بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حصہ سوم: سنت

یہ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت شدہ سنت اور حدیث سے متعلق اصولوں پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں امام شافعی نے یہ اصول بیان کیے ہیں:

        اللہ کے دین کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات ہے۔ رسول کی حیثیت سے جو احکام آپ نے دیے انہیں قبول کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن کاموں سے منع فرمایا، ان سے رکنا ضروری ہے۔

        آپ نے بعض ایسی چیزوں سے منع فرمایا جو ہمیشہ کے لئے حرام ہیں اور بسا اوقات بعض کاموں سے آپ نے کسی مخصوص صورت حال ہی میں منع فرمایا۔ ابدی حرام کاموں سے اجتناب کرنا ہمیشہ ضروری ہے لیکن مخصوص حالات کی ممانعتوں سے رکنا صرف انہی مخصوص حالات ہی میں ضروری ہے۔ پہلی قسم کی مثال چوری یا شراب ہے۔ دوسری قسم کی مثال روزے کی حالت میں ازدواجی تعلقات قائم کرنا ہے۔

        احادیث کی روایت میں بسا اوقات کچھ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جس کے باعث روایتوں میں تضاد نظر آتا ہے۔ کبھی یہ تضاد محض راویوں کی غلط فہمی کے باعث پیدا ہوتا ہے اور کبھی ایک حدیث دوسری سے منسوخ ہوا کرتی ہے۔

        حدیث کبھی بھی قرآن کے مخالف نہیں ہو سکتی۔ حدیث صرف اور صرف قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔

        بعض اوقات روایتوں میں ایک بات جزوی طور پر بیان کی گئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بظاہر احادیث میں اختلاف محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس موضوع سے متعلق تمام روایتوں کو اکٹھا کیا جائے تو پھر پوری بات درست طور سمجھ میں آ جاتی ہے۔

        احادیث میں بھی کچھ احادیث کا حکم عمومی نوعیت کا (عام) ہوتا ہے اور کچھ کا تعلق کسی مخصوص صورت حال سے (خاص) ہوا کرتا ہے۔ اس بات کا تعین بہت ضروری ہے۔

        اگر ایک حدیث دوسری حدیث سے منسوخ ہو تو ہم اس حکم کو قبول کر لیں گے جو بعد میں دیا گیا ہو۔

        اگر دو احادیث ایک دوسرے کے متضاد پائی جائیں، ان میں سے کسی ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار بھی نہ دیا جا سکے اور اس تضاد کو رفع کرنا ممکن نہ ہو تو پھر ایک حدیث کو چھوڑ کر دوسری زیادہ مستند حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ اس ترجیح کے لئے قرآن، دیگر احادیث اور عقل عامہ کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

Z     سب سے پہلے دونوں احادیث کو قرآن پر پیش کیا جائے گا اور جو حدیث بھی کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہو گی اسے ترجیح دیتے ہوئے اسے اختیار کر لیا جائے گا۔

Z     قابل ترجیح روایت وہی ہو گی جسے کے راوی زیادہ جانے پہچانے ہیں اور اپنے علم اور احادیث کو محفوظ کرنے کے معاملے میں زیادہ شہرت یافتہ ہیں؛

Z     وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو ایک کی بجائے دو یا زیادہ ذرائع سے ہم تک پہنچی ہو گی۔ اس کی وجہ ہے کہ احادیث کو محفوظ کرنے کا اہتمام زیادہ لوگ کم کی نسبت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں؛

Z     وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو کتاب اللہ کے عام معانی سے بحیثیت مجموعی زیادہ قریب ہو گی یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دوسری سنتوں کے زیادہ قریب ہو گی۔

Z     وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو اہل علم میں زیادہ جانی پہچانی ہے؛

Z     وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو قیاس (اور عقل) کے زیادہ قریب ہو گی؛

Z     وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت عمل کرتی ہوگی۔

        بسا اوقات احادیث میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہوتا۔ یہ محض بات کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کے باعث محسوس ہوتا ہے۔ احادیث کا مطالعہ اگر دقت نظر سے کیا جائے تو یہ تضاد دور ہو جاتا ہے۔

        بعض اوقات ایک حدیث میں ایک حکم دیا گیا ہوتا ہے لیکن دوسری حدیث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ حکم "لازمی یا واجب" نہیں ہے بلکہ ایک افضل عمل ہے۔ اس کی مثال جمعے کے دن غسل کرنا ہے۔

        احادیث کو ان کے ظاہری اور عمومی مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔ اگر کوئی دلیل موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ اس حدیث میں مجازی مفہوم مراد ہے یا پھر یہ حکم کسی مخصوص صورتحال کے لئے ہے تب اس حدیث کو مجازی یا خاص مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔

        اہل علم پر یہ لازم ہے کہ اگر انہیں کوئی دو ایسی احادیث مل جائیں تو ان میں مطابقت پیدا کرنے (Reconciliation) کی کوشش کریں، اگر انہیں اس مطابقت کی کوئی بنیاد مل جائے، نہ کہ انہیں (فوراً ہی) متضاد قرار دے دیں جبکہ ان کی تطبیق کا امکان موجود ہو۔

        اگر ان احادیث کو ایک دوسرے کے مطابق کرنا ممکن ہو یا ایسا کرنے کی کوئی بنیاد موجود ہو اور ایک حدیث دوسری کی نسبت زیادہ مضبوط نہ ہو تو ان احادیث کو متضاد قرار دینا درست نہیں۔ متضاد روایات وہ ہوتی ہیں جنہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہی نہ ہو اور ان میں لازماً ایک کو ترک کر دینا پڑے۔

        ایک شخص کسی ایک شخص سے اس طرح حدیث کو روایت کرے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے کسی صحابی تک جا پہنچے تو یہ خبر واحد کہلاتی ہے۔ خبر واحد کو قبول کرنا ضروری ہے اگر اس میں یہ شرائط پائی جائیں۔

Z     حدیث کو بیان کرنے والا راوی اپنے دین کے معاملے میں قابل اعتماد شخص ہو۔

Z     حدیث کو منتقل کرنے میں اس کی شہرت ایک سچے انسان کی ہو۔

Z     جو حدیث وہ بیان کر رہا ہو، اسے سمجھنے کی عقل رکھتا ہو۔

Z     الفاظ کی ادائیگی کے نتیجے میں معانی کی جو تبدیلی ہو جاتی ہو، اس سے واقف ہو۔

Z     جن الفاظ میں وہ حدیث کو سنے، انہی میں آگے بیان کرنے کی استطاعت رکھتا ہو نہ کہ جو سنے اپنے الفاظ میں بیان کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حدیث کا صرف مفہوم بیان کیا جائے گا اور بیان کرنے والے شخص کو یہ علم نہیں ہو گا کہ (حدیث کا محض مفہوم بیان کرنے سے) معنی کس طرح تبدیل ہو جایا کرتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی حلال حکم کو حرام میں تبدیل کر دے۔ اگر حدیث کو لفظ بہ لفظ منتقل کیا جائے گا تو اس میں تبدیلی کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔

Z     اگر وہ حدیث کو اپنی یادداشت کے سہارے منتقل کر رہا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حدیث کو اچھی طرح یاد کرنے والا ہو یعنی اس کی یادداشت کمزور نہ ہو۔

Z     اگر وہ حدیث کو لکھ کر منتقل کر رہا ہو تو اس صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے جو کچھ لکھا ہو وہ خود اسے یاد رکھنے والا ہو۔

Z     اگر اس حدیث کو دوسرے حفاظ بھی محفوظ کر رہے ہوں تو اس شخص کی بیان کردہ حدیث ان افراد کی بیان کردہ حدیث کے موافق ہونا ضروری ہے۔

Z     راوی "تدلیس" کے الزام سے بری ہو۔ تدلیس یہ ہے کہ وہ یہ کہہ دے کہ میں نے حدیث کو فلاں سے سنا ہے جبکہ اس کی اس شخص سے ملاقات نہ ہوئی ہو اور اس نے اس سے حدیث کو اس سے سنا نہ ہو۔ تدلیس ایک دھوکا ہے۔ تدلیس کرنے والے کی روایت کو قبول نہ کیا جائے گا۔

Z     راوی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایسی بات منسوب کر دے جو کہ قابل اعتماد راویوں کی بیان کردہ حدیث کے خلاف ہو۔

Z     یہی تمام خصوصیات اس راوی سے اوپر والے راویوں میں بھی پائی جانا ضروری ہے جن سے یہ شخص روایت کر رہا ہے یہاں تک کہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے کسی صحابی تک پہنچ جائے جہاں روایت کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے۔ چونکہ راویوں کی اس زنجیر میں موجود ہر شخص اس حدیث کو پیش کر رہا ہے اس وجہ سے اوپر بیان کردہ صفات کا ان میں سے ہر شخص میں موجود ہونا ضروری ہے۔

Z     راوی تعصب کا شکار نہ ہو۔ اگر وہ کسی بات کے بارے میں متعصب ہے اور اس کے حق یا مخالفت میں حدیث پیش کر رہا ہے تو اس کی حدیث قبول کرنے میں احتیاط کی جائے گی۔

Z     راوی اگر کسی ایسے معاملے میں حدیث پیش کر رہا ہے جسے سمجھنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے تو اس کی حدیث کو قبول کرنے میں بھی احتیاط کی جائے گی۔

Z     راوی حدیث بیان کرنے میں کثرت سے غلطیاں کرنے والا نہ ہو۔

        اگر ایک راوی کی بیان کردہ حدیث (خبر واحد) ان شرائط پر پورا اترتی ہے تو اسے قبول کیا جائے گا اور یہ ہر اس شخص کے لئے حجت ہو گی جس تک یہ حدیث پہنچی ہے۔

        کوئی شخص کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہو، اس کی رائے کو حدیث کے خلاف قبول نہ کیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص حدیث کے خلاف عمل کر رہا ہو اور اس تک وہ حدیث پہنچ جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا عمل ترک کر کے حدیث پر عمل کرے۔

        اگر کوئی حدیث ایک سے زائد راویوں کے توسط سے پہنچی ہو تو اس کا ثبوت مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور حدیث کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت بھی ہو جایا کرتی ہے۔

        حدیث سے اخذ کردہ احکام کو ترک کرنا درست نہیں ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں جائز ہے اگر حدیث بیان کرنے والا کوئی راوی ناقابل اعتماد ہو، یا حدیث میں کوئی ایسی بات ہو جو دوسری صحیح احادیث کے خلاف ہو یا پھر حدیث کی ایک سے زیادہ توجیہات ممکن ہوں۔

        منقطع حدیث ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کا سلسلہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملا ہوا نہ ہو بلکہ اس میں سے ایک یا کئی راویوں کے نام نامعلوم ہوں۔ منقطع حدیث کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ اسے ان صورتوں میں قبول کیا جا سکتا ہے:

Z     حدیث کے دیگر ذرائع پر غور کیا جائے گا۔ اگر اسی معنی کی ایک اور حدیث دوسرے سلسلہ سند میں حدیث کو محفوظ رکھنے والے راویوں نے روایت کی ہے اور اس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک پہنچ رہی ہے تو اس سے اس منقطع حدیث کے بارے میں بھی معلوم ہو جائے گا کہ یہ حدیث بھی قابل قبول اور صحیح ہے۔

Z     یہ دیکھا جائے گا کہ اس منقطع حدیث کو کسی دوسرے ایسے شخص نے بھی روایت کیا ہے جس کی احادیث عام طور پر اہل علم کے نزدیک قابل قبول ہوتی ہیں۔ اگر ایسی بات ہو تو اس حدیث کو قبول کر لیا جائے گا اگرچہ یہ پہلے نکتے میں بیان کئے گئے طریقے سے ثابت شدہ حدیث کی نسبت کمزور درجے کی ہو گی۔

Z     اگر ایسا بھی نہ ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کسی صحابی کا قول اس حدیث میں کی گئی بات کے مطابق ہے۔ اگر وہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب اس حدیث کے مطابق ہے تو اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ یہ ایک منقطع روایت ہے لیکن اپنی اصل میں درست ہے۔

Z     اگر اہل علم کی اکثریت عام طور پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسے منسوب اس منقطع روایت سے ملتے جلتے مفہوم کے مطابق فتوی دیتے ہیں تو اس کا بھی یہی معاملہ ہے۔

Z     ان صورتوں میں اس منقطع حدیث پر اعتبار کیا جائے گا اگر اس کے روایت کرنے والے حضرات گمنام نہ ہوں اور نہ ہی ان سے روایت کرنے پر کوئی اعتراض کیا گیا ہو۔ اس صورت میں ان کی روایت کے درست ہونے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس کے خلاف مسلمانوں کا اجماع ہو گیا ہو۔ ایک حدیث کے بارے میں اہل علم میں یہ اختلاف ہو سکتا ہے کہ وہ مستند حدیث ہے یا نہیں۔

 

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter††††††††