بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 4: قرآن کی زبان

سائل: کیا قرآن میں عربی کے علاوہ دوسری زبانوں کے (عجمی) الفاظ بھی ہیں؟

شافعی: قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اس میں اللہ کی کتاب میں سوائے عربی زبان کے اور کسی زبان کے الفاظ استعمال نہیں کئے گئے۔ جس کسی نے بھی یہ رائے بیان کی ہے کہ قرآن میں عجمی الفاظ بھی ہیں، اس نے ایسا کچھ اور لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا اور وہ اس نے ان کی اندھا دھند تقلید شروع کر دی۔ اس نے ثبوت کا معاملہ اس شخص پر اور اس سے اختلاف کرنے والے پر چھوڑ دیا۔ اندھی تقلید سے ایک غافل انسان (اپنے فرض سے) مزید غافل ہو جایا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اور ہماری مغفرت کرے۔

††††††††† جو شخص یہ رائے رکھتا ہے اور وہ جو اس رائے کو مانتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کچھ غیر عربی الفاظ ہیں جو خود عربوں کی سمجھ میں نہیں آتے۔ عربی زبان تو تمام زبانوں میں سب سے وسیع لغت (Vocabulary) کی حامل ہے۔ کیا ہم سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کسی اور کو جانتے ہیں جس نے اس پوری لغت کا احاطہ کر لیا ہو؟ اس زبان میں سے کوئی ایسی بات نہیں جو ضائع ہو چکی (Missing) ہو اور اس کا کوئی عالم دنیا میں موجود نہ ہو۔

††††††††† عرب، عربی زبان سے اسی طرح واقف ہیں جیسا کہ اہل فقہ (Jurists) قانون سے واقف ہیں۔ کیا ایسا کوئی شخص ہو گا جو تمام سنتوں (احادیث) کا عالم ہو۔ اگر تمام علماء کا علم ایک جگہ جمع کر لیا جائے تو تمام احادیث معلوم ہو جائیں گی۔ اگرچہ ہر عالم کا علم اگر علیحدہ رکھا جائے تو اس میں کچھ علم یقیناً غائب (Missing) ہو گا۔ یہ غائب علم کسی دوسرے عالم کے ہاں مل سکتا ہے۔

††††††††† ان اہل علم کے بھی متعدد درجات ہیں: ان میں وہ بھی ہیں جو احادیث کے زیادہ حصے کا علم رکھتے ہیں اگرچہ بعض احادیث ان کے علم میں نہ ہوں۔ (دوسرے طبقے میں) ایسے اہل علم شامل ہیں جو پہلے درجے کے اہل علم کی نسبت کم علم رکھتے ہیں۔

††††††††† ان چند قلیل احادیث کو، جن کا علم پہلے طبقے کے کسی عالم کو نہیں ہے، حاصل کرنے کے لئے ہم دوسرے طبقے کے عالم کے پاس نہیں جائیں گے۔ اس کی بجائے جو کچھ اس عالم کو معلوم نہیں ہے، اسی کے طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی اور عالم کے پاس جا کر معلوم کر سکتے ہیں اور اس طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، میرے ماں باپ آپ پر قربان، کی تمام احادیث کو اکٹھا کر سکتے ہیں جو اس وقت علماء کے پاس علیحدہ علیحدہ موجود ہیں۔ اہل علم کے یہ درجات اس بنیاد پر ہیں کہ کس نے حدیث کا کتنا علم حاصل کیا ہے۔

نوٹ: امام شافعی نے اپنے زمانے کی صورت حال سے یہ مثال بیان کی ہے جب احادیث کو پوری طرح مدون نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے بعد محدثین نے اپنی پوری پوری عمریں صرف کر کے ان احادیث کو اکٹھا کر کے ان کی تدوین کی۔ احادیث کے پھیلے ہوئے ذخیرے کو اکٹھا کیا گیا اور ان کے ثبوت کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی کی گئی۔ احادیث کی چھان بین کے لئے اصول حدیث کے فن کو ترقی دی گئی۔ حدیث بیان کرنے والے تمام افراد کے کوائف جمع کئے گئے اور ان کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کا تعین کیا گیا۔

††††††††† احادیث کا پورا ذخیرہ اب دنیا بھر میں شائع ہو چکا ہے اور اس میں شامل احادیث کے بارے میں متعین ہو چکا ہے کہ کون سی حدیث مستند ہے اور کون سی حدیث مستند نہیں ہے۔ حدیث کی تمام کتب نہ صرف پرنٹڈ شکل میں بلکہ سافٹ ویئر کی صورت میں اب دستیاب ہیں۔ نہ صرف احادیث بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور کے کلام عرب کا بھی یہی معاملہ ہے۔ عربی زبان اور اس کے ادب کو بھی محفوظ کر کے کتب اور سافٹ ویئر کی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔

††††††††† بالکل یہی معاملہ (قرآن کے نزول کے زمانے میں لکھی اور بولی جانے والی) عربی زبان کے علماء اور عام لوگوں کا بھی ہے۔ اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو ضائع ہو چکا ہو اور کسی بھی شخص کے علم میں نہ ہو۔ اس کے معاملے میں ہمیں دوسرے (غیر عرب) لوگوں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لازماً ہر شخص کو اسے اہل عرب ہی سے سیکھنا ہو گا اور کوئی بھی اس زبان میں اس وقت تک رواں نہیں ہو سکتا جب تک وہ اہل زبان کے طریقے کی پیروی نہ کرے۔ جن لوگوں نے اس سے پہلے اس زبان کو سیکھا ہے وہ اہل زبان ہی تو ہیں۔

††††††††† جن لوگوں نے عربی کو چھوڑ کر دوسری زبانیں اختیار کر لی ہیں، انہوں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ انہوں نے اس زبان کو نظر انداز کر دیا۔ اگر وہ دوبارہ اس زبان کی طرف لوٹ آئیں تو ان کا شمار بھی اہل زبان ہی میں ہونے لگے گا۔ عربی زبان کا علم اہل عرب میں اسی طرح عام پھیلا ہوا ہے جیسا کہ احادیث کا علم، حدیث کے علماء (محدثین) میں پھیلا ہوا ہے۔

سائل: کیا ہم ایسے عجمی لوگوں کو نہیں دیکھتے ہیں جو عربی زبان میں کچھ بات کر لیتے ہیں؟

شافعی: اس کی وضاحت اس طرح سے کی جا سکتی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ انہوں نے اس زبان کو اہل عرب سے سیکھا ہے ورنہ کوئی بھی چند الفاظ سے زیادہ بول ہی نہیں سکتا۔ جو شخص عربی میں کچھ بات کر سکتا ہے، اس نے ایسا عربوں سے سیکھ کر ہی کیا ہو گا۔ ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ غیر ملکی زبانوں میں کچھ عربی الفاظ سیکھ کر یا ویسے ہی داخل کئے جا سکتے ہیں جس کے باعث عجمی زبان کا کچھ حصہ عربی کی طرح ہو جاتا ہے۔

††††††††† یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جیسا کہ دو مختلف عجمی زبانوں میں بھی تھوڑے سے الفاظ اور اسالیب مشترک ہو سکتے ہیں۔اس کے باوجود یہ زبانیں مختلف ممالک میں بولی جاتی ہیں اور ان الفاظ کے مشترک ہونے کے باوجود یہ زبانیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور غیر متعلق سمجھی جاتی ہیں۔

سائل: اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالی کی کتاب خالصتاً عربی زبان میں نازل ہوئی اور اس میں کسی اور زبان کے الفاظ کی ملاوٹ نہیں ہوئی؟

شافعی: دلیل بذات خود اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه ۔

ہم نے ہر رسول کو ان کی مخاطب قوم کی زبان ہی میں (دعوت دینے کے لئے) بھیجا ۔ (ابراہیم 14:4)

سائل: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علاوہ پچھلے تمام رسول تو خاص طور پر انہی کی اقوام کے لئے بھیجے گئے تھے جب کہ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تو پوری نسل انسانیت کی طرف مبعوث ہوئے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کی دعوت یا تو صرف اپنی ہی قوم کی زبان میں تھی اور پوری نسل انسانیت کو یہ زبان سیکھنی چاہیے خواہ وہ جتنی بھی سیکھ سکیں۔ دوسرا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو تمام انسانیت کی زبان سکھا کر بھیجا گیا۔ کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دعوت غیر ملکی زبانوں کی بجائے صرف اور صرف اپنی قوم کی زبان میں ہے؟

شافعی: چونکہ زبانیں ایک دوسرے سے اتنی مختلف ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھ سکتے اس وجہ سے کچھ لوگوں کو دوسروں کی زبان سیکھ لینی چاہیے۔ زبان میں ترجیح انہی لوگوں کو دی جائے گی جن کی زبان وہی ہو جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان ہے۔ یہ بات غیر مناسب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قوم کے لوگ (آپ کا پیغام سمجھنے کے لئے) غیر عربوں کی پیروی اختیار کر لیں اور ان کی زبان سیکھیں خواہ وہ ایک ہی حرف ہو۔ اس کی بجائے مناسب بات یہ ہے کہ دوسری زبان والے اس زبان کو سیکھیں اور وہ لوگ جو دوسرے مذاہب کے پیروکار ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اسی دین کی پیروی کریں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایک سے زائد مقام پر ارشاد فرمایا:

وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الأَمِينُ۔ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنْ الْمُنذِرِينَ۔ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ ۔

یہ تمام جہانوں کے رب کی نازل کردہ چیز ہے۔ اسے آپ کے دل کی طرف امانت دار روح نے اتارا ہے تاکہ آپ اس سے انہیں خبردار کریں۔ صاف صاف عربی زبان میں۔ (الشعرا 26:192-195)

‏وكذلك أنزلناه حكماً عربياً ۔

اسی طرح ہم نے تم پر یہ فرمان عربی میں نازل فرمایا۔ (الرعد 13:37)

وكذلك أوحينا إليك قرآناً عربياً لتنذر أم القرى، ومَن حولها ۔

اسی طرح ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم مرکزی شہر اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کو خبردار کرو۔ (الشوری42:7 )

حم‏.‏ والكتاب المبين‏.‏ إنا جعلناه قرآناً عربياً لعلكم تعقلون ۔

قسم ہے اس واضح کتاب کی کہ ہم نے یہ عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو۔ (الزخرف 43:1-3)

قرآناً عربياً غيرَ ذي عِوَجٍ لعلهم يتقون ۔

ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے تا کہ یہ ڈرنے والے بنیں۔ (الزمر 39:28 )

نوٹ: مذہبی مباحث میں ایک بحث یہ موجود ہے کہ خدا کو اگر اپنا پیغام پوری نسل انسانیت کے لئے بھیجنا ہے تو وہ اسے کسی ایسی زبان میں نازل کرے جو کسی مخصوص قوم کی زبان نہ ہو ورنہ خدا جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہا ہو گا۔ یہ محض ایک لغو بات ہے۔ دین کا مقصد محض ہدایات دینا ہی نہیں ہے بلکہ یہ تو بندے اور خدا کا تعلق قائم کرنے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ اگر خدا کی کتاب کو اسپرانتو ٹائپ کی کسی زبان میں نازل کر بھی دیا جاتا تو یہ کبھی اپنے مخاطبین میں جوش، جذبہ اور خدا سے تعلق پیدا نہ کر سکتی۔

††††††††† اس معاملے میں فطری طریقہ یہی ہے کہ اس پیغام کو اولین مخاطبین کی زبان میں نازل کر دیا جائے اور وہ لوگ دوسروں تک یہ پیغام ترجمہ کر کے یا ان لوگوں کو یہ زبان سکھا کر پہنچائیں۔ اسلام کی تاریخ میں یہی فطری اختیار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تورات کو عبرانی، انجیل کو سریانی اور قرآن کو عربی میں نازل کیا گیا کیونکہ یہ ان کے اولین مخاطین کی زبانیں تھیں۔

ان تمام آیات میں اللہ تعالی نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ اس کی کتاب عربی زبان میں ہے اور اس سے یہ بات یقینی طور پر ناممکن ہے کہ وہ عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں دو آیات ہی نازل کر دے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

‏ولقد نعلم أنهم يقولون‏:‏ إنما يعلمه بشر‏.‏ لسانُ الذي يُلحدون إليه أعجمي، وهذا لسان عربي مبين ۔

ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے۔ حالانکہ ان کا اشارہ جس شخص کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔ (النحل 16:103)

‏ولو جعلناه أعجمياً لقالوا‏:‏ لولا فُصِّلت آياته، أعجمي وعربي‏؟

اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی زبان میں نازل کر دیتے تو یہ لوگ کہتے، "اس کی آیات کو واضح طور پر بیان کیوں نہیں کیا گیا؟" یہ عجیب بات ہے کہ کلام عجمی زبان میں ہے اور مخاطب عرب لوگ۔ (حم سجدہ 41:44)

اللہ تعالی نے ہمیں ان نعمتوں سے آگاہ کیا ہے جو اس نے اپنے رسول کے خاص مقام کے ذریعے ہم پر کیں:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔

دیکھو، تمہارے پاس ایک ایسا رسول آئے ہیں جو خود تمہی میں سے ہیں۔ تمہارا نقصان میں پڑنا انہیں شاق ہے۔ تمہاری فلاح کے وہ حریص ہیں اور ایمان لانے والون کے لئے وہ شفقت فرمانے والے اور نہایت مہربان ہیں۔(التوبۃ 9:128)

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ، وَيُزَكِّيهِمْ، وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۔

وہی ہے جس نے امیوں میں ایک رسول انہی میں سے اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے اور (اس کے لئے) انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (الجمعۃ 62:2)

اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اپنی نعمتوں کی پہچان کروائی اور فرمایا:

وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ ۔

یہ ایک یاد دہانی ہے تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے۔ (الزخرف 43:44)

اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قوم پر یہ احسان فرمایا کہ اپنی کتاب میں ان کا نام نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے نام کے ساتھ وابستہ کر دیا۔

وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۔

اپنے قریبی رشتے داروں کو خبردار کیجئے۔ (الشعراء 26:214)

لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا ۔

تاکہ اس کے ذریعے آپ مرکزی شہر اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کو خبردار کریں۔ (الشوری 42:7)

شافعی: اس آیت میں ام القری، یعنی شہروں کی ماں یا مرکزی شہر سے مراد مکہ ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کی قوم کا شہر تھا۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں ان کی اس خصوصی اہمیت کو بیان کیا اور ان کے ساتھ دوسرے عام لوگوں میں کیا جنہیں (اس کتاب کے ذریعے دین اور آخرت سے) خبردار کیا گیا۔ خبردار کرنے کی یہ دعوت عربی زبان میں تھی جو کہ خاص حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قوم کی زبان تھی۔

††††††††† ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ حتی المقدور کم از کم اتنی عربی زبان سیکھ لے جس سے وہ اس قابل ہو سکے کہ اس بات کا اقرار کر لے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، قرآن مجید کی تلاوت کر سکے، اور اللہ کا نماز میں وہ ذکر کر سکے جو اس پر لازم کیا گیا ہے جیسے تکبیر، تسبیح، تشہد، اور اسی طرح کے دیگر اذکار۔

††††††††† محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، جن پر اللہ تعالی نے نبوت ختم کر دی اور جن کے ذریعے اپنی سب سے آخری کتاب نازل فرمائی، کی زبان مبارک کو اپنے فائدے کے لئے (غیر عرب لوگوں کو) مزید اتنا سیکھنا چاہیے کہ انسان نماز ادا کر سکے اور اس میں اللہ کا ذکر کر سکے، بیت اللہ تک آکر (حج و عمرہ کے مناسک ادا کر) سکے، قبلے کا تعین کر سکے، اور اس کے ذمے جو فرائض ہیں انہیں ادا کر کے اپنے رب کی طرف پلٹ سکے۔ اس معاملے میں انہیں اہل عرب کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ اہل عرب ان کی پیروی کریں۔

††††††††† قرآن کے صرف عربی زبان ہی میں نزول کی وجہ جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ کی کتاب کو جاننے والے اہل علم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس زبان کی وسعت یعنی اس کے ایک لفظ کے متعدد معانی اور ایک معنی کے لئے متعدد الفاظ سے ناآشنا ہو۔ عربی سے ناواقفیت کے باعث جو شبہات پیدا ہوتے ہیں وہ اس وقت دور ہو جاتے ہیں جب انسان اس زبان کو سیکھ لے۔

††††††††† لوگوں کو اس طرف توجہ دلانا کہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا دراصل تمام مسلمانوں کو ایک مخلصانہ مشورہ دینا ہے (کہ وہ عربی سیکھیں) ۔ اس نصیحت پر عمل کرنا ان کے لئے لازمی ہے اور اس اچھے عمل سے وہی غفلت برتے گا جو بے وقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھے مواقع سے فائدہ اٹھانا نہ جانتا ہو۔ خیر خواہی میں یہ چیز شامل ہے کہ کسی کے سامنے حق کو واضح کر دیا جائے۔ حق بات اور مسلمانوں کی خیر خواہی اللہ تعالی کی اطاعت ہی میں ہے اور اللہ تعالی کی اطاعت ہر نیکی کی جامع ہے۔

سفیان بن عینیہ، زید بن علاقہ کے ذریعے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، "ہم نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم ہر مسلمان کے خیر خواہ ہوں گے۔" (بخاری، مسلم)

ابن عینیہ، سہیل بن ابی صالح سے، وہ عطا بن یزید سے، اور وہ تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "دین خیر خواہی ہے، دین خیر خواہی ہے، دین خیر خواہی ہے اللہ کے لئے، اس کی کتابوں کے لئے، اس کے نبیوں کے لئے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لئے اور ان کے عام لوگوں کے لئے۔" (مسلم، نسائی، ابو داؤد، ترمذی)

††††††††† اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں عربوں سے انہی کی زبان میں خطاب فرمایا۔ اس خطاب میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ان کے معانی وہی تھے جو وہ عرب پہلے ہی سے جانتے تھے۔ اس میں ان کی زبان کی وسعت بھی شامل ہے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter