بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مقدمہ (از مترجم)

اصول فقہ کیا ہے؟

اس بات پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ختم نبوت کے بعد اب دین کا تنہا ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دین دو طریقوں سے عطا فرمایا ہے: ایک اللہ تعالیٰ کا براہ راست کلام جو قرآن مجید ہے اور دوسری حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت مبارکہ۔

††††††††† جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں:

       قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟

       قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟

       سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟

       سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟

       قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟

       قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟

       اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟

ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔ اصول فقہ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

اصول الفقة کلمة مرکبة من کلمتين، يقصد منها مجموعة القواعد و القوانين الکلية التی ينبنی عليها استنباط الاحکام الفقهية من الادلة الشرعية۔ و هو بهذا المفهوم يعتبر قانون الفکر الاسلامی، و معيار الاستنباط الصحيح۔ (الدکتور عبدالوہاب ابراہیم ابو سلیمان، الفکر الاصولی: دراسۃ تحلیلیۃ نقدیۃ۔ ص 18 مطبع دارالشروق، جدہ)

"اصول فقہ" دو الفاظ سے مل کر بنا ہے۔ اس کا مطلب ہے قوانین اور قواعد و ضوابط کا مجموعہ جس کی بنیاد پر شرعی دلائل سے قانونی احکام اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس مفہوم میں اس کا مطلب "فکر اسلامی کا قانون" ہے اور یہی احکام کو صحیح طور پر اخذ کرنے کا معیار ہے۔

ایک اور صاحب علم لکھتے ہیں:

The science of Source Methodology in Islamic Jurisprudence Usul al Fiqh has been defined as the aggregate, considered per se, of legal proofs and evidence that, when studied properly, will lead either to certain knowledge of a Shari'ah ruling or to at least a reasonable assumption concerning the same; the manner by which such proofs are adduced, and the status of the adducer. (ڈاکٹر طہ جابر العلوانی، اصول الفقہ الاسلامی، باب 1)

اصول فقہ یعنی اسلامی فقہ کے ماخذوں سے قوانین اخذ کرنے کے علم کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ قانون کے ثبوت کے حصول کا ایسا مجموعہ ہے جس کا اگر صحیح طور پر مطالعہ کی جائے تو اس کی بنیاد پر شریعت کے کسی حکم کا واضح طور پر تعین کیا جا سکتا ہے یا کم از کم ایک قابل قبول حد تک شریعت کے کسی حکم کے بارے میں رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ اس طریقے کا نام ہے جس کی بنیاد پر یہ ثبوت اکٹھا کیا جاتا ہے اور اسی سے ثبوت اکٹھا کرنے والے کی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے۔

اصول فقہ کا موضوع

اصول فقہ کے یہ اصول عقل عام کی روشنی میں اخذ کیے گئے ہیں۔ اصول فقہ کےبعض اصولوں کا ماخذ "اصول حدیث" کا فن ہے جس کے اصول بھی عقل عام کی روشنی میں اخذ کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کا تعلق بالخصوص حدیث سے ہے۔ اسی طرح قرآن مجید سے متعلق اصول، "اصول تفسیر" کے فن سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ اصول فقہ کا موضوع میں عام طور پر ان موضوعات کا مطالعہ کیا جاتا ہے:

       قرآن مجید کو سمجھنے کے اصول

       زبان و بیان کے اصول

       حلال و حرام سے متعلق احکام معلوم کرنے کا طریق کار

       دین کے عمومی اور خصوصی نوعیت کے احکامات کے تعین کا طریق کار

       دین کے ناسخ و منسوخ احکامات کے تعین کا طریق کار (یہ تمام مباحث بنیادی طور پر اصول تفسیر کے فن کا حصہ ہیں لیکن ان کے بنیادی مباحث اصول فقہ میں بھی بیان کیے جاتے ہیں۔)

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت اور حدیث کو سمجھنے کا طریق کار

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کردہ احادیث کو پرکھنے اور ان کی چھان بین کرنے کا طریق کار (یہ بالعموم علم اصول حدیث کا موضوع ہے لیکن اس کے بنیادی مباحث اصول فقہ میں بھی بیان کیے جاتے ہیں۔)

       اجماع (امت کے اتفاق رائے) کے ذریعے بنائے گئے قوانین کی حیثیت

       قیاس و اجتہاد کا طریق کار

       اختلاف رائے سے متعلق اصول

اصول فقہ کے فن کا تاریخی ارتقاء

عہد رسالت و صحابہ کرام کا دور اول(0-60H)

چونکہ اصول فقہ کے علم کا انحصار بنیادی طور پر علم فقہ ہی پر ہے اس وجہ سے اصول فقہ کا ارتقاء، فقہ کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ہی ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ تعالی کی وحی کی بنیاد پر دینی احکام جاری فرماتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وحی سے کوئی حکم نہ ملنے کی صورت میں آپ اجتہاد فرماتے۔ بعد میں اللہ تعالی کی جانب سے بذریعہ وحی اس اجتہاد کی توثیق کر دی جاتی یا اگر کسی تغیر و تبدل کی ضرورت پیش آتی تو اس بارے میں آپ کو وحی کے ذریعے رہنمائی فراہم کر دی جاتی۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تربیت یافتہ اصحاب میں بہت سے ایسے تھے جو آپ کی حیات طیبہ ہی میں فتوی (دینی معاملات میں ماہرانہ رائے) دینا شروع کر چکے تھے۔ ظاہر ہے ایسا حضور کی اجازت کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ ان صحابہ میں سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، علی، عائشہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم کے فتاوی مشہور ہیں۔ ان کے فتوی دینے کا طریق کار یہ تھا کہ جب ان کے سامنے کوئی صورت حال پیش کی جاتی تو وہ اس کا موازنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے پیش آ جانے والی صورتحال سے کرتے اور ان میں مشابہت کی بنیاد پر حضور کے فیصلے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنا دیتے۔

††††††††† خلافت راشدہ کے دور میں بھی یہی طریق کار جاری رہا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت میمون بن مہران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آپ کے پاس کوئی مقدمہ لایا جاتا تو سب سے پہلے آپ قرآن میں دیکھتے۔ اگر اس صورتحال سے متعلق کوئی حکم آپ کو ملتا تو آپ اس کے مطابق فیصلہ کر دیتے۔ اگر قرآن سے کوئی واضح حکم نہ ملتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سابق فیصلوں کی طرف رجوع فرماتے۔ اگر اس میں بھی کوئی بات نہ ملتی تو صحابہ کے اہل علم کو جمع کر کے ان کی رائے لیتے اور ان کے اتفاق رائے (اجماع) کی بنیاد پر فیصلہ کر دیتے۔ اگر صحابہ کے اہل علم میں کسی معاملے میں اتفاق رائے نہ ہو پاتا تو پھر آپ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کر دیتے۔( شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ، باب 84) عہد صدیقی کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس دور میں قانون سازی اجماع اور قیاس کا استعمال کافی بڑے پیمانے پر کیا گیا۔

††††††††† سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ آپ کے دور کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے ہر اہم مسئلے میں غور و فکر کرنے کے لئے مجتہد صحابہ کی ایک غیر رسمی کمیٹی بنائی جس میں اجتماعی طور پر غور و فکر کر کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اس کمیٹی کے اکثر فیصلے اجماع کے ذریعے طے پاتے۔ سیدنا عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی یہی طریق کار رائج رہا۔ یہ دونوں حضرات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مشاورتی کمیٹی کے اہم ترین رکن تھے۔ اپنے دور خلافت میں انہوں نے بھی اسی طریق کار پر عمل کیا۔ فقہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خاص میدان تھا۔ آپ نے عدالتی معاملات میں بہت سے فیصلے جاری فرمائے جن کی بنیاد پر آپ کے فتاوی کی ایک ضخیم کتاب تیار کی جا سکتی ہے۔

††††††††† حکومت سے ہٹ کر انفرادی طور پر بھی بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں فقہی اور قانونی معاملات میں فتاوی جاری کیا کرتے تھے۔ یہ فتاوی اگرچہ قانون نہ تھے لیکن لوگ ان صحابہ پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے اجتہادات کی پیروی کرتے۔ سیدنا عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں بہت سے صحابہ مفتوحہ ممالک میں پھیل گئے اور مقامی آبادی کو دین کی تعلیم دینے لگے۔ یہ حضرات لوگوں کے سوالات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیتے اور فتاوی جاری کرتے۔ اس دور پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں:

فرای کل صحابی ما یسرہ اللہ لہ من عبادتہ و فتاواہ و اقضیتہ، فحفظا و عقلا و عرف لکل شییء وجھا من قبل حفوف القرائن بہ فحمل بعضھا علی الاباحہ و بعضھا علی النسخ، لامارات و قرائن کانت کافیۃ عندہ، و لم یکن العمدۃ عندھم الا وجدان الاطمئنان و الثلج من غیر التفات الی طرق الاستدلال، کما تری الاعراب یفھمون مقصود الکلام فیما بینھم و تثلج صدروھم بالتصریح و التلویح و الابما من حیث لا یشعرون۔

و انقضی عصرہ الکریم و ھم علی ذلک، ثم انھم تفرقوا فی البلاد، و صار کل واحد مقتدی ناحیۃ من النواحی، فکثرت الوقائع و دارت المسائل، فاستفتوا فیھا، فاجاب کل واحد حسبما حفظہ او استنبط، و ان لم یجد فیما حفظہ او استنبط ما یصلح للجواب اجتھد برایہ، و عرف العلۃ التی ادار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیھا الحکم فی منصوصاتہ، فطرد الحکم حیثما و جدھا لا یالو جھدا فی موافقۃ غرضہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ (شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ، باب 82)

ہر صحابی نے اپنی سہولت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی عبادت، فتاوی اور عدالتی فیصلوں کو دیکھا، سمجھا اور انہیں یاد کر لیا۔ انہوں نے شواہد و قرائن کی بنیاد پر آپ کے ہر قول و فعل کی وجہ بھی معلوم کر لی۔ انہوں نے بعض امور کے جائز اور بعض کے منسوخ ہونے کا تعین بھی کر لیا۔ ان کے نزدیک قلبی اطمینان کی اہمیت (موجودہ دور کے) طریق استدلال سے زیادہ تھی۔ جیسا کہ آپ عرب دیہاتیوں کو دیکھتے ہیں کہ کہ وہ کلام عرب کے واضح جملوں اور اشارات سے بات کو سمجھ لیتے ہیں اور انہیں اس پر مکمل اطمینان بھی حاصل ہو جاتا ہے حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ اطمینان کیسے حاصل ہوا ہے۔

اس کے بعد حضور کا مبارک دور گزر گیا اور صحابہ کرام مختلف شہروں میں پھیل گئے۔ ان میں سے ہر صحابی اپنے شہر کے لوگوں کے لئے راہنما کی حیثیت اختیار کر گیا۔ (چونکہ ملک بہت پھیل گیا تھا اس وجہ سے) کثیر تعداد میں واقعات پیش آنے لگے اور لوگوں کو (دینی امور) دریافت کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ صحابہ کرام اپنے حافظے اور استنباط کی بنیاد پر ان سوالوں کے جواب دیتے اور اگر انہیں اپنے محفوظ علم یا استنباط میں سے اس کا جواب نہ ملتا تو وہ اپنی رائے سے اجتہاد کرتے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے واضح احکام کی وجوہات (علتوں) کو جاننے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ جہاں انہیں وہی وجہ (علت) نظر آتی، وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مقصد کے مطابق اس پر حکم لگا دیا کرتے تھے۔

صحابہ کرام کا دوسرا دور (60-90H)

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، بڑی عمر کے صحابہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ارشادات، افعال اور فیصلوں کا براہ راست مشاہدہ کیا تھا، دنیا سے رخصت ہوتے چلے گئے۔ اس وقت تک ان صحابہ کے تربیت یافتہ صحابہ اور تابعین کی بڑی جماعت تیار ہو چکی تھی۔ یہ ان صحابہ کا دور تھا جو عہد رسالت میں ابھی کم عمر تھے۔ ان صحابہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک خصوصی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قریبی صحابہ جیسے سیدنا عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کے شاگرد تھے۔ اس دور میں کچھ سیاسی اور مذہبی فتنوں نے جنم لیا جس کے باعث دینی معاملات سے متعلق بھی کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ اس دور کی چیدہ چیدہ خصوصیات یہ ہیں:

       اہل علم کے ہاں قرآن اور حدیث میں غور و فکر کا سلسلہ جاری رہا۔

       احادیث کی نشر و اشاعت کا کام تیز ہوا۔ تابعین میں یہ شوق شدت اختیار کر گیا کہ چونکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زیارت نہیں کر سکے، اس وجہ سے آپ کی باتوں کو ہم جس حد تک سن اور سمجھ سکتے ہیں، اس کی کوشش کریں۔

       سیاسی اور مذہبی مسائل کے باعث احادیث وضع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وجہ سے اہل علم کے ہاں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ احادیث کی چھان بین ایک نہایت ہی ضروری کام ہے۔

       فقہاء صحابہ کے مختلف شہروں میں پھیل جانے کے باعث اجماع عملی طور پر ممکن نہ رہا۔ اب اجماع ایک شہر کے علماء کے درمیان تو ممکن تھا لیکن پورے عالم اسلام کی سطح پر ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔

تابعین کا دور (90-150H)

پہلی صدی ہجری کے آخری عشرے (لگ بھگ 730ء) تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ سیدنا سہل بن سعد الساعدی، انس بن مالک اور عامر بن واثلہ بن ابو عبداللہ رضی اللہ عنہم آخر میں وفات پانے والے صحابہ ہیں۔ اب تابعین کا دور تھا۔ اس دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تربیت یافتہ افراد کثرت سے موجود تھے۔ ان میں نافع مولی ابن عمر، عکرمہ مولی ابن عباس، مکہ کے عطاء بن رباح، یمن کے طاؤس بن کیسان، یمامہ کے یحیی بن کثیر، کوفہ کے ابراہیم النخعی، بصرہ کے حسن بصری اور ابن سیرین، خراسان کے عطاء الخراسانی، اور مدینہ کے سعید بن مسیب اور عمر بن عبدالعزیز (رحمھم اللہ) کے نام زیادہ مشہور ہیں۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

فاختلفت مذاہب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اخذ عنھم التابعون کذلک، کل واحد ما تیسر لہ، فحفظ ما سمع من حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و مذاھب الصحابہ و عقلھا، و جمع المختلف علی ما تیسر لہ، و رجح بعض الاقوال علی بعض ۔۔۔۔۔۔فعند ذلک صار لکل عالم من علماء التابعین مذھب علی حیالہ فانتصب فی کل بلد امام، مثل سعید بن المسیب و سالم بن عبداللہ بن عمر فی المدینۃ، و بعدھما الزھری و القاضی یحیی بن سعید و ربیعۃ بن عبدالرحمٰن فیھا، و عطاء بن ابی رباح بمکۃ، و ابراھیم النخعی و الشعبی بالکوفۃ، و الحسن البصری بالبصرۃ، و طاؤس بن کیسان بالیمن، و مکحول بالشام، فاظما اللہ اکبادا الی علومھم فرغبوا فیھا، و اخذوا عنھم الحدیث و فتاوی الصحابۃ و اقاویلھم۔ (شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ، باب 82)

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اصحاب کے نقطہ ہائے نظر میں اختلاف پیدا ہو گیا اور تابعین نے حسب توفیق ان کے علوم کو ان سے اخذ کر لیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث اور صحابہ کرام کے نقطہ ہائے نظر کو سنا اور سمجھا۔ اس کے بعد انہوں نے اختلافی مسائل کو اکٹھا کیا اور ان میں سے بعض نقطہ ہائے نظر کو ترجیح دی۔۔۔۔۔ اس طرح ہر تابعی نے اپنے علم کی بنیاد پر ایک نقطہ نظر اختیار کر لیا اور ان میں سے ہر ایک کسی شہر کا امام (لیڈر) بن گیا۔ مثال کے طور پر مدینہ میں سعید بن المسیب اور سالم بن عبداللہ بن عمر اور ان کے بعد زہری، قاضی یحیی بن سعید اور ربیعۃ بن عبدالرحمٰن، مکہ میں عطاء بن ابی رباح، کوفہ میں شعبی اور ابراہیم النخعی، بصرہ میں حسن بصری، یمن میں طاؤس بن کیسان، شام میں مکحول۔ اللہ تعالی نے لوگوں کے دل میں علوم کا شوق پیدا کر دیا تھا، اس وجہ سے لوگ ان اہل علم کی طرف راغب ہو گئے اور ان سے حدیث اور صحابہ کے نقطہ ہائے نظر اور آراء حاصل کرنے لگے۔

††††††††† تابعین نے نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کے ریکارڈ کو محفوظ کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہر شاگرد نے اپنے استاذ صحابی کے عدالتی فیصلوں اور فقہی آراء کو محفوظ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے فیصلوں اور احادیث کو محفوظ کرنے کا سرکاری حکم جاری کیا اور فتوی دینے کا اختیار اہل علم تک ہی محدود کیا۔ آپ ابوبکر محمد بن عمرو بن حزم الانصاری کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی جو حدیث بھی آپ کو ملے، اسے لکھ کر مجھے بھیج دیجیے کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ اہل علم کے رخصت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ علم بھی ضائع نہ ہو جائے۔"

تبع تابعین کا دور (150-225H)

تابعین کا دور کم و بیش 150 ہجری (تقریباً 780ء) کے آس پاس ختم ہوا۔ اپنے دور میں تابعین کے اہل علم اگلی نسل میں کثیر تعداد میں عالم تیار کر چکے تھے۔ یہ حضرات تبع تابعین کہلاتے ہیں۔ اس وقت تک اصول فقہ کے قواعد اور قوانین پر اگرچہ مملکت اسلامیہ کے مختلف شہروں میں عمل کیا جا رہا تھا لیکن انہیں باضابطہ طور پر تحریر نہیں کیا گیا تھا۔

††††††††† یہ دور فقہ کے مشہور ائمہ کا دور تھا۔ مملکت اسلامی اب بلوچستان سے لے کر مراکش تک پھیل چکی تھی۔ حکمران اپنے پیشروؤں کی طرح اس درجے کے اخلاقی معیار پر نہ رہے تھے کہ ان سے دینی معاملات میں راہنمائی حاصل کی جاتی۔ اس وقت یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس عظیم سلطنت کے لئے مدون قانون (Codified Law) کا مجموعہ تیار کیا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت کی طرف سے ایک باضابطہ ادارہ بنایا جاتا جس میں پوری امت کے اہل علم کو اکٹھا کیا جاتا اور یہ سب حضرات مل کر قانون سازی کرتے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ اس وقت دنیا کی قانونی تاریخ کا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا کہ مختلف شہروں میں اہل علم نے قرآن و سنت اور صحابہ و تابعین کی فقہی آراء اور قانونی فیصلوں کی بنیاد پر پرائیویٹ قانون ساز مجالس بنانا شروع کر دیں۔

††††††††† اس دور میں نقل و حمل اور ابلاغ کے ذرائع اتنے ترقی یافتہ نہ تھے کہ مختلف شہروں کے اہل علم ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے۔ اس وجہ سے ہر شہر کے رہنے والوں نے اپنے شہر کے صحابہ و تابعین کے پھیلائے ہوئے علم، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث اور صحابہ و تابعین کے فقہا کے اجتہادات شامل تھے، کی پیروی شروع کر دی۔

††††††††† اہل مدینہ میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ (وفات 179ھ) کا مکتب فکر وجود پذیر ہوا۔ انہوں نے مدینہ کے فقہاء صحابہ سیدنا عمر، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور فقہا تابعین و تبع تابعین سعید بن مسیب (وفات 93ھ)، عروہ بن زبیر (وفات 94ھ)، سالم (وفات 106ھ)، عطاء بن یسار (وفات 103ھ)، قاسم بن محمد بن ابوبکر (وفات 103ھ)، عبیداللہ بن عبداللہ (وفات 99ھ)، ابن شہاب زہری (وفات 124ھ)، یحیی بن سعد (وفات 143ھ)، زید بن اسلم (وفات 136ھ)، ربیعۃ الرائے (وفات 136ھ) رحمۃ اللہ علیہم کے اجتہادات کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا۔

††††††††† اسی دور میں بالکل یہی عمل کوفہ میں بھی جاری تھا۔ یہاں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (وفات 150ھ) کا مکتب فکر بعینیہ یہی کام کر رہا تھا۔ انہوں نے کوفہ میں قیام پذیر ہو جانے والے فقہاء صحابہ سیدنا عبداللہ بن مسعود اور علی رضی اللہ عنہما اور فقہا تابعین جیسے قاضی شریح (وفات 77ھ)، شعبی (وفات 104ھ)، ابراہیم نخعی (وفات 96ھ) رحمۃ اللہ علیہم کے اجتہادات کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل جاری رکھا۔

††††††††† اس دور سے پہلے فن تحریر موجود تھا اور قرآن مجید کو باقاعدہ لکھ کر اس کی نشر و اشاعت کی جا چکی تھی لیکن احادیث کو لکھ کر پھیلانے کا سلسلہ عام نہ ہوا تھا۔ جن لوگوں نے احادیث کو باقاعدہ لکھا تھا، اس کی حیثیت بھی شائع شدہ کتاب کی بجائے ذاتی ڈائری کی تھی۔ احادیث کو باقاعدہ مدون کر کے پھیلانے کا سلسلہ اس دور میں شروع ہوا اور امام مالک کی موطاء اس دور کی کتاب ہے جو آج بھی پوری دنیا میں شائع ہو رہی ہے۔ ابن ابی ذئب (وفات 158ھ)، ابن جریج (وفات 150ھ)، ابن عینیہ (وفات 196ھ)، سفیان ثوری (وفات 161ھ)، اور ربیع بن صبیح (وفات 160ھ) کی کتب کا سراغ بھی ملتا ہے۔

††††††††† امام ابوحنیفہ ، جو کہ ابراہیم نخعی کے شاگرد حماد(وفات 120ھ) اور امام جعفر صادق(وفات 148ھ) رحمہم اللہ کے شاگرد تھے، کی تقریباً چالیس افراد پر مشتمل ایک ٹیم تھی جو قرآن و سنت کی بنیادوں پر قانون سازی کا کام کر رہی تھی۔ اس ٹیم میں ہر شعبے کے ماہرین شامل تھے جن میں زبان، شعر و ادب، لغت، گرامر، حدیث، تجارت ، سیاست ، فلسفے ہر علم کے ماہرین نمایاںتھے۔ ہر سوال پر تفصیلی بحث ہوتی اور پھر نتائج کو مرتب کر لیا جاتا۔ امام صاحب نے خود تو فقہ اور اصول فقہ پر کوئی کتاب نہیں لکھی لیکن ان کے فیصلوں کو ان کے شاگردوں بالخصوص امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی علیہما الرحمۃ نے مدون کیا۔ امام ابوحنیفہ اور مالک کے علاوہ دیگر اہل علم جیسے سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد علیہم الرحمۃ یہی کام کر رہے تھے لیکن ان کے فقہ کو وہ فروغ حاصل نہ ہو سکا جو حنفی اور مالکی فقہ کو ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہارون رشید کے دور میں حنفی فقہ کو مملکت اسلامی کا قانون بنا دیا گیا اور مالکی فقہ کو سپین کی مسلم حکومت نے اپنا قانون بنا دیا۔

††††††††† یہ دونوں کام ان بزرگوں کی وفات کے بعد بعد ہوئے ورنہ ان اہل علم کی وسعت نظری کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے فتاوی اور آرا کو حتمی نہ سمجھتے تھے بلکہ اپنے سے مختلف رائے کو بھی خندہ پیشانی سے سنا کرتے۔ امام ابو حنیفہ اور مالک کی زندگی میں انہیں متعدد مرتبہ حکومت کی طرف سے یہ پیش کش ہوئی کہ ان کے فقہ کو مملکت کا قانون بنا دیا جائے لیکن انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔

††††††††† دین کے بنیادی ماخذوں سے متعلق ان اہل علم میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ یہ سب کے سب ہی قرآن اور سنت کو دین کا بنیادی ماخذ مانتے تھے۔ بنیادی ماخذوں کے علاوہ ثانوی مآخذ کے بارے میں ان حضرات میں کچھ اختلاف رائے تھا۔ جیسا کہ امام مالک اہل مدینہ کے عمل کو بہت اہمیت دیتے تھے اور امام ابوحنیفہ استحسان اور عرف و عادت کو اہمیت دیا کرتے تھے۔

اہل الرائے اور اہل الحدیث

بعد کے دور میں فقہاء باقاعدہ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ اہل الرائے (Rationalists) کا تھا جبکہ دوسرا اہل الحدیث (Traditionalists) کا۔ اہل الرائے زیادہ تر عراق میں پھیلے جبکہ اہل الحدیث کو حجاز کے علاقے میں فروغ حاصل ہوا۔ اہل الرائے قیاس اور اجتہاد کو زیادہ اہمیت دیتے اور اہل الحدیث، روایات کو۔

††††††††† اگر غور کیا جائے تو ان ائمہ میں اساسی نوعیت کا کوئی اختلاف موجود نہیں تھا۔ یہ سب حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہی کو دین کا ماخذ قرار دیتے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ بعض ائمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معلومات کے حصول کے جن ذرائع کو کم اہمیت دیتے تھے، دوسرے انہیں زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ اہل الرائے اس بات کے قائل تھے کہ اگر کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو اپنے قیاس کو ترک کر دینا چاہیے۔ اسی طرح اہل الحدیث اس بات کے قائل تھے کہ زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نت نئے پیدا ہونے والے مسائل میں قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ عقل اور قیاس کو بھی استعمال کرنا چاہیے۔

††††††††† اہل الرائے اور اہل الحدیث کے اختلاف کی بنیادی وجہ مختلف علاقوں میں رہنا ہے۔ اگر یہ سب حضرات ایک ہی زمانے اور ایک ہی شہر میں ہوتے تو لازماً آپس میں مختلف مسائل پر مکالمہ کرنا ان کے لئے ممکن ہوتا۔ اگرچہ امام ابوحنیفہ اور مالک کے درمیان ایک آدھ مرتبہ ملاقات بھی ہوئی، لیکن ظاہر ہے ایک چند ایک ملاقاتوں میں مسائل کی ایک طویل فہرست پر مکالمہ کرنا ممکن نہ تھا۔ دوسری طرف چونکہ عراق مختلف فرقوں اور سیاسی گروہوں کی چپقلش کا مرکز بنا رہا اور ہر گروہ نے اپنے نظریات کے حق میں جعلی حدیثیں ایجاد کر کے پھیلانا شروع کر دیں، اس وجہ سے اہل الرائے کے ہاں حدیث کو قبول کرنے میں زیادہ احتیاط برتی جانے لگی۔

††††††††† اہل الرائے اور اہل الحدیث میں اساسی نوعیت کے اتفاق رائے کے باوجود وقت کے ساتھ ساتھ ان گروہوں کے اختلافات میں شدت پیدا ہو گئی اور ہر ایک اپنے اپنے مسلک میں شدت برتنے لگا۔ بعض شدت پسند اہل الرائے، اہل الحدیث پر روایت پسند اور کم عقل ہونے کا الزام لگاتے تو دوسری طرف شدت پسند اہل الحدیث، اہل الرائے کو منکر حدیث کا خطاب دیتے۔

††††††††† اس اختلاف کا ایک مثبت اثر بھی وجود پذیر ہوا۔ اہل الرائے کی شدت نے اہل الحدیث کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ احادیث رسول کے ضمن میں زیادہ سے زیادہ محنت کریں۔ ان کی محنت کا نقشہ کھینچتے ہوئے شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

فوقع شیوع تدوین الحدیث والاثر فی بلدان الاسلام، و کتابۃ الصحف و النسخ، حتی قل من یکون من اہل الروایۃ الا کان لہ تدوین او صحیفۃ او نسخۃ من حاجتھم لموقع عظیم، فطاف من ادرک من عظمائھم ذلک الزمان بلاد الحجاز و الشام و العراق و مصر و الیمن و خراسان، و جمعوا الکتب، و تتبعوا النسخ، امعنوا فی التفحص من غریب الحدیث و نوادر الاثر، فاجتمع باھتمام اولئک من الحدیث و الآثار ما لم یجتمع لاحد قبلھم۔۔۔۔و ظھر علیھم احادیث صحیحۃ کثیرۃ لم تظھر علی اہل الفتوی من قبل۔ (شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ، باب 84)

احادیث کی تدوین کا عمل مملکت اسلامیہ کے مختلف شہروں میں شروع ہو گیا۔ احادیث کی کتابوں کی تصنیف کا عمل شروع ہوا۔ اہل روایت میں سے شائد ہی ایسا کوئی عالم ہو جس نے احادیث کی کتب نہ لکھی ہوں۔ وقت کی ضرورت نے اس کام کی شدید طلب پیدا کر رکھی تھی۔ اہل الحدیث کے جلیل القدر اہل علم نے اس زمانے میں حجاز، شام، عراق، مصر، یمن اور خراسان (ایران و افغانستان) کا سفر کیا اور کتابوں اور نسخوں کو جمع کیا۔ انہوں نے احادیث و آثار کے نوادر (کم روایت کی جانے والی احادیث) کو اکٹھا کرنے کا اہتمام کیا اور ایسا ذخیرہ اکٹھا ہو گیا جو اس سے پہلے نہ ہوا تھا۔ ایسی صحیح احادیث کثیر تعداد میں شائع ہو گئیں جو پہلے اہل فتوی کے علم میں نہ تھیں۔

امام شافعی اور کتاب الرسالہ

اس دور میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ (150-204ھ) پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق فلسطین میں غزہ کے علاقے سے تھا۔ ان کے والدین ان کے بچپن ہی میں مکہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ مکہ میں قیام کے دوران انہوں نے اہل الحدیث کے مشہور اہل علم سفیان بن عینیہ (وفات 198ھ) اور مسلم بن خالد الزنجی (وفات 179ھ) سے علم حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ مدینہ چلے گئے اور وہاں جا کر امام مالک سے ان کی کتاب موطاء کا درس لیا۔ آپ امام مالک کے طریق کار سے بہت متاثر تھے اور ان سے نہایت عقیدت رکھتے تھے۔

††††††††† کچھ عرصے بعد امام شافعی عراق چلے گئے اور وہاں انہوں نے امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد بن حسن شیبانی سے تعلیم حاصل کی۔ عراق میں امام شافعی، اہل الرائے کی انتہا پسندی سے سخت متنفر ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کی نسبت اپنے اساتذہ کے اقوال و آراء اور فتاوی کی تعلیم پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ امام شافعی نے اہل الرائے کی اس شدت پسندی کے خلاف ایک کتاب "الحجۃ" بھی لکھی۔

††††††††† دوسری طرف امام صاحب شدت پسند اہل الحدیث کے طریق کار سے بھی مطمئن نہ تھے۔ انہوں نے مقطوع اور مرسل احادیث کو قبول کرنے کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تفصیل سے بیان کیا اور اس ضمن میں اہل الحدیث کے طریق کار پر انہوں نے تنقید کی۔ یہ تفصیل کتاب الرسالہ کے اس ترجمے میں دیکھی جا سکتی ہے۔

††††††††† کچھ عرصے بعد امام شافعی کو نجران کا قاضی مقرر کیا گیا۔ آپ کی حق گوئی کے باعث وہاں کے گورنر سے آپ کے کچھ اختلافات ہو گئے جس کے باعث انہیں مصر کی طرف کوچ کرنا پڑا۔ مصر میں انہوں نے دیکھا کہ لوگ امام مالک کے اجتہادات کی اندھی تقلید میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے یہ امام مالک کے طریق کار پر تنقید کی اور اس میں موجود خامیوں کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے ایک کتاب "اختلاف مع مالک" بھی لکھی۔

††††††††† امام شافعی نے اہل الحدیث اور اہل الرائے کے مابین ایک پل کا کام کرتے ہوئے ان دونوں کو چند اصولوں پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دونوں گروہوں کے اصولوں کی غلطی واضح کی۔ ممتاز محقق ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں:

Shafi'i combined both the qualities in his person. He had acquired Hadith from the masters of the subject and he had learnt law from the masters of analogy. He also had a full command over philosophy and dialectics. In his person, therefore, emerged a scholar who served as a link between the two schools and provided a synthesis. His greatest achievement was that he united the two conflicting schools. He was fully conversant with Hadith and was a leading expert in analogy, inference, deduction and ijtihad As a result he was able to satisfy both the schools. (Dr. Hamidullah, Emergence of Islam)

امام شافعی کی شخصیت میں دونوں گروہوں (اہل الحدیث اور اہل الرائے) کی خصوصیات پائی جاتی تھیں۔ انہوں نے ماہر ترین محدثین سے حدیث کا علم حاصل کیا اور ماہر ترین فقہاء سے فقہ کا علم حاصل کیا۔ انہیں فلسفہ اور جدلیات پر بھی کامل عبور حاصل تھا۔ ایسی شخصیت کی بنیاد پر وہ ایسے عالم بنے جنہوں نے ان دونوں مکاتب فکر کے مابین رابطے کا کام کیا۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے ان دونوں مکاتب فکر کو اکٹھا کر دیا۔ وہ نہ صرف حدیث پر مکمل عبور رکھتے تھے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قیاس، استدلال، استخراج اور اجتہاد کے امام بھی تھے۔ اسی وجہ سے وہ دونوں مکاتب فکر کے اہل علم کو مطمئن کر سکتے تھے۔

††††††††† اس دوران امام شافعی نے یہ ضرورت محسوس کی کہ اصول فقہ کے قواعد و ضوابط کو باقاعدہ مربوط صورت میں پیش کیا جائے۔ یہ کام انہوں نے "الرسالہ" کی تصنیف کے ذریعے کیا۔ تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصول فقہ کے فن میں یہ پہلی کتاب ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں جو اصول بیان کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے:

عام اصول فقہ

       دین کے احکام "البیان" ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے اولین مخاطبین پر بالکل واضح تھے۔

       اللہ تعالی نے اپنے بعض احکام کو اپنی کتاب کے متن میں واضح الفاظ میں بیان کیا ہے اور ان کا مطلب بالکل واضح ہے۔

       بعض احکامات قرآن مجید میں بیان تو کیے گئے ہیں لیکن ان کی تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔

       بعض احکامات قرآن میں بیان نہیں کیے گئے بلکہ ان کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دیا ہے۔ قرآن میں ان کے لئے اجمالاً یہ کہہ دیا ہے کہ رسول کی اطاعت و اتباع کی جائے۔

       بعض ایسے احکامات بھی ہیں جن میں اجتہاد کرنے اور عقل استعمال کرنے کا حکم دے کر ان کے تعین کو امت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

       اجتہاد، قیاس کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس میں علماء کے درمیان اختلاف رائے ہونا ممکن ہے۔ اگر ان میں اجتہاد کرتے ہوئے اتفاق رائے ہو جائے تو اسے "اجماع" کہتے ہیں۔

       دینی علم کے دو حصے ہیں۔ ایک تو وہ دینی علم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے سے عام لوگوں سے عام لوگوں کو تواتر سے منتقل ہوتا آ رہا ہے۔ اسے حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ جو ایسا نہ کرے گا وہ گناہ گار ہو گا۔ دینی علم کا دوسرا حصہ وہ ہے جو خاص ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے حاصل کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا کر دیتے ہیں تو باقی لوگ گناہ گار نہیں ہوتے۔

قرآن مجید سے متعلق اصول

       قرآن مجید خالصتاً عربی زبان میں نازل ہوا۔ یہ زبان اپنے ابتدائی مخاطبین کے لئے بالکل واضح تھی۔

       جو شخص قرآن کو براہ راست سمجھنا چاہے، اس کے لئے لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں آپ کی قوم یعنی اہل مکہ (قریش)کی زبان سیکھے کیونکہ زمانے اور علاقے کے فرق سے زبانوں میں تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں۔ یہ مخصوص عربی زبان سیکھے بغیر قرآن کو براہ راست سمجھنا درست نہیں۔

       قرآن میں بعض احکام عمومی اور ابدی نوعیت کے ہیں جن پر عمل کرنا تمام مسلمانوں کے لئے لازم ہے اور بعض احکام خصوصی نوعیت کے ہیں جن پر عمل کرنا مخصوص صورتحال ہی میں لازم ہے۔ ان دونوں میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جو عمومی الفاظ میں بیان کیے جاتے ہیں لیکن ان سے مراد کوئی خصوصی صورتحال ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض احکام خصوصی ہوتے ہیں اور اس کی وضاحت سنت سے ہوتی ہے۔

       قرآن کے ناسخ و منسوخ احکام کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔

       سنت سے قرآن کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ سنت قرآن کے تابع رہ کر اس کی وضاحت کرتی ہے۔

سنت سے متعلق اصول

       اللہ کے دین کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات ہے۔ رسول کی حیثیت سے جو احکام آپ نے دیے انہیں قبول کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن کاموں سے منع فرمایا، ان سے رکنا ضروری ہے۔

       آپ نے بعض ایسی چیزوں سے منع فرمایا جو ہمیشہ کے لئے حرام ہیں اور بسا اوقات بعض کاموں سے آپ نے کسی مخصوص صورت حال ہی میں منع فرمایا۔ ابدی حرام کاموں سے اجتناب کرنا ہمیشہ ضروری ہے لیکن مخصوص حالات کی ممانعتوں سے رکنا صرف انہی مخصوص حالات ہی میں ضروری ہے۔ پہلی قسم کی مثال چوری یا شراب ہے۔ دوسری قسم کی مثال روزے کی حالت میں ازدواجی تعلقات قائم کرنا ہے۔

       احادیث کی روایت میں بسا اوقات کچھ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جس کے باعث روایتوں میں تضاد نظر آتا ہے۔ کبھی یہ تضاد محض راویوں کی غلط فہمی کے باعث پیدا ہوتا ہے اور کبھی ایک حدیث دوسری سے منسوخ ہوا کرتی ہے۔

       حدیث کبھی بھی قرآن کے مخالف نہیں ہو سکتی۔ حدیث صرف اور صرف قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔

       بعض اوقات روایتوں میں ایک بات جزوی طور پر بیان کی گئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بظاہر احادیث میں اختلاف محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس موضوع سے متعلق تمام روایتوں کو اکٹھا کیا جائے تو پھر پوری بات درست طور سمجھ میں آ جاتی ہے۔

       احادیث میں بھی کچھ احادیث کا حکم عمومی نوعیت کا (عام) ہوتا ہے اور کچھ کا تعلق کسی مخصوص صورت حال سے (خاص) ہوا کرتا ہے۔ اس بات کا تعین بہت ضروری ہے۔

       اگر ایک حدیث دوسری حدیث سے منسوخ ہو تو ہم اس حکم کو قبول کر لیں گے جو بعد میں دیا گیا ہو۔

       اگر دو احادیث ایک دوسرے کے متضاد پائی جائیں، ان میں سے کسی ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار بھی نہ دیا جا سکے اور اس تضاد کو رفع کرنا ممکن نہ ہو تو پھر ایک حدیث کو چھوڑ کر دوسری زیادہ مستند حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ اس ترجیح کے لئے قرآن، دیگر احادیث اور عقل عامہ کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

Z          سب سے پہلے دونوں احادیث کو قرآن پر پیش کیا جائے گا اور جو حدیث بھی کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہو گی اسے ترجیح دیتے ہوئے اسے اختیار کر لیا جائے گا۔

Z          قابل ترجیح روایت وہی ہو گی جسے کے راوی زیادہ جانے پہچانے ہیں اور اپنے علم اور احادیث کو محفوظ کرنے کے معاملے میں زیادہ شہرت یافتہ ہیں۔

Z          وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو ایک کی بجائے دو یا زیادہ ذرائع سے ہم تک پہنچی ہو گی۔ اس کی وجہ ہے کہ احادیث کو محفوظ کرنے کا اہتمام زیادہ لوگ کم کی نسبت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

Z          وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو کتاب اللہ کے عمومی معانی سے بحیثیت مجموعی زیادہ قریب ہو گی یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دوسری سنتوں کے زیادہ قریب ہو گی۔

Z          وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو اہل علم میں زیادہ جانی پہچانی ہے۔

Z          وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو قیاس (اور عقل) کے زیادہ قریب ہو گی۔

Z          وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت عمل کرتی ہوگی۔

       بسا اوقات احادیث میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہوتا۔ یہ محض بات کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کے باعث محسوس ہوتا ہے۔ احادیث کا مطالعہ اگر دقت نظر سے کیا جائے تو یہ تضاد دور ہو جاتا ہے۔

       بعض اوقات ایک حدیث میں ایک حکم دیا گیا ہوتا ہے لیکن دوسری حدیث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ حکم "لازمی یا واجب" نہیں ہے بلکہ ایک افضل عمل ہے۔ اس کی مثال جمعے کے دن غسل کرنا ہے۔

       احادیث کو ان کے ظاہری اور عمومی مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔ اگر کوئی دلیل موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ اس حدیث میں مجازی مفہوم مراد ہے یا پھر یہ حکم کسی مخصوص صورتحال کے لئے ہے تب اس حدیث کو مجازی یا خاص مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔

       اہل علم پر یہ لازم ہے کہ اگر انہیں کوئی دو ایسی احادیث مل جائیں تو ان میں مطابقت پیدا کرنے (Reconciliation) کی کوشش کریں، اگر انہیں اس مطابقت کی کوئی بنیاد مل جائے، نہ کہ انہیں (فوراً ہی) متضاد قرار دے دیں جبکہ ان کی تطبیق کا امکان موجود ہو۔

       اگر ان احادیث کو ایک دوسرے کے مطابق کرنا ممکن ہو یا ایسا کرنے کی کوئی بنیاد موجود ہو اور ایک حدیث دوسری کی نسبت زیادہ مضبوط نہ ہو تو ان احادیث کو متضاد قرار دینا درست نہیں۔ متضاد روایات وہ ہوتی ہیں جنہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہی نہ ہو اور ان میں لازماً ایک کو ترک کر دینا پڑے۔

       ایک شخص کسی ایک شخص سے اس طرح حدیث کو روایت کرے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے کسی صحابی تک جا پہنچے تو یہ خبر واحد کہلاتی ہے۔ خبر واحد کو قبول کرنا ضروری ہے اگر اس میں یہ شرائط پائی جائیں۔

Z          حدیث کو بیان کرنے والا راوی اپنے دین کے معاملے میں قابل اعتماد شخص ہو۔

Z          حدیث کو منتقل کرنے میں اس کی شہرت ایک سچے انسان کی ہو۔

Z          جو حدیث وہ بیان کر رہا ہو، اسے سمجھنے کی عقل رکھتا ہو۔

Z          الفاظ کی ادائیگی کے نتیجے میں معانی کی جو تبدیلی ہو جاتی ہو، اس سے واقف ہو۔

Z          جن الفاظ میں وہ حدیث کو سنے، انہی میں آگے بیان کرنے کی استطاعت رکھتا ہو نہ کہ جو سنے اپنے الفاظ میں بیان کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حدیث کا صرف مفہوم بیان کیا جائے گا اور بیان کرنے والے شخص کو یہ علم نہیں ہو گا کہ (حدیث کا محض مفہوم بیان کرنے سے) معنی کس طرح تبدیل ہو جایا کرتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی حلال حکم کو حرام میں تبدیل کر دے۔ اگر حدیث کو لفظ بہ لفظ منتقل کیا جائے گا تو اس میں تبدیلی کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔

Z          اگر وہ حدیث کو اپنی یادداشت کے سہارے منتقل کر رہا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حدیث کو اچھی طرح یاد کرنے والا ہو یعنی اس کی یادداشت کمزور نہ ہو۔

Z          اگر وہ حدیث کو لکھ کر منتقل کر رہا ہو تو اس صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے جو کچھ لکھا ہو وہ خود اسے یاد رکھنے والا ہو۔

Z          اگر اس حدیث کو دوسرے حفاظ بھی محفوظ کر رہے ہوں تو اس شخص کی بیان کردہ حدیث ان افراد کی بیان کردہ حدیث کے موافق ہونا ضروری ہے۔

Z          راوی "تدلیس" کے الزام سے بری ہو۔ تدلیس یہ ہے کہ وہ یہ کہہ دے کہ میں نے حدیث کو فلاں سے سنا ہے جبکہ اس کی اس شخص سے ملاقات نہ ہوئی ہو اور اس نے اس سے حدیث کو اس سے سنا نہ ہو۔ تدلیس ایک دھوکا ہے۔ تدلیس کرنے والے کی روایت کو قبول نہ کیا جائے گا۔

Z          راوی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایسی بات منسوب کر دے جو کہ قابل اعتماد راویوں کی بیان کردہ حدیث کے خلاف ہو۔

Z          یہی تمام خصوصیات اس راوی سے اوپر والے راویوں میں بھی پائی جانا ضروری ہے جن سے یہ شخص روایت کر رہا ہے یہاں تک کہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے کسی صحابی تک پہنچ جائے جہاں روایت کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے۔ چونکہ راویوں کی اس زنجیر میں موجود ہر شخص اس حدیث کو پیش کر رہا ہے اس وجہ سے اوپر بیان کردہ صفات کا ان میں سے ہر شخص میں موجود ہونا ضروری ہے۔

Z          راوی تعصب کا شکار نہ ہو۔ اگر وہ کسی بات کے بارے میں متعصب ہے اور اس کے حق یا مخالفت میں حدیث پیش کر رہا ہے تو اس کی حدیث قبول کرنے میں احتیاط کی جائے گی۔

Z          راوی اگر کسی ایسے معاملے میں حدیث پیش کر رہا ہے جسے سمجھنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے تو اس کی حدیث کو قبول کرنے میں بھی احتیاط کی جائے گی۔

Z          راوی حدیث بیان کرنے میں کثرت سے غلطیاں کرنے والا نہ ہو۔

Z          اگر ایک راوی کی بیان کردہ حدیث (خبر واحد) ان شرائط پر پورا اترتی ہے تو اسے قبول کیا جائے گا اور یہ ہر اس شخص کے لئے حجت ہو گی جس تک یہ حدیث پہنچی ہے۔

       کوئی شخص کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہو، اس کی رائے کو حدیث کے خلاف قبول نہ کیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص حدیث کے خلاف عمل کر رہا ہو اور اس تک وہ حدیث پہنچ جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا عمل ترک کر کے حدیث پر عمل کرے۔

       اگر کوئی حدیث ایک سے زائد راویوں کے توسط سے پہنچی ہو تو اس کا ثبوت مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور حدیث کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت بھی ہو جایا کرتی ہے۔

       حدیث سے اخذ کردہ احکام کو ترک کرنا درست نہیں ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں جائز ہے اگر حدیث بیان کرنے والا کوئی راوی ناقابل اعتماد ہو، یا حدیث میں کوئی ایسی بات ہو جو دوسری صحیح احادیث کے خلاف ہو یا پھر حدیث کی ایک سے زیادہ توجیہات ممکن ہوں۔

       منقطع حدیث ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کا سلسلہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملا ہوا نہ ہو بلکہ اس میں سے ایک یا کئی راویوں کے نام نامعلوم ہوں۔ منقطع حدیث کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ اسے ان صورتوں میں قبول کیا جا سکتا ہے:

Z          حدیث کے دیگر ذرائع پر غور کیا جائے گا۔ اگر اسی معنی کی ایک اور حدیث دوسرے سلسلہ سند میں حدیث کو محفوظ رکھنے والے راویوں نے روایت کی ہے اور اس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک پہنچ رہی ہے تو اس سے اس منقطع حدیث کے بارے میں بھی معلوم ہو جائے گا کہ یہ حدیث بھی قابل قبول اور صحیح ہے۔

Z          یہ دیکھا جائے گا کہ اس منقطع حدیث کو کسی دوسرے ایسے شخص نے بھی روایت کیا ہے جس کی احادیث عام طور پر اہل علم کے نزدیک قابل قبول ہوتی ہیں۔ اگر ایسی بات ہو تو اس حدیث کو قبول کر لیا جائے گا اگرچہ یہ پہلے نکتے میں بیان کئے گئے طریقے سے ثابت شدہ حدیث کی نسبت کمزور درجے کی ہو گی۔

Z          اگر ایسا بھی نہ ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کسی صحابی کا قول اس حدیث میں کی گئی بات کے مطابق ہے۔ اگر وہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب اس حدیث کے مطابق ہے تو اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ یہ ایک منقطع روایت ہے لیکن اپنی اصل میں درست ہے۔

Z          اگر اہل علم کی اکثریت عام طور پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسے منسوب اس منقطع روایت سے ملتے جلتے مفہوم کے مطابق فتوی دیتے ہیں تو اس کا بھی یہی معاملہ ہے۔

Z          ان صورتوں میں اس منقطع حدیث پر اعتبار کیا جائے گا اگر اس کے روایت کرنے والے حضرات گمنام نہ ہوں اور نہ ہی ان سے روایت کرنے پر کوئی اعتراض کیا گیا ہو۔ اس صورت میں ان کی روایت کے درست ہونے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس کے خلاف مسلمانوں کا اجماع ہو گیا ہو۔ ایک حدیث کے بارے میں اہل علم میں یہ اختلاف ہو سکتا ہے کہ وہ مستند حدیث ہے یا نہیں۔

اجماع، قیاس، اجتہاد اور اختلاف رائے سے متعلق اصول

       مسلمانوں کے ہاں اگر قرآن و سنت کے کسی حکم سے متعلق اتفاق رائے پایا جائے گا کہ یہ حکم اللہ تعالی نے ہمیں دیا ہے تو اس اجماع کو قبول کیا جائے گا اور یہ پوری طرح حجت ہے۔

       ہر عالم دین حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اجتہاد اور قیاس کرنے کا مکلف ہے۔ جو معلومات اس سے پوشیدہ، وہ ان کی بنیاد پر اجتہاد اور قیاس کرنے کا مکلف نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی استطاعت سے باہر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک عالم کو اپنے علم میں اضافے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

       اجتہاد دینی احکام معلوم کرنے کے عمل کا نام ہے۔ اگر کسی بارے میں قرآن و سنت میں کوئی واضح حکم نہ پایا جائے تو پھر اجتہاد کیا جائے گا اور درست بات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

       اجتہاد میں اختلاف رائے ہونا ممکن ہے۔ ہر مجتہد جب دستیاب معلومات کی بنیاد پر اجتہاد کرے گا تو اس کے نتائج دوسرے عالم کے نتائج سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر عالم اپنے اجتہاد پر عمل کرنے کا مکلف ہو گا اور ان پر دوسرے کی رائے کے مطابق عمل کرنا ضروری نہ ہو گا۔

       اجتہاد و قیاس صرف ایسے عالم کو کرنا چاہیے جو (کتاب و سنت کے) احکام سے اچھی طرح واقف ہو اور ان احکام سے مشابہت تلاش کرنے میں عقل سے کام لینا جانتا ہو۔

       اس شخص کے سوا کسی اور کو قیاس نہیں کرنا چاہیے جو قیاس کی بنیادوں سے پوری طرح واقف ہے۔ قیاس کی بنیاد کتاب اللہ کے احکام، اس کے فرائض، اس میں سکھائے گئے آداب، اس کے ناسخ و منسوخ احکام، اس کے عمومی اور خصوصی احکام، اور اس کی دی ہوئی ہدایات ہیں۔

       اجتہاد کرتے ہوئے کتاب اللہ کے کسی حکم کی اگر تاویل و توجیہ کی ضرورت ہو تو ایسا سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اگر سنت نہ ملے تو مسلمانوں کے اجماع کی روشنی میں ورنہ قیاس کے ذریعے۔

       کوئی شخص قیاس کرنے کا اہل اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ وہ سنت، اسلاف کے نقطہ ہائے نظر، لوگوں کے اجماع، ان کے اختلاف، اور عربی زبان سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ قیاس کرنے والے کو صحیح العقل ہونا چاہیے اور ایسا اس وقت ہو گا جب وہ بظاہر مشابہ امور میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ ثبوت کے بغیر جلد بازی میں رائے قائم کرنے والا نہ ہو۔ وہ اپنے سے مختلف آراء کو بغیر کسی تعصب کے سننے والا ہو۔

       انسان کا جھکاؤ ایک رائے کی طرف زیادہ نہیں ہونا چاہیے یہاں تک کہ اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ وہ جو رائے اختیار کرنے جا رہا ہے وہ کس وجہ سے دوسری رائے جسے وہ ترک کر رہا ہے سے زیادہ مضبوط ہے۔

       اگر وہ کسی بات کو سمجھے بغیر محض یادداشت کے سہارے محفوظ کئے ہوئے ہے تو اسے بھی قیاس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ معانی سے واقف نہیں ہے۔

       اگر ایسا شخص جس کی یادداشت اچھی ہے لیکن اس کی عقل میں کمی ہے یا وہ عربی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں تو اس کے لئے قیاس کا استعمال بھی درست نہیں کیونکہ وہ ان آلات (Tools) یعنی عقل اور عربی زبان کو صحیح طرح استعمال نہیں کر سکتا جن کی قیاس میں ضرورت پڑتی ہے۔

       اگر اللہ تعالی نے کسی چھوٹی چیز سے منع فرمایا تو اس پر قیاس کرتے ہوئے اس سے بڑی چیز کو بھی حرام قرار دیا جائے گا۔ مثلاً بدگمانی پر قیاس کرتے ہوئے تہمت لگانے، عیب جوئی کرنے اور کسی عزت اچھالنے کو حرام قرار دیا جائے گا۔ یہ قیاس کی مضبوط ترین شکل ہے۔

       اگر کوئی حکم استثنائی صورتحال کے لئے دیا گیا ہو تو اسے صرف اسی صورت تک محدود رکھا جائے گا اور اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔

       جو احکام کتاب و سنت میں واضح طور پر بیان فرما دیے گئے ہیں ان سے اختلاف کرنا کسی بھی شخص کے لئے جائز نہیں ہے۔ دوسری قسم کے معاملات وہ ہیں جس میں کسی آیت یا حدیث کی مختلف توجیہات ممکن ہوں، اس میں قیاس کیا جا سکتا ہو اور ایک توجیہ یا قیاس کرنے والا عالم ایک معنی کو اختیار کر لے اور دوسرا دوسرے معنی کو، تو ایسا اختلاف جائز ہے۔

       اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں کسی مسئلے پر مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہوں تو اس نقطہ نظر کو اختیار کیا جائے گا جو کتاب اللہ، یا سنت، یا اجماع کے زیادہ قریب ہے یا قیاس کی بنیاد پر جو زیادہ صحیح ہے۔

کتاب الرسالہ کے بعد

کتاب الرسالہ کے بعد اصول فقہ کے فن کو مدون کرنے کا دروازہ کھل گیا۔ امام احمد بن حنبل (وفات 233ھ) نے "ناسخ و المنسوخ" اور "السنۃ" کے نام سے دو کتب لکھیں۔ داؤد ظاہری (وفات 270ھ) نے اس موضوع پر متعدد کتب تصنیف کیں۔ حنفی عالم عیسی بن ابان (وفات 220ھ) نے "خبر الواحد، اثبات القیاس" نے نام سے کتاب لکھی۔ اس کے بعد اصول فقہ پر تصانیف کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ قدیم دور میں لکھی گئی کتب کی شروحات لکھی گئیں۔ مختلف نقطہ نظر رکھنے والے اہل علم نے ان پر تنقید لکھی۔ اصول فقہ پر کتب لکھنے کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ مختلف مسالک کے اہل علم میں اصولوں کی حد تک ایک عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے البتہ بعض تفصیلات میں ان کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔

 

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter