بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 2: البیان

"البیان" ایک وسیع اصطلاح ہے جس کے بہت سے معانی ہیں۔ یہ معانی اگر چہ بنیادی طور پر ایک ہی مادے سے نکلے ہیں لیکن ایک دوسرے سے کچھ مختلف ہیں۔ ان تمام معانی کا ایک مشترک پہلو ہے اور وہ ہے "واضح حکم"۔ یہ حکم ان لوگوں کے لئے بالکل متعین اور واضح تھا جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا۔ اگرچہ ان کی اہمیت یکساں ہے لیکن ان میں سے بعض احکام پر زیادہ زور دے کر انہیں مزید واضح کیا گیا ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ جو لوگ عربوں کی زبان سے ناواقف ہیں، ان کے لئے ان احکام کی وضاحت میں کچھ فرق پیدا ہو جائے۔

††††††††† اپنے سابقہ احکام کی طرح اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں جو احکامات اپنی مخلوقات پر مجموعی طور پر واضح کئے ہیں اور جن کے ذریعے انہیں اپنی عبادت و اطاعت کی دعوت دی ہے، کچھ اقسام پر مشتمل ہیں:

پہلی قسم احکامات کا وہ مجموعہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق پر لازم کیا ہے۔ مثلاً نماز، زکوۃ، حج اور روزہ۔ اس نے کھلے اور چھپے برے کاموں سے منع کیا ہے مثلاً بدکاری، شراب، مردار، خون اور خنزیر کا گوشت کھانا۔ اللہ تعالی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وضو کیسے کیا جائے۔ اسی طرح اور بہت سے معاملات ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنی کتاب کے متن میں واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔

دوسری قسم ان احکامات پر مشتمل ہے جنہیں اس نے اپنی کتاب میں فرض تو قرار دیا ہے لیکن ان پر عمل کرنے کے طریقے کی وضاحت اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے کی ہے۔ مثال کے طور پر نمازوں کی تعداد، زکوۃ کی شرح،ان کے اوقات وغیرہ۔ اسی طرح کے مزید احکامات بھی ہیں جو اس نے اپنی کتاب میں نازل فرمائے ہیں۔

تیسری قسم کے احکام وہ ہیں جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے ارشادات یا عمل کے ذریعے متعین کر دیا ہے لیکن ان کے بارے میں قرآن مجید میں کوئی نص (یعنی واضح بیان) نہیں ہے۔ اس کے لئے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت کرنے کا (اجمالی) حکم دے دیا ہے (اور تفصیلات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر چھوڑتے ہوئے) انہیں آپ کے حکم کی طرف رجوع کرنے کا کہا ہے۔ اس طرح سے دین کا جو پیروکار ان احکام کو دین کی حیثیت سے قبول کرتا ہے، وہ انہیں (اتباع رسول کے قرآنی) حکم کے تحت ہی قبول کرتا ہے۔

چوتھی قسم ان احکام کی ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اجتہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور بالکل اس طریقے سے ان کی اطاعت کا امتحان لیا ہے جیسا کہ اس نے (قرآن و سنت کے) دیگر احکامات کے معاملے میں امتحان لیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ ۔

ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے مجاہد اور ثابت قدم کون لوگ ہیں۔ (محمد 47:31)

وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۔

(یہ تو اس لئے تھا) تاکہ اللہ تمہارے سینوں میں جو کچھ ہے، اسے آزما لے اور تمہارے دلوں میں جو کھوٹ ہے اسے چھانٹ دے۔ (ال عمران 3:154)

قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ۔

قریب ہے وہ وقت جب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں حکومت عطا کرے، پھر دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟ (الاعراف 7:129)

مسجد الحرام کی طرف رخ کرنے کے لئے اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا:

قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۔

یہ تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف بار بار اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو ہم تمہیں اسی قبلے کی طرف پھیر دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ اپنے چہرے کو مسجد الحرام کی طرف پھیر لو اور جہاں کہیں بھی تم ہو، اسی کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرو۔ (البقرہ 2:144)

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔

تم جہاں سے بھی نکلو، اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر دو۔ (البقرہ2:149 )

اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو راہنمائی دی ہے کہ اگر مسجد الحرام ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو تو وہ اپنی عقل استعمال کر کے قبلے کا تعین کریں جو ان پر فرض کیا گیا ہے۔ اسی عقل کے سہارے انسان زندگی گزارتا ہے اور اسی کے ذریعے متضاد چیزوں میں فرق کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے زمین پر ایسی نشانیاں مقرر کر دی ہیں (جن کی مدد سے قبلے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔) یہ معاملہ اس سے مختلف ہے کہ اگر مسجد الحرام آنکھوں کے سامنے ہو تو اس کی طرف (بالکل صحیح طور پر متعین کر کے) رخ کیا جائے گا۔

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۔

وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ (الانعام 6:97)

وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ۔

اس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامات رکھ دیں اور ستاروں کے ذریعے بھی وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔ (النحل 16:16)

پہاڑ، رات، دن، مختلف مخصوص سمتوں سے چلنے والی ہوائیں جن کے نام مشہور ہیں، سورج، چاند، اور ستاروں کے طلوع و غروب کے مقام اور آسمان پر ان کی پوزیشن یہ سب ان علامات میں شامل ہیں۔

††††††††† اللہ تعالی نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ قبلے کے تعین کے لئے اپنی عقل کو استعمال کرے۔ جب انسان اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے تو وہ اللہ کے حکم کے خلاف غلط طرف رخ کرنے سے بچ جاتا ہے۔ اس نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ مسجد الحرام اگر نظر نہ آ رہی ہو تو جس طرف چاہے، منہ کر کے نماز ادا کر لی جائے۔ اللہ تعالی نے انسان کے لئے جو فیصلہ جاری کیا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے، " أَيَحْسَبُ الإِنسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى" یعنی "کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔" مہمل چھوڑ دینے سے مراد یہ ہے کہ اسے کسی چیز کا نہ تو حکم دیا جائے اور نہ ہی کسی چیز سے روکا جائے۔

††††††††† اس بحث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علاوہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دین کے کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کرے سوائے اس کے کہ عدالتی معاملات، حالت احرام میں شکار کے جرمانے وغیرہ میں انسان اس طریقے سے استدلال کرے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اسی طرح استحسان کی اجازت بھی صرف اسی صورت میں ہے جب کسی ملتے جلتے معاملے کے بارے میں پہلے سے دیے گئے فیصلے پر قیاس کیا جائے۔

††††††††† اللہ تعالی نے انسان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ دو اچھے کردار والے عادل مردوں سے گواہی دلوائیں۔ اچھے کردار کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اللہ تعالی کی فرمانبرداری کرتا ہو۔ اسی سے اچھے اور برے کردار کا فرق واضح ہوتا ہے۔ یہ بحث اپنے مناسب مقام پر آئے گی اور میں نے اسے بطور مثال واضح کیا ہے تاکہ ملتے جلتے حالات میں بھی اسے استعمال کیا جا سکے۔

بیان 1: ایسےاحکام جنہیں قرآن ہی میں مزید واضح کر دیا گیا

بیت اللہ کی زیارت کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔

تم میں سے جو شخص حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ اٹھانا چاہے، وہ حسب مقدور قربانی ادا کرے۔ اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے ایام میں اور سات گھر پہنچ کر رکھے اور اس طرح سے دس پورے کر لے۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر مسجد الحرام کے پاس نہ ہوں۔ (البقرۃ 2:196)

اس آیت میں جن لوگوں سے خطاب کیا گیا، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حج کے دوران تین دن کے روزے اور واپس آنے کے بعد میں سات دن کے روزے رکھنے کا مقصد دس روزے پورے کرنا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ دس پورے کر لو۔ اللہ تعالی کے اس ارشاد کا مطلب یا تو یہ ہے کہ اس سے مزید وضاحت ہو جائے یا پھر انہیں یہ بتانا مقصود ہے کہ تین اور سات کا مجموعہ دس ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس نے ایک اور مقام پر فرمایا:

وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً۔

ہم نے موی کو تیس راتوں کے لئے طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اس پر اضافہ کر دیا۔ اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت چالیس دن ہو گئی۔ (الاعراف 7:142)

اس طریقے سے مخاطبین پر یہ واضح کر دیا گیا کہ تیس اور دس، چالیس ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی کے اس فرمان میں چالیس راتوں سے یا تو یہی مراد ہے جس پر ہم بات کر رہے ہیں کہ تیس اور دس، چالیس ہوتے ہیں اور یا پھر اس کا مقصد معنی کو مزید واضح کر دینا ہے۔ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. أَيَّاماً مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضاً أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۔

تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن سکو۔ چند مقرر دنوں کے یہ روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی تعداد پوری کر لے۔ (البقرہ 2:183-184)

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنْ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضاً أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۔

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔ جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول دینے والی ہیں۔ اس لئے اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس میں پورے مہینے کے روزے رکھے اور اگر کوئی مریض یا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ (البقرہ 2:185)

††††††††† اللہ تعالی نے انسان پر روزے فرض کئے اور یہ متعین کر دیا کہ روزے ایک مہینے کے لئے رکھنا ہوں گے۔ ایک مہینہ، دو لگاتار چاند کے نظر آنے کی درمیانی مدت کو کہتے ہیں جو کہ تیس یا انتیس دن ہو سکتی ہے۔ ان دونوں آیات میں بیان کردہ قانون میں اوپر والی دونوں آیات کی طرح جو ہدایت پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ پورے عدد کو صحیح طور پر بیان کر دیا جائے۔

††††††††† ان آیات کی قرین قیاس تفسیر یہ ہے کہ سات اور تین کے عدد کو بیان کر دیا جائے، اور تیس اور دس کے عدد کو بیان کر دیا جائے۔ اس طرح لوگ صحیح طور پر مجموعی عدد کو جان لیں جیسا کہ وہ رمضان کے مہینے کے بارے میں اس بات کو جانتے ہیں۔

بیان 2: ایسے احکام جنہیں واضح کرنے کی ضرورت نہیں

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا ۔

جب تم نماز کے لئے اٹھو تو منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر مسح کر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ۔ (المائدہ 5:6)

ولا جُنُبَاً إلا عابري سبيلٍ۔

حالت جنابت میں نماز کے قریب نہ جاؤ سوائے اس کے کہ راستے سے گزرنا ہو۔ (النسا 4:43 )

ان آیات کے ذریعے اللہ تعالی نے وضو کی ایک جامع تعریف بیان کر دی ہے جس کے ذریعے ہم وضو کو استنجا اور غسل سے الگ ایک حکم کے طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ یہاں یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ منہ اور ہاتھوں کو کم از کم ایک مرتبہ دھونا ضروری ہے۔ اس حکم میں یہ واضح نہیں تھا کہ کیا انہیں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی دھویا جا سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس بات کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ وضو میں ایک بار دھونے کا حکم دیا لیکن آپ نے خود ان اعضا تین مرتبہ دھویا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ دھونا تو ضروری ہے اور تین مرتبہ دھونے کا اختیار دیا گیا ہے۔

††††††††† اسی طرح سنت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ استنجا کرنے کے لئے تین پتھر درکار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ وضو اور غسل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے یہ بھی بتا دیا کہ ٹخنوں اور کہنیوں کو دھونا ضروری ہے۔ قرآن مجید کے متن سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹخنوں کو پاؤں دھونے اور کہنیوں کو ہاتھ دھونے کے حکم میں شامل کیا بھی جا سکتا ہے اور نہیں بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے (اس کی وضاحت بھی فرمائی اور یہ بھی) فرما دیا: "ان دھلی ایڑیوں کو آگ کا عذاب دیا جائے گا۔" اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پاؤں کو دھونا چاہیے نہ کہ ان کا مسح کرنا چاہیے۔

††††††††† اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَلأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلأُمِّهِ السُّدُسُ۔

اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکے کا چھٹا حصہ ہے اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی وارث ہوں تو ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حقدار ہو گی۔ (النسا 4:11 )

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوْ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ۔

تمہاری بیویوں نے جو کچھ ترکہ چھوڑا ہے، تمہارے لئے اس کا نصف حصہ ہے اگر وہ بے اولاد ہوں۔ اولاد ہونے کی صورت میں تم چوتھائی حصے کے حق دار ہو جبکہ میت کی کی گئی وصیت پوری کر دی گئی ہو اور اس پر واجب الادا قرض ادا کر دیا گیا ہو۔ وہ (بیویاں) تمہارے ترکے سے چوتھائی حصے کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا اگر وصیت جو تم نے کی تھی، پوری کر دی جائے یا قرض جو تم نے چھوڑا تھا ادا کر دیا جائے۔ اگر وہ مرد و عورت بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا بہن ہو، تو بھائی یا بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکے کے تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے جبکہ میت کی طرف سے کی گئی وصیت پوری کر دی جائے اور میت پر واجب الادا قرض ادا کر دیا جائے بشرطیکہ کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے۔ (النسا 4:12 )

††††††††† قرآن مجید کے ان واضح احکامات کے بعد دیگر تفصیلات غیر ضروری ہیں۔ اللہ تعالی نے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ ترکے کی تقسیم سے قبل وصیت پوری کی جائے اور قرض ادا کئے جائیں۔ یہ بات حدیث سے پتہ چلتی ہے کہ وصیت ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

بیان 3: ایسے احکام جن کی وضاحت سنت کے ذریعے کی گئی

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَاباً مَوْقُوتاً ۔

بے شک نماز مومنین پر مقررہ اوقات میں فرض ہے۔۔ (النسا 4:103 )

وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۔

نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ (البقرۃ2:43 )

وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۔

اللہ کے لئے حج اور عمرہ پورا کرو۔ (البقرۃ2:196 )

یہ احکام نازل کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اپنے رسول کی زبان سے نمازوں کی تعداد، اوقات اور ادائیگی، زکوۃ کی رقم اور اوقات، حج اور عمرہ کا طریقہ اور ان اعمال کی ادائیگی کب ضروری ہے اور کب نہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث اس معاملے میں اتفاق بھی رکھتی ہیں اور کچھ اختلاف بھی۔ اسی طرز کی اور مثالیں قرآن اور حدیث میں موجود ہیں۔

نوٹ: احادیث میں بسا اوقات بظاہر اختلاف نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ حدیث روایت کرنے والے دو افراد بسا اوقات حدیث کا پس منظر بیان نہیں کر پاتے یا پھر دونوں احادیث مختلف مواقع سے متعلق ہوتی ہیں یا پھر کسی ایک صاحب غلط فہمی کی بنیاد پر بات کو کسی اور طرح بیان کر دیتے ہیں۔ احادیث کو جمع کرنے اور اس کے پس منظر سے واقفیت حاصل کرنے سے یہ تعارض دور ہو جاتا ہے۔

بیان 4: سنت میں بیان کردہ احکام

البیان میں وہ تمام احکام بھی شامل ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حدیث میں بیان فرما دیے اگرچہ یہ احکامات قرآن میں بیان نہ ہوئے ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اپنی اس کتاب میں بیان کیا کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر اپنے جس احسان کا ذکر کیا ہے کہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ حکمت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکی سنت ہے۔

††††††††† میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکی اطاعت کے بارے میں اللہ تعالی کا جو حکم بیان کیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دین میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ قرآن میں اللہ تعالی نے آپ کے جو فرائض بیان کئے ہیں وہ ان اقسام پر مشتمل ہیں:

       پہلی قسم تو ان احکام پر مشتمل ہے جو کتاب اللہ میں اتنی وضاحت سے بیان کر دیے گئے ہیں کہ وحی کے نزول کے بعد مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔

       دوسری قسم کے احکام وہ ہیں جن میں اللہ تعالی کی طرف سے ہم پر حکم کو اجمالاً فرض کر دیا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پوری جامعیت کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف سے یہ (تفصیلات) بیان کر دی ہیں کہ کوئی حکم کس طرح فرض ہے؟ کس پر فرض ہے؟ اس میں سے کب کسی حکم پر عمل کرنا لازم ہوتا ہے یا نہیں؟

       تیسری قسم ان احکام پر مشتمل ہے جو اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کے ذریعے متعین فرمائے۔ یہ احکام کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔

ان میں سے ہر قسم اللہ کے قانون کا بیان ہے۔

††††††††† جو شخص اللہ تعالی کی کتاب، قرآن میں بیان کردہ احکامات پر عمل کرنے کو اپنے لئے مانتا ہے، اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنے کو بھی قبول کرے کیونکہ اس کا حکم کتاب اللہ میں موجود ہے۔ جو شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ تعالی ہی کی طرف سے مامور کئے گئے ہیں، اسے یہ بھی ماننا چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت بھی خدا نے ہی ہم پر لازم کی ہے۔

††††††††† جو فرائض اللہ تعالی کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت میں بیان ہوئے، انہیں مان لینا اس بات کو قبول کر لینا ہے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہی ہے۔ جو کچھ وہ قبول کر رہا ہے اس میں اگر فروعی نوعیت کے کچھ اختلافات بھی ہوں جیسے حلال و حرام یا فرائض اور حدود میں اختلاف۔ کسی بات کا حکم دیا یا کسی کو سزا دی جیسا کہ اس نے قرآن میں فرمایا ہے، "لا يُسأل عما يفعل، وهم يسألون" یعنی "اس (اللہ) سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس نے کچھ کیوں کیا لیکن (اس کےان بندوں) سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔"

بیان 5: اجتہادی امور

اجتہاد کی پہلی مثال

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۔

تم جہاں سے بھی نکلو، اپنا منہ مسجد الحرام کی سمت پھیر دو اور جہاں کہیں بھی تم ہو، اپنا منہ اسی کی طرف کر لو۔ (البقرہ2:150 )

††††††††† اس آیت میں اللہ تعالی نے یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ لوگ جہاں بھی ہوں اپنا منہ نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف کر لیا کریں۔ کلام عرب میں جب یہ کہا جائے، "اقصد شطر کذا" تو اس کا مطلب یہ ہے کہ "میں آنکھوں سے دیکھ کر عین اس طرف رخ کرنا چاہتا ہوں۔" یعنی کہ بالکل اسی سمت میں منہ کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ الفاظ مختلف ہیں لیکن اس کا مطلب ایک ہی ہے۔ (کلام عرب کے مختلف اشعار میں لفظ "شطر" کو اسی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ امام صاحب نے یہاں کچھ اشعار نقل کئے ہیں۔)

ألا من مبلغ عَمراً رسولاً††††††† وما تغني الرسالة شَطر عمرو

کوئی ہے جو عمرو کی طرف قاصد بھیجے، اگرچہ عمرو کی طرف جانے والا پیغام اسے فائدہ نہ پہنچائے گا۔ (خفاف بن ندبہ)

أقول لأم زِنْبَاعٍ أَقيمي ††††††††††††††††† صدور العِيس شطر بني تميمِ

میں ام زنباع کو کہتا ہوں کہ اونٹنیوں کے رخ کو بنی تمیم کی طرف موڑ دو۔ (ساعدہ بن جویۃ)

وقد أظلكُمُ من شطر ثغركُمُ †††† ††††† هولٌ له ظُلَمٌ تغشاكُمُ قِطَعَا

تمہاری سرحدوں کی طرف سے تم پر تاریکیوں نے سایہ کر لیا ہے۔ یہ خوف ہے کہ تاریکیاں چھا کر تمہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دیں۔ (لقیط الایادی)

إن العسير بها داءٌ مُخامرُها ††††††††††† فشطرَها بَصَرُ العينين مسحورُ

تھکا ہوا جانور اپنے درد کو چھپائے ہوئے ہے۔ اس کی نگاہیں مسحور ہو کر اس جانب لگی ہوئی ہیں۔

"بصر العینین" کا مطلب ہے وہ اس جانب نگاہیں لگائے ہوئے ہے۔ ان تمام اشعار میں "شطر" سے مراد کسی چیز کی طرف رخ کرنا ہے۔ اگر وہ اس چیز کو دیکھ رہا ہے تو بالکل درست سمت میں اس کی طرف رخ کرے اور اگر وہ چیز نظروں سے اوجھل ہو تو پھر اجتہاد کے ذریعے اس کی طرف رخ کرے۔ یہی بات ہے جو ایک شخص کے لئے ممکن ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۔

وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ (الانعام 6:97)

وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ۔

اس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامات رکھ دیں اور ستاروں کے ذریعے بھی وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔ (النحل 16:16)

اللہ تعالی نے زمین پر علامات (Landmarks) مقرر کی ہیں، اس نے مسجد الحرام کو (قبلہ) مقرر کیا ہے اور لوگوں کو اس کی جانب رخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ قبلہ رو ہونے کے لئے انسان ان علامات کا استعمال اپنی عقل کی قوت کے ذریعے کرے گا جو اسے حاصل ہے۔ وہ اپنی عقل سے ان علامات سے استدلال کرتے ہوئے قبلے کا تعین کرے گا۔ یہ اللہ تعالی کا واضح فیصلہ اور ہم پر احسان ہے۔

اجتہاد کی دوسری مثال

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَأَشْهِدُوا ذَوَى عَدْلٍ مِنْكُمْ ۔

اپنے میں سے دو اچھے کردار کے افراد کو گواہ بنا لو۔ (الطلاق 65:2)

ممن ترضون من الشهدا۔

جن گواہوں پر تم راضی ہو۔ (البقرۃ 2:282)

اللہ تعالی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی شخص کا "عدل" (یعنی اچھا کردار) دراصل اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ ایسا شخص جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتا ہے، "ذو عدل" ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ "ذو عدل" نہیں ہے۔ ایک اور مقام ارشاد باری تعالی ہے:

‏لا تقتلوا الصيد وأنتم حُرُمٌ، ومن قتله منكم متعمداً، فجزاءٌ مثلُ ما قتل من النَّعَم، يحكمُ به ذوا عدل منكم هدياً بالغَ الكعبة ۔

احرام کی حالت میں شکار مت کرو۔ اور اگر جان بوجھ کر کوئی ایسا کر بیٹھے تو جو جانور اس نے مارا ہے، اسی کے ہم پلہ جانور اسے مویشیوں میں سے قربان کرنا ہو گا جس کا فیصلہ تم میں سے دو اچھے کردار والے آدمی کریں گے اور یہ نذر کعبہ تک پہنچائی جائے گی۔ (المائدہ 5:95)

نوٹ: موجودہ دور کے حالات کے تحت اس حکم کو سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ قدیم دور میں ذرائع نقل و حمل چونکہ اتنے ترقی یافتہ نہ تھے اس وجہ سے میقات سے لے کر مکہ تک کا سفر بھی بسا اوقات کئی دن میں طے ہوتا جس میں خوراک کی قلت کا مسئلہ پیش آ جایا کرتا۔ چونکہ حالت احرام میں خشکی کا شکار ممنوع ہے، اس وجہ سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی کسی جنگلی جانور مثلا ہرن یا خرگوش کو شکار کر بیٹھے تو وہ اس کے فدیہ میں اس کے مماثل جانور قربان کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جانور عام طور پر شہروں میں دستیاب نہیں ہوا کرتے تھے کہ عین اسی جانور کو فدیہ میں قربان کیا جا سکے۔ جانور کی مماثلت کا فیصلہ دو اچھے کردار کے افراد کو کرنا ہے۔

††††††††† اس مثال میں اپنے ظاہری مفہوم پر ہم پلہ جانور سے مراد ایسا جانور ہے جو مارے گئے جانور کے برابر جسم کا حامل ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ فدیے کے طور پر ایسا جانور قربان کرنا چاہیے جو جسمانی اعتبار سے احرام کی حالت میں قتل کئے گئے جانور کے مشابہ ہو۔ اس وجہ سے ہم مارے گئے جانور کا معائنہ کریں گے اور جو جانور بھی اس سے جسم کے سائز میں ملتا جلتا ہو گا اس کی قربانی بطور نذر کی جائے گی۔

††††††††† برابر فدیہ کا مطلب برابر قیمت والا جانور نہیں ہے جیسا کہ اس آیت کی مجازی تفسیر میں مراد لیا گیا ہے۔ ان دو معانی میں سے ظاہری معنی یعنی جسم میں مشابہ جانور زیادہ موزوں ہے۔ یہ معنی اجتہاد کے ذریعے متعین کیا گیا ہے۔ فیصلہ کرنے والے شخص کو نذر کا جانور متعین کرتے ہوئے ظاہری معنی مراد لیتے ہوئے برابر جسم والے جانور کو قربان کرنے کا فیصلہ دے۔

††††††††† علم (دینی) کی یہ قسم اس بات کی مثال ہے جو میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں۔ کسی کو بھی دین کےمعاملے میں رائے اپنی طرف سے نہیں دینی چاہیے کہ "یہ حلال ہے یا یہ حرام ہے۔" اسے رائے اسی وقت دینی چاہیے جب اس کے پاس قرآن و سنت سے حاصل کردہ معلومات یا اجماع و قیاس کی بنیاد پر علم موجود ہو۔ قیاس کے موضوع پر ہم اس سے متعلق باب میں بحث کریں گے۔ قبلے کے تعین، اچھے کردار اور مشابہ جانور کی مثالوں میں قیاس کے ذریعے یہ معلومات حاصل کی جائیں گی۔

††††††††† قیاس عقل کے استعمال کا ایسا طریقہ ہے جن میں قرآن اور سنت میں دیے گئے احکام کا اطلاق ملتی جلتی صورت حال پر کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں حق بات جاننے کے بنیادی ذرائع ہیں۔ اس کی مثال میں پہلے ہی تعیین قبلہ، اچھے کردار اور مشابہ جانوروں کی صورت میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ قیاس میں دو شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔

††††††††† پہلی شرط تو یہ ہے کہ اگر اللہ تعالی یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی عمل کو قرآن یا سنت کے متن میں واضح طور پر حرام یا حلال قرار دیا ہے تو اس حرمت یا حلت کی وجہ (علت) کی بنیاد پر دوسرے عمل کو بھی، جس کا ذکر قرآن یا سنت میں واضح طور پر موجود نہیں، حرام یا حلال قرار دیا جائے گا اگر اس میں بھی وہی علت پائی جاتی ہو۔

††††††††† دوسری شرط یہ ہے کہ اگر ایک عمل قرآن و سنت میں بیان کردہ ایک حکم سے دو پہلوؤں سے مشابہت رکھتا ہے تو ایسی صورت میں ہم اس پہلو کو اختیار کریں گے جس میں ان اعمال کی مشابہت ایک دوسرے سے قریب ترین ہے۔ اس کی مثال میں اوپر مشابہ جانور کی صورت میں بیان کر چکا ہوں۔

نوٹ: قیاس کی ایک مثال یہ ہے کہ دین نے "نشے" کے باعث شراب کو حرام کیا گیا ہے۔ "نشہ" شراب کے حرام ہونے کی علت یعنی وجہ ہے۔ اگر یہ نشہ کسی اور چیز میں بھی پایا جائے گا تو وہ بھی حرام قرار پائے گی۔ اسی بنیاد پر اہل علم چرس، ہیروئن، افیون اور دیگر نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔

††††††††† قیاس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ اسلامی قانون میں اونٹ، گائے اور بکری پر زکوۃ عائد کی گئی ہے۔ بھینس عرب میں موجود نہ تھی۔ جب مسلمان دوسرے علاقوں میں پہنچے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ بھینس پر کس جانور پر قیاس کرتے ہوئے زکوۃ عائد کی جائے۔ اہل علم نے گائے سے اس کی مشابہت کی بنیاد پر اس پر اسی شرح سے زکوۃ عائد کی جو گائے کے دین میں مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح قیامت تک مال و دولت کی جو مزید شکلیں پیدا ہوتی رہیں گی، انہیں سابقہ اشیا پر قیاس کرتے ہوئے ان پر زکوۃ عائد کی جاتی رہے گی۔

††††††††† فقہی علم میں کسی خاص مسئلے کے بارے میں دو صورتیں ممکن ہیں۔ ان میں سے ایک صورت تو اجماع یعنی اتفاق رائے کی ہے اور دوسری صورت اختلاف رائے کی ہے۔ ان دونوں کی تفصیل اگلے ابواب میں بیان کی گئی ہے۔

††††††††† اللہ تعالی کی کتاب کے بارے میں ایک خاص نکتہ یہ ہے کہ اللہ کی کتاب عربوں کی زبان میں نازل ہوئی۔ اس کتاب کے احکام کے بارے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سے احکام منسوخ کر دیے گئے اور کن احکام نے انہیں منسوخ کیا؟ اللہ تعالی نے کن چیزوں کو ہم پر لازم یا فرض قرار دیا ہے؟ اس کتاب میں اخلاق و آداب کے کیا احکام بیان ہوئے ہیں؟ اس کتاب میں کن چیزوں کی طرف راہنمائی دی گئی ہے اور کن چیزوں کی اجازت دی گئی ہے؟

††††††††† یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو کیا حیثیت اور کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے؟ اس نے ایسے کون سے احکام دیے ہیں جن کی وضاحت اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکے ذریعے کروائی ہے؟ اس کے فرض کردہ احکام سے کیا مراد ہے؟ کوئی حکم اس کے بندوں میں سے تمام افراد پر لازم کیا گیا ہے یا صرف چند مخصوص افراد پر؟ اللہ تعالی نے لوگوں پر اپنے رسول کی اطاعت میں کیا چیز لازم کی ہے اور کس طرح سے آپ کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے؟

††††††††† ان مثالوں کا علم بھی ضروری ہے جو اللہ تعالی نے اس لئے بیان کی ہیں کہ گناہوں سے بچا جائے، دنیا کے معاملات میں لذت اندوز ہونے کے باعث پیدا ہونے والی غفلت سے پرہیز کیا جائے، اور نوافل کے ذریعے اپنے درجات میں اضافہ کیا جائے۔

††††††††† یہ ایک عالم دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف اسی معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کرے جس کے بارے میں اسے پوری طرح یقینی علم حاصل ہو۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں اہل علم نے اپنی رائے کا اظہار اس وقت تک نہیں کیا جب تک کہ انہیں اس کے لئے مجبور نہیں کیا گیا۔ دینی قوانین میں خاموشی اور احتیاط سلامتی کے زیادہ قریب ہے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

Description: hit counter