بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 6: ناسخ و منسوخ احکامات

اللہ تعالی نے اپنے ازلی علم کے مطابق انسان کو جس مقصد کے لئے بھی بنایا، اس کا حکم تبدیل کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے اور وہ حساب تیز رفتاری سے لیتا ہے۔ اس نے ان پر ایسی کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو واضح کرنے والی اور ہدایت و رحمت ہے۔ اس کتاب میں اس نے ایسے احکام بیان کیے ہیں جن کا حکم باقی ہے اور ایسے احکام بھی جن کا حکم اس نے منسوخ کر دیا ہے۔ یہ اس کا لوگوں پر احسان ہے کہ وہ ان کا بوجھ ہلکا کرتا ہے اور ان پر آسانی کرتا ہے۔ اس نے ان پر جو نعمتیں فرمائی ہیں وہ ان میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ جو احکام اس نے ان پر لازم کئے ہیں، ان پر عمل کرنے کے نتیجے میں وہ انہیں جنت عطا کرے گا اور جہنم کی سزا سے نجات دے گا۔ جو حکم اس نے باقی رکھا یا جو منسوخ کیا اس میں اس کی رحمت ہی شامل ہے۔ ان تمام نعمتوں پر ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔

نوٹ: بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم کو تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ہر حال میں یکساں رہنا چاہیے تو یہ ناسخ و منسوخ کا کیا مطلب ہے؟ یہ سوال ایک غلط مفروضے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے دین میں جو احکام نازل فرمائے ہیں ان میں حالات کے پیش نظر تدریجی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ جب قرآن نازل ہو رہا تھا تو اللہ تعالی نے احکام کو تدریجاً نافذ کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اچانک احکام نافذ کر دینے کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے۔ پہلے لوگوں کے ذہنوں کو اللہ تعالی کی اطاعت پر تیار کیا گیا اور اس کے بعد احکام دیے گئے۔ بعض احکام وقتی نوعیت کے تھے جن کا تعلق مخصوص حالات سے تھا۔ حالات تبدیل ہونے کے بعد اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا۔

††††††††† فقہ کی اصطلاح میں "منسوخ" ایسے حکم کو کہتے ہیں جس پر عمل کرنے سے منع کر دیا گیا ہو۔ اس کی جگہ جو نیا حکم نافذ کیا گیا ہو، اسے "ناسخ" یعنی منسوخ کرنے والا کہا جاتا ہے۔

††††††††† اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ اللہ کی کتاب میں دیے گئے حکم کو یہ کتاب ہی منسوخ کر سکتی ہے۔ کتاب اللہ کے کسی حکم کو حدیث منسوخ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ کتاب اللہ کے تابع ہے۔ سنت کا دائرہ تو کتاب اللہ کے احکامات کی وضاحت ہی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ‏.‏ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي؛ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ‏.‏ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔

جب انہیں ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں، "اس کی بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اسی میں کوئی ترمیم کر لو۔" اے پیغمبر! آپ کہیے، "میرا یہ کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تغیر و تبدل کر لوں۔ میں تو بس اسی وحی کا پیروکار ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔" (یونس 10:15 )

††††††††† یہاں اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بتایا ہے کہ آپ کے ذمے وحی الہی کی صرف اتباع ہے اور آپ اپنی طرف سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔ اس ارشاد میں کہ " مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي " یعنی " میرا یہ کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تغیر و تبدل کر لوں " وہ بات بیان ہوئی ہے جس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں کہ اللہ کی کتاب کے کسی قانون کو اس کے سوا کوئی اور چیز منسوخ نہیں کر سکتی۔ جیسا کہ صرف اللہ تعالی ہی اپنا حکم جاری کر سکتا ہے اسی طرح یہ بات بھی صرف اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے حکم کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھے (یا منسوخ کر دے)۔ اس کے سوا کسی اور کو یہ اختیار حاصل نہیں۔

††††††††† اسی طرح اللہ تعالی کا ارشاد ہے" يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ، وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ " یعنی "اللہ تعالی اپنے احکام میں سے جسے چاہے لے جاتا ہے اور جسے چاہے باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے" اس معاملے میں بعض اہل علم کا یہ موقف ہے کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ، اللہ تعالی کی اجازت سے اس معاملے میں کوئی قانون سازی کر سکتے ہیں جس میں اللہ تعالی نے کوئی حکم نازل نہیں کیا۔ اس کے اس ارشاد میں کہ "وہ جو چاہے لے جاتا ہے" میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی جس حکم کو چاہے باقی رکھتا ہے اور جسے چاہے منسوخ کر دیتا ہے۔ اللہ کی کتاب میں اس بات کی دلیل یہ ہے:

مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا‏.‏ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔

اگر ہم کسی آیت کو منسوخ کر دیں یا اسے بھلا دیں تو ہم اس سے بہتر یا ویسی ہی آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرہ2: 106)

اللہ تعالی نے یہ بات بتا دی ہے کہ قرآن کے کسی حکم کا نسخ یا اس کے کسی حکم کو موخر کرنا صرف قرآن مجید ہی سے ہو سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ‏:‏ قَالُوا‏:‏ إِنَّمَا أَنْتَ مُفْتَرٍ۔

جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری نازل کرتے ہیں اور اللہ ہی یہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تویہ لوگ کہتے ہیں کہ تم خود قرآن گھڑتے ہو ۔ (النحل 16:101)

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کا معاملہ ہے۔ سنت کا نسخ سنت رسول ہی سے ہو سکتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کوئی سنت جاری فرما چکے ہوں اور اللہ تعالی اس معاملے میں کوئی اور حکم جاری کرنا چاہے تو آپ اس میں اللہ تعالی کے حکم ہی کی پیروی میں نئی سنت جاری فرمائیں گے یہاں تک کہ لوگوں پر واضح ہو جائے گا کہ اس سنت نے اس سے پہلے والی سنت کو منسوخ کر دیا ہے۔ اسی بات کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث میں ہے۔

سائل: قرآن کو قرآن سے منسوخ کرنے کی دلیل تو خود قرآن میں مل جاتی ہے کیونکہ قرآن بے مثل ہے۔ کیا سنت کے بارے میں بھی ایسی کوئی دلیل ہے؟

شافعی: جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکام کی اتباع لوگوں پر اللہ نے لازم کی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سنت رسول کو اللہ کے حکم کی حیثیت سے قبول کیا جائے گا۔ جو اس کی پیروی کرتا ہے وہ کتاب اللہ کے حکم کے تحت ہی ایسا کرتا ہے۔ ہمیں سوائے اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکی سنت کے اور تو ایسی کوئی بات نہیں ملتی جسے اللہ تعالی نے لازم کیا ہو۔

††††††††† جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ چونکہ کسی مخلوق کا کوئی قول سنت سے مشابہ نہیں ہے اس لئے اس کا نسخ صرف اسی کے مماثل کسی چیز سے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم†† کی سنت کے علاوہ کوئی چیز اس کے مماثل نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالی نے کسی شخص کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکی طرح کا نہیں بنایا۔ بلکہ اس نے اپنے بندوں پر تو آپ کی اطاعت کو لازم کیا ہے اور آپ کا حکم ماننا ضروری قرار دیا ہے۔ تمام مخلوق آپ کی پیروکار ہے۔ ایک پیروکار کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ آپ کے حکم سے اختلاف کرے۔ جب سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا اتباع لازم ہے تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اس میں سے کسی چیز کو منسوخ کر سکے۔

سائل: کیا اس بات کا امکان ہے کہ کوئی منسوخ سنت تو ہم تک منتقل ہو گئی جبکہ اس کو منسوخ کرنے والی ناسخ سنت منتقل نہ ہو سکی؟

شافعی: اس بات کو کوئی امکان نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو چیز فرض نہیں ہے وہ تو منتقل ہو جائے جبکہ جو چیز فرض کر دی گئی ہے وہ ترک کر دی جائے؟ کیا یہ درست ہے کہ ایک ایسی سنت جس پر عام لوگوں کا عمل ہے، وہ ان کے عمل سے نکل جائے اور وہ کہہ سکیں، "شاید یہ منسوخ ہو گی؟" کوئی حکم اس وقت تک منسوخ نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی جگہ دوسرا حکم نہ دے دیا جائے جیسا کہ بیت المقدس کے قبلے کی منسوخی کی صورت میں ہوا۔ اس کی جگہ پر کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا۔ اسی طرح اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمدونوں کے ہر منسوخ حکم کا معاملہ ہے (کہ منسوخ ہونے کے بعد ناسخ حکم کو جاری بھی کیا جائے گا۔)

سائل: کیا سنت کے کسی حکم کو قرآن کے کسی حکم کے ذریعے منسوخ کی جا سکتی ہے؟

شافعی: اگر سنت کو قرآن سے منسوخ کیا جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ایک اور سنت جاری ہو گی جو یہ واضح کر دے گی کہ پہلی سنت دوسری سے منسوخ ہے یہاں تک کہ انسانوں پر حجت پوری ہو جائے کیونکہ ہر چیز اس کے مماثل سے ہی منسوخ ہو سکتی ہے۔

سائل: آپ نے جو فرمایا، اس کی دلیل کیا ہے؟

جواب: جیسا کہ میں نے اس کتاب میں متعلقہ مقام پر اللہ تعالی کے احکام، خواہ وہ خاص ہو یا عام کے بارے میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ تعالی کے حکم کے سوا کوئی بات کبھی نہیں کہہ سکتے۔ اگر اللہ تعالی نے کوئی حکم دیا ہے اور وہ اسے منسوخ کر سکتا ہے تو (بالکل اسی طرح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت (اللہ کے حکم آ جانے پر) بھی دوسری سنت کو منسوخ کر سکتی ہے۔

††††††††† اگر یہ کہنا درست ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک سنت قائم کی اور پھر قرآن نے اسے منسوخ کر دیا اور اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی ناسخ سنت ہمیں نہیں مل سکی تو کہنا بھی درست ہو جائے گا کہ:

       حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بعض اقسام کی تجارت کو ناجائز قرار دے رکھا تھا جسے اللہ تعالی نے اس آیت سے منسوخ کیا " وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا " یعنی "اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔" (اب اس بنیاد پر لین دین سے متعلق آپ کے احکام اس آیت سے منسوخ ہو گئے۔)

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بدکاروں کو رجم کیا اور اس رجم کو اللہ تعالی نے اس آیت سے منسوخ قرار دیا " الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ " یعنی "زانی اور زانیہ میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔"

       موزوں پر مسح کی سنت کو آیت وضو نے منسوخ کر دیا۔

       غیر محفوظ مقام اور ربع دینار سے کم کی چوری کرنے کی صورت میں بھی چوری کی سزا دی جائے گی کیونکہ یہ سنت قرآن کی آیت " السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا " یعنی "چور مرد و عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔" سے منسوخ سمجھی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چوری خواہ کم ہو یا زیادہ، محفوظ مقام سے کی جائے یا غیر محفوظ مقام سے، ہر حالت میں چوری ہی کہلاتی ہے۔

اس طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مروی ہر حدیث کو، اگر وہ ہمیں بظاہر قرآن کے مطابق نہ لگے، یہ کہہ رد کیا جا سکتا ہے کہ "آپ نے ایسا نہیں فرمایا ہو گا۔" اس طرح سے ان دو بنیادوں پر حدیث کو رد کرنے کو درست سمجھ لیا جائے گا: ایک تو یہ کہ اگر حدیث کے الفاظ قرآن کے الفاظ سے کچھ مختلف ہوں اگرچہ اس کا معنی کتاب اللہ سے موافقت رکھتا ہو (تو اسے رد کر دیا جائے) یا پھر اس کے الفاظ اگر آیت کے الفاظ سے کچھ زیادہ ہوں (تب بھی اسے کر دیا جائے) اگرچہ ان میں معمولی نوعیت کا فرق پایا جائے۔

††††††††† اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے اس رائے کے خلاف اور جو کچھ ہم نے کہا اس کی موافقت میں استدلال کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کی کتاب وہ واضح بیان ہے جس کے ذریعے وہ اندھوں کو شفا دیتا ہے۔ اسی کتاب میں قانون اور دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مقام، آپ کے حکم کی پیروی (کی اہمیت) اور دین کی وضاحت کے بارے میں آپ کی حیثیت کو بیان کر دیا گیا ہے۔

ایسے ناسخ و منسوخ جن کے بارے میں کتاب اللہ سے بعض اور حدیث سے بعض احکام ملتے ہیں

ہم نے بعض اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالی نے پانچ نمازوں کو فرض کرنے سے قبل ایک اور نماز فرض کی تھی چنانچہ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

یا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ۔ قُمْ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا۔ نِصْفَهُ أَوْ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا۔ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلْ القُرَآن تَرْتِيلًا۔

اے چادر اوڑھنے والے! رات کو تھوڑی دیر نماز میں کھڑے رہیے، آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ کر لیجیے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے۔ (المزمل 73:1-4)

اس حکم کو اللہ تعالی نے اسی سورت میں اس طرح سے منسوخ کر دیا۔

إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِنْ ثُلُثَي اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ الَّذِينَ مَعَكَ، وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‏.‏ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْ القُرَآن، عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ، وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ۔

آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کبھی دو تہائی رات، کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی رات نماز میں گزارتے ہیں اور آپ کے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ ایسا ہی کرتا ہے۔ اللہ تعالی ہی رات اور دن کا حساب رکھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ آپ اوقات کا صحیح شمار نہیں کر سکتے، اس لئے اس نے آپ پر مہربانی فرمائی۔ اب جتنا قرآن بھی آسانی سے پڑھ سکیں، تلاوت کر لیا کریں۔ اسے معلوم ہے کہ آپ لوگوں میں کچھ مریض ہوں گے اور کچھ اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے کے لئے زمین میں بھاگ دوڑ کرتے ہوں گے اور کچھ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہوں گے۔ پس جتنا قرآن باآسانی پڑھا جا سکے، پڑھ لیا کریں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں۔ (المزمل 73:20)

اللہ تعالی نے پہلے یہ حکم دیا کہ آپ رات کے نصف یا اس سے کچھ کم و بیش حصے کو نماز میں گزاریے اور پھر یہ فرمایا کہ " آپ کبھی دو تہائی رات، کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی رات نماز میں گزارتے ہیں اور آپ کے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ ایسا ہی کرتا ہے "۔ اس کے بعد اس میں اس میں یہ کہتے ہوئے تخفیف فرما دی کہ " اسے معلوم ہے کہ آپ لوگوں میں کچھ مریض ہوں گے اور کچھ اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے کے لئے زمین میں بھاگ دوڑ کرتے ہوں گے اور کچھ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہوں گے۔ پس جتنا قرآن باآسانی پڑھا جا سکے، پڑھ لیا کریں۔"اس طرح سے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں " پس جتنا قرآن باآسانی پڑھا جا سکے، پڑھ لیا کریں " کے الفاظ سے نصف رات یا اس سے کم و بیش کے قیام کو منسوخ فرما دیا۔

††††††††† اللہ تعالی کے اس ارشاد " پس جتنا قرآن باآسانی پڑھا جا سکے، پڑھ لیا کریں " میں دو احتمال ممکن ہو سکتے ہیں: ایک تو یہ کہ یہ لازمی فرض ہے جس نے اس سے پہلے والے فرض کو منسوخ کر دیا۔ دوسرا احتمال یہ ہو سکتا تھا کہ یہ بذات خود ایک منسوخ حکم ہے جو کہ کسی اور (تیسرے) حکم سے اسی طرح منسوخ ہو چکا ہے جیسا کہ اس نے پہلے حکم کو منسوخ کر دیا۔ اس حکم کو منسوخ کرنے والا حکم یہ ہے:

وَمِنْ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا ۔

رات کو تہجد پڑھیے، یہ آپ کے لئے اضافی حکم ہے تاکہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر پہنچا دے۔ (بنی اسرائیل 17:79)

اس حکم میں کہ "رات کو تہجد پڑھیے، یہ آپ کے لئے اضافی حکم ہے" میں یہ احتمال ممکن تھا کہ تہجد کی نماز باآسانی قرآن پڑھ لینے کے علاوہ ایک مزید فرض ہے۔ اب یہ بات ضروری ہو گئی ہے کہ ہم اس معاملے میں ایک متعین معنی اختیار کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صرف پانچ نمازیں ہی ہم پر فرض کی گئی ہیں۔ اس سے پہلے جو نماز بھی ہم پر لازم تھی، وہ اب منسوخ ہو چکی ہے۔ اس معاملے میں ہم اللہ تعالی کے اس ارشاد " تہجد پڑھیے، یہ آپ کے لئے اضافی حکم ہے" سے استدلال کرتے ہیں۔ اس حکم نے رات کے نصف یا تہائی قیام یا جو کچھ باآسانی میسر ہو سکے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔

نوٹ: تہجد کی نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر فرض قرار دیا گیا جبکہ عام مسلمانوں پر بھی ابتدا میں اسے فرض قرار دیا گیا اور اس کے بعد اس فرضیت کو منسوخ کر کے اسے نفل کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔

††††††††† اس بحث کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم تہجد کی نماز کو اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنے کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ جو بھی جتنا زیادہ یہ عمل کر سکے وہ ہمارے نزدیک (بحیثیت نفل) ایک پسندیدہ عمل ہے۔ (صرف پانچ نمازیں فرض ہیں اور تہجد نفل، احادیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔)

مالک اپنے چچا ابو سہیل بن مالک سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طلحۃ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اہل نجد میں سے ایک پرجوش دیہاتی آیا، جس کی آواز بھی ہم سن نہ پا رہے تھے اور نہ یہ سمجھ پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ حضور کے قریب آ گیا اور اسلام کے بارے میں سوال کرنے لگا۔

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "دن و رات میں پانچ نمازیں تم پر فرض کی گئی ہیں۔"

بولا، "کیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہے؟"

فرمایا، "نہیں۔ ہاں اگر تم اپنی مرضی سے اضافہ کرنا چاہو تو کوئی حرج نہیں۔"

اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ماہ رمضان کے روزوں کا ذکر فرمایا تو وہ کہنے لگا، "کیا اس کے علاوہ اور بھی کچھ ہے؟"

آپ نے فرمایا، "نہیں سوائے اس کے کہ تم اپنی مرضی سے زیادہ کر لو۔"

وہ شخص واپس گیا اور کہہ رہا تھا، "میں نہ تو اس میں اضافہ کروں گا اور نہ ہی کمی۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو کامیاب ہو گیا۔" (بخاری، مسلم، نسائی)

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جو بھی انہیں اس طرح سے ادا کرتا ہے کہ ان میں سے کچھ نہ تو ضائع کرتا ہے اور نہ ہی کم تو اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرما دے۔" (نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ، احمد)

نسخ کی دیگر مثالیں

عذر کے باعث نماز نہ پڑھنے کا حکم

اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ‏؟ ‏قُلْ‏:‏ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ، وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ۔

یہ آپ سے حیض کی حالت کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہیے، "وہ اذیت کی حالت ہے، اس میں خواتین سے الگ رہو اور ان کے قریب اس وقت تک نہ جاؤ جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں۔ پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان سے اس طرح سے ازدواجی تعلقات قائم کرو جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔" اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔ (البقرۃ 2:222)

††††††††† اللہ تعالی نے نماز پڑھنے والے پر وضو اور جنابت کی صورت میں غسل کے ذریعے طہارت لازم کی ہے۔ اس کے بغیر نماز ادا کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالی نے حیض کے حالت کے بارے میں بیان کیا ہے کہ خواتین کے پاک ہونے تک ان سے دور رہا جائے۔ جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس آنا جائز ہے۔ اس سے ہم یہ بات اخذ کر سکتے ہیں کہ وہ حیض کے خاتمے پر پانی سے غسل کر کے پاک ہوں کیونکہ عام طور پر شہروں میں تو پانی ہر حال میں دستیاب ہوتا ہی ہے۔ حالت حیض کے دوران غسل کرنے سے وہ پاک نہ ہوں گی کیونکہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت میں (غسل کے ذریعے) پاک ہونے کا حکم حیض کے ختم ہونے پر دیا ہے۔

مالک، عبدالرحمٰن بن قاسم سے اور وہ اپنے والد سے اور وہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ تھیں جب آپ حالت حیض سے دوچار ہوئیں۔ حضور نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوسرے حاجیوں کی طرح حج کے تقاضے پورے کریں سوائے اس کے کہ وہ پاک ہونے تک بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔ (بخاری، مسلم، احمد، مالک)

††††††††† اس سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نماز کو اس شخص پر لازم کیا ہے جو وضو یا غسل کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ جہاں تک کسی حائضہ خاتون کا تعلق ہے تو وہ حالت حیض میں وضو یا غسل کر کے پاک نہیں ہو سکتی۔ حیض تو ایک قدرتی عمل ہے اور خاتون کا اس پر کوئی اختیار بھی نہیں ہے کہ وہ اس کے باعث (نماز چھوڑنے پر) گناہ گار ہو۔ اسی وجہ سے حیض کے ایام میں انہیں نماز کے فرض سے مستثنی کر دیا گیا ہے اور ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ حیض کے خاتمے پر وہ چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضا ادا کریں۔

††††††††† حائضہ خاتون کے بارے میں اس وضاحت کی بنیاد پر ہم ذہنی معذور شخص کو بھی قیاس کر سکتے ہیں۔ اس پر یہ بیماری اللہ تعالی کی جانب سے آئی ہے جس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ اسی وجہ سے جب تک وہ ذہنی طور پر معذور رہے اور اس کی عقل لوٹ کر نہ آئے، اسے نماز معاف کر دی گئی ہے۔

††††††††† یہ بات اہل علم میں عام ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حائضہ خواتین کو نماز قضا کرنے کا حکم تو نہیں دیا البتہ انہیں روزے کی قضا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی وجہ سے ہم ان دونوں فرائض میں فرق کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اسے ہم اہل علم کے منتقل کرنے اور ان کے اجماع سے اخذ کرتے ہیں۔

††††††††† روزے اور نماز میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ مسافر رمضان کے روزے میں تاخیر کر سکتا ہے لیکن اس کے لئے نماز میں ایک دن کی تاخیر کرنا بھی منع ہے۔ روزے تو بارہ مہینوں میں سے صرف ایک مہینے میں ادا کئے جاتے ہیں اور گیارہ مہینے اس فرض کے بغیر ہوتے ہیں جبکہ ایسے شخص کے لئے جو نماز کی طاقت رکھتا ہو ایک دن بھی نماز سے خالی نہیں ہو سکتا۔

نشے کے باعث نماز نہ پڑھنے کا حکم

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ، وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا ۔

نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم جو کہتے ہو وہ سمجھنے لگو۔ اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک کہ غسل نہ کر لو۔ (یہ حکم اس شخص کے لئے نہیں ہے) جو (مسجد سے بطور) راستہ گزرنے والا ہو۔ (النساء 4:43)

بعض اہل علم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ آیت شراب کی حرمت سے پہلے نازل ہوئی (اور وہ اسے منسوخ سمجھتے ہیں۔) قرآن مجید نے یہ حکم دیا ہے کہ کوئی شخص بھی نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اسے سمجھنے کے قابل ہو جائے۔ ایسے شخص کو نماز سے روکنے کے بعد اس شخص کو بھی نماز سے روکا گیا ہے جو حالت جنابت میں ہو۔ اہل علم کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کوئی شخص حالت جنابت میں نماز نہ پڑھے۔اسے ایسا غسل کرنے کے بعد کرنا چاہیے۔

††††††††† نشے کی حالت میں نماز سے روکنے کو اگر شراب کی حرمت سے پہلے کے زمانے کا حکم بھی مان لیا جائے، تب اس وقت جب کہ شراب حرام ہو چکی ہے تو یہ حکم مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس پر عمل نہ کرنے والا (یعنی نشے کی حالت میں نماز پڑھے والا) دو وجوہات سے گناہ گار ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ نشے کی حالت میں نماز پڑھی ہے اور دوسرا یہ کہ اس نے شراب پی ہے۔

††††††††† چونکہ نماز قول، فعل اور (ایسے کاموں سے جن کی نماز میں اجازت نہیں ہے) رکنے کا نام ہے اس وجہ سے اس شخص کی نماز نہیں ہے جو (نشے کے باعث) قول، فعل اور رکنے کی عقل نہیں رکھتا۔ جو شخص اللہ تعالی کے حکم کے مطابق نماز ادا نہیں کر سکتا تو یہ اس کے لئے جائز ہی نہیں ہے۔ جب بھی اسے افاقہ ہو تو اس پر قضا نماز کی ادائیگی لازم ہے۔

††††††††† ہمیں نشہ کرنے والے اور ذہنی معذور شخص میں فرق کرنا چاہیے۔ ذہنی معذور کی عقل تو اللہ تعالی کے حکم سے سلب ہوئی ہے جس میں اس کے ارادے کا کوئی عمل دخل نہیں جبکہ نشہ کرنے والا خود نشے کی حالت میں گیا ہے۔ اسی وجہ سے نشہ کرنے والے پر نماز کی قضاء کرنا لازم ہے جبکہ ذہنی معذور پر قضا نماز کی ادائیگی لازم نہیں کیونکہ اس نے جان بوجھ کر اپنی مرضی سے اللہ تعالی کی نافرمانی نہیں کی۔

قبلے کی تبدیلی

اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو نماز میں بیت المقدس (یروشلم) کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کے منسوخ ہونے سے قبل کسی اور جانب رخ کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم منسوخ کر دیا اور بیت الحرام (مکہ) کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔ اب کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس حکم کے آنے کے بعد بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتا رہے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ کسی اور سمت کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرے۔

††††††††† یہ سب احکام اپنے اپنے وقت پر درست تھے۔ جب اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا تو یہی درست تھا۔ اس کے بعد جب اس حکم کو اس نے منسوخ کر دیا تو اب درست صرف یہی ہے کہ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی جائے۔ کتاب و سنت سے استدلال کرتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فرض نماز میں کسی اور جانب رخ کرنا اب جائز نہیں سوائے اس کے کہ دشمن کے حملے کا خطرہ ہو یا پھر سفر میں نفل نماز ادا کرتے ہوئے اس کی اجازت ہے کہ جس طرف ممکن ہو، منہ کر کے نماز ادا کی جائے۔

††††††††† اسی طرح ہر اس حکم کا معاملہ ہے جسے اللہ تعالی نے منسوخ قرار دے دیا۔ نسخ کا مطلب یہ ہے کہ کسی حکم پر عمل کرنا ختم کر دیا جائے۔ اس حکم پر عمل کرنا اپنے وقت میں بالکل درست تھا اور جب اللہ تعالی نے اسے منسوخ کر دیا تو اب اسے ترک کر دینا ہی درست ہے۔ جو شخص بھی کسی حکم کے منسوخ ہونے سے آگاہ ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ منسوخ حکم پر عمل چھوڑ دے اور ناسخ پر عمل شروع کر دے۔ جو شخص اس بات سے بے خبر رہا وہ بے شک اسی منسوخ حکم پر عمل کرتا رہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ، فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا، فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۔

یہ تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف بار بار اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو ہم تمہیں اسی قبلے کی طرف پھیر دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ اپنے چہرے کو مسجد الحرام کی طرف پھیر لو اور جہاں کہیں بھی تم ہو، اسی کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرو۔ (البقرہ 2:144)

کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ قبلے کی تبدیلی کا حکم کہاں بیان کیا گیا ہے؟

سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنْ النَّاسِ‏:‏ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمْ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا‏؟‏ قُلْ‏:‏ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ‏.‏ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۔

نادان لوگ ضرور کہیں گے: "انہیں کیا ہوا، پہلے یہ جس قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، یکایک اس سے پھر گئے؟" آپ ان سے کہیے: "مشرق و مغرب تو اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔"(البقرۃ 2:142)

مالک، عبداللہ بن دینار سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں: ہم لوگ قبا میں فجر کی نماز ادا کر رہے تھے جب ایک پیغام لانے والا آیا اور کہنے لگا، "رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ قبلے کو تبدیل کر لیں تو آپ نے ایسا کر لیا ہے۔" لوگوں کے منہ اس وقت شام (شمال) کی طرف تھے جنہیں انہوں نے (یہ حکم سننے کے بعد) منہ پھیر کر کعبہ (جنوب) کی جانب کر لیا۔ (بخاری، نسائی)

مالک، یحیی بن سعید سے اور وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ اس کے بعد جنگ بدر سے دو ماہ قبل قبلے کو تبدیل کر دیا گیا۔ (بخاری، نسائی، ابن ماجہ، مالک، احمد)

خطرے کی حالت میں نماز پڑھنے کے بارے میں حکم قرآن مجید کی اس آیت میں ملتا ہے، " فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا " یعنی "خطرے کی حالت میں خواہ پیدل ہو یا سوار، (نماز پڑھو)۔" اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خوف کی حالت کے سوا کسی اور صورت میں جانور پر سوار کے لئے فرض نماز ادا کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالی نے یہاں قبلے کی طرف منہ کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خطرے کی حالت کی نماز سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا:

اگر خطرے کی حالت شدید ہو جائے تو تم لوگ پیدل یا سوار جیسے بھی ممکن ہو تم نماز ادا کرو خواہ منہ قبلے کی طرف ہو یا نہ ہو۔ (بخاری، مالک)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے نفل نمازیں اپنی اونٹنی پر ادا فرمائیں اور آپ کا رخ اس جانب تھا جدھر اونٹنی سفر کر رہی تھی۔ اس حدیث کو جابر بن عبداللہ، انس بن مالک اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیشہ فرض نماز زمین پر کھڑے ہو کر قبلے کی طرف رخ کر کے ہی ادا کی ہیں۔

ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب سے، وہ عثمان بن عبداللہ سے، وہ سراقہ سے اور وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: "نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غزوہ بنی انمار کے دوران اپنے اونٹ پر ہی مشرق کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی۔ (مسند شافعی، مسند ابی حنیفہ)

نوٹ: اس موضوع پر دور جدید میں ایک دلچسپ بحث پیدا ہو گئی ہے کہ کار، بس، ریل اور ہوائی جہاز میں نماز کیسے ادا کی جائے گی؟ بعض اہل علم جانور کی سواری پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ان سواریوں پر نماز کی اجازت نہیں ہے بلکہ ہر صورت میں ان سے اتر کر ہی نماز ادا کی جائے۔ ٹرانسپورٹ کے موجودہ نظام میں اس نقطہ نظر کے حاملین کو کافی مسائل پیش آ جاتے ہیں۔ اہل علم کا دوسرا گروہ ان سواریوں کو کشتی پر قیاس کرتے ہوئے اس بات کو جائز قرار دیتا ہے کہ ان سواریوں میں جدھر بھی رخ ہو سکے، کھڑے ہو کر یا بیٹھے بیٹھے جیسے بھی ممکن ہو، نماز ادا کی جائے۔

††††††††† امام شافعی کی بیان کردہ حدیث کے علاوہ بعض ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زمین پر کیچڑ کے باعث اپنے جانور پر ہی فرض نماز بھی ادا فرمائی ہے۔ اگر محض کیچڑ کے باعث سواری پر نماز ادا کی جا سکتی ہے تو پھر اس سے کہیں بڑے مسائل جیسے ٹرین چھوٹ جانے وغیرہ کی صورت میں یہ اجازت بدرجہ اولی حاصل ہو گی۔

جہاد میں ثابت قدم رہنے کا حکم

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضْ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ، إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ، وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنْ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ۔

اے نبی! مومنوں کو جنگ کی ترغیب دیجیے۔ اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ان میں سے سو ایسے ہوں گے تو وہ اہل کفر کے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ (کفار) ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ (الانفال 8:65)

اس کے بعد اللہ تعالی نے وضاحت کر دی کہ اس نے دس افراد کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک فرد کو ثابت قدم رہنے کی ذمہ داری ختم کر دی ہے اور اب یہ حکم دیا ہے کہ اگر دشمن کی تعداد دوگنا ہو تو اس کے مقابلے میں ثابت قدم رہا جائے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنكُمْ، وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا، فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ، وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ، وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ۔

اچھا، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا اور اسے معلوم ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار ایسے ہوں گے تو وہ دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیں گے۔ اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہی ہے۔ (الانفال 8:66)

سفیان نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا: "جب یہ آیت نازل ہوئی کہ 'اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔' تو مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد کر دی گئی کہ دو سو کے مقابلے پر بیس آدمی مقابلے سے احتراز نہ کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی کہ ' اچھا، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا اور اسے معلوم ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔' اب یہ لازم ہو گیا کہ دو سو کے مقابلے پر اگر سو آدمی ہوں تو وہ میدان جنگ سے پیچھے نہ ہٹیں۔ (بخاری، مسند شافعی)

جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالی نے خود ہی اس بات کی وضاحت فرما دی ہے اس لئے اب اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

نوٹ: اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میدان جہاد میں اس وقت اترنے کا حکم دیا جب ان کی اور دشمن کی طاقت میں کم از کم 2:1 کی نسبت موجود ہو۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ دور میں بہت سے جذباتی حضرات اس صورت میں بھی مسلمانوں کو جہاد کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جب ان کی اور دشمن کی طاقت میں شاید 1000000:1 کا تناسب بھی نہیں ہوتا۔

بدکاری کی مرتکب عورتوں سے متعلق احکام میں تبدیلی

ایک اور مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ، فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ، أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا‏۔ وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا، فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا، إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَحِيمًا‏‏۔

تم میں سے جو عورتیں بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار افراد کی گواہی لو۔ اگر چار افراد گواہی دے دیں تو انہیں ان کے گھروں میں قید کر دو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ تعالی ان کے لئے کوئی اور راستہ نکال دے۔ تم میں سے جو جوڑا بھی اس فعل کا ارتکاب کرے، تو ان دونوں کو کچھ اذیت دو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو۔ بے شک اللہ تو توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔(النساء 4:15-16)

نوٹ: اس معاملے میں بھی احکام کو تدریجاً نافذ کیا گیا۔ پہلے بدکاری کرنے والوں کو کچھ اذیت دینے اور پیشہ ور عورتوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعد سو کوڑوں کی سزا مقرر فرمائی گئی۔

اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں قید اور کچھ اذیت کی سزا کو منسوخ کر دیا اور فرمایا:

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۔

زانی اور زانیہ دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ (النور 24:2)

سنت سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہاں سو کوڑوں کی سزا کنوارے زانیوں کے لئے ہے۔

عبدالوہاب، یونس بن عبید سے، وہ حسن سے اور وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "مجھ سے حاصل کرو، مجھ سے حاصل کرو، اللہ تعالی نے ان (فاحشہ عورتوں) کے لئے راستہ نکال دیا۔ کنوارے بدکاروں کے لئے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے اور شادی شدہ بدکاروں کے لئے سو کوڑے اور رجم کی سزا ہے۔ (مسلم، احمد، ابن ماجہ، مسند شافعی)

اسی طرح ہمیں قابل اعتماد اہل علم سے اس کے مثل روایت ملی ہے۔ اسے یونس بن عبید، حسن سے، وہ حطان الرقاشی سے، وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ سو کوڑے کی سزا آزاد کنوارے بدکاروں کے لئے ہے اور شادی شدہ بدکاروں کے بارے میں یہ سزا منسوخ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رجم آزاد شادی شدہ بدکاروں کے لئے سنت سے ثابت ہے۔ جب حضور کا یہ فرمان کہ "مجھ سے حاصل کرو، مجھ سے حاصل کرو، اللہ تعالی نے ان (فاحشہ عورتوں) کے لئے راستہ نکال دیا۔ کنوارے بدکاروں کے لئے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے اور شادی شدہ بدکاروں کے لئے سو کوڑے اور رجم کی سزا ہے۔" جاری کیا گیا تو اس سے قید اور کچھ اذیت کی سزا بدکاروں کے لئے منسوخ کر دی گئی۔

نوٹ: یہاں "منسوخ" کا معنی ہے تخصیص۔ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم کو کسی مخصوص صورت حال سے متعلق قرار دینا۔ ورنہ امام شافعی نے بڑی صراحت سے اس بابکے شروع میں بیان کیا ہے کہ کتاب اللہ کے حکم کو سنت سے منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

††††††††† نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ماعز کو رجم کیا اور انہیں کوڑوں کی سزا نہ دی اور انیس (بن مالک الاسلمی) کو اپنی بیوی سے تفتیش کرنے کا حکم دیا کہ اگر وہ زنا (بالرضا) کا اعتراف کر لیں تو انہیں بھی رجم کیا جائے۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد شادی شدہ بدکاروں کے لئے سو کوڑے کی سزا منسوخ کر دی گئی ہے اور رجم کی سزا نافذ کر دی گئی ہے۔ چونکہ جو حکم آخر میں جاری کیا گیا ہوتا ہے وہی ہمیشہ کے لئے باقی رکھا جاتا ہے (اس لئے یہی حکم اب حتمی ہے)۔

نوٹ: اس معاملے میں دور جدید میں ایک منفرد نقطہ نظر یہ پیش کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بعض مقدمات میں رجم کی جو سزا سنائی، یہ دراصل زنا نہیں سورہ مائدہ میں بیان کردہ "فساد فی الارض" کے جرم میں تھی۔ اس وجہ سے سنت سے قرآن کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا بلکہ رجم، دراصل قرآن ہی کے ایک دوسرے حکم پر عمل تھا۔ اس نقطہ نظر سے اہل علم کے مختلف حلقوں نے سخت اختلاف کیا ہے۔

††††††††† اللہ تعالی کی کتاب اور پھر اس کے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہوتا ہے کہ (چونکہ یہ حکم صرف آزاد مرد و عورت کے لئے ہے اس لئے) ایسا غلام جو بدکاری کا مرتکب ہو، اس سزا کے حکم میں داخل نہیں ہے۔ اللہ تبارک و تعالی لونڈیوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:

فَإِذَا أُحْصِنَّ‏:‏ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنْ الْعَذَابِ ۔

پھر جب "احصان" سے محفوظ ہو جائیں، اور اس کے بعد کسی بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو شادی شدہ خواتین کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ (النساء 4:25)

††††††††† سزا کا نصف تو صرف کوڑوں ہی میں ہو سکتا ہے جس کو تقسیم کرنا ممکن ہے۔ رجم تو جان سے مار دینے کا نام ہے جس کا نصف ممکن ہی نہیں ہے۔ رجم کیا جانے والا شخص تو پہلے پتھر ہی سے مر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مزید پتھر نہ مارے جائیں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہزار پتھروں سے بھی نہ مرے اور مزید پتھر مارنے پڑیں۔ اس سزا کا نصف کرنا تو ہمیشہ کے لئے ناممکن ہے۔ (رجم کی) سزا اس وقت تک دی جائے گی جب تک کہ اس کی جان نکل نہ جائے۔ جان نکل جانے کا انحصار پتھروں کی تعداد اور سائز پر منحصر ہے۔ یہ بات تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رجم کا نصف کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "اگر تمہاری لونڈی بدکاری کی مرتکب ہو اور اس کا جرم ثابت ہو جائے تو اسے کوڑوں کی سزا دو۔" (بخاری، مسلم، احمد) آپ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اسے رجم کرو۔ اس کے معاملے میں مسلمانوں کا کوئی اختلاف نہیں کہ غلاموں کو بدکاری کے جرم میں رجم نہیں کیا جائے گا۔

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں غلامی عرب میں موجود تھی۔ اس زمانے میں موجود غلاموں اور لونڈیوں کی اخلاقی تربیت اس طرح سے نہیں کی جاتی تھی، جیسا کہ کوئی اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔ اس تربیت کی کمی کے باعث لونڈی غلاموں کا بدکاری جیسے جرم میں ملوث ہو جانے کا امکان آزاد شخص کی نسبت زیادہ تھا۔ ان کی اس کمزوری کی وجہ سے اللہ تعالی نے یہ حکم دیا کہ ان کے جرم کی سزا آّزاد شخص کی نسبت آدھی ہو گی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین میں کس قدر حکمت ہے اور اس کے احکام کا نفاذ حالات کی مناسبت سے ہی ہوا کرتا ہے۔

††††††††† ایک لونڈی کا "احصان" اس کا اسلام قبول کر لینا ہے۔ ہم نے یہاں جو کچھ کہا وہ سنت کے استدلال اور اکثر اہل علم کے اجماع سے کہا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "اگر تمہاری لونڈی بدکاری کی مرتکب ہو اور اس کا جرم ثابت ہو جائے تو اسے کوڑوں کی سزا دو۔" یہاں آپ نے لونڈی کے شادی شدہ ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔

††††††††† اس وجہ سے لونڈیوں کے بارے میں ہم اللہ تعالی کے اس ارشاد کہ " پھر جب وہ "احصان" سے محفوظ ہو جائیں، اور اس کے بعد کسی بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو شادی شدہ خواتین کے لئے مقرر کی گئی ہے۔" کے بارے میں اخذ کر سکتے ہیں کہ "احصان" کا معنی یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئیں۔ اس سے یہ معنی مراد لینا درست نہیں کہ "وہ نکاح کر لیں اور ان سے ازدواجی تعلق قائم ہو جائے یا جب وہ آزاد کر دی جائیں اگرچہ ان سے ازدواجی تعلق قائم نہ کیا گیا ہو۔"

††††††††† کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس معاملے میں ہم لفظ "احصان" سے مختلف معانی مراد لے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے، احصان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو شخص "احصان" حاصل کر لے، اس کے اور حرام چیزوں کے درمیان رکاوٹیں قائم ہو جائیں (اور وہ ان سے محفوظ ہو جائے)۔ اسلام لانے سے ایک شخص اور گناہوں کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح آزاد ہو جانے، شادی کر لینے، ازدواجی تعلقات قائم کر لینے، گھر میں قید کئے جانے، اور دیگر طریقوں سے بھی انسان اور گناہوں کے درمیان رکاوٹیں قائم ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِنْ بَأْسِكُمْ ۔

ہم نے انہیں (یعنی داؤد کو) تمہارے فائدے کے لئے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی تاکہ تمہیں ایک دوسرے کی مار سے محفوظ رکھے۔ (الانبیا 21:80)

لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُحَصَّنَةٍ ۔

یہ تمہارا مقابلہ کبھی مل کر نہ کریں سوائے اس کے یہ قلعہ بند محفوظ شہروں میں ہوں۔ (الحشر 59:14)

ان آیات میں "احصان" سے مراد محفوظ ہونا ہی ہے۔ اوپر مذکور زیر بحث آیت (4:25) کا شروع اور آخر اس بات کی دلیل ہے کہ لفظ "احصان"کا معنی یہاں اسلام ہی ہے۔ یہاں اس سے نکاح، آزادی، قید، یا عفت مراد لینا درست نہیں اگرچہ یہ سب لفظ "احصان" کے معنی میں داخل ہیں۔

ناسخ و منسوخ آیات جن کا علم سنت اور اجماع سے ہوتا ہے

وارث کے حق میں وصیت جائز نہ ہونے کی مثال

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ۔

تم پر لازم کیا جا رہا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ کچھ مال و دولت چھوڑ رہا ہو تو وہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ (البقرۃ 2:180)

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ، فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ، وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔

تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک انہیں نان و نفقہ دیا جائے اور انہیں گھر سے نہ نکالا جائے۔ پھر اگر وہ خود چلی جائیں، تو اپنی ذات سے متعلق معروف طریقے پر جو بھی کریں، تم پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔(البقرۃ 2:240)

اللہ تعالی نے یہ احکام والدین، قریبی رشتے داروں، خاوند اور بیوی کی میراث کے متعلق نازل فرمائے۔ (اس کے بعد وراثت کے تفصیلی احکام سورۃ نساء کی آیت 11-12 میں نازل ہوئے۔) ان دونوں آیات سے ایک تو یہ احتمال ہو سکتا تھا کہ وراثت کے دوسرے احکام کے ساتھ والدین، رشتے داروں اور شریک حیات کے لئے وصیت کی اجازت ہے۔ اس لئے وراثت کے احکام پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ وصیت پر بھی عمل کیا جائے گا۔ دوسرا احتمال یہ ممکن تھا کہ وراثت کے احکام نے وصیت کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔

††††††††† چونکہ یہ دونوں احتمال ممکن ہیں اس لئے اہل علم پر یہ لازم تھا کہ وہ اس معاملے میں (ایک آپشن اختیار کرنے کے لئے) کتاب اللہ سے راہنمائی حاصل کریں۔ اگر انہیں کتاب اللہ سے اس معاملے میں کوئی نص نہ ملے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کی جانب رجوع کریں۔ اگر انہیں ایسی کوئی راہنمائی مل جائے جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف قبول کر لی گئی ہو تو وہ اہل علم اسے بھی اللہ تعالی کی طرف سے ہی قبول کر لیں کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کی اطاعت ہم پر لازم کی ہے۔

††††††††† جنگوں کے واقعات کو محفوظ کرنے والے ماہرین، خواہ وہ قریش میں سے ہوں نہ ہوں، اس معاملے میں اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ارشاد فرمایا: "(قرآن میں بیان کردہ حصہ پانے والے) وارث کے حق میں وصیت قبول نہ کی جائے گی اور ایک انکار کرنے والے کے بدلے ایمان لانے والے کو قتل نہ کیا جائے گا۔" یہ روایت ہم تک ان لوگوں کے توسط سے پہنچی ہے جنہوں نے اسے جنگوں کے واقعات محفوظ کرنے والے ماہرین سے براہ راست حاصل کیا ہے۔

††††††††† یہ بات عام لوگوں سے عام لوگوں کو (تواتر سے) نقل ہوئی ہے اور یہ ان روایات کی نسبت زیادہ مستند ہے جو ایک شخص سے ایک شخص کو (خبر واحد) منتقل ہوتی ہیں۔اس بات پر ہم نے اہل علم کو متفق الرائے پایا ہے۔

††††††††† شام کے بعض اہل علم نے اس حدیث کی ایسی سند بیان کی ہے جسے حدیث کے علوم کے ماہرین قبول نہیں کرتے کیونکہ اس کی روایت کرنے والے بعض لوگوں کے حالات نامعلوم ہیں جس کے باعث اس کی روایت کا سلسلہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ٹوٹا ہوا (منقطع) ہے۔ ہم نے اس حدیث کو جنگی واقعات کے ماہرین اور عام لوگوں کے اجماع کی وجہ سے قبول کیا ہے۔

سفیان نے سلیمان الاحول سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "(قرآن میں بیان کردہ حصہ پانے والے) وارث کے حق میں وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔" (ترمذی، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ)

جو نتیجہ ہم نے اخذ کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے جنگی واقعات کے عام ماہرین کے ذریعے نقل کردہ حدیث "(قرآن میں بیان کردہ حصہ پانے والے) وارث کے حق میں وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔"کی بنیاد پر ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر ایک منقطع حدیث اور عام لوگوں کا اجماع بھی ہے۔ یہ حدیث والدین اور شریک حیات کے لئے وصیت کے اختیار کو منسوخ کرتی ہے۔ اکثر عام اہل علم کی یہ رائے ہے کہ قریبی رشتے داروں کے لئے وصیت کے لازمی ہونے کا حکم منسوخ ہوا ہے۔ اب یہ لوگ وراثت کے احکام کے مطابق حصہ پائیں گے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو قرآن میں بیان کردہ وارثوں میں شمار نہیں ہوتے تو ان کے لئے تو وصیت پہلے بھی فرض نہیں تھی۔

††††††††† طاؤس (بن کیسان) اور اہل علم کے ایک قلیل گروہ کی رائے یہ ہے کہ والدین کے حق میں وصیت تو منسوخ ہو چکی ہے البتہ ایسے رشتے داروں کے حق میں وصیت ہو سکتی ہے جو (قرآن میں بیان کردہ) وارثوں میں شمار نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے رشتے داروں سے ہٹ کر کسی اور شخص کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر ہمارے پاس جنگی واقعات کے ماہرین کی روایت کردہ حدیث "وارث کے حق میں وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔" نہ ہوتی تو ہم پر لازم تھا کہ ہم طاؤس کے نقطہ نظر کے حق میں یا اس کے خلاف کوئی دلیل تلاش کرتے۔

††††††††† ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ایک اور حدیث ملتی ہے جس میں ایک فوت ہونے والے شخص کی وراثت میں سوائے چھ غلاموں کے اور کچھ نہ تھا۔ اس نے مرتے ہوئے انہیں آزاد کرنے کی وصیت کی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے دو کو (قرعہ اندازی کر کے) آزاد کر دیا اور چار کو بدستور غلام رکھتے ہوئے وراثت میں منتقل کر دیا۔ یہ روایت ہم تک عبدالوھاب، ایوب، ابو قلابہ، ابو مھلب اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ذریعے پہنچی ہے۔

††††††††† اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مرض الموت میں کی گئی وصیت کو برقرار رکھا ہے۔ جس شخص نے ان غلاموں کا آزاد کیا، وہ عرب تھا اور عرب لوگ غیر عرب غلام ہی رکھتے ہیں جن کے اور مالک کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس وصیت کی اجازت دے دی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ (طاؤس کے نقطہ نظر کے برعکس) اگر رشتے داروں کے علاوہ کسی اور کے حق میں وصیت جائز نہ ہوتی تو ان غلاموں کو بھی آزاد نہ کیا جاتا کیونکہ وہ اس شخص کے خونی رشتے دار نہ تھے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ:

       وصیت کی زیادہ سے زیادہ مقدار کل مال کا تہائی حصہ ہے۔

       تہائی حصے سے زیادہ جو وصیت کی جائے گی اسے مسترد کر دیا جائے گا۔

       جو غلام پہلے ہی آزاد ہونے کے لئے اپنی قیمت ادا کر رہا ہے اس کے حق میں بھی وصیت قبول نہ کی جائے گی۔

       غلاموں کی تین حصوں میں تقسیم سے پتہ چلتا ہے کہ قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کرنا درست ہے۔

††††††††† والدین کے حق میں وصیت درست نہیں کیونکہ وہ قانون وراثت کے تحت پہلے ہی حصہ پانے والوں میں سے ہیں۔ ایسے رشتے دار اور دوسرے لوگ جو قانون وراثت کے تحت حصہ پانے والے نہ ہوں، ان کے حق میں وصیت جائز ہے بلکہ میری رائے میں تو یہ ایک اچھا عمل ہے کہ انسان ایسے رشتے داروں کے لئے بھی وصیت کر جائے۔

††††††††† قرآن میں اس کے علاوہ اور بھی ناسخ و منسوخ ہیں جو کہ مختلف مقامات پر ہیں۔ انہیں ہم مناسب موقع پر اس کتاب میں احکام القرآن کے باب میں بیان کریں گے۔ میں نے یہاں صرف چند مثالیں بیان کی ہیں جن کی بنیاد پر دیگر مثالوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مثالیں کافی ہیں اس لئے دیگر مثالوں کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ غلطیوں سے بچنے اور صحیح بات کو پانے کے لئے میں اللہ تعالی کی مدد کا طلبگار ہوں۔

††††††††† اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام، خواہ وہ تفصیلی ہوں یا اجمالی، ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالی نے جو مقام اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اپنی کتاب، دین اور دین کے ماننے والوں میں عطا کیا ہے، اس کی وضاحت ہو جائے۔ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کی اتباع دراصل اللہ تعالی ہی کی اطاعت ہے۔ آپ کی سنت ہمیشہ کتاب اللہ کے مطابق ہی ہوتی ہے اور کبھی اس کے متضاد نہیں ہوتی۔

††††††††† جو بھی اس کتاب کو سمجھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالی کے احکامات کا بیان بعض اوقات اہل علم کے لئے (زبان سے متعلق ان کے علم کی وجہ سے) واضح ہوتا ہے اور بعض اوقات غیر واضح۔ جو شخص کم علم رکھتا ہے اس کے لئے اس کی وضاحت کے درجوں میں مزید فرق ہوتا ہے۔††††††

ایسے فرائض جن کے لئے قرآن میں نص موجود ہے کے ناسخ و منسوخ کی مثالیں

جھوٹا الزام لگانے کی سزا اور لعان کا عمل

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ، ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً، وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا، وَأُوْلَئِكَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ۔

جو لوگ پاک دامن خواتین پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لے کر آئیں، انہیں 80 کوڑے مارو، اور ان کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کرو۔ ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ (النور 24:4)

یہاں "محصنات" سے مراد آزاد بالغ خواتین ہیں۔ لفظ "احصان" بہت سے مختلف معانی کا جامع ہے۔ مزید ارشاد ہے:

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ‏:‏ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ۔‏ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْكَاذِبِينَ۔‏ وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ۔‏ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ۔

جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود اپنے سوا کوئی اور گواہ نہ ہو تو ان میں سے ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ وہ چار بار اللہ کے نام کی قسم کھا کر یہ کہے کہ وہ (اپنے الزام میں) ضرور سچا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ اور عورت سے سزا اسی صورت میں ٹل سکتی ہے کہ وہ چار بار اللہ کا نام لے کر قسم کھائے کہ اس پر الزام لگانے والا جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ شخص (اپنے الزام میں) سچا ہو۔ (النور 24:6-9)

نوٹ: اسلام کا قانون بدکاری کا الزام لگانے کے بارے میں بہت حساس ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر کسی شخص یا خاتون کو پوری عمر کے لئے بدنام کیا جا سکتا ہے۔ احادیث میں بھی اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کا یہ جرم پوشیدہ ہو، تو اسے اچھالنے کی کوشش نہ کی جائے اور اسے تنہائی میں نصیحت کی جائے۔ اگر کوئی شخص کسی پر بدکاری کا الزام لگاتا ہے اور اس پر چار گواہ پیش نہیں کر پاتا تو اسے یہ الزام عائد کرنے کے جرم میں 80کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ لوگ کسی کی کردار کشی سے باز رہیں۔

††††††††† اگر یہی معاملہ میاں بیوی کے درمیان ہو جائے اور میاں اپنی بیوی کو کسی کے ساتھ بدکاری کرتا دیکھ لے تو یہ انتہا درجے کی غیرت کا معاملہ ہے۔ اسلام غیرت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے لئے لعان کا قانون قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے۔ خاوند اس مقدمے کو عدالت میں لائے اور چار بار قسم کھا کر گواہی دے کہ اس نے اپنی بیوی بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پانچویں بار اس کے لئے یہ کہنا لازم ہے کہ "اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت یعنی اس کی رحمت سے دوری۔" اتنے شدید الفاظ میں گواہی اور قسم دلوانے کا مقصد یہی ہے کہ کوئی اپنی بیوی پر جھوٹا الزام لگانے سے باز رہے۔ جج اس عمل کے دوران اس شخص کو خدا کا خوف دلاتا رہے اور آخرت کے عذاب سے ڈراتا رہے۔ بدکاری کا یہ الزام صریح اور صاف الفاظ میں ہونا چاہیے، اشارے کنایے میں نہیں۔ اگر شوہر قسم کھانے سے انکار کرے تو اسے جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں اسی کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔

††††††††† ان چار قسموں کے جواب میں بیوی سے پوچھا جائے گا۔ اگر وہ اپنے جرم کا اقرار کر لے تو اسے سزا دی جائے گی۔ اگر وہ جرم کا اقرار نہ کرے تو اس سے بھی چار مرتبہ قسم لی جائے گی اور پانچویں مرتبہ انداز یہ ہو گا کہ "اگر الزام سچا ہے تو مجھ پر خدا کی لعنت یعنی اس کی رحمت سے دوری۔" اس عمل کے دوران جج خاتون کو بھی خدا کا خوف دلاتا رہے۔ ان قسموں کا مقصد یہ ہے کہ خاتون نے اگر واقعتاً جرم کیا ہو گا تو وہ خوف خدا کے باعث سچ بول سکتی ہے۔ اگر خاتون نے بھی یہ جوابی قسمیں کھا لیں تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے لیکن اس کا تعین کرنا عدالت کے لئے ممکن نہیں رہا۔ اس صورت میں دونوں کے درمیان عدالتی حکم سے علیحدگی کر دی جائے گی کیونکہ ان کے درمیان اعتماد کا تعلق اس عمل کے باعث ختم ہو جائے گا۔

††††††††† احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے چند مقدمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس لائے گئے اور آپ نے علیحدگی کروانے کے بعد خاتون کو وہ حقوق نہیں دیے جن کی وہ عام طلاق کی صورت میں مستحق ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ نے شوہر کے دیے ہوئے مال اور حق مہر کو خاتون سے واپس مرد کو نہیں دلوایا۔ آپ نے جھوٹی قسمیں کھانے والے مرد اور عورت دونوں کے لئے آخرت میں سخت سزا کو بیان فرمایا۔

††††††††† میاں بیوی کے معاملے میں لعان کا یہ قانون کسی اور عورت کے بارے میں انسان اتنا حساس نہیں ہوتا کہ اسے بدکاری کرتے دیکھ کر وہ لازماً ہی عدالت کی طرف جائے۔ اپنی بیوی کے معاملے میں ہر شخص بہت حساس ہوتا ہے اور اس کی غیرت بڑے اقدام کا تقاضا کرتی ہے۔ لوگ اس بنیاد پر غصے میں قتل بھی کر دیتے ہیں۔ اسی انتہائی اقدام سے روکنے کے لئے اللہ تعالی نے لعان کا قانون جاری کیا ہے۔

یہاں اللہ تعالی نے الزام لگانے والے عام شخص اور خاوند کے درمیان فرق کیا ہے۔ الزام لگانے والا اگر خاوند کے علاوہ کوئی شخص ہو اور وہ چار گواہ نہ لا سکے تو اسے فوراً جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں سزا دی جائے گی۔ خاوند اگر اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو وہ "لعان" کے ذریعے اس حد سے بچ سکتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص بھی پاک دامن خواتین پر تہمت لگائے اسے کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو بالغ آزاد خواتین پر تہمت لگائے اور اس کا خاتون سے ازدواجی تعلق بھی نہ ہو۔

††††††††† اس میں وہ بات بیان کی گئی ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔ قرآن عربی زبان میں ہے اس سے بعض اوقات کوئی لفظ بظاہر عام ہوتا ہے لیکن اس سے کوئی خاص گروہ مراد ہوتا ہے۔ اگرچہ ان دونوں میں سے ایک آیت نے دوسری کو منسوخ کیا ہے لیکن ان دونوں کا حکم اب بھی اپنے اپنے حالات میں باقی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے ان آیات کے حکم میں فرق کیا، ہم بھی فرق کریں گے اور جہاں اس نے ان کے حکم کو اکٹھا کیا، ہم بھی اکٹھا کریں گے۔

††††††††† جب الزام لگانے والا خاوند "لعان" کے عمل سے گزرتا ہے تو وہ (کوڑوں کی) سزا سے بچ جاتا ہے جیسا کہ اجنبی شخص اگر چار گواہ لے آئے تو وہ بھی سزا سے بچ جاتا ہے۔ اگر خاوند لعان کے عمل سے گزرنے کو تیار نہ ہو اور اس کی بیوی آزاد اور بالغ عورت ہو تو اس خاوند کو بھی سزا دی جائے گی۔

††††††††† عجلانی اور ان کی اہلیہ کے متعلق لعان کی آیات نازل ہوئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کے مابین لعان کا عمل کروایا۔ لعان کا یہ واقعہ سھل بن سعد الساعدی اور ابن عباس نے بیان کیا ہے لیکن ابن عمر اور دیگر صحابہ (رضی اللہ عنہم) جو اس موقعے پر موجود تھے، انہوں نے اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے الفاظ کو نقل نہیں کیا۔ انہوں نے اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایسے احکامات بیان کئے ہیں جو قرآن کی کسی نص میں موجود نہیں ہیں۔

††††††††† ان میں سے ایک حکم تو یہ ہے کہ لعان کے عمل کے بعد میاں بیوی میں علیحدگی کروا دی جائے گی اور خاوند کو (ہونے والے) بچے کا باپ قرار نہیں دیا جائے گا ہاں اگر بچے میں باپ سے واضح مشابہت ہو تو اسے اسی کی اولاد قرار دیا جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "اب بچے کا معاملہ بالکل واضح ہو گیا جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں نہیں کیا۔" ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لعان کے عمل کے دوران جب پانچویں مرتبہ قسم کھائی گئی تو آپ نے فرمایا: "اسے روکو کیونکہ اس سے (آخرت کی) سزا لازم ہو جائے گی۔" (بخاری، ترمذی، نسائی، ابوداؤد) (یعنی آخرت کی سزا پانے سے بہتر ہے کہ انسان دنیا میں سزا پا لے۔)

††††††††† اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ راویوں نے حدیث کے بعض حصے بیان نہیں کئے جو کہ ضروری تھے۔ مثلاً انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لعان کا عمل میاں بیوی کے مابین کس طرح سے کروایا۔ انہوں نے یہ خیال کیا ہو گا کہ جو شخص اللہ کی کتاب کا علم رکھتا ہے وہ جانتا ہی ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کتاب اللہ میں دیے گئے طریقے کے مطابق ہی لعان کروائیں گے۔ ان راویوں نے اسی پر اکتفا کیا کہ اللہ تعالی نے لعان میں قسموں کی تعداد اور ہر ایک کی گواہی کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے میاں بیوی کے مابین لعان کے عمل کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے الفاظ کو روایت نہیں کیا۔

††††††††† لعان کے عمل اور قسموں کی تعداد کے بارے میں کتاب اللہ میں کافی تفصیل موجود ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ بعض لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یہ بھی روایت کی ہے کہ آپ نے لعان کے عمل کے بعد میاں بیوی میں تفریق کروا دی ہے۔ ہم نے اس معاملے میں کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ اس سے پہلے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کو بیان کر دیا ہے۔

روزے کی مثال

††††††††† اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔‏ أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ۔

تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن سکو۔ چند مقرر دنوں کے یہ روزے ہیں۔ (البقرۃ 2:183-184 )

فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضاً

اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس میں پورے مہینے کے روزے رکھے اور اگر کوئی مریض ہو (تو وہ دوسرے دنوں میں پورے کر لے۔)

اس کے بعد اللہ تعالی نے یہ واضح فرما دیا ہے کہ روزے کس مہینے میں فرض ہیں:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنْ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضاً أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ، يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمْ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمْ الْعُسْرَ، وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ، وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۔

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔ جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول دینے والی ہیں۔ اس لئے اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس میں پورے مہینے کے روزے رکھے اور اگر کوئی مریض یا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں چاہتا۔ اس گنتی کو پورا کر لو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو کیونکہ اس نے تمہیں ہدایت دی تا کہ تم اس کے شکر گزار بنو۔ (البقرہ 2:185)

میں حدیث کے کسی ایسے عالم کو نہیں جانتا جس نے ہم سے پہلے محض یہ بیان کرنے کے لئے کوئی حدیث روایت کی ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ وضاحت کیا ہو کہ فرض روزے رکھنے کے لئے طے کردہ مہینہ رمضان ہے جو کہ شعبان اور شوال کے درمیان آتا ہے تا کہ انہیں اس مہینے کا علم ہو جائے۔ لوگوں کے لئے یہی کافی تھا کہ اللہ تعالی نے ان پر روزے فرض کئے ہیں۔

††††††††† انہوں نے ایسے معاملات میں حدیث روایت کرنے کا اہتمام کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سفر میں روزہ کیسے رکھا اور کیسے کھولا؟ اس کی قضا کیسے ادا فرمائی؟ یہ اہتمام اس کے مماثل اور معاملات میں ہے جن کے بارے میں کتاب اللہ میں نص موجود نہیں ہے۔

††††††††† میں کسی ایسے غیر عالم کو بھی نہیں جانتا جسے رمضان کے بارے میں یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش آئے کہ "یہ کون سا مہینہ ہے؟" یا "کیا اس میں روزے رکھنا ضروری ہیں یا نہیں؟"۔ یہی معاملہ ان تمام فرائض کے بارے میں ہے جو اللہ تعالی نے ہم پر لازم کئے ہیں جیسے نماز، زکوۃ، صاحب استطاعت کے لئے حج، زنا اور قتل کی حرمت اور اس سے ملتے جلتے دوسرے احکام (کہ ان کی فرضیت، اوقات وغیرہ کے بارے میں کسی کے ذہن میں سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ احکام قرآن و سنت سے بالکل واضح ہیں۔)

††††††††† ہمارے پاس بہت سے معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت موجود ہے جس معاملے میں قرآن میں کوئی نص نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اللہ تعالی کی جانب سے اس کے معنی بیان کئے ہیں۔ مسلمانوں (کے اہل علم) نے بہت سے فروعی مسائل میں مسائل بتائے ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی حدیث بھی منقول نہیں ہے۔

تین طلاقوں کی مثال

††††††††† ان میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد بھی ہے:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا۔

اگر شوہر نے بیوی کو (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سے دوبارہ شادی کرے سوائے اس کے وہ کسی اور شخص سے شادی کرے۔ پھر اگر وہ شخص بھی اسے طلاق دے دے تو ان دونوں (یعنی پہلے خاوند اور بیوی) کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ دوبارہ آپس میں نکاح کر لیں۔ (البقرۃ 2:230)

نوٹ: عربوں کے ہاں رواج تھا کہ ایک شخص اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تو وہ اسے محض تنگ کرنے کے لئے اس سے رجوع کرتا اور پھر طلاق دے دیتا۔ اس طرح وہ بیوی پر ظلم کرنے کے لئے جتنی چاہے طلاقیں دیتا رہتا۔ قرآن نے اس سے منع کرنے کے لئے یہ قانون بنا دیا کہ رجوع کرنے کی اجازت صرف دو مرتبہ ہے۔ جو شخص تیسری مرتبہ ایسا کرے گا، اسے رجوع کا اختیار نہ ہو گا۔

††††††††† ایک ہی وقت میں تین طلاقیں یک بارگی دینے کو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سخت ناپسند فرمایا اور اسے ایک ہی طلاق قرار دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہی قانون رہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے کثرت سے طلاق دینا شروع کر دی جس سے روکنے کے لئے انہوں نے ایسے حالات میں تین طلاقیں نافذ کرنا شروع کر دیں تاکہ لوگ طلاق دینے سے باز رہیں۔ آپ نے ایسے شخص کو کوڑوں کی سزا بھی دی جس نے ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دے دی ہوں۔

اللہ تعالی کے اس ارشاد کہ "سوائے اس کے وہ کسی اور شخص سے شادی کر لے" میں ایک احتمال تو یہ تھا کہ "وہ کسی اور خاوند سے (صرف) نکاح ہی کر لے"۔ یہ معنی ان لوگوں نے قبول کیا جو قرآن کے اولین مخاطب تھے۔ جب نکاح کا معاہدہ ہو گیا (یعنی ایجاب و قبول) ہو گیا تو اسے شادی قرار دیا جائے گا۔ اس حکم میں دوسرا احتمال یہ ہو سکتا تھا کہ "وہ کسی دوسرے خاوند سے ازدواجی تعلقات قائم کر لے۔" اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ "نکاح" سے شادی کا معاہدہ کرنا اور ازدواجی تعلقات دونوں مراد لئے جا سکتے ہیں۔

††††††††† ایک ایسی خاتون جن کے خاوند نے انہیں تین مرتبہ طلاق دے دی تھی اور انہوں نے بعد میں ایک اور شخص سے نکاح کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم اس وقت تک پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرا خاوند تم سے اور تم اس سے لطف اندوز نہ ہو لو۔" یعنی تم اس دوسرے خاوند سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کر لو۔ نکاح کا مطلب ازدواجی تعلقات قائم کرنا ہی ہوتا ہے۔

††††††††† کوئی شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا اس بات کے لئے آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کوئی حدیث ہے؟ اس کے جواب میں ہم یہ حدیث پیش کر سکتے ہیں:

سفیان نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروۃ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے: رفاعہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں، "رفاعہ نے مجھے طلاق دی اور میری وہ طلاق مکمل ہو گئی (یعنی تین پوری ہو گئیں)۔ اس کے بعد میری شادی عبدالرحمٰن بن زبیر سے ہوئی ہے اور وہ ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے قاصر ہیں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، " کیا تم رفاعہ کی طرف واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہو؟ ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز نہ ہو لو۔" (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

اس طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ایک خاتون جسے اس کے پہلے خاوند نے تین مرتبہ طلاق دے دی ہو، اسی وقت اپنے پہلے خاوند کے لئے حلال ہو سکتی ہیں جب وہ کسی اور شخص سے نکاح کر لیں اور اس نکاح میں دوسرے خاوند کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی قائم ہو جائیں۔

نوٹ: احادیث میں واضح طور پر حلالہ کرنے اور کروانے کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کام کی مذمت کی گئی ہے۔ حلالہ سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص طلاق دینے کا ارادہ رکھ کر کسی خاتون سے نکاح کرے۔

††††††††† بعض اہل علم نے اس معاملے میں امام شافعی سے اختلاف کیا ہے۔ ان کے نزدیک محض نکاح ہو جانے ہی سے وہ خاتون پہلے مرد کے لئے حلال ہو جاتی ہے۔ جہاں تک اوپر بیان کردہ حدیث کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک اس حدیث کے دوسرے طرق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس خاتون نے اپنے دوسرے خاوند پر نامردی کا غلط الزام لگایا تھا جس کی سزا کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سے یہ سخت بات ارشاد فرمائی۔

ایسے قرآنی احکام جن کے ساتھ رسول اللہ کی سنت بھی موجود ہے

وضو میں اعضا کو ایک بار یا تین بار دھونے کی مثال

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ، وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۔

جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہرے دھو لو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھو لو۔ اگر تم حالت جنابت میں ہو تو پاک ہو جایا کرو۔ (المائدہ 5:6)

وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا۔

اور نہ ہی جنابت والا شخص (نماز کے قریب جائے) یہاں تک کہ غسل کر لے سوائے اس کے کہ وہ مسجد سے بطور راستہ گزرنے والا ہو۔ (النساء 4:43)

اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حالت جنابت میں وضو کی بجائے غسل سے پاکیزگی حاصل کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ سنت قائم کی کہ آپ نے اسی طرح وضو فرمایا جیسا کہ اللہ تعالی نے حکم دیا تھا۔ آپ نے چہرہ دھویا، ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، سر کا مسح فرمایا اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا۔

عبدالعزیز بن محمد نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے وضو میں ہر عضو کو ایک ایک بار دھویا۔ (ترمذی، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ، احمد)

مالک نے عمرو بن یحیی سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عبداللہ بن زید سے جو عمرو بن یحیی کے دادا تھے، پوچھا: "کیا آپ مجھے کر کے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟" عبداللہ بولے، "بالکل!" انہوں نے پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھوں پر ڈال کر ہاتھوں کو دو مرتبہ دھویا۔ پھر انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا۔ اس کے بعد انہوں نے تین مرتبہ منہ دھویا، پھر دو دو مرتبہ انہوں نے اپنی ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا۔ اس کے بعد انہوں نے سر کا مسح اپنے ہاتھ سے اس طرح سے کیا کہ ہاتھ کو پہلے پیچھے لے گئے اور پھر آگے لائے۔ انہوں نے مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا، پھر ہاتھ کو گردن کی طرف لے گئے اور اس کے بعد اسے واپس وہیں لائے جہاں سے انہوں نے مسح کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے پاؤں دھوئے۔ (نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ، مالک، احمد)

اللہ تعالی کے اس ارشاد کہ "اپنے منہ دھوؤ" کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ کم از کم منہ کو ایک بار دھوؤ۔ اس میں یہ احتمال پیدا ہوا کہ کیا منہ کو ایک سے زیادہ مرتبہ بھی دھویا جا سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وضو میں ایک ایک بار اعضا کو دھویا جو کہ قرآن کے ظاہری معنی کے قریب ترین ہے۔ یہ کم از کم ہے جس پر "دھونے" کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے دو اور تین مرتبہ بھی دھویا جو کہ آپ کی سنت ہے۔

††††††††† چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کم از کم ایک بار دھونا ہے اس لئے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ایک سے کم مرتبہ دھونا جائز نہیں ہے۔ اس سے وضو اور نماز ہوتے ہی نہیں۔ ایک سے زیادہ مرتبہ دھونے میں اختیار ہے۔یہ وضو میں لازم نہیں ہے۔ ایک سے کم مرتبہ دھونا وضو میں جائز نہیں ہے۔

††††††††† یہ ان فرائض کی طرح ہے جو میں اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں۔ اگر ہم تک یہ احادیث نہ پہنچی ہوتیں تو کتاب اللہ کا بیان کافی تھا۔ اب جب ہم تک احادیث پہنچی ہیں تو یہ کتاب اللہ کی پیروی ہی میں ہیں۔

††††††††† جن اہل علم نے یہ احادیث روایت کی ہیں انہوں نے شاید ایسا اس لئے کیا ہے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اکثر اوقات اعضا کو وضو میں تین مرتبہ دھویا۔ اس سے وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ تین مرتبہ دھونا ایک اختیاری عمل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ تین مرتبہ دھونا ضروری ہو اور اس میں کمی کرنا جائز نہ ہو۔ یہی بات حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مروی اس روایت میں بھی ملتی ہے کہ: "جس نے اس طریقے سے وضو کیا (یعنی تین تین بار دھو کر) پھر دو رکعتیں پڑھیں، تو اس نے جو کچھ بھی (صغیرہ گناہ) کئے، وہ معاف ہو جاتے ہیں۔" (بخاری، مسلم، نسائی، ابوداؤد) ان اہل علم کا مقصد یہ تھا کہ وضو میں اس اضافے میں فضیلت ہے جو کہ ایک نفلی امر ہے۔

وضو میں کہنیوں اور ٹخنوں کو دھونے کی مثال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وضو میں دونوں کہنیوں اور ٹخنوں کو بھی دھویا ہے۔ آیت میں یہ احتمال موجود تھا کہ ہاتھوں اور پاؤں کو کہنیوں اور ٹخنوں "سمیت" دھویا جائے یا کہنیوں اور ٹخنوں "تک" دھویا جائے اور کہنیوں اور ٹخنوں کو دھونے میں شامل نہ کیا جائے۔ اہل علم نے اس کی وضاحت کے لئے حدیث روایت کر دی ہے۔ آیت کے ظاہری مفہوم سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ کہنیوں اور ٹخنوں کو بھی دھویا جائے۔ یہ قرآن کی وضاحت کے ساتھ ساتھ سنت کی وضاحت بھی ہے۔ یہ تفصیلات اس مثال اور پہلے دی گئی مثالوں میں اہل علم کے لئے واضح ہیں البتہ غیر اہل علم کے لئے اس کی وضاحت میں فرق ہو سکتا ہے۔

غسل کے طریقے کی مثال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غسل جنابت کی جو سنت قائم کی اس کے مطابق پہلے شرمگاہ کو دھویا جائے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا جائے، اور پھر نہانا ہے۔ ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ہم اس معاملے میں آپ کی اتباع کریں۔ کسی عالم کو بھی اس بات سے اختلاف نہیں ہے کہ مکمل طور پر کسی چیز کے دھل جانے کے بعد اس کی پاکیزگی قابل اطمینان ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن نے دھونے کو فرض کیا ہے اور اس میں مزید اضافے نہیں کئے۔ (اس وجہ سے غسل سے پہلے استنجا اور وضو کو ہم اختیاری معاملے کے طور پر لیں گے۔)

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن صورتوں میں وضو یا غسل لازم ہو جاتا ہے انہیں اپنی سنت میں بیان کر دیا۔ ان صورتوں کا ذکر کتاب اللہ میں نہ تھا۔

ایسے قرآنی احکام جن کے بارے میں سنت میں وضاحت کی گئی کہ ان کا حکم خاص صورتحال کے لئے ہے

وراثت کے احکامات کی وضاحت

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

يَسْتَفْتُونَكَ‏.‏ قُلْ‏:‏ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ، إِنْ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ، وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ۔

لوگ تم سے "کلالہ" کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہو اللہ تمہیں فتوی دیتا ہے۔ "اگر کوئی ایسا شخصفوت ہو جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن موجود ہو تو وہ اس کے ترکے سے نصف پائے گی اسی طرح اگر اولاد نہ ہو (اور اگر مرنے والی بہن ہو) تو بھائی اس کا وارث ہو گا۔ (النساء 4:176)

لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ، وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا۔

مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو ان کے والدین اور دوسرے رشتے داروں نے چھوڑا ہو۔ اسی طرح خواتین کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو ان کے والدین اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔ (النساء 4:7)

‏ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ‏.‏ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔‏ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ، فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ۔

اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکے کا چھٹا حصہ ہے اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی وارث ہوں تو ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حقدار ہو گی۔ (یہ سب اس کے) بعد ہے جب میت کی وصیت اور اس کے ذمے قرض کی ادائیگی کر دی جائے۔) تم نہیں جانتے کہ تمہارے والدین اور اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کئے ہیں اور اللہ تمام حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔ تمہاری بیویوں نے جو کچھ ترکہ چھوڑا ہے، تمہارے لئے اس کا نصف حصہ ہے اگر وہ بے اولاد ہوں۔ اولاد ہونے کی صورت میں تم چوتھائی حصے کے حق دار ہو جبکہ میت کی کی گئی وصیت پوری کر دی گئی ہو اور اس پر واجب الادا قرض ادا کر دیا گیا ہو۔ (النساء 4:11-12)

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ۔

وہ (بیویاں) تمہارے ترکے سے چوتھائی حصے کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا اگر وصیت جو تم نے کی تھی، پوری کر دی جائے یا قرض جو تم نے چھوڑا تھا ادا کر دیا جائے۔ (النساء 4:12)

††††††††† اللہ تعالی نے یہاں جن وارثوں کا ذکر کیا ہے، سنت سے بھی انہی کی وضاحت ہوتی ہے۔ ان میں بہن بھائی، اولاد، والدین، رشتے دار اور شریک حیات شامل ہیں۔ جن وارثوں کو اللہ کی کتاب میں نام لے کر بیان کیا گیا ہے، یہ وراثت خاص انہی کے لئے ہے۔

††††††††† اس میں یہ شرط ہمیں سنت سے ملتی ہے کہ وارث اور وہ شخص جس کی وراثت تقسیم کی جارہی ہے، دونوں کا دین ایک ہی ہونا چاہیے۔ ان کے مذہب مختلف نہیں ہونے چاہییں۔ ان دونوں کو مسلمانوں کے ملک کا شہری ہونا چاہیے۔ ایسے غیر مسلم جو مسلمانوں کے ملک میں کسی معاہدے کے تحت رہائش پذیر ہیں اور ان کے جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، یا پھر اگر میت اور وارث دونوں ہی مشرک ہوں تو وہ ایک دوسرے کے وارث قرار پائیں گے۔

سفیان نے زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مسلمان غیر مسلم کا وارث نہ ہو گا اور نہ ہی غیر مسلم مسلمان کا وارث ہو گا۔" (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

‏وارث اور میت دونوں کا مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد ہونا بھی ضروری ہے۔

ابن عینیہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جس نے کوئی غلام خریدا اور اس غلام کی تحویل میں کوئی مال و جائیداد موجود تھا، تو یہ مال بیچنے والے کا ہو گا سوائے اس کے کہ اس تجارتی معاہدے میں اس بات کی وضاحت کر دی جائے (کہ یہ جائیداد خریدنے والے کی ہو گی۔) (مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد، احمد، مالک)

نوٹ: حدیث میں ایک بالکل مختلف بات کہی گئی تھی۔ عہد رسالت میں دنیا میں غلامی موجود تھی۔ غلام اپنے مالک کی جائیداد اور کاروبار کے منیجر کے طور پر بھی کام کیا کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص اپنے غلام کی خدمات کسی اور شخص کو بیچ دیتا تو یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ معاملہ صرف غلام کی خدمات سے متعلق ہی ہو گا یا پھر غلام کے زیر تحویل جائیداد بھی اس ڈیل میں شامل ہو گی۔ اس حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر ڈیل کے معاہدے میں کچھ متعین نہیں کیا گیا تو وہ جائیداد پہلے مالک ہی کی ہو گی کیونکہ اسی نے اسے اپنے غلام کی تحویل میں دیا تھا۔

††††††††† مالک اپنے غلام کی صرف خدمات کا ہی مالک ہوا کرتا تھا۔ اسلام نے کبھی مالک کو اس کے جان و مال پر تصرف کرنے کا حق نہیں دیا۔ اسلام میں جس طرح ایک مالک کو غلام کی جان لینے کا حق حاصل نہیں ہے اسی طرح اس کا مال لینے کا حق حاصل بھی نہیں ہے۔ قرآن نے واضح طور پر بیان کر دیا ہے کہ اگر کوئی غلام چاہے تو وہ اپنے مالک سے ایک متعین رقم طے کر کے اس کے بدلے آزادی خرید سکتا ہے اور مالک پر یہ لازم ہے کہ وہ مکاتبت کے اس معاہدے کو قبول کرے۔ یہ رقم وہ کما کر قسطوں میں بھی ادا کر سکتا ہے اور اگر اس کے پاس مال ہو تو یکمشت بھی دے سکتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غلام اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے۔

††††††††† اس حدیث سے یہ نتائج اخذ کرنا کہ غلام اپنی کمائی ہوئی جائیداد کا مالک نہیں ہو سکتا یا وہ اپنے والد یا کسی اور رشتے دار کی وراثت میں حصہ نہیں لے سکتا، ہمارے نزدیک ایک ظلم اور کتاب و سنت کی مخالفت ہے۔ امام شافعی کے تمام تر احترام کے باوجود ہمیں اس معاملے میں ان سے شدید اختلاف رکھتے ہوئے یہ کہنا پڑے گا کہ اس معاملے میں ان کے بیان کردہ نتائج درست نہیں ہے۔

††††††††† اسلام نے غلامی کو یک دم ختم کرنے کی بجائے تدریج کا طریقہ کیوں اختیار کیا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ غلامی اس دور کی معاشرت میں اس طرح سے رچی بسی ہوئی تھی کہ اگر یک دم تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جاتا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکلتا کہ بھکاریوں، چوروں، ڈاکوؤں اور طوائفوں کا ایک بہت بڑا طبقہ وجود میں آ جاتا۔ غلاموں کے ذمے صرف فرائض ہی نہ تھے بلکہ ان کے حقوق بھی مقرر تھے۔ ان غلاموں کی تمام ضروریات کو پورا کرنا ان کے مالک کی ذمہ داری تھی۔ اس صورت میں ہر غلام کی نفسیاتی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ آزادی کا طالب ہو کر ان سہولیات کو چھوڑ دیتا۔ اسی وجہ سے دین نے مکاتبت کا قانون جاری کیا تا کہ جو غلام آزادی کا طالب ہو وہ اپنی آزادی خود خرید سکے۔ اس کی مزید تفصیل میری کتاب "اسلام اور جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ" میں دیکھی جا سکتی ہے۔

سنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ غلام مال کا بذات خود مالک نہیں بن سکتا۔ جو کچھ بھی اس کے قبضے میں ہو وہ اس کے مالک کی ملکیت ہی ہو گی۔ مال و جائیداد کی نسبت اس کی طرف اضافی ہے کیونکہ یہ اس کے قبضے میں ہے۔ وہ اس کا مالک نہیں ہے کیونکہ وہ خود مملوک ہے۔ اس کی تجارت ہو سکتی ہے، وہ تحفے میں دیا جا سکتا ہے اور وراثت میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے مرنے والے کی جائیداد کو اس کے زندہ وارثوں کی طرف منتقل کرنے کا قانون دیا ہے۔ جو کچھ اس کی ملکیت تھا وہ مرنے کے بعد اس کے زندہ وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔

††††††††† اگر غلام باپ یا کسی اور رشتے کے باعث وراثت میں حصہ دار بنے گا تو وہ اپنا حصہ اپنے مالک کو دے دے گا اگرچہ اس کا مالک مرنے والے کا باپ یا رشتے دار نہیں ہے۔ ہم غلام کو اس لئے حصہ نہ دیں گے کہ وہ باپ ہے بلکہ ہم اس کے مالک کو یہ حصہ دے دیں گے جس پر کوئی فریضہ نہیں ہے۔ اس طریقے سے ہم اس شخص کو حق دے رہے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے حق مقرر نہیں کیا ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا، غلام کو حق سے محروم کر رہے ہیں۔†††††

نوٹ: امام صاحب کے تمام تر احترام کے باوجود ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ غلاموں کے معاملے میں ان کا نقطہ نظر قرآن و سنت اور انسانیت کے خلاف ہے۔

ہم کسی ایسے شخص کو وراثت میں شریک نہیں کرتے جو آزاد نہ ہو، مسلمان نہ ہو اور مرنے والے کا قاتل نہ ہو۔

مالک نے یحیی بن سعید سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "قاتل کے لئے وراثت میں کوئی حصہ نہیں۔" (ابو داؤد، احمد، مالک)

اس وجہ سے ہم قاتل کو مقتول کا وارث نہیں بنا سکتے۔ ایسے شخص کی، جس نے جان بوجھ کر قتل کر کے اللہ تعالی کی نافرمانی کی ہو اور اس کی ناراضی کا شکار ہوا ہو، کم از کم سزا یہ ہے کہ اسے وراثت سے محروم کر دیا جائے۔ ہمارے شہر اور دیگر علاقوں کے ایسے اہل علم جن سے میں نے علم حاصل کیا ہے اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں رکھتے کہ صرف آزاد غیر قاتل مسلمان ہی دوسرے مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔

††††††††† ان کے اس اتفاق رائے سے، جو میں نے ابھی بیان کیا، اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کے معاملے میں کبھی اختلاف نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسے معاملات جن میں اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام ہوں، سنت رسول اسی مقام پر ہے جس پر یہ احکام ہوں گے۔ جن معاملات میں کتاب اللہ میں کوئی حکم موجود نہیں ہے، ان معاملات میں سنت قرآن کے مثل ہی ہو گی۔ اس سنت کے لازم ہونے میں کسی عالم کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکام میں اختلاف نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ایک ہی طرز پر حکم جاری کرتے ہیں۔

تجارت کی بعض صورتوں کی ممانعت

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ۔

آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے پر مت کھاؤ، آپس کی رضامندی سے لین دین ہونا چاہیے۔ (النساء 4:29)

ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا‏:‏ إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا، وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ، وَحَرَّمَ الرِّبَا ۔

یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہا: "تجارت تو سود کی طرح ہی ہے جبکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ (البقرۃ 2:275)

‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تجارت کی متعدد اقسام سے منع فرمایا۔ آپ نے سونے کے بدلے سونے کے تبادلے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ اس کی مقدار بالکل برابر ہو۔ اسی طرح آپ نےاس طریقے سے سونے کے بدلے چاندی کے تبادلے سے منع فرمایا کہ ایک تو فوراً دے دیا جائے اور دوسرا کچھ عرصے کے لئے ادھار کر دیا جائے۔ آپ نے ایسی تجارت سے بھی منع فرمایا جس کے تبادلے میں (ایک فریق کو نقصان کا) کوئی خطرہ (Risk) ہو یا جس میں بیچنے والے یا خریدنے والے سے کوئی بات چھپائی گئی ہو۔

††††††††† سنت سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ اللہ تعالی نے ہر طرح کی تجارت کو حلال کر دیا ہے سوائے ان صورتوں کے جنہیں اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان سے ممنوع قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کئی قسم کی تجارت کے بارے میں سنت جاری فرمائی۔ مثلاً:

       ایک غلام کو بیچا جائے اور اس میں بیچنے والا خریدنے والے سے اس کا کوئی عیب چھپا لے۔ ایسی صورت میں خریدار اس غلام کو واپس لوٹا سکتا ہے اور اس عرصے کے دوران وہ غلام کے ذریعے کمائے گئے منافع کو اپنے پاس بطور ہرجانہ رکھ سکتا ہے۔

       اگر ایک شخص غلام بیچے جس کی تحویل میں کچھ مال ہو۔ یہ مال بیچنے والے ہی کا ہو گا سوائے اس کے کہ تجارت میں یہ شرط رکھی جائے کہ مال خریدار کی ملکیت ہو گا۔

       اگر کوئی پھل لگے کھجور کے درخت کو بیچے تو اس پر پہلے سے لگا ہوا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا سوائے اس کے کہ سودے یہ میں شرط رکھی جائے کہ یہ پھل خریدار کی ملکیت ہو گا۔

ان احادیث پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انسانوں پر یہ لازم کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکام کی پیروی کریں۔

عام فرائض (نماز)

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا ۔

بے شک نماز اہل ایمان پر مقررہ اوقات ہی میں فرض ہے۔ (النساء 4:103)

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۔

نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ (النساء 4:43)

خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا ۔

ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کیجیے اور اس کے ذریعے انہیں پاک کیجیے اور ان کا تزکیہ فرمائیے۔ (التوبہ 9:103)

وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۔

لوگوں پر اللہ کے لئے لازم ہے کہ جو بھی اس راہ میں استطاعت رکھتا ہو وہ (اللہ کے) گھر کا حج کرے۔ (ال عمران 3:97)

‏اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں نماز، زکوۃ اور حج کا حکم دیا ہے اور ان سب کی وضاحت اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان سے فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خبر دی ہے کہ نمازوں کی تعداد پانچ ہے۔ آپ نے بتایا کہ عام حالات میں ظہر، عصر اور عشا کی رکعتیں چار چار، مغرب کی تین اور فجر کی دو ہیں۔ آپ نے سنت قائم فرمائی کہ نمازوں میں لازماً (قرآن مجید کی) قرأت کی جائے گی جو کہ مغرب، عشا اور فجر میں بلند آواز سے اور ظہر و عصر میں آہستہ آواز میں کی جائے گی۔ آپ نے سنت قائم فرمائی کہ ہر نماز کا آغاز لازماً تکبیر سے ہو گا اور اختتام سلام سے۔ اس میں پہلے تکبیر کہی جائے گی، پھر قرأۃ ہو گی، اس کے بعد رکوع اور پھر دو سجدے ادا کئے جائیں گے۔ ان کے علاوہ نماز میں جو کچھ ہے وہ لازم نہیں ہے۔

††††††††† آپ نے یہ بھی سنت قائم کی کہ سفر کا ارادہ کرنے کی صورت میں ان نمازوں کو مختصر کیا جائے گا جن کی رکعتیں چار ہیں جبکہ مغرب اور فجر کو عام حالات کی طرح ادا کیا جائے گا (یعنی ان میں کمی نہ کی جائے گی۔) انسان خواہ مسافر ہو یا کہیں پر مقیم ہو، وہ یہ سب نمازیں قبلہ رو ہو کر کے ادا کرے گا سوائے اس کے کہ دشمن کے حملے کا خطرہ ہو۔

††††††††† آپ نے یہ سنت قائم فرمائی کہ نفل نمازیں بھی فرض نمازوں ہی کی طرح ادا کی جائیں گی۔ ان کی ادائیگی بھی طہارت، قرأت، رکوع، سجدہ اور حالت سفر و حضر میں زمین (نہ کہ کشتی) پر ادائیگی کی صورت میں قبلے کی طرف منہ کئے بغیر جائز نہیں ہے۔ نفل نماز کو ایک سوار شخص جس طرف سواری جا رہی ہے، اسی طرف منہ کر کے ادا کر سکتا ہے۔

ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب سے، وہ عثمان بن عبداللہ سے، وہ سراقہ سے اور وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: "نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غزوہ بنی انمار کے دوران اپنے اونٹ پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے نماز ادا کی۔ (مسند شافعی، مسند ابی حنیفہ)

اسی طرز پر مسلم بن خالد الزنجی نے ابو جریج سے، انہوں نے ابو زبیر سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں کہ انہوں نے بنی انمار کا ذکر کیا تھا یا نہیں یا پھر شاید یہ کہا تھا کہ یہ نماز سفر میں ادا کی جا رہی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت قائم فرمائی کہ عید اور استسقاء (بارش کی دعا کرنے کے لئے نماز) کی نمازوں میں رکوع و سجود کی تعداد بھی وہی ہو گی (جو عام نمازوں میں ہے) لیکن آپ نے سورج گرہن کی نماز میں ایک اضافی رکوع فرمایا اور ہر رکعت میں دو رکوع کئے۔ یہ حدیث مالک نے یحیی بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیں۔ اسی کے مثل روایت مالک، ہشام، ان کے والد اور سیدہ عائشہ کے توسط سے ملی ہیں۔ ایک روایت مالک نے زید بن اسلم، عطا بن یسار اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ سیدہ عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی روایتوں کے الفاظ میں کچھ فرق ہے لیکن ان احادیث میں یہ بات واضح ہے کہ سورج گرہن کی نماز دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں ایک اضافی رکوع ہے۔

††††††††† اللہ تعالی نے نماز سے متعلق حکم دیا کہ " بے شک نماز اہل ایمان پر مقررہ اوقات ہی میں فرض ہے۔"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ یہ مقررہ اوقات کون کون سے ہیں۔ آپ نے ان مقررہ اوقات میں نمازیں ادا کیں۔ غزوہ احزاب کے دن مسلمان محاصرے میں آ گئے تھے اور نماز ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، اس لئے آپ نے نمازوں کو اس عذر کی بنا پر موخر کر دیا اور ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کر کے ادا فرمایا۔

محمد بن اسماعیل نے ابو فدیک سے، انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی سعید سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی جنہوں نے فرمایا: ہم لوگ جنگ خندق کے دن (جنگ کی شدت کے باعث) نماز ادا نہ کر سکے تھے یہاں تک کہ مغرب کے بعد رات کو جا کر ہمیں کچھ وقت مل سکا جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: "اللہ ہی مومنوں کی طرف سے جنگ کرنے کے لئے کافی ہو گیا۔" اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ وہ اذان دیں۔ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی۔ پھر آپ ظہر کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور کیا ہی اچھے طریقے سے نماز ادا کی جیسا کہ آپ اس کے وقت پر کیا کرتے تھے۔ پھر آپ عصر کے لئے کھڑے ہوئے اور ایسے ہی نماز پڑھی۔ اس کے بعد اسی طرح مغرب اور پھر عشا کی نمازیں ادا فرمائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ "خطرے کی نماز" سے متعلق احکام نازل ہونے سے پہلے کا ہے جب پیدل اور سوار ہر طرح سے نماز کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔ (احمد، دارمی، شافعی)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے یہاں یہ واضح کر دیا کہ نمازوں کو قضا کرنے کا یہ واقعہ "خطرے کی نماز" کے حکم سے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ جس آیت میں خطرے کی نماز کا حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے:

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ، فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا‏.‏ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُبِينًا ۔

جب تم لوگ سفر کے لئے نکلو تو کوئی حرج نہیں اگر تم نماز میں کمی کر لو (خاص طور پر) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ انکار کرنے والے تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کھلم کھلا تم سے دشمنی پر اترے ہوئے ہیں۔ (النساء4:101)

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمْ الصَّلَاةَ، فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ، فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِنْ وَرَائِكُمْ، وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ۔

(اے نبی!) جب آپ میدان جنگ میں ان (مسلمانوں) کے ساتھ ہوں اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوں ایک گروہ آپ کے ساتھ اپنا اسلحہ لے کر (نماز کے لئے) کھڑا ہو۔ جب یہ لوگ سجدہ کر لیں تو پیچھے چلے جائیں اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آ کر آپ کے ساتھ نماز ادا کریں۔ (النساء 4:102)

‏مالک نے یزید بن رومان سے، انہوں نے صالح بن خوات اور انہوں نے ایسے صحابہ سے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نماز ادا کی تھی، سے روایت کی: ایک گروہ نے رسول اللہ کے ساتھ صف بنا لی جبکہ دوسرا دشمن کی طرف متوجہ رہا۔ حضور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے ایک رکعت ادا کر لی۔ اس کے بعد یہ لوگ پلٹے اور دشمن کے مقابلے پر جا کھڑے ہوئے اور دوسرے گروہ نے آپ کے ساتھ ایک رکعت ادا کر لی جو باقی رہ گئی تھی۔ اس کے بعد حضور نے انتظار فرمایا اور اس گروہ نے اپنے طور پر دوسری رکعت پوری کر لی۔ اس کے بعد نبینے سلام پھیر کر نماز پوری کر لی۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ابو داؤد، مالک)

یہی روایت ہم نے ایسے لوگوں سے بھی سنی ہے جنہوں نے اسے عبداللہ بن عمر بن حفص سے روایت کیا، انہوں نے اسے اپنے بھائی عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے صالح بن خوات سے، انہوں نے اپنے والد خوات بن جبیر سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یزید بن رومان کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔

نوٹ: قرآن مجید میں "نماز خوف" کا یہ طریقہ اس صورت کے لئے بیان کیا گیا ہے کہ اگر دشمن کے حملے کا خطرہ ہو تو امام دو رکعت پڑھائے۔ ایک گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھے اور دوسرا پہرہ دے۔ نماز پڑھنے والا گروہ ایک رکعت پڑھ کر پہرہ دینے چلا جائے اور پہلے پہرہ دینے والا دوسری رکعت امام کے ساتھ آ کر پڑھ لے۔

††††††††† اس اجازت کی وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ نہایت عقیدت رکھتے تھے۔ ایسے وقت میں جب جنگ کا میدان گرم ہونے والا ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ کون زندہ بچے گا اور کون شہادت سے ہم کنار ہو گا، یہ بڑا مشکل تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو چھوڑ کر کسی اور کی امامت میں نماز ادا کریں۔ اس وجہ سے اس طریقے سے نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی۔

††††††††† امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ اور فقہاء کے ایک گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ طریقہ صرف حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ہی خاص تھا کیونکہ آپ کے بعد تو متعدد مرتبہ جماعت کروا کے نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ امام شافعی علیہ الرحمۃ اور فقہا کے دوسرے گروہ کے مطابق یہ طریقہ اب بھی قابل عمل ہے اور صرف رسول اللہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

††††††††† یہ واضح رہے کہ نماز خوف کا یہ طریقہ اس صورت میں ہے جب دشمن کے حملے کا خطرہ ہو اور عملاً جنگ نہ ہو رہی ہو۔ عملاً جنگ کی صورت میں جیسے بھی ممکن ہو نماز ادا کر لی جائے۔ اکثر فقہاء کے نزدیک اگر نماز کی ادائیگی اشاروں سے بھی ممکن نہ ہو تو اس کی قضا کی جا سکتی ہے۔ امام شافعی کے نزدیک قضا نماز کی اجازت، صلوۃ خوف سے منسوخ ہو چکی ہے۔

††††††††† اس سے شریعت میں گہری حکمت کا پتہ چلتا ہے کہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ شریعت کے احکام بھی بدلتے جاتے ہیں اور دین ہر حالت میں قابل عمل رہتا ہے۔

‏اس میں وہی بات بیان کی گئی ہے جو میں اس کتاب میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اللہ تعالی کے حکم سے کسی پچھلے حکم کو منسوخ کرنے کے لئے سنت قائم فرمائی تو آپ نے لوگوں پر حجت پوری کرنے کے لئے اس سنت (پر پوری طرح عمل کیا) تاکہ لوگ اب بعد والے حکم پر عمل کریں نہ کہ پہلے والے پر۔ اللہ تعالی نے حالت جنگ میں نماز کو قضا کرنے کو منسوخ کر کے "نماز خوف" کا حکم جاری فرما دیا اور جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کو اپنے وقت ہی میں ادا کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے نماز موخر کرنے کی اپنی سنت کو اللہ کی کتاب کے حکم اور خود اپنی سنت سے منسوخ فرما دیا۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ (خطرے کی نماز کے احکام نازل ہونے کے بعد) آپ نے اپنے وقت ہی میں نماز ادا فرمائی۔

مالک نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خطرے کی نماز کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: "جب خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے تب بھی نماز ادا کرو خواہ پیدل ہو یا سوار، قبلے کی طرف منہ ہو سکے یا نہ ہو سکے۔" (بخاری، مالک)

ایک اور شخص نے ایسی ہی روایت ابن ابی ذئب سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایت انہوں نے اپنے والد ہی سے روایت کی اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔

‏جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر حال میں قبلے کی طرف منہ کر کے فرض نماز کو ادا کرنا ضروری ہے، سوائے اس کے کہ جب ایسا کرنا ممکن ہی نہ ہو مثلاً شمشیر زنی، لڑائی، اور ایسے ہی دیگر مواقع پر جب قبلے کی طرف منہ کرنا ممکن نہ ہو۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز کو اپنے وقت میں ترک نہ کیا جائے گا بلکہ جس طرف (اور جیسے) بھی ممکن ہو، منہ کر کے نماز ادا کی جائے گی۔

زکوۃ

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۔

نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ (البقرۃ 2:43)

وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ ۔

نماز قائم کرنے والے اور زکوۃ ادا کرنے والے (انہی کو ہم اجر دیں گے)۔ (النساء 4:162)

فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ۔ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ‏۔ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ۔‏ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ‏۔

ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے ہی غافل ہیں، وہ ریاکاری کرتے ہیں اور "ماعون" سے منع کرتے ہیں۔ (الماعون 107:4-7)

بعض اہل علم کا یہ کہنا ہے کہ یہاں "ماعون" سے مراد زکوۃ ہے۔

خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ؛إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔

(اے نبی!) آپ ان کے اموال میں صدقہ لے کر انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کیجیے۔ ان کے حق میں دعا کیجیے کیونکہ آپ کی دعا ان کے لئے باعث سکون ہے اور اللہ تو سننے جاننے والا ہے۔ (توبہ 9:103)

اس آیت میں (زکوۃ کا حکم) بظاہر تو عام اموال کے لئے ہے لیکن اس بات کا احتمال بھی ہے کہ یہ حکم کچھ اموال کے ساتھ خاص ہو۔ سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے زکوۃکا حکم بعض مخصوص اموال کے ساتھ خاص ہے۔ مال تو بہت سی اقسام کا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک قسم جانور ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں پر زکوۃ لی ہے۔ اور جیسا کہ ہم تک بات پہنچی ہے، آپ نے دوسرے جانوروں میں سے گائے کو خاص کر کے اس پر زکوۃ عائد کی ہے۔ اس زکوۃ کی شرح اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبان سے متعین فرما دی۔ لوگوں کے پاس گھوڑے، گدھے اور اس طرح کے اور جانور بھی ہوتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان پر زکوۃ عائد نہیں فرمائی۔ اس سے یہ سنت قائم ہوئی کہ گھوڑوں پر زکوۃ نہیں لی جائے گی۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ زکوۃ صرف انہی چیزوں پر ادا کی جائے گی جن پر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عائد کرنے کا حکم دیا، دوسری چیزوں پر زکوۃ عائد نہیں کی جائے گی۔

††††††††† لوگوں کے پاس زرعی پیداوار جیسے کھجور اور انگور وغیرہ ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کھجور اور انگور پر زکوۃ وصول فرمائی۔ آپ نے اس پیداوار کا دس فیصد حصہ بطور زکوۃ مقرر فرمایا جب زمین کو بارش یا چشمے سے سیراب کیا جائے اور پانچ فیصد حصہ اس صورت میں مقرر فرمایا جب زمین کو کنویں کے پانی سے سیراب کیا جائے۔ بعض اہل علم نے کھجور اور انگور پر قیاس کرتے ہوئے زیتون پر بھی زکوۃ عائد کی ہے۔

††††††††† لوگ تو کھجور، انگور اور زیتون کے علاوہ اور فصلیں جیسے ناریل، بادام، اور انجیر وغیرہ بھی اگاتے ہیں۔ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زکوۃ عائد نہیں فرمائی۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تمام فصلوں پر زکوۃ فرض نہیں فرمائی ہے بلکہ بعض مخصوص اشیاء پر زکوۃ عائد کی ہے۔

††††††††† اسی طرح لوگ گندم، جو، مکئی اور دیگر اجناس بھی کاشت کرتے ہیں۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں پر بھی زکوۃ عائد کی جائے گی۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہم سے پہلے اہل علم نے دُخن (مکئی کی ایک قسم)، سُلت (جو کی ایک قسم)، عَلس (گندم کی ایک قسم)، چاول اور ہر اس چیز پر جو لوگ اگاتے اور کھاتے ہیں، بھی زکوۃ عائد کی ہے۔ مثال کے طور پر روٹی، عصیدہ، ادم (گندم سے تیار کردہ چیزیں)، ستو، مٹر اور پھلیوں پر زکوۃ عائد کی گئی ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس حکم پر قیاس ہے کہ لوگ جو کچھ بھی کھانے کے لئے پیدا کرتے ہیں، اس پر زکوۃ عائد کی جائے گی۔

نوٹ: دور جدید میں مال اور پیداوار کے جو جدید ذرائع پیدا ہو چکے ہیں، ان کے بارے میں اہل علم نے اجتہاد کرتے ہوئے یہ طے کیا ہے کہ دین میں ان کی مماثل جو چیز پائی جاتی ہے اس پر زکوۃ عائد کی جائے گی۔ مثلاً بھینس گائے کی طرح ہے، اس کی زکوۃ گائے کی زکوۃ کی شرح سے لی جائے گی۔ اسی طرح بعض علماء نے صنعتی اور سروس انڈسٹری کی پیداوار کو زرعی پیداوار کے مماثل قرار دے کر اس پر زرعی پیداوار کی زکوۃ عائد کی ہے۔ دوسرے اہل علم نے صنعتی پیداوار کو تجارت کے مماثل قرار دے کر اس پر تجارتی مال کی زکوۃ عائد کی ہے۔ اسی طرح معدنی ذخائر کو دفن شدہ خزانوں پر قیاس کرتے ہوئے اس پر علماء نے بیس فیصد زکوۃ عائد کی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے کہ گھوڑے پر زکوۃ نہیں ہے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے استعمال کی گاڑی کو زکوۃ سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں بعض اشیاء پر زکوۃ عائد نہ کئے جانے کی وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان اشیاء کو محفوظ رکھنا ممکن نہ ہو جیسا کہ سبزیاں یا پھر ان اشیاء کی پیداوار اتنی کم ہو کہ اس پر زکوۃ عائد کرنا مناسب نہ ہو۔

††††††††† اس کے علاوہ بہت سی ایسی اشیا بھی ہیں جو لوگ کاشت کرتے ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اور ہمارے علم کے مطابق آپ کے بعد آنے والوں نے ان پر زکوۃ عائد نہیں کی۔ اس کی مثال ثفا، اسبیوش، کسبرہ اور عصفر (مصالحوں کی مختلف اقسام) اور اس طرز کی دیگر اجناس ہیں۔ چونکہ ان پر زکوۃ عائد نہیں کی گئی اس لئے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بعض اشیاء پر زکوۃ ہے اور بعض پر نہیں ہے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے چاندی پر زکوۃ عائد فرمائی۔ بعد کے مسلمان (حکمرانوں) نے سونے پر بھی زکوۃ عائد کی۔ اس کی بنیاد یا تو کوئی ایسی حدیث تھی جو ہم تک نہیں پہنچی یا پھر انہوں نے اس بات پر قیاس کر لیا کہ سونا اور چاندی دونوں ہی اسلام کے ظہور سے پہلے بھی اور بعد میں بھی مختلف ممالک میں کرنسی کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنی دولت کو محفوظ رکھتے ہیں اور مختلف اشیاء کی قیمت کا تعین کرتے ہیں۔

††††††††† لوگوں کے پاس دوسری دھاتیں جیسے پیتل، لوہا اور سیسہ بھی ہوتی ہیں۔ ان پر نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور نہ ہی آپ کے بعد کسی (حکمران) نے زکوۃ عائد کی۔ اس وجہ سے یہ زکوۃ سے مستثنی ہیں۔ انہیں سونے اور چاندی پر قیاس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سونا اور چاندی تو تمام ممالک میں کرنسی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی کے ذریعے مختلف اشیاء کی قیمتوں کا تعین ہوتا ہے۔ یہ معاملہ دیگر دھاتوں کے ساتھ تو نہیں ہے جن کی کسی خاص وقت پر قیمت تول کر متعین کی جاتی ہے۔

††††††††† اسی طرح زبرجد اور یاقوت سونے اور چاندی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ ان پر نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زکوۃ عائد نہیں فرمائی اور ہمارے علم کے مطابق آپ کے بعد کسی (حکمران) نے بھی ایسا نہیں کیا۔ چونکہ یہ ایک خاص قسم کا مال ہے اور بطور کرنسی اسے استعمال نہیں کیا جاتا، اس لئے ان پر زکوۃ عائد نہیں کی گئی۔

††††††††† عام علماء نے جانوروں اور نقد رقم کے ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے جو کچھ روایت کیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ سال میں ایک مرتبہ ہی لی جائے گی۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا " وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ " (الانعام 6:141) یعنی "اللہ کا حق فصل کاٹنے کے دن ادا کرو۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت قائم فرمائی کہ زرعی پیداوار کی زکوۃ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فصل کٹنے کے دن لی جائے گی نہ کہ کسی اور وقت پر۔ آپ نے یہ سنت بھی قائم فرمائی کہ دفن شدہ خزانوں پر بیس فیصد زکوۃ وصول کی جائے گی۔ یہ صرف اسی وقت ہو گا جب یہ خزانے دریافت ہوں۔

سفیان زہری سے، وہ سعید بن مسیب سے اور ابو سلمہ سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: دفن شدہ خزانوں کی زکوۃ پانچواں حصہ (یعنی بیس فیصد) ہے۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد، مالک)

اگر سنت سے یہ تفصیلات معلوم نہ ہوتیں تو قرآن کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ تمام اموال پر زکوۃ عائد کی جائے گی۔ حقیقتاً زکوۃ تمام اموال پر نہیں بلکہ بعض مخصوص اموال پر عائد کی گئی ہے۔

حج

اللہ تعالی نے اس شخص پر حج فرض کیا ہے جو اس کی راہ پائے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ "راہ پانے" سے مراد زاد راہ اور سواری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حج سے متعلق امور کی وضاحت فرمائی: جیسے حج کے اوقات، تلبیہ کا طریقہ، کرنے کے اور بچنے کے احکام جیسے حالت احرام میں سلے ہوئے کپڑے نہ پہنے جائیں اور خوشبو استعمال نہ کی جائے، حج کے اعمال جیسے عرفات کا قیام، مزدلفہ کا قیام، رمی، سر منڈوانا اور طواف کرنا اور دیگر احکام۔

††††††††† اگر کوئی شخص اللہ کی کتاب کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے واقف ہو تو جیسا کہ میں نے بیان کیا (وہ دین کے احکام سے بے خبر رہ جائے گا)۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرنے کا طریقہ بتایا۔ ان احکام میں حلال و حرام کی وضاحت فرمائی، (احکام پر عمل کرنے کے) اوقات بتائے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکی سنت اللہ کی کتاب کے ساتھ تعلق میں اس مقام پر چند مرتبہ بھی موجود ہے تو یہ ہمیشہ اسی مقام پر موجود رہے گی۔

††††††††† سنت کبھی بھی کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی معاملے میں کتاب اللہ میں کوئی حکم موجود نہ بھی ہو، سنت پر عمل کرنا اس وقت بھی لازم ہے۔ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ ہم پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم کیا گیا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق میں سوائے اپنے پیغمبر کے کسی اور کو یہ مقام نہیں دیا ہے۔ ہر شخص کا قول و فعل کتاب اللہ اور پھر سنت رسول اللہ کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ اگر کسی بھی عالم کی رائے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ارشاد کے خلاف ہے، تو یہ جانتے ہی کہ یہ رائے سنت کے خلاف ہے، ہر شخص پر یہ ضروری ہے کہ وہ اس رائے کو چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو (آخرت میں) اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔

اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت کو اپنے بندوں پر لازم کیا ہے اور اس نے اپنی وحی، اپنے دین اور دین پر عمل کرنے والوں میں آپ کے اس مقام کو اچھی طرح واضح کر دیا ہے۔

نوٹ: امام شافعی کی اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف کسی شخص کو بھی، خواہ وہ کتنا بڑا عالم کیوں نہ ہو، وہ مقام دینے کو تیار نہ تھے جو صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ کی کسی بات سے اختلاف رائے نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کو یہ مقام صرف اسی وجہ سے حاصل ہے کہ آپ اللہ تعالی کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ آپ کے بعد کسی بھی عالم، پیر یا ولی اللہ کو یہ مقام حاصل نہیں ہے۔ سب اہل علم کی آراء کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا اور جو رائے بھی قرآن و سنت کے خلاف ہو گی، اسے بلا ججھک رد کر دیا جائے گا۔

††††††††† عدت کی مدت

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۔

تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو (دوسری شادی سے) چار ماہ دس دن تک روکے رکھیں۔ (البقرہ 2:234)

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنْ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنْ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ، وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۔

تمہاری جن خواتین کا حیض آنا بند ہو چکا ہو، ان (کی عدت) کے معاملے میں تمہیں اگر کوئی شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے۔ یہی حکم ان خواتین کے بارے میں ہے جنہیں ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا۔ اور حاملہ خواتین کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کے ہاں بچے کی ولادت ہو جائے۔ (طلاق 65:4)

بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بیوہ خاتون کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کی ہے اور یہ بھی بیان فرما دیا ہے کہ حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل تک ہے۔ دوسرے احکام کی طرح اسے بھی جمع کیا جائے تو خاتون پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں احکام پر عمل پیرا ہو۔

††††††††† (یہ رائے درست نہیں ہے کیونکہ) سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، جن کے ہاں ان کے شوہر کی وفات کے چند دن بعد بچے کی ولادت ہو گئی تھی، سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تمہارے لئے دوسری شادی کرنا جائز ہے۔ (بخاری، مسلم)" اس سے یہ معلوم ہوتا ہے خواہ وفات کا معاملہ ہو یا طلاق کا، متعین مدت تک عدت پوری کرنا اسی خاتون کے لئے ضروری ہے جو حاملہ نہ ہو۔ اگر کوئی خاتون حاملہ ہو تو اس کے لئے متعین مدت کا یہ حکم ساقط ہو جاتا ہے (کیونکہ اس کی عدت وضع حمل ہی ہے خواہ وہ اس مدت سے کم ہو یا زیادہ)۔

وہ خواتین جن سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمْ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمْ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ،فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ،وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمْ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ،إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا۔‏ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ،كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ،وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ، فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً، وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔

حرام کی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، رضاعی مائیں، رضاعی بہنیں، بیویوں کی مائیں، اور تمہاری گود میں پرورش پانے والی تمہاری سوتیلی بیٹیاں۔ اگر تم نے اپنی بیویوں سے خلوت کر لی ہے تو سوتیلی بیٹی سے نکاح کرنا تمہارے لئے جائز نہیں ہاں اگر خلوت نہیں ہوئی تو پھر کوئی حرج نہیں۔

تمہارے سگے (صلبی) بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنا) اور دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرنا بھی حرام ہے سوائے اس کے کہ جو کچھ پہلے ہو چکا کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ دوسروں کے ساتھ بیاہی ہوئی خواتین بھی تم پر حرام ہیں سوائے اس کے کہ جو کنیز بن کر تمہارے پاس آئیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی کرنا تمہارے لئے لازم ہے۔

اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے بشرطیکہ تم ان پر (حق مہر کی ادائیگی اور کفالت کر کے) اپنے مال خرچ کرو، انہیں حصار نکاح میں محفوظ کرو نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔ اس کے بعد جو ازدواجی زندگی کا لطف تم اٹھاؤ، اس کے بدلے انہیں مہر بطور فرض ادا کرو البتہ مہر کا معاہدہ ہو جانے کے بعد اگر آپس کی آزادانہ رضا مندی سے کوئی سودا تمہارے درمیان ہو جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ بے شک اللہ (تمہارے ارادوں کو) جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (النساء 4:23-24)

اس آیت میں دو معنی ہونے کے احتمال ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس خاتون کو مرد کے لئے حرام قرار دے دیا ہے وہ (ہمیشہ کے لئے) حرام ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا وہ اس حکم کی بنیاد پر حلال ہے کہ " اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے"۔ یہ آیت کا ظاہری مفہوم ہے۔

††††††††† (اس سے بظاہر یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ بیوی کی بہن سے نکاح بھی ہمیشہ کے لئے حرام ہے حالانکہ) آیت سے یہ واضح ہے کہ دو بہنوں سے نکاح کی حرمت اپنی ماں سے نکاح کر لینے کی حرمت کی طرح نہیں ہے۔ جس چیز کو اللہ تعالی نے حلال قرار دیا، وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام قرار دیا، وہ حرام ہی ہے۔ اس نے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا، وہی منع ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ انہیں "جمع کرنے" سے منع کیا گیا ہے۔ اپنی اصل میں ان سے علیحدہ علیحدہ وقت میں (یعنی ایک بہن کے فوت ہونے کے بعد یا اسے طلاق دے دینے کے بعد دوسری سے) نکاح کر لینا حلال ہی ہے۔ یہ معاملہ سگی ماں، بیٹی، پھوپھی اور خالہ کے بارے میں نہیں ہے۔ ان سے نکاح کرنا ہر حال میں حرام ہے۔

††††††††† اللہ تعالی کے اس ارشاد میں "اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے " میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ سوائے اپنی اصل یا رضاعی رشتے میں حرام کی گئی خواتین کے دوسری خواتین سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا صرف رشتہ نکاح کے بعد ہی ممکن ہے۔

کھانے پینے کی ممنوع اشیا

اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ارشاد فرمایا:

قُلْ‏:‏ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ،فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ۔

(اے نبی!) آپ کہیے: میرے پاس جو وحی آئی ہے اس میں میں کوئی (کھانے کے قابل) ایسی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے یا (ذبح کرنے والے کی) نافرمانی ہو کہ اس نے اسے اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے ذبح کر لیا ہو۔ (الانعام 6:145)

اس آیت میں دو معنی ہونے احتمال ہیں۔ ایک تو یہ کہ سوائے اس کے جو اللہ تعالی نے حرام کیا ہو، کوئی اور چیز ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہے۔ یہ ایسے معانی ہیں جن کی کوئی بھی مخاطب شخص سمجھ بیٹھے گا کہ سوائے اللہ تعالی کی طرف سے متعین حرام کردہ اشیاء کے باقی سب حلال ہیں۔ اسی معنی کو سب سے زیادہ واضح اور وسیع کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس آیت کے دوسرے معنی کو مراد لیا جائے تو اہل علم کو وہی معنی قبول کرنے پڑیں گے جو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت میں بیان فرمائے کہ اللہ تعالی کی مراد یہی ہو سکتی ہے۔

††††††††† اللہ کی کتاب اور سنت کے کسی حکم کو اس وقت تک (کسی خاص شخص، گروہ یا صورتحال کے ساتھ) مخصوص قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک ان دونوں یا کسی ایک میں اس کی کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو۔ اس وقت تک کسی حکم کو مخصوص قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ آیت میں اس بات کا احتمال نہ ہو کہ اس سے مخصوص مراد ہو سکتا ہے۔ جس آیت میں یہ احتمال نہ ہو، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا حکم (کسی خاص شخص، گروہ یا صورتحال کے ساتھ) مخصوص ہے۔

††††††††† اللہ تعالی کے اس ارشاد کہ "(اے نبی!) آپ کہیے: میرے پاس جو وحی آئی ہے اس میں میں کوئی (کھانے کے قابل) ایسی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو " میں احتمال تھا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کسی خاص چیز کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ دوسرا احتمال یہ بھی تھا کہ کھانے کی سب ہی چیزیں حلال ہیں (سوائے ان کے جو حرام کر دی گئی ہیں)۔ سنت سے اخذ کرتے ہوئے یہی معنی درست ہے نہ کہ پہلے والا۔

سفیان نے ابن شھاب سے، انہوں نے ابو ادریس الخولانی سے اور انہوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دانتوں سے شکار کرنے والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، احمد)

مالک نے اسماعیل بن ابو حکیم سے، انہوں نے عبیدہ بن سفیان سے الحضرمی سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " دانتوں سے شکار کرنے والے درندوں کا کھانا حرام ہے۔" (مسلم، نسائی، ابن ماجہ، مالک)

نوٹ: اللہ تعالی نے انسان کو خبیث اور طیب اشیاء کا شعور دیا ہے۔ انسانوں کی غالب اکثریت اپنی فطرت کی بنیاد پر یہ جانتی ہے کہ کون سی چیز کھانے کی ہے اور کون سی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسی فطرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ درندوں کا گوشت کھانا جائز نہیں کیونکہ یہ خبیث چیز ہے۔ یہ بیان فطرت اتنا واضح ہے کہ غیر مسلموں کی غالب اکثریت بھی شیر چیتے یا عقاب وغیرہ کا گوشت نہیں کھاتی۔

بیوہ خاتون کے لئے حالت عدت میں ممنوعہ احکام

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

‏وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ،وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۔

تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو (دوسری شادی سے) چار ماہ دس دن تک روکے رکھیں۔ پھر جب یہ مدت پوری ہو جائے تو اگر وہ معروف طریقے سے اپنے متعلق کوئی فیصلہ کر لیں، تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تو اس سے باخبر ہی ہے۔ (البقرہ 2:234)

اللہ تعالی نے یہاں بیوہ خاتون کی عدت کو بیان کر دیا ہے۔ عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ دستور کے مطابق اپنے متعلق جو فیصلہ بھی کریں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہاں عدت کے دوران کسی اور کام کے ممنوع ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ آیت کے ظاہری مفہوم سے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ بیوہ خاتون عدت کے دوران دوسری شادی کرنے سے اجتناب کرے اور اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہے۔

††††††††† اس حکم میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ خاتون نہ صرف دوسری شادی سے اجتناب کرے بلکہ اس مدت کے دوران دوسرے ایسے کاموں سے بھی پرہیز کرے جو پہلے اس کے لئے جائز تھے جیسا کہ بناؤ سنگھار کرنا، خوشبو لگانا وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت قائم فرمائی کہ بیوہ خاتون عدت کے دوران خوشبو وغیرہ سے بھی پرہیز کرے۔ خاتون کے لئے خوشبو وغیرہ سے اجتناب کا حکم ایسا حکم ہے جو سنت کے ذریعے اس پر لازم ہوا جبکہ دوسری شادی سے رکنا اور شوہر کے گھر ہی میں رہنے کا حکم کتاب اللہ اور پھر سنت دونوں سے معلوم ہوا۔

††††††††† اس معاملے میں سنت نے اللہ تعالی کے حکم کی وضاحت کر دی ہے کہ خاتون کس طرح سے خود کو روکے رکھے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ نماز، زکوۃ اور حج کے معاملے میں سنت نے اللہ کے احکام کی وضاحت کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایسے معاملات میں بھی سنت قائم فرمائی جس میں اللہ تعالی کا حکم موجود نہ تھا۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter††††††††