بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 9: روایات

روایت میں موجود خامیاں

سائل: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کچھ احادیث ایسی ملتی ہیں جو قرآن کے احکام کے عین مطابق ہوتی ہیں۔ کچھ ایسی احادیث ملتی ہیں جو قرآن کے ظاہری مفہوم کے مطابق ہوتی ہیں اور ان میں اکثر وہی ہوتا ہے جو قرآن میں ہے۔ کچھ ایسی ہوتی ہیں جو ایسے احکام سے متعلق ہوتی ہیں جو قرآن میں نہیں ہیں۔ کچھ ایسی روایتیں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے سے (کسی معاملے میں) متفق ہوتی ہیں اور کچھ ایسی جو ایک دوسرے کے متضاد مفہوم پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث منسوخ ہوتی ہے اور دوسری اسے منسوخ کرنے والی (ناسخ)۔ بعض ایسی روایات بھی ہوتی ہیں جن میں ناسخ اور منسوخ کا پتہ چلانا مشکل ہوتا ہے۔

بعض احادیث ہمیں ایسی ملتی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی کام سے منع فرمایا اور (اہل علم) اس کام کو "حرام" قرار دیتے ہیں۔ کچھ اور احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی کام سے منع فرمایا ہوتا ہے لیکن (اہل علم) اس منع کرنے کو لازم نہیں بلکہ اختیاری معاملہ قرار دیتے ہیں۔

ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ (یعنی اہل علم) بسا اوقات بعض باہم متضاد احادیث کو بھی قبول کر لیتے ہیں۔ آپ بعض احادیث پر قیاس بھی کر لیتے ہیں، اور بعض کو چھوڑ دیتے ہیں (اور اس معاملے میں احادیث میں امتیاز برتتے ہیں)۔ اس فرق برتنے کی دلیل کیا ہے؟ آپ (علماء) کے درمیان بہت سے امور پر اختلاف رائے بھی ہوتا ہے۔ آپ کچھ احادیث کو ان کے مثل بلکہ بسا اوقات ان سے کمزور احادیث کی بنیاد پر چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ (ایسا کیوں ہے؟)

شافعی: اگر ایک حکم قرآن مجید میں بھی موجود ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہمیشہ اس کے موافق ہی ہو گی (اور کبھی متضاد نہ ہو گی)۔ سنت قرآن کی تبیین ہی ہے۔ تبیین اسی کو کہتے ہیں کہ کسی جملے کی وضاحت کر دی جائے۔ جب کتاب اللہ کسی معاملے میں خاموش ہو اور اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے کوئی حکم مل جائے تو اس کی پیروی کرنا ہم پر اللہ تعالی کی طرف سے عمومی نوعیت کا فرض ہے۔

جہاں تک حدیث میں ناسخ و منسوخ کا تعلق ہے تو یہ معاملہ کتاب اللہ میں قرآن کے کسی حکم کو دوسرے حکم کے ذریعے منسوخ کر دینے کی طرح ہی ہے۔ بالکل اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت بھی دوسری سنت سے منسوخ ہو سکتی ہے۔ جو بات میں نے ابھی بیان کی ہے اس کی کچھ وضاحت میں اس کتاب میں اور مقامات پر بیان بھی کر چکا ہوں۔

ایسی احادیث جن میں متضاد احکام ملتے ہیں اور اس بات کی بھی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ ان میں ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ، ایسی احادیث میں درحقیقت کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہوتا۔ یہ اصلاً ایک دوسرے سے متفق ہی ہوتی ہیں (لیکن سمجھنے والا بات کو درست طور پر سمجھ نہیں پا رہا ہوتا۔)

جیسا کہ میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بارے میں اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قوم اور زبان کے اعتبار سے عرب تھے۔ آپ کبھی ایک عام بات کرتے جس سے مراد عام حکم ہی ہوتا اور (عربی زبان کے قاعدے کے مطابق) کبھی عام الفاظ میں ایک بات کرتے لیکن اس سے مراد کوئی خاص (شخص، گروہ یا صورتحال) ہوتی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جاتا اور آپ اس کے جواب میں کچھ ارشاد فرما دیتے۔ اس واقعہ کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے والا (یعنی راوی) کبھی اس بات کو تفصیل سے بیان کر دیتا اور کبھی اختصار کے ساتھ۔ اس طرح سے بات کا مطلب (سننے والے کے لئے) کسی حد تک تبدیل ہو جاتا۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حدیث بیان کرنے والا کوئی شخص (حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا) جواب تو بیان کر دے لیکن اسے سوال کا علم ہی نہ ہو جس سے اسے اصل صورتحال کا علم ہو سکے کہ یہ جواب کس وجہ سے دیا گیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک صورتحال میں آپ نے ایک حکم جاری فرمایا اور اس سے بالکل مختلف صورتحال میں دوسرا حکم جاری فرمایا۔ حدیث سننے والے بعض لوگ صورتحال کے اس اختلاف سے بے خبر تھے جن میں یہ احکام جاری کئے گئے (اور وہ اسے احکام کا اختلاف سمجھ بیٹھے۔)

بعض اوقات حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک سنت قرآن کے حکم کے عین مطابق جاری فرمائی اور اسے کسی شخص نے یاد کر لیا۔ کسی شخص نے ایک سنت کو اس سے مختلف معنی میں لیا اور دوسرے نے اسے درست معنی میں لیا کیونکہ دونوں افراد کی (ذہنی استعداد اور) حالات میں فرق ہو سکتا ہے۔ اب یہ دونوں احادیث جب بعد کے لوگوں تک پہنچیں تو سننے والوں کو اس میں اختلاف محسوس ہوا حالانکہ درحقیقت ان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔

بعض اوقات حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک (عربی زبان کے عام اسلوب میں) عام جملے سے کسی چیز کی حرمت اور حلت بیان فرمائی (جبکہ یہ کسی خاص صورتحال سے متعلق تھا)۔ اس کے بعد آپ نے اپنے عمل سے یہ بتا دیا کہ آپ کا ارادہ کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے کا نہیں تھا (بلکہ آپ کا ارشاد کسی خاص صورتحال سے متعلق تھا۔ حدیث سننے والے نے صرف ایک بات ہی سنی اور غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ سنت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔) اس طرح کی (غلط فہمی کی) مثالیں کتاب اللہ کے بارے میں بھی موجود ہیں۔

نوٹ: اس کی مثال وہ مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک میت کے گھر کی خواتین کو روتا پیٹتا دیکھ کر فرمایا، "یہ اسے رو رہی ہیں جبکہ اسے عذاب ہو رہا ہے۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس جملے سے یہ سمجھے کہ شاید میت کے ورثا کے رونے پیٹنے سے مرنے والے کو عذاب ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب ان کی یہ بات سنی تو وضاحت فرمائی کہ میت کو ورثا کے رونے پیٹنے کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا بلکہ حضور نے یہ فرمایا تھا کہ "یہ تو اسے رو رہی ہیں جبکہ اس میت کا حال یہ ہے کہ اسے عذاب ہو رہا ہے۔"

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت کے ایک حکم کو دوسرے حکم سے منسوخ فرما دیا۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ حکم کی اس تبدیلی کی وضاحت نہ فرمائیں۔ آپ نے تو وضاحت فرما دی لیکن جس شخص نے آپ کے یہ احکام سنے اس نے ان میں سے ایک کو یاد کر لیا اور دوسرے حکم کو وہ آگے منتقل نہ کر سکا۔ یہ دوسرا حکم بھی ضائع نہیں ہوا بلکہ اب بھی موجود ہے اور جو چاہے اسے حاصل کر سکتا ہے۔

جو کچھ میں نے سنت کے بارے میں بیان کیا ہے یہ اس بنیاد پر ہے کہ آپ یعنی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) نے خود بھی اپنے احکام کے مابین فرق کیا ہے۔ احکام کے اس فرق کے معاملے میں بھی ہم پر لازم ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کریں۔ کوئی (عالم) بھی یہ نہیں کہتا کہ حضور نے اپنے احکام میں فرق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ اگر کوئی یہ بات کہتا ہے کہ "احکام میں کوئی فرق نہیں ہے" جبکہ یہ فرق خود نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے روا رکھا ہے، تو وہ شخص ایسا یا تو لاعلمی کی بنیاد پر کہتا ہے یا پھر وہ شک کرنے کے مرض میں مبتلا ہے۔ یقیناً اللہ تعالی کی اطاعت (ہر معاملے میں) حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پیروی ہی میں ممکن ہے۔

جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اگر ہمیں سنت میں کوئی اختلاف نظر آئے تو ایسا یا تو اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ اس بات کو مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا گیا جس کے نتیجے میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا۔ اب جو کچھ ہم تک نہیں پہنچ سکا اسے ہم کسی دوسری روایت سے معلوم کر سکتے ہیں یا پھر یہ (اختلاف) محض حدیث بیان کرنے والے کے وہم یا غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ہمیں ایسی کوئی بھی حدیث نہیں ملی جس میں بظاہر اختلاف پایا جاتا ہو اور ہم اس اختلاف کی وجہ نہ جانتے ہوں۔ وجوہات میں وہ تمام باتیں شامل ہیں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔

اگر دو احادیث میں اختلاف پایا جائے تو اسے حل کرنے کا ایک اور طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اس حدیث کو اختیار کر لیں گے جو ان دونوں میں سے زیادہ مستند ہے۔ ان میں سے زیادہ مستند وہی ہو گی جس کے بارے میں کوئی دلیل ہمیں کتاب اللہ، سنت نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، یا دوسرے شواہد جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں سے مل رہی ہے۔ ہم اس حدیث کو اختیار کریں گے جو زیادہ قوی ہے اور دلائل سے زیادہ مستند ثابت ہوئی ہے۔

ہمیں آج تک کوئی ایسی دو حدیثیں نہیں ملیں جن کے اختلاف کو حل نہ کیا جا سکے یا اوپر بیان کئے گئے دلائل یعنی کتاب اللہ، سنت اور دیگر دلائل سے مناسبت کی بنیاد پر کسی ایک کو ترجیح نہ دی جا سکے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جس چیز سے منع فرما دیا وہ حرام ہے۔ اگر ہمیں کوئی ایسی دلیل مل جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ وہ حرام نہیں ہے (بلکہ ناپسندیدہ کے درجے میں ہے) تو پھر ہم اسے اسی طرح تسلیم کر لیں گے۔

جہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت پر قیاس کرنے کا تعلق ہے تو اس کی دو اقسام ہیں۔ ان میں سے ہر قسم پھر متعدد ذیلی اقسام پر مشتمل ہے۔

سائل: وہ اقسام کیا ہیں؟

شافعی: (پہلی قسم تو یہ ہے کہ) اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی کے زبان کے ذریعے اپنی عبادت و اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اس کی عبادت و اطاعت کے اس حکم کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالی نے جو احکام اپنے بندوں پر لازم کئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کے معنی کی وضاحت فرما دی ہے یا پھر یہ وضاحت ہم تک آپ سے منسوب احادیث کے ذریعے پہنچی ہے۔ اس معاملے میں کوئی بھی ایسا حکم باقی نہیں رہ گیا ہے جس کی وضاحت نہ کی گئی ہو۔ اہل علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ سنت کے راستے کو اختیار کریں اگر اس کے معنی (قرآن کے معنی کے) مطابق ہوں۔ اس سے متعدد اقسام مزید نکلتی ہیں۔

دوسری قسم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی چیز کو عام طور پر حلال قرار دیا اور کسی خاص (شخص، گروہ یا صورتحال) کے لئے اسے حرام قرار دے دیا۔ ہم اسے عام طور پر حلال ہی سمجھیں گے اور مخصوص (فرد، گروہ وغیرہ) کے لئے اسے حرام ہی سمجھیں گے۔ ہم اس تھوڑے سے خاص پر قیاس نہیں کریں گے بلکہ اکثریت کے عام حکم پر قیاس کرتے ہوئے (دیگر صورتوں کے لئے احکام اخذ کریں گے) کیونکہ اکثریت پر قیاس کرنا اقلیت پر قیاس کرنے سے بہتر ہے۔

بالکل یہی معاملہ اس کے برعکس صورت میں ہو گا کہ اگر آپ نے ایک چیز کو عام طور پر حرام قرار دیا اور اس میں کسی خاص (شخص، گروہ یا صورتحال) کے لئے اسے حلال قرار دیا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالی نے کوئی حکم فرض قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس میں کسی خاص (فرد، گروہ یا صورتحال) کے لئے تخفیف فرما دی۔ جہاں تک قیاس کا تعلق ہے تو اسے صرف قرآن، سنت اور آثار (صحابہ) سے حاصل کردہ احکام پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: اس کی مثال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسراف کے باعث مردوں کو ریشم پہننے سے منع فرمایا۔ ایک صحابی نے خارش کے باعث ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت چاہی تو آپ نے اس مخصوص صورتحال میں اس کی اجازت دے دی۔

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ثابت شدہ مستند حدیث کے خلاف رائے قائم کریں، مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ ہمارے معاملے میں کبھی ایسا نہیں ہو گا۔ ایسا کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو ایک حدیث کا علم ہی نہ ہو یا یہ اس کے ذہن ہی میں نہ رہے یا وہ اسے سمجھنے میں غلطی کر بیٹھے اور اس بنیاد پر وہ اس حدیث کے خلاف رائے قائم کر لے لیکن جان بوجھ کر کوئی بھی ایسا نہیں کرے گا۔

سائل: یہ جو اقسام آپ نے بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ہر ایک کی مثال بیان کیجیے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ میرے ہر سوال کے جواب میں جامع اور مختصر بات بیان کر دیجیے جو میں بھول نہ سکوں۔ سنت نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ناسخ و منسوخ سے ابتدا فرمائیے اور اس کی مثالوں کو قرآن کے ساتھ بیان کیجیے اگرچہ آپ کو اپنی فرمائی ہوئی بات کو دوہرانا پڑے۔

شافعی: اللہ تعالی نے پہلے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر یہ لازم کیا کہ آپ بیت المقدس (یروشلم) کی طرف رخ کر کے نماز ادا کریں۔ اب بیت المقدس قبلہ بن گیا اور اس زمانے میں جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی جانب رخ فرمایا، تو کسی کے لئے یہ جائز نہ رہا کہ وہ کسی اور جانب منہ کر کے نماز ادا کرے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے بیت المقدس کے قبلہ بنائے جانے کا حکم منسوخ فرما دیا اور اپنے رسول اور عام لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کو قبلہ بنا لیں۔ جیسے ہی کعبہ قبلہ بنا، اب کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ سوائے خطرے کی حالت کے، کسی اور جانب منہ کر کے نماز ادا کرے۔ اب یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کبھی دوبارہ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز ادا کر سکے۔

بیت المقدس کی جانب رخ کرنے کا یہ حکم اپنے زمانے میں حق تھا جب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی طرف رخ انور فرمایا۔ جب آپ نے (اللہ کے حکم سے) قبلے کو تبدیل کر لیا تو اب قیامت تک کے لئے حق یہی ہے کہ مسجد الحرام کی جانب منہ کیا جائے۔ بعینہ یہی معاملہ کتاب اللہ اور سنت نبی کے دوسرے منسوخ احکام کا ہے۔

کتاب و سنت کے اس ناسخ و منسوخ کی وضاحت اس بات کی دلیل ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کوئی سنت قائم فرمائیں اور اللہ تعالی آپ کو اس کی بجائے کسی اور بات کا حکم دے دے تو یہ لازم ہے کہ آپ اس دوسری سنت کو لوگوں تک پہنچائیں تاکہ وہ منسوخ حکم پر ہی عمل کرتے نہ رہ جائیں۔ کسی ایسے شخص کو اس معاملے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے جو عربی زبان یا کتاب و سنت کے باہمی تعلق سے نابلد ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کوئی سنت جاری فرمائیں اور اس معاملے میں قرآن میں کوئی حکم آ جائے تو کتاب اللہ، سنت کو منسوخ کر دیتی ہے (ایسا ہرگز نہیں ہے۔)

سائل: کیا یہ ممکن ہے کہ سنت، کتاب اللہ کے خلاف کوئی حکم جاری کر سکے؟

شافعی: بالکل نہیں، کیونکہ اللہ جل ثناؤہ نے اپنے بندوں پر دو طرح سے حجت قائم فرمائی ہے۔ ایک تو اللہ کی کتاب ہے اور دوسرے اس کے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت۔ ان دونوں کی بنیاد کتاب اللہ ہی میں ہے جس میں سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایک سنت قائم فرما دیں اور جب اسے منسوخ کریں تو اس کی ناسخ سنت جاری ہی نہ فرمائیں۔ ناسخ (منسوخ کرنے والا) حکم وہی ہو گا جو دونوں میں سے بعد والا ہو گا۔ کتاب اللہ کے اکثر ناسخ احکام کا علم ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہی سے ہوتا ہے۔

جب سنت قرآن کے ناسخ احکام کو بیان کرتی ہے اور ناسخ اور منسوخ احکام کے مابین فرق کرتی ہے تو یہ ناممکن ہے کہ کوئی سنت قرآن سے منسوخ ہو جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایسی سنت جاری نہ فرمائیں جو پہلی سنت کو منسوخ کر رہی ہو۔ (یہ میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ) جس بندے پر اللہ کی حجت پوری ہو چکی ہے اسے اس معاملے میں کوئی شبہ باقی نہ رہ جائے۔

سائل: اگر مجھے قرآن کا کوئی حکم اپنے ظاہری الفاظ میں عام ملے اور اس کے ساتھ کوئی سنت بھی قرآن کے اس حکم کی وضاحت کرتی ہوئی ملے لیکن یہ سنت قرآن کے ظاہری الفاظ کے خلاف ہو تو کیا ہم یہ نہ سمجھ لیں گے کہ یہ سنت قرآن سے منسوخ ہے؟

شافعی: یہ کسی عالم کی رائے نہیں ہے۔

سائل: ایسا کیوں ہے؟

شافعی: اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر آپ کی جانب کی جانے والی وحی کی پیروی لازم کی، آپ کے راہ راست پر ہونے کی خود گواہی دی اور لوگوں پر آپ کی اطاعت کو فرض کیا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ زبان میں کئی معانی کا احتمال ممکن ہے۔ بعض اوقات اللہ کی کتاب میں کوئی حکم بظاہر عام لگتا ہے لیکن یہ کسی خاص (شخص، گروہ یا صورتحال) کے لئے ہوتا ہے اسی طرح بعض اوقات ایک حکم بظاہر خاص لگتا ہے لیکن وہ عمومی حکم ہوا کرتا ہے۔ اس کی وضاحت سنت سے ہوتی ہے۔ اللہ کی کتاب کے ساتھ سنت کا مقام یہی ہے۔ سنت کبھی کتاب اللہ کی مخالف نہ ہو گی بلکہ قرآن کے احکام کے عین مطابق کتاب اللہ کی پیروی کرتی ہو گی یا پھر یہ کتاب اللہ کے احکام کی وضاحت کرتی ہو گی۔ یہ ہر حال میں کتاب اللہ کی پیروی ہی کرے گی۔

سائل: آپ نے جو فرمایا کیا اس کی کوئی دلیل قرآن مجید سے مل سکتی ہے؟

شافعی: ان میں سے بعض تو میں اسی کتاب میں بیان کر چکا ہوں۔ اللہ تعالی نے نماز، زکوۃ اور حج کو فرض کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمائی کہ نماز کیسے ادا کی جائے؟ نمازوں کی تعداد کتنی ہے؟ ان کے اوقات کیا ہیں؟ اس میں کیا اعمال ہیں؟ مال میں کتنی زکوۃ لازم ہے؟ کس مال پر زکوۃ ہے اور کس پر نہیں؟ زکوۃ کس وقت دی جائے؟ حج کیسے کیا جائے؟ حج میں کیا افعال درست ہیں اور کن سے بچنا چاہیے؟

میں نے اللہ تعالی کے ان ارشادات کہ "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا" یعنی "چور مرد و عورت کے ہاتھ کاٹ دو" اور "الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ " یعنی "زانی مرد و عورت میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو" کا بھی ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت قائم فرمائی کہ صرف اسی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا جس نے ربع دینار یا اس سے زائد کی چوری کی ہو اور کوڑے کنوارے یا غلام بدکاروں کے لئے ہیں نہ کہ آزاد شادی شدہ بدکاروں کے لئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت نے بتایا کہ قرآن کے یہ احکام کچھ مخصوص چوروں اور بدکاروں کے لئے ہیں جبکہ بظاہر ان آیات کا مفہوم عام معلوم ہوتا ہے۔

سائل: آپ نے جو کچھ فرمایا، مجھے اس سے اتفاق ہے لیکن کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مروی اس روایت کے بارے میں کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں کہ: "تمہارے پاس میری جانب سے جو کچھ پیش کیا جائے اسے کتاب اللہ پر پیش کرو اگر یہ اس کے موافق ہو تو وہ بات میں نے ہی کہی ہے اور اگر اس کے مخالف ہو تو وہ بات میں نے نہیں کہی۔"

شافعی: یہ حدیث کسی بھی ایسے ثقہ شخص نے روایت نہیں کی جس نے کسی بھی چھوٹے یا بڑے معاملے میں حدیث بیان کی ہو۔ یہ حدیث کسی بھی معاملے میں ثبوت نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ ایک منقطع روایت ہے جس کا راوی نامعلوم ہے۔ ہم اس قسم کی کسی روایت کو قبول نہیں کر سکتے۔

سائل: کیا نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے آپ کی رائے کے حق میں کوئی حدیث مروی ہے؟

شافعی: جی ہاں۔

سفیان نے سالم ابو النضر سے، انہوں نے عبید اللہ بن ابی رافع سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے کسی کو اس طرح سے نہ پاؤں کہ وہ اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے (متکبرانہ انداز میں) بیٹھا ہو اور جب اس کے سامنے میرے احکام میں سے کوئی حکم پیش کیا جائے جس میں میں نے کسی چیز کے بارے میں حکم دیا ہو یا کسی چیز سے روکا ہو تو وہ کہہ دے کہ میں نہیں جانتا، ہمیں یہ کتاب اللہ میں نہیں ملا، اس لئے ہم اس کی پیروی نہ کریں گے۔ (ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں پر لازم کر دیا کہ وہ کبھی بھی آپ کے حکم کو مسترد نہ کریں کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کے حکم کی اتباع ان پر فرض کی ہے۔

سائل: کیا آپ ایسی مثالیں پیش کریں گے جن پر اہل علم یا کم از کم ان کی اکثریت آپ کے ساتھ متفق ہے کہ کتاب اللہ کا حکم بظاہر عام تھا لیکن سنت نے وضاحت کی کہ یہ حکم خاص ہے۔

شافعی: جی ہاں، اس کتاب میں میں پہلے ہی یہ مثالیں بیان کر چکا ہوں۔

سائل: برائے کرم اگر آپ ان کا اعادہ فرما دیں۔

شافعی: اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمْ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمْ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ،فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ،وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمْ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ،إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا۔‏ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ،كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ،وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ۔

حرام کی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، رضاعی مائیں، رضاعی بہنیں، بیویوں کی مائیں، اور تمہاری گود میں پرورش پانے والی تمہاری سوتیلی بیٹیاں۔ اگر تم نے اپنی بیویوں سے خلوت کر لی ہے تو سوتیلی بیٹی سے نکاح کرنا تمہارے لئے جائز نہیں ہاں اگر خلوت نہیں ہوئی تو پھر کوئی حرج نہیں۔

تمہارے سگے (صلبی) بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنا) اور دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرنا بھی حرام ہے سوائے اس کے کہ جو کچھ پہلے ہو چکا کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ دوسروں کے ساتھ بیاہی ہوئی خواتین بھی تم پر حرام ہیں سوائے اس کے کہ جو (جنگ میں) کنیز بن کر تمہارے پاس آئیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی کرنا تمہارے لئے لازم ہے۔ اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے۔ (النساء 4:23-24)

اللہ تعالی نے یہاں ان خواتین کا ذکر کیا جن سے شادی کرنا حرام ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا "وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ" یعنی "اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کوئی شخص بھی ایک ہی وقت میں ایک عورت اور اس کی پھوپھی سے نکاح نہ کرے اور اسی طرح ایک ہی وقت میں ایک عورت اور اس کی خالہ سے نکاح بھی منع ہے۔" (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد، مالک) میں کسی ایسے عالم کو نہیں جانتا جو اس بات سے اختلاف رکھتا ہو۔

اس میں دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کبھی کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہو سکتی بلکہ یہ اس کے خاص اور عام احکام کی وضاحت کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اہل علم کے ہاں خبر واحد کو قبول کیا گیا ہے۔ ہم اس حدیث کے بارے میں سوائے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے کسی اور راوی سے واقف نہیں ہیں۔

سائل: کیا آپ کے رائے میں یہ حدیث کتاب اللہ کے ظاہری حکم کے متضاد نہیں ہے؟

شافعی: نہیں، نہ تو یہ بلکہ کوئی بھی حدیث کتاب اللہ کے مخالف نہیں ہو سکتی۔

سائل: تو پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ " حرام کی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں۔۔۔" یہ حرمتیں بیان کرنے کے بعد یہ فرما دیا کہ "اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے۔"

شافعی: یہاں ان خواتین کے (شادی کے لئے) حرام ہونے کا ذکر ہے جو ہر حالت میں حرام ہیں جیسا کہ ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، بھتیجی، بھانجی۔ یہاں ان خواتین کا ذکر ہے جو نسب یا رضاعی تعلق کے باعث شادی کے لئے حرام کر دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ان خواتین کا ذکر ہے جن کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انفرادی طور پر ان میں سے ہر ایک سے نکاح درست ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے کہ " اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس صورت میں حلال ہیں جس حال میں اللہ تعالی نے انہیں حلال کیا ہے۔

کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ اس ارشاد "اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں (ان سے نکاح کرنا) تمہارے لئے حلال ہے۔" کا مطلب یہ بھی ہے کہ کوئی خاتون بغیر نکاح کے حلال تو نہیں ہو سکتی اسی طرح چار بیویوں کے ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح جائز نہیں اور ایک بہن کے ہوتے ہوئے دوسری سے نکاح جائز نہیں یا کوئی اور معاملہ جس سے منع کیا گیا ہو۔

میں نے وضو سے متعلق اللہ تعالی کے لازم کردہ احکام کا ذکر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا۔ اکثر اہل علم نے مسح کی اس اجازت کو قبول فرمایا ہے۔

سائل: کیا مسح قرآن کے کسی حکم کے خلاف ہے؟

شافعی: سنت کسی حال میں بھی قرآن کے خلاف نہیں ہو سکتی۔

سائل: کیا آپ ا س کی وضاحت فرما دیں گے؟

شافعی: اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۔

جب تم نماز کے لئے اٹھو تو منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر مسح کر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لو۔ (المائدہ 5:6)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ اگر کسی شخص کا وضو ہو اور وہ اسے کوئی ایسی چیز لاحق نہ ہو جس سے وضو دوبارہ کرنا لازم ہو تو نماز کی ادائیگی کے لئے یہ وضو اس پر فرض نہیں ہے۔ اسی طرح آپ نے یہ بھی وضاحت فرما دی کہ پاؤں دھونا صرف اسی کے لئے ضروری ہے جس نے کامل وضو کرنے کے بعد موزے نہ پہن رکھے ہوں۔ (یعنی اگر وہ پورا وضو کر کے موزے پہن لے تو پھر اگلے وضو میں اس کے لئے پاؤں دھونا ضروری نہیں ہے۔) اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کچلی والے درندوں کے حرام ہونے کا ذکر فرمایا ہے جبکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

قُلْ‏:‏ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ،فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ۔

(اے نبی!) آپ کہیے: میرے پاس جو وحی آئی ہے اس میں میں کوئی (کھانے کے قابل) ایسی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے یا (ذبح کرنے والے کی) نافرمانی ہو کہ اس نے اسے اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے ذبح کر لیا ہو۔ (الانعام 6:145)

اس طرح اللہ تعالی نے حرام کھانوں کو بیان کر دیا ہے۔

سائل: اس کا کیا مطلب ہے؟

شافعی: اس کا مطلب یہ ہے کہ (اے نبی!) آپ کہیے کہ میرے پاس جو وحی آئی ہے میں کسی ایسی چیز کو حرام نہیں پاتا جو کہ تم لوگ کھاتے ہو سوائے اس کے کہ وہ مردار یا دوسری چیزیں ہو جن کا یہاں ذکر ہوا۔ جو کچھ تم کھانا چھوڑ رہے ہو یہ درست نہیں کیونکہ پاک چیزوں کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ جو حلال ہے وہ حرام نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالی یا نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اسے حرام نہ کریں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ "وَيُحِلُّ لَهُمْ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ الْخَبَائِثَ " یعنی "آپ ان پر پاک چیزوں کو حلال فرمائیں اور ناپاک چیزوں کو حرام" (الاعراف 7:157)

میں نے اللہ تعالی کے اس ارشاد کا ذکر بھی کیا کہ "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا " یعنی " اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔" اور فرمایا " لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ " یعنی "ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے مت کھاؤ سوائے اس کے کہ وہ تمہاری مرضی کی باہمی تجارت ہو۔" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کچھ مخصوص اقسام کے سودوں سے منع فرما دیا جیسے سونے کے دیناروں کو چاندی کے دراہم کے بدلے ادھار بیچنا شامل ہے اور اسی طرز کے دوسری ممنوع سودے۔ یہ مثال اور دوسری تمام مثالیں کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہیں۔

سائل: آپ نے جو کچھ فرمایا برائے کرم اس کے جامعیت اور اختصار کے ساتھ بیان کر دیجیے۔

شافعی: اللہ کی کتاب میں یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اپنے احکام کی وضاحت کا مقام عطا فرمایا ہے اور اپنے بندوں پر آپ کی اطاعت کو لازم کر دیا ہے۔ یہ جو ارشاد فرمایا کہ "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا " یعنی " اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہر اس تجارت کو حلال فرما دیا ہے جس سے اللہ نے اپنی کتاب یا اپنے نبی کی زبان سے منع نہیں فرمایا ہے۔ اسی طرح اللہ کے ارشاد کہ " وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ " یعنی " اس کے علاوہ جتنی اور خواتین بھی ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔" سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں جن خواتین کو نکاح یا ملکیت کے تعلق سے حلال کیا ہے، وہ حلال ہیں نہ کہ ہر عورت سے جنسی تعلقات قائم کرنا جائز ہے۔ یہ واضح عربی کلام کی مثالیں ہیں۔

ایسے شخص کے لئے جو کتاب و سنت کے تعلق سے آگاہ نہیں ہے، اگر سنت کو ترک کرنا درست ہوتا تو ہم موزوں پر مسح کو ترک کر دیتے، ہر اس کام کو حلال سمجھتے جسے "تجارت" کہا جاتا ہے، ایک خاتون کے ساتھ ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ کو نکاح میں جمع کر لینے کو بھی درست سمجھتے، اور کچلی والے درندوں وغیرہ کو کھانا جائز سمجھتے۔ یہ رائے رکھنا بھی درست ہو جاتا کہ "چوتھائی دینار سے کم مالیت کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے" کا حکم "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا" یعنی "چور مرد و عورت کے ہاتھ کاٹ دو" کی آیت کے نزول سے پہلے کا ہے۔ جس کام پر بھی لفظ "چوری" کا اطلاق ہوتا، اس کام کے کرنے ہاتھ کاٹ دیے جاتے۔

یہ رائے رکھنا بھی درست ہو جاتا کہ شادی شدہ زانیوں کو رجم کرنے کا عمل جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہے اس آیت کہ "الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ" یعنی "زانی مرد و عورت میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو" سے پہلے کا ہے۔ اب کنوارے اور شادی شدہ بدکاروں کو کوڑے ہی مارے جائیں گے اور انہیں رجم نہ کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ رائے رکھنا بھی درست ہو جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی سودوں کی جن اقسام سے منع فرمایا ہے وہ حکم اس آیت "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا " یعنی " اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔" سے پہلے کا ہے۔ جب سے آیت نازل ہوئی تو یہ تمام تجارتی سودے حلال ہو گئے۔

جہاں تک سود کا معاملہ ہے تو یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ایک شخص نے دوسرے سے قرض وصول کرنا ہو اور وہ اسے کہے، "قرض ادا کرو گے یا سود دو گے؟" اس طریقے سے وہ قرض کو موخر کر دے اور سود کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کر لے۔ اسی طرز کی بہت سے مثالیں موجود ہیں۔ جو شخص یہ رائے رکھتا ہے (کہ "سنت کو قرآنی حکم سے اس طرح منسوخ کیا جا سکتا ہے کہ کوئی ناسخ سنت موجود نہ ہو") وہ سنت کے بہت سے احکام کو منسوخ قرار دے دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رائے سوائے کہنے والے کی لاعلمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

سائل: آپ نے صحیح فرمایا۔

شافعی: سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بارے میں میں نے جو کچھ بیان کیا، جو اس سے اختلاف رکھتا ہے وہ سنت (کے مقام) سے اپنی لاعلمی کو اپنی رائے کی غلطی کے ساتھ اکٹھا کر دیتا ہے (یعنی لاعلمی کے باعث غلطی کر بیٹھتا ہے۔)

سائل: کچھ ایسی سنتوں کو بیان کیجیے جو کسی اور سنت سے منسوخ ہو چکی ہوں۔

شافعی: ناسخ اور منسوخ سنتوں کو (اس کتاب میں) اپنے اپنے مقام پر بیان کر دیا گیا ہے۔ ان کی تکرار سے کتاب بہت طویل ہو جائے گی۔

سائل: ان میں سے بعض مثالیں بھی کافی رہیں گی اگر آپ انہیں اختصار سے بیان کر دیں۔

شافعی: (حدیث میں آتا ہے۔)

مالک نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے عبداللہ بن واقد سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قربانی کے گوشت کو تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا۔ عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عمرۃ (بنت عبدالرحمٰن) کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا، انہوں نے درست کہا کیونکہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا:

دیہات سے کچھ (غریب) لوگ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں قربانی کے دن آئے تو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، "(قربانی کے گوشت کو) تین دن تک تم رکھ سکتے ہو اس کے بعد جو باقی بچے اسے (ان غریبوں کو) صدقہ کر دو۔"

اس کے کچھ عرصے بعد آپ سے عرض کیا گیا، "یا رسول اللہ! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ قربانی کے جانوروں کی چربی اکٹھی کر لیتے ہیں اور اس کی کھال سے مشکیزے بنا لیتے ہیں۔" آپ نے فرمایا، "پھر کیا ہوا" (آپ نے کچھ اسی طرح ارشاد فرمایا)

انہوں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! آپ نے تو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " میں نے تو ایسا ان (غریب دیہاتیوں) کی وجہ سے کہا تھا جو قربانی کے دن آئے تھے۔ (اب چونکہ ایسی صورتحال نہیں ہے اس لئے) تم چاہو تو اس گوشت کو کھاؤ، چاہے صدقہ کرو اور چاہے محفوظ کر لو۔ (مسلم، ابو داؤد، مالک)

ہمیں ابن عینیہ نے بتایا کہ انہوں نے زہری سے اور انہوں نے ابن ازھر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید کو کہتے سنا: ہم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید گزاری اور آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا، "تم میں سے کوئی بھی تین دن کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھائے۔"

ہمیں ایک قابل اعتماد راوی نے بتایا کہ انہوں نے روایت کی معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابن ازھر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم سے کوئی تین دن کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھائے۔" (مسلم، نسائی، احمد، شافعی)

ابن عینیہ نے ابراہیم بن میسرہ سے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: "ہم اپنی قربانیوں کو ماشاءاللہ ذبح کرتے اور پھر اس کے باقی گوشت میں سے اضافی گوشت کو لے کر بصرہ تک کا سفر کر لیتے۔ (یعنی گوشت کو طویل مدت کے لئے محفوظ کر لیا جاتا)"

ان احادیث میں کئی معنی اکٹھے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کردہ حدیث کہ "تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنا منع ہے" اور عبداللہ بن واقد رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث دونوں ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے اس منع کرنے کے حکم کو سنا تھا۔ ممانعت کا یہی حکم عبداللہ بن واقد تک بھی پہنچا۔ اس کے بعد اس حکم سے رخصت (یعنی اب گوشت تین دن سے زیادہ محفوظ کیا جا سکتا ہے) نہ تو علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی اور نہ ہی عبداللہ بن واقد تک۔ اگر ان دونوں تک یہ اجازت پہنچ جاتی تو وہ اس ممانعت کو بیان نہ کرتے جبکہ ممانعت کا یہ حکم اب منسوخ ہے۔ ان دونوں نے اجازت کے حکم کو ترک کر دیا حالانکہ یہی ناسخ حکم ہے اور ممانعت منسوخ ہو چکی۔ ایک منسوخ حکم سننے والے کو ناسخ حکم کو جاننے سے مستغنی تو نہیں کرتا۔

نوٹ: امام شافعی علیہ الرحمۃ کے نزدیک تین دن سے زائد قربانی کے گوشت کو محفوظ کرنے کا حکم منسوخ ہے۔ دیگر ائمہ کے نزدیک یہ حکم اب بھی باقی ہے اگر ویسی ہی صورتحال پیدا ہو جائے۔ اگر کسی مقام پر قحط زدہ لوگ موجود ہوں تو زیادہ مناسب یہی ہو گا کہ قربانی کے گوشت کو طویل عرصے تک محفوظ کرنے کی بجائے جلد از جلد ان لوگوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے انہیں دے دیا جائے۔ح

اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد میں کہ "ہم لوگ قربانی کے محفوظ شدہ گوشت کو بصرہ تک لے جایا کرتے تھے" یہ احتمال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے اجازت کے حکم کو تو سن لیا لیکن اس سے پہلے کی ممانعت کے حکم کو نہ سن سکے۔ اس وجہ سے انہوں نے رخصت سے تو فائدہ اٹھایا۔ آپ نے یا تو ممانعت کے حکم کو سنا ہی نہیں یا پھر ممانعت اور اجازت دونوں کے حکم کو سن لیا اور چونکہ ممانعت کا حکم منسوخ تھا اس وجہ سے اس کا ذکر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں راویوں نے جو کچھ جانتے تھے روایت کیا جو (بظاہر) ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

ہر وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی بات سنے، اس پر لازم ہے کہ جو کچھ اس نے سنا اسے دوسروں تک پہنچائے تاکہ وہ اسے جان لیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی جو حدیث بیان فرمائی ہے کہ آپ نے پہلے تو تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا پھر اس کے بعد اس کی اجازت دے دی۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت کو اکٹھا کرنے کی ممانعت دراصل ان غریب دیہاتیوں کی وجہ سے تھی۔ یہ حدیث مکمل بات بیان کرتی ہے جس میں پورے واقعے کو شروع سے آخر تک بیان کیا گیا ہے اور منع کرنے اور بعد میں اجازت دے دینے کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے۔ جو شخص بھی اس حدیث کو جانتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اب اسی پر عمل کرے۔

نوٹ: احادیث میں یہ معاملہ ہو جاتا ہے کہ ہر راوی اپنے انداز میں بات کرتا ہے۔ کوئی پوری بات منتقل کر دیتا ہے اور کوئی بات کا ایک حصہ بتانے پر اکتفا کرتا ہے۔ انسان کی یہ نفسیات ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کے ہر پہلو کو جزوی تفصیلات کی حد تک یاد نہیں رکھتا۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کو اپنے خیالات، نظریات، دلچسپیوں اور تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی جگہ کوئی قتل کا واقعہ ہو جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گواہ تو پوری تفصیل سے قاتل کا حلیہ بتا دیتا ہے لیکن اس کے قتل کرنے کے انداز کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کر پاتا کیونکہ اس طریقے میں اس کی دلچسپی نہیں ہوتی اور وہ اسے مناسب حد تک نوٹ نہیں کر پایا ہوتا ۔ اس کے برعکس دوسرا گواہ قاتل کے حلیے کو تو زیادہ تفصیل سے نوٹ نہیں کرتا لیکن قتل کرنے کے انداز کو بڑے واضح انداز میں بیان کر دیتا ہے کیونکہ اس کی دلچسپی اسی میں ہوتی ہے۔ اسی طریقے سے اگر اس واقعے کو کوئی ایسا شخص بھی دیکھ رہا ہو جواسلحے میں بڑی دلچسپی رکھتا ہو تو وہ باقی چیزوں کی نسبت آلہ قتل کی جزئیات کو بڑی تفصیل سے بیان کردے گا۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی شخص نے قاتل کو پہچان لیا ہو لیکن وہ کسی ذاتی مفاد یا خوف کی وجہ سے اس کے بارے میں غلط معلومات فراہم کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کو بیان کرنے والوں میں تفصیلات کے بارے میں کچھ نہ کچھ اختلاف رونما ہو ہی جاتا ہے۔ ایک ہی موضوع سے وارد تمام روایات کو اکٹھا کر کے دیکھنے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور انسان درست معلومات تک پہنچ جاتا ہے۔ زیر بحث روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ روایت دوسری تمام روایات کی نہ صرف تطبیق کر دیتی ہے بلکہ صورتحال کو اچھی طرح واضح کر دیتی ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث، سنت میں موجود ناسخ و منسوخ کی سب سے واضح مثال ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک حدیث کو جزوی طور پر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ بعض لوگ بات کے پہلے حصے کو یاد کر لیتے ہیں اور دوسرے حصے کو محفوظ کرنے کا اہتمام نہیں کر پاتے اور بعض لوگ دوسرے حصے کو یاد کر لیتے ہیں اور پہلے حصے کو محفوظ نہیں کرتے۔ اس طرح ہر کوئی اسی بات پر عمل کرتا ہے جو اس نے یاد کر لی ہوتی ہے۔

بعد میں دی گئی اجازت کہ قربانی کے گوشت کو محفوظ کر لیا جائے یا کھا لیا جائے یا صدقہ کر دیا جائے، یہ ایک معنی کو مختلف صورتحال میں اختیار کر لینے کے مترادف ہے۔ جب غریب دیہاتی شہر میں آ گئے تو قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ محفوظ رکھنے سے منع کر دیا گیا۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو اب اجازت مل گئی کہ چاہے گوشت کو کھایا جائے، سفر میں ساتھ رکھ لیا جائے، محفوظ کر لیا جائے یا (غریبوں کو) صدقہ کر دیا جائے۔

یہ احتمال بھی ہے کہ تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنا اب ہمیشہ کے لئے ایک منسوخ حکم ہے۔ اب انسان اپنی قربانی میں سے جو چاہے محفوظ کر لے اور جو چاہے صدقہ کر دے۔

ناسخ و منسوخ روایات کی دیگر مثالیں

پہلی مثال

محمد بن اسماعیل نے ابو فدیک سے، انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی سعید سے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی جنہوں نے فرمایا: ہم لوگ جنگ خندق کے دن (جنگ کی شدت کے باعث) نماز ادا نہ کر سکے تھے یہاں تک کہ مغرب کے بعد رات کو جا کر ہمیں کچھ وقت مل سکا جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: "اللہ ہی مومنوں کی طرف سے جنگ کرنے کے لئے کافی ہو گیا اور اللہ ہی طاقتور اور زبردست ہے۔" اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ وہ اذان دیں۔ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی۔ پھر آپ ظہر کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور کیا ہی اچھے طریقے سے نماز ادا کی جیسا کہ آپ اس کے وقت پر کیا کرتے تھے۔ پھر آپ عصر کے لئے کھڑے ہوئے اور ایسے ہی نماز پڑھی۔ اس کے بعد اسی طرح مغرب اور پھر عشا کی نمازیں ادا فرمائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ "خطرے کی نماز" سے متعلق احکام نازل ہونے سے پہلے کا ہے جب پیدل اور سوار ہر طرح سے نماز کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔ (احمد، دارمی، شافعی)

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے جنگ خندق کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا۔ یہ واقعہ "صلوۃ خوف (خطرے کی نماز)" کے احکام "فَرِجَالاً أَوْ رُكْبَانًا" یعنی "پیدل و سوار (ہر حالت میں) نماز ادا کرو" کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ ہم اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ صلوۃ خوف کا حکم اس کے بعد نازل ہوا۔ جنگ خندق کے موقع پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس موقع پر نمازوں میں ان کے عام وقت سے تاخیر کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ یہ واقعہ صلوۃ خوف کے احکام کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ اب کبھی بھی شہر میں رہتے ہوئے نماز کو اس کے وقت سے موخر نہ کیا جائے گا اور نہ ہی سفر میں نمازوں کو جمع کرتے ہوئے موخر کیا جائے گا خواہ خطرے کی حالت ہو یا نہ ہو۔ ہر حالت میں نماز ویسے ہی ادا کی جائے گی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے نماز ادا فرمائی۔ صلوۃ خوف سے متعلق ہمارا نقطہ نظر امام مالک کی اس روایت کی بنیاد پر ہے:

‏مالک نے یزید بن رومان سے، انہوں نے صالح بن خوات اور انہوں نے ایسے صحابہ سے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نماز ادا کی تھی، سے روایت کی: ایک گروہ نے رسول اللہ کے ساتھ صف بنا لی جبکہ دوسرا دشمن کی طرف متوجہ رہا۔ حضور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے ایک رکعت ادا کر لی۔ اس کے بعد یہ لوگ پلٹے اور دشمن کے مقابلے پر جا کھڑے ہوئے اور دوسرے گروہ نے آپ کے ساتھ ایک رکعت ادا کر لی جو باقی رہ گئی تھی۔ اس کے بعد حضور نے انتظار فرمایا اور اس گروہ نے اپنے طور پر دوسری رکعت پوری کر لی۔ اس کے بعد نبی نے سلام پھیر کر نماز پوری کر لی۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ابو داؤد، مالک)

ہمیں ایسے لوگوں سے روایت پہنچی ہے جنہوں نے اسے عبداللہ بن عمر بن حفص سے سنا، انہوں نے اپنے بھائی عبید اللہ بن عمر سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے صالح بن خوات بن جبیر سے اور انہوں نے اپنے والد سے اسی کے مثل روایت نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے بیان کی۔

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے اور روایتیں بھی منقول ہیں جس میں صلوۃ خوف کا ایسا طریقہ بیان کیا گیا ہے جو امام مالک کی روایتوں سے مختلف ہے۔ ہم ان روایتوں کو چھوڑ کر مالک کی روایت کو قبول کرتے ہیں کیونکہ یہ قرآن کے زیادہ قریب ہے اور دشمن کے مقابلے پر نماز کا یہ طریقہ زیادہ موزوں ہے۔ ہم نے یہاں اس اختلاف ذکر کر دیا ہے اور اپنے دلائل کو تفصیل سے "کتاب الصلوۃ" میں بیان کر دیا ہے۔ یہاں ہم نے متضاد روایتوں کو بیان نہیں کیا ہے کیونکہ یہ اس کتاب میں متفرق مقامات پر بیان ہو چکی ہیں۔

‏دوسری مثال

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا۔ وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا۔

تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں، ان پر اپنے چار آدمیوں کی گواہی طلب کرو۔ اگر وہ (ان کی بدچلنی کی) گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا پھر اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکال دے۔ تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو کچھ اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو۔ (النساء 4:15-16)

اس آیت میں بدکاری کی سزا قید اور کچھ اذیت بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر بدکاری کی سزا کے حکم کو نازل کیا۔ ارشاد ہوا:

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۔

بدکار مرد و عورت، ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ (النور 24:2)

لونڈیوں کے متعلق ارشاد فرمایا:

فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنْ الْعَذَابِ۔

جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی نسبت آدھی سزا ہے جو محصنہ خواتین کے لئے مقرر ہے۔ (النساء 4:25)

اس طرح سے بدکاری کے جرم میں قید کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا اور سزا کا نفاذ کر دیا گیا۔ جہاں تک اللہ تعالی کے لونڈیوں سے متعلق ارشاد " فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنْ الْعَذَابِ " یعنی " ان پر اس سزا کی نسبت آدھی سزا ہے جو محصنہ خواتین کے لئے مقرر ہے" کا تعلق ہے، اس میں اللہ تعالی نے بدکاری کا ارتکاب کرنے والے کے آزاد ہونے یا غلام ہونے میں فرق کیا ہے۔ نصف تو کوڑوں کی سزا ہی کا ہو سکتا ہے۔ رجم کی سزا کا نصف ہونا ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رجم کا تعلق تعداد سے نہیں ہو سکتا۔ مجرم کی موت تو ایک پتھر سے بھی ہو سکتی ہے اور ہزار یا اس بے بھی زائد پتھروں سے بھی۔ چونکہ پتھروں کی تعداد نا معلوم ہے اس لئے اس کا نصف ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح موت کا نصف کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

سورۃ نور میں اللہ تعالی کے ارشاد "الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ" یعنی "بدکار مرد و عورت، ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو" میں یہ احتمال تھا کہ یہ سزا یا تو بدکاری کا ارتکاب کرنے والے ہر آزاد مرد و عورت کے لئے ہے یا پھر بعض لوگوں کے لئے ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کی سنت سے یہ اخذ کیا ہے کہ سو کوڑوں کی سزا کس کے لئے ہے۔

عبدالوہاب، یونس بن عبید سے، وہ حسن سے اور وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "مجھ سے حاصل کرو، مجھ سے حاصل کرو، اللہ تعالی نے ان (فاحشہ عورتوں) کے لئے راستہ نکال دیا۔ کنوارے بدکاروں کے لئے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے اور شادی شدہ بدکاروں کے لئے سو کوڑے اور رجم کی سزا ہے۔ (مسلم، احمد، ابن ماجہ، مسند شافعی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس ارشاد کہ ""اللہ تعالی نے ان کے لئے راستہ نکال دیا" دراصل اس سے پہلے موجود بدکاری کی سزا کے حکم سے متعلق تھا۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ "حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا" یعنی " یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا پھر اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکال دے

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ماعز کو رجم کیا اور انہیں کوڑے نہیں مارے، اسی طرح آپ نے اسلمی خاتون کو رجم کیا اور انہیں بھی کوڑے نہیں مارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے یہ معلوم ہوا کہ شادی شدہ بدکاروں کے لئے کوڑوں کی سزا منسوخ ہو چکی ہے۔ آزاد لوگوں کی بدکاری کی صورت میں سزا کا فرق صرف نکاح یا کسی اور طریقے سے "احصان" کے ذریعے کیا گیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ " اللہ تعالی نے ان (فاحشہ عورتوں) کے لئے راستہ نکال دیا۔ کنوارے بدکاروں کے لئے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے۔" اس ارشاد سے یہ معلوم ہوا کہ بدکاروں کی سزا میں سب سے پہلے قید کی سزا کا حکم منسوخ ہوا۔ دوسری سزاؤں کا حکم بعد میں دیا گیا تھا اور انہیں نافذ بھی بعد میں کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بدکاروں کی سب سے پہلی سزا یہی "قید" ہے۔

مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، اور انہوں نے ابوھریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ ان دونوں نے بیان کیا: دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس اپنا مقدمہ لے کر آئے۔ ان میں سے ایک نے کہا، "یا رسول اللہ! ہمارے درمیان اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ فرما دیجیے؟" دوسرا شخص جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا، کہنے لگا، "یا رسول اللہ! برائے کرم ٹھہریے، پہلے مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیے۔" آپ نے فرمایا، "بولو"۔

وہ کہنے لگا، "میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا۔ اس نے ان صاحب کی بیوی سے بدکاری کی۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے بیٹے کو رجم کی سزا دی جائے گی۔ میں نے اس کا فدیہ سو بھیڑیں اور ایک لونڈی کی صورت میں ان صاحب کو ادا کر دیا ہے۔" اس کے بعد میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا دی جائے گی اور ان صاحب کی بیوی کو رجم کی سزا دی جائے گی۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں تمہارے مابین اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بھیڑیں اور لونڈی تو واپس تمہیں لوٹائی جائے گی۔ (اس کے بعد) اس کے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا دی گئی۔ آپ نے انیس اسلمی کو حکم دیا کہ دوسرے شخص کی بیوی کو لایا جائے۔ اگر وہ اپنے جرم کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دیا جائے۔ اس عورت نے اعتراف کر لیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ (بخاری، نسائی، مالک)

مالک نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بدکاری کے جرم میں دو یہودیوں کو رجم کیا۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ)

اس طرح سے سو کوڑے اور جلا وطنی کی سزا کنوارے بدکاروں اور رجم کی سزا شادی شدہ بدکاروں کے لئے مقرر ہو گئی۔ اگر کسی جوڑے کو کوڑے اور رجم دونوں کی سزا دی جائے تو اس کے لئے کوڑے کی سزا رجم سے منسوخ کر دی گئی ہے۔ اگر وہ دونوں شادی شدہ نہ ہوں بلکہ کنوارے ہوں تو ان کے لئے کوڑوں کی سزا ہے۔

شادی شدہ افراد کو رجم، کوڑوں کی سزا سے متعلق آیت کے نزول کے بعد دیا گیا۔ یہ اس بنیاد پر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اللہ تعالی سے یہ حکم روایت کیا ہے۔ یہ معانی (اللہ کے حکم سے) قریب ترین ہیں اور ہمارے لئے سب سے زیادہ قابل ترجیح ہیں لیکن اللہ تعالی بہتر جانتا ہے۔

تیسری مثال

مالک نے ابن شہاب سے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ آپ اس سے گر گئے اور آپ کی دائیں جانب زخمی ہو گئی۔ آپ نے روزانہ کی نمازوں میں سے ایک نماز اس طرح سے ادا کی کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز اد ا کی۔ نماز کے بعد آپ ہماری طرف مڑے اور فرمایا، "امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ ہاتھ اٹھائے تو تم بھی ہاتھ اٹھاؤ، جب وہ کہے 'سمع اللہ لمن حمدہ' تو تم کہو 'ربنا و لک الحمد'، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی اس کے پیچھے بیٹھ کر ہی اکٹھے نماز ادا کرو۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ، مالک)

مالک نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بیماری کی حالت میں گھر میں نماز ادا فرمائی۔ آپ نے بیٹھ کر نماز ادا فرمائی اور آپ کے پیچھے لوگوں نے کھڑے ہو کر۔ آپ نے انہیں اشارے سے بیٹھنے کے لئے کہا۔ نماز کے بعد آپ مڑے اور فرمایا، "امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ ہاتھ اٹھائے تو تم بھی ہاتھ اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ (بخاری، احمد)

یہ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل ہے لیکن سیدنا انس کی حدیث میں زیادہ تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

مالک نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنی بیماری کے دوران (حجرے سے) باہر نکلے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت امامت کر رہے تھے، وہ حضور کے لئے پیچھے ہٹے لیکن آپ نے انہیں وہیں رہنے کا اشارہ کیا اور ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اب ابوبکر نماز میں رسول اللہ کی پیروی کررہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کر رہے تھے۔ (بخاری، مسلم، ابن ماجہ، مالک)

(امام شافعی نے اسی حدیث کو ترجیح دی ہے۔)

ابراہیم نخعی نے اسود بن یزید سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عروۃ کی حدیث کے مثل حدیث روایت کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوبکر حضور کی پیروی کر رہے تھے اور پیچھے کھڑے لوگ ابوبکر کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے، اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہو، بیٹھ کر اور آپ کے پیچھے لوگوں نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ گھوڑے سے گرنے والے واقعے میں آپ نے جو لوگوں کو بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا تھا، وہ مرض الموت سے پہلے کا تھا۔ اس وجہ سے مرض الموت میں آپ کی نماز جو بیٹھ کر تھی اور پیچھے لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے، نے اس حکم کو منسوخ کر دیا کہ لوگ امام کے بیٹھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز ادا کریں۔

اس واقعے میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے جو سنت سے ثابت ہے اور جس پر لوگوں کا اتفاق رائے ہے اور وہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے والے میں اگر طاقت ہو تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے اور اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے۔ جو شخص کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس کے لئے بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے یہ معلوم ہوا کہ آپ اپنے آخری مرض میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور آپ کے پیچھے لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ سنت پہلی سنت کو منسوخ کر رہی ہے۔ یہ بات صحت مند اور بیمار کی نماز سے متعلق سنت سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔ لوگوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے طریقے پر نماز پڑھے گا۔ اگر ایک بیمار، صحت مند کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھے گا جب کہ امام کھڑے ہو کر۔ اسی طرح ہماری رائے میں اگر امام (بیماری کے باعث) بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے اور اس کے پیچھے صحت مند مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنے فرض کو ادا کرے گا۔ ہاں یہ زیادہ مناسب ہے کہ (بیمار امام) کسی اور کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لئے کہے۔

نوٹ: قرون اولی میں تمام مساجد حکومت کے زیر انتظام ہوا کرتی تھیں۔ حکمران حیا اس کے مقرر کردہ نائبین مساجد میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان کی اجازت کے بغیر کوئی اور شخص امامت کا اہل نہ سمجھا جاتا اور ایسا کرنے کو بغاوت پر محمول کیا جاتا۔ دور جدید کی بدعات میں سے یہ بھی ہے کہ حکمرانوں نے مساجد کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ حکمرانوں کو مسجد میں لایا جائے تاکہ ان میں خوف خدا پیدا ہو اور وہ اپنی حکومت کو اللہ تعالی کے احکام کے مطابق چلانے والے بنیں۔ ہمارے ہاں ایک اور جدت یہ پیدا ہوئی ہے کہ حکمران کو مسجد میں لانے کی بجائے مولوی صاحبان کو ایوان اقتدار میں پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بعض لوگوں کو اس سے یہ خیال گزرا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد کسی اور کے لئے بیٹھ کر امامت جائز نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے جس حدیث کی بنیاد پر یہ رائے قائم کی ہے وہ ایک منقطع روایت ہے جو ایک ناقابل اعتماد شخص سے مروی ہے۔ ایسی روایات کی بنیاد پر کسی کے لئے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اس روایت میں ہے، "میرے بعد کسی اور کے لئے بیٹھ کر امامت جائز نہیں۔" (بیہقی)

سنت کے ناسخ و منسوخ کی اور مثالیں بھی ہیں جو ہمارے نقطہ نظر کی دلیل ہیں۔ اس طرز کی اور مثالیں قرآن مجید میں بھی موجود ہیں جن میں سے بعض ہم نے اپنی اس کتاب میں نقل کر دی ہیں اور باقی قرآن اور سنت (کے مختلف ابواب میں) متفرق طور پر موجود ہیں۔

متضاد روایات

سائل: کچھ ایسی احادیث بیان کیجیے جن میں تضاد ہو لیکن ناسخ و منسوخ کا فیصلہ کرنا ممکن نہ ہو۔ آپ دلائل بھی بیان کیجیے جن کی بنیاد پر آپ نے ایک حدیث کو لیا ہے اور دوسری کو ترک کیا ہے۔

شافعی: جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غزوہ ذات الرقاع کے دن صلوۃ خوف ادا فرمائی۔

ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کے لئے صف انداز ہوا جبکہ دوسرا گروہ جو نماز نہیں پڑھ رہا تھا دشمن کے مقابلے پر جا کھڑا رہا۔ نماز پڑھنے والوں نے آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھی اور پھر دوسری رکعت انہوں نے خود ہی پوری کی (اس دوران حضور انتظار کرتے رہے)، اس کے بعد وہ لوگ دشمن کے مقابلے پر چلے گئے اور دوسرا گروہ نماز کے لئے آ گیا اور اس نے آپ کے ساتھ باقی رہ جانے والی رکعت ادا کی۔ پھر آپ بیٹھ گئے اور اس گروہ نے دوسری رکعت پوری کر لی۔ اس کے بعد آپ نے سلام پھیر کر نماز پوری کر لی۔

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے (صلوۃ خوف کا) بعض امور میں اس سے مختلف طریقہ روایت کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت ادا فرمائی جبکہ دوسرا گروہ آپ اور دشمن کے درمیان ڈٹا رہا۔ پھر آپ کے پیچھے نماز ادا کرنے والا گروہ آپ کے اور دشمن کے درمیان حائل ہو گیا اور دوسرا گروہ جس نے پہلی رکعت نہ پڑھی تھی، آ کر آپ کے ساتھ باقی رہ جانے والی ایک رکعت میں شریک ہو گیا۔ اس کے بعد آپ نے سلام پھیرا اور یہ لوگ بھی میدان جنگ میں لوٹ گئے۔ اس طریقے سے سب لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر لی۔

ابو عیاش الزرقی نے روایت کی ہے: عسفان کی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (ایک گروہ کے ساتھ) نماز ادا فرما رہے تھے اور خالد بن ولید (جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے) آپ کے اور قبلے کے درمیان تھے۔ لوگوں نے آپ کے ساتھ صف بنا کر نماز ادا کی۔ جب آپ نے رکوع فرمایا تو انہوں نے آپ کے ساتھ رکوع کیا اور جب آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ دوسرا گروہ دشمن پر نظر رکھے رہا۔ جب آپ سجدہ سے اٹھے تو اس دوسرے گروہ نے سجدہ کیا اور نماز کے لئے آ کھڑا ہوا۔ (نسائی، ابو داؤد)

جابر رضی اللہ عنہ نے بھی اس سے ملتے جلتے معنی کی روایت کی ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی روایات ہیں لیکن وہ ثابت شدہ (مستند) روایات نہیں ہیں۔

سائل: آپ نے دوسری روایات کو چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی غزوہ ذات الرقاع والی نماز کی روایت کو قبول کیوں کیا ہے؟

شافعی: میں نماز خوف سے متعلق ابو عیاش اور جابر رضی اللہ عنہما کی روایتوں کو قبول کر لوں گا اگر ان میں بھی وہی سبب پایا جائے جو (ذات الرقاع والی روایت) میں موجود ہے۔

سائل: وہ سبب کیا ہے؟

شافعی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ 1400 ساتھی تھے جبکہ (آپ کے مقابلے پر آنے والے) خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ صرف 200 ساتھی تھے۔ وہ کھلے صحرا میں کچھ فاصلے پر تھے۔ ان کے ساتھ ایک قلیل تعداد تھی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ اکثر لوگ تھے۔ ان میں سے جو غالب تعداد میں تھے وہ دشمن کے حملے سے محفوظ تھے۔ اگر دشمن ان پر آ پڑتا تو وہ اسے دیکھ سکتے تھے۔ اگرچہ وہ حالت سجدہ ہی میں کیوں نہ ہوں تب بھی (خالد کا گروپ) انہیں دیکھ لیتا کیونکہ ان سے کوئی طرف چھپی ہوئی نہ تھی۔ اگر دشمن قلیل تعداد میں ہو اور کچھ دور ہو اور حضور اور دشمن کے درمیان کوئی آڑ بھی حائل نہ ہو تو جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اس حالت میں ان پر صلوۃ خوف لازم ہوتی۔

نوٹ: یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے سفر کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم چودہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ جنگ کے ارادے سے نہیں بلکہ صرف عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اہل مکہ کی خواہش تھی کہ آپ کو اس سے روکا جائے لیکن حرمت والے مہینوں کے باعث آپ کو روکنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ جب آپ عسفان کے مقام پر پہنچے جو کہ مکہ اور مدینہ کی درمیانی شاہراہ پر مکہ سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تو قریش نے خالد بن ولید جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، کی قیادت میں دو سو سواروں کا ایک دستہ آپ کو روکنے کے لئے بھیج دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو اشتعال دلا کر لڑنے پر مجبور کیا جائے اور اس بہانے سے انہیں مکہ میں داخلے سے روک دیا جائے۔ نماز پڑھنے کی یہ روایت اسی وقت کی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے عسفان سے جدہ کی طرف جانے والا راستہ اختیار کیا اور ایک طویل اور پر مشقت پہاڑی سفر کے بعد آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے جو جدہ اور مکہ کی درمیانی سڑک پر عین حرم کی حدود پر واقع تھا۔ اسی مقام پر مشہور صلح حدیبیہ ہوئی۔

سائل: میرے خیال میں ذات الرقاع میں نماز والی روایت اس کے خلاف نہیں ہے۔ یہ تو صورتحال کا فرق ہے۔ آپ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کو درست کیوں نہیں سمجھتے؟

شافعی: خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کی۔ اس کے قریب ترین معنی میں روایت سھل بن ابی حثمہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے محفوظ کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے "ھریر" کی رات میں نماز خوف بالکل اسی طریقے پر ادا کی جسے خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم روایت کیا۔ خوات رضی اللہ عنہ عمر اور حضور سے تعلق میں سینئر صحابہ میں سے تھے۔

سائل: صحابیت میں سینیارٹی کے علاوہ کیا کوئی اور دلیل بھی ہے؟

شافعی: جی ہاں، جیسا کہ میں نے عرض کیا یہ کتاب اللہ سے موافقت رکھتی ہے۔

سائل: یہ کتاب اللہ سے کیسے موافقت رکھتی ہے؟

شافعی: اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمْ الصَّلَاةَ، فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ، فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِنْ وَرَائِكُمْ، وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ، وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ‏.‏ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً،وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنتُمْ مَرْضَى أَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ،وَخُذُوا حِذْرَكُمْ۔

(اے نبی!) جب آپ میدان جنگ میں ان (مسلمانوں) کے ساتھ ہوں اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوں ایک گروہ آپ کے ساتھ اپنا اسلحہ لے کر (نماز کے لئے) کھڑا ہو۔ جب یہ لوگ سجدہ کر لیں تو پیچھے چلے جائیں اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آ کر آپ کے ساتھ نماز ادا کریں اور وہ بھی چوکنا رہے اور اپنا اسلحہ لئے رکھے کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اگر تم بارش یا بیماری کی وجہ سے تکلیف محسوس کر رہے ہو تو اسلحہ رکھنے میں حرج نہیں مگر پھر بھی چوکنے رہو۔ (النساء 4:102)

فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا۔

جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو پھر (پوری طرح) نماز قائم کرو کیونکہ نماز مومنوں پر مقررہ اوقات ہی میں فرض ہے۔ (النساء 4:103)

‏اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح نماز قائم کرو جیسا کہ تم خطرے کی حالت کے علاوہ نماز پڑھتے ہو۔ اللہ تعالی نے امن اور خطرے دونوں حالتوں کی نماز میں فرق کیا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اس کے دین کے ماننے والوں پر ان کا دشمن اچانک غیر متوقع طور پر نہ آن پڑے۔ جب ہم خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث کا موازنہ اس کی مخالف حدیث سے کرتے ہیں تو ہمیں خوات والی حدیث احتیاطی تدابیر کے اعتبار سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ یہ زیادہ مناسب ہے کہ دونوں گروہ (نماز اور حفاظت میں) برابر کے شریک ہوں۔

جو گروہ امام کے ساتھ نماز میں پہلے شریک ہے اس کی حفاظت دوسرے گروہ کو کرنی چاہیے جو نماز میں شریک نہیں ہے۔ دوسرا گروہ جو نماز کے فرض کو ادا نہیں کر رہا اسے پہلے گروہ کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ اسے کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، دائیں بائیں پھیل کر، اور جو کچھ اسے اٹھانا ہے اٹھا کر اس ذمہ داری کو ادا کرنا ہے۔ اگر وہ دشمن کے فوری حملے کا خوف محسوس کرے تو اسے اس کی وارننگ دے دینی چاہیے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو اسے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز ادا کرنے والوں اور دشمن کے درمیان سے نہ ہٹے۔ اگر دشمن کے فوری حملے کا خوف ہو تو حفاظت کرنے والوں کی وارننگ ملتے ہی امام کو بھی چاہیے کہ وہ نماز کو مختصر کر دے۔

دونوں گروہوں کی ذمہ داری برابر برابر ہے۔ خوات رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دونوں گروہوں کی ذمہ داری برابر برابر تھی۔ ہر گروہ نے دوسرے گروہ کی (اپنی باری پر) حفاظت کی۔ ایک گروہ نماز سے باہر رہ کر دوسرے کی حفاظت کرتا رہا۔ اس کے بعد نماز پڑھنے والے گروہ نے حفاظت کرنے والے گروہ کو نماز کی ادائیگی کا موقع دیا اور خود نماز سے باہر رہ کر اس کی حفاظت کرنے لگا۔ یہ دونوں گروہوں کے درمیان عدل ہے (کہ وہ ذمہ داریوں کو برابر برابر نبھائیں۔)

جو حدیث خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے خلاف ہے، اس میں احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا، پھر اس میں حفاظت کرنے والا گروہ (پہلے نماز پڑھنے والے گروہ کی) نماز پوری ہونے سے پہلے اپنی جگہ سے ہٹ گیا تھا۔ پہلے حفاظت کرنے والے گروہ نے حفاظت کی اور پھر نماز پڑھنے والے گروہ سے (سجدے میں) آ ملا۔ اب دونوں گروہ ایک ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اور ان میں سے کوئی حفاظت کرنے والا نہ تھا۔ سوائے امام کے اور کسی نے نماز پوری نہ کی تھی اور اکیلا امام حفاظت نہ کر سکتا تھا۔ یہ احتیاطی تدابیر اور دشمن کے چال کے خلاف قوت لگانے (کی جنگی چال) کے خلاف ہے۔

اللہ تعالی نے تو یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کے نزدیک خطرے کی حالت کی نماز عام حالات کی نماز سے مختلف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے دین کے ماننے والوں کو دشمن کے اچانک حملے سے بچانا چاہتا ہے۔ ایک گروہ کو دوسرے کے مساوی ہی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ ہمیں (اللہ کی کتاب میں) امام اور اس کے ساتھ دونوں گروہوں کی نماز کا ذکر ملتا ہے۔ امام یا کسی ایک گروہ کے لئے قضا نماز کا کوئی ذکر ہمیں نہیں ملتا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے دونوں گروہوں کے لئے، (جو ایک رکعت پڑھ کر) نماز سے نکل آئے، کوئی قضا نماز نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا کر دی ہے۔ یہ بات خوات رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تو واضح ہے لیکن اس کی مخالف حدیث میں ایسا نہیں ہے۔

سائل: کیا اس حدیث میں جو آپ نے ترک کر دی ہے کوئی ایسی چیز بھی ہے جو آپ نے بیان نہیں کی؟

شافعی: جی ہاں، اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ صلوۃ خوف، عام حالات کی نماز سے مختلف طریقے پر ادا کرنا بھی جائز ہے۔ مسلمان اپنی اور دشمن کی حالت کے پیش نظر، جیسے بھی ممکن ہو نماز ادا کر سکتے ہیں بشرطیکہ رکعتوں کی تعداد پوری ہو جائے۔ اگر نماز کے طریقے میں کچھ فرق بھی ہو جائے تب بھی سب کا فرض ادا ہو جائے گا۔

متضاد روایات کی ایک اور مثال

سائل: تشھد کی روایات میں اختلاف ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تشھد اس طرح سکھایا کرتے تھے جیسا کہ آپ قرآن کی کوئی سورت سکھا رہے ہوں۔ آپ اس کی ابتدا تین الفاظ سے کرتے، التحیات للہ۔

آپ کس روایت کو قبول کرتے ہیں؟

شافعی: (اس روایت کو)

مالک، ابن شہاب سے، وہ عروۃ سے، وہ عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر بیٹھے یہ کہتے ہوئے سنا، آپ لوگوں کو تشھد سکھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: لوگو، کہو "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ، الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أشْهَدُ أنْ لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ، وَأَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" یعنی "تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور تمام پاکیزہ چیزیں بھی اللہ کے لئے ہیں، تمام پاک چیزیں اور نمازیں اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔" (مالک)

یہ وہ روایت ہے جو ہمیں ہم سے پہلے گزرنے والے اہل فقہ کے علماء نے سکھائی ہے۔ ہمیں اس کے راویوں کا علم بھی ہے اور اس سے مختلف روایتوں کے راویوں کا علم بھی ہے۔ ہم نے تشھد کے بارے میں اس روایت کے موافق یا مخالف کوئی اور ایسی روایت نہیں سنی جو اس سے زیادہ قابل اعتماد ہو اگرچہ دیگر قابل اعتماد روایتیں بھی موجود ہیں۔ ہم نے اس روایت کو اس وجہ سے قبول کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دیگر صحابہ کی موجودگی میں منبر پر لوگوں کو کوئی ایسی بات تو نہیں سکھا سکتے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے نہ سیکھی ہو۔ ہمیں ہمارے ساتھی علماء سے کوئی ایسی روایت ملے جو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت ہو جو اس روایت کے موافق ہو تو ہم اسے بھی قبول کر لیں گے۔

نوٹ: اس معاملے میں ایک دوسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ احادیث میں تشہد کے جو مختلف الفاظ روایت ہوئے ہیں، ان تمام حالفاظ میں تشہد پڑھا جا سکتا ہے۔ ان الفاظ سے کوئی بڑا معنوی فرق واقع نہیں ہوتا۔

سائل: وہ روایات کون سی ہیں؟

شافعی: ہمیں قابل اعتماد راویوں سے یہ روایت ملی ہے۔

یحیی بن سعد، لیث بن سعد سے، وہ ابو زبیر مکی سے، اور وہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔۔۔طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہمیں تشھد اس طرح سکھایا کرتے تھے جیسا کہ آپ ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے۔ آپ فرماتے: "التَّحِيَّاتُ المُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، سَلاَمٌ عَلَيْكَ أيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَلاَمٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أشْهَدُ أنْ لاَ إلَهَ إلاَّ اللهُ، وأنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" یعنی"تمام مبارک تعریفیں، نمازیں اور پاکیزہ چیزیں اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں۔" (مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد)

سائل: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ان روایتوں میں اختلاف کیوں ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے مختلف الفاظ میں روایت کی ہے اور ابو موسی رضی اللہ عنہ نے کچھ مختلف جبکہ جابر رضی اللہ عنہ نے بھی کچھ مختلف۔ ہر کسی کے الفاظ میں تھوڑا تھوڑا سا فرق ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ مختلف الفاظ میں اسے سکھایا ہے۔ یہی معاملہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے تشھد کا ہے۔ ہر کسی کے تشھد میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جو دوسرے کے تشھد میں نہیں ہیں یا بعض میں کچھ الفاظ زیادہ ہیں۔

شافعی: یہ معاملہ تو نہایت ہی واضح ہے۔

سائل: برائے کرم وضاحت فرما دیجیے۔

شافعی: ہر کلام میں اللہ کی عظمت کو بیان کرنا ہی مقصود ہے۔ اس کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دی ہے۔ ایک شخص نے اسے یاد کر لیا اور دوسرے شخص نے بھی اسے یاد کر لیا۔ اس یاد رکھنے میں ہر ایک نے الفاظ کی بجائے معانی کی حفاظت پر توجہ دی ہے۔ اگر معانی میں کوئی زیادتی یا کمی یا اختلاف ہو جائے تو یہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ شاید نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان میں سے ہر شخص کو ان الفاظ میں تشھد کی اجازت دی ہے جیسے اس نے یاد کر لیا بشرطیکہ معنی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ اس طرح سے ہر شخص نے جن الفاظ میں تشھد یاد کر لیا، اس نے انہی الفاظ میں معنی کی تبدیلی کے بغیر اسے روایت کو درست سمجھا ہے۔

سائل: جیسا کہ آپ نے بیان کیا، کیا اس اجازت کی کوئی دلیل ہے؟

شافعی: جی ہاں۔

سائل: وہ کیا ہے؟

شافعی: (یہ حدیث دلیل ہے۔)

مالک، ابن شہاب سے، وہ عروۃ سے، وہ عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما کو اپنی قرأت، جس کی تعلیم نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے دی تھی، سے مختلف انداز میں سورۃ فرقان تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ میں اس پر ان سے تقریباً جھگڑ ہی پڑا تھا، پھر میں نے انہیں تلاوت پوری کرنے کی مہلت دی، اس کے بعد میں نے انہیں ان کی چادر سے پکڑا اور انہیں گھسیٹتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس لے گیا۔

میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۃ فرقان کو مختلف انداز میں پڑھتے سنا ہے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں پڑھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے اسی طرح تلاوت کی جیسا کہ میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "یہ اسی طرح نازل ہوئی تھی۔" پھر مجھے پڑھنے کا حکم دیا۔ میں نے اس کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا: "یہ اسی طرح نازل ہوئی تھی۔ قرآن تو سات حروف پر نازل ہوا ہے، جیسے میسر ہو اس کی تلاوت کرو۔" (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)

اللہ نے اپنی کتاب کو لوگوں پر مہربانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا۔ آپ یہ جانتے تھے کہ حفظ کرنا ایک مشکل کام ہے اس لئے آپ نے مختلف طریقے پر قرأت کی اجازت دے دی خواہ اس میں الفاظ کی کچھ تبدیلی بھی ہو جائے لیکن الفاظ کے اس اختلاف میں معنی کی تبدیلی واقع نہ ہو۔ (اسی اصول پر) کتاب اللہ کے علاوہ دیگر کتب (کو بیان کرنے) کے معاملے میں یہ درست ہے کہ اگرچہ الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل واقع ہو جائے لیکن معنی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ پس ایسی ہر کتاب جس میں (اللہ کا) حکم نہ ہو اگرچہ الفاظ میں اختلاف ہو لیکن معنی میں تبدیلی نہ ہو درست ہے۔

نوٹ: امت کے اہل علم کی اکثریت نے اس معاملے میں امام شافعی سے شدید اختلاف کیا ہے۔ قرآن مجید کی روایت تواتر کے ساتھ لفظ بلفظ ہوئی ہے اور اس میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔ احادیث میں وارد اذکار اور دعاؤں کو بھی بالعموم لفظاً روایت کیا گیا ہے۔ دیگر احادیث کو بالعموم معنوی طور پر روایت کیا گیا ہے لیکن قرآن کے معاملے میں ہرگز ایسا نہیں ہوا۔ح

بعض تابعین نے یہ کہا ہے کہ ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعض صحابہ سے ہوئی۔ ان کی بیان کردہ روایت میں معنی اگرچہ ایک ہی تھا لیکن الفاظ کا اختلاف موجود تھا۔ میں نے یہ بات ان میں سے بعض کے سامنے رکھی تو وہ کہنے لگے، "اگر معنی میں تبدیلی نہ ہو، تب پھر اس میں (یعنی الفاظ کی تبدیلی میں) کوئی حرج نہیں۔"

سائل: تشھد میں تو اللہ تعالی کی عظمت بیان کرنے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس میں معنی کی یہ وسعت ہو گی اور اس میں (معنی کے اعتبار سے) کوئی اختلاف نہ ہو گا جیسا کہ آپ نے بیان کر دیا۔ اسی طرح، جیسا کہ آپ نے فرمایا، صلوۃ خوف میں بھی ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی طرز پر بھی نماز مکمل کر لی گئی ہو، اس کے اجزا نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کر دیے گئے۔ اللہ تعالی نے (خطرے کی حالت کی) اس نماز اور عام نمازوں میں خود فرق روا رکھا ہے۔ آپ نے تشھد کے معاملے میں دوسری تمام روایات کو چھوڑ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہی کو قبول کیوں کیا ہے؟

شافعی: اس روایت کو میں نے وسیع تر پایا ہے۔ اس کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح طریقے سے ہوئی ہے۔ یہ جامع تر ہے اور اس میں الفاظ زیادہ ہیں اس بنیاد پر میں نے اسے اختیار کر لیا ہے۔ اس معاملے میں ان اہل علم کے معاملے میں کوئی شدت نہیں برتتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت شدہ کسی اور روایت کو قبول کرتے ہیں۔

روایات میں تضاد کی دیگر اقسام

مالک نے نافع سے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "سونے کو سونے کے بدلے میں نہ بیچو سوائے اس کے کہ مقدار بالکل برابر برابر ہو۔ اس میں سے کچھ مقدار میں اضافہ مت کرو۔ چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو سوائے اس کے کہ مقدار برابر برابر ہو۔ اس میں سے کچھ مقدار میں اضافہ مت کرو۔ اسی طرح کسی غائب چیز کا تبادلہ موجود چیز کے ساتھ نہ کرو۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، مالک)

مالک نے موسی بن ابی تمیم سے، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ: (سونے کے) دینار کو صرف (سونے کے) دینار کے بدلے (برابر) ہی بیچو، اور (چاندی کے) درہم کو (چاندی کے) درہم ہی کے بدلے (برابر) بیچو۔ ان میں کچھ اضافہ نہ کرو۔ (مسلم، نسائی، ابن ماجہ، مالک)

مالک نے حمید بن قیس سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی: "(سونے کے) دینار کو صرف (سونے کے) دینار کے بدلے (برابر) ہی بیچو، اور (چاندی کے) درہم کو (چاندی کے) درہم ہی کے بدلے (برابر) بیچو۔ ان میں کچھ اضافہ نہ کرو۔" یہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ہمارا عہد ہے اور ہم سے تمہارا عہد ہے۔ (نسائی، مالک)

عثمان بن عفان اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے سونے کے بدلے سونے میں زیادتی کی ممانعت کو روایت کیا ہے۔ یہ تبادلہ ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہیے۔ (مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد)

ہم ان احادیث کو قبول کرتے ہیں کیونکہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اکابر صحابہ نے روایت کیا ہے اور مختلف شہروں کے قانون دان علماء نے انہیں قبول کیا ہے۔

سفیان نے عبیداللہ بن ابی یزید کو، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "سود تو ادھار ہی میں ہے۔" (مسلم، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ)

ابن عباس رضی اللہ عنہما اور اہل مکہ میں سے ان کے ساتھیوں وغیرہ نے اس روایت کو قبول کیا ہے۔

سائل: کیا یہ حدیث اس سے پہلے بیان کردہ احادیث کے مخالف ہے؟

شافعی: ایک اعتبار سے یہ مخالف ہے اور دوسرے اعتبار سے موافق؟

سائل: موافق کس اعتبار سے ہے؟

شافعی: اسامہ (بن زید) رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے جو بات سنی ہو گی وہ مختلف اصناف سے متعلق ہو گی جیسے سونے کا تبادلہ چاندی سے، اور کھجور کا تبادلہ گندم سے، یا کسی اور چیز کا دوسری چیز سے تبادلہ جو کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ آپ نے جب یہ فرمایا کہ "سود تو ادھار ہی میں ہے۔" (عین ممکن ہے کہ) اسامہ نے سوال نہ سنا ہو اور صرف جواب ہی سنا ہو یا انہیں اس میں کوئی شبہ لاحق ہوا ہو۔ اسامہ کی حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو دوسری احادیث کی موافقت میں نہ ہو۔

سائل: آپ نے پھر یہ کیوں فرمایا کہ "ایک اعتبار سے یہ مخالف ہے"؟

شافعی: اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جنہوں نے اسے روایت کیا ہے، خود اس کے خلاف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، "ہاتھوں ہاتھ تجارت میں سود نہیں ہے۔ سود تو ادھار تجارت میں ہے۔"

سائل: آپ نے اس حدیث کو کس بنیاد پر ترک کیا ہے اگرچہ یہ سابقہ احادیث کے خلاف ہے؟

شافعی: ان میں سے ہر ایک راوی جنہوں نے اسامہ کی روایت کے خلاف بات بیان کی ہے، اگر وہ اسامہ سے زیادہ احادیث کے محفوظ کرنے والے نہ تھے لیکن ان سے کم بھی نہ تھے۔ عثمان بن عفان اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما عمر اور شرف صحابیت میں اسامہ سے بڑھ کر تھے۔ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ تو عمر، حدیث کے محفوظ کرنے اور اپنے زمانے میں اسے روایت کرنے میں ان سے بڑھ کر تھے۔ ان دونوں کی حدیث ان کے محفوظ کرنے کی بنیاد پر قابل ترجیح ہے۔ زیادہ لوگوں کی روایت ایک شخص کی روایت سے زیادہ ہی قابل اعتماد ہوتی ہے۔ ایسے اکثر لوگ جو حدیث محفوظ کرنے میں زیادہ محتاط ہوں، ان کی روایت اس ایک شخص کی روایت سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے جو خود ان سے حدیث روایت کرتا ہو۔ پانچ لوگوں کی روایت کردہ حدیث، ایک شخص کی روایت کردہ حدیث سے زیادہ قابل ترجیح ہوا کرتی ہے۔

بعض ایسی روایتیں جو دوسروں کے نزدیک متضاد ہیں لیکن ہمارے نزدیک متضاد نہیں

پہلی مثال

ابن عینیہ نے محمد بن عجلان سے، انہوں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے، انہوں نے محمود بن لبید سے، اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "نماز فجر کو موخر کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر والا (وقت) ہے۔" یا یہ فرمایا کہ "یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہے۔" (ترمذی، نسائی، احمد)

سفیان نے زہری سے، انہوں نے عروۃ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی ہیں: مسلمان خواتین نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ (باجماعت) فجر کی نماز کی ادائیگی کے لئے آیا کرتیں اور پھر جب وہ واپس جاتیں تو اپنی چادروں میں لپٹی ہوتیں۔ انہیں اندھیرے کے باعث پہچاننا مشکل ہوتا تھا۔" (بخاری، نسائی، احمد)

اندھیرے وقت میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے نماز پڑھنے کا ذکر سھل بن سعد، زید بن ثابت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا ہے۔ ان کی روایات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مشابہ ہیں۔

سائل: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے ہم فجر کی نماز کو تاخیر سے ادا کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں اس میں اجر زیادہ ہے۔ اگر احادیث میں اختلاف ہو تو آپ کے نزدیک بھی کسی ایک کو اختیار کر لینا جائز ہے۔ ہمارے خیال میں یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے خلاف ہے۔

شافعی: اگر یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے خلاف ہوتی تو ہمیں دوسری روایت کو چھوڑ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہی کو قبول کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان کی روایت ہی آپ کے اور ہمارے نزدیک اصل (اور معیاری) ہے۔ اگر احادیث میں اختلاف پایا جاتا ہو تو ان میں سے ایک کو ہم اسی صورت میں اختیار کریں گے جب کوئی سبب ایسا پایا جائے جس کی بنیاد پر ہمیں معلوم ہو جائے کہ یہ حدیث دوسری کی نسبت زیادہ قوی ہے۔

سائل: وہ سبب کیا ہے؟

شافعی: ان دونوں (متضاد) حدیثوں میں سے ایک کتاب اللہ کے زیادہ قریب ہو۔ جو روایت کتاب اللہ کے قریب ہو وہی حجت ہوا کرتی ہے۔

سائل: ہمارا بھی یہی نقطہ نظر ہے۔

شافعی: اگر کتاب اللہ میں کوئی نص ہمیں نہ ملے (جس کی بنیاد پر ہم روایتوں کے کتاب اللہ کے قریب ترین ہونے کا فیصلہ کر سکیں) تو ان حدیثوں میں سے وہ قابل ترجیح ہو گی جو زیادہ ثابت شدہ ہے۔ (ثابت شدہ ہونے کا فیصلہ ان بنیادوں پر ہو گا:)

         (قابل ترجیح) روایت وہی ہو گی جس کے راوی زیادہ جانے پہچانے ہیں اور اپنے علم اور احادیث کو محفوظ کرنے کے معاملے میں زیادہ شہرت یافتہ ہیں؛

       یا پھر (وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی) جو ایک کی بجائے دو یا زیادہ ذرائع سے ہم تک پہنچی ہو گی۔ اس کی وجہ ہے کہ احادیث کو محفوظ کرنے کا اہتمام زیادہ لوگ کم کی نسبت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں؛

       یا پھر (وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی) جو کتاب اللہ کے عام معانی سے بحیثیت مجموعی زیادہ قریب ہو گی یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دوسری سنتوں کے زیادہ قریب ہو گی۔

       یا پھر (وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی) جو اہل علم میں زیادہ جانی پہچانی ہے؛

       یا پھر (وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی) جو قیاس (اور عقل) کے زیادہ قریب ہو گی؛

       یا پھر (وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی) جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت عمل کرتی ہوگی۔

سائل: یہی ہمارا اور دیگر اہل علم کا نقطہ نظر ہے۔

شافعی: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کتاب اللہ کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى" یعنی "نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور پر درمیانی نماز کی۔ (البقرہ 2:238)" جب وقت کی اجازت موجود ہے تو اول وقت میں نماز ادا کرنے والا نماز کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہو گا۔ اسی طرح جو لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کو روایت کرتے ہیں وہ ثقاہت اور حفظ کے معاملے میں زیادہ مشہور ہیں۔ حدیث عائشہ کے مثل کل تین افراد نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (ایک تو سیدہ خود ہیں اور) دوسرے دو زید بن ثابت اور سھل بن سعد رضی اللہ عنہما ہیں۔ یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنتوں کے زیادہ قریب بھی ہے۔

سائل: کن سنتوں کے؟

شافعی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "(نماز کا) پہلا وقت اللہ کی رضا ہے اور اس کا آخری اللہ کی معافی" (ترمذی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ کی رضا کے علاوہ کسی اور چیز کو اختیار نہ فرماتے تھے۔ اسی طرح "معافی" میں دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کسی غلطی کی معافی یا پھر افعال کی گنجائش۔ گنجائش کا مطلب یہ ہے کہ فضیلت دوسرے عمل میں ہی ہے (اگرچہ یہ عمل بھی جائز ہے)۔ ایسا اس صورت میں ہو گا اگر مخالف عمل کو ترک کرنے کر کے اس عمل کو کرنے کا حکم دیا گیا ہو (جو جائز ہے۔)

سائل: اس سے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟

شافعی: جب ہمیں شروع وقت میں نماز پڑھنے کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ بعد کے وقت میں نماز پڑھنا محض جائز ہے (فضیلت کا باعث نہیں۔) فضیلت تو شروع وقت میں نماز ادا کر لینے میں ہی ہے۔ نماز میں تاخیر محض ایک اجازت اور گنجائش ہے۔ جو کچھ میں نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی اسی کے مثل وضاحت فرما دی ہے۔ آپ سے پوچھا گیا، "افضل عمل کیا ہے؟" آپ نے فرمایا، "نماز کو شروع وقت میں ادا کرنا۔" (ابوداؤد)

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم افضل عمل کو چھوڑنے والے نہ تھے اور نہ ہی لوگوں کو افضل عمل چھوڑنے کا حکم دینے والے تھے۔ یہ ایسی بات ہے جس سے کوئی صاحب علم بے خبر نہیں ہے۔ شروع وقت میں نماز فضیلت میں زیادہ ہے اگرچہ لوگ کسی مصروفیت، بھول چوک یا بیماری کے باعث ایسا نہیں کر پاتے۔ یہ کتاب اللہ کے بھی زیادہ قریب ہے۔

سائل: قرآن میں یہ کہاں ہے؟

شافعی: اللہ تعالی نے فرمایا: "حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى" یعنی "نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور پر درمیانی نماز کی۔ (البقرہ 2:238)" جس نے نماز کو شروع وقت میں ادا کر لیا اس نے اس شخص کی نسبت اس کی زیادہ حفاظت کی جس نے اسے شروع وقت کی نسبت تاخیر سے ادا کیا۔ ہم لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ جب ان پر کوئی چیز ضروری قرار دے دی جائے تو وہ اسے جلد ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ (تاخیر کرنے کی صورت میں) مصروفیت، بھول چوک یا بیماری کے باعث حکم پر عمل کرنا رہ بھی سکتا ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس سے عقل ناواقف نہیں ہے۔ نماز فجر کو شروع وقت میں ادا کرنا ابوبکر، عمر، عثمان، علی بن ابی طالب، ابن مسعود، ابو موسی اشعری، انس بن مالک اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت شدہ ہے۔

سائل: ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم تو نماز کو جلد شروع کرتے تھے اور طویل قرأت کے باعث دیر سے فارغ ہوا کرتے تھے۔

شافعی: انہوں نے لمبی قرأت بھی کی اور اسے مختصر بھی کیا۔ نماز کے وقت کا تعین اسے شروع کرنے سے کیا جائے گا نہ کہ اسے ختم کرنے سے۔ ان سب حضرات نے نماز کو اول وقت ہی میں شروع کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تو اسے ختم بھی ایسے وقت میں ہی کر لیا جب ابھی اندھیرا تھا۔ آپ نے یہ کہہ کر کہ "نماز فجر کو دیر سے شروع کیا جائے اور قرأت کو مختصر کر کے اسی وقت میں ختم کر لیا جائے" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت شدہ حدیث کی مخالفت کی ہے جسے قبول کرنا آپ پر لازم تھا۔ آپ نے اس طرح ان صحابہ سے بھی اختلاف کیا ہے۔ احادیث میں تو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات یہ لوگ نماز کو ختم بھی اندھیرے ہی میں کر لیا کرتے تھے۔

سائل: کیا آپ کی رائے میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے متضاد ہے؟

شافعی: جی نہیں۔

سائل: یہ دونوں روایات کس طرح موافق ہیں؟

شافعی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو نماز جلدی ادا کرنے کی تاکید کی اور بتایا کہ اس میں فضیلت زیادہ ہے۔ اس میں یہ احتمال تھا کہ (آپ کی حکم کی پیروی کی زیادہ) رغبت رکھنے والے لوگ اسے صبح صادق سے پہلے ہی ادا نہ کرنے لگ جائیں۔ آپ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ "نماز کو صبح صادق تک موخر کرو" یعنی جب اس وقت تک موخر کرو جبکہ صبح صادق کا وقت واضح ہو جائے۔

سائل: کیا اس میں کسی اور معنی کا احتمال بھی ہے؟

شافعی: جی ہاں، اس میں وہ معنی بھی ہو سکتا ہے جو آپ نے بیان کیا (یعنی کچھ روشنی کے وقت میں نماز پڑھو) یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے جو آپ کے اور ہمارے بیان کردہ وقت کے درمیان ہے، یا وہ تمام معنی مراد ہو سکتے ہیں جن پر لفظ "اسفار" کا اطلاق ہوتا ہے۔

سائل: آپ نے کس بنیاد پر ہمارے بیان کردہ معنی کی نسبت دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے؟

شافعی: جو کچھ میں نے بیان کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق ہے:

طلوع صبح دو طرح کی ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک تو بھیڑیے کی دم کی مانند ہوتی ہے (یہ صبح کاذب ہے)۔ اس سے نہ تو کوئی کام حلال ہوتا ہے اور نہ ہی حرام۔ رہی دوسری طلوع صبح (یعنی صبح صادق) تو اس سے نماز کا وقت شروع ہوتا ہے اور (روزہ دار کے لئے) کھانا پینا ممنوع ہو جاتا ہے۔ (بیہقی)

اس سے مراد یہ ہے جو روزے کا ارادہ کرے اس کے لئے کھانا پینا صبح صادق کے وقت سے ممنوع ہو جاتا ہے۔

دوسری مثال

سفیان، زہری سے، وہ عطا بن یزید لیثی سے اور وہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جب تم پیشاب یا پاخانے کے لئے بیٹھو تو نہ تو اپنا منہ اور نہ ہی اپنی پیٹھ قبلے کی جانب کرو بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف کر لو۔" ابو ایوب کہتے ہیں، "ہم لوگ شام گئے، وہاں ہم نے بیت الخلا کو قبلہ رو بنا ہوا پایا۔ ہم نے اس سے منہ پھیر لیا (اور مختلف رخ بیٹھے) اور ہم نے اللہ سے معافی مانگی (کہ لاعلمی میں ہم قبلہ رو بیٹھ گئے تھے)۔" (بخاری، مسلم، نسائی)

مالک نے یحیی بن سعید سے، انہوں نے محمد بن یحیی بن حبان سے، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبانط سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ آپ فرماتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ ہی بیت المقدس کی طرف۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو دو اینٹوں پر (قضائے حاجت کے لئے) بیٹھے دیکھا اور آپ کا رخ بیت المقدس کی جانب تھا۔ (بخاری، نسائی، مالک)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اہل عرب کو یہ بات سکھائی۔ ان لوگوں کے ہاں ٹوائلٹ تعمیر کرنے کا رواج نہ تھا اگرچہ ان کی اکثریت گھروں میں رہتی تھی۔ آپ کی اس تعلیم میں دو احتمال ہیں:

ایک تو یہ کہ وہ لوگ قضائے حاجت کے لئے صحرا میں جایا کرتے تھے۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ لوگ قبلے کی جانب منہ یا پیٹھ نہ کریں۔ صحرا میں ایسا کرنا آسان ہے اس وجہ سے آپ نے کسی آڑ کی عدم موجودگی کے باعث ان پر تخفیف فرمائی۔ آپ نے انہیں بتایا کہ پیشاب یا پاخانے کی حاجت کی صورت میں وہ قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کے اور قبلے کے درمیان کوئی آڑ نہ ہو گی۔ ایک محتاط شخص کے لئے ایسا کرنا مشکل نہیں ہے۔ اسی طرح قضائے حاجت کے لئے جانے والوں کی اکثریت کی شرمگاہیں اس حالت میں (صحرا میں) نماز پڑھنے والوں سے چھپی ہوئی نہ ہوں گی۔ جب یہ لوگ قبلے کی جانب رخ کریں گے تو ان کی شرمگاہوں کو نماز پڑھنے والے دیکھ سکیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حکم اس وجہ سے دیا کہ لوگ اللہ کے مقرر کردہ قبلے کا احترام کریں اور نماز پڑھنے والوں سے اپنی شرمگاہوں کو چھپائیں اگر وہ حالت نماز میں (قضائے حاجت کرنے والوں کو) دیکھ سکتے ہوں۔

صحرا میں قبلے کی جانب منہ یا پیٹھ کر کے رفع حاجت کرنے سے منع کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جب قبلے کی جانب پیشاب یا پاخانہ کیا جائے گا تو اس سے گندگی (اس رخ میں) پھیلے گی۔ (جب یہ گندگی نماز پڑھنے والوں کو نظر آئے گی) تو ان کے لئے اذیت کا باعث ہو گی۔

نوٹ: قبلہ مدینہ سے جنوبی سمت میں ہے۔ اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مشرق یا مغرب کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کرنے کا حکم دیا۔ دیگر شہروں میں اس حکم پر ان کی اپنی سمت کے مطابق عمل ہو گا۔امام صاحب نے صحرا کی جس صورت کی طرف اشارہ کیا ہے وہ تب پیش آئے گی جب ایک بڑا گروہ صحرا میں کہیں ٹھہرا ہو اور وہیں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں اور اس کے قریب ہی رفع حاجت کر رہے ہوں۔

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایک عام بات سنی تو انہوں نے اس کا اطلاق صحرا اور بند جگہ دونوں پر کر لیا۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق گھروں میں بنے ہوئے ٹوائلٹ، جو بعض اوقات اس طرح بنے ہوتے ہیں کہ ان میں قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ ہوتی ہے، کے احکام میں فرق نہیں ہے۔ اگرچہ ایسے بیت الخلا میں انسان چھپا ہوا ہوتا ہے۔ انہوں نے حدیث کے حکم کو ہر حالت کے لئے عام لیا جیسا کہ انہوں نے اس حکم کو عمومی طور پر سنا تھا۔ جو بھی حدیث کو سنے اس پر لازم ہے کہ وہ اسے عمومی طور پر ہی لے اگر کوئی ایسی دلیل موجود نہ ہو جس سے اس حکم کا خصوصی صورتحال کے لئے ہونا ثابت ہوتا ہو۔

جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت کرتے دیکھا جو دو قبلوں میں سے ایک ہے۔ اگر اس کی طرف رخ کیا جائے تو (مدینہ منورہ میں) کعبہ کی طرف پیٹھ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس نقطہ نظر پر تنقید کی کہ رفع حاجت کے وقت قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کی جائے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کام سے کسی کو منع کرے جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کیا ہو۔

انہوں نے غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحرا سے متعلق حکم کو نہیں سنا جس میں آپ نے بند جگہ اور صحرا میں قضائے حاجت میں فرق کیا ہو۔ اگر وہ یہ سن لیتے تو صحرا میں قبلے کی طرف منہ کرنے کی ممانعت اور بند جگہ پر اس کی اجازت کا فتوی دیتے۔ انہوں نے وہ رائے ظاہر کی جسے انہوں نے سنا اور دیکھا۔ (یہ بھی ہو سکتا ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منقول کسی دلیل کی بنیاد پر آپ صحرا اور بند جگہ کی صورتحال کے فرق کے باعث حکم میں فرق کی رائے رکھتے ہوں۔

نوٹ: اس معاملے میں امت کے اہل علم کی اکثریت نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے نقطہ نظر کو ترجیح دی ہے کہ انسان خواہ بند ٹائیلٹ میں رفع حاجت کر رہا ہو یا کسی کھلے میدان میں، ہر حال میں اسے قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس حکم کی وجہ قبلے کی تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ حدیث کی توجیہ اس طرح کی جاتی ہے کہ غالباً انہیں رخ متعین کرنے میں غلطی لگی ہو گی۔ کوئی بھی شریف انسان اگر کسی بزرگ کو رفع حاجت کرتا دیکھے تو وہ بغور مشاہدہ کرنے میں نہ لگ جائے گا بلکہ فوراً اپنی نظر پھیر کر وہاں سے چل دے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اتفاقاً حضور کو ایسا کرتے دیکھ لیا تو انہوں نے فوراً اپنی نظریں پھیر لی ہوں گی۔ قبلے کی طرف پیٹھ کرنے کا یہ مشاہدہ کرنے میں انہیں یقیناً غلطی لگی ہو گی۔

اگر کوئی شخص مکہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور کھلے میدان میں بھی رفع حاجت کر رہا ہو تو اس کے اور قبلے کے درمیان بے شمار پہاڑ اور سمندر حائل ہوتحے ہیں۔ اس طرح سے کھلے میدان اور بند ٹائیلٹ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے یہی نقطہ نظر درست ہے کہ کسی بھی حالت میں قبلہ رو ہو کر رفع حاجت نہ کی جائے۔

اس وضاحت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے جو کچھ سنے اسے قبول کرے۔ اگر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ (احکام میں) فرق کیا گیا ہے تو وہ بھی فرق نہ کرے سوائے اس کے کہ اس فرق کے بارے میں اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منقول کوئی دلیل موجود ہو۔ حدیث میں اس کی اور مثالیں بھی موجود ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں جو ہم نے بیان کر دی ہے اور دیگر مثالوں کو جو ہم نے بیان نہیں کیں چھوڑ دیتے ہیں۔

تیسری مثال

ابن عینیہ، زہری سے، وہ عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور وہ صعب بن جثامہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے (دشمن) مشرکین کے علاقے میں شب خون مارنے کے بارے میں سوال کیا گیا جبکہ ان کی عورتیں اور بچے بھی ان کے ہمراہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: "وہ انہی میں سے ہیں۔" عمرو بن دینار نے زہری سے روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ "وہ اپنے والدین میں سے ہیں۔" (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ابن ماجہ)

ابن عینیہ نے زھری سے، انہوں نے ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے چچا سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ابن ابی الحقیق کی طرف (ایک لشکر کو جنگ کے لئے) بھیجا تو آپ نے خواتین اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)

سفیان نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (سے منسوب) اس قول کو اختیار کیا ہے کہ ان عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا جائز ہے لیکن یہ اجازت ان ابی الحقیق والی حدیث سے منسوخ ہے۔ زہری نے جب بھی صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بیان کی تو انہوں نے اس کے فوراً بعد ابن کعب والی حدیث بھی بیان کی ہے۔

صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ والی حدیث نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے عمرہ کے دور کی ہے۔ اگر آپ کے عمرے کو پہلے تصور کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابن ابی الحقیق والا حکم اس سے پہلے کا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ (ابن ابی الحقیق والا) یہ حکم عمرے والے سال ہی کا ہے۔ اگر اسے دوسرے عمرے سے متعلق سمجھا جائے تو پھر بلاشبہ یہ ابن ابی الحقیق والے حکم کے بعد ہی کا ہے۔ بہرحال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

ہمارے علم میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے جس میں آپ نے پہلے خواتین اور بچوں کے قتل کی اجازت دے دی ہو اور پھر اس سے منع فرما دیا ہو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، ہماری رائے میں خواتین اور بچوں کے قتل کی یہ ممانعت کا مقصد یہ ہے کہ انہیں جان بوجھ کر قتل نہ کیا جائے اگر وہ لڑنے والوں سے ممیز کئے جا سکتے ہوں (یعنی دشمن کے فوجی لباس میں نہ ہوں)۔

آپ کے اس ارشاد کہ "وہ انہی میں سے ہیں" کا مطلب یہ ہے کہ ان میں دو خصوصیات اکٹھی ہیں۔ وہ نہ تو اہل ایمان میں سے ہیں جس کے باعث ان کے قتل کی ممانعت ہو اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے علاقے میں رہتے ہیں جس پر اچانک حملہ کر دینے کی اجازت نہیں ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے شب خون کی اجازت دی جیسا کہ آپ نے بنو عبدالمصطلق کے معاملے میں کیا، تو فقہی علم یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ شب خون مارنے کی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دی ہے اس وجہ سے کسی شب خون مارنے والے (فوجی) کو خواتین اور بچوں کے قتل سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایسا کرنے والے کے لئے کوئی سزا یا کفارہ یا خون بہا کی رقم یا انتقام نہیں ہے۔ رات میں حملہ کرنے کی اجازت ہے اور ان لوگوں کو مسلمان ہونے کے باعث حفاظت بھی حاصل نہیں ہے۔ ہاں اگر خواتین اور بچے الگ سے پہچانے جا سکیں تب انہیں جان بوجھ کر قتل نہ کیا جائے۔

بچوں کو قتل کرنے سے اس وجہ سے روکا گیا ہے کہ وہ کفر کی اس حد تک نہیں پہنچے کہ اس پر وہ (جان بوجھ کر) عمل کرتے ہوں اور خواتین کے قتل سے اس وجہ سے روکا گیا ہے کہ وہ جنگ میں حصہ نہیں لیتیں۔

نوٹ: دین اسلام نے جنگ کی حالت میں بھی اخلاقیات پر پورا زور دیا ہے۔ اسلام اس مقولے کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ "جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔" یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جنگ میں حصہ نہ لینے والے تمام افراد کے قتل سے منع فرمایا۔

سائل: کوئی اور مثال بیان فرمائیے۔

شافعی: اہل علم کے لئے کافی مثالیں بیان کر دی گئی ہیں۔

سائل: کیا آپ کتاب اللہ سے کوئی مثال بیان کر سکتے ہیں:

شافعی: جی ہاں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً، وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا، فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ، وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنْ اللَّهِ، وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا۔

کسی صاحب ایمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے مومن کو قتل کر دے سوائے اس کے کہ غلطی ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے اہل و عیال کو (قانون میں) طے شدہ دیت ادا کرے سوائے اس کے کہ وہ لوگ معاف کر دیں۔ اگر وہ مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا تھا جس سے تمہاری دشمنی چل رہی ہے اور وہ مومن تھا تو پھر ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ کسی ایسی (غیر مسلم) قوم کا فرد ہے جس کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے تو پھر اس کے وارثوں کو دیت ادا کی جائے گی اور ایک مومن غلام آزاد کرنا ہو گا۔ اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو وہ اللہ سے توبہ کے لئے دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے۔ اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ ۔ (النساء 4:92)

اللہ تعالی نے کسی صاحب ایمان شخص کو غلطی سے قتل کر دینے پر دیت اور غلام کو آزاد کر دینے کو لازم کیا ہے۔ ایسے غیر مسلم جن سے معاہدہ ہو، ان کے کسی فرد کو بھی غلطی سے قتل کر دینے کی صورت میں دیت اور غلام آزاد کرنا ضروری ہے۔

نوٹ: موجودہ دور کے تمام غیر مسلم "ذی میثاق" ہیں۔ اقوام متحدہ کا ممبر بننے کے لئے تمام مسلم اور غیر مسلم ممالک سے یہ معاہدہ کر لیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انسان، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، کے قتل کی صورت میں یکساں قوانین کا اطلاق کیا جائے گا۔

قتل کرنے کی اس ممانعت کا سبب یا تو دوسرے شخص کا مسلمان ہونا ہے، یا اس سے معاہدہ ہونا ہے اور یا پھر اس کا مسلمانوں کے علاقے میں رہنا ہے۔ ایسا مسلمان جو کہ دشمن کے علاقے میں رہتا ہو، اسے قتل کرنا ممنوع ہے اور یہ اس کے ایمان کی وجہ سے ممنوع ہے۔ اس وجہ سے اسے غلطی سے مار دینے کا کفارہ ادا کرنا ضروری ہے اگرچہ دیت ادا کرنا ضروری نہیں۔ اس کی جان کی ممانعت ایمان کے باعث ہے۔ رہے مشرکین کے بچے اور عورتیں تو انہیں ایمان اور مسلمانوں کے زیر نگیں علاقے میں رہنے کی حرمت حاصل نہیں ہے۔ اس وجہ سے انہیں غلطی سے قتل کر دینے کی صورت میں دیت، انتقام، اور کفارہ دینا ضروری نہیں ہے۔

چوتھی مثال

سائل: متضاد احادیث کی کچھ اور مثالیں بیان کیجیے جو دوسرے اہل علم کے نزدیک متضاد ہیں۔

شافعی: (مثال کے طور پر)

مالک نے صفوان بن سلیم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے۔" (بخاری، مسلم، نسائی، مالک)

ابن عینیہ نے زہری، انہوں نے سالم، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے جو بھی نماز جمعہ کے لئے آئے وہ غسل کر کے آئے۔" (بخاری، مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس ارشاد کہ "جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے" اور آپ کے جمعہ کے دن غسل کرنے کے حکم میں دو معنی ممکن ہیں۔ ان میں سے ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ یہ (شرعی طور پر) واجب ہے۔ نماز جمعہ کے لئے طہارت بغیر غسل کے نہیں ہو سکے گی جیسا کہ حالت جنابت میں طہارت غسل کے بغیر نہیں ہوتی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ اخلاق اور جسمانی صفائی کے نقطہ نظر سے ضروری ہے (یعنی شرعی طور پر واجب نہیں)۔

مالک نے زہری سے، انہوں نے سالم سے روایت کی کہ: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ انہوں نے (دوران خطبہ) کہا، "آپ اس وقت آ رہے ہیں؟"۔ وہ صاحب کہنے لگے، "امیر المومنین! میں بازار سے واپس آ رہا تھا کہ میں نے اذان کی آواز سنی۔ میں نے صرف وضو ہی کیا (اور مسجد کی طرف دوڑا۔)" عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "وضو بھی کیا! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔" (بخاری، مسلم)

ایک قابل اعتماد شخص نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، اور انہوں نے اپنے والد سے امام مالک کی حدیث کے مثل ایک اور روایت کی ہے۔ اس روایت میں انہوں نے بغیر غسل مسجد میں داخل ہونے والے صحابی کا نام بتایا ہے کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ (نماز جمعہ کے لئے) غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی یہ جانتے تھے کہ آپ غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد سیدنا عمر نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کو یاد دلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم غسل کا حکم دیتے تھے اور عثمان نے بتایا کہ وہ یہ بات جانتے ہیں۔ اب اگر کسی کو یہ وہم گزرے کہ شاید عثمان رضی اللہ عنہ بھول گئے تب بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز سے پہلے ہی یاد دلا دیا تھا۔ اس کے باوجود عثمان نماز سے پہلے غسل کے لئے نہیں گئے اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل کے لئے مسجد سے نکلنے کا حکم دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دونوں جانتے تھے کہ غسل سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حکم ایک اختیاری معاملہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس کا الٹ (یعنی غسل نہ کرنا) جائز ہی نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں چھوڑنے والے نہ تھے اور نہ ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ جانتے ہوئے کہ غسل کرنا ضروری ہے، غسل کو ترک کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غسل جمعہ کا جو حکم دیا وہ اختیاری حکم ہے۔

اہل بصرہ کے علماء نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو وہ کافی ہے اور اچھا عمل ہے۔ جس نے غسل کیا، تو غسل کرنا افضل عمل ہے۔ (ترمذی، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ)

سفیان نے یحیی سے، انہوں نے عمرۃ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی ہیں: محنت مزدوری کرنے والے لوگ مسجد میں بغیر نہائے دھوئے (بدبودار لباس میں) آ جایا کرتے تھے تو ان کے لئے فرمایا گیا، "کیا ہی اچھا ہو اگر یہ غسل کر کے آئیں۔" (بخاری، ابو داؤد، احمد)

ایک حدیث میں کسی کام کی ممانعت اور دوسری میں اس کی تخصیص

مالک نے ابو الزناد اور محمد بن یحیی بن حبان سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی ایسی خاتون کو نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جسے تمہارا بھائی پہلے ہی نکاح کا پیغام بھیج چکا ہے۔" (مالک)

مالک نے نافع، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی ایسی خاتون کو نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جسے تمہارا بھائی پہلے ہی نکاح کا پیغام بھیج چکا ہے۔" (مالک)

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایک نکاح کے پیغام کی موجودگی میں دوسرا نکاح کا پیغام بھیجنے کی ممانعت کے معنی منقول نہ ہوئے ہوتے تو اس میں دو معانی ہونے کا احتمال تھا۔ ظاہری معنی تو یہی ہے کہ اگر ایک شخص نکاح کا پیغام بھیج دے تو اس عمل کی ابتداء سے لے کر اس پیغام کے مسترد کیے جانے تک دوسرے شخص کے لئے نکاح کا پیغام بھیجنا حرام ہے۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہ ارشاد کہ " تم میں سے کوئی ایسی خاتون کو نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جسے تمہارا بھائی پہلے ہی نکاح کا پیغام بھیج چکا ہے۔" کسی سوال کے جواب میں تھا۔ حدیث بیان کرنے والے نے یا تو سوال سنا ہی نہیں جس کے باعث حضور نے یہ جواب دیا تھا یا پوری بات کا کچھ حصہ روایت کر دیا یا انہیں اس کے کچھ حصے میں کوئی شبہ لاحق ہو گیا اور وہ اس حصے کے بارے میں خاموش ہو گئے جس میں انہیں کچھ تردد تھا۔

یہ ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کسی ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا ہو جس نے کسی خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا اور وہ خاتون اس سے شادی پر راضی ہو گئی۔ اس کے بعد اس خاتون کو کوئی اور بہتر رشتہ مل گیا تو اس نے پہلے کو چھوڑ کر دوسرے سے نکاح کی حامی بھر لی۔ ایسی صورتحال میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک پیغام کے ہوتے ہوئے دوسرا پیغام بھیجنے سے منع فرما دیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ (اگر بعد میں) خاتون دوسرے شخص سے شادی کرنے سے انکار کر دے اور پہلا شخص بھی (پہلی مرتبہ مسترد کئے جانے کے باعث) شادی کے لئے نہ مانے تو یہ صورت حال خاتون اور جس شخص سے وہ شادی پر راضی ہوئی تھی، دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔

سائل: آپ کس بنیاد پر یہ معنی اخذ کر رہے ہیں کہ پیغام پر پیغام بھیجنے کی ممانعت نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی خاص صورتحال میں فرمائی تھی؟

شافعی: اس کی دلیل موجود ہے۔

سائل: کہاں پر؟

شافعی: ان شاء اللہ (میں بیان کروں گا۔)

مالک نے اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی: آپ کے خاوند نے آپ کو طلاق دے دی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر اپنی عدت پوری کریں۔ آپ نے انہیں فرمایا، "جب تمہارے لئے نکاح کرنا حلال ہو جائے (یعنی عدت پوری ہو جائے) تو مجھے بتانا۔"

فاطمہ کہتی ہیں، "جب میرے لئے نکاح کرنا حلال ہو گیا تو میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جھم خطبانی رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جہاں تک ابو جھم کا تعلق ہے تو وہ تو کبھی کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے (یعنی سخت مزاج ہیں) اور رہے معاویہ تو ان کا ہاتھ تنگ ہے اور ان کے پاس مال و دولت نہیں۔ تم ایسا کرو کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔" میں نے عرض کیا، "وہ مجھے ناپسند ہیں۔" آپ نے پھر فرمایا، "اسامہ سے نکاح کر لو۔" میں نے (مشورہ مانتے ہوئے) ان سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالی نے اس معاملے میں میرے لئے بہتری رکھ دی اور میں ان کے ساتھ خوش و خرم رہنے لگی۔" (مسلم، نسائی، ابو داؤد، مالک)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ معلوم ہونے کے بعد کہ معاویہ اور ابو جھم رضی اللہ عنہما نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے، آپ نے ان کے لئے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے رشتے کا پیغام بھیجا۔ ہماری رائے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:

ایک تو یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یہ جانتے تھے کہ ان دونوں کے نکاح کے پیغامات یکے بعد دیگرے ہی آئے ہیں۔ آپ نے اس سے منع نہیں فرمایا اور نہ ہی انہیں یہ کہا کہ کسی شخص کے لئے نکاح کا پیغام بھیجنا اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ دوسرا اپنا پیغام واپس نہ لے لے۔ ان دونوں کے پیغامات کی موجودگی میں آپ نے خود اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا پیغام دیا۔

اس سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان دونوں سے شادی کرنے پر راضی نہ تھیں۔ اگر وہ کسی ایک سے نکاح پر راضی ہوتیں تو آپ یہ حکم دیتے کہ جو تمہیں پسند ہے اس سے شادی کر لو۔ ان کا یہ مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ ان دو حضرات نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا ہے اور وہ ان سے شادی کرنا نہیں چاہتیں۔ غالباً وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مشورہ لینا چاہ رہی تھیں۔ اگر وہ کسی ایک سے شادی کا فیصلہ کر چکی ہوتیں تو پھر مشورے کی کیا ضرورت تھی؟

(دوسری بات) ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ کے رشتہ کا پیغام دیا تو یہ صورت حال اس سے مختلف تھی جس میں آپ نے نکاح کے پیغام پر دوسرا پیغام بھیجنے سے منع فرمایا تھا۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ صورتحال میں فرق نہ ہو اور آپ کسی کے لئے ایک چیز کو جائز قرار دیں اور کسی اور کے لئے حرام۔ نکاح تو تبھی درست ہوتا ہے جب خاتون اپنے سرپرست کو شادی طے کرنے کی اجازت دے دے۔ (اس کے بعد) اگر سرپرست اس کی شادی کر دے تو نکاح کے اس معاہدے پر میاں بیوی دونوں کے لئے عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے اور خاتون سے ازدواجی تعلقات شوہر کے لئے جائز ہو جاتے ہیں۔ سرپرست اس وقت تک شادی نہیں کر سکتا جب تک خاتون اس کی اجازت نہ دے دے اور اس کے بغیر خاتون کا نکاح کے لئے رضامند ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔

نوٹ: اس حدیث کے بارے میں یہ نقطہ نظر بھی موجود ہے کہ یہ دین کے حلال و حرام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک اعلی درجے کی معاشرتی ہدایت ہے کہ ایک خاتون کے ساتھ کسی کے رشتے کی بات چل رہی ہے اور معاملہ تقریباً طے پا چکا ہے تو دوسرا رشتہ بھیج کر اس معاملے کو ختم کروا دے۔ ایسی صورت میں لڑائی جھگڑے پیدا ہوں گے اور معاشرہ انتشار سے دوچار ہو گا۔ جب تک خاتون نے کسی شخص کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا، اس وقت تک رشتے کا پیغام بھیجنے کی شرعی ممانعت نہیں ہے۔

سائل: کیا (آپ کے خیال میں) خاتون کا رضامند ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں؟

شافعی: (ایک صورت یہ ہے کہ) اگر ایک شخص کسی خاتون کو نکاح کا پیغام دے اور وہ اس کی بے عزتی کر دے اور اس رشتے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے۔ (دوسری صورت یہ ہے کہ) وہ شخص دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجے تو یہ نہ تو اس کی بے عزتی کرے، نہ ہی قبولیت کا اظہار کرے اور نہ ہی اسے چھوڑے، تو دونوں صورتوں میں اس کا رویہ مختلف سمجھا جائے گا۔ (دوسری صورت تو) اس کی رضا مندی کے قریب ترین ہے۔ اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انکار کی بجائے اقرار کے زیادہ قریب ہے۔

جو میں نے عرض کر دیا اس کے علاوہ کوئی اور معنی درست نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اگر کسی خاتون کا سرپرست اس کی اجازت سے نکاح کا معاہدہ کر دے تو اس کے بعد کسی اور کو اسے نکاح کا پیغام دینے سے منع کیا گیا ہے۔ جب تک اس کا سرپرست معاملے کو تکمیل تک نہیں پہنچا دیتا، اس وقت تک اس خاتون کی حالت (یعنی رضامندی یا غیر رضامندی) کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

ایک حدیث میں کسی کام کی ممانعت دوسری کی نسبت زیادہ واضح ہوتی ہے

مالک نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "سوائے بیع خیار (یعنی ایسا سودا جس میں سودے کو منسوخ کرنے کا اختیار معاہدے میں طے شدہ ہو) کے، (عام تجارتی لین دین میں) ہر پارٹی کو الگ ہونے سے پہلے سودے کو منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔" (بخاری، مسلم، نسائی، مالک)

سفیان نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "کوئی شخص اپنے بھائی کے ساتھ سودا ہو جانے کے بعد اس مال کو کسی اور کو نہ بیچے۔" (بخاری، ترمذی، نسائی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ان احکامات کہ "ہر پارٹی کو الگ ہونے سے پہلے سودے کو منسوخ کرنے کا اختیار ہے" اور "اپنے بھائی سے سودا ہو جانے کے بعد کسی اور کو مال بیچنا منع ہے"، کا تعلق اس بات سے ہے کہ ایسا وقت تک کیا جا سکتا ہے جب تک سودا کرنے والی دونوں پارٹیاں اس مقام سے ہٹ نہیں جاتیں جہاں انہوں نے سودا کیا ہے۔

ان دونوں پارٹیوں کو "تجارتی پارٹیاں" اس وقت تک قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ دونوں تجارتی معاہدے سے منسلک نہ ہو جائیں۔ جب معاہدہ ہو جائے تو ان دونوں پر اس کی پابندی لازم ہو جاتی ہے۔ (معاہدے کے بعد اگر) کوئی اور شخص خریدار کو ویسا ہی یا اس کے کچھ مختلف مال بیچ دے تو اس سے (پہلے) بیچنے والے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ وہ تو اپنا مال بیچ چکا۔

نوٹ: دور قدیم میں تجارتی معاہدوں میں زیادہ دستاویزات تیار کرنے کا رواج نہ تھا۔ اس وجہ سے یہ قانون مقرر کیا گیا کہ جب تک سودا کرنے والی پارٹیاں سودا کرنے کے مقام پر موجود ہیں، انہیں سودا کینسل کرنے کا اختیار ہے۔ اگر ان میں سے ایک پارٹی معاہدہ ہونے کے بعد اس مقام سے ہٹ جائے تو اب ان دونوں کو سودا منسوخ کرنے کا اختیار نہ رہے گا بلکہ اسے تکمیل تک پہنچانا ان دونوں کے لئے ضروری ہو گا۔ ہاں باہمی رضامندی سے وہ اس سودے کو منسوخ کر سکتے ہیں۔ اگر ایک پارٹی اسے کینسل کرنا چاہتی ہے اور دوسری نہیں تو یہ معاملہ عدالت تک لایا جا سکتا ہے۔

اس کے برعکس اگر ان دونوں کو معاہدہ کینسل کرنے کا اختیار ہو (تو پھر معاملہ مختلف ہے۔ مثال کے طور پر) ایک شخص نے دوسرے سے دس دینار کا کپڑا خریدا۔ (ابھی بات چیت چل رہی تھی کہ) ایک اور شخص آ گیا اور اس نے نو دینار میں کپڑا بیچنے کی آفر دے دی۔ اس صورت میں زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ پہلے شخص کے ساتھ سودا منسوخ ہو جائے گا اگر (اس مقام سے) علیحدہ ہونے سے پہلے سودے کو کینسل کرنے کا اختیار موجود ہے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسرا شخص بھی سودے کو منسوخ کر دے اور اس طرح خریدار اور دوسرے بیچنے والے کے درمیان سودا مکمل نہ ہو سکے۔ اس صورتحال میں دوسرے شخص نے پہلے بیچنے والے، یا خریدار یا دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودا ہو جانے کے بعد اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ دوسرا شخص آفر نہ لگائے۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہے۔

کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ اگر ایک شخص نے دس دینار میں کپڑا بیچا اور ان کے علیحدہ ہونے سے پہلے ہی سودے پر عمل کرنا لازم ہو گیا تو اس صورت میں اگر دوسرا بیچنے والا آ کر ایک دینار کم کی آفر بھی دے دے تو اس سے پہلے بیچنے والے کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا کیونکہ دس دینار پر ان کا معاہدہ پہلے ہی ہو چکا ہے جسے توڑنا کسی کے اختیار میں نہیں رہا۔ (یہی وجہ ہے کہ سودا ہونے کے بعد جب تک دونوں الگ نہ ہوئے ہوں اور سودا منسوخ ہو سکتا ہو تو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ دوسرا شخص اپنی آفر نہ دے۔ ہاں جب دونوں الگ ہو جائیں اور سودے کو منسوخ کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہ رہے تو اب جو چاہے اپنی آفر دیتا رہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔)

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت ہے۔

تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی دی ہوئی آفر پر اپنی آفر پیش نہ کرے۔ (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، احمد)

اگر یہ حدیث قابل اعتماد ہو، اگرچہ میں اسے قابل اعتماد نہیں سمجھتا، تو یہ اس حدیث کی طرح ہے۔

"تم میں سے کوئی ایسی خاتون کو نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جسے تمہارا بھائی پہلے ہی نکاح کا پیغام بھیج چکا ہے۔"

"اپنے بھائی کی دی ہوئی آفر پر اپنی آفر پیش نہ کرو" کا مطلب یہ ہے کہ جب بیچنے والا، مال کی ڈلیوری سے قبل اسے بیچنے پر رضامند ہو جائے (تو دوسرا شخص اس وقت تک اپنی آفر نہ دے) جب تک ان دونوں میں لین دین کا معاہدہ نہ ہو جائے (یا ان کا سودا منسوخ ہو جائے)۔

سائل: اس کی دلیل کیا ہے؟

شافعی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے (زمین کا ایک ٹکڑا) اس شخص کو بیچا جس نے زیادہ کی آفر دی۔ زیادہ آفر دینے والے کو بیچنا کسی شخص کا اپنے بھائی کی آفر پر آفر لگانا ہے۔ بیچنے والا پہلی آفر پر راضی نہیں ہوا تبھی اس نے زیادہ کی آفر طلب کی۔ (حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پہلے کی آفر کو منسوخ کر دیا تھا، اس کے بعد دوسرے نے زیادہ کی آفر دی جسے آپ نے قبول کر لیا۔)

ایک حدیث میں کسی کام کی ممانعت دوسری حدیث سے بعض معاملات میں موافق اور بعض معاملات میں متضاد ہوتی ہے

پہلی مثال

مالک نے محمد بن یحیی بن حبان سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد مزید نماز پڑھنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ اور آپ نے فجر کی نماز کے بعد مزید نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ (بخاری، مسلم، مالک)

مالک نے نافع، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص سورج کے طلوع و غروب کے وقت نماز کا ارادہ نہ کرے۔ (بخاری، مسلم، مالک)

مالک نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ الصنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "سورج جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے سینگ (یعنی اس کا مکر و فریب) اس کے ساتھ ہوتا ہے، جب یہ بلند ہوتا ہے تو یہ الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج مکمل بلندی پر پہنچتا ہے تو سینگ پھر اس کے ساتھ آ جاتا ہے، جب زوال کا وقت ہوتا ہے تو یہ الگ ہو جاتا ہے، جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو سینگ پھر آ ملتا ہے اور جب غروب ہو جاتا ہے تو یہ الگ ہو جاتا ہے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ (نسائی، مالک)

نوٹ: اس حدیث کو بعض لوگوں نے ظاہری مفہوم میں لیا ہے جس سے یہ پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے کہ سورج ہر وقت کہیں نہ کہیں طلوع و غروب ہو رہا ہوتا ہے تو کیا شیطان اپنے سینگوں سمیت زمین کی محوری حرکت کے ساتھ ساتھ گردش میں رہتا ہے۔ یہ ایک لا یعنی بات ہے۔ حدیث میں بطور محاورہ شیطان کے سینگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آفتاب پرست قومیں اس دور میں طلوع، زوال اور غروب آفتاب کے اوقات میں عبادت کیا کرتی تھیں۔ چونکہ یہ شرکیہ اور شیطانی فعل تھا، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان اوقات کو شیطانی افعال کے اوقات قرار دے کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا تاکہ آفتاب پرستوں سے مشابہت نہ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو ان اوقات (یعنی سورج کے طلوع، غروب اور مکمل بلندی کے اوقات) میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں:

       پہلا تو یہ کہ، جو عام حکم ہے، کہ یہاں تمام نمازیں مراد ہیں۔ جو شخص نماز پڑھنا بھول گیا یا نماز کے وقت سوتا رہا، یا کسی اور وجہ سے اس کی ضروری نماز ان اوقات تک موخر ہو گئی، اس کے لئے ان اوقات میں نماز کی ادائیگی ممنوع ہے۔ اگر وہ نماز پڑھے گا بھی تو وہ ادا نہیں ہو گی۔ یہ اسی طرح ہے کہ کوئی اگر وقت سے پہلے ہی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ادا نہیں ہو گی۔

       دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہاں کچھ مخصوص نمازیں مراد ہیں۔

ہمیں (دین میں) نمازوں کی دو اقسام ملتی ہیں۔ ان میں سے ایک تو وہ ہے جو ہر مسلمان پر لازم ہے اور اس کے وقت میں اسے ترک کرنا جائز نہیں۔ اگر اسے ترک کر دیا جائے تو اس کی قضا ضروری ہے۔ دوسری وہ جو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بطور نفل ادا کی جاتی ہے۔ اگر کوئی اپنی نفل نماز کو ترک کردے تو اس پر قضا لازم نہیں ہے۔

ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم سفر میں فرض اور نفل نمازوں میں فرق کریں۔ حالت سفر میں فرض نماز تو زمین پر ہی پڑھی جائے گی اور اس کے علاوہ (سواری پر) یہ جائز نہ ہو گی۔ جبکہ نفل نماز کسی بھی سمت میں منہ کر کے سواری پر ہی پڑھی جائے گی۔ سفر و حضر دونوں میں ان دونوں قسم کی نمازوں میں فرق کیا جائے گا۔ جو شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہے، اس کے لئے جائز نہیں کہ بیٹھ کر فرض نماز ادا کرے جبکہ نفل نماز میں وہ ایسا کر سکتا ہے۔

نوٹ: دور جدید کے اہل علم نے اس نقطہ نظر سے اختلاف رکھتے ہوئے بس، ٹرین، کار، اور ہوائی جہاز میں فرض نماز ادا ہونے کا فتوی دیا ہے۔

جب کسی بات میں دو معنی پائے جائیں تو اہل علم پر لازم ہے کہ وہ بغیر کسی دلیل کے اسے کسی مخصوص صورتحال سے متعلق نہ سمجھیں۔ یہ دلیل سنت رسول اللہ یا مسلمانوں کے اہل علم کے اتفاق رائے سے ملنی چاہیے کیونکہ تمام مسلم علماء کبھی بھی خلاف سنت امور پر اتفاق رائے نہیں کر سکتے۔ یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دیگر احادیث کا ہے۔ ان کو ان کے ظاہری اور عمومی معنی میں قبول کیا جائے گا۔ ہاں اگر اس بات کی کوئی دلیل ہو، جیسا کہ میں نے بیان کیا، یا مسلمانوں کا اجماع ہو کہ یہاں کوئی مخفی معنی مراد ہیں یا یہ حکم عمومی صورتحال کی بجائے کسی مخصوص صورتحال کے لئے ہے تب ہم اس دلیل کی طرف جائیں گے اور اس میں ان امور کی پیروی کریں گے۔

مالک نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے بسر بن سعید اور اعرج سے اور انہوں نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے جو شخص سورج طلوع ہونے سے قبل صبح کی نماز کی ایک رکعت پا لے، تو اس کی نماز ہو گئی اور جس شخص نے سورج غروب ہونےسے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی، اس کی نماز ہو گئی۔" (مسلم، احمد، مالک)

علم سے (بظاہر) یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھ لی یا غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پڑھ لی اس نے ایسے وقت میں نماز ادا کی جس میں نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے فجر اور عصر کے اوقات کے بعد عین سورج کے ظاہر ہونے یا غائب ہونے کے وقت نماز پڑھی ہے۔ یہ ان اوقات میں سے ہے جن میں نماز پڑھنا منع ہے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان اوقات میں فجر اور عصر کی نماز پڑھنے والوں کی نماز ہو جانے کا حکم دیا ہے اس وجہ سے ہم یہ اخذ کرتے ہیں کہ ان اوقات میں نماز کی ممانعت دراصل نفل نمازوں سے متعلق تھی جو کہ پڑھنا ضروری نہیں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ممنوع اوقات میں کسی کو نماز کی اجازت دینے والے تو نہیں تھے۔

مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو اسے جب بھی یاد آ جائے اسی وقت نماز ادا کر لے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ " أَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي " یعنی "میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔" (بخاری، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی)

انس بن مالک اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ابن مسیب والی حدیث کے مثل روایت کی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: "یا نماز کے وقت سویا ہوا ہو"۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس ارشاد کہ "جب بھی یاد آئے، نماز ادا کر لے" میں آپ نے اللہ تعالی کی طرف سے کوئی وقت مقرر نہیں فرمایا ہے۔ نماز یاد آنے (یا سو کر اٹھنے) کے فوراً بعد جلد از جلد ادا کر لینی چاہیے۔

ابن عینیہ نے ابو زبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن باباہ سے، انہوں نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "اے بنی عبدمناف! تم میں سے جو بھی لوگوں کے معاملے کا نگران ہو، وہ کسی شخص کو اس گھر میں طواف اور نماز سے نہ روکے خواہ وہ شب و روز میں کسی بھی وقت ہو۔ (ترمذی، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ)

عبدالمجید نے ابن جریج سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے اس سے ملتے جلتے معنی میں یہی روایت کی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: "اے بنی عبدالمطلب، اے بنی عبد مناف!" اور پھر حدیث اسی طرح آئی ہے۔

جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ طواف کرنے والا یا نماز پڑھنے والا جس وقت بھی چاہے اسے بیت اللہ میں طواف یا نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جن اوقات میں آپ نے نماز سے منع فرمایا، اس سے مراد وہی نماز ہے جس کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ جو نماز ضروری ہے، اس کا ان اوقات میں ادا کرنا جائز ہے۔ مسلمان صبح اور عصر کی نمازوں کے بعد عام طور پر جنازے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ اسے ادا کرنا لازمی ہے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا، پھر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو سورج ابھی طلوع نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد آپ سوار ہو کر "ذی طوی" کی طرف گئے تو سورج طلوع ہو گیا۔ وہاں آپ اونٹ کو بٹھا کر اترے اور نماز ادا کی۔ اس بنیاد پر ہمارے کچھ ساتھیوں نے یہ نقطہ نظر اختیار کر لیا ہے کہ عصر اور فجر کے بعد طواف کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز ممنوع ہے جیسا کہ نفل نمازیں ان اوقات میں ممنوع ہیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طواف کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز کو اس لئے موخر کیا کہ انہیں اس کی اجازت تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اسے موخر کیا۔ آپ نے ذی طوی کے مقام پر پڑاؤ دراصل رفع حاجت کے لئے ڈالا تھا۔ آپ کے لئے یہ گنجائش موجود تھی۔ انہوں نے نماز کے ممنوعہ اوقات سے متعلق عمومی احکام سنے اور (ایک مرتبہ) مدینہ میں منکدر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر سزا بھی دی کہ وہ عصر کے بعد نماز پڑھ رہے تھے۔ ان اوقات میں نماز نہ پڑھنے کا جو خصوصی حکم میں نے بیان کیا (کہ یہ صرف نفل نمازوں سے متعلق ہے) آپ تک نہ پہنچا تھا اس وجہ سے آپ پر وہی لازم تھا جو آپ نے کیا۔

جو شخص بھی ممانعت یا اجازت کی وجہ جانتا ہے (اسے ان میں فرق کرنا چاہیے) کیونکہ اجازت کی وجہ ممانعت کی وجہ کے بالکل الٹ ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت جمع نہ رکھنے کا حکم سنا اور اس کی وجہ آپ نہ سن سکے۔ (یہی وجہ ہے کہ آپ تین دن سے زائد گوشت جمع رکھنے کو غلط سمجھتے تھے۔)

سائل: کیا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بھی وہی عمل نہیں ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے؟

شافعی: اس سوال کا جواب وہی ہے جو میں پہلے (یعنی سیدنا عمر والے) سوال کے جواب میں دے چکا ہوں۔

سائل: کیا کسی اور صحابی کا عمل بھی ایسا ہے جو ان دونوں حضرات کے عمل کے خلاف ہو؟

شافعی: جی ہاں، ابن عمر، ابن عباس، عائشہ، حسن، حسین اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل (ان کے خلاف تھا)۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے (ان اوقات میں نماز کی) ممانعت کا حکم سن رکھا تھا۔ اس کے باوجود:

ابن عینیہ نے عمرو بن دینار سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: عطاء بن رباح اور میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صبح کی نماز کے بعد طواف کرتے دیکھا اور انہوں نے (طواف کے بعد) طلوع آفتاب سے پہلے نماز ادا کی۔

سفیان، عمار الدھنی سے اور وہ ابو شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدانا حسن و حسین رضی اللہ عنہما عصر کی نماز کے بعد طواف کرتے اور پھر نماز ادا کرتے۔

مسلم اور عبدالمجید، ابن جریج سے، وہ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد طواف کرتے اور پھر نماز پڑھتے دیکھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ کے اس اختلاف رائے کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص بھی اس اختلاف رائے سے واقف ہے، وہ جان لے کہ اس حدیث (یعنی فجر و عصر کے بعد نماز کی ممانعت والی حدیث) کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے (جو ہم بیان کر چکے ہیں۔) صحابہ میں سے جو اس کے خلاف عمل کرتے ہیں، یا تو ان تک دوسری حدیثیں پہنچی نہیں، یا انہوں نے اس کی مختلف تعبیر اختیار کی ہے یا ان کے پاس اپنی تعبیر کی کوئی اور وجہ ہو گی۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی بات ثابت ہو جائے تو جو بھی اسے جانتا ہو، اس کے لئے اسی پر عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے نہ کہ اس سے مضبوط یا کمزور کسی اور بات پر۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر آپ کی اتباع کر فرض کیا ہے اور اللہ کے کسی کو یہ مقام نہیں دیا کہ وہ کسی معاملے میں آپ کی مخالفت کر سکے۔

دوسری مثال

مالک نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے 'مزابنہ' سے منع فرمایا۔ مزابنہ، تازہ کھجور کے بدلے برابر مقدار میں چھوہاروں کے تبادلے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح انگور کے بدلے کشمش کا برابر مقدار میں تبادلہ بھی مزابنہ ہے۔ (بخاری، مسلم، مالک)

مالک نے اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے زید ابو عیاش سے اور انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کسی کو تازہ کھجور کے بدلے چھوہاروں کے تبادلے سے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا تو آپ نے پوچھا، "کیا کھجوریں سوکھ جانے کے بعد وزن میں کم ہو جاتی ہیں؟" اس نے کہا، "جی ہاں"۔ آپ نے فرمایا، "پھر یہ منع ہے۔" (ترمذی، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ، مالک)

مالک نے نافع اور انہوں نے ابن عمر اور انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کھجور کی پھل سے لدی ہوئی شاخ کو پھل سمیت بیچنے کی اجازت دی۔ (بخاری، مسلم، مالک)

ابن عینیہ نے زھری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے 'عرایا' (یعنی کھجور کی پھل سے لدی ہوئی شاخ کو پھل سمیت چھوہاروں کے بدلے بیچنے) کی اجازت دی۔ (بخاری، مسلم، نسائی)

نوٹ: عہد رسالت میں اگرچہ سونے اور چاندی کے سکوں کو بطور کرنسی استعمال کیا جاتا تھا لیکن ان کا استعمال بہرحال محدود تھا۔ مدینہ کی زرعی معیشت میں بہت مرتبہ بارٹر کے اصول پر مال کے بدلے مال کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ بسا اوقات لوگ کیش میں قرض لینے کی بجائے مال بھی بطور قرض لے لیا کرتے جیسے کسی نے ضرورت پڑنے پر دوسرے سے گندم یا کھجور لے لی اور فصل اترنے پر واپس کر دی۔ اس معاملے میں کچھ کمی بیشی سے چونکہ سود لازم آتا تھا اس وجہ سے آپ نے ایسے سودوں کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جب تبادلہ کی جانے والی اشیاء برابر برابر مقدار میں ہوں۔

گندم یا کھجور وغیرہ کی پیمائش کے طریقے کو "کیل" کہا جاتا تھا جس میں ایک متعین پیمانے کو بھر کر چیز کی پیمائش کی جاتی۔ دور جدید میں اس کی اکائی "لیٹر" ہے۔ اگر کھجوروں اور چھوہاروں کا اس طریقے سے پیمائش کر کے تبادلہ کیا جائے تو ان کا وزن برابر برابر نہ رہے گا کیونکہ چھوہارے سوکھنے کے باعث ہلکے ہو جاتے ہیں۔یہ ایک سودی شکل ہو گی جس سے حضور نے منع فرمایا۔ اسے اصطلاح میں مزابنہ کہا جاتا ہے۔

دوسری صورت "عرایا" کہلاتی ہے جس میں درخت پر لگے پھل کا تبادلہ اتارے گئے پھل سے کیا جاتا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے الجامع الصحیح، کتاب البیوع میں "تفسیر العرایا" کے نام سے ایک باب لکھا ہے جس میں انہوں نے عرایا کی وضاحت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سفیان بن حسین کے اقوال نقل کیے ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ میں بعض نیک دل حضرات نے اپنے باغ میں کچھ درخت غریبوں کو تحفتاً دے دیے۔ ان غریب لوگوں کو خوراک کی فوری ضرورت تھی اور ان کے لئے درخت کے پھل کا انتظار کرنا مشکل تھا۔ باغ کے مالکوں نے ان غریب افراد سے یہ طے کر لیا کہ تم درخت ہمیں واپس کر دو اور اس کے بدلے چھوہارے لے لو۔ یہ بھی اگرچہ مزابنہ ہی کی ایک شکل تھی لیکن چونکہ اس کا مقصد نفع کمانے کی بجائے غریب افراد کی مدد تھی اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے (کسی پیمانے میں ناپ کر) تازہ کھجور کے بدلے سوکھی کھجور بیچنے سے منع فرمایا اور یہ وضاحت بھی فرما دی کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ کھجور سوکھنے سے اس کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ کھجور کے بدلے کھجور کا تبادلہ صرف اسی صورت میں جائز ہے جب وہ برابر برابر ہو کیونکہ آپ نے یہ دیکھ لیا تھا کہ چھوہارے سوکھ کر کم پڑ جاتے ہیں۔ وہ کبھی بھی ایک دوسرے کے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کمی کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اس میں دو معانی جمع ہو گئے ہیں: ایک تو یہ کہ ناپنے میں ایک چیز زیادہ ہے اور دوسرا یہ کہ یہ مزابنہ ہے۔ مزابنہ وہ تجارت ہے جس میں ایک متعین چیز کا تبادلہ اسی قسم کی ایک غیر متعین چیز کے بدلے کیا جاتا ہے۔ ان دونوں معانی کے اعتبار سے اسے منع کر دیا گیا۔

دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عرایا کھجور کے خوشے کو پھل سمیت اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے۔ عرایا کی یہ اجازت اس کام (یعنی مزابنہ) کو حلال نہیں کر دے گی جس سے آپ نے منع فرمایا تھا یا خود یہ اجازت ممنوع نہیں ہو جائے گی۔ (پہلی حدیث میں) ممانعت ان سودوں کی تھی جو عرایا کہ علاوہ ہوں۔ یہ وہ کلام ہے جو عمومی نوعیت کا تھا لیکن اس میں سے ایک خصوصی صورتحال کو مستثنی قرار دیا گیا۔

تیسری مثال

سعید بن سالم، ابن جریج سے، وہ عطاء سے، وہ صفوان بن موھب سے، وہ عبداللہ بن محمد بن صیفی سے اور وہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ حکیم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کھانے پینے کی چیزیں بیچتے ہیں؟" حکیم نے عرض کیا، "جی ہاں یا رسول اللہ!"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "کھانے پینے کی چیزوں کو اس وقت تک نہ بیچا کرو جب تک تم مال خرید کر اس کی ادائیگی نہ کر دو۔" (نسائی، احمد)

سعید، ابن جریج سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عطاء نے یہ روایت عبداللہ بن عصمۃ سے بھی کی ہے اور انہوں نے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یہی بات روایت کی ہے۔

ایک قابل اعتماد شخص نے ایوب بن ابی تمیمہ سے، انہوں نے یوسف بن ماھک سے، انہوں نے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حکیم کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے وہ چیز بیچنے سے منع فرمایا جو ابھی میرے پاس نہیں آئی۔" یعنی وہ چیز جو نہ تو تمہارے پاس ہے اور نہ ہی تم اس کے ذمہ دار ہو۔

ابن عینیہ، ابن ابی نجیح سے، وہ عبداللہ بن کثیر سے، وہ ابو منھال سے اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو اہل مدینہ کھجور کی رقم کی ادائیگی ایک یا دو سال پہلے ہی کر دیا کرتے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جو بھی ایڈوانس رقم ادا کرے وہ اس طرح سے دے کہ مال کی مقدار، وزن اور ادھار کی مدت معلوم و متعین ہو۔" (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)

نوٹ: ان تمام ہدایات کا مقصد یہ تھا کہ لین دین کا معاملہ بالکل متعین ہو تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔ ایک شخص اگر مال وصول کرنے سے پہلے ہی اس کا سودا آگے کسی اور کر لے گا تو بعد میں مال کی کوالٹی میں فرق کے باعث جھگڑا پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صرف ایسی صورتوں میں اجازت دی جب مقدار، وزن، کوالٹی اور ادھار کی مدت متعین ہو تاکہ کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو سکے یا اگر پیدا ہو جائے تو اس کا تصفیہ کرنا عدالت کے لئے ممکن ہو۔

شافعی: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو اس بات سے منع فرمایا کہ "کوئی شخص ایسی چیز بیچے جو اس کے پاس نہ ہو" کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ایسی چیز بیچے جو اس کے پاس موجود نہیں ہے تو خریدنے والا خریداری سے پہلے اسے نہ دیکھ پائے گا جبکہ بیچنے والے کو اس (کی خصوصیات) کا علم ہو گا۔ اس صورت میں وہ ایسی چیز بیچے گا جو یا تو اس کی ملکیت نہیں ہے یا پھر وہ چیز اس کے قبضے میں موجود نہیں ہے۔ جو چیز بیچنے والے کے قبضے میں نہ ہو یا پھر اس کی ملکیت میں نہ ہو تو اسے چیز کی ڈلیوری کا ذمہ دار بنانا مشکل ہو گا۔ اس کے علاوہ اور معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ جو بھی ایڈوانس میں رقم ادا کرے وہ پیمائش، وزن اور مدت کو طے کر لے۔ یہ بھی انہی اشیاء کی تجارت بھی شامل ہے جو کسی شخص کے پاس (معاہدہ کرنے کے) وقت موجود نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی ملکیت میں ہیں، لیکن بیچنے والے کے لئے مقررہ وقت پر متعلقہ چیز کو فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔

(دوسری طرف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو چیز کسی شخص کی ملکیت میں نہ ہو اسے بیچنے سے بھی منع فرمایا۔ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ یہاں دراصل کسی چیز کو بغیر دیکھے بیچنے سے منع کیا گیا ہے، خواہ وہ کسی شخص کی ملکیت میں ہو یا نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ چیز خریدار کے دیکھنے سے پہلے ہی (کسی وجہ سے) ضائع ہو جائے یا کم ہو جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہ پورا کلام اپنے عمومی مفہوم اور ظاہری معنی میں ہے اور اسے اسی طرح قبول کرنا چاہیے بشرطیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، میرے ماں باپ آپ پر قربان، سے کوئی اور ایسی حدیث نہ مل جائے جس سے یہ معلوم ہو جائے ان عمومی احکام سے دراصل کوئی مخصوص چیز یا صورتحال مراد ہے جیسا کہ میں اس مقام پر یا اس سے ملتے جلتے دیگر مقامات پر بیان کر چکا ہوں۔

اہل علم پر یہ لازم ہے کہ اگر انہیں کوئی دو &