بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 10:خبر واحد

سائل: برائے کرم مجھے بتائیے کہ اہل علم کے لئے کم از کم کیا ثبوت ہے جس کی بنیاد پر ان کے لئے کسی خاص حدیث کو قبول کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

شافعی: (کم از کم ثبوت یہ ہے کہ) ایک شخص کسی ایک شخص سے اس طرح حدیث کو روایت کرے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک جا پہنچے یا کسی ایسے شخص تک جا پہنچے جو آپ سے ایک درجہ پہلے ہو (یعنی آپ کا صحابی ہو۔) یہ ثبوت اس وقت مکمل نہ ہو گا جب تک چند شرائط پوری نہ ہو جائیں۔

       جو حدیث بیان کر رہا ہے وہ اپنے دین کے معاملے میں قابل اعتماد شخص ہو۔

       حدیث کو منتقل کرنے میں اس کی شہرت ایک سچے انسان کی ہو۔

       جو حدیث وہ بیان کر رہا ہو، اسے سمجھنے کی عقل رکھتا ہو۔

       الفاظ کی ادائیگی کے نتیجے میں معانی کی جو تبدیلی ہو جاتی ہو، اس سے واقف ہو۔

       جن الفاظ میں وہ حدیث کو سنے، انہی میں آگے بیان کرنے کی استطاعت رکھتا ہو نہ کہ جو سنے اپنے الفاظ میں بیان کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حدیث کا صرف مفہوم بیان کیا جائے گا اور بیان کرنے والے شخص کو یہ علم نہیں ہو گا کہ (حدیث کا محض مفہوم بیان کرنے سے) معنی کس طرح تبدیل ہو جایا کرتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی حلال حکم کو حرام میں تبدیل کر دے۔ اگر حدیث کو لفظ بہ لفظ منتقل کیا جائے گا تو اس میں تبدیلی کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔

       اگر وہ حدیث کو اپنی یادداشت کے سہارے منتقل کر رہا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حدیث کو اچھی طرح یاد کرنے والا ہو (یعنی اس کی یادداشت کمزور نہ ہو۔)

       اگر وہ حدیث کو لکھ کر منتقل کر رہا ہو تو اس صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے جو کچھ لکھا ہو وہ خود اسے یاد رکھنے والا ہو۔

       اگر اس حدیث کو دوسرے حفاظ بھی محفوظ کر رہے ہوں تو اس شخص کی بیان کردہ حدیث ان افراد کی بیان کردہ حدیث کے موافق ہونا ضروری ہے۔

       "تدلیس" کے الزام سے بری ہو۔ (تدلیس یہ ہے) کہ وہ یہ کہہ دے کہ میں نے حدیث کو فلاں سے سنا ہے جبکہ اس کی اس شخص سے ملاقات نہ ہوئی ہو اور اس نے اس سے حدیث کو اس سے سنا نہ ہو۔

       وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایسی بات منسوب کر دے جو کہ قابل اعتماد راویوں کی بیان کردہ حدیث کے خلاف ہو۔

       یہی تمام خصوصیات اس راوی سے اوپر والے راویوں میں بھی پائی جانا ضروری ہے جن سے یہ شخص روایت کر رہا ہے یہاں تک کہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے علاوہ کسی (صحابی) تک پہنچ جائے جہاں روایت کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے۔ چونکہ (راویوں کی اس زنجیر میں موجود) ہر شخص اس حدیث کو پیش کر رہا ہے اس وجہ سے میری بیان کردہ صفات کا ان میں سے ہر شخص میں موجود ہونا ضروری ہے۔

سائل: برائے کرم کسی مثال سے وضاحت فرما دیجیے تاکہ میں اس تفصیل سے واقف ہو جاؤں کیونکہ حدیث کے بارے میں جو آپ نے بیان کیا، میرا علم اس معاملے میں قلیل ہے۔

شافعی: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو یہ تفصیل کسی اور چیز پر قیاس کر کے بتاؤں؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: حدیث کا معاملہ اپنی مثال خود ہے۔ اسے کسی اور چیز پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیاس، اصل کے مقابلے میں کمزور ہوتا ہے۔

سائل: میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ قیاس کر کے بتائیں۔ مجھے گواہی کی مثال سے بتائیے کیونکہ اس سے بات کو سمجھنا آسان ہے۔

شافعی: شواہد بسا اوقات کسی چیز کے بارے میں متضاد معلومات دیتے ہیں اور بعض اوقات موافق معلومات دیتے ہیں۔

سائل: یہ متضاد معلومات کب دیتے ہیں؟

شافعی: میں کسی بھی مرد یا عورت کی بیان کردہ حدیث قبول کر سکتا ہوں لیکن ان میں سے کسی ایک کی گواہی قبول نہیں کرتا۔ میں اس کے ان الفاظ پر حدیث قبول کر لوں گا کہ "‏حدَّثَنِي فُلانٌ عَنْ فُلاَنٍ " یعنی "مجھ سے فلاں نے فلاں سے روایت کرتے ہوئے یہ بات بیان کی" اگر وہ شخص تدلیس کرنے والا نہ ہو۔ لیکن اس کی گواہی میں اسی صورت میں قبول کروں گا جب وہ یہ الفاظ بولے کہ " سَمِعْتُ " یعنی "میں نے سنا ہے" یا "‏رَأيْتُ " یعنی "میں نے دیکھا ہے" یا "‏أَشْهَدَنِي " یعنی "میں گواہی دیتا ہوں"۔

††††††††† احادیث میں اختلاف بھی ہوتا ہے، میں ان میں سے بعض احادیث کو اللہ کی کتاب، سنت، اجماع یا قیاس کی بنیاد قبول کر لیتا ہوں لیکن گواہی کے معاملے میں استدلال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا معاملہ مختلف ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی گواہی قابل قبول ہے لیکن ان کی بیان کردہ حدیث کو میں قبول نہیں کرتا کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی ہوتی ہے یا بعض الفاظ حذف ہو گئے ہوتے ہیں جس سے معنی پر فرق پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر معاملات میں روایت کو قبول کرنا گواہی کو قبول کرنے کی طرح ہی ہوتا ہے۔

سائل: جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ آپ حدیث کو تو صرف اسی شخص سے قبول کرتے ہیں جو قابل اعتماد ہو، حدیث کو یاد رکھنے والا ہو، اور اس کی معنی کی ممکنہ تبدیلی سے واقف ہو۔ (یہ درست ہے) لیکن آپ گواہی کے معاملے میں یہ شرائط کیوں نہیں رکھتے؟

شافعی: حدیث کے معنی میں (ہو جانے والی) تبدیلیاں گواہی کے معاملے میں ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ مخفی ہوتی ہیں (اور انہیں پکڑنا زیادہ مشکل ہوتا ہے) اس وجہ سے میں حدیث کے معاملے میں گواہی سے بھی زیادہ احتیاط برتتا ہوں۔

نوٹ: غلط گواہی قبول کرنے میں یہ خطرہ ہے کہ عدالتی فیصلہ غلط ہو جائے گا جبکہ غلط حدیث قبول کرنے میں یہ خطرہ ہے کہ اس سے دین سمجھنے کے بارے میں غلطی پیدا ہونے کا امکان ہے جس سے خود دین کے بارے میں غلط شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب ایک جھوٹی حدیث کو قبول کرنے کا رسک بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین اس معاملے میں انتہائی احتیاط برتتے رہے۔

سائل: مجھے آپ کی اس بات سے تو اتفاق ہے جو آپ بیان کر چکے ہیں البتہ میں اسے بات سے اختلاف کروں گا کہ اگر آپ کسی قابل اعتماد شخص سے حدیث سنتے ہیں اور وہ کسی ایسے شخص سے حدیث روایت کر رہا ہے جس کے قابل اعتماد ہونے کا آپ کو علم نہیں تو آپ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے قابل اعتماد شخص کی پیروی میں اس حدیث کو قبول نہیں کرتے۔ آپ اسی پر اصرار کرتے ہیں کہ روایت کے سلسلے میں موجود ہر شخص قابل اعتماد ہونا چاہیے اگرچہ آپ اسے نہ جانتے ہوں۔

شافعی: آپ دیکھتے ہیں کہ اگر ایک شخص دوسرے پر مقدمہ کر دے اور اپنے حق میں دو گواہ پیش کر دے تو قانونی امور کے ماہر چار اچھے کردار کے لوگوں کی رائے ان دونوں گواہوں کے کردار سے متعلق طلب کی جاتی ہے۔ اگر آپ جج ہوں اور چار سے کم لوگ ان گواہوں کے کردار کے بارے میں رائے دیں تو کیا آپ مقدمے کا فیصلہ کر دیں گے۔

سائل: بالکل نہیں، میں ان کی گواہی اس وقت تک قبول نہیں کروں گا جب تک کہ مجھے ان کے کردار کے بارے میں اطمینان نہ ہو جائے۔ اس کے لئے یا تو چار افراد ان کے اچھے کردار کے بارے میں گواہی دیں، یا پھر کوئی اور ان کے اچھے کردار کو واضح کرے یا پھر میں ذاتی طور پر ان کے اچھے کردار کو جانتا ہوں (تبھی مجھے اطمینان ہو گا۔)

شافعی: تو پھر میں نے حدیث کو قبول کرنے کے بارے میں آپ سے جو شرائط بیان کی ہیں آپ انہیں کیوں قبول نہیں کرتے؟ جبکہ آپ خود یہ کہہ رہے ہیں کہ: ان کی گواہی اسی صورت میں قبول کی جائے گی جب ان سے زیادہ اچھے کردار کے لوگ ان کے کردار کے بارے میں گواہی دے دیں۔

سائل: لوگ کسی شخص کے اچھے کردار کے بارے میں تبھی گواہی دے سکتے ہیں جب وہ اسے جانتے ہوں اگرچہ وہ اس کے کردار سے واقف نہ ہوں۔ اگر ان کی گواہی میں ایسی بات ہے تو (جس شخص کے کردار کے بارے میں انہوں نے گواہی دی تھی) میں اس کی گواہی کو قبول نہ کروں گا حتی کہ کوئی اس کے اچھے کردار کے بارے میں گواہی دے دے یا میں ذاتی طور پر اس شخص کے اور اس کے بارے میں گواہی دینے والوں کے کردار سے واقف ہوں۔ اگر میں کسی گواہ کو نہیں جانتا تو میں اس کے اچھے کردار کا مالک ہونے کو اس وقت تک قبول نہیں کروں گا جب تک کوئی اور شخص اس کے اچھے کردار کی گواہی نہ دے دے۔

شافعی: آپ کی یہ بات خود آپ کے نقطہ نظر کے خلاف حجت ہے کہ آپ کسی سچے آدمی کی ایسی بات کو قبول کر لیتے ہیں جو اس نے کسی اور سے سنی ہو جس کی سچائی کے بارے میں آپ کو علم نہ ہو۔ لوگ کسی کے کردار کے بارے میں گواہی تبھی دیتے ہیں جب وہ اسے جانتے ہوں تو حدیث قبول کرنے کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ حفاظت کا تقاضا کرتا ہے۔ حدیث کو صرف اسی شخص سے قبول کرنا چاہیے جس کی حدیث کا قابل اعتماد ہونا معلوم ہو۔

††††††††† ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے سے ملا اور اس نے اس میں کوئی اچھی بات دیکھی تو حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اس نے اس شخص سے کوئی حدیث قبول کر لی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہ اس کے (تفصیلی) حالات سے بے خبر ہے لیکن اس حدیث کو یہ کہہ کر بیان کر دیتا ہے کہ " فلاں سے یہ حدیث مجھ سے بیان کی ہے"۔ (حدیث کو قبول کرنا) اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ وہ شخص سمجھتا ہے کہ اس سے حدیث بیان کرنے والا قابل اعتماد ہے تو وہ ایک قابل اعتماد شخص سے حدیث قبول کر رہا ہے یا پھر (یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ) ایسے شخص سے حدیث روایت کر بیٹھے جو خود اس حدیث کا انکار کرتا ہے یا پھر (یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ) وہ شخص حدیث قبول کرنے کے معاملے میں محتاط ہی نہیں۔

††††††††† میں کسی ایسے شخص سے نہیں ملا جو کسی قابل اعتماد اور احادیث کے حافظ سے روایت کرتا ہو اور وہ حافظ خود اس حدیث کی مخالفت کرتا ہو۔ اس وجہ سے میں وہ کرتا ہوں جو مجھ پر کرنا لازم ہے (کہ میں حدیث بیان کرنے والے کے کردار کی چھان بین کرتا ہوں)۔ جس شخص سے میں حدیث حاصل کر رہا ہوں اس کی سچائی جاننے کے لئے دلائل حاصل کرنا میرے لئے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ میں اس سے (سلسلہ روایت یا سند میں) اوپر والے شخص کی سچائی جاننے کے لئے کروں۔ مجھے بھی ضرورت اسی بات کی ہے جس کی مجھ سے پہلے والے کو ضرورت تھی (کہ وہ اپنے سے اوپر والوں کے کردار کی چھان بین کرے) کیونکہ ان میں سے ہر شخص اپنے سے اوپر والوں سے روایت لے رہا ہے اور نیچے والوں کو دے رہا ہے۔

سائل: اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ آپ کسی ایسے شخص کی روایت کو قبول کر لیں جس کی تدلیس کے بارے میں آپ نہ جانتے ہوں اور وہ "عن" یعنی "فلاں سے روایت ہے" کہہ کر روایت کرتا ہو۔ ممکن ہے کہ اس نے ان سے نہ یہ روایت خود نہ سنی ہو۔

شافعی: تمام مسلمان جب اپنی ذات سے متعلق کوئی گواہی دیں تو انہیں اچھے کردار کا مانا جا سکتا ہے لیکن دوسرے کے بارے میں گواہی دینے کا معاملہ مختلف ہے۔ کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ جب (عدالت میں) وہ اپنی ذات سے متعلق (حلف اٹھاتے ہوئے) کچھ کہتے ہیں تو ہم ان کی گواہی قبول کر لیتے ہیں لیکن اگر دوسرے کے کردار کے بارے میں گواہی دیتے ہیں تو ہم اس وقت تک ان کی گواہی کو قبول نہیں کرتے جب تک اس دوسرے شخص کے کردار کو جان نہ لیں۔ ایک شخص کے کردار سے متعلق میری واقفیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مجھے دوسرے شخص کے کردار کا بھی علم ہے جس کے بارے میں وہ شخص گواہی دے رہا ہے۔

††††††††† کوئی شخص اپنے بارے میں (حلف اٹھاتے ہوئے) اگر کچھ کہہ رہا ہے تو ہم اس کے بیان کو صحیح مان لیتے ہیں بشرطیکہ اس سے اس کے خلاف کوئی (کردار کو خراب کرنے والا) فعل سرزد نہ ہو۔ ایسی صورت میں ہم (اپنے فیصلے کو) اس کے برے فعل کے باعث (غلطی سے) محفوظ کر لیتے ہیں۔

††††††††† جہاں تک تدلیس کا تعلق ہے، تو ہم اپنے ملک میں تو کسی کو نہیں جانتے جو ایسا کرتا ہو۔ نہ تو ان میں جو ہم سے پہلے گزرے اور نہ ہی اپنے ساتھیوں میں۔ کچھ لوگوں نے یہ کام اختیار کر لیا ہے۔ ہمارے لئے بہتری اسی میں ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو چھوڑ دیں۔

††††††††† ایک شخص کا یہ قول کہ "میں نے فلاں کو یہ کہتے سنا کہ اس نے فلاں سے سنا" اور دوسرا قول "فلاں نے مجھے فلاں سے لے کر یہ حدیث پہنچائی" ان کے نزدیک برابر ہے۔ ان میں سے کوئی شخص بھی کسی ایسے شخص سے جس سے وہ ملا ہو، حدیث روایت نہیں کرتا سوائے اس کے کہ اس نے خود اسے نہ سنا ہو۔ اس طریقے پر جو شخص بھی یہ کہہ کر کہ "فلاں نے مجھے فلاں سے لے کر یہ حدیث پہنچائی" حدیث بیان کرتا ہے تو ہم اس کی حدیث کو قبول کر لیتے ہیں۔

††††††††† جس شخص کی تدلیس سے ہم ایک بار بھی واقف ہو جاتے ہیں تو روایت کے معاملے میں اس کی چھپی ہوئی کمزوری ہم پر عیاں ہو جاتی ہے۔ یہ کمزوری نہ تو "کھلا جھوٹ" ہے کہ ہم حدیث کو ہی رد کر دیں اور نہ ہی "واضح سچ" ہے۔ ہم اس سے وہی حدیث قبول کرتے ہیں جو اہم سچے اور خیر خواہ لوگوں سے قبول کرتے ہیں۔ ہم تدلیس کے مرتکب شخص سے حدیث صرف اسی صورت میں قبول کرتے ہیں جب وہ یہ کہے "فلاں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی" یا "میں نے سنا"۔

سائل: میں نے دیکھا ہے کہ آپ (عدالت میں) ایسے شخص کی گواہی قبول کر لیتے ہیں جس کی حدیث آپ قبول نہیں کرتے۔

شافعی: حدیث کا معاملہ مسلمانوں کے لئے بہت بڑا ہے۔ ویسے ایک وجہ اور بھی ہے۔

سائل: وہ کیا ہے؟

شافعی: یہ ہو جاتا ہے کہ حدیث کا ایک لفظ روایت ہونے سے رہ جائے اور اس کا معنی بدل جائے یا محدث نے جن الفاظ میں حدیث بیان کی تھی، بعد والا اس سے مختلف انداز میں بات کہہ دے۔ اگر بعد والے کو اس تبدیلی کا علم نہیں ہے تو معنی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اگر حدیث بیان کرنے والا اس معنی کی تبدیلی سے بے خبر ہے تو وہ حدیث کے بارے میں معقول رویہ اختیار نہیں کر رہا ہے۔ ہم اس کی حدیث قبول نہیں کرتے جب وہ ایسی حدیث کو لئے ہوئے ہے جسے وہ خود نہیں سمجھتا۔ ایسا شخص جو حدیث کو اس کے اصل الفاظ میں ادا نہیں کر سکتا اور وہ اس کے مفہوم کو ادا کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص دراصل مفہوم کو سمجھتا ہی نہیں۔

سائل: کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اچھے کردار کا ہو لیکن اس کی حدیث ناقابل قبول ہو؟

شافعی: جی ہاں۔ اگر اس شخص کے ساتھ وہی معاملہ ہو جو میں نے ابھی بیان کیا تو یہ کھلے شک کی کیفیت ہو گی اور اس کی حدیث کو مسترد کر دیا جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص دوسروں کے بارے میں رائے دیتے ہوئے عدل سے کام لے لیکن اپنے بارے میں یا اپنے رشتے داروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس کا رویہ مشکوک ہو جائے۔ جھوٹی گواہی دینے سے بہتر تو یہ ہے کہ آدمی کسی بلند مقام سے نیچے گر پڑے۔ جب کسی شخص سے متعلق شک کا عنصر داخل ہو جائے گا تو اس کی گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایسا شخص جو حدیث کو لفظاً روایت نہیں کرتا یا اس کا معنی نہیں سمجھتا، اس کا معاملہ تو اس شخص سے بھی واضح ہے جس کی گواہی شک کی بنیاد پر رد کر دی گئی ہو۔

††††††††† گواہ جس معاملے میں گواہی دے رہے ہوں اسے بھی غور سے دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہمیں گواہوں کا کسی ایک جانب میلان (یا تعصب) نظر آئے یا ان کا کوئی بڑا مفاد اس شخص سے وابستہ ہو جس کے لئے وہ گواہی دے رہے ہوں تو ہم ان کی گواہی قبول نہ کریں گے۔ اگر وہ کسی ایسے معاملے میں گواہی دے رہا ہے جو کہ مشکل نوعیت کا ہے اور اس کی سمجھ سے باہر ہے (جیسے میڈیکو لیگل معاملات میں ایک انجینئر کی گواہی) تو ہم اس کی گواہی کو بھی قبول نہیں کریں گے کیونکہ وہ جس چیز سے متعلق گواہی دے رہا ہے اسے سمجھتا ہی نہیں۔

††††††††† جو شخص حدیث روایت کرنے میں کثرت سے غلطیاں کرے اور اس کے پاس کوئی تحریری دستاویز بھی نہ ہو تو ہم اس کی حدیث بھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسا کہ گواہی دیتے وقت کثرت سے غلطیاں کرنے والے کی گواہی ہم قبول نہیں کرتے۔

††††††††† حدیث بیان کرنے والے لوگ مختلف اقسام کے ہیں: ان میں وہ بھی ہیں جو علم حدیث میں جانے پہچانے ہیں۔ یہ لوگ حدیث کی تلاش میں رہتے ہیں اور اسے اپنے والد، چچا، رشتے داروں، اور دوستوں سے حاصل کرتے ہیں اور اختلاف رائے رکھنے والے اہل علم کی مجالس میں طویل وقت گزارتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حدیث کو محفوظ کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ اگر ان کی بیان کردہ حدیث کسی ایسے شخص کی حدیث کے خلاف ہو جو علم میں ان سے کم ہو تو بہتر یہی ہے کہ †††† زیادہ علم والے کی حدیث کو ہی قبول کیا جائے۔

††††††††† اگر کسی شخص سے روایت کرنے والے ایک سے زیادہ ہوں تو ان میں سے ایک محفوظ کی ہوئی حدیث کو حدیثیں حفظ کرنے والے دوسرے حفاظ کی بیان کردہ حدیث کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے گا کہ یہ ان کی بیان کردہ حدیث کے موافق ہے یا مخالف۔اگر روایات میں اختلاف پایا جائے تو ہم محفوظ روایات سے (نتائج) اخذ کریں گے اس سے (غلط روایت کی) غلطی اور دیگر علامات کو واضح کریں گے تاکہ ہم حق اور محفوظ بات اور (اس کے بالمقابل) غلطی کی نشاندہی کر سکیں۔ ہم نے یہ تفصیلات اور بھی مقامات پر واضح کر دی ہیں۔ اللہ تعالی سے میں نیکی کی توفیق کا سوال کرتا ہوں۔

سائل: ایک شخص کی بیان کردہ حدیث (خبر واحد) کو قبول کرنے کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے جبکہ آپ اکیلے شخص کی گواہی کو قبول نہیں کرتے؟ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ اس (حدیث کے) معاملے کو اکثر اوقات گواہی پر قیاس کرتے ہیں لیکن بعض امور میں اس میں اور گواہی میں فرق بھی کرتے ہیں؟

شافعی: آپ اس سوال کو دوہرا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے میں اس کی وضاحت پہلے ہی کر چکا ہوں۔ میں حدیث کو گواہی پر قیاس نہیں کرتا۔ آپ نے یہ سوال کیا تھا کہ اس معاملے کو کسی ایسی مثال سے واضح کر دیں جسے آپ سمجھتے ہوں۔ آپ کو حدیث کی تفصیلات سمجھانے کے لئے میں نے اس چیز (یعنی گواہی) کے معاملے سے یہ وضاحت کی ورنہ اس پر قیاس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خبر واحد کا معاملہ تو اس سے زیادہ مضبوط ہے کہ میں اس کے لئے کسی اور چیز کی مثال دوں۔ یہ خود اپنے اندر ہی ایک بنیاد رکھتی ہے۔

سائل: تو پھر حدیث، گواہی سے کن امور میں مشابہ ہے کن امور میں اس سے مختلف ہے؟

شافعی: حدیث گواہی سے مختلف ہے۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ بعض امور میں۔ اگر میں نے یہ کہا ہے کہ یہ بعض امور میں مشابہ ہیں اور بعض میں مختلف تو یہ میں نے کچھ دلائل کی بنیاد پر کہا ہے۔

سائل: ایسا کیوں ہے؟ ہر طرح کی گواہی کا معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے۔

شافعی: کیا آپ کا مطلب ہے کہ یہ معاملہ بعض امور میں ایک جیسا ہے یا تمام امور میں۔

سائل: تمام امور میں۔

شافعی: بدکاری کے جرم کے ثبوت کے لئے آپ کم از کم کتنے گواہ طلب کرتے ہیں؟

سائل: چار

شافعی: اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو جائے تو باقی گواہوں کو کیا آپ (جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں) کوڑوں کی سزا دیتے ہیں؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: قتل، کفر اور راستوں پر ڈکیتی کے جرم میں آپ کم از کم کتنے گواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ان تمام جرائم میں موت کی سزا متعین ہے؟

سائل: دو گواہوں کا۔

شافعی: مالی معاملات میں آپ کم از کم کتنے گواہوں کی گواہی قبول کرتے ہیں؟

سائل: ایک مرد اور دو خواتین کا۔

شافعی: خواتین کے (جسمانی) عیوب جاننے کے لئے آپ کم از کم کتنے گواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں؟

سائل: ایک خاتون گواہ کا۔

شافعی: (قتل کے جرم میں) اگر یہ دو گواہ پورے نہ ہوں ، یا (مالی معاملات میں) ایک مرد اور دو خواتین گواہ پورے نہ ہوں تو کیا آپ بدکاری (کے گواہ پورے نہ ہونے) کی طرح ان گواہوں کو کوڑے تو نہیں مارتے؟

سائل: جی ہاں، (ہم انہیں کوڑے نہیں مارتے)۔

شافعی: اب کیا آپ ان تمام معاملات کو مجموعی طور پر دیکھیں گے؟

سائل: جی ہاں، ان تمام معاملات میں کم از کم گواہوں کی تعداد مختلف ہے۔ صرف بدکاری کی صورت میں (اگر پورے گواہ نہ ہوں) تو انہیں (جھوٹے الزام کے جرم میں) کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔

شافعی: اگر یہی بات میں خبر واحد کے بارے میں کہوں، کہ وہ گواہی کی طرح ہے جسے آپ بھی قبول کر رہے ہیں لیکن یہ گواہوں کی تعداد کے بارے میں اس سے مختلف ہے تو کیا یہ آپ کے نقطہ نظر کے خلاف ایک مضبوط دلیل نہ ہو گی؟

سائل: میں نے گواہوں کی جو کم از کم تعداد بیان کی اس کی بنیاد نقل و عقل میں موجود ہے۔

شافعی: اسی طرح خبر واحد کو قبول کرنے کے لئے میں بھی نقل و عقل ہی سے بات کر رہا ہوں۔ کیا آپ بچے کی ولادت سے متعلق ایک عورت کی گواہی قبول کر لیتے ہیں جبکہ مالی معاملات میں ایسا نہیں کرتے؟

سائل: میں (اپنے سے پہلے گزرے ہوئے اہل علم کی) پیروی کرتا ہوں۔

شافعی: تو اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ قرآن میں تو ایک مرد اور دو خواتین کی گواہی کا ذکر نہیں ہوا ہے (پھر آپ اسے کیوں قبول کر رہے ہیں)؟

سائل: قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس سے کم کی گواہی جائز نہیں ہے۔ ہم تو اسی کو درست قرار دے رہے ہیں جسے تمام مسلمان درست قرار دیتے ہیں اور یہ قرآن کے خلاف نہیں ہے۔

شافعی: یہی سب ہم ایک شخص کی روایت کردہ حدیث (خبر واحد) کے بارے میں کہتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے دلائل ایک خاتون کی گواہی کو قبول کرنے کے تمام دلائل سے زیادہ قوی ہیں۔

سائل: کیا اس کے علاوہ کوئی اور دلیل ہے جو حدیث اور گواہی میں فرق کرتی ہو؟

شافعی: جی ہاں۔ (وہ ایسی دلیل ہے جس کے بارے میں) کوئی ایسا عالم میں نے نہیں جانتا جو اس کے مخالفت کرتا ہو۔

سائل: وہ دلیل کیا ہے؟

شافعی: کسی اچھے کردار والے شخص کی گواہی بھی بعض امور میں قبول کی جاتی ہے اور بعض میں مسترد۔

سائل: یہ مسترد کب کی جاتی ہے؟

شافعی: ایسے معاملات میں جب گواہی دینے میں اس کا کوئی ذاتی مفاد ہو، خواہ کوئی بھی وجہ ہو، وہ (اس گواہی سے) اپنے کسی قرض کو ختم کرنا چاہ رہا ہو، یا اپنی اولاد یا باپ کے حق میں گواہی دے رہا ہو، یا کسی (مقدمے میں) انہیں بری کروانے کی کوشش کر رہا ہو، یا اور مواقع جن میں اس کا کردار مشکوک ہو جاتا ہے۔

††††††††† گواہی کے معاملے میں ایک گواہ کسی شخص کے خلاف گواہی دیتا ہے جس کی بنیاد پر اس پر قرض ثابت ہو سکتا ہو یا وہ سزا کا مستوجب ہو سکتا ہو، یا کسی شخص کو قرض ادا کیا جائے یا اس کے دعویٰ کی بنیاد پر سزا دی جائے، (گواہ) کا خود قرض یا سزا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی اس میں بے عزتی ہوتی ہے (یعنی گواہ کا بذات خود مقدمے کی پارٹیوں سے کوئی لین دین نہیں ہوتا)۔ اگر اس معاملے میں اس کا والد یا اولاد شامل ہوں تب اس کا معاملہ جانبدارانہ ہو جاتا ہے۔ (اگر گواہ جانبدار نہ ہو تو) اس کی گواہی قبول کی جائے گی کیونکہ اس کی نیت کے بارے میں کوئی شک موجود نہیں ہے جیسا کہ والد یا اولاد یا جانبداری کے دیگر معاملات کے مقدمات میں اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے۔

††††††††† جہاں تک کسی حدیث بیان کرنے والے شخص کا تعلق ہے، وہ اگر حلال و حرام سے متعلق کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو اس میں اس کا کوئی مفاد نہ تو اپنی ذات کے لئے ہوتا ہے اور نہ کسی اور کے لئے۔ نہ تو وہ اپنے آپ کو کسی سزا سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو۔ اس وجہ سے وہ اور مسلمانوں میں سے وہ لوگ جن سے اس نے حدیث روایت کی ہے برابر درجے کے حامل ہیں خواہ حدیث کا تعلق کسی فعل کو حلال کرنے کے حکم سے ہو یا حرام کرنے کے حکم سے۔ یہ محدثین بھی اس معاملے میں عام مسلمانوں کی طرح ہی ہیں (کہ خود ان پر بھی اس حکم کی پیروی کرنا لازم ہے)۔ ہاں اگر کسی راوی کے بارے میں شک پیدا ہو جائے تب اس کی بیان کردہ حدیث کو مسترد کر دیا جائے گا اور اگر شک کی یہ کیفیت نہ ہو تب اس کی حدیث کو قبول کر لیا جائے گا۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے جیسا کہ عام اور خاص مسلمانوں کے گواہوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

††††††††† بعض حالات میں لوگ کسی خبر کو صحیح طور پر بیان کرتے ہیں اور بعض حالات میں ان پر خوف خدا کی کیفیت زیادہ طاری ہوتی ہے۔ (تقوی کی اس حالت) میں وہ زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں، غفلت اور لاپرواہی ختم ہو جاتی ہے اور ان کے ارادے اور نیتیں درست ہو جاتی ہیں۔ ایسا عموماً ایسی بیماری میں ہوتا ہے جب انسان کو موت کی امید لگ جائے یا پھر سفر کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اور ایسی حالتیں ہوتی ہیں جب لوگ غفلت سے بیدار ہو جاتے ہیں۔

††††††††† ایسے حالات میں مسلمانوں میں سے ایسے لوگ جو عام طور پر سچے اور قابل اعتماد نہیں ہوتے، وہ بھی سچائی کو اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی حالت کے پیش نظر اس صورتحال میں ان کی بیان کردہ بات کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ جب وہ لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کی بیان کردہ بات پر اعتماد کیا جائے گا تو وہ سچ بولتے ہیں۔ اگر وہ متقی نہ بھی ہوں تب بھی، شرم و حیا کی اس کیفیت میں کہ، ایسی بات جس میں ان کا کوئی مفاد نہیں ہے، لوگوں کو وہ اس کے بارے میں کیوں وہم میں مبتلا کریں۔ اس کیفیت سے نکلنے کے بعد ہو سکتا ہے کہ وہ پھر جھوٹ بولنے لگیں اور لوگوں کو اپنے اقوال کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا کر دیں۔

††††††††† اگر عام لوگوں بلکہ جھوٹے افراد بھی بعض حالات میں اس درجے کا سچ بولتے ہیں کہ جسے محدثین بھی قبول کر لیں تو اہل تقوی اور سچے لوگ ان عام لوگوں کی نسبت ہر قسم کے حالات میں سچائی کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو (عوام الناس میں) اعتماد کا مقام حاصل ہے۔ انہیں دین کے علمبردار کے منصب پر فائز کیا گیا ہے اور یہ لوگ ہر معاملے میں سچائی سے وابستہ رہنے سے متعلق جو ذمہ داری اللہ نے ان پر لازم کی ہے، اس سے بخوبی واقف ہیں۔ حلال و حرام سے متعلق احادیث کا معاملہ تو تمام امور میں سب سے اعلی و ارفع معاملہ ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کے وارد ہونے کی گنجائش ہی نہیں۔ کسی اور کی بات کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کا مقام سب سے مقدم ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کو آگ کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

عبدالعزیز، محمد بن عجلان سے، وہ عبدالوہاب بن بخت سے، وہ عبدالواحد النصری سے، اور وہ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "سب سے بڑا جھوٹا وہ ہے جو میری طرف ایسی بات منسوب کرتا ہے جو میں نے کی ہی نہیں، اور وہ جو ایسا خواب دیکھنے کا دعوی کرتا ہے جو اس نے دیکھا ہی نہیں اور وہ جو خود کو کسی ایسے شخص کی اولاد بتاتا ہے جو اس کا باپ نہیں ہے۔" (بخاری، احمد، شافعی)

عبدالعزیز، محمد بن عمرو سے، وہ ابو سلمہ سے اور وہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جس نے مجھ سے ایسی بات منسوب کی جو میں نے کہی ہی نہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" (یہ حدیث متواتر طریقے سے مختلف الفاظ میں کثیر تعداد میں صحابہ نے روایت کی ہے۔)

یحیی بن سلیم، عبیداللہ بن عمر سے، وہ ابوبکر بن سالم سے، وہ سالم سے، اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جو بھی مجھ سے جھوٹی بات منسوب کرتا ہے، وہ جہنم میں اپنے لئے گھر بناتا ہے۔"

عمرو بن ابو سلمہ، عبدالعزیز بن محمد سے، وہ اسید بن ابی اسید سے، اور اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: "کیا وجہ ہے کہ آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیثیں نہیں سناتے جیسا کہ اور لوگ سناتے ہیں؟" انہوں نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ 'جو مجھ سے جھوٹی بات منسوب کرتا ہے وہ جہنم میں اپنا بستر لگاتا ہے۔' یہ بات کہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر پھیر رہے تھے۔" (کنز العمال، شافعی، بیہقی)

سفیان، محمد بن عمرو سے، وہ ابو سلمہ سے اور وہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "بنی اسرائیل سے روایتیں قبول کر لو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مجھ سے بھی حدیث بیان کر لو مگر مجھ سے جھوٹی بات منسوب مت کرو۔"(یہ روایت بھی کثیر صحابہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔)

††††††††† اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کردہ احادیث میں یہ سب سے زیادہ شدید ہے۔ ہم دوسری احادیث کے ساتھ ساتھ اس پر بھی اعتماد کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ہم سوائے کسی قابل اعتماد راوی کے اور کسی سے حدیث قبول نہیں کرتے۔ ہم حدیث روایت کرنے والے تمام لوگوں کی قابل اعتماد ہونے کو ابتداء (یعنی صحابہ) سے لے کر آخری درجے تک (یعنی جو اب حدیث بیان کر رہا ہے) پہنچنے تک جانتے ہیں۔

سائل: اس حدیث میں جو آپ نے بیان کی ہے، کیا دلیل ہے؟

شافعی: (دین کے) علم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کسی کو کبھی بنی اسرائیل سے جھوٹی بات روایت کرنے کا حکم تو نہیں دے سکتے تھے۔ جب آپ نے بنی اسرائیل سے روایت کرنے کی اجازت دی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ان سے جھوٹی روایات بھی قبول کر لی جائیں۔ ان کی روایتیں قبول کرنے کی یہ اجازت اس روایت کے بارے میں ہے جس کا سچا یا جھوٹا ہونا قبول کرنے والے کے علم میں نہیں۔

††††††††† اسی طرح آپ نے اس شخص کی روایت قبول کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جس کا جھوٹا ہونا مشہور و معروف ہو۔ آپ نے تو خود سے جھوٹ منسوب کرنے والے کو جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا قرار دیا ہے۔ جو شخص کسی جھوٹے شخص سے حدیث روایت کرتا ہے وہ خود بھی جھوٹ کے الزام سے بری نہیں ہے کیونکہ وہ یہ دیکھ کر کہ جھوٹا شخص حدیث بیان کر رہا ہے (اس کی بات کو قبول کر لیتا ہے)۔ سوائے چند مخصوص احادیث کے، حدیث کے اصلی یا جعلی ہونے کا اندازہ تو حدیث بیان کرنے والے کے سچے یا جھوٹے ہونے ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی محدث حدیث کو بیان کرتا ہے تو اس کے سچے یا جھوٹے ہونے کا فیصلہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ مضبوطاور دلائل سے ثابت بات کے مطابق ہے یا خلاف۔

††††††††† جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے آپ سے حدیث روایت کرنے اور بنی اسرائیل سے حدیث روایت کرنے کے معاملے میں فرق کیا تو آپ نے فرمایا: "مجھ سے حدیث بیان کر لو لیکن مجھ سے جھوٹ منسوب نہ کرو۔" اس وجہ سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جس جھوٹ سے آپ نے منع فرمایا وہ دراصل "مخفی جھوٹ" ہے۔ (احتیاط کا تقاضا ہے کہ) ایسی حدیث جس کے اصلی ہونے کا ہمیں علم نہیں ہے (اسے قبول نہ کیا جائے) کیونکہ جھوٹ تو ہر حال میں ممنوع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب جھوٹ تو تمام جھوٹوں سے بڑھ کر (خطرناک) ہے۔

خبر واحد کے ثبوت کے حق میں دلائل

سائل: کسی صریح نص، یا اس سے استدلال یا امت کے اتفاق رائے کی بنیاد پر خبر واحد کو ثابت کرنے کے لئے درکار دلائل کو بیان کیجیے۔

شافعی: (اس حدیث پر غور کیجیے۔)

سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود سے اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس شخص کو خوشحالی و کامیابی عطا کرے جس نے میری باتوں کو غور سے سنا، انہیں محفوظ کیا اور انہیں دوسروں تک پہنچایا۔ بعض اوقات ایک بات پہنچانے والا خود اعلی درجے کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا اس وجہ سے اسے یہ بات اس شخص تک پہنچا دینی چاہیے جو اس سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔ تین چیزوں کے بارے میں کسی مسلمان کا دل تنگ نہیں پڑتا: اللہ کے لئے عمل میں خلوص نیت، مسلمانوں کی خیر خواہی، اور نظم اجتماعی (یعنی حکومت) سے وابستہ رہنا۔ ان چیزوں کی طرف بلانا (شیطانی) وسوسوں سے انسان کی حفاظت کرتا ہے۔" (بیہقی، احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی نے اسے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے بات کو سننے، یاد کرنے اور اسے آگے پہنچانے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم کسی ایک شخص (کی پہنچائی ہوئی حدیث) کے بارے میں ہے تو یہ بات طے ہے کہ آپ نے کسی شخص کو اسی صورت میں یہ حکم دیا ہے جب تک خود اسے اس بات کا ثبوت نہ مل جائے (کہ یہ بات واقعتاً حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے درست طور پر منسوب کی گئی ہے)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ (آپ کی احادیث کے ذریعے) کسی کام کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا، کسی سزا کا نفاذ کیا جائے گا، مال لیا یا دیا جائے گا، اور دین و دنیا میں خیر خواہی کا طرز عمل اختیار کیا جائے گا۔

††††††††† اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فقہی (یعنی قانونی) امور کی روایت کرنے والے شخص کا خود فقہی امور میں ماہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ اس روایت کو یاد کرنے والا ہو سکتا ہے اگرچہ خود وہ فقہی امور کا ماہر نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اتفاق رائے (سے نافذ ہونے والے قوانین) کی پیروی کرنا لازم ہے۔

سفیان کو سالم ابوالنضر، جو کہ عمر بن عبیداللہ کے آّزاد کردہ غلام تھے، نے بتایا کہ عبیداللہ بن ابی رافع نے اپنے والد سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے سامنے میرے احکام میں سے کوئی حکم پیش کیا جائے، جس میں کسی چیز پر عمل کرنے یا کسی چیز سے رکنے کا حکم دیا گیا ہو، تو وہ کہے، "مجھے معلوم نہیں، اللہ کی کتاب میں تو اس کا کوئی ہمیں نہیں ملا جس کی ہم پیروی کریں۔" (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

سفیان کہتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن المنکدر نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مرسلاً بھی روایت کی ہے۔

اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کے لازم ہونے کا ثبوت ہے اگرچہ اس بات سے متعلق کتاب اللہ میں کوئی حکم نہ پایا جاتا ہو۔ اس موضوع پر ہم نے دیگر مقامات پر بھی بحث کی ہے۔

مالک نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے روایت کی کہ: ایک شخص نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا جس سے اس کی شہوانی خواہش تیز ہو گئی۔ اس نے اپنی بیوی کو اس معاملے کے بارے میں پوچھنے کے لئے ام المومنین سیدہ ام سلمۃ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ام سلمۃ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تو روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے ہیں۔" وہ خاتون اپنے خاوند کے پاس آئی اور انہیں یہ بات بیان کی۔ اس سے ان صاحب کو سخت افسوس ہوا اور وہ کہنے لگے، "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی طرح تو نہیں ہو سکتے، اللہ نے اپنے رسول کے لئے جو چاہا ہے، حلال کیا ہے۔"

††††††††††† اب وہ خاتون سیدہ ام سلمۃ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بھی موجود تھے۔ آپ نے پوچھا، "یہ خاتون کیا کہنا چاہتی ہیں؟" ام سلمۃ نے آپ کو پوری بات بتائی تو آپ نے فرمایا: "کیا آپ نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ میں خود ایسا کر لیتا ہوں۔" ام سلمۃ نے کہا، "میں نے تو انہیں بتایا تھا لیکن جب انہوں نے اپنے خاوند کو یہ بات بتائی تو وہ بہت افسردہ ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی طرح تو نہیں ہو سکتے، اللہ نے اپنے رسول کے لئے جو چاہا ہے، حلال کیا ہے۔" آپ یہ بات سن کر غضب ناک ہوئے اور آپ نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور اس کی حدود سے تم سب سے زیادہ واقف ہوں۔"

††††††††††† (شافعی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کو ایسے شخص سے سنا ہے جنہوں نے اس کی روایت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک کی ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ اس کے راویوں میں کون کون لوگ شامل ہیں۔ عبدالرزاق نے اسے صحیح سند کے ساتھ عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے اسے انصار کے ان صاحب سے سنا ہے جن کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ احمد اور مجمع الزوائد میں بھی یہی روایت موجود ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس ارشاد سے کہ "کیا آپ نے انہیں یہ نہیں بتایا۔۔۔" یہ معلوم ہوتا ہے ام سلمۃ رضی اللہ عنہا نے آپ کی جو حدیث بیان کی، ان صاحب کو اسے قبول کرنے کی اجازت تھی کیونکہ آپ نے سیدہ کو اس لئے تو یہ حکم نہ دیا تھا کہ وہ اسے آپ کی طرف سے بیان کریں اگر اس بیان کرنے کے نتیجے میں سننے والے پر حجت قائم نہ ہو سکے۔ یہی معاملہ ان صاحب کی بیوی کا ہے اگر وہ انہیں سچ بولنے والے لوگوں میں شمار کرتے ہوں۔ (یعنی اگر انہیں حدیث کے راویوں پر اعتماد ہے تو ان پر حجت پوری ہو جاتی ہے اور ان پر اس عمل کی پیروی کرنا لازم ہے۔)

مالک نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: لوگ (مسجد) قبا میں فجر کی نماز ادا کر رہے تھے کہ ایک قاصد آیا اور کہنے لگا، "رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ (مسجد الحرام کے) قبلے کی طرف منہ کر لیں۔" لوگوں کے منہ اس وقت شام (یعنی یروشلم) کی طرف تھے اور انہوں نے اپنا رخ تبدیل کر کے کعبہ کی جانب کر لیا۔

اہل قبا انصار میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھے اور وہ لوگ فقہی امور میں بھی ماہر تھے۔ وہ لوگ اس قبلے کی جانب منہ کر کے نماز ادا کر رہے تھے جس کی طرف منہ کرنے کا حکم انہیں اللہ تعالی نے دیا تھا۔ وہ لوگ ایسا تو نہ کر سکتے تھے کہ بغیر حجت پوری ہوئے وہ اللہ کے فرض کردہ قبلے سے منہ پھیر لیتے۔ ان کی ملاقات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے نہ ہوئی تھی اور نہ ہی انہوں نے قبلے کی تبدیلی سے متعلق اللہ کے احکام کو سنا تھا۔ انہوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی پیروی میں قبلہ تبدیل کر لیا جو ان پر فرض تھا۔

††††††††† انہوں نے یہ تبدیلی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کو سننے کی بنیاد پر کی۔ یہ خبر محض ایک ایسے شخص، جو ان کے نزدیک سچا سمجھا جاتا تھا،کے ذریعے نقل کی گئی نہ کہ عام لوگوں کے ذریعے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا جو حکم تبدیلی قبلہ سے متعلق ان تک پہنچا، انہوں نے اس کی بنیاد پر سابقہ قبلے کو تبدیل کر لیا۔ وہ ایسا نہ کرتے اگر وہ یہ نہ جانتے کہ خبر بیان کرنے والا اگر ایک سچا شخص ہے تو یہ حجت ان پر ثابت ہو جاتی ہے۔ وہ لوگ اس وقت تک اس جیسے دین کے کسی بڑے حکم کو قبول نہ کرتے جب تک کہ وہ یہ نہ جانتے ایسا واقعی (حضور نے) فرمایا ہو گا۔ اگر یہ بات اپنی طرف سے بنائی گئی ہوتی تو وہ اس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ضرور کرتے۔

††††††††† اگر ان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے قبلے کی تبدیلی کا حکم، جو کہ فرض تھا، خبر واحد کی بنیاد پر قبول کرنا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سے فرمایا ہوتا کہ: "تم جس قبلے پر ہو، اسے اس وقت تک ترک نہ کرو جب تک کہ تمہیں یہ حکم کسی دلیل سے پہنچ نہ جائے۔ (یہ حجت) براہ راست مجھ سے سننے یا عام لوگوں کی (کثیر تعداد میں) خبر پہنچانے یا مجھ سے ایک سے زائد افراد کی خبر کی صورت میں پہنچنے پر قائم ہو گی۔"

مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحۃ سے، اور وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ کہتے ہیں: میں ابو طلحہ، ابوعبیدہ بن الجراح، اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو انگور اور کھجور کی شراب پلا رہا تھا کہ ایک قاصد آیا اور کہنے لگا، "شراب تو حرام کر دی گئی ہے۔" ابو طلحۃ رضی اللہ عنہ (یہ سنتے ہی) کہنے لگے، "انس! اٹھو اور (شراب کے) ان مٹکوں کو توڑ ڈالو۔" میں نے پتھر کے ایک برتن کو اٹھایا اور اس کے پیندے سے (شراب کے مٹکوں پر) ضرب لگا کر انہیں توڑ ڈالا۔ (بخاری، مسلم)

ان تمام صحابہ کا علم، شرف صحابیت اور نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے قربت اس درجے پر ہے جس سے کوئی بھی اہل علم انکار نہیں کر سکتا۔ جب ان کے نزدیک شراب حلال تھی تو وہ اسے پی رہے تھے۔ ایک قاصد آیا اور اس نے شراب کے حرام ہونے کی خبر انہیں دی۔ ابو طلحہ، جو شراب کے ان مٹکوں کے مالک تھے، نے مٹکے توڑنے کا حکم دیا۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ ہم اس وقت تک شراب کو حلال ہی سمجھیں گے جب تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے نہ مل لیں یا ہمیں عام لوگوں کے ذریعے یہ خبر پہنچ جائے۔ یہ لوگ کسی حلال چیز کو بہا کر ضائع کرنے والے بھی نہ تھے کیونکہ ضائع کرنا تو اسراف ہے اور وہ لوگ اسراف کرنے والے تو نہ تھے۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خبر واحد کو قبول کرنے سے منع کیا ہوتا یا وہ لوگ خبر واحد کو قبول کرنے کو ضروری نہ سمجھتے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے پوچھتے کہ "کیا کیا جائے؟"۔

نوٹ: شراب کی اخلاقی قباحت تو سب کو پہلے سے معلوم تھی لیکن چونکہ اہل عرب شراب کے عادی تھے، اس وجہ سے اسے ایک دم حرام نہیں کیا گیا۔ پہلے لوگوں کے ذہنوں کو تیار کیا گیا کہ وہ دین کے احکام کے آگے سر جھکانے والے بن سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں شراب سے نفرت دلائی گئی۔ اس کے بعد نماز کے اوقات میں شراب نوشی سے منع فرمایا گیا اور بالآخر اسے ابدی طور پر ممنوع کر دیا گیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مزاج تدریجی نوعیت کا ہے۔ دین کے احکامات کو تدریجاً نافذ کرنے سے حکومت بعد کے مسائل سے بچ سکتی ہے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے جب ایک شخص نے ذکر کیا کہ انیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کے پاس جا کر اس کے بارے میں پوچھیں۔ اگر وہ اعتراف کر لیں تو انہیں رجم کیا جائے۔ انہوں نے اعتراف کر لیا جس پر انہیں رجم کی سزا دی گئی۔ اس حدیث کو مالک اور سفیان نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے سیدنا ابوھریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ سفیان کی روایت میں ابوھریرہ اور زید بن خالد کے ساتھ شبل بن معبد رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی ہے۔

عبدالعزیز نے ابن الھاد سے، انہوں نے عبداللہ بن ابو سلمۃ سے، انہوں نے عمرو بن سلیم الزرقی سے اور انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم لوگ منٰی میں تھے جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اونٹنی پر سوار آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے، "یہ (یعنی 10-13 ذوالحجۃ) کھانے پینے کے دن ہیں، ان میں کوئی روزہ نہ رکھے۔" علی رضی اللہ عنہ یہ پیغام لوگوں کے درمیان پکار پکار کر پہنچاتے ہوئے اونٹنی سے اترے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تو کسی ایک سچے شخص کو اسی صورت میں اپنا پیغام دے کر بھیجتے جب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے بیان کردہ کسی ممانعت کی خبر دینے میں اس شخص کی صداقت (ہر قسم کے شک و شبہ اور) اعتراض سے خالی ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اپنے ساتھ حجاج موجود تھے اور آپ یہ بھی کر سکتے تھے کہ خود ان میں تشریف لے جاتے (اور یہ حکم سنا دیتے) تاکہ ان کی تشفی ہو جاتی یا ان کی طرف ایک سے زائد افراد بھیج دیتے۔ آپ نے ایک شخص کو بھیجا جس کی سچائی سے آپ واقف تھے۔

††††††††† آپ کسی ایک شخص کو اس صورت میں نہ بھیجتے جب آپ کے پیغام کے مخاطبین کے لئے پیغام لے جانے والے کے پاس حجت نہ ہوتی کہ وہ اس کی دی ہوئی خبر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی جانب سے قبول کر لیں۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے (ایک بجائے) افراد کی پوری جماعت کو (پیغام پہنچانے کے لئے) بھیجا ہوتا، تو آپ کے بعد آنے والوں کے لئے بھی ایک سچی خبر کو ثابت کرنے کے لئے یہ ایک ناممکن عمل نہ تھا۔

سفیان نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عمرو بن عبداللہ بن صفوان سے اور انہوں نے اپنے ماموں یزید بن شیبان سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ (حج کے موقع پر) عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے اور عمرو امام کی جگہ سے بہت دور تھے۔ ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے، "میں تمہارے لئے رسول اللہ کا قاصد ہوں۔ آپ نے حکم دیا ہے کہ تم لوگ مشاعر مقدسہ پر ٹھہرو کیونکہ یہ تمہارے والد سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا ورثہ ہے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (ہجرت کے) نویں سال امیر حج بنا کر بھیجا۔ حج کے موقع پر مختلف قبائل اور شہروں سے لوگ حاضر ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کے مناسک کی ادائیگی کروائی اور لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی جانب سے ان کے حقوق و فرائض سے آگاہ فرمایا۔ اسی سال آپ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے یوم النحر (10 ذو الحجۃ) کو ان کے اجتماع میں سورۃ توبہ کی آیات پڑھ کر سنائیں۔ انہیں اقوام میں برابر درجہ دینے کا اعلان کیا، ان کی مدد کی اور انہیں مختلف امور سے روکا۔

††††††††† سیدنا ابوبکر و علی رضی اللہ عنہما اہل مکہ میں اپنی خوبیوں، دین داری اور دیانت داری کے حوالے سے مشہور تھے۔ حاجیوں میں سے اگر کوئی ان دونوں سے ناواقف تھا بھی تب بھی ان کی سچائی اور فضیلت کے بارے میں اسے دوسروں سے معلوم ہو گیا ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایک شخص کو کبھی اپنا پیغام دے کر نہ بھیجتے اگر آپ یہ نہ سمجھتے کہ ایک شخص کی دی ہوئی خبر سے سننے والوں پر حجت پوری ہو جائے گی۔

††††††††† نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مختلف علاقوں کے گورنر مقرر فرمائے۔ ہمیں ان گورنروں اور علاقوں کے نام معلوم ہیں جہاں انہیں بھیجا گیا۔ آپ نے سیدنا قیس بن عاصم، زبرقان بن بدر، اور ابن نویرہ رضی اللہ عنہم کو ان کے اپنے قبائل پر حاکم مقرر فرمایا کیونکہ وہ لوگ ان کی دیانت داری سے واقف تھے۔ بحرین کا وفد آیا اور وہ اپنے ساتھ والوں سے واقف تھے۔ آپ نے سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو آپ نے یمن کا گورنر مقرر فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باغیوں کی سرکوبی کریں۔ وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالی کے فرائض کی تعلیم دیں اور ان سے لازمی (زکوۃ) وصول کریں۔ سیدنا معاذ کو ان کے علم، مرتبہ اور دیانت داری کے باعث یہ مقام دیا گیا۔

††††††††† جس کسی کو بھی آپ نے گورنر مقرر فرمایا تو اسے یہی حکم دیا کہ وہ اپنے زیر نگیں لوگوں سے اللہ تعالی کی لازم کردہ (زکوۃ و صدقات) وصول کریں۔ ان دیانت دار لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس سے لوگوں نے کہا ہو کہ چونکہ آپ ایک ہیں اس لئے آپ ہم سے کوئی ایسی رقم وصول نہیں کر سکتے جس کا ذکر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے نہ سنا ہو۔

نوٹ: اس بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قابل اعتماد شخص اگرچہ وہ ایک ہی ہو کی بیان کردہ حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ اس بات میں فرق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کسی شخص کو کوئی پیغام پہنچانے کے لئے مقرر فرمائیں اور کوئی شخص خود اپنے initiative سے آپ کی کوئی بات بیان کر دے۔ اسی وجہ سے محدثین نے حدیث قبول کرنے کے لئے کچھ شرائط مقرر کی ہیں جس کی تفصیل امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اوپر بیان کر دی ہے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہی لوگوں کو مقرر فرمایا جو کہ اپنے زیر نگیں علاقوں میں دیانت داری اور سچائی کے اعتبار سے مشہور و معروف تھے تاکہ ان لوگوں پر حجت قائم ہو سکے۔ اسی کی ایک اور مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بھیجے گئے لشکروں کے لیڈر ہیں۔ جب آپ نے جنگ موتہ میں لشکر بھیجا تو اس کا امیر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا اور سیدنا جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کو ان کا جانشین مقرر فرمایا۔ ایک لشکر میں سیدنا ابن انیس رضی اللہ عنہ کو اکیلے امیر مقرر فرمایا۔

††††††††† ان لشکروں کے امیر کو اپنے مخاطبین کے لئے حاکم بنایا گیا۔ ان پر لازم تھا کہ جس شخص تک (دین اسلام کی) دعوت نہیں پہنچی، اس تک دعوت پہنچائیں اور جس سے جنگ کرنا جائز ہو، اس سے جنگ کریں۔ یہی معاملہ تمام لشکروں کے امراء کا ہے (کہ وہ اکیلے امیر تھے) اگرچہ آپ دو، تین، چار یا اس سے زیادہ افراد کو بھی امیر بنا کر بھیج سکتے تھے۔

††††††††† ایک زمانے میں آپ نے بارہ بادشاہوں کی طرف بارہ افراد کو قاصد بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی۔ انہیں جن کی طرف بھیجا گیا، ان تک یا تو دعوت پہلے ہی پہنچ چکی تھی جس سے ان پر حجت پوری ہو چکی تھی، یا پھر آپ نے اپنے خطوط کے ذریعے لکھ کر انہیں حق بات کی دلیل پہنچا دی تھی۔ آپ نے ان قاصدین کا انتخاب بھی اسی طرح سوچ سمجھ کر کیا جیسا کہ آپ گورنروں کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ اس بات کا خیال رکھا کہ یہ (دیانت داری کے اعتبار سے) مشہور و معروف لوگ ہوں جیسا کہ آپ نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو اس علاقے میں بھیجا جہاں آپ مشہور تھے۔

††††††††† اگر کسی ایسے شخص کو بھیجا جاتا جو مشہور نہ ہوتا تو پھر جس کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے، اس کے لئے یہ ضروری ہوتا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے اس کے بارے میںکنفرم کرے (کہ یہ آپ ہی کا قاصد ہے) تا کہ یہ شک دور ہو جائے کہ یہ خبر واقعی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔ اتنا عرصہ اس قاصد کو وہیں انتظار کرنا پڑتا۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (دین کے) اوامر و نواہی سے متعلق احکام اپنے گورنروں کو لکھ کر بھیجتے تھے۔ اگر ان کی طرف بھیجے گئے قاصد اپنی دیانت داری (کے لئے مشہور) نہ ہوتے تو ان گورنروں کے لئے ان احکام کا نفاذ مشکل ہو جاتا۔ جس کی طرف قاصد کو بھیجا گیا ہے، وہ اگر قاصد کی سچائی کو جاننا چاہے تو اسے اس سے متعلق معلومات فوراً مل جانی چاہییں۔ اگر اسے یہ شک گزر جائے کہ جو حکم اس تک پہنچا ہے، اس کی تحریر میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے یا قاصد کی لا پرواہی کے باعث کوئی اور مشکوک مسئلہ پیدا ہو گیا ہے تو اس شخص پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کو نافذ کرنے سے پہلے اپنے شک کو دور کر لے۔

††††††††† یہی معاملہ آپ کے خلفاء اور ان کے گورنروں کے تحریر کردہ احکام اور اتفاق رائے کا ہے۔ خلیفہ، قاضی (چیف جسٹس)، گورنر اور امام تو ایک شخص ہی ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے۔ اس کے بعد سیدنا عمر نے اہل شوری کو یہ اختیار دیا کہ وہ اپنے میں سے کسی کو خلیفہ بنا لیں تو (شوری کی دی ہوئی اتھارٹی کی بنیاد پر) سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا۔

††††††††† گورنر کے ساتھ ساتھ جج کے فرائض انجام دینے والے افراد اور دیگر جج حضرات احکام کا نفاذ کریں گے اور سزائیں دیں گے۔ جو لوگ ان کے ماتحت ہیں، وہ ان سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر ان احکام کا نفاذ کریں گے۔

††††††††† جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت اور مسلمانوں کے اجماع سے متعلق بیان کیا، اسے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گواہی، خبر (معلومات) اور عدالتی فیصلہ تینوں میں فرق ہے۔

††††††††† کیا آپ اس سے اتفاق نہیں کریں گے جب ایک جج کسی ایک شخص کے خلاف اور دوسرے کے حق میں فیصلہ دیتا ہے تو وہ ایسا ثابت شدہ معلومات یا کسی ایک شخص کے (اپنے مفاد کے خلاف) اقرار کی بنیاد پر کرتا ہے۔ جب اس فیصلے کو نافذ کرنے کی خبر (پولیس وغیرہ کے) اہل کار تک پہنچتی ہے تو اسے اس خبر کو جائز یا ناجائز کے معنی میں لینا چاہیے اور واضح ثبوت کی بنیاد پر جائز اور ناجائز کا فیصلہ کرنا چاہیے (کہ جج نے کس چیز کو قانونی طور پر جائز اور کس چیز کو ناجائز قرار دیا ہے۔ اب اہل کار کو اس کے مطابق سزا کا نفاذ کر دینا چاہیے۔)

††††††††† اگر کسی اور جج کی عدالت میں ایک گواہ نے کسی شخص کے خلاف گواہی دی ہے جس کا مقدمہ اس جج کے پاس نہیں ہے، یا پھر اس شخص کا اقرار جج تک پہنچا ہے تو جج پر اس مقدمے کا فیصلہ کرنا لازم نہیں ہے (کیونکہ یہ مقدمہ اس کے پاس دائر ہی نہیں کیا گیا بلکہ) دوسرے جج کی عدالت میں ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ وہی جج کرے گا جس کی عدالت میں یہ مقدمہ ہے اور ایسا وہ گواہی کی بنیاد پر کرے گا جو کہ ایک فریق کے حق میں اور دوسرے کے خلاف ہو گی۔ اگر وہ دوسرا جج گواہ کی گواہی سن لے اور اس کی بنیاد پر وہ جج پہلے جج کی عدالت میں آکر گواہی دے، تو اس صورت میں پہلا جج اس کی گواہی کو قبول نہ کرے گا بلکہ یہ لازم ہو گا کہ اس کے ساتھ اصل گواہ بھی آئے۔ کسی ایک شخص کی گواہی کی بنیاد پر مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

سفیان اور عبدالوہاب نے یحیی بن سعید سے اور انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (لڑائی جھگڑے کے مقدموں میں) یہ فیصلہ دیا کہ انگوٹھا کٹ جانے کا ہرجانہ پندرہ اونٹ، شہادت کی انگلی کٹ جانے کا ہرجانہ دس اونٹ، درمیانی انگلی کا ہرجانہ بھی دس اونٹ، درمیانی اور چھنگلی کے درمیان والی انگلی کا ہرجانہ نو اونٹ اور چھوٹی انگلی کا ہرجانہ چھ اونٹ ہو گا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہاتھ کٹ جانے کے مقدمے میں پچاس اونٹ کا ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ ہاتھ کی پانچوں انگلیاں خوبصورتی اور استعمال کے اعتبار سے مختلف درجہ رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے آپ نے ہاتھ کٹ جانے کے فیصلے پر قیاس کرتے ہوئے الگ الگ انگلی کا ہرجانہ مقرر فرمایا۔ یہ خبر پر قیاس کی ایک مثال ہے۔

††††††††† آل عمرو بن حزم کے قانون کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "ہر انگلی کے کٹ جانے کا ہرجانہ دس اونٹ ہو گا۔" وہ لوگ اسی قانون کی پیروی کرتے ہیں۔ آل عمرو بن حزم کے قانون کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جائے گا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا جاری کردہ قانون ہے۔

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو تحریری ہدایات کے ساتھ یمن کا عامل بنا کر بھیجا۔ ان ہدایات کے کچھ نسخے امام شافعی علیہ الرحمۃ کے دور میں بھی پائے جاتے تھے۔ ان ہدایات کو محدثین نے اپنے اصولوں کی روشنی میں قبول کیا ہے۔

††††††††† اس روایت سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منقول خبر کو قبول کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ یہ خبر اس وقت قبول کی جائے گی جب یہ ثابت شدہ ہو۔ (ایک ثابت شدہ خبر کو اس وقت بھی قبول کیا جائے گا) اگرچہ (حکمرانوں اور فقہ کے) اماموں کا عمل اس کے مطابق نہ ہو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر لوگ کسی امام کے (نقطہ نظر کے مطابق) عمل کر رہے ہوں اور اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسے کوئی ایسی حدیث مل جائے جو اس کے خلاف ہو تو امام کے نقطہ نظر کے مطابق عمل کو ترک کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث پر عمل کیا جائے گا۔

نوٹ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف کے نزدیک شخصیت پرستی کس قدر غلط طرز عمل تھا۔ کوئی شخصیت خواہ کتنی ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہو، اسے تنقید سے ماورا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر اس شخصیت کے نقطہ نظر کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کوئی حدیث ملے گی تو اس شخصیت کی تمام تر خوبیوں کے باوجود اس کی بات کو رد کر دیا جائے گا۔

††††††††† اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کا خود آپ سے ثابت شدہ ہونا ضروری ہے نہ کہ آپ کے بعد کسی اور کے عمل سے۔ مسلمان ہرگز یہ نہیں کہتے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار کے معاملے میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکام کے خلاف عمل کیا ہو گا۔ نہ تو آپ اور نہ ہی کوئی اور یہ رائے رکھتا ہے کہ آپ کے حکم کے خلاف کوئی عمل جائز ہے۔ ہر شخص اس بات پر عمل کرتا ہے جو اس پر لازم ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے (ثابت شدہ) خبر کو قبول کیا جائے اور اس کے مخالف عمل کو ترک کر دیا جائے۔

††††††††† اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک یہ حدیث پہنچ جاتی (کہ ہر انگلی کا ہرجانہ دس اونٹ ہو گا) تو وہ کبھی اس کے خلاف فیصلہ نہ کرتے۔ دوسرے معاملات میں جب بھی انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی حدیث ملی تو انہوں نے اسی پر عمل کیا کیونکہ آپ اللہ سے ڈرنے والے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکام کی اطاعت سے متعلق اپنے فرائض کو ادا کرنے والے تھے۔ آپ یہ جانتے تھے کہ کسی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کی طرح نہیں ہے اور آپ کی اتباع ہی اللہ کی اطاعت ہے۔

سائل: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کوئی ایسا عمل بتائیے جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے حدیث ملنے کے بعد ترک کر دیا ہو۔

شافعی: میرے یہ مثال دینے سے کیا ہو گا؟

سائل: آپ کے مثال دینے سے دو اصول واضح ہو جائیں گے: ایک تو یہ کہ اگر سنت سے کوئی بات پتہ نہ چلے تو آپ اپنی رائے سے کوئی بات کہہ سکتے ہیں اور دوسرے یہ کہ اگر کسی معاملے میں سنت مل جائے تو پھر اپنی (رائے کے مطابق) عمل کو ترک کر دینا چاہیے کیونکہ سنت کے خلاف ہر عمل کو ترک کرنا ضروری ہے۔ اس سے یہ رائے بھی غلط ثابت ہو جائے گی کہ سنت کا ثبوت بعد والوں کے عمل سے ملتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ سنت کے خلاف کوئی چیز اسے کمزور نہیں کر سکتی۔

شافعی: (اس روایت پر غور کیجیے۔)

سفیان نے زھری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ "دیت عاقلہ کی ذمہ داری ہے۔ ایک خاتون کو اپنے خاوند کی دیت میں بطور وراثت کچھ نہ ملے گا۔" ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں لکھ کر بھیجا تھا کہ اشیم الضبابی کی اہلیہ کو ان کی دیت میں وراثت کا حصہ دیا جائے۔ یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔ (احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

یہ بات میں پہلے بھی ایک موقع پر (کتاب الام میں) بیان کر چکا ہوں۔

سفیان نے عمرو بن دینار اور ابن طاؤس سے، انہوں نے طاؤس سے روایت کی کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، "اگر تم نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایسی چوٹ جس میں حمل ساقط ہو جائے سے متعلق کوئی بات سنی ہو تو مجھے بتاؤ۔" حمل بن مالک بن النابغہ اٹھے اور بولے، "میری دو لونڈیاں تھیں۔ ایک کا ڈنڈا دوسری کو جا لگا جس سے اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ مر گیا۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غرہ (یعنی پانچ اونٹ بطور ہرجانہ ادا کرنے کا) فیصلہ فرمایا۔ "عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا، "اگر میں یہ حدیث نہ سنتا تو اس سے مختلف فیصلہ کرتا۔" دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا، "میں تو اس مقدمے میں اپنی رائے سے تقریباً فیصلہ کر ہی چکا تھا۔" (نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ)

جب ضحاک نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حدیث سنائی جو ان کے اپنے فیصلے کے خلاف تھی تو انہوں نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا۔ حمل ساقط ہونے کے معاملے میں آپ نے فرمایا کہ اگر میں یہ حدیث نہ سنتا تو اس سے مختلف فیصلہ کرتا اور میں تو اس مقدمے میں اپنی رائے سے تقریباً فیصلہ کر ہی چکا تھا۔

††††††††† سنت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ غلطی سے کسی کو قتل کر دینے کی دیت سو اونٹ ہے۔ اگر پیٹ میں پلنے والا بچہ ایک زندہ چیز ہو تو اس کی دیت سو اونٹ ہونی چاہیے اور اگر بے جان ہو تو پھر دیت نہیں ہونی چاہیے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا فیصلہ پہنچا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا کیونکہ ہر شخص پر صرف آپ کی اتباع ہی لازم ہے۔ جب تک انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی بات نہ پہنچی تھی، انہوں نے اپنی رائے سے اس سے مختلف فیصلہ کر لیا۔ جب انہیں اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث مل گئی تو انہوں نے اپنے فیصلے کو چھوڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے فیصلے کی پیروی کی۔ ہر معاملے میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہی کچھ ہر انسان کو کرنا چاہیے۔

مالک، ابن شہاب سے اور وہ سالم سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے حدیث "طاعون زدہ علاقے میں مت جاؤ" سن کر واپس آ گئے۔

یہ اس وقت ہوا جب آپ شام کے لئے نکلے تھے اور آپ کو وہاں طاعون کی وبا پھوٹ پڑنے کی خبر ملی تھی۔

مالک نے جعفر بن محمد رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا، "مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے۔" سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا، "میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو تم اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ) کے ساتھ کرتے ہو۔ (مالک)

سفیان، عمرو سے اور وہ بجالۃ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، "سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ وصول نہ کرتے اگر انہیں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے یہ بات پتہ نہ چلتی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے (خلیج فارس کے قریب واقع) ھجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کرنے کا حکم نہ دیا ہوتا۔

یہ جو احادیث میں نے لکھی ہیں، ان کی سند منقطع (ٹوٹی ہوئی) ہے۔ میں نے ان احادیث کو متصل (ملی ہوئی) سند کے ساتھ سنا ہے۔ یہ مشہور روایتیں ہیں جنہیں اہل علم سے متواتر طریقے سے نقل کیا ہے۔ میں مکمل طور پر یاد کئے بغیر یا بعض کتابوں (جن میں احادیث لکھی ہوئی تھیں) کے گم ہو جانے کے بعد (ان میں موجود) حدیث بیان کرنا پسند نہیں کرتا۔ بہرحال ان احادیث کے درست ہونےکو میں نے اہل علم کی محفوظ شدہ معلومات سے چیک کر لیا ہے۔ اس کتاب کی طوالت کے خوف سے میں یہ تفصیلات بیان نہیں کر رہا۔ میں نے ان علوم کے تمام پہلوؤں سے بحث کرنے کی بجائے جو کافی سمجھا ہے بیان کر دیا ہے۔

نوٹ: "منقطع" علم حدیث کی اصطلاح میں ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کا سلسلہ سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملا ہوا نہ ہو اور اس میں کوئی ایک یا زیادہ راوی غائب (Missing) ہوں۔ چونکہ ان نامعلوم راویوں کے بارے میں یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں، اس وجہ سے منقطع حدیث کو قبول نہیں کیا جاتا۔

††††††††† سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے متعلق سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کو قبول کر لیا۔ اس وجہ سے انہوں نے قرآن کے حکم "من الذين أوتوا الكتاب حتى يعطوا الجزية عن يد وهم صاغرون" یعنی "اہل کتاب کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر رہیں۔" کے تحت ان سے جزیہ وصول کیا۔ انہوں نے قرآن میں (حضور کے زمانے کے) کفار کے بارے میں یہ حکم پڑھا تھا کہ اسلام لانے تک ان سے جنگ کی جائے گی۔ مجوسیوں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منقول کوئی بات ان کے علم میں نہ تھی۔ (شاید) ان کے نزدیک یہ بھی اہل کتاب کی بجائے کفار ہی کے حکم میں تھے۔ انہوں نے مجوسیوں کے بارے میں عبدالرحمٰن سے جب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث سنی تو اسی کی پیروی کی۔

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ابتدائی مخاطبین کے لئے چونکہ اللہ کی حجت تمام ہو چکی تھی اس وجہ سے آپ کا انکار کرنے والوں پر اللہ تعالی کا عذاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ عرب کے جن لوگوں نے شرک پر قائم رہنے پر اصرار کیا، انہیں موت کی سزا دی گئی جبکہ یہود و نصاری کو ماتحت بن کر رہنے کی سزا دی گئی۔ یہی معاملہ مجوسیوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ یہ حکم صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مخاطبین کے ساتھ خاص تھا۔ موجودہ دور کے غیر مسلم، مسلمانوں کے معاہد ہیں۔ ان کے ساتھ معاملہ آپس کے معاہدے کے تحت ہی کیا جائے گا۔

††††††††† بجالۃ کی بیان کردہ روایت کی سند (سیدنا عمر تک) پہنچتی ہے۔ وہ ان سے ذاتی طور پر ملے ہوئے تھے اور ان کے کسی گورنر کے کاتب (سیکرٹری) تھے۔

سائل: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے حدیث سن کر اسے دوسرے سے بھی تو کنفرم کیا تھا۔

شافعی: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دوسرے شخص سے پہلے کی بیان کردہ حدیث کو کنفرم کرنے کی وجہ ان تین میں سے ایک ہی ممکن ہے:

       (ایک تو یہ کہ) آپ محتاط رہنا چاہتے ہوں گے۔ اگرچہ حدیث تو ایک شخص کی خبر سے بھی ثابت ہو جاتی ہے لیکن دو سے اس کا ثبوت زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس سے سوائے ثبوت کے اور تو کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوتا۔ میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ خبر واحد کو ثابت کرنے کے لئے اس کے ساتھ دوسرے شخص کی خبر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت پانچ ذرائع سے پہنچی ہو اور وہ چھٹے ذریعے سے اسے کنفرم کرنے کے بعد اسے لکھ (کر پیش کرے۔) ایسی خبریں جو تواتر سے اور مشہور طریقے سے پہنچتی ہیں وہ زیادہ مضبوط ثبوت پر مبنی ہوتی ہیں اور ان سے سننے والا بھی زیادہ مطمئن ہوتا ہے۔ میں نے بعض ججوں کو دیکھا ہے کہ ایک شخص کے حق میں ان کے پاس دو اچھے کردار والے افراد کی گواہی موجود ہوتی ہے لیکن اپنے اطمینان کے لئے وہ مزید گواہوں کو طلب کرتے ہیں۔ اگر اس شخص کو مزید گواہ میسر نہ آ سکیں تو پھر وہ انہی دو گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر ہی اس کے حق میں فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

       (دوسری ممکنہ وجہ یہ ہے کہ) آپ حدیث سنانے والے سے واقف نہ ہوں تو آپ نے اس وقت رکے رہے ہوں جب تک کہ کسی دوسرے ایسے شخص نے وہی بات نہ بتائی ہو جسے آپ جانتے ہوں۔ جس شخص کو آپ نہیں جانتے ہوں گے تو اس کی خبر آپ کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ کسی شخص کی دی ہوئی خبر کو اسی وقت قبول کیا جا سکتا ہے جب اس کے اہل ہونے کا علم ہو۔

       (تیسری ممکنہ وجہ یہ ہے کہ) حدیث بیان کرنے والا ایسا شخص ہو جس کی دی ہوئی خبر ان کے نزدیک ناقابل قبول ہو۔ انہوں نے اس کی خبر کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جب تک کہ کسی اور قابل اعتماد شخص نے وہی بات آ کر نہ بتائی۔

نوٹ: دوسرے شخص سے حدیث کو کنفرم کرنے کا ثبوت کے علاوہ ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بات کا کوئی پہلو اگر پہلے راوی نے بیان نہ کیا ہو تو وہ دوسرے راوی سے معلوم ہو جاتا ہے۔ اس طرح پوری بات مکمل صورت میں پہنچ جاتی ہے۔

سائل: آپ کے خیال میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کس وجہ سے ایسا کیا تھا؟

شافعی: جہاں تک سیدنا ابو موسی (اشعری) رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کا تعلق ہے تو (دوسرے شخص سے اس حدیث کو کنفرم کرنا) احتیاط کے باعث تھا کیونکہ آپ ابو موسی کو قابل اعتماد اور دیانت دار سمجھتے تھے۔

سائل: اس کی کیا دلیل ہے؟

شافعی: ابو موسی کی روایت کو امام مالک بن انس نے ربیعۃ سے اور انہوں نے متعدد علماء سے روایت کیا ہے۔ (اس میں یہ بھی ہے کہ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے کہا، "میں آپ کے بارے میں تو شک نہیں کرتا لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے جھوٹی باتیں منسوب نہ کرنے لگ جائیں۔"

سائل: اس روایت (کی سند) تو منقطع ہے۔

شافعی: اس میں بیان کردہ بات تو ثابت شدہ ہے۔ دین کے کسی بھی امام، خواہ وہ سیدنا عمر ہوں یا کوئی اور، کے لئے یہ بات درست نہیں کہ ایک موقع پر تو خبر واحد کو قبول کر لیں اور دوسرے موقع پر رد کر دیں۔ اس کی قبولیت تبھی ہو گی اگر آپ کے نزدیک اس سے بات ثابت ہو رہی ہو گی۔ یہ بات تو کسی بھی عالم کے لئے درست نہیں اور نہ ہی کسی جج کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ایک موقع پر تو دو گواہوں کی گواہی کو قبول کر لے لیکن دوسرے موقع پر اسے رد کر دے سوائے اس کے کہ (دوسرے موقع پر) جرح کے نتیجے میں وہ غلط ثابت ہو جائیں یا پھر وہ جج (پہلے موقع پر) ان کے اچھے کردار کے بارے میں غلط رائے قائم کر بیٹھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو علم، عقل، دیانت داری اور مرتبے میں انتہائی مقام پر تھے۔

††††††††† جو کچھ میں نے بیان کی، اس کے بارے میں کتاب اللہ میں بھی دلیل موجود ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إنا أرسلنا نوحاً إلى قومه۔

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔

ولقد أرسلنا نوحاً إلى قومه‏۔

بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔

وأوحينا إلى إبراهيم وإسماعيل۔

ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کی طرف وحی بھیجی۔

وإلى عاد أخاهم هوداً۔

ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ھود کو مبعوث کیا۔

وإلى ثمود أخاهم صالحاً۔

ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔

وإلى مَدْينَ أخاهم شعيباً۔

ہم نے مدین کے طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔

كذَّبت قومُ لوطٍ المرسلين‏.‏ إذ قال لهم أخوهم لوطٌ‏:‏ ألا تتقون‏.‏ إني لكم رسول أمين فاتقوا الله وأطيعون۔

لوط کی قوم نے رسولوں کا انکار کیا۔ جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا، "تم (خدا سے) ڈرتے نہیں ہو۔ میں تمہاری طرف امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔"

اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ارشاد فرمایا:

إنا أوحينا إليك كما أوحينا إلى نوح۔

ہم نے آپ کی طرف وحی کی جیسا کہ ہم نے نوح کی طرف وحی کی۔

وما محمدٌ إلا رسولٌ قد خلت من قبله الرسل۔

محمد تو ایک رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے۔

اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کے ذریعے اپنی مخلوق پر حجت تمام کی اور ان رسولوں کو کچھ ایسی نشانیاں عطا کی گئیں جن کے باعث وہ باقی مخلوق سے ممتاز نظر آتے تھے۔ یہ ثبوت اور اس کے دلائل ان انبیاء کے اولین مخاطبین اور ان کے بعد آنے والوں کے واضح تھے۔ ایک شخص اور اس سے زائد حجت قائم کرنے کے معاملے میں برابر ہیں۔ حجت کئی کے ساتھ ساتھ ایک شخص کے ذریعے بھی قائم ہو جاتی ہے۔ مزید فرمایا:

واضرب لهم مثلاً أصحابَ القرية إذ جاءها المرسلون‏.‏ إذ أرسلنا إليهم اثنين، فكذبوهما، فَعَزَّزنا بثالث، فقالوا‏:‏ إنا إليكم مرسلون‏.‏ قالوا‏:‏ ما أنتم إلا بشرٌ مثلُنا، وما أنزل الرحمن من شيءٍ‏.‏ إن أنتم إلا تَكْذبون۔

ان کے لئے ان بستی والوں کی مثال بیان کیجیے جب ان کے پاس رسول آئے۔ ہم نے ان کی طرف دو رسولوں کو بھیجا، انہوں نے انہیں جھٹلایا، پھر ہم نے تیسرے کے ذریعے انہیں تقویت دی۔ انہوں نے کہا، "ہم تمہاری طرف بھیجے گئے رسول ہیں۔" وہ بولے، "تم لوگ تو ہماری طرح کے انسان ہی ہو۔ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم جھوٹ بول رہے ہو۔" (یس 36:13-15)

ان لوگوں پر حجت دو کے ذریعے بھی پوری ہو گئی لیکن اللہ تعالی نے تیسرے رسول کو بھی بھیجا۔ اس نے ایک رسول کے ذریعے بھی حجت تمام کی۔ زیادہ افراد سے کسی بات کی تاکید کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حجت ایک سے پوری نہیں ہوتی جبکہ اس ایک کو اللہ نے وہ نشانیاں عطا کی ہوں جن کے ذریعے اس نے اپنے انبیاء کو عام لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔

مالک، سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرۃ سے، وہ اپنی پھوپھی زینب بنت کعب سے، اور وہ سیدہ فریعۃ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا سےروایت کرتی ہیں کہ آپ کہتی ہیں کہ آپ کے خاوند اپنے غلاموں کو لینے کے لئے شہر سے باہر نکلے اور قدوم کے مقام پر انہیں جا پکڑا۔ انہوں نے (ان کے خاوند کو) قتل کر دیا۔

آپ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یہ پوچھنے کے لئے آئیں کہ کیا آپ بنی خدرۃ میں اپنے میکے جا سکتی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، "کیا میں اپنے میکے واپس جا سکتی ہوں کیونکہ میرے خاوند نے میرے لئے کوئی مکان بھی نہیں چھوڑا؟" آپ نے فرمایا، "ہاں، تم جا سکتی ہو۔"

میں واپس پلٹی۔ ابھی میں (آپ کے) گھر یا پھر مسجد ہی میں تھی کہ آپ نے مجھے واپس بلایا اور فرمایا، "تم کیا کہہ رہی تھیں؟" میں نے اپنے خاوند کے ساتھ گزرنے والا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا، "اپنے (خاوند کے) گھر ہی میں ٹھہری رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ کی مدت پوری نہ ہو جائے۔" وہ کہتی ہیں، "میں نے پھر اسی گھر میں چار ماہ دس دن گزارے۔ بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کے دور حکومت میں ان کے پاس ایسا ہی ایک مقدمہ آیا تو انہوں) نے میرے پاس کسی کو بھیج کر مجھ سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے انہیں اپنا واقعہ بتا دیا تو انہوں نے اس کی پیروی کرتے ہوئے، اس کے مطابق فیصلہ سنا دیا۔ (مالک، ابو داؤد، ترمذی)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں (دین کا) علم ہوتے ہوئے بھی مہاجرین اور انصار کی موجودگی میں ایک خاتون کی دی ہوئی خبر کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔

مسلم (بن خالد) نے ابن جریج سے، انہوں نے حسن بن مسلم (بن ینعق) سے، انہوں نے طاؤس سے روایت کہ کہ وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا، "کیا آپ یہ فتوی دیتے ہیں کہ (حج کرنے والی) خاتون کو اگر حیض آ جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کئے بغیر واپس آ سکتی ہے؟" ابن عباس نے جواب دیا، "میں اپنی طرف سے تو یہ بات نہیں کہتا، البتہ آپ فلاں انصاری خاتون سے پوچھ لیجیے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں ایسا ہی حکم دیا تھا۔" زید بن ثابت ہنستے ہوئے یہ کہہ کر واپس چلے گئے، "میں نے دیکھا ہے کہ آپ سچ ہی بولتے ہیں (یعنی جب کوئی بات معلوم نہ ہو تو اپنی طرف سے بات نہیں بناتے۔)" (احمد، بیہقی)

سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ سن رکھا تھا کہ بیت اللہ کا طواف حاجی کا آخری کام ہونا چاہیے۔ وہ یہ سمجھے کہ حائضہ خاتون کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ فتوی دیا کہ اگر حائضہ خاتون نے یوم النحر کے بعد بیت اللہ کا طواف کر لیا ہو تو وہ آخری طواف کئے بغیر واپس جا سکتی ہے تو زید نے اس سے اختلاف کیا۔ اس کے بعد جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ایک خاتون کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ اجازت دے دی تھی تو انہوں نے یہ بات ان سے پوچھی اور ان خاتون نے تفصیل انہیں بتا دی۔ انہوں نے خاتون کی بات پر یقین کر لیا۔ ان کے لئے درست بات یہی تھی کہ وہ اس معاملے میں ابن عباس سے اپنے اختلاف سے رجوع کر لیں جبکہ ابن عباس کے پاس بھی ان خاتون کی بیان کردہ حدیث کے علاوہ کوئی اور دلیل نہ تھی۔

سفیان نے عمرو سے اور انہوں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا، "نوف البکالی کا یہ خیال ہے کہ سیدنا موسی و خضر علیہما الصلوۃ والسلام (کے واقعہ میں) جن موسی کا ذکر ہوا ہے وہ بنی اسرائیل والے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نہیں ہیں۔" ابن عباس نے فرمایا، "یہ دشمن خدا جھوٹ بولتا ہے۔ مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں موسی و خضر کے واقعے کا ذکر اسی طرح کیا کہ جس سے یہ معلوم ہو گیا کہ خضر کے ساتھ یہ واقعہ (بنی اسرائیل والے) موسی ہی کو پیش آیا۔"

††††††††† ابن عباس رضی اللہ عنہما، نے اپنے عقل و فہم اور تقوی کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے متعلق سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت کو ایسے وقت میں قبول کیا جب مسلمانوں کا ایک حاکم اسے جھٹلا رہا تھا۔ جب ابی بن کعب نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث بیان کی جس سے یہ معلوم ہو رہا تھا کہ سیدنا خضر علیہ الصلوۃ السلام کے ساتھی بنی اسرائیل والے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔

مسلم اور عبدالمجید نے ابن جریج سے، انہوں نے طاؤس سے روایت کی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عصر کے بعد دو رکعت نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ " طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے کہا، "میں تو انہیں نہیں چھوڑ سکتا۔" اس پر ابن عباس نے یہ آیت تلاوت کی کہ "ما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمراً أن يكونَ لهم الخِيَرَةُ من أمرهم، ومَن يَعْصِ اللهَ ورسوله، فقد ضل ضلالاً مبيناً" یعنی "کسی صاحب ایمان مرد و عورت کے لئے یہ روا نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کر دیں تو ان کے پاس اس معاملے میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔" (الاحزاب 33:36)

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے طاؤس کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کے ذریعے دلیل پیش کی اور اللہ کی کتاب کی آیت تلاوت کر کے بتا دیا کہ جب کسی معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ آ جائے تو یہ لازم ہے کہ اب ان کے پاس کوئی اختیار باقی نہیں رہ گیا۔ طاؤس کو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے خبر واحد کے طریقے ہی پر ملی تھی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اسے رد نہیں کیا، "یہ حدیث تو آپ اکیلے ہی سے مجھے مل رہی ہے، یہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت شدہ نہیں ہے کیونکہ آپ بھول بھی تو سکتے ہیں۔"

سائل: کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ طاؤس نے محض جھجک کے باعث یہ بات (اپنے استاذ) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہ کی ہو؟

شافعی: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ کوئی ان سے وہ بات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے جسے وہ حق سمجھ رہا ہے۔ انہوں نے طاؤس کو عصر کے بعد دو رکعت نماز سے منع کیا تو انہوں نے (بلا جھجک) انہیں کہہ دیا کہ وہ انہیں نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ بات انہوں نے اس سے پہلے کی جب ابھی انہیں یہ معلوم نہ ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا۔

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مزارعت کی ایسی صورتوں سے منع فرمایا جس میں جاگیردار مزارعوں پر ظلم کیا کرتے تھے اور مختلف طریقوں سے ان کا استحصال کرتے تھے۔ اگر ظلم کی یہ صورت نہ ہو تو امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ اور دیگر اہل علم کے نزدیک مزارعت جائز ہے۔

اسفیان نے عمرو (بن دینار) اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: "ہم لوگ مزارعوں کو زمین ایک متعین رقم کے عوض کاشت کے لئے دیتے تھے اور اس میں کوئی حرج بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ جب رافع (بن خدیج) رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا تو ہم نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔"

بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعوں کو زمین دے کر اس سے آمدنی حاصل کرتے تھے اور اسے جائز سمجھتے تھے۔ انہوں نے جب یہ بات ایک ہی شخص سے سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا تو انہوں نے اس کام کو ترک کر دیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکی حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے کو استعمال نہ کیا اور نہ یہ کہا کہ "ہم تو اس پر آج تک عمل کرتے آئے ہیں اور ہم نے اس کے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں سنی۔" اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے حدیث کی عدم موجودگی میں اگر کوئی عمل ہو رہا ہو تو وہ عمل اس خبر کو رد کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے گا۔

مالک زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سونے یا چاندی کا ایک پیالہ اس کے وزن سے زائد قیمت پر بیچ دیا۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا، "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔" معاویہ کہنے لگے، "اس میں کیا حرج ہے؟" ابو دردا نے فرمایا، "معاویہ کے عمل کا عذر کون پیش کرتا ہے۔ میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سناتے ہیں۔ میں اب اس جگہ نہیں رہوں گا۔"

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ حدیث سن کر حجت پوری ہو گئی ہے۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے اختلاف رائے کر رہے ہیں تو ابو درداء رضی اللہ عنہ نے وہ شہر (دمشق) ہی چھوڑ دیا کیونکہ معاویہ نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسے ایک قابل اعتماد شخص کی روایت کو ترک کیا تھا۔

نوٹ: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم سے اختلاف نہیں کیا تھا۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ نے شاید بات کو صحیح طور پر سمجھا نہیں۔ سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ کا مزاج مختلف تھا۔ فتوحات کے نتیجے میں جو مال و دولت مسلمانوں کے ہاں آ رہا تھا اور اس کے نتیجے میں ان کے لائف اسٹائل میں جو تبدیلیاں واقع ہو رہی تھیں ، اسے وہ سخت ناپسند کرتے تھے۔ اس واقعہ میں انہوں نے یہ خیال کیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں قابل اعتماد نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے انہوں نے دمشق شہر ہی چھوڑ دیا۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک شخص سے ملے اور انہوں نے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث بیان کی۔ اس نے اسے متضاد ایک اور روایت پیش کر دی۔ ابو سعید نے فرمایا، "خدا کی قسم! اب میں اور تم اکٹھے اس چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے۔"

ابو سعید رضی اللہ عنہ اس بات پر ناراض ہو گئے کہ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسے ان کی بیان کردہ روایت کیوں قبول نہیں کی اور اس سے مختلف ایک حدیث بیان کر دی۔ اس میں دو باتیں ممکن ہیں۔ ایک تو یہ ان کی حدیث ابو سعید کی حدیث سے متضاد ہو اور دوسرا یہ ہے کہ ایسا نہ ہو (اور کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو۔)

مجھ سے ایک ایسے شخص (ابراہیم بن ابی یحیی) نے روایت بیان کی ہے جس پر میں شک نہیں کر سکتا، انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے مخلد بن خفاف سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے ایک غلام خریدا اور اسے کام پر لگا دیا۔ (کچھ وقت کے بعد) اس کی کچھ خامیوں کا مجھے علم ہوا۔ میں یہ مقدمہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ انہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا کہ اسے (پہلے مالک کو) واپس کر دیا جائے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے میرے خلاف یہ فیصلہ بھی دیا کہ اس غلام کے ذریعے میں نے جو آمدنی کمائی ہے وہ بھی میں (پہلے مالک کو) واپس کر دوں۔

میں اب عروۃ (بن زبیر) رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی۔ وہ کہنے لگے، "رات کو میں ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے مثل مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ آمدنی اس شخص کی ہو گی جس کی ذمہ داری میں وہ غلام تھا۔" میں جلدی سے عمر بن عبدالعزیز کے پاس گیا اور انہیں عروۃ اور عائشہ کے توسط سے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکی یہ حدیث سنائی۔

یہ سن کر عمر نے فرمایا، "آپ کے فیصلے سے بڑھ کر کیا چیز آسان ہو گی۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میرا ارادہ تو سوائے حق فیصلے کے اور کچھ نہ تھا۔ آپ نے مجھ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت پہنچائی ہے۔ اب میں عمر کے (یعنی اپنے) فیصلے کو رد کرتا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کو نافذ کرتا ہوں۔" جب عروۃ ان کے پاس آئے تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آمدنی اس شخص سے واپس لے لی جائے۔"(ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، احمد)

مجھ سے ایک ایسے شخص (ابراہیم بن ابی یحیی) نے روایت بیان کی ہے جس پر میں شک نہیں کر سکتا، انہوں نے ابن ابی ذئب کو کہتے سنا کہ سعد بن ابراہیم نے ایک شخص کے خلاف ربیعۃ بن ابی عبدالرحمٰن کے (سابقہ) فیصلے کے مطابق فیصلہ سنا دیا۔ میں نے انہیں ان کے فیصلے کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بات سنائی تو سعد نے ربیعۃ سے کہا، "یہ ابن ابی ذئب ہیں، میرے نزدیک یہ قابل اعتماد ہیں اور یہ مجھے آپ کے فیصلے کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث سنا رہے ہیں۔" ربیعۃ کہنے لگے، "آپ نے اجتہاد کرتے ہوئے ایک فیصلہ سنا دیا۔" سعد کہنے لگے، "یہ عجیب بات ہے کہ میں سعد بن ام سعد کا فیصلہ نافذ کر دوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے فیصلے کو رد کر دوں۔ نہیں، میں سعد کے فیصلے کو رد کروں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے فیصلے کو نافذ کروں گا۔" انہوں نے فیصلے کی تحریر کو منگوایا، اسے پھاڑا اور پھر دوسرے فریق کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

ابو حنیفہ بن سماک بن فضل الشھابی نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے ابو شریح الکعبی سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فتح مکہ سے سال ارشاد فرمایا: "جس کسی کا کوئی رشتہ دار قتل کر دیا گیا ہو، اس کے لئے دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے، وہ یا تو دیت قبول کر لے یا پھر اگر پسند کرے تو اس کا قصاص لیا جائے۔" (احمد)

ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن ابی ذئب سے پوچھا، "اے ابو حارث! کیا آپ اس روایت پر عمل کر رہے ہیں۔" انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، گرج کر مجھے برا بھلا کہا اور بولے، "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ میں اس پر عمل کیوں کر رہا ہوں۔ ہاں ہاں، میں اس پر عمل کر رہا ہوں۔ یہ مجھ پر فرض ہے۔ یہ اس پر بھی فرض ہے جو اسے سنے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں میں سے محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا انتخاب کیا اور انہیں آپ کے ذریعے ہدایت عطا کی۔ ان کے لئے اس نے اس کا انتخاب کیا جو آپ کے لئے کیا تھا کہ وہ آپ کی باتوں کی پیروی کریں۔ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ جیسے بھی ہو، آپ کی پیروی کریں اور کسی مسلمان کے لئے اس سے نکلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔" ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت تک خاموش نہ ہوئے جب تک میں نے ان کا (غصہ ٹھنڈا کر کے) انہیں خاموش نہ کروایا۔

نوٹ: ابوحنیفہ بن سماک کے یہ سوال کرنے کی وجہ غالبا یہ تھی کہ عربوں کے ہاں قتل عمد کی صورت میں قصاص کی بجائے دیت پر رضا مند ہو جانا بے غیرتی کی علامت تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں اس ذہنیت سے نکالتے ہوئے اس بات کی ترغیب دی کہ دیت قبول کر کے قاتل کو معاف کر دیا جائے تاکہ قاتل اور مقتول کے خاندانوں میں نفرتوں کا لامتناہی سلسلہ چلنے کی بجائے اچھے تعلقات کا آغاز کیا جا سکے۔ ابن ابی ذئب علیہ الرحمۃ نے اس موقع پر جو رد عمل ظاہر کیا، وہ ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قائم کردہ روایات سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

خبر واحد کو قبول کرنے کے ثبوت میں مزید احادیث بھی ہیں لیکن یہی کافی ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر ہمارے اسلاف اور ان کے بعد کی نسلوں نے ہمارے زمانے تک عمل کیا ہے۔ دوسرے شہروں کے اہل علم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ بھی اپنے ہاں اسی طریقے پر عمل کر رہے ہیں۔

نوٹ: امام شافعی علیہ الرحمۃ کے دور تک نقل و حرکت اور مواصلات کے ذرائع اتنے ترقی یافتہ نہ تھے کہ مختلف شہروں کے اہل علم میں علمی مکالمہ عام ہو سکتا۔ عام طور پر جب لوگ کسی وجہ سے سفر کر کے دوسرے شہر جاتے تو وہاں کے اہل علم سے استفادہ کرتے۔ حج کے موقع پر مختلف اہل علم ملتے تو وہ اپنی معلومات کو ایک دوسرے سے شیئر کرتے۔

مدینہ کے سعید کہتے ہیں کہ انہیں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے لین دین سے متعلق ایک حدیث بیان کی اور اس حدیث کو سنت کی حیثیت سے ثابت شدہ قبول کر لیا گیا۔ اسی طرح سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو سنت کی حیثیت سے قبول کر لیا گیا۔ کسی اور بھی صحابی سے حدیث سنی گئی تو اسے سنت کے طور پر قبول کر لیا گیا۔

عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے (غلام کی) آمدنی کو اس کا حق قرار دیا جس پر اس کی ذمہ داری ہو۔" تو یہ حدیث سنت کی حیثیت سے قبول کر لی گئی۔ اسی طرح سیدہ نے آپ سے بہت سے احادیث روایت کی ہیں جنہیں سنت کی حیثیت سے قبول کیا گیا اور ان سے حلال و حرام کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی طرح ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی یا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔ ان معاملات میں بھی خبر واحد ہی سنت کو ثابت کرتی ہے۔

اسی طرح ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ کوئی کہے، عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان کی یا یحیی بن عبدالرحمٰن بن حاطب نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بات روایت کی۔ ان میں سے ہر بات ایک شخص کی خبر سے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوتی ہے۔

قاسم بن محمد سے ہمیں یہ ملتا ہے کہ وہ یہ کہہ رہے ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔ ان میں سے بھی خبر واحد ہی سنت کو ثابت کرتی ہے۔

عبدالرحمٰن اور یزید بن جاریہ کے تمام بیٹے سیدہ خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں۔ اس خبر سے بھی سنت ثابت ہوتی ہے اور وہ ایک خاتون کی دی ہوئی خبر ہے۔

علی بن حسین، عمرو بن عثمان سے، وہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا۔" اس سے بھی سنت ثابت ہوتی ہے اور لوگوں نے ان کی دی ہوئی خبروں کی بنیاد پر سنت ثابت کی ہے۔

اسی طرح محمد بن علی بن حسین نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ عبیداللہ بن ابی رافع نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث کی روایت کی ہے۔ ان سب سے بھی سنت ثابت ہوتی ہے۔

اہل مدینہ کے تمام محدثین جن میں محمد بن جبیر بن مطعم، نافع بن جبیر بن مطعم، یزید بن طلحہ بن رکانہ، محمد بن طلحہ بن رکانہ، نافع بن عجیر بن عبد یزید، ابو اسامہ بن عبدالرحمٰن، حُمید بن عبدالرحمٰن، طلحہ بن عبداللہ بن عوف، مصعب بن سعد بن ابی وقاص، ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف، خارجہ بن زید بن ثابت، عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک، عبداللہ بن ابی قتادہ، سلیمان بن یسار، عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہم اور دیگر شامل ہیں، سب یہ کہتے ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں سے فلاں صاحب سے یہ حدیث سنی ہے۔ یا پھر تابعین میں سے کسی نے صحابہ میں سے کسی صاحب سے حدیث سنی ہے۔ ان سب ذرائع کی بنیاد پر ہم سنت کو ثابت کرتے ہیں۔

عطاء، طاؤس، مجاہد، ابن ابی ملیکہ، عکرمہ بن خالد، عبیداللہ بن ابی یزید، عبداللہ بن باباہ، ابن ابی عمار، اہل مکہ کے محدثین، وھب بن منبہ، شام کے رہنے والے مکحول، عبدالرحمٰن بن غنم، حسن، بصرہ کے ابن سیرین، اسود، علقمہ، کوفہ کے شعبی، لوگوں میں حدیث بیان کرنے والے محدثین اور شہروں کی مشہور شخصیات سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے خبر واحد کے ذریعے سنت کے ثبوت کے قائل ہیں۔ وہ اسی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر فتوی دیتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے سے پہلے لوگوں سے حدیث قبول کرتا ہے اور ان کے بعد والے لوگ ان سے حدیث قبول کرتے ہیں۔

اگر اس خصوصی علم کے بارے میں کسی بھی شخص کے لئے یہ کہنا درست ہو (تو میں یہ کہوں گا کہ) تمام قدیم و جدید مسلمان خبر واحد کے ثابت شدہ ہونے کے قائل ہیں۔ وہ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ میں مسلمانوں کے فقہاء میں سے کسی ایک سے بھی واقف نہیں ہوں جو اس کے ثبوت کو درست قرار نہ دیتا ہو۔

††††††††† میں مزید یہ کہوں گا کہ میں نے مسلمانوں کے فقہاء کو خبر واحد کے ثبوت ہونے کے بارے میں کبھی اختلاف کرتے نہیں پایا ہے اگر یہ ان کے سامنے موجود ہو۔ اگر کسی شخص کو اس میں شبہ ہو اور وہ یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے تو یہ یہ حدیث مروی ہے جبکہ فلاں صاحب اس سے مختلف بات کرتے ہیں۔

††††††††† میرے نزدیک کسی عالم کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ خبر واحد کی بنیاد پر حلال و حرام کے کثیر احکام ثابت کرے اگر اس کے پاس اس سے متضاد حدیث موجود ہو۔ یا اس نے جو حدیث سنی ہو اور جس سے سنی ہو، اس سے زیادہ قابل اعتماد شخص سے اسے اس کے خلاف حدیث ملے (تو اسے قابل اعتماد شخص کی بیان کردہ حدیث کو قبول کرنا چاہیے۔) اگر جس سے وہ حدیث سن رہا ہے وہ اسے محفوظ رکھنے والا نہیں ہے یا اس پر کوئی الزام لگا ہو یا جس سے اس نے حدیث سنی ہے اس پر الزام لگا ہو (تو اس شخص کی بیان کردہ حدیث کو چھوڑ دیا جائے گا۔)

††††††††† یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حدیث میں دو معنی کا احتمال ہو تو ایک معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی کو اختیار کیا جائے گا۔

††††††††† کسی کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیے کہ ایک سمجھ دار اور عقل مند فقیہ خبر واحد کی بنیاد پر سنت کو ایک یا کئی بار ثابت کرے گا، اس کے بعد وہ اسی کے مثل کسی اور حدیث یا اس سے مضبوط کسی اور حدیث کی بنیاد پر اسے ترک کر دے گا۔ یہ عمل درست نہیں ہے سوائے اس کے کہ:

اس نے ایسا حدیث بیان کرنے والے پر کسی الزام کے باعث ہو؛

یا اس کے خلاف کسی اور حدیث سے معلومات حاصل ہوتی ہوں؛

       یا پھر اس حدیث میں مختلف تاویل (Interpretation) کی گنجائش ہو جیسا کہ قرآن میں بھی مختلف مفسر مختلف تفاسیر کرتے ہیں۔

سائل: زیادہ تر فقہا کثیر تعداد میں روایات کو قبول کرتے ہیں اور قلیل روایات کو ترک کرتے ہیں۔

شافعی: جو وجوہات میں نے بیان کی ہیں ان کے علاوہ کسی اور وجہ سے روایت کو ترک کر دینا جائز نہیں ہے۔ جہاں تک تابعین یا ان کے بعد کے افراد کی آراء کا تعلق ہے تو انہیں قبول کرنا کسی شخص کے لئے لازم نہیں ہے۔ ان کے اقوال کو محض معلومات کے لئے روایت کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یا خلاف رائے قائم کرنا کسی کے لئے ضروری نہیں ہے۔

††††††††† اگر کسی شخص نے ان وجوہات کے علاوہ حدیث کو ترک کرتا ہے اور اس کا عذر پیش کرتا ہے تو اس نے غلطی کی اور ہمارے نزدیک اس کا عذر قابل قبول نہیں ہے۔

سائل: کیا آپ کے استعمال کردہ لفظ "حجت" کے مفہوم میں (مختلف صورتوں میں) کچھ فرق واقع ہوتا ہے؟

شافعی: جی ہاں۔

سائل: اس کی تفصیل بیان فرمائیے۔

شافعی: جہاں تک تو کتاب اللہ کی کسی واضح نص یا ایسی سنت کا تعلق ہے جس پر اتفاق رائے ہو تو اس پر تو بات ہی ختم ہو گئی۔ کسی کے لئے اس میں شک کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ جو اس سے انکار کرے، اسے توبہ کرنے کے لئے کہا جائے گا۔

††††††††† جہاں تک مخصوص افراد سے حاصل ہونے والی ایسی خبر (یعنی خبر واحد) کا تعلق ہے جس میں متضاد باتیں روایت ہوئی ہوں یا پھر اس خبر کی مختلف توجیہات (Interpretations) کی گنجائش ہو اور یہ خبر انفرادی ذرائع سے ہم تک پہنچی ہو تو اس کی حجت میرے نزدیک یہ ہے کہ اس کے جاننے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں اگر یہ کسی نص صریح کے خلاف نہ ہو۔ یہ معاملہ ایسا ہی ہے کہ ان پر لازم ہے کہ وہ قابل اعتماد افراد کی گواہی کو قبول کریں کیونکہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کتاب اللہ کی نص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے متواتر خبر سے انہیں کوئی بات ملی ہو۔

††††††††† اگر اس میں کسی کو شک ہو تو ہم اسے یہ نہیں کہیں گے کہ توبہ کرو۔ ہم اسے کہیں گے کہ اگر آپ ایک عالم ہیں تو پھر شک نہ کریں۔ یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسا کہ آپ اچھے کردار والے گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں اگرچہ اس کا امکان ہوتا ہے کہ وہ غلطی کر جائیں۔ آپ سے یہی مطالبہ ہے کہ ان گواہوں سے متعلق ظاہری معلومات کی روشنی ہی میں فیصلہ کر لیں باقی جو کچھ پوشیدہ ہے اسے اللہ پر چھوڑ دیں۔

سائل: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جس شخص کو ایک منقطع (ٹوٹی ہوئی سند والی) حدیث ملے تو اس کی بنیاد پر اس پر حجت تمام ہو جاتی ہے؟ کیا منقطع احادیث کا معاملہ (متصل احادیث سے) مختلف ہے یا ان ہی کی طرح ہے؟

شافعی: منقطع احادیث مختلف اقسام کی ہوا کرتی ہیں۔ جب تابعین میں سے کسی کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ سے ہوئی اور انہوں نے ان سے ایسی بات روایت کی جس کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک منقطع ہے تو اس کی ان زاویوں سے چھان بین کی جائے گی:

       حدیث کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کے (دیگر) ذرائع پر غور کیا جائے گا۔ اگر اسی معنی کی ایک اور حدیث (دوسرے سلسلہ سند میں) حدیث کو محفوظ رکھنے والے راویوں نے روایت کی ہے اور اس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک پہنچ رہی ہے تو اس سے اس منقطع حدیث کے بارے میں بھی معلوم ہو جائے گا کہ یہ حدیث بھی قابل قبول اور صحیح ہے۔

       اگر اس حدیث کو کسی ایک ذریعے سے بھی روایت کیا گیا ہے اور اس میں دوسرے سلسلہ ہائے اسناد شامل نہیں بھی ہیں تب بھی اس انفرادی روایت کو (چند شرائط کی بنیاد پر) قبول کیا جا سکتا ہے۔ یہ دیکھا جائے گا کہ اس (منقطع اسناد والی) حدیث کو کسی دوسرے ایسے شخص نے بھی روایت کیا ہے جس کی احادیث عام طور پر اہل علم کے نزدیک قابل قبول ہوتی ہیں۔ اگر ایسی بات ہو تو اس حدیث کو قبول کر لیا جائے گا اگرچہ یہ پہلے نکتے میں بیان کئے گئے طریقے سے ثابت شدہ حدیث کی نسبت کمزور درجے کی ہو گی۔

       اگر ایسا بھی نہ ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کسی صحابی کا قول اس (حدیث میں کی گئی بات کے) مطابق ہے۔ اگر وہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب اس حدیث کے مطابق ہے تو اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ یہ ایک منقطع روایت ہے لیکن اپنی اصل میں درست ہے۔

       اگر اہل علم (کی اکثریت) عام طور پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسے منسوب اس منقطع روایت سے ملتے جلتے مفہوم کے مطابق فتوی دیتے ہیں تو اس کا بھی یہی معاملہ ہے۔

       ان صورتوں میں اس منقطع حدیث پر اعتبار کیا جائے گا اگر اس کے روایت کرنے والے حضرات گمنام نہ ہوں اور نہ ہی ان سے روایت کرنے پر کوئی اعتراض کیا گیا ہو۔ اس صورت میں ان کی روایت کے درست ہونے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

       اگر کوئی شخص ایسی روایت بیان کرتا ہے جسے کسی حافظ حدیث نے بھی روایت کیا ہو اور ان کی بیان کردہ احادیث میں تضاد نہ ہو، یا اگر تضاد ہو بھی تو حافظ حدیث کی بیان کردہ حدیث میں کوئی نقص ہو، تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس شخص کی حدیث صحیح ہے۔

جو کچھ میں نے عرض کیا اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہ ہو تو پھر اس حدیث (کی صحت کو) نقصان پہنچے گا اور اسے کوئی بھی قبول نہ کرے گا۔ اگر اس حدیث کی صحت کے بارے میں یہ دلائل ہوں جو میں نے ابھی بیان کئے تو پھر ہم اسے قبول کرنے کو پسند کریں گے۔ ہم یہ دعوی تو پھر بھی نہیں کر سکیں گے کہ اس حدیث کا ثبوت کسی ایسی حدیث جیسا ہے جس کی سند نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک متصل ہو۔

††††††††† اس کی وجہ یہ ہے کہ منقطع روایت (کی سند) میں کوئی نام غائب ہوتا ہے۔ اگرچہ اس بات کا احتمال ہوتا ہے کہ اس (خالی جگہ پر) کوئی ایسا راوی ہو، جس کا نام اگر معلوم ہوتا تو اس کی روایت کو قبول کر لیا جاتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ احتمال بھی ہوتا ہے کہ اس (خالی جگہ پر) کسی ایسے شخص کا نام ہو جس کی روایت کو قبول نہ کیا جا سکتا ہو۔ یہ اس صورت میں بھی ہو گا اگر اس حدیث اور ایسی دیگر منقطع احادیث کا منبع ایک ہی ہو۔

††††††††† ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک راوی یہ کہہ دے کہ اس معاملے میں بعض صحابہ کی رائے اس کی رائے کے حق میں ہے۔ بظاہر تو یہ اس حدیث کے صحیح ہونے کی علامت ہے لیکن اس میں یہ بھی قوی امکان ہے اسے غلط فہمی ہوئی ہو کہ بعض صحابہ اس سے اتفاق رائے رکھتے ہیں جیسا کہ وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ بعض قانونی امور کے ماہر فقہا اس سے اتفاق رائے رکھ رہے ہیں۔

††††††††† اکابر تابعین یعنی وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکے صحابہ سے اکثر اوقات ملا کرتے تھے، کے علاوہ (دیگر تابعین) میں سے ہم کسی ایسے شخص سے واقف نہیں جن کی مرسل روایات کو قبول کیا جاتا ہو۔ اس کی وجوہات یہ ہیں:

       ان کی ملاقات ان صحابہ سے اتنی زیادہ نہیں ہوئی جن سے وہ حدیث کو روایت کر رہے ہیں۔

       ان کی روایات میں ایسی علامات پائی جائیں جو حدیث کے صحیح منبع کے بارے میں کمزوری ظاہر کریں۔

       ان کی روایات میں کثرت سے اختلافات پائے جائیں جو اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے بات کو صحیح طور پر سمجھا نہیں جس کے باعث ان کی روایت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا ہو۔

اہل علم میں سے بعض لوگوں نے مجھے بتایا ہے (اور میرا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ):

       حدیث بیان کرنے والے بعض اوقات گروہ بندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

       کچھ لوگ آسانی سے حاصل ہونے والی احادیث پر ہی قناعت کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کرتے کہ وہ اس سے زیادہ ویسے ہی یا اس سے بہتر ذرائع سے مزید احادیث حاصل کریں۔ یہ لوگ علم کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔

       دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس طریقے پر تنقید کرتے ہیں اور اپنے (احادیث کے) علم کو وسیع کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ (اپنے اس جذبے کے باعث) وہ ایسے لوگوں سے بھی روایات قبول کر لیتے ہیں جن کی روایات کا قبول نہ کرنا ہی بہتر ہے۔

       ان میں اکثر کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ لا پرواہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایسے لوگوں سے بھی روایات قبول کرنے لگ جاتے ہیں جن کی ایسی ہی یا بہتر روایات کو وہ خود پہلے (اپنی احتیاط پسندی کے دور میں) مسترد کر چکے ہوتے ہیں۔

       یہ لوگ سند میں رد و بدل کی گئی احادیث کو بھی قبول کر لیتے ہیں۔

       اگر ایک ضعیف حدیث ان کے نقطہ نظر کے مطابق ہو تو یہ اسے قبول کر لیتے ہیں اور اگر ایک قابل اعتماد راوی کی حدیث ان کے نقطہ نظر کے حق میں ہو تو وہ اسے رد کر دیتے ہیں۔

       سند میں رد و بدل کئی اعتبار سے ہوتا ہے۔ جب کوئی تجربے کار اور محتاط عالم اس کی تفصیلات کی چھان بین کرتا ہے تو وہ ظاہری علامات کو دیکھ کر ہی پریشان ہو جاتا ہے کہ اکابر تابعین کے بعد ہر شخص نے مرسل احادیث بیان کی ہیں۔

نوٹ: مرسل ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کے سلسلہ سند میں صحابی کا نام بیان نہ کیا گیا ہو۔ یہ منقطع حدیث کی ایک قسم ہے۔ اسے انہی شرائط کی بنیاد پر قبول کیا جائے گا جو منقطع حدیث کے بارے میں امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اوپر بیان کر دی ہیں۔

سائل: آپ کس وجہ سے کبار تابعین جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اکثر صحابہ سے ملاقات ہوتی تھی اور دیگر تابعین جن کی بعض صحابہ سے ملاقات ہوئی تھی، فرق کرتے ہیں؟

شافعی: جس نے ان میں سے اکثر سے ملاقات نہیں کی اس کے لئے ان سے روایت میں تبدیلیاں رونما ہو جائیں گی۔

سائل: آپ ان سے مرسل روایات کو قبول کیوں نہیں کرتے جبکہ ان میں سے اکثر فقہا ہیں؟

شافعی: ان وجوہات کے باعث جو میں بیان کر چکا ہوں۔

سائل: کیا کسی قابل اعتماد (تابعی) سے کوئی ایسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مرسل طریقے سے روایت کی گئی ہے جسے اہل فقہ نے قبول نہ کیا ہو؟

شافعی: جی ہاں۔

سفیان نے محمد بن المنکدر سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، "یا رسول اللہ! میرے پاس مال ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ میرے والد صاحب کے پاس بھی مال و دولت ہے اور ان کے بال بچے بھی ہیں۔ وہ میرا مال لے کر اپنے اہل و عیال کو کھلانا چاہتے ہیں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "تم اور تمہارا مال تمہارے باپ ہی کا تو ہے۔" (احمد نے اسے عمرو بن شعیب، انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔)

سائل: ہم تو اس حدیث کو قبول نہیں کرتے لیکن آپ کے بعض ساتھی اسے قبول کرتے ہیں۔

شافعی: جی نہیں۔ جو اسے قبول کر لیتا ہے وہ امیر باپ کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے مال کو اس سے لے لے۔

سائل: یہ ٹھیک ہے، لیکن لوگ اس کے بارے میں اختلاف کیوں کرتے ہیں؟

شافعی: اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت شدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے بیٹے (کے فوت ہونے کی صورت میں) باپ کو اس کی وراثت میں سے دوسرے وارثوں کی طرح حصے دار بنایا ہے۔ بعض دوسرے وارثوں کی نسبت اس کا حصہ بھی کم رکھا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیٹا خود اپنے مال کا مالک ہے نہ کہ اس کا باپ۔

سائل: کیا محمد بن المنکدر آپ کے خیال میں آخری درجے کے قابل اعتماد راوی نہیں ہیں؟

شافعی: جی ہاں۔ دینی معاملات میں ان کی فضیلت اور ان کا تقوی تو ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کس سے اس حدیث کو قبول کیا ہے۔ میں آپ سے بیان کر چکا ہوں کہ اگر دو اچھے کردار والے افراد کسی شخص کے (کردار کے) بارے میں گواہی دے دیں تو اس وقت تک ان کی گواہی کو اس وقت تک قبول نہ کیا جائے گا جب تک کہ خود ان کے کردار کی اور ذرائع سے تصدیق نہ کر لی جائے۔

سائل: کیا آپ اس کے مثل کوئی اور حدیث بیان فرمائیں گے؟

شافعی: جی ہاں۔

ایک قابل اعتماد شخص نے ابن ابی ذئب سے اور انہوں نے ابن شہاب زہری سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک ایسے شخص کو جو حالت نماز میں ہنس پڑا تھا حکم دیا کہ وہ نماز اور وضو کو دوبارہ کرے۔

ہم اس حدیث کو قبول نہیں کر سکتے کیونکہ یہ مرسل ہے۔

یہی حدیث ہمیں ایک قابل اعتماد شخص نے معمر، انہوں نے ابن شہاب، انہوں نے سلیمان بن ارقم اور انہوں نے حسن (بصری) اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کی ہے۔

ہمارے نزدیک ابن شہاب (زہری) حدیث اور قابل اعتماد راویوں کا انتخاب کرنے میں امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعض صحابہ اور تابعین میں سے بہترین لوگوں سے حدیث روایت کی اور ہم ابن شہاب کے علاوہ کسی اور محدث سے واقف نہیں ہیں جس نے ان سے بہتر صحابہ و تابعین سے روایت کی ہو۔

سائل: میں سمجھتا ہوں کہ یہ عجیب بات ہے کہ وہ سلیمان بن ارقم سے روایت کرتے ہیں۔

شافعی: میرے خیال میں وہ انہیں اچھا اور عقل مند انسان سمجھتے تھے اور ان کے بارے میں اچھا گمان رکھتے تھے، اس وجہ سے انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔ وہ (حدیث بیان کرتے ہوئے) ان کا نام حذف کر دیا کرتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ سلیمان ان سے عمر میں چھوٹے تھے یا ہو سکتا ہے کہ کوئی اور وجہ ہو۔ جب معمر نے ان سے سلیمان کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ان کی سند بیان کر دی۔ ممکن ہے ابن شہاب نے میری بیان کردہ وجوہات کے باعث سلیمان کی روایات کو قبول کیا ہے لیکن دوسرے راویوں پر اس طرح سے اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

سائل: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی متصل سند کے ساتھ کوئی ایسی ثابت شدہ سنت ہے جس کا سب لوگوں نے انکار کیا ہو؟

شافعی: جی نہیں۔ ہاں ایسا ضرور ہوا ہے کہ لوگوں میں اس کے بارے میں اختلاف رائے ہوا ہو۔ کچھ لوگوں نے اس کے مطابق نقطہ نظر اختیار کیا ہو اور کچھ نے اس کے خلاف۔ ایسی سنت جس کے خلاف نقطہ نظر پر اجماع ہو گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مرسل روایات کے بارے میں ایسی صورتیں مجھے ضرور ملی ہیں۔

††††††††† (شافعی نے اس شخص سے کہا:) آپ نے مجھ سے مرسل روایات کی تردید کے بارے میں پوچھا اور ان کی تردید بھی کر دی لیکن اس سے تجاوز کرتے ہوئے آپ مسند احادیث کی تردید بھی کرتے ہیں جن کو قبول کرنا ہمارے نزدیک آپ پر لازم ہے۔

نوٹ: "مسند" ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کے سلسلہ سند میں یہ صراحت ہو کہ ہر راوی نے اس حدیث کو ایسی عمر میں روایت کیا ہے جو سیکھنے سکھانے کے لئے موزوں ہے۔ یعنی ہر راوی اس حدیث کو بچپن یا انتہائی بڑھاپے کی بجائے ایسی عمر میں بیان کر رہا ہے جب اس کے حواس اور عقل کام کر رہے ہوں۔ اگر یہ تمام راوی قابل اعتماد ہوں تو یہ حدیث انتہائی مستند ہو جایا کرتی ہے۔

 

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter