بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 5: خاص اور عام

نوٹ: یہاں سے اصول فقہ کی اہم ترین بحث شروع ہو رہی ہے، جس کا عنوان ہے، خاص اور عام۔ "خاص" سے مراد دین کے وہ احکامات ہیں جو کسی مخصوص شخص، مخصوص جگہ یا مخصوص صورتحال سے متعلق ہیں۔ "عام" سے مراد وہ احکامات ہیں جن پر عمل کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے لے کر قیامت تک تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

††††††††† یہ بحث بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ ایک حکم اللہ تعالی نے کسی خاص صورتحال کے لئے دیا ہو لیکن اس پر عمل کرنے کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے لازم قرار دے دیا جائے۔ اسی طرح اس غلطی کا احتمال بھی ہے کہ ایک حکم ابدی نوعیت کا ہے اور اسے کسی مخصوص صورتحال سے متعلق قرار دے دیا جائے۔ یہ ایسی غلطیاں ہیں جن کی بنیاد پر دور قدیم اور دور جدید میں بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ خاص اور عام کے صحیح تعین ہی سے اسلامی قانون کو صحیح طور پر ہر دور میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔

††††††††† اللہ تعالی نے کسی چیز کو بیان کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا اس میں یہ بات شامل ہے کہ:

       کسی بات کا ایک حصہ اپنے ظاہری مفہوم ہی میں عام ہوتا ہے اور یہ حکم عمومی نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس صورت میں یہ بات (وضاحت کے لئے) کسی اور بات کی محتاج نہیں ہوتی۔

       بعض اوقات ایک حکم ظاہری طور پر عام ہوتا ہے لیکن اس میں کوئی خصوصی صورتحال بھی شامل ہوتی ہے۔ اس کے تعین کے لئے اسی آیت میں شامل بعض الفاظ سے استدلال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

       بعض اوقات حکم بظاہر عمومی الفاظ میں دیا جاتا ہے لیکن اس سے مراد کوئی خصوصی صورتحال ہوتی ہے۔ اس کا پتہ آیت کے سیاق و سباق سے چلتا ہے اور اس سے ظاہری معنی مراد لینے درست نہیں ہوتے۔ اس پوری بات کا علم یا تو کلام کے شروع سے ہی چل جاتا ہے، یا پھر درمیان سے اور یا پھر آخر سے۔

       عربوں کی زبان میں ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ گفتگو کا پہلا حصہ بعد والے کی وضاحت کر دیتا ہے اور بسا اوقات بعد والا حصہ پہلے حصے کی وضاحت کر دیتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ عرب کسی موضوع پر گفتگو کریں اور کوئی بات الفاظ میں بیان نہ کریں کیونکہ اس کا معنی بغیر الفاظ کے ہی محض اشارے سے واضح کر دیا جائے۔ اس قسم کی گفتگو وہ شخص تو سمجھ سکتا ہے جو عربی زبان کا اعلی درجے کا عالم ہو لیکن اس شخص کے لئے سمجھنا مشکل ہے جو اس زبان کو زیادہ نہ جانتا ہو۔

       بعض اوقات عرب لوگ، ایک ہی چیز کے کئی نام رکھ لیتے ہیں اور بسا اوقات ایک لفظ کے متعدد معانی ہوتے ہیں۔ (ان کا تعین بھی بہت ضروری ہے۔)

معانی سے متعلق یہ تمام نکات جو میں نے بیان کئے، اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں اگرچہ ایسا ممکن ہے کہ ایک عالم ایک بات جانتا ہو اور دوسری بات سے ناواقف ہو جبکہ دوسرا عالم دوسری بات جانتا ہو اور پہلی سے ناواقف ہو۔ اسی زبان میں قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے جو اس سے ناواقف ہو اس کے لئے اس زبان کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔

††††††††† جو شخص بھی عربی زبان سے پوری طرح واقف نہیں ہے، وہ اگر (قرآن کے) صحیح یا غلط سے متعلق کوئی بات کرتا ہے اور اس کی بات نادانستگی میں درست بھی ہو جاتی ہے تو اس شخص نے ایک غلط کام کیا۔ یہ ایسی غلطی ہے جس کے لئے کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے۔

کتاب اللہ کی بظاہر عام آیت جو عمومی نوعیت ہی کی ہے اور خاص اسی میں داخل ہے

پہلی مثال (عام آیت جس کا مفہوم بھی عام ہے)

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ۔

اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (الزمر 39:62 )

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۔

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا۔ (ابراہیم 14:32 )

وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا ۔

زمین میں کوئی ایسا جانور نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔ (ھود 11:6)

یہ وہ عام جملے ہیں جن میں کوئی خاص چیز داخل نہیں ہے۔ ہر چیز جس میں آسمان، زمین، جانور، درخت اور اسی طرح کی تمام چیزیں شامل ہیں۔ اللہ تعالی نے ان سب کو بنایا ہے اور وہی ہر جاندار مخلوق کو رزق پہنچانے والا ہے۔ کس چیز کا مقام کون سا ہے، اس بات کو وہی اچھی طرح جانتا ہے۔

دوسری مثال (عام آیت جس میں عام اور خاص دونوں مراد ہیں)

اللہ تعالی کا ایک اور جگہ ارشاد ہے:

مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ۔

مدینے کے باشندوں اور اس کے گرد و نواح کے رہنے والے دیہاتیوں کو یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پرواہ ہو کر اپنی اپنی جان کی فکر میں لگ جاتے۔ (التوبہ 9:120)

(اس آیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ) یہاں بظاہر تمام عرب دیہاتیوں سے عمومی طور پر خطاب کیا گیا ہے لیکن درحقیقت یہاں ان مخصوص مردوں کا ذکر ہے جو جہاد پر جانے کی طاقت رکھتے تھے۔

††††††††† (دوسرا پہلو یہ ہے کہ) کسی شخص کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے بے پرواہ ہو کر اپنی جان کی فکر میں لگا رہے۔ (یہ ایک عمومی نوعیت کا حکم ہے) جو ان تمام افراد کے لئے ہے خواہ وہ جہاد کرنے کی طاقت رکھتے ہوں یا نہ ہوں۔ اس اعتبار سے اس آیت میں عمومی اور خصوصی دونوں نوعیت کے احکام پائے جاتے ہیں۔

تیسری مثال (آیت بظاہر عام ہے لیکن مراد خاص ہے)

وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا ۔

بوڑھے مرد، عورتیں اور بچے جو کہتے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں اس شہر سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ (النسا 4:75)

حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا ۔

یہاں تک کہ وہ اس بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا۔ (الکہف 18:77)

اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ بستی کے تمام لوگوں سے کھانا نہیں مانگا گیا تھا۔ اس لئے اس کا وہی مطلب ہے جو اس سے پہلے والی آیت کا ہے جس میں شہر کے ظالم لوگوں کا ذکر ہے۔ شہر کے تمام لوگ ظالم نہ تھے کیونکہ ان میں تو وہ مظلوم لوگ خود بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ظالم لوگ ان میں سے چند ہی تھے۔ (یہ اس بات کی مثال ہے کہ لفظ تو عمومی نوعیت کا استعمال کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد خاص افراد ہیں۔)

††††††††† قرآن میں اس بات کی اور بھی مثالیں ہیں لیکن یہ مثالیں کافی ہیں۔ حدیث میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں جو میں اپنے اپنے موقع پر بیان کروں گا۔

بظاہر عام آیت جس میں عام اور خاص دونوں شامل ہوتے ہیں

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا‏.‏ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۔

بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ (الحجرات 49:13)

کُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔‏ أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔

تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن سکو۔ چند مقرر دنوں کے یہ روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی تعداد پوری کر لے۔ (البقرۃ 2:183-184 )

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا ۔

بے شک نماز مومنین پر مقررہ اوقات ہی میں فرض ہے۔ (النساء 4:103)

اللہ تعالی کی کتاب سے یہ واضح ہے کہ بسا اوقات ایک ہی جملے میں خاص اور عام دونوں شامل ہو جاتے ہیں۔ پہلی مذکورہ آیت میں عام جملہ یہ ہے، " بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔" اس آیت میں تمام انسانوں کا ذکر کیا گیا ہے خواہ وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں ہوں یا آپ سے پہلے ہوں یا بعد میں ہوں، خواہ وہ مرد ہوں یا عورت، اور خواہ کسی بھی قوم یا قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

††††††††† اسی آیت میں اس کے بعد " بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔" کا جملہ خاص ہے (کیونکہ اس حکم سے چند مخصوص لوگوں کو مستثنی قرار دیا گیا ہے۔)

††††††††† اللہ سے ڈرنا اولاد آدم کے ہر اس شخص پر لازم ہے جو صاحب عقل اور بالغ ہو۔ اس میں جانور، پاگل، اور نابالغ بچے شامل نہیں ہیں جو تقوی کے مفہوم کو نہیں سمجھتے۔ ایسا شخص جو تقوی کے مفہوم ہی کو نہیں سمجھتا، انہیں اللہ سے ڈرنے والا یا نہ ڈرنے والا قرار دیا ہی نہیں جا سکتا ۔ اللہ کی کتاب اور حدیث اسی بات کو بیان کرتی ہیں جو میں نے بیان کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:

تین قسم کے افراد پر کوئی ذمہ داری نہیں: سونے والا جب تک کہ جاگ نہ جائے، بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور پاگل جب تک کہ تندرست نہ ہوجائے۔ (ترمذی، ابو داؤد، مسند احمد، ابن ماجہ، دارمی)

††††††††† اسی طرح روزے اور نماز کا معاملہ ہے۔ یہ اسی شخص پر فرض ہیں جو عاقل و بالغ ہے۔ جو ابھی بالغ نہیں ہوا یا بالغ ہو گیا ہے مگر پاگل ہے یا دوران حیض، حائضہ عورت ہے ان پر نماز اور روزہ لازم نہیں ہے۔

بظاہر عام آیت جس سے مراد صرف اور صرف خاص ہی ہوتا ہے

پہلی مثال

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

الَّذِينَ قَالَ لَهُمْ النَّاسُ‏:‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ، فَاخْشَوْهُمْ، فَزَادَهُمْ إِيمَانًا، وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ۔

وہ جن سے لوگوں نے کہا، "بہت سی فوجیں تمہارے لئے جمع کی گئی ہیں، ان سے ڈرو۔" اس جملے نے ان کا ایمان مزید بڑھا دیا اور وہ بولے، "ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے"۔ (اٰل عمران 3:173)

اس موقع پر لوگوں کے تین متعین گروہ تھے: ایک تو وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ تھے؛ دوسرے وہ جو ان کے خلاف جمع ہو کر لڑنے کے لئے آئے تھے اور تیسرے وہ جو انہیں ڈرا رہے تھے۔ یہ تیسرا گروہ نہ تو پہلے میں شامل تھا اور نہ ہی دوسرے میں۔ یہاں یہ واضح ہے کہ لفظ "ناس" یعنی لوگوں سے پوری نسل انسانیت مراد نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ مراد ہے جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تھا یا جو انہیں اس حملے سے ڈرا رہا تھا۔ یہ بات معلوم ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے کوئی بھی پوری نسل انسانیت پر مشتمل نہ تھا۔

††††††††† چونکہ عربی زبان میں لفظ "ناس" یعنی لوگوں کا اطلاق کم از کم تین افراد پر یا پوری نسل انسانیت پر یا پھر ان کے درمیان انسانوں کی کسی بھی تعداد پر کیا جا سکتا ہے، اس لئے عربی زبان میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ "لوگوں نے کہا" جبکہ وہ لوگ محض چار آدمی ہی ہوں جنہوں نے مسلمانوں کو اس حملے سے ڈرایا۔ یہ وہی تھے جو احد کی جنگ میں پلٹ کر بھاگ جانے والوں میں سے تھے۔

††††††††† ان تینوں گروہوں کی تعداد محدود تھی۔ جو لوگ مسلمانوں پر حملے کے لئے جمع ہوئے، ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ تھی جو انہی کے شہروں سے تعلق رکھتے تھے لیکن حملہ آور ہونے کے لئے جمع ہونے والوں میں شامل نہ ہوئے۔

دوسری مثال

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

يَاأَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ‏.‏ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوْ اجْتَمَعُوا لَهُ، وَإِنْ يَسْلُبْهُمْ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ‏.‏ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ۔

لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے، اسے غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ہرگز نہیں کر سکتے، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد طلب کی گئی ہے وہ بھی کمزور۔ (الحج22:73)

††††††††† اس آیت میں بھی بظاہر تو خطاب تمام انسانوں سے لگتا ہے لیکن عربی زبان کے اہل علم اس بات سے آگاہ ہیں کہ یہاں عام لفظ "ناس" کا استعمال بعض مخصوص لوگوں کے لئے کیا گیا ہے۔ یہاں پر خطاب صرف انہی لوگوں سے کیا گیا ہے جو اللہ کو سوا کچھ اور معبودوں کو پکارتے تھے۔۔۔اللہ تعالی پاک ہے اس شرکیہ فعل سے جو وہ کہا کرتے تھے۔۔۔۔ اس آیت میں "ناس" سے مراد تمام انسان اس لئے بھی نہیں لئے جا سکتے کیونکہ اس میں اہل ایمان، پاگل اور نابالغ افراد بھی شامل ہو جائیں گے جو اللہ کے سوا کسی اور نہیں پکارتے۔

††††††††† اس دوسری آیت میں بھی "ناس" سے مراد ایسے ہی ہے جیسا کہ پہلی آیت میں لیکن پہلی آیت ان لوگوں پر بھی بالکل واضح ہے جو عربی زبان زیادہ نہیں جانتے۔ دوسری آیت عربی زبان کے علماء پر زیادہ واضح ہے۔

تیسری مثال

ایک اور مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ "‏ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ" یعنی "پھر وہاں سے واپس مڑو جہاں سے لوگ واپس مڑتے ہیں۔" (البقرہ 2:199 یہ بات واضح ہے کہ پوری دنیا کے انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں عرفات میں اکٹھے نہیں ہوتے تھے۔ اس آیت میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ہے جو اس آیت کے مخاطب تھے لیکن عربی زبان میں "ناس" کا استعمال بالکل درست ہے اور یہاں بھی "ناس" بول کر بعض انسان مراد لئے گئے ہیں۔

††††††††† یہ آیت بھی پہلی دو آیتوں کی طرح ہے۔ اگرچہ پہلی آیت، دوسری آیت کی نسبت اور دوسری تیسری کی نسبت، غیر اہل عرب کے لئے زیادہ واضح ہے لیکن اہل زبان کے لئے یہ تینوں آیات ہی اس مفہوم میں بالکل واضح ہیں کہ یہاں لفظ "انسان" بول کر "بعض انسان" مراد لئے گئے ہیں۔ ان میں سے جو آیت عربی زبان سے ناواقف لوگوں پر سب سے کم واضح ہے، اس میں بھی یہ مفہوم پوری طرح سمجھ میں آ جاتا ہے۔ سننے والے کا مقصد بولنے والے کی بات کو سمجھنا ہوتا ہے اور سب سے کم واضح بات بھی چونکہ مفہوم کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے اس لئے کافی ہے۔

چوتھی مثال

اسی طرح قرآن مجید کی آیت " وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ " یعنی "جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔" میں یہ بات واضح ہے کہ یہاں "انسان" سے مراد بعض انسان ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا "إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى‏.‏ أُوْلَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ۔" یعنی بے شک وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی (یعنی نجات) کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہو گا، وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے۔ (الانبیاء 21:101)

ایسے احکام جن کے خاص و عام کی وضاحت سیاق و سباق سے ہوتی ہے

اللہ تبارک تعالی کا ارشاد ہے:

وَاسْأَلْهُمْ عَنْ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا، وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ‏.‏ كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ۔

ذرا اس قصبے کا حال بھی ان سے پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھا۔ انہیں یاد دلاؤ کہ وہ لوگ ہفتے کے دن سے متعلق احکام الہی کی خلاف ورزی کیا کرتے تھے جبکہ مچھلیاں ہفتے کے دن ہی اچھل اچھل کر سطح پر آتی تھیں اور اس کے علاوہ دوسرے دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لئے ہو رہا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کے باعث انہیں آزمائش میں ڈال رہے تھے۔ (الاعراف 7:163)

اللہ جل ثناؤہ نے یہاں ایک قصبے کا ذکر کیا ہے جو کہ سمندر کے کنارے واقع تھا لیکن جہاں اس نے یہ فرمایا کہ "وہ خلاف ورزی کرتے تھے" تو اس میں 'وہ' سے مراد اس قصبے کے رہنے والے ہیں کیونکہ قصبہ بذات خود نہ تو کسی حکم کی خلاف ورزی کر سکتا ہے اور نہ ہی نافرمان ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے خلاف ورزی کرنے والے اس قصبے کے باشندے ہی تھے جنہیں اللہ تعالی نے ان کی نافرمانی کے باعث آزمانے کے لئے ہفتے کے دن مچھلیاں بھیجیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:

َكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً، وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ۔‏ فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ۔

کتنی ہی ظالم بستیاں تھیں جنہیں ہم نے پیس کر رکھ دیا اور ان کے بعد دوسری قوم کو اٹھایا۔ جب انہیں ہمارا عذاب آتا محسوس ہوا تو وہ لگے وہاں سے بھاگنے۔ (الانبیاء 21:11-12 )

اس آیت میں بھی واضح ہے کہ یہ پچھلی آیت کی طرح ہے۔ اس میں ظالم بستیوں کو پیس کر رکھ دینے کا ذکر ہوا ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ ظالم اس کے رہنے والے تھے کیونکہ بستی کے مکانات تو ظلم کرنے سے رہے۔ اس کے بعد ان کے بعد میں اٹھائی جانے والی قوموں کا ذکر ہوا۔ یہاں عذاب پانے والوں کے احساس کا ذکر بھی ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ احساس صرف انسان ہی کو ہو سکتا ہے نہ کہ بستی کو۔

ایسے احکام جو بین السطور پوشیدہ (Implied) ہوتے ہیں مگر الفاظ میں بیان نہیں ہوتے

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

َما شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا، وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حافِظِينَ‏، وَاسْأَلْ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا، وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا، وَإِنَّا لَصَادِقُونَ۔

(برادران یوسف نے کہا) جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہم بس وہی بیان کر رہے ہیں، اور غیبی علوم کی نگہبانی ہم تو نہ کر سکتے تھے۔ آپ اس قصبے سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے، اس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم یہاں آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں سچے ہیں۔(یوسف 12:81-82 )

اس آیت کا مطلب بھی پچھلی آیت کی طرح ہی ہے۔ اس کے بارے میں عربی زبان کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائیوں نے اپنے والد ماجد سے عرض کیا کہ آپ اس "قصبے" اور "قافلے" یہ پوچھ لیجیے۔ اس سے مراد قصبے یا قافلے کے لوگ ہیں کیونکہ قصبہ یا قافلہ تو انہیں سچی بات بتانے سے رہا۔

ایسے بظاہر عام احکام جن کی وضاحت سنت سے ہوتی ہے کہ وہ خاص ہیں

پہلی مثال

اللہ تبارک تعالی کا ارشاد ہے:

وَلأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلأُمِّهِ السُّدُسُ۔

اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکے کا چھٹا حصہ ہے اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی وارث ہوں تو ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حقدار ہو گی۔ (النسا 4:11 )

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوْ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ۔

تمہاری بیویوں نے جو کچھ ترکہ چھوڑا ہے، تمہارے لئے اس کا نصف حصہ ہے اگر وہ بے اولاد ہوں۔ اولاد ہونے کی صورت میں تم چوتھائی حصے کے حق دار ہو جبکہ میت کی کی گئی وصیت پوری کر دی گئی ہو اور اس پر واجب الادا قرض ادا کر دیا گیا ہو۔ وہ (بیویاں) تمہارے ترکے سے چوتھائی حصے کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا اگر وصیت جو تم نے کی تھی، پوری کر دی جائے یا قرض جو تم نے چھوڑا تھا ادا کر دیا جائے۔ اگر وہ مرد و عورت بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا بہن ہو، تو بھائی یا بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکے کے تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے جبکہ میت کی طرف سے کی گئی وصیت پوری کر دی جائے اور میت پر واجب الادا قرض ادا کر دیا جائے بشرطیکہ کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے۔ ۔ (النسا 4:12 )

††††††††† اللہ تعالی نے یہ واضح کر دیا کہ والدین اور شریک حیات ان لوگوں میں سے ہیں جن کا ذکر (ہر طرح کی) صورت حال میں کیا گیا ہے، یہ عام الفاظ میں بیان ہوئے ہیں (اور اس سے یہ سمجھ میں آ سکتا تھا کہ تمام والدین اور شریک حیات ہی مراد ہیں۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کے ذریعے اس بات کی وضاحت ہو گئی کہ اس سے مراد تمام والدین اور شریک حیات نہیں بلکہ صرف وہ والدین، اولاد اور شریک حیات ہیں جن کا دین ایک ہی ہو اور ان میں سے ہر وارث نہ تو میت کا قاتل ہو اور نہ ہی غلام ہو۔

††††††††† اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: " جبکہ میت کی طرف سے کی گئی وصیت پوری کر دی جائے اور میت پر واجب الادا قرض ادا کر دیا جائے"۔ اس بات کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمائی کہ وصیت کی حد کل ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور وارثوں کے لئے دو تہائی مال چھوڑ دینا چاہیے۔ آپ نے اس بات کی وضاحت بھی فرمائی کہ قرض، وصیت اور میراث کی تقسیم سے پہلے ادا کیا جائے گا۔ میت کے قرض کی ادائیگی سے پہلے نہ تو وصیت پر عمل کیا جائے گا اور نہ ہی میراث تقسیم کی جائے گی۔

††††††††† اگر حدیث کی یہ وضاحت نہ ہوتی، اور اس پر لوگوں کا اجماع نہ ہو گیا ہوتا، تو میراث کی تقسیم وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد نہ ہوتی (بلکہ شاید پہلے ہی ہو رہی ہوتی)۔ وصیت شاید قرض سے مقدم ہو جاتی یا اس کا درجہ قرض کے برابر آ جاتا۔

نوٹ: قرآن مجید اپنے مخاطبین کے لئے بالکل واضح ہے۔ وراثت کے احکام میں ہی یہ بیان فرما دیا گیا ہے کہ "لا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعاً" یعنی "تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے وارثوں میں سے کون تم سے فائدے میں زیادہ قریب ہے۔" اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وراثت سے متعلق اللہ تعالی نے جو احکام بیان فرما دیے ہیں ان کی بنیاد رشتوں کا "فائدہ" ہے۔ جب ایک شخص اپنے باپ کو قتل کر دے یا اپنا دین بدل لے تو اس کے نتیجے میں یہ "فائدہ" ختم ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسی کی وضاحت فرمائی ہے۔ اسی طرح آپ نے وصیت کی حد مقرر فرمائی تاکہ لوگ پورے مال کی وصیت کر کے وارثوں کو ان کے جائز حق سے محروم نہ کرنے لگ جائیں۔ ادائیگی کی ترتیب کہ پہلے قرض، پھر وصیت اور پھر وراثت کی تقسیم بھی قرآن سے بالکل واضح ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عملی صورتوں میں مزید واضح فرما دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی یہ وضاحتیں اس بات کو بالکل متعین کر دیتی ہیں جو کہ قرآن مجید کا منشا ہے۔

دوسری مثال

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا ۔

جب تم نماز کے لئے اٹھو تو منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر مسح کر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ۔ (المائدہ 5:6)

††††††††† اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کے لئے پاؤں کو بھی اسی طرح دھونا ضروری ہے جیسا کہ منہ اور ہاتھوں کو دھونا ہر شخص پر لازم ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے موزوں پر مسح بھی فرمایا اور یہ حکم بھی دیا کہ اگر کسی شخص نے موزے پہن رکھے ہیں تو وہ مسح کر لے۔ اس سے طہارت مکمل ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ پاؤں دھونے کی یہ ذمہ داری ہر وضو کرنے والے شخص پر نہیں ہے بلکہ بعض افراد پر ہے (یعنی جس نے موزے نہ پہن رکھے ہوں)۔

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تیمم پر قیاس فرماتے ہوئے موزے اور عمامے پر مسح کی اجازت دی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وضو کرنے والے کو بار بار جرابیں اتارنے یا عمامے کو کھول کر دوبارہ باندھنے کی مشقت سے بچایا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین عملی معاملات میں آسانی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

تیسری مثال

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنْ اللَّهِ ۔

چور، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ (المائدہ 5:38)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وضاحت فرما دی، "پھل اور سبزی کی چوری کی صورت میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔" اور یہ کہ "ہاتھ اسی صورت میں کاٹا جائے گا اگر چوری کے مال کی قیمت ربع دینار یا اس سے زیادہ ہے۔" (ترمذی، مالک، ابو داؤد، مسند احمد)

نوٹ: آیت میں یہ سزا اس شخص کے لئے بیان نہیں کی گئی جس نے چوری کر لی ہو بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ "چور کے ہاتھ کاٹو۔" عربی زبان میں یہ اسم صفت کا صیغہ ہے جس میں چوری کے لئے اہتمام کرنے کا مفہوم شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جائے گی جس نے پورے اہتمام اور پلاننگ سے چوری کی ہو۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے معمولی مقدار کی چوری پر یہ سزا عائد نہیں فرمائی۔ اسی بنیاد پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ قحط جیسی ایمرجنسی کی صورت میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی۔ اسی بنیاد پر فقہا کے ایک بڑے گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کسی نے سڑک پر پڑی ہوئی چیز اٹھا لی تو اسے ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی۔ یہ سزا اسے دی جائے گی جس نے کسی محفوظ مقام سے مال چرایا ہو۔ جج ایسے شخص کو ہاتھ کاٹنے سے کم کوئی سزا دے سکتا ہے تاکہ وہ آئندہ اس قسم کی حرکت سے محفوظ رہے۔

چوتھی مثال

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۔

زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ (النور 24:2)

لونڈیوں کے بارے میں ارشاد ہے:

فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنْ الْعَذَابِ ۔

پھر جب وہ نکاح کر لیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کا ارتکاب کریں تو ان پر اس سزا کی نسبت آدھی سزا ہے جو محصنات کے لئے مقرر ہے۔ (النسا 4:25)

††††††††† قرآن نے حکم دیا ہے کہ سو کوڑے کی سزا آزاد کے لئے ہے نہ کہ غلام کے لئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے شادی شدہ عورتوں کو زنا کرنے پر رجم فرمایا اور انہیں کوڑوں کی سزا نہ دی۔ اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ زنا کرنے پر سو کوڑے کی سزا آزاد اور کنواری عورتوں کے لئے ہے۔ اسی طرح آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا صرف اسی چور کے لئے ہے جو کہ کسی محفوظ جگہ سے چوری کرے اور یہ کہ چوری کے مال قیمت کم از کم ربع دینار ہو۔ جو چیز (حدیث میں بیان کردہ) اس تعریف پر پوری نہ اترے، اسے زنا یا چوری نہیں کہا جائے گا۔

پانچویں مثال

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ، وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۔

جان لو کہ جو مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے۔ (الانفال 8:41)

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کل وقتی طور پر حکومتی و دعوتی معاملات چلا رہے تھے اور آپ کے پاس وقت نہ تھا کہ آپ اپنی ذات اور معاشی معاملات کی کفالت کرتے۔ اس وجہ سے مال غنیمت کے خمس (یعنی بیس فیصد حصے) میں یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے حصے کے علاوہ حضور اور آپ کے زیر کفالت افراد کا حصہ مقرر کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ حضور اور آپ کے گھر والے اپنے حصے کو بھی زیادہ تر یتیموں اور مسکینوں پر ہی خرچ فرماتے اور اپنے گھر میں کئی کئی دن چولہا جلنے کی نوبت بھی نہ آتی۔ مال غنیمت کا باقی حصہ (80%) اہل لشکر میں تقسیم کر دیا جاتا۔

††††††††† اس معاملے میں بنو ہاشم کے ان افراد کا حصہ خاص طور پر مقرر فرمایا گیا جنہوں نے مکہ میں کفار کے مقابلے پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی غیر معمولی مدد کی۔ ہاشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پردادا تھے۔ ان کے دو بھائی مطلب اور عبد شمس تھے۔ مطلب کی اولاد میں سے بعض افراد جو کہ بنی ہاشم سے بھی رشتہ داری رکھتے تھے، کو ان کی خدمات کے عوض خاص طور پر خمس میں سے حصہ دیا گیا۔ ان خدمات میں خاص طور پر شعب ابی طالب میں حضور کے ساتھ اہل مکہ کے بائیکاٹ کو برداشت کرنا ہے۔ جب بھی اہل قریش نے حضور پر حملہ کرنا چاہا تو بنو ہاشم، خواہ وہ آپ پر ایمان لائے تھے یا نہ لائے تھے، انہوں نے آپ کی حفاظت کی۔ امام شافعی کی اس بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنو ہاشم کا حصہ محض رشتہ داری کی بنیاد پر نہ تھا بلکہ ان کی خدمات کے عوض انہیں یہ حصہ دیا گیا۔

اس آیت میں بیان کردہ "رشتہ داروں" کا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو عطا فرمایا۔ اس حدیث سے واضح ہو گیا کہ "رشتے داروں" سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب تھے اور ان کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ ویسے تو تمام قریش ہی آپ کے رشتے دار تھے۔ اس رشتے میں بنو عبد شمس اور بنو مطلب برابر تھے کیونکہ یہ سب ایک باپ اور ماں کی اولاد ہیں۔ اس معاملے میں بنو مطلب میں بعض لوگوں کو دوسروں کی نسبت یہ انفرادیت حاصل تھی کہ وہ بنو ہاشم میں سے بھی تھے۔

††††††††† بنو مطلب کے تمام افراد کو حصہ نہ دیا گیا بلکہ صرف انہی کو حصہ دیا گیا جو بنو مطلب میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ بنو ہاشم سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنو ہاشم کو ایک مخصوص حصہ دیا گیا جو کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دوسرے رشتہ داروں کو نہ دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے شعب (ابی طالب) میں اور اس سے پہلے اور بعد کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی مدد کی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے انہیں خاص حصہ عطا فرمایا۔

††††††††† بنو ہاشم، قریش ہی کا قبیلہ تھا، جسے اسے رشتہ داری میں خمس میں سے حصہ دیا گیا۔ ان کے مساوی بنو نوفل (ہاشم کے بھائی نوفل کی اولاد) بھی تھے (انہیں حصہ نہ دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ) وہ ہاشم سے مختلف ماں سے تعلق رکھتے تھے۔

††††††††† اللہ تعالی نے یہ فرمایا کہ " جو مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول۔۔۔کے لئے ہے " جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حملے کی صورت میں (دشمن کو) قتل کرنے والے کو مقتول کا ذاتی مال (جیسے تلوار وغیرہ) عطا فرمایا۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں حاصل ہونے والے مال غنیمت، جس میں بیس فیصد حصہ نکالا جاتا ہے اور بغیر جنگ کے حاصل کردہ مال غنیمت میں فرق ہے۔ ایسی جنگ جس میں حملہ نہ کیا گیا ہو، میں حاصل کردہ دشمن کے مقتول سپاہی کی ذاتی اشیاء کا معاملہ سنت کے مطابق حملے کی صورت میں مال غنیمت ہی کا سا ہے۔ اس میں پانچواں حصہ نکالا جائے گا (جو غرباء میں تقسیم کیا جائے گا۔)

نوٹ: جنگ کی صورت میں دشمن کے ہاتھ آئے ہوئے معاملے میں یہ قانون بنایا گیا کہ پورے مال کو اکٹھا کیا جائے گا اور اس کا بیس فیصد غرباء و مساکین پر خرچ کیا جائے گا جبکہ اسی فیصد اہل لشکر میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ لیکن جنگ میں اگر ایک شخص دشمن کے کسی سپاہی کو قتل کر دے اور اس کے جسم پر موجود اشیاء جیسے تلوار یا گھڑی وغیرہ اتار لے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ اسی شخص کا حق ہے جس نے دشمن کے سپاہی کو مارا ہے۔ اس میں سے بیس فیصد حصہ الگ نہ کیا جائے گا۔

††††††††† اگر حکومتی فوج نے دشمن پر حملہ کیا ہو تو دشمن کے مقتول سپاہی کا ذاتی مال، اسے مارنے والے فوجی کا حق ہو گا لیکن اگر حملہ نہ کیا گیا ہو تو اس صورت میں دشمن کے مقتول سپاہی کا ذاتی مال بھی مال غنیمت میں شامل کر کے اکٹھا کیا جائے گا جس میں بیس فیصد غرباء کا حصہ نکالنے کے بعد اسی فیصد حکومتی فوج کے سپاہیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

††††††††† اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث مبارکہ کا یہ استدلال موجود نہ ہوتا اور ہم قرآن مجید کے ظاہری الفاظ کی بنیاد پر ہی فیصلہ کر رہے ہوتے تو اس صورت میں:

       ہم ہر اس شخص کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دیتے جس کے عمل کو "چوری" کہا جاتا؛

       ہر اس آزاد شادی شدہ عورت کو کوڑوں کی سزا دیتے جس کے عمل کو "زنا" کہا جاتا؛

       خمس میں سے رشتے داروں کا حصہ ہر اس شخص کو دیتے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے رشتے داری ہوتی۔ اس کے نتیجے میں بہت سے ایسے لوگوں کو بھی حصہ ملتا جن کا تعلق خون اور نسل کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسے ہے؛

دشمن کے مقتول سپاہی کے ذاتی مال میں سے بھی بیس فیصد غرباء کے لئے نکالا جاتا کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا مال غنیمت ہے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter††††††††