بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 1: تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان ہے اور اس کی شفقت ابدی ہے۔

ربیع بن سلیمان کہتے ہیں:

امام محمد بن ادریس (شافعی) بن عباس بن عثمان بن شافع بن عبید بن عبد یزید بن ھاشم بن مطلب بن عبد مناف المطلبی جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے نے بیان فرمایا:

نوٹ: قدیم دور میں مسلمانوں کے ہاں یہ رواج رہا ہے کہ وہ کسی کی کتاب کو پیش کرتے ہوئے ان تمام ذرائع کا ذکر کرتے جن سے گزر کر وہ کتاب ان تک پہنچی ہے۔ ربیع بن سلیمان، امام شافعی علیہما الرحمۃ کے اہم ترین شاگردوں میں سے ہیں۔ اس دور میں کتاب کو لوگوں تک پہنچانے کے کئی طریق ہائے کار رائج تھے:

        ایک عالم کتاب لکھتا اور اپنے شاگردوں کو باقاعدہ اس کی تعلیم دیتا۔

        عالم کتاب کی املاء اپنے شاگردوں کو کرواتا۔ ان کے نسخوں سے مزید نسخے تیار کیے جاتے اور پھیلا دیے جاتے۔

        شاگرد اپنے استاذ کی مجلس میں بیٹھ کر، پوری کاروائی اور مکالمے نوٹ کرتا۔ اس کے بعد وہ یہ پورا مواد استاذ کو تصحیح کے لئے پیش کرتا اور انہیں استاذ کی اجازت کے ساتھ دوسرے لوگوں تک پہنچا دیتا۔

کتاب الرسالہ کے اس نسخے کے بارے میں معلوم ہے کہ اس کی تصنیف کے لئے تیسرا طریقہ اختیار کیا گیا۔ ربیع بن سلیمان نے امام شافعی کی تحریروں اور ان کی محافل میں ہونے والی گفتگو کو تحریری صورت میں ریکارڈ کیا۔

††††††††† تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا۔ اس نے اندھیرے اور روشنی کو بنایا۔ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ہم اس خدا کی تعریف کرتے ہیں جس کا شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ جب ہم اس کی پہلی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں تو وہ اس کے نتیجے میں اپنی مزید نعمتیں ہمیں عطا کر دیتا ہے جس کے باعث ہم پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اس کا مزید شکر ادا کرتے چلے جائیں۔

††††††††† اللہ تعالی کی عظمت کو کوئی شخص بھی اس کے شایان شان بیان نہیں کر سکتا۔ وہی ہے جس نے اپنی تعریف خود کی ہے اور وہ مخلوق کی کی گئی تعریفوں سے بلند و بالا ہے۔اس کی رحمت اور عظمت کو بیان کرنے کے لئے مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کی حمد و ثنا کروں چنانچہ میں ایسا کر رہا ہوں۔

††††††††† میں اس کی مدد چاہتا ہوں جس کی مدد سے بڑھ کر کسی اور کی قوت اور اختیار نہیں ہو سکتا۔ میں اس سے ہدایت کا طلبگار ہوں۔ وہ ہدایت جس سے کوئی منہ موڑ لے تو پھر اسے گمراہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ میں اس سے مغفرت کا طلبگار ہوں ان گناہوں کے بارے میں جو میں پہلے ہی کر چکا یا جو آئندہ مجھ سے سرزد ہو سکنے کا امکان ہے۔ یہ اس شخص کی دعا ہے جو یہ جانتا ہے کہ خدا کے آگے جھکتے ہوئے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لینا چاہیے کیونکہ اس کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا اور اسے سزا سے نہیں بچا سکتا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اس اکیلے خدا کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

††††††††† اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اس وقت نسل انسانیت کی طرف مبعوث فرمایا جب انسان دو گروہوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ ان میں سے ایک تو اہل کتاب تھے، جنہوں نے شریعت میں کچھ تبدیلیاں کیں اور اللہ تعالی کے بارے میں کفریہ عقائد اختیار کئے۔ انہوں نے غلط چیزیں خود اپنی طرف سے ایجاد کیں اور انہیں اس سچائی کے ساتھ خلط ملط کر دیا جو اللہ تعالی نے ان پر نازل فرمائی تھی۔ اسی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو ان کے کچھ غلط عقائد کے بارے میں ارشاد فرمایا:

وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنْ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنْ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ۔

ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو (اللہ کی) کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو کہ وہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب کی عبارت ہے جبکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں، "یہ تو خدا کی طرف سے ہے" جبکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا۔ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ (اٰل عمران 3:78)

اللہ تعالی مزید ارشاد فرماتا ہے:

فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ۔

ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور کہتے ہیں، "یہ تو خدا کی طرف سے ہے" تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت وصول کر سکیں۔ ان کے ہاتھوں کا یہ لکھا ہوا بھی ان کے لئے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لئے باعث ہلاکت ہے۔ (البقرہ 2:79)

وَقَالَتْ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتْ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ۔ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا إِلَهاً وَاحِداً لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ۔

یہودی کہتے ہیں، "عزیر اللہ کا بیٹا ہے" اور نصرانی کہتے ہیں کہ "مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔" یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنے منہ سے نکالتے ہیں ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے۔ خدا کی مار ان پر یہ کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے علماء اور پیروں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا اور اسی طرح مسیح بن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہ خدا جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور وہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔ (التوبہ 9:30-31)

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنْ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاءِ أَهْدَى مِنْ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلاً۔ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ اللَّهُ وَمَنْ يَلْعَنْ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيراً۔

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا تھا اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ توہم پرستی اور شیطانی افعال کو مانتے ہیں اور (رسول کا) انکار کرنے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اہل ایمان کی نسبت تو یہی زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے تم اس کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے۔ (النساء 4:51-52)

††††††††† دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے اللہ تعالی کے بارے میں غلط عقیدہ اختیار کیا اور ایسی چیزیں تخلیق کر ڈالیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اور لکڑی کے بت اور خوش کن تصاویر بنائیں، اپنی طرف سے ان کے نام گھڑے، انہیں دیوتا قرار دیا اور ان کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے ہی وہ کسی اور چیز سے متاثر ہوئے تو انہوں نے پہلے دیوتا کو پرے ہٹا کر اپنے ہاتھوں سے دوسری چیز کا بت بنا ڈالا اور اس کی عبادت شروع کر بیٹھے۔ یہ لوگ عرب کے مشرکین تھے۔ اہل عجم نے بھی اسی طریقے سے اہل شرک کی پیروی کی۔ مچھلیاں ہوں یا درندے، ستارے ہوں یا آگ، وہ جس چیز سے بھی متاثر ہوئے اسے پوجنا شروع کر دیا۔

انہی اہل شرک کے نظریات کا اللہ تعالی نے اپنے رسول سے ذکر فرمایا ہے اور ان کے اقوال کو اس طرح سے نقل کیا ہے۔

بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ۔

بلکہ یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا تو ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ (الزخرف 43:22)

وَقَالُوا لا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلا تَذَرُنَّ وَدّاً وَلا سُوَاعاً وَلا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْراً۔ وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيراً ۔

انہوں نے کہا، ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو۔ یعنی ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہ چھوڑو۔ انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ (نوح 71:23-24)

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَبِيّاً۔ إِذْ قَالَ لأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئاً۔

اس کتاب میں ابراہیم کا تذکرہ کرو۔ بے شک وہ ایک راستباز انسان اور نبی تھے۔ جب انہوں نے اپنے والد سے کہا، "ابا جان! آپ ان چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں اور نہ ہی آپ کو کسی چیز سے مستغنی کر سکتی ہیں؟" (مریم 19:41-42)

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ۔ إِذْ قَالَ لأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ۔ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ۔ قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ۔ أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ۔

انہیں ابراہیم کا واقعہ سناؤ جب انہوں نے اپنے والد اور اپنی قوم سے پوچھا تھا، "یہ کیا چیزیں ہیں جنہیں تم پوجتے ہو۔" انہوں نے جواب دیا، "کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں لگے رہتے ہیں۔" ابراہیم نے پوچھا، "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟ یا یہ تمہیں کچھ نفع و نقصان پہنچاتے ہیں۔" (الشعراء 26:69-73)

اس گروہ کو اپنے احسانات یاد دلاتے ہوئے، اور انہیں ان کی عام گمراہیوں سے خبردار کرتے ہوئے اور اہل ایمان پر اپنی خاص نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:

وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔

اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ایک گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے، اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے واضح کرتا ہے تا کہ تمہیں (ان علامتوں سے) اپنے لئے ہدایتنظر آ جائے۔ (اٰل عمران 3:103)

محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے سے ان لوگوں کے نجات یافتہ ہونے سے قبل یہ لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر غلط عقائد کا شکار تھے۔ ان کی سب سے بڑی غلط فہمیوں میں یہ چیز شامل تھی کہ یہ لوگ خدا کے بارے میں کفر کرتے تھے اور وہ افعال ایجاد کرتے تھے جن کی اس نے اجازت نہیں دی ہے۔ اللہ تعالی اپنے بارے میں ان کی کہی ہوئی باتوں سے بہت بلند و برتر ہے۔ اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ وہ پاک ہے، تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز کا خالق اور پروردگار ہے۔

††††††††† ان لوگوں میں سے جو بھی زندہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ دنیا میں موجود ہے، کام کاج کر رہا ہے، بول رہا ہے لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ وہ خدا کی ناراضی اور اس کی بڑھتی ہوئی نافرمانی میں ہی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ان میں سے جو بھی مر چکا، جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے الفاظ اور اپنے عمل سے بتا دیا کہ وہ سزا پا رہا ہے۔ (اشارہ ہے اللہ کے عذاب کی طرف جو اس نے اپنے رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام پر اسی دنیا میں نازل فرما دیا۔)

††††††††† جب اللہ تعالی کا قانون پورا ہونے کی مدت مکمل ہوئی تو خدائی فیصلہ اس کے دین کے غلبے کی بنیاد پر ایک زندہ حقیقت بن گیا۔( اس کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں یہ فیصلہ اللہ کے دین کے غلبے کی صورت میں نافذ ہو چکا ہے۔) اس نے برائی کے غلبے کے بعد جسے وہ ناپسند کرتا ہے، (نیک لوگوں کا انتخاب کر کے انہیں زمین پر غلبہ عطا فرمایا۔) اس خدائے بزرگ و برتر نے اپنی آسمانوں کے دروازے کھول کر رحمت برسا دی۔ یہ بالکل ہی ایسا معاملہ تھا جیسا کہ پچھلے زمانوں میں اس کا پہلے سے طے شدہ آسمانی فیصلہ نافذ ہوا۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ۔

لوگ تو ایک ہی امت تھے۔ (پھر جب انہوں نے گمراہی اختیار کی تو) اللہ نے اپنے نبیوں کو بھیجا جو انہیں بشارت دینے اور خبردار کرنے والے تھے۔ (البقرۃ 2:213)†††††††††††

اپنی وحی نازل کرنے اور اپنا پیغام (دنیا تک) پہنچانے کے لئے اللہ تعالی نے جس ہستی کا انتخاب کیا، جسے تمام مخلوقات پر فضیلت دی گئی، جس پر رحمت کے دروازے کھولے گئے، جس پر نبوت ختم کر دی گئی، پہلے بھیجے گئے تمام انبیاء کے برعکس جس کی نبوت کو پوری دنیا کے لئے عام کر دیا گیا، جس کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ اس دنیا میں بلند کیا گیا، جو آخرت میں شفاعت کرنے والوں کے بھی شفیع ہیں، جو اس کی مخلوق میں انفرادی و اجتماعی طور پر سب سے افضل ہیں، جن سے وہ دین و دنیا میں راضی ہوا، جن کا نسب اور شہر سب سے بہتر ہے وہ اس کے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہیں۔

††††††††† ہم جانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیں اور پوری نسل انسانیت کو خاص و عام نعمتوں کے ذریعے دین و دنیا کے فوائد سے بہرہ مند فرمایا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔

دیکھو، تمہارے پاس ایک ایسا رسول آئے ہیں جو خود تمہی میں سے ہیں۔ تمہارا نقصان میں پڑنا ان پر شاق ہے۔ تمہاری فلاح کے وہ حریص ہیں اور ایمان لانے والون کے لئے وہ شفقت فرمانے والے اور نہایت مہربان ہیں۔(التوبۃ 9:128)††††††

اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو حکم دیا کہ "لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا" کہ "آپ شہروں کی ماں اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کو خبردار کریں۔" شہروں کی ماں سے مراد مکۃ المکرمۃ ہے جو آپ اور آپ کی قوم کا علاقہ تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا کہ " وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ" یعنی "آپ اپنے قریب ترین رشتے داروں کو خبردار کریں۔" مزید فرمایا، " وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ" یعنی " آپ اور آپ کی قوم کے لئے یہ تو ایک یاد دہانی ہے اور لازما تم لوگوں سے مواخذہ کیا جائے گا۔"

سفیان بن عینیہ نے ابن ابی نجیح سے روایت کی کہ مجاہد سے پوچھا گیا، "محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کس قوم سے تعلق رکھتے تھے؟" جواب ملا، "عرب قوم سے"۔ پھر پوچھا گیا، "عربوں کے کس قبیلے سے"۔ انہوں نے جواب دیا، "قریش سے۔"

††††††††† اس آیت کے بارے میں مجاہد کی یہ بات اتنی واضح ہے کہ اس کی مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قوم اور آپ کے قریبی رشتے داروں کو (خدا کے عذاب سے) خبردار کرنے کو کہا اور اس حکم میں بعد میں آنے والی تمام نسل انسانیت کو شامل کر لیا۔ اس نے قرآن کے ذریعے سے اپنے رسول کا تذکرہ پوری دنیا میں بلند کر دیا۔ مزید برآں، اللہ تعالی نے اپنے اس پیغام میں خبردار کرنے کے لئے آپ کی قوم کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ قرآن کے بعض جلیل القدر علماء نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے بنو عبد مناف! اللہ تعالی نے مجھے اپنے قریبی رشتے داروں کو (اس کے مواخذے سے) خبردار کرنے کا حکم دیا ہے اور تم میرے قریب ترین رشتے دار ہو۔"

††††††††††† سفیان بن عینیہ، ابن نجیح اور مجاہد کے حوالے سے مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے۔ مجاہد قرآن مجید کی آیت " وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (یعنی ہم نے آپ کا تذکرہ بلند کر دیا)" کی تشریح بیان کر رہے تھے۔کہنے لگے، "اللہ تعالی یہ فرما رہا ہے کہ جہاں بھی میرا ذکر ہو گا، (اے محمد!) تمہارا بھی ذکر ہو گا۔" (مثال کے طور پر کلمہ شہادت میں ہم یہ کہتے ہیں کہ) "میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور محمد اس کے رسول ہیں۔"

††††††††† اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا اقرار کرنے اور نماز کے لئے اذان دینے میں اللہ تعالی کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا نام لینا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت، اچھے کام کرتے ہوئے اور برے کاموں سے بچتے ہوئے بھی آپ کا نام خدا کے نام کے ساتھ لینا چاہیے۔

††††††††† اللہ تعالی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ آپ کا تذکرہ وہی کرتے ہیں جو آپ کو یاد رکھتے ہیں اور آپ کے ذکر سے وہی دور بھاگتے ہیں جو غفلت اختیار کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر تمام اولین و آخرین میں سب سے بڑھ کر رحمت نازل فرمائے اور آپ کو ان تمام نعمتوں سے عالیشان نعمتیں عطا فرمائے جو اس نے اپنی کسی بھی مخلوق پر نازل کیں۔ اس درود کے توسط سے اللہ ہم سب کو نیکی اور تقوی اس سے بڑھ کر نصیب کرے جو اس نے اپنی امت میں سے کسی کو بھی عطا کیا ہو۔ سلام ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی نے جو جزا کسی بھی سابق پیغمبر کو عطا کئے وہ اس سے بڑھ کر وہ آپ کو عطا فرمائے۔

††††††††† حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہی کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں ہلاکت سے نکالا اور ہمیں اس امت کا حصہ بنایا جو اس کے پسندیدہ دین کی پیروی کرنے کے باعث انسانوں میں سب سے بہترین ہے۔ اسی دین کے باعث اس نے فرشتوں اور دیگر مخلوقات میں سے اس نے ہمارا انتخاب کیا۔ اللہ تعالی نے اپنی تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں جن سے ہمیں فائدہ پہنچا یا ہم کسی نقصان سے محفوظ رہے، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہی کی وجہ سے ہم پر نازل فرمائیں۔

††††††††† آپ ہر فائدے کے لئے ہمارے راہنما ہیں اور ہر اس ہلاکت اور برائی سے ہمیں بچانے والے ہیں جو ہدایت کے راستے سے دور لے جاتی ہو۔ آپ ہلاکت کے راستے سے ہمیں خبردار کرنے والے ہیں۔ ہدایت اور اس کے بارے میں متنبہ کرنے میں آپ ہماری خیر خواہی پر قائمہیں۔ اے اللہ! تیری رحمتیں آپ اور آپ کے خاندان پر اسی طرح نازل ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے اہل و عیال پر نازل ہوئیں۔ بے شک تو ہی تعریف کے قابل اور عظمت والا ہے۔

††††††††† اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائیجس میں اس نے ارشاد فرمایا:

وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ، لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے، باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے، یہ ایک نہایت ہی حکمت و دانش رکھنے والے اور قابل تعریف (خدا) کی نازل کردہ ہے۔ (حم سجدہ 41:41-42)

اسی کتاب کے ذریعے اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پیروکاروں کو گمراہی اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر انہیں روشنی اور ہدایت کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اس نے اس کتاب میں واضح طور پر بتا دیا ہے کہ کیا کام کرنے کی اجازت ہے اور کن کن چیزوں سے اس نے منع فرمایا ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ انسانوں کے دنیا اور آخرت میں فائدے کے لئے کیا چیز بہتر ہے اور کیا چیز نقصان دہ؟

††††††††† اس نے ان کی اطاعت کا امتحان اس طرح سے لیا کہ کہ ان پر کچھ عقائد و اعمال کا بجا لانا لازم کر دیا اور کچھ کاموں سے اس نے انہیں روک دیا۔ اس اطاعت کا بدلہ وہ انہیں جنت کی ابدی زندگی کی صورت میں دے گا اور انہیں سزا سے بچائے گا اور اپنی لامحدود نعمتیں ان پر تمام کر دے گا۔ اس نے انہیں یہ بتا دیا ہے کہ نافرمانی کی صورت میں انعام یافتہ لوگوں کے برعکس وہ سزا بھی دے گا۔

††††††††† اللہ تعالی نے لوگوں کو سابقہ اقوام کے تجربات سے توجہ دلائی ہے۔ ان لوگوں کے پاس مال و دولت اور اولاد کی فراوانی تھی۔ یہ لوگ طویل عرصہ زندہ رہتے اور اپنے پیچھے یاد رہ جانے والے کارنامے چھوڑ جاتے۔ یہ لوگ اس دنیا کی زندگی سے خوب لطف اندوز ہوئے لیکن جب اللہ تعالی کا فیصلہ آیا تو موت نے اچانک انہیں آ لیا اور وہ اسی زندگی کے اختتام پر اللہ تعالی کے عذاب کا شکار ہو گئے۔

††††††††† اس طریقے سے اللہ تعالی نے ان لوگوں کو بعد والوں کے لئے واضح طور پر باعث عبرت بنا دیا گیا تاکہ وہ اس روشن نشانی کو سمجھتے ہوئے اس وقت کے آنے سے پہلے ہی غفلت سے جاگ اٹھیں، وہ وقت آنے سے پہلے نیک عمل کر لیں نہ تو توبہ قبول کی جائے گی اور نہ ہی فدیہ لے کر کسی کو چھوڑا جائے گا۔

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَداً بَعِيداً۔

جس دن ہر شخص اپنے کئے ہوئے عمل کا پھل حاضر پائے گا خواہ اس نے بھلائی کی ہو یا برائی۔ اس دن ہر انسان ہی تمنا کرے گا کہ کاش! ابھی یہ دن بہت دور ہوتا۔۔۔ (ال عمران 3:30)

جو کچھ بھی اللہ تبارک و تعالی نے اس کتاب میں نازل فرمایا ہے وہ اس کے وجود اور اس کی رحمت کا ثبوت ہے۔ جو بھی اس بات کو جانتا ہے، وہ واقعتاً علم رکھتا ہے اور جو اس بات سے ناواقف ہے، وہ واقعتاً جاہل ہی ہے۔ چونکہ علم کے معاملے میں لوگ مختلف طبقات پر مشتمل ہیں اس لئے اس حوالے سے ان کے درجات میں بھی فرق ہے۔

††††††††† جو بھی علم کی طلب اپنے اندر رکھتا ہے، اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے علم میں اضافے کے لئے اپنی ہر ممکن توانائی صرف کرے۔ اس راہ میں آنے والی ہر مشکل پر صبر سے کام لے اور اللہ تعالی کے دین کا علم حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے جدوجہد کرے خواہ دین کا یہ علم اللہ کی کتاب سے حاصل ہو یا اس سے استدلال و استنباط کے ذریعے حاصل ہو۔ طالب علم اللہ تعالی کی مدد طلب کرتا رہے کیونکہ اس کی مدد کے بغیر کوئی خیر حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

††††††††† اللہ تعالی کی کتاب سے جو صاحب علم بھی اس کے احکامات اخذ کرتا ہے، خواہ یہ احکامات اس کے متن سے براہ راست حاصل ہوں یا استدلال و استنباط کے ذریعے اخذ کیے جائیں، اللہ کی مدد اس کے قول و فعل میں اس کے شامل حال ہوتی ہے دنیاوی اور اخروی زندگی میں نیکی کی روش حاصل ہوتی ہے، شکوک و شبہات دور ہوتے ہیں، عقل و دانش اس کے دل میں گھر کرتی ہے، اور وہ شخص دینی معاملات میں امامت کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔

نوٹ: اللہ تعالی کی کتاب سے بعض احکام تو اس طرح مل جاتے ہیں کہ آیت کا متن صاف صاف کسی حکم کو بیان کر رہا ہوتا ہے۔ بعض اوقات کسی آیت میں بیان کی ہوئی بات سے دوسری بات نکلتی ہے جس پر دلائل قائم کرتے ہوئے حکم کو اخذ کیا جاتا ہے۔ اسے استدلال کہتے ہیں۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ قرآن میں یہ حکم بیان کیا گیا ہے کہ مرد و خواتین کو اپنی نگاہوں اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنا چاہیے۔ یہ حکم نص سے ثابت ہے۔

††††††††† اسی حکم سے دلیل پکڑ کر یہ اخذ کیا جائے گا کہ لباس اور نشست و برخاست کے کون کون سے طریقے ہیں جو شرم و حیا کے خلاف ہیں اور کون سے ایسے ہیں جو شرم و حیا کے مطابق ہیں۔ اسے استدلال کہتے ہیں۔

††††††††† اللہ تعالی جو ہم پر پہلے ہی اپنی رحمتیں نازل فرما رہا ہے، اگرچہ ہم اس کے مستحق نہیں ہیں لیکن پھر بھی ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری کمزوریوں کے باوجود ان نعمتوں کو ہمیشہ جاری رکھے۔ وہی اللہ جس نے ہمیں نسل انسانیت میں خیر امت کا منصب عطا کیا ہے، ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی اور اپنے نبی کی سنت کا فہم عطا کرے اور ہمارے قول و عمل کو ایسا بنا دے کہ ہم اس کا حق ادا کر سکیں اور ہمیں اس میں مزید کوشش کی توفیق عطا کرے۔

††††††††† اللہ تعالی کے دین کے ماننے والوں پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آتی جس کے بارے میں اسے اللہ کی کتاب سے راہنمائی نہ مل رہی ہو۔ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ۔

یہ ایک کتاب ہے جسے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ، ان کے رب کی توفیق سے، اسی خدا کے راستے پر جو بڑا زبردست اور قابل تعریف ہے۔ (ابراہیم 14:1)

وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ۔

اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے تاکہ وہ لوگ اس میں غور و فکر کریں۔ (النحل 16:44)

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَاناً لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ۔

ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے جو صاف صاف ہر چیز کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ ہدایت، رحمت اور بشارت ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے (خدا کے سامنے) سر تسلیم خم کر رکھا ہے۔ (النحل 16:89)

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلا الإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُوراً نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ۔

اور اسی طرح ہم نے اپنی طرف سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ اس سے پہلے تمہیں یہ علم نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ مگر ہم نے اس روح کو ایک روشنی بنا دیا ہے جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ بے شک تم سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کر رہے ہو۔ (الشوری 42:52)

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter