بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 3: اسلامی قانون کا علم

نوٹ: اس مقام سے لے کر کتاب کے آخر تک ربیع نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے مکالموں کو سوال جواب کی صورت میں نقل کیا ہے۔ اس ترجمہ میں ہم سوال کرنے والی شخص کی بات کو "سائل:" اور امام شافعی کے جواب کو "شافعی:" کے تحت بیان کریں گے۔

سائل: دینی قانون کا علم کیا ہے اور ایک شخص کو یہ کتنا جاننا چاہیے؟

شافعی: قانونی علم کے دو درجے ہیں۔ ایک درجہ تو وہ ہے جو ہر معقول اور بالغ شخص کے لئے جاننا ضروری ہے۔ یہ علم عام (و خاص) ہر قسم کے افراد کے لئے ہے۔

سائل: کوئی مثال دیجیے۔

شافعی: مثلاً یہ کہ دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ روزہ رکھنا اللہ تعالی نے فرض کیا ہے۔ جب بھی ممکن ہو بیت اللہ کا حج کرنا ضروری ہے۔ مال پر زکوۃ دینی چاہیے۔ اللہ تعالی نے سود، زنا، قتل، چوری، اور شراب سے منع کیا ہے۔ اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

یہ وہ احکام ہیں جنہیں سمجھنا، ان پر عمل کرنا، ان پر عمل کرنا، اپنے جان و مال کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا اور حرام کئے گئے کاموں سے بچنا ہر شخص پر لازم ہے۔ یہ تمام احکام اللہ کی کتاب، واضح نص میں بیان کئے گئے ہیں اور مسلمانوں میں ان پر عام طور پر عمل کیا جاتا ہے۔ لوگ انہیں نسل در نسل (قولی و عملی تواتر کے ذریعے) منتقل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے چلا آ رہا ہے۔ ان احکام کے منتقل کرنے یا ان کی فرضیت میں (امت مسلمہ میں) کوئی اختلاف نہیں ہے۔

††††††††† یہ وہ علم ہے جس سے متعلق معلومات اور اس کی تشریح ہر طرح کے غلطیوں سے پاک ہے۔ اس میں کسی قسم کا اختلاف کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

سائل: دوسری قسم کیا ہے؟

شافعی: یہ وہ فروعی اور تفصیلی احکام و فرائض ہیں جن کے بارے میں اللہ کی کتاب کے متن میں کوئی بات نہیں ملتی اور نہ ہی ان کے بارے میں سنت میں کوئی چیز وارد ہوئی ہے۔ جہاں کہیں بھی اس بارے میں کوئی سنت ملتی ہے تو وہ عام لوگوں کی بجائے چند اشخاص کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے۔ عقل کے استعمال کے ذریعے اس کی توجیہ (Interpretation) کی جا سکتی ہے اور اس میں قیاس سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔

سائل: کیا اس قسم کے دینی علم پر بھی اسی درجے میں عمل کرنا لازم ہے جیسا کہ پہلی قسم کے علم کے سلسلے میں ہے۔ یا پھر لوگوں کے لئے اسے جاننا ضروری نہیں ہے یا پھر کیا اسے جاننا (فرض کی بجائے) نفل کے درجے میں ہے؟ جو شخص اسے جاننے کی کوشش نہیں کرتا کیا وہ گنہگار تو نہیں ہوتا؟ یا پھر دینی علم کی کوئی تیسری قسم بھی ہے جسے ہم خبر یا قیاس کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں؟

شافعی: جی ہاں، علم کی ایک تیسری قسم بھی ہے۔

سائل: کیا آپ اس کی وضاحت فرمائیں گے؟ برائے مہربانی اس کا ماخذ بھی بتائیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیے کہ اس میں سے کیا چیز فرض ہے، کس پر فرض ہے اور کس پر فرض نہیں ہے؟

شافعی: اس قسم کے علم کا حصول عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ ان علوم کو حاصل کرنے کے تمام اسپیشلسٹ لوگ بھی مکلف نہیں ہیں لیکن جس شخص کو یہ حاصل ہو جائے وہ اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اگر کچھ افراد نے اس علم کو حاصل کر لیا ہے تو دوسرے لوگ پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ بھی لازما اسے حاصل کریں۔ ہاں جن لوگوں نے اس پر محنت کر کے یہ علم حاصل کیا ہے، ان کا درجہ ان سے بلند ہے جنہوں نے اسے حاصل نہیں کیا۔

سائل: کیا آپ کوئی نص یا کوئی اور متعلقہ دلیل اس ضمن میں بیان فرمائیں گے جسے اس قسم کے علم پر قیاس کیا جائے؟

شافعی: اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں جہاد کرنے کا حکم بیان کیا ہے اور یہ حکم اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان مبارک سے جاری ہوا۔ اللہ تعالی نے جہاد کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے نکلنے کا حکم اس طرح دیا ہے:

اِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنْ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمْ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيْهِ حَقّاً فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنْ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمْ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے جان و مال جنت کے بدلے خرید لئے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مرتے اور مارتے ہیں۔ ان سے جنت کا وعدہ تورات، انجیل اور قرآن میں اللہ کی طرف سے حق ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون ہے جو اپنا عہد پورا کرنے والا ہو۔ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ (توبہ 9:111)

وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ۔

ان مشرکین سے مل کر لڑو جیسا کہ وہ تم سے مل کر لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہی ہے۔ (توبہ 9:36)

فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوْا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۔

جہاں پاؤ مشرکین کو قتل کرو، اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لئے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (توبہ 9:5)

قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنْ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ ۔

جنگ کرو ان اہل کتاب سے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ ان سے اس وقت تک جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ (توبہ 9:29)

شافعی: (یہ حدیث بھی ہے۔)

عبدالعزیز بن محمد الدراداوردی روایت کرتے ہیں محمد بن عمرو بن علقمہ اور وہ ابو سلمہ سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس وقت تک ان مشرکین سے جنگ کروں گا جب تک وہ اس بات کا اقرار نہ کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر وہ اس بات کو تسلیم کر لیں تو انہوں نے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا سوائے اس کے کہ انہیں اس کی قیمت دی جائے اور ان کا اجر اللہ تعالی عطا کرے گا۔ (سنن ابو داؤد)

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمْ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنْ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ۔ إِلاَّ تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَاباً أَلِيماً وَيَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلا تَضُرُّوهُ شَيْئاً وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔

اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کی زندگی کے بدلے دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی زندگی کا یہ سامان آخرت میں بہت ہی کم نکلے گا۔ تم نہ اٹھو گے تو اللہ تمہیں درد ناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے کیونکہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (توبہ9:38-39 )

انفِرُوا خِفَافاً وَثِقَالاً وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۔

(جہاد کے لئے نکلو) خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔ اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ (توبہ9:41 )

ان آیات سے ایک تو اس معنی کا احتمال ہے کہ جہاد اور اللہ کی راہ میں مسلح ہو کر نکلنا، ہر اس صاحب ایمان پر فرض ہے جو جسمانی طور پر اس کے قابل ہو۔ اس سے کسی کو استثنا حاصل نہیں ہے۔ یہ حکم ایسا ہی ہے جیسا کہ نماز، زکوۃ اور حج فرض ہے۔ کوئی شخص دوسرے کی جگہ یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتا کیونکہ ایک شخص کی ادائیگی سے دوسرا شخص بری الذمہ نہیں ہو جاتا۔

††††††††† دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ جہاد ایک اجتماعی فرض ہے جو کہ نماز کی طرح ہر شخص پر فرداً فرداً لازم نہیں ہے۔ یہ فرض کفایہ ہے۔ جن افراد نے مشرکین کے خلاف جہاد کیا، انہوں نے دوسروں کا فرض بھی ادا کر دیا لیکن ان کا درجہ اور اجر کہیں زیادہ ہو گا کیونکہ انہوں نے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی (جہاد نہ کرنے کے) گناہ سے بچا لیا۔

لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْراً عَظِيما ۔

مومنوں میں سے وہ جو بغیر کسی عذر کے گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال کے ساتھ جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی نسبت جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا کر رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ کر رکھا ہے مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا بدلہ بیٹھے رہ جانے والوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ (النساء4:95 )

اگرچہ ان آیات کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذمہ داری سب لوگوں پر فرض ہے (لیکن جہاد دراصل فرض کفایہ ہے۔)

سائل: آپ کے اس نقطہ نظر کی کیا دلیل ہے کہ اگر کچھ افراد اس فرض کو ادا کر دیں تو باقی سب کی طرف سے بھی یہ ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے اور وہ گنہگار نہ ہوں گے؟

شافعی: یہ اسی آیت میں ہے جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی۔

سائل: اس کے کون سے حصے میں؟

شافعی: اس حصے میں جس میں اللہ تعالی نے فرمایا وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى" یعنی "ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔" اللہ تعالی نے بھلائی کا وعدہ ان لوگوں سے بھی کیا ہے جو جہاد پر نہ جا سکے اور پیچھے رہ گئے البتہ یہ واضح طور پر فرما دیا گیا ہے کہ جہاد کرنے والوں کا درجہ اور فضیلت زیادہ ہے۔ اگر پیچھے رہ جانے والے، لڑنے والوں کی نسبت غلطی پر ہوتے، تو لازماً وہ گناہ کر رہے ہوتے۔ انہیں اللہ تعالی "بھلائی کے وعدہ" کی بجائے انہیں سزا دینے یا معاف کر دینے کی بات کرتا۔

سائل: کیا کوئی اور دلیل بھی ہے؟

شافعی: جی ہاں، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ۔

اور یہ مومنوں پر لازم نہیں ہے کہ وہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقوں کے باشندوں کو خبردار کرتے تا کہ وہ (نافرمانی سے) پرہیز کریں۔ (توبہ9:122 )

جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم متعدد غزوات پر تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم تھے جبکہ ایسے صحابہ بھی تھے جو پیچھے رہ گئے۔ مثال کے طور پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ گئے۔ اللہ تعالی نے یہ ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عائد نہیں کی کہ وہ جنگ پر جائیں۔ جیسا کہ اس نے فرمایا، " فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ" یعنی "تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان میں سے ایک گروہ ہر آبادی سے نکلتا؟" اس سے یہ معلوم ہوا کہ جنگ کے لئے جانا چند لوگوں کے لئے لازم تھا نہ کہ سب کے لئے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ (دینی علوم میں) مہارت اور سمجھ بوجھ حاصل کرنا سب پر لازم نہیں ہے بلکہ بعض لوگوں پر لازم ہے۔ یہ فرائض جن کا جاننا ہر شخص کے لئے ضروری ہے، ان کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔

††††††††† اسی طرح دیگر احکام بھی ہیں جن کی ادائیگی اجتماعی طور پر ضروری ہے۔ جب انہیں مسلمانوں کا ایک گروہ ادا کر دے گا تو باقی لوگ گناہ گار نہ ہوں گے۔ اگر تمام کے تمام لوگ ہی انہیں ادا نہ کریں تو پھر مجھے ڈر ہے کہ وہ سب گناہ گار ہوں گے لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إِلاَّ تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَاباً أَلِيماً ۔

تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں درد ناک سزا دے گا ۔ (توبہ9:39 )

سائل: اس آیت کا کیا مطلب ہے؟

شافعی: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کی اجازت نہیں کہ تمام کے تمام افراد ہی جہاد کے لئے نہ نکلیں۔ لیکن اگر کافی تعداد میں لوگ جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اس اجتماعی فریضے کو ادا کرتے ہیں تو پھر باقی لوگ گناہ گار ہونے سے بچ جاتے ہیں (کیونکہ جانے والوں نے پیچھے رہ جانے والوں کا فرض بھی ادا کر دیا۔) جب ان میں سے (کافی تعداد میں) کچھ لوگ نکل کھڑے ہوئے تو اس پر لفظ "نفیر" کا اطلاق ہو جائے گا۔

سائل: کیا جہاد کے علاوہ بھی کوئی اور مثال ہے؟

شافعی: جی ہاں۔ نماز جنازہ اور مردے کو دفن کرنے ہی کو لیجیے جسے ترک کرنا درست نہیں۔ تمام مسلمانوں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اسے ادا کرنے کے لئے جنازے میں لازمی آئیں۔ اگر کافی تعداد میں لوگ اسے ادا کرتے ہیں تو وہ دوسرے لوگوں کو بھی گناہ سے بچا لیتے ہیں۔ اسی طریقے سے سلام کا جواب دینا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيباً ۔

جب کوئی احترام سے تمہیں سلام کرے تو تم اس کو بہتر طریقے سے جواب دو یا کم از کم اسی طرح کا جواب تو دو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النسا 4:86 )

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:

کھڑے لوگ بیٹھوں کو سلام کریں۔ اگر کوئی ایک شخص بھی سلام کا جواب دے دے تو وہ باقی سب کی ذمہ داری کو ادا کر دیتا ہے۔ (موطا امام مالک، سنن ابی داؤد)

اس کا مقصد یہ ہے کہ جواب دینا ضروری ہے۔ چند لوگوں کا جواب دوسرے لوگوں سے جواب دینے کی ذمہ داری کو ادا کر دے گی کیونکہ یہی کافی ہے۔

††††††††† جہاں تک مجھے علم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک مسلمانوں کا عمل بھی اسی طرح ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ صرف چند لوگوں ہی دینی علوم میں تفصیلی سمجھ پیدا کرتے ہیں، نماز جنازہ بعض لوگ ہی ادا کرتے ہیں، جہاد بھی بعض لوگ ہی کرتے ہیں، سلام کا جواب بھی بعض لوگ ہی دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ ادائیگی کرنے والے باقی لوگوں سے مختلف ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے والے، جہاد کرنے والے، جنازے میں حاضر ہونے والے، اور سلام کا جواب دینے والے زیادہ اجر کے مستحق ہیں۔ جو ایسا نہیں کرے گا وہ گناہ گار نہ ہو گا اگر کافی لوگوں کی تعداد یہ اجتماعی فریضہ انجام دے چکی ہو۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter