بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دیباچہ

زیر نظر کتاب امام شافعی علیہ الرحمۃ کی تصنیف ہے۔ یہ "اصول فقہ" (Principles of Islamic Jurisprudence) کے فن میں پہلی تصنیف ہے۔ امام صاحب نے یہ کتاب اپنے دور کے ایک گورنر اور عالم عبدالرحمٰن بن مہدی کی فرمائش پر اس کے لئے لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف اصول بیان کیے ہیں بلکہ ان اصولوں کی وضاحت کے لئے بہت سے مثالیں بھی بیان کی ہیں۔ کتاب کا اسلوب زیادہ تر مکالمے کی شکل میں ہے جس میں امام شافعی نے مختلف حضرات کے ساتھ اپنا مکالمہ نقل کیا ہے۔

††††††††† اس کتاب کا ترجمہ و تلخیص کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلامی علوم سے آگاہ کیا جائے۔ امت مسلمہ کے جدید تعلیم یافتہ طبقے اور ہمارے قدیم دینی علوم میں ایک بہت بڑی خلیج پیدا ہو چکی ہے جس کے باعث ایک طرف ہمارا دینی طبقہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے طرز فکر سے نا آشنا ہے اور دوسری طرف جدید طبقہ علوم دینیہ کو پرانے زمانے کی چیز سمجھتا ہے۔ چونکہ جدید طبقہ ہی ہمارے معاشروں کی حقیقی قیادت کے منصب پر فائز ہے اس وجہ سے معاشرہ عملاً دین اور دینی علوم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

††††††††† میری عرصہ دراز سے یہ خواہش تھی کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلامی علوم سے روشناس کروایا جائے۔ اسلامی علوم کی معرکۃ الآرا تصانیف کو انہی کی زبان اور اسلوب میں پیش کیا جائے تاکہ جدید اور قدیم کے مابین اس خلیج کو پر کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ جدید تعلیم یافتہ افراد کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلامی علوم محض دیو مالائی داستانیں نہیں ہیں بلکہ یہ اعلی درجے کی کاوشوں کے نتائج ہیں جن کے پیچھے امت مسلمہ کے ذہین ترین افراد کی علمی و عقلی کاوشیں موجود ہیں۔

††††††††† اس کتاب کو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے میں اپنے استاذ محمد عزیر شمس کا شکر گزار ہوں جن سے اس کتاب کے مندرجات کے بارے میں میں نے متعدد نشستوں میں مکالمہ کیا اور ان کی راہنمائی حاصل کی۔ اس کتاب کو ایڈٹ کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنے والے مصری عالم شیخ احمد محمد شاکر صاحب کا بھی میں شکر گزار ہوں جن کے ایڈٹ کردہ نسخے کی بنیاد پر یہ ترجمہ ہو سکا۔ عراقی عالم ماجد خدوری صاحب بھی شکریے کے مستحق ہیں جن کے انگریزی ترجمے سے اس کتاب کو سمجھنے میں مجھے بہت مدد ملی۔ اہل علم سے میری گزارش ہے کہ اگر انہیں ترجمے و تلخیص میں کوئی غلطی نظر آئے تو مطلع فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

اس کتاب کو جدید سانچے میں ڈھالنے کے لئے یہ اقدامات کیے گئے ہیں:

       کتاب کے مندرجات کو قدیم علوم کی پیچیدہ زبان کی بجائے عام بول چال کی آسان اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔

       اصول حدیث، اصول فقہ اور فقہ کی پیچیدہ اصطلاحوں کی جگہ عام فہم زبان استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جہاں اصطلاحات کا استعمال ضروری تھا، وہاں ان کی وضاحت نوٹس کے ذریعے کی گئی ہے۔

       بہت سے مقامات پر کتاب کے مندرجات کو سمجھنے کے لئے وضاحتی نوٹس کی ضرورت محسوس ہوئی جو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ یہ نوٹس نیلے رنگ کے باکس کے اندر موجود ہیں۔

       امام شافعی کے دور میں کتاب کے عنوانات اور ذیلی عنوانات کو مناسب فارمیٹنگ کے ذریعے علیحدہ کرنے کا رواج نہ تھا جس کی وجہ سے کتاب کے نظم (Organization) کو سمجھنے میں دقت پیش آتی تھی۔ ماجد خدوری صاحب نے انگریزی ترجمے میں کتاب کو منظم کرنے کی جو کوشش کی تھی اسے میں نے اردو ترجمے میں آگے بڑھاتے ہوئے چند مزید عنوانات قائم کیے ہیں اور کتاب کے ابواب کی ترتیب کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

       اصول فقہ کے فن کے تعارف، ارتقاء اور تاریخ سے متعلق ایک مقدمہ اس کتاب کے شروع میں شامل کر دیا گیا ہے۔

       یہ کتاب بنیادی طور پر اصول فقہ کی ہے لیکن ان اصولوں کی مثالیں پیش کرنے کی وجہ سے کتاب خاصی طویل ہو گئی ہے۔ میں نے کتاب کے ہر حصے کے آغاز میں تفصیلی مثالوں سے اجتناب کرتے ہوئے صرف اور صرف اصولوں کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان اصولوں کا خلاصہ مقدمے میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہے، اس کا اندازہ آپ کے تاثرات سے ہو گا۔ اگر آپ کو اس کتاب میں کوئی خوبی نظر آئے تو یہ صرف اور صرف اللہ تعالی کے کرم اور میرے اساتذہ کی محنت ہے اور اگر کوئی غلطی نظر آئے تو اسے میری کم علمی اور کم فہمی پر محمول کیجیے۔

 

محمد مبشر نذیر

December 2007

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter