے اور کبھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔

†††† اگر قانون کی ہمدردیاں مظلوم کی بجائے ظالم کے ساتھ ہوں جیسا کہ ہمارے ہاں عام دستور ہے، اس صورت میں خود کوئی کاروائی کرنے کی بجائے انسان کو معاملہ اللہ تعالی پر چھوڑ دینا چاہیے اور اپنے انتقام کو آخرت تک موخر کر دینا چاہیے۔ اگر انسان قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دے تو اس کا نتیجہ سوائے معاشرتی انتشار اور انارکی کے کچھ نہ نکلے گا اور معاشرے کی حالت ویسی ہی ہو جائے گی جیسی اس وقت مثلاً افغانستان اور عراق میں ہے۔ ظاہر ہے ایسی صورتحال میں وہ شخص اور اس کا خاندان بھی محفوظ نہ رہے گا جس نے ابتدا میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔

†††† تین گھنٹے میں ہم لوگ نویبع جا پہنچے۔ رکنے سے پہلے یہ ضروری تھا کہ اگلے دن فیری کے اوقات معلوم کر لئے جائیں۔ اوقات کا معلوم کرنے کے بعد ہم لوگ ٹورسٹ ولیج پہنچے۔ خوش قسمتی سے ہمیں یہاں ایک نہایت ہی اعلی درجے کے موٹل میں کمرہ سستے داموں مل گیا کیونکہ ان دنوں نویبع میں سیاح بہت کم تھے۔

†††† اگلے دن صبح اٹھ کر ناشتے کے بعد ہم لوگ بندرگاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ عرب برج والوں کے دفتر سے اسپیڈ بوٹ کا ٹکٹ حاصل کیا۔ اسی دوران جمعہ کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ بندرگاہ کے گیٹ بند ہو گئے اور وہاں موجود محافظوں نے نماز کے بعد آنے کا کہا۔

دیہاتی مصر میں نماز جمعہ

میں نے قریب ہی واقع بندرگاہ کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ مسجد میں امام صاحب خطبہ دینے کے لئے آئے۔ خطبے کا موضوع حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا سفر معراج تھا کیونکہ ان دنوں رجب کا مہینہ تھا۔ امام صاحب کا تقریر کرنے کا اسٹائل بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ ہمارے دیہاتی علاقوں کے خطیب حضرات کا ہوتا ہے البتہ راگ لگانے کے معاملے میں وہ ہمارے خطیبوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔

†††† نماز کے بعد کسٹم اور امیگریشن کے مراحل طے پائے۔ بیوروکریسی کے باعث نمبر پلیٹیں واپس کرنے کا مرحلہ اتنا ہی دشوار ثابت ہوا جتنا کہ انہیں حاصل کرنے کا معاملہ تھا۔ ایک مصری صاحب نے یہ معلوم ہونے پر کہ میں پاکستانی ہوں، اس معاملے میں میری کافی مدد کی۔ جب فیری پر چڑھنے کا مرحلہ آیا تو پتہ چلا کہ ٹکٹ کاؤنٹر والوں نے ہمارے اصرار کے باوجود ہمیں اسپیڈ بوٹ کی بجائے سلو بوٹ کا ٹکٹ دے دیا تھا۔ میرا دماغ گھوم گیا اور میرے ذہن میں یہاں پہنچنے کا گیارہ گھنٹے کا سفر آیا۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ اضافی رقم لے لیں اور ہمیں اسپیڈ بوٹ پر ہی جانے دیں۔ شکر ہے کہ وہ لوگ اس پر مان گئے۔

مصر کے بارے میں ہمارے تاثرات

مصر سے ہم ملی جلی یادیں لے کر جا رہے تھے۔ چار دن کے اس سفر میں ہمیں بہت سے اچھے لوگ بھی ملے تھے اور دوسروں کو تنگ کرنے والے بھی۔ ان کے ہاں پاکستانیوں کے بارے میں بھی کوئی خاص گرمجوشی ہمیں محسوس نہیں ہوئی۔ بحیثیت مجموعی ہمیں اہل اردن کا رویہ اہل مصر کی نسبت بہت بہتر محسوس ہوا۔

†††† اہل مصر پر تاثرات کا یہ سلسلہ اس وقت تک مکمل نہ ہو گا جب تک مصر کی مغربیت پر کچھ تبصرہ نہ کر دیا جائے۔ مصر مسلم دنیا میں وہ پہلا ملک ہے جسے ماڈرنائز بلکہ ویسٹرنائز کرنے کی کوششیں بہت پہلے شروع کر دی گئیں۔ محمد علی پاشا کے دور میں مصر کو ماڈرنائز کرنے کے عمل کا آغاز ہوا۔ برطانوی راج نے مصر کے حکمرانوں اور ان کی اشرافیہ کو مکمل طور پر مغرب زدہ کر دیا۔ مصر غالباً وہ پہلا مسلم ملک ہے جہاں کھلے عام نائٹ کلب، کیسینو اور رقص گاہیں تعمیر کی گئیں اور شراب کو عام کیا گیا۔

†††† دلچسپ امر یہ ہے کہ معاشرے کو ویسٹرنائز کرنے کی ان کوششوں میں مسلم معاشروں میں سے کسی نے اہل مغرب کی مثبت اقدار یعنی آزادی اظہار، جمہوریت، غریب طبقوں کے حقوق، انسانی حقوق وغیرہ پر توجہ نہ دی۔ سب نے صرف اور صرف مغربیت کے ایک پہلو یعنی جنسی آزادی، شراب اور جوئے کو ہی اختیار کیا۔ اس سے ہمارے اخلاقی زوال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

†††† مصر میں اس مغربیت کے خلاف اخوان المسلمون نے موثر آواز اٹھائی۔ انہوں نے حکومت کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس پوری تحریک کو سختی سے کچل دیا گیا۔ پچھلے دو عشروں میں اخوان نے تشدد کی بجائے دعوت و اصلاح کے ذریعے معاشرے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں انہیں کافی مقبولیت حاصل ہو چکی ہے۔

†††† 1990ء کے عشرے تک اہل مصر کی اکثریت نائٹ کلبوں وغیرہ سے دور رہتی تھی۔ صرف اشرافیہ اور اپر مڈل کلاس کا ایک محدود طبقہ تھا جو مغرب کی اس مادر پدر آزادی کا حامی تھا۔ عوام کی اکثریت ان خرافات سے دور تھی۔ حالیہ دو عشروں میں میڈیا کے فروغ نے معاشرے کی بڑی تعداد کو ان چیزوں سے سے روشناس کیا ہے۔

†††† 2000ء کی دہائی میں مصری معاشرے میں ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ دنیا میں معاشی تبدیلیوں کے باعث یہاں بھی مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آمدنیوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں اہل مصر کی بڑی تعداد جو مڈل کلاس سے تعلق رکھتی تھی، غربت کا شکار ہو چکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مصری معاشرہ اب دو مختلف سمتوں میں جا رہا ہے۔

†††† ان کے ہاں ایک وہ طبقہ ہے جو دینی تحریکوں کی دعوت کے نتیجے میں دین سے وابستہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف غربت نے بہت سے افراد بالخصوص خواتین کو نائٹ کلبوں، رقص گاہوں اور جسم فروشی کے کاروبار سے وابستہ کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کا ایک فرد اخوان یا کسی اور دینی تحریک سے وابستہ ہے اور دوسرا کسی رقص گاہ سے۔ اس معاشی تقسیم کے نتیجے میں نئے نئے دولت مند ہونے والے حضرات اس کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں۔ مصری معاشرے میں اس تقسیم کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

†††† اس تجزیے میں ہم پاکستانی معاشرے کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی مذہبی اور سیکولر انتہا پسندی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اگلے چند برس میں ان دونوں قسم کے انتہا پسندوں کے درمیان ایک بڑی خانہ جنگی وقوع پذیر ہو جائے۔ ایسی خانہ جنگی کے نتیجے میں پاکستان کی حالت بھی عراق اور افغانستان سے مختلف نہ ہو گی۔

اسپیڈ بوٹ

تین گھنٹے لیٹ ہونے کے بعد اسپیڈ بوٹ چلی تو سفر کا مزہ آ گیا۔ عملے سے معلوم ہوا کہ بوٹ کی رفتار چالیس ناٹ فی گھنٹہ یعنی تقریباً اسی کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس بوٹ میں باہر نکلنے کے تمام راستے بند تھے۔ اندر سے سیٹیں ہوائی جہاز کی مانند تھیں۔ دونوں جانب بند کھڑکیاں تھیں جن سے سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔

†††† فیری پر آتے ہوئے ہمیں گیارہ گھنٹے لگے تھے۔ اسپیڈ بوٹ اس کی نسبت کافی چھوٹی تھی اس لئے اس میں گاڑیاں بھی کم ہی تھیں۔ اسپیڈ بوٹ کے اعلی معیار کے باعث سو کلومیٹر کا نویبع سے عقبہ کا سفر اب گیارہ کی بجائے صرف چھ گھنٹے میں طے ہو گیا جس پر سب لوگ کافی خوش نظر آ رہے تھے۔ ان چھ گھنٹے میں اصل سفر یعنی سمندر میں سیلنگ ٹائم صرف سوا گھنٹہ تھا جبکہ باقی وقت انتظار میں ہی صرف ہوا تھا۔

†††† بوٹ کے اندر ہی ایک کاؤنٹر تھا جس پر ایک طویل قطار تھی۔ میں نے ایسے ہی معلوم کرنا چاہا کہ یہ کیا ہے۔ جب وہاں موجود آفیسر سے اس کے بارے میں پوچھا تو پوچھنے لگے، "آپ پاکستانی ہیں؟" میں نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگے، "اپنے پاسپورٹ دیجیے۔" پاسپورٹ دینے پر اسی وقت انہوں نے مہریں لگا کر میرے حوالے کر دیا۔ اس سے اہل اردن کے لحاظ اور مروت کا اندازہ ہوتا ہے۔

†††† عقبہ کی بندرگاہ پر کسٹم کے مراحل ان کے آفیسرز کی مستعدی کے باعث جلد ہی طے ہو گئے۔ اب ہم بندرگاہ سے نکلے اور سعودی عرب کے بارڈر کی طرف روانہ ہوئے جو یہاں سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اردن سے نکلنے کے بعد ہم سعودی عرب میں داخل ہوئے تو ان کا رویہ اہل اردن سے بھی اچھا تھا۔ کسٹم آفیسر نے بہرحال تفصیلی تلاشی لی لیکن ان کا رویہ اچھا تھا۔ تلاشی لینے کے لئے انہوں نے بنگالی ملازمین رکھے ہوئے تھے۔

†††† سعودی عرب میں جیسے ہی ہم داخل ہوئے تو سکون کا سانس لیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی ہے۔ یہاں زندگی کافی آسان ہے اور معاشرے میں نظم و ضبط کافی اچھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھٹیوں میں یہاں رہنے والے جو لوگ پاکستان کا رخ کرتے ہیں، وہ وہاں جا کر کچھ عجیب سا محسوس کرتے ہیں۔

نویبع کا ریزارٹ

نویبع کا ساحل

اسپیڈ بوٹ کا اندرونی حصہ

مدائن شعیب علیہ الصلوۃ والسلام

†††† ہم لوگ اب سعودی عرب کے سرحدی شہر "حقل" میں رات دس بجے کے قریب داخل ہوئے۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ہمیں ایک بخاری ریسٹورنٹ نظر آیا جس پر موجود افغانی حضرات سے کھانا خریدا۔ ساتھ ہی ایک بقالہ تھا، اس سے کچھ اشیا خریدنے کے لئے میں اندر داخل ہوا تو کاؤنٹر پر بیٹھے صاحب کچھ اپنے اپنے سے لگے۔ گفتگو پر معلوم ہوا کہ ان کا تعلق کراچی میں کھارادر کے علاقے سے ہے۔ وہ میمن حضرات کے مخصوص اسٹائل میں کاؤنٹر پر بیٹھے تھے اور کاروبار کر رہے تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ حقل میں کوئی مناسب ہوٹل نہیں ہے۔

صحرا میں رات کو قیام

ہمارا ارادہ تو یہ تھا کہ رات حقل ہی میں رک کر اگلے دن جدہ کی جانب چلا جائے لیکن اب مجبوری تھی۔ ہم دوبارہ پہاڑی راستوں پر سفر کرنے لگے۔ کچھ دور جانے کے بعد اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہونے لگا۔ روڈ کے ایک طرف ایک بڑی سی کچی جگہ تھی جو ٹرک والوں کے آرام کے لئے بنائی گئی تھی۔ میں نے بھی وہیں گاڑی روک لی۔ یہاں ہمارے علاوہ کوئی نہ تھا۔ ہمارے پاس خیمہ بھی تھا جو ہم یہاں آسانی سے لگا سکتے تھے لیکن اس میں یہ خطرہ تھا کہ صحرا میں کہیں کوئی سانپ وغیرہ نہ ہو۔

†††† ہم نے گاڑی کے تمام شیشے اور چھت کھول دی اور سیٹیں سیدھی کر کے سونے کی کوشش کرنے لگے۔ صحرا میں ہر طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی اور ارد گرد کی پہاڑیاں کافی خوبصورت معلوم ہو رہی تھیں۔ اگست کے مہینے میں بھی صحرا کی رات کافی سرد ثابت ہوئی اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ہمیں جلد ہی گہری نیند میں پہنچا دیا۔ جیسے ہی صبح کا اجالا پھیلنا شروع ہوا تو میری آنکھ کھلی۔ ڈگی میں موجود پانی کی کین سے وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی اور ٹھیک چھ بجے ہم نے اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔

قوم شعیب کا علاقہ

ایک گھنٹے میں ہی ہم لوگ "البدع" نامی قصبے میں جا پہنچے۔ یہ قصبہ یمن اور مکہ سے آ کر شام جانے والے قدیم تجارتی راستے پر ایک اہم مقام تھا۔ اس مقام پر عراق سے مصر جانے والی دوسری تجارتی شاہراہ یمن سے شام جانے والی شاہراہ کو قطع کرتی تھی۔ دو بڑی تجارتی شاہراہوں کے اس چوراہے پر سیدنا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم آباد تھی۔ یہ قوم سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے تیسرے فرزند مدین کی اولاد تھی۔ تین چار صدیوں میں یہ لوگ اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔

†††† اپنی مخصوص لوکیشن کے باعث یہ لوگ تجارتی قافلوں کی آمد و رفت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے۔ انہوں نے ناپ تول میں کمی کرنا شروع کی۔ سیدنا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں شرک اور ناپ تول میں کمی سے روکا جس پر انہوں نے آپ سے سرکشی کا سلوک کیا۔ انہوں نے جوابا آپ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو اپنا ایمان چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا اور کہنے لگے: قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ؟ "اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنی منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ کیا بس تم ہی ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گئے ہو؟" (ھود 11:87)

†††† اس جواب سے اس قوم کی اکابر پرستی، اندھی تقلید اور اخلاقی زوال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اتمام حجت کے بعد اللہ تعالی نے سیدنا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو یہاں سے نکلنے کا حکم دیا اور آپ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل گئے: وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ فَكَيْفَ آسَى عَلَى قَوْمٍ كَافِرِينَ۔ "اے میری قوم! میں نے تو اپنا پیغام تم تک پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔" (الاعراف 7:93)

†††† سیدنا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کے نکل جانے کے بعد اس قوم پر بھی اللہ کا عذاب آیا اور اس کا انجام بھی وہی ہوا جو ان سے پہلے عاد اور ثمود کی اقوام کا ہو چکا تھا۔ تجارتی چوراہے پر آباد ہونے کے باعث اس عذاب کی خبر ارد گرد کی اقوام تک پہنچ گئی اور مدین کی تباہی عرب اور فلسطین میں بطور ضرب المثل مشہور ہو گئی۔ پورے عرب کا بچہ بچہ اس مقام سے واقف تھا۔ قرآن مجید نے اس تباہی کو خدا کے وجود اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رسالت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ آپ کی قوم کے جو لوگ آپ پر ایمان نہ لائے انہیں آپ کے ماننے والوں کے ہاتھوں ایسی ہی سزا دی گئی۔

†††† البدع کے قصبے سے نکلتے ہی قوم شعیب کے آثار ہمارے دائیں جانب تھے۔ ان کے گرد باڑ لگا کر انہیں محفوظ کر لیا گیا تھا اور ان کا گیٹ بند تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ آثار نو بجے کھلیں گے۔ ابھی صبح کے سات بجے تھے، اس لئے ہم لوگوں نے باہر سے ہی یہ آثار دیکھنے پر اکتفا کیا۔ ان کے گھر بھی قوم ثمود کے مقابر کی طرح چٹانوں میں کھود کر بنائے گئے تھے۔ چونکہ بعد میں یہاں شاید نبطی آباد نہیں ہوئے اس لئے اس پر آرٹ کے نمونے تخلیق نہیں ہوئے۔

سعودی عرب کی کوسٹل ہائی وے

البدع سے نکل کر ہم اب ساحل کے ساتھ ساتھ "ضباء" کی طرف روانہ ہوئے۔ کھلی صحرائی سڑک پر صرف ہم ہی تھے جو ہوا کے دوش پر اڑے جا رہے تھے۔ ضباء کے بعد "الوجہ" کا شہر آیا اور اس کے بعد "ینبوع"۔ ینبوع ایک بڑا شہر ہے لیکن ہمیں تو یہ ٹریفک سگنلز کا شہر لگا۔ ڈھیروں ڈھیر سگنلز کے بعد ہم ینبوع کی انڈسٹریل اسٹیٹ جا پہنچے جس کے بعد سڑک نے شاندار موٹر وے شکل اختیار کر لی۔

†††† تھوڑی دیر ہی میں بدر کا ایگزٹ آیا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے مدینہ کے لئے سڑک نکل رہی تھی۔ اس کے بعد ابوا سے ہوتے ہوئے عصر کے وقت ہم لوگ جدہ پہنچ گئے۔ سعودی عرب کی سڑکوں کی خوبی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حقل سے جدہ تک فاصلہ تقریباً 1100 کلومیٹر ہے جو تقریباً لاہور سے حیدر آّباد کے فاصلے کے مساوی ہے۔ یہ فاصلہ ہم نے صرف آٹھ گھنٹے میں طے کیا تھا۔

†††† اس سفر کے ساتھ ہی قرآن مجید اور بائبل سے متعلق علاقوں کے سفر کا میرا ٹارگٹ مکمل ہو چکا تھا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اگر اللہ تعالی نے کبھی موقع دیا تو شام اور ترکی اور اگر کبھی ممکن ہو سکا تو عراق اور فلسطین کے علاقوں کا سفر کر کے انبیاء کرام اور اسلامی تاریخ سے متعلق جو مقامات باقی رہ گئے ہیں، انہیں انشاء اللہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ 2009ء میں مجھے ترکی کا سفر کرنے کا موقع ملا جس کا سفرنامہ آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔

 

††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability