بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 7: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکامات کی حجیت قبول کرنے کی ذمہ داری

اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اپنا دین، احکامات اور کتاب پہنچانے کے لئے مبعوث فرمایا۔ اس نے آپ کی حیثیت کو واضح کر دیا کہ آپ اس کے دین کا معیار ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کی اطاعت کو فرض قرار دیا اور آپ کی نافرمانی کو حرام کر دیا۔آپ کی فضیلت کو اس طرح سے واضح کر دیا کہ اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رسول پر ایمان لانا بھی ضروری قرار دیا۔

فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا‏:‏ ثَلَاثَةٌ انتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ‏.‏ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۔

ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور یہ نہ کہو کہ "خدا تین ہیں" باز آ جاؤ، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے۔ وہ بالاتر ہے اس سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ (النساء 4:171)

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ ۔

مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب وہ کسی اجتماعی کام کے سلسلے میں رسول کے ساتھ ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر نہ جائیں۔ (النور 24:62)

اس طریقے سے اللہ تعالی نے یہ ایمان کامل، جس کے سوا کسی اور چیز کی پیروی نہیں ہو سکتی، اس ایمان کو قرار دیا جو اللہ اور اس کے رسول دونوں پر لایا جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ پر ایمان تو لے آئے لیکن اس کے رسول کو نہ مانے تو اس کے ایمان کو اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول دونوں پر ایمان نہ لائے۔ اپنی حدیث میں اسی چیز کا امتحان رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لیا۔

مالک بن انس نے ہلال بن اسامہ سے اور انہوں نے عطا بن یسار سے اور انہوں نے عمر بن الحکم سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس ایک لونڈی کو لے کر گیا۔ میں نے عرض کی، "یا رسول اللہ! مجھ پر لازم ہے کہ میں ایک غلام آزاد کرو۔ کیا میں اسے آزاد کر دوں؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے پوچھا، "اللہ کہاں ہے؟" وہ بولی، "آسمان پر۔" آپ نے پوچھا، "میں کون ہوں؟"بولی، "آپ اس کے رسول ہیں۔" آپ نے فرمایا، "اسے آزاد کر دو۔" (موطا، مسند احمد، نسائی)

اس روایت میں راوی کا درست نام معاویہ بن الحکم ہے۔ میرا گمان ہے کہ جیسا کہ دوسرے راویوں کی روایتوں سے پتہ چلتا ہے، شاید مالک ان کا نام درست طور پر یاد نہیں رکھ سکے۔

††††††††† اللہ تعالی نے لوگوں پر اپنی وحی اور اپنے رسول کی سنت کی پیروی لازم کی ہے۔ جیسا کہ اس کا ارشاد ہے:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ، وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَيُزَكِّيهِمْ‏.‏ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔

اے رب! ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول اٹھانا جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور (اس کے ذریعے) ان کی شخصیت کو پاک کرے۔ تو بڑا ہی مقتدر اور حکمت والا ہے۔ (البقرہ 2:129)

كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا، وَيُزَكِّيكُمْ، وَيُعَلِّمُكُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ۔

میں نے تمہارے درمیان خود تمہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں میری آیات پڑھ کر سناتا ہے، تمہاری شخصیت کو پاک کرتا ہے اور (اس کے لئے) تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔ (البقرہ 2:151)

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ، وَيُزَكِّيهِمْ، وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ۔

مومنوں پر اللہ کا یہ بڑا ہی احسان ہوا کہ اس نے ان میں انہی کی قوم سے ایک رسول کو بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں، ان کی شخصیت کو پاک کرتے ہیں اور (اس کے لئے) انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں جبکہ اس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ (ال عمران 3:164 )

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ، وَيُزَكِّيهِمْ، وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ۔

وہی ہے جس نے ان امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور (اس کے لئے) انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس سے پہلے تو یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ (الجمعہ 62:2 )

وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ ۔

اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کی ہے۔ اس نے جو کتاب و حکمت تم پر نازل کی ہے اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ (البقرہ 2:231)

وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ، وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ۔

اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھایا ہے جو تم نہیں جانتے تھے اور اس کا فضل تم پر بہت ہے۔ (النساء 4:113)

وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ۔

(اے نبی کی ازواج!) یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھر میں کی جاتی ہے۔ بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے۔ (الاحزاب 33:34)

اللہ تعالی نے یہاں "کتاب" کا ذکر کیا اور وہ قرآن مجید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے "حکمت" کا ذکر کیا ہے۔ قرآن کے ایسے اہل علم، جن کی رائے کو میں قبول کرتا ہوں، کو میں نے کہتے سنا ہے کہ حکمت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے۔ یہ بات اللہ تعالی کے ارشاد سے ملتی جلتی ہے لیکن اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

††††††††† یہاں قرآن کے بعد حکمت کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالی نے لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر کیا کہ اس نے اپنے رسول کے ذریعے انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ یہاں حکمت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ سنت کا قرآن مجید سے براہ راست تعلق ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت کو فرض کیا ہے اور لوگوں پر آپ کی اطاعت کو لازم کیا ہے۔ کسی بھی چیز کو فرض قرار دینا اس وقت تک درست نہیں ہے جبکہ اس کی دلیل اللہ کی کتاب یا پھر اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے نہ مل جائے۔

نوٹ: امام شافعی کے نقطہ نظر کے مطابق ان آیات میں "کتاب" سے مراد "قرآن" ہے اور "حکمت" سے مراد "سنت" ہے۔ یہی نقطہ نظر امت کے اہل علم کی اکثریت کا ہے۔ ایک متبادل نقطہ نظر یہ پیش کیا گیا ہے کہ "کتاب" سے مراد اللہ تعالی کے قوانین یعنی شریعت ہے اور "حکمت" سے مراد ایمانیات اور اخلاقیات ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق قرآن اور حدیث دونوں ہی میں کتاب اور حکمت ملیں گی۔ اس کی دلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ قرآن مجید میں تورات کو "کتاب" قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کا غالب حصہ شریعت اور قوانین پر مشتمل ہے اور انجیل کو "حکمت" قرار دیا گیا ہے جس کا غالب حصہ ایمان و اخلاق کی دعوت پر مبنی ہے۔

††††††††† جیسا کہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر ایمان لانا، خود اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ہی ضروری قرار دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت اللہ تعالی کی کتاب میں جو بیان ہوا ہے، اس کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کے ان احکامات کو بیان کرتی ہے جو پوری نسل انسانیت کے لئے عام ہیں یا کسی مخصوص گروہ یا فرد کے ساتھ خاص ہیں۔ سنت میں بیان کردہ حکمت کا براہ راست تعلق اللہ تعالی کی کتاب سے ہے لیکن اس کا درجہ کتاب اللہ کے بعد ہے۔ یہ خصوصیت اللہ تعالی کے رسول کے سوا کسی اور حاصل نہیں ہے۔

اللہ کی اطاعت کی ساتھ رسول اللہ کی اطاعت بھی فرض ہے اور اس کا حکم علیحدہ بھی دیا گیا ہے

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا۔

کسی مومن مرد یا عورت کو یہ روا نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو پھر اسے اپنے معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ تو جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔ (الاحزاب 33:36)

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ، وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ، فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا۔

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر (حکمران) ہوں۔ پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو اگر تم واقعی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی صحیح طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہے۔ (النساء 4:59)

بعض اہل علم نے یہاں "اولو الامر" سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی افواج کے کمانڈر لئے ہیں۔ ہمیں اسی بات کی خبر ملی ہے۔ یہ بات اللہ تعالی کے دوسرے ارشاد سے مشابہ ہے۔ اس حکم کی وجہ یہ تھی کہ مکہ کے گرد و نواح میں رہنے والے عرب لوگ حکمرانی کے مفہوم سے ناآشنا تھے۔ یہ بات ان کے لئے قابل قبول ہی نہ تھی کہ انہیں کسی اور کی اطاعت کرنا پڑے۔ جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت میں دے دیا گیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو حکومت کا اہل نہ سمجھتے تھے۔ انہیں اس بات کا حکم دیا گیا کہ وہ ان حاکموں کی اطاعت بھی کریں جنہیں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مقرر فرمایا۔

††††††††† امراء و حکام کے حقوق و فرائض سے متعلق یہ اطاعت غیر مشروط نہیں ہے بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ " پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔"اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں اور ان کے حکام جن کی اطاعت میں وہ لوگ دیے گئے ہیں کے مابین کسی معاملے میں اگر اختلاف رائے ہو جائے تو اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دیا جائے۔

††††††††† اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس بات کی طرف لوٹا دیا جائے جو اللہ اور اس کے رسول نے ارشاد فرمائی ہے اگر تمہارے علم میں یہ ارشاد ہے۔ اگر تمہیں کسی معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کا علم نہیں ہے تو اسے حضور سے پوچھ لو جب بھی تمہاری ملاقات آپ سے ہو یا پھر ان سے پوچھ لو جن کی ملاقات آپ سے ہوئی ہو۔ یہ ایسا حکم ہے جس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ " کسی مومن مرد یا عورت کو یہ روا نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو پھر اسے اپنے معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔"

††††††††† اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات کے بعد کسی مسئلے میں اختلاف رائے ہو جائے تو معاملے کو اللہ تعالی کے بیان کردہ حکم اور اس کے بعد اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بیان کردہ حکم کی طرف لوٹا دیا جائے۔ اگر اس معاملے میں ان دونوں یا کسی ایک میں کوئی واضح حکم نہ مل سکے تو اسے کسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے اخذ کیا جائے جیسا کہ میں نے اوپر قبلے، گواہوں کے اچھے کردار اور فدیے کے جانور کی مماثلت کے احکام میں مثالیں بیان کی ہیں۔ اس کے علاوہ اسی معنی سے مشابہ دیگر آیات میں بھی اللہ تعالی نے یہی حکم دیا ہے۔

وَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُوْلَئِكَ رَفِيقًا۔

جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔ (النساء 4:69)

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ (الانفال 8:20)

اطاعت رسول کے بارے میں اللہ تعالی کے احکامات

اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ‏.‏ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا۔

(اے رسول!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے تھے وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا تو اس کا وبال خود اس پر ہو گا اور جو اس وعدے کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو عنقریب اللہ کو بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ (الفتح 48:10)

مَنْ يُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۔

جس نے رسول کی اطاعت کی، درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (النساء 4:80)

ان آیات میں اللہ تعالی نے یہ بتا دیا کہ اس کے رسول کی بیعت دراصل اسی کی بیعت ہے اور اس کے رسول کی اطاعت دراصل اسی کی اطاعت ہے۔ مزید ارشاد فرمایا:

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ، وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ۔

تمہارے رب کی قسم یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں تمہیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔ پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ (النساء 4:65)

اس آیت سے متعلق ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ ایک زرعی معاملے میں ایک شخص کا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہو گیا۔ جب اس کا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث میں سے تھا نہ کہ قرآن کا کوئی حکم تھا۔ قرآن نے وہی بات بیان کی جو میں نے بیان کی۔ اگر قرآن کوئی فیصلہ دے دیتا تو یہ کتاب اللہ میں واضح طور پر درج ہوتا۔ اگر لوگ کتاب اللہ میں درج کسی حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے تو وہ اس پر ایمان لانے والوں میں سے نہ رہتے کیونکہ اللہ تعالی کے نازل کردہ حکم کو نہ ماننے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‏.‏ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا ، فَلْيَحْذَرْ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔

مسلمانو! اپنے درمیان رسول کے بلانے کو ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ لو، اللہ تم میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ میں چپکے سے غائب ہو جاتے ہیں۔ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے کا شکار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے۔ (النور 24:63)

وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ‏.‏ وَإِنْ يَكُنْ لَهُمْ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ‏‏.‏ أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمْ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ‏؟‏ بَلْ أُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُون۔‏ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا‏:‏ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، وَ أُوْلَئِكَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ۔‏ وَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقِيهِ، فَأُوْلَئِكَ هُمْ الْفَائِزُونَ‏۔

جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کر دیں تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے جبکہ اگر فیصلہ ان کے حق میں ہونے والا ہو تو بڑے فرمانبردار بن کر آ جاتے ہیں۔ کیا ان میں دلوں میں کوئی بیماری ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ظالم یہی لوگ ہیں۔ ایمان لانے والوں کا کام یہ ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو وہ کہتے ہیں، "ہم نے سنا اور اطاعت کی۔" ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔(النور 24:48-52)

اس آیت میں اللہ تعالی نے لوگوں کو بتا دیا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کسی معاملے میں فیصلہ کرنے کے لئے بلائیں تو یہ اللہ کے حکم کی طرف بلانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان کے درمیان اللہ تعالی کی طرف سے فیصلہ فرمانے کے لئے موجود ہیں۔ جب یہ لوگ حضور کے کسی فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں تو وہ دراصل اللہ کے فیصلے کے سامنے ہی سر جھکا رہے ہوتے ہیں۔

††††††††† حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کو ماننا ہم پر فرض ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے کامل علم سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو دین پہنچانے کے لئے اتھارٹی مقرر کیا ہے اور آپ کو اپنی توفیق سے ہر قسم کے گناہ سے معصوم فرمایا ہے۔ آپ اللہ تعالی کے احکامات کو براہ راست حاصل کرتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے تمام مخلوق پر اپنے رسول کی پیروی کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے اور انہیں یہ بتایا ہے کہ رسول کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ اس نے انہیں یہ بھی بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ کی اطاعت کریں۔

اللہ تعالی کی وضاحت کہ اس کی وحی کی پیروی اس کے رسول پر فرض ہے، اللہ تعالی کی گواہی کہ اس کے رسول اسی کے احکام کی پیروی کرتے ہیں اور وہی ہدایت پر ہے جو آپ کی پیروی کرے

اللہ تبارک و تعالی اپنے نبی کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

یا ايُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعْ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا‏۔وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ۔

اے نبی! اللہ سے (حسب سابق) ڈرتے رہیے اور کفار و منافقین کی بات نہ مانیے۔ حقیقت میں علیم و حکیم تو اللہ ہی ہے۔ اسی بات کی پیروی کیجیے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جا رہی ہے۔ اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ (الاحزاب 33:1-2)

اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأَعْرِضْ عَنْ الْمُشْرِكِينَ ۔

اس وحی کی پیروی کیجیے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکین سے منہ پھیر لیجیے۔ (الانعام 6:106)

ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنْ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا، وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۔

ہم نے آپ کو دین کے معاملے میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ آپ اس کی پیروی کیجیے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے جو علم نہیں رکھتے۔ (الجاثیہ 45:18)

َ‏ اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ بتا دیا کہ اس نے آپ پر یہ احسان کیا ہے کہ وہ آپ کو اپنی مخلوق کے شر سے بچائے گا چنانچہ اس کا ارشاد ہے:

يَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ، فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ، وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنْ النَّاسِ۔

اے رسول! آپ کے رب کی جانب سے جو آپ کی طرف نازل ہوا، اسے پہنچائیے، اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ اللہ آپ کو ان لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ (المائدہ 5:67)

َ‏ اللہ تعالی نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ اس نے جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر نازل کی ہے اس پر آپ مضبوطی سے ایمان لے آئیں کیونکہ وہ آپ کے لئے اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي‏:‏ مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ، وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا، وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۔

ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ہے۔ (اس وحی سے قبل) آپ کو یہ علم نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں، یقینا آپ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کر رہے ہیں۔ (الشوری 42:52)

وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ، وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ، وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ، وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ، وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ، وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا۔

اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر نہ ہوتی تو ان کے ایک گروہ نے تو یہ فیصلہ کر ہی لیا تھا کہ وہ آپ کو گمراہ کر دیں۔ وہ اپنے سوا کسی اور کو گمراہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی آپ کو کسی چیز سے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اللہ نے آپ کی جانب کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور آپ کو وہ کچھ سکھایا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بہت فضل ہے۔ (النساء 4:113)

َ‏ اللہ تعالی نے یہاں یہ واضح کر دیا ہے کہ اس نے اپنے نبی پر اپنے دین کی اتباع کو لازم کیا ہے۔ آپ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس ہدایت کو دوسروں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس کی گواہی آپ خود اپنی ذات کے لئے بھی دیں۔ ہم بھی اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اس پر ایمان لا کر اور اس کا توسل حاصل کرنے کے لئے اس کے کلام کی تصدیق کر کے اسی بات کی گواہی دیتے ہیں۔

عبدالعزیز نے عمرو بن ابی عمرو جو کہ مطلب کے آزاد کردہ غلام تھے اور انہوں نے مطلب بن حنطب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ "اللہ تعالی نے مجھے جس چیز کو حکم تم تک پہنچانے کا حکم دیا میں نے اس میں کوئی بات نہیں چھوڑی اور تمہیں اس کا پورا پورا حکم پہنچا دیا۔ جس چیز سے اللہ نے تمہیں روکنے کا حکم دیا، میں نے اس میں سے کوئی بات نہیں چھوڑی اور تمہیں اس سے روک دیا۔ (مسند شافعی)

اللہ تعالی نے اپنے لامحدود علم اور ناقابل تسیخ فیصلے کے ذریعے ہمیں یہ بتا دیا کہ جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اللہ تعالی نے انہیں اس سے روک دیا اور آپ کو یہ بتا دیا کہ وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔

††††††††† اللہ تعالی نے اس بات کی گواہی دے دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرماتے ہیں جو کہ اللہ کا راستہ ہے۔ آپ اس کا پیغام پہنچاتے ہیں، اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں، اور جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اللہ کی اطاعت حضور پر فرض ہے۔ یہ سب باتیں اوپر مذکور آیات میں بیان ہوئی ہیں۔ اللہ تعالی نے اپنی مخلوق پر یہ حجت پوری کر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کو تسلیم کریں اور آپ کی پیروی کریں۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو حکم بھی دیا ہے، اگرچہ وہ کتاب اللہ میں لکھا ہوا نہ بھی ہو، وہ تب بھی اللہ تعالی کا حکم ہی ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یوں بیان کیا کہ "َإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ" یعنی "آپ تو سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں۔" حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایسے معاملات میں بھی سنت قائم کی جن میں کتاب اللہ میں کوئی حکم موجود تھا اور ایسے معاملات میں بھی راہنمائی فرمائی جن میں اس کتاب میں کوئی واضح حکم یا نص موجود ہے۔

††††††††† حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو سنت قائم کی، اللہ تعالی نے ہم پر لازم کر دیا ہے کہ ہم اس کی اتباع کریں۔ اس سنت کی پیروی ہی میں اللہ کی اطاعت ہے۔ اس اتباع سے انکار کرنا ایسا گناہ ہے جس پر کوئی مخلوق بھی کوئی عذر پیش نہیں کر سکتی۔ اس سنت کی پیروی سے نکلنے کا کوئی راستہ اللہ تعالی نے نہیں چھوڑا۔ یہی بات میں بیان کر چکا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی یہی ارشاد فرمایا ہے۔

سفیان کو سالم ابوالنضر، جو کہ عمر بن عبیداللہ کے آّزاد کردہ غلام تھے، نے بتایا کہ عبیداللہ بن ابی رافع نے اپنے والد سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے سامنے میرے احکام میں سے کوئی حکم پیش کیا جائے، جس میں کسی چیز پر عمل کرنے یا کسی چیز سے رکنے کا حکم دیا گیا ہو، تو وہ کہے، "مجھے معلوم نہیں، اللہ کی کتاب میں تو اس کا کوئی ہمیں نہیں ملا جس کی ہم پیروی کریں۔" (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

سفیان کہتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن المنکدر نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مرسلاً بھی روایت کی ہے۔ "اریکہ" کا معنی پلنگ ہوتا ہے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کی دو اقسام ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں کوئی واضح حکم موجود تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی پیروی فرمائی۔ دوسرا یہ ہے کہ قرآن میں کوئی حکم تھا اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمائی کہ اس حکم سے اللہ تعالی کی مراد کیا ہے؟ آپ نے یہ واضح فرما دیا کہ یہ حکم تمام انسانوں کے لئے عام ہے یا کسی مخصوص گروہ کے ساتھ خاص۔ اس حکم میں بندوں سے کیا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ان دونوں صورتوں میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ کی کتاب کی پیروی ہی کر رہے ہوتے ہیں۔

††††††††† میں کسی ایسے عالم کو نہیں جانتا جو اس بات سے اختلاف رکھتا ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کی تین اقسام ہیں۔ ان میں سے دو اقسام پر تو سب کا اتفاق رائے ہے۔ ان دو اقسام میں بعض امور پر اتفاق ہے اور بعض پر اختلاف۔

       پہلی قسم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں کوئی واضح حکم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس حکم کی وضاحت فرما دی کہ اس حکم سے کیا مراد ہے؟

       دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں کوئی حکم بیان فرمایا تو آپ نے اللہ کی جانب سے ہی وضاحت فرمائی کہ اس حکم کا معنی کیا ہے۔ ان دو اقسام میں تو کوئی اختلاف موجود نہیں۔

       تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی نص موجود نہ تھی اور اس سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت جاری فرمائی۔

††††††††† اہل علم میں سے بعض کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے لامحدود علم اور اپنی مرضی سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اس بات کی اتھارٹی دی ہے کہ جہاں اللہ کی کتاب میں کوئی نص موجود نہ ہو وہاں آپ سنت جاری فرمائیں۔

††††††††† اہل علم کے دوسرے گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کوئی ایسی سنت جاری نہیں فرمائی جس کی اصل کتاب اللہ میں موجود نہ ہو۔ اس کی مثال یہ ہے کہ قرآن مجید میں نماز کا حکم دیا گیا اور سنت میں نماز کی تعداد اور اس پر عمل کے طریقے کی وضاحت کی گئی۔ اس کی اصل قرآن میں مذکور ہے۔ اسی طرح خرید و فروخت کے معاملات میں سنت قائم کی گئی جس کی اصل قرآن میں ہے کہ "لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ " یعنی "آپس میں اپنے اموال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔" اور "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا " یعنی "اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔" جو کچھ حلال یا حرام تھا، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے اللہ تعالی ہی کی طرف سے اسی طرح واضح فرما دیا جیسا کہ آپ نے نماز کی وضاحت فرمائی۔

††††††††† اہل علم کے تیسرے گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکو اللہ تعالی کی جانب سے حکم دیا جاتا تھا آپ کی سنت کی توثیق کر دیتا تھا۔ چوتھے گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سنت اللہ کی حکمت ہے جس کا القاء اللہ کی جانب سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو کیا گیا ہے۔

عبدالعزیز نے عمرو بن ابی عمرو سے روایت کی اور انہوں نے مطلب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "روح الامین نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی شخص بھی اس وقت تک نہ مرے گا جب تک اس کے حصے کا رزق اس تک نہ پہنچ جائے۔ اس لئے رزق طلب کرنے میں میانہ روی سے کام لو۔" (ابن ماجہ، مسند شافعی)

جو بات حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دل میں ڈال دی گئی وہ وہی حکمت ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں کیا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ پر جو کتاب نازل فرمائی اور اپنی جو نعمتیں آپ کو عطا فرمائیں وہ بعض اوقات تو ایک ہی صورت میں دی گئیں اور بعض اوقات مختلف صورتوں میں۔ ہم اللہ تعالی سے کامیابی کی دعا کرتے ہیں اور عافیت طلب کرتے ہیں۔

††††††††† اس نعمت کی صورت خواہ کچھ بھی ہو، اللہ تعالی نے یہ بات تو واضح فرما دی ہے کہ اس کے رسول کی اطاعت فرض ہے۔ جب کوئی شخص یہ جان لے کہ کوئی حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دیا ہے تو پھر اس کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ ہر انسان کو دین کے لئے آپ کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی کی کتاب میں جو احکام دیے گئے ہیں، چونکہ سنت اس کی وضاحت کرتی ہے اس لئے سنت کے ذریعے اس شخص پر اللہ کی حجت تمام ہو جاتی ہے جو یہ جان لے کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے۔

††††††††† سنت خواہ اللہ کی کتاب کی کسی نص کی وضاحت کرتی ہو یا کسی ایسے حکم کے بارے میں ہو جو کتاب اللہ میں درج نہیں ہے، اس پر عمل کرنا ہر صورت میں ضروری ہے کیونکہ اللہ کے رسول کا حکم اللہ کے حکم کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ابو رافع کی روایت کردہ اس حدیث میں ارشاد فرمائی جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔

††††††††† اب ہم انشاء اللہ سنت کی ان دونوں اقسام کی وضاحت کریں گے جو کہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ خواہ سنت کتاب اللہ کے کسی حکم کی وضاحت کرتی ہو یا ایسا حکم بیان کرتی ہو جو قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اس سے ان باتوں کی مزید وضاحت ہو جائے گی جو ہم نے یہاں بیان کر دی ہیں۔

اب ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کے بارے میں ان باتوں کو بیان کریں گے:

       سنت کے ذریعے اللہ کی کتاب کے ناسخ و منسوخ کے استدلال کا بیان

       کتاب اللہ میں بیان کردہ احکام کا بیان جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت بھی ہے

       (کتاب اللہ کے) ان احکام کا ذکر جن کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت کے ذریعے فرمائی ہے کہ انہیں کیسے اور کس وقت ادا کیا جائے

       اللہ تعالی کے احکام میں عمومی احکام کا تذکرہ جو کہ عام ہیں

       اللہ تعالی کے ایسے بظاہر عمومی احکام کا ذکر جو کہ مخصوص صورتحال کے لئے ہیں

       ایسی سنت کا ذکر جس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی حکم درج نہیں ہے

 

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter