بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حصہ چہارم: اجماع، قیاس، اجتہاد اور اختلاف رائے

یہ حصہ اجماع، قیاس، اجتہاد اور اختلاف رائے سے متعلق اصولوں پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں امام شافعی نے یہ اصول بیان کیے ہیں:

        مسلمانوں کے ہاں اگر قرآن و سنت کے کسی حکم سے متعلق اتفاق رائے پایا جائے گا کہ یہ حکم اللہ تعالی نے ہمیں دیا ہے تو اس اجماع کو قبول کیا جائے گا اور یہ پوری طرح حجت ہے۔

        ہر عالم دین حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اجتہاد اور قیاس کرنے کا مکلف ہے۔ جو معلومات اس سے پوشیدہ، وہ ان کی بنیاد پر اجتہاد اور قیاس کرنے کا مکلف نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی استطاعت سے باہر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک عالم کو اپنے علم میں اضافے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

        اجتہاد دینی احکام معلوم کرنے کے عمل کا نام ہے۔ اگر کسی بارے میں قرآن و سنت میں کوئی واضح حکم نہ پایا جائے تو پھر اجتہاد کیا جائے گا اور درست بات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

        اجتہاد میں اختلاف رائے ہونا ممکن ہے۔ ہر مجتہد جب دستیاب معلومات کی بنیاد پر اجتہاد کرے گا تو اس کے نتائج دوسرے عالم کے نتائج سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر عالم اپنے اجتہاد پر عمل کرنے کا مکلف ہو گا اور ان پر دوسرے کی رائے کے مطابق عمل کرنا ضروری نہ ہو گا۔

        اجتہاد و قیاس صرف ایسے عالم کو کرنا چاہیے جو (کتاب و سنت کے) احکام سے اچھی طرح واقف ہو اور ان احکام سے مشابہت تلاش کرنے میں عقل سے کام لینا جانتا ہو۔

        اس شخص کے سوا کسی اور کو قیاس نہیں کرنا چاہیے جو قیاس کی بنیادوں سے پوری طرح واقف ہے۔ قیاس کی بنیاد کتاب اللہ کے احکام، اس کے فرائض، اس میں سکھائے گئے آداب، اس کے ناسخ و منسوخ احکام، اس کے عمومی اور خصوصی احکام، اور اس کی دی ہوئی ہدایات ہیں۔

        اجتہاد کرتے ہوئے کتاب اللہ کے کسی حکم کی اگر تاویل و توجیہ کی ضرورت ہو تو ایسا سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اگر سنت نہ ملے تو مسلمانوں کے اجماع کی روشنی میں ورنہ قیاس کے ذریعے۔

        کوئی شخص قیاس کرنے کا اہل اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ وہ سنت، اسلاف کے نقطہ ہائے نظر، لوگوں کے اجماع، ان کے اختلاف، اور عربی زبان سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ قیاس کرنے والے کو صحیح العقل ہونا چاہیے اور ایسا اس وقت ہو گا جب وہ بظاہر مشابہ امور میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ ثبوت کے بغیر جلد بازی میں رائے قائم کرنے والا نہ ہو۔ وہ اپنے سے مختلف آراء کو بغیر کسی تعصب کے سننے والا ہو۔

        انسان کا جھکاؤ ایک رائے کی طرف زیادہ نہیں ہونا چاہیے یہاں تک کہ اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ وہ جو رائے اختیار کرنے جا رہا ہے وہ کس وجہ سے دوسری رائے جسے وہ ترک کر رہا ہے سے زیادہ مضبوط ہے۔

        اگر وہ کسی بات کو سمجھے بغیر محض یادداشت کے سہارے محفوظ کئے ہوئے ہے تو اسے بھی قیاس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ معانی سے واقف نہیں ہے۔

        اگر ایسا شخص جس کی یادداشت اچھی ہے لیکن اس کی عقل میں کمی ہے یا وہ عربی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں تو اس کے لئے قیاس کا استعمال بھی درست نہیں کیونکہ وہ ان آلات (Tools) یعنی عقل اور عربی زبان کو صحیح طرح استعمال نہیں کر سکتا جن کی قیاس میں ضرورت پڑتی ہے۔

        اگر اللہ تعالی نے کسی چھوٹی چیز سے منع فرمایا تو اس پر قیاس کرتے ہوئے اس سے بڑی چیز کو بھی حرام قرار دیا جائے گا۔ مثلاً بدگمانی پر قیاس کرتے ہوئے تہمت لگانے، عیب جوئی کرنے اور کسی عزت اچھالنے کو حرام قرار دیا جائے گا۔ یہ قیاس کی مضبوط ترین شکل ہے۔

        اگر کوئی حکم استثنائی صورتحال کے لئے دیا گیا ہو تو اسے صرف اسی صورت تک محدود رکھا جائے گا اور اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔

        جو احکام کتاب و سنت میں واضح طور پر بیان فرما دیے گئے ہیں انسے اختلاف کرنا کسی بھی شخص کے لئے جائز نہیں ہے۔ دوسری قسم کے معاملات وہ ہیں جس میں کسی آیت یا حدیث کی مختلف توجیہات ممکن ہوں، اس میں قیاس کیا جا سکتا ہو اور ایک توجیہ یا قیاس کرنے والا عالم ایک معنی کو اختیار کر لے اور دوسرا دوسرے معنی کو، تو ایسا اختلاف جائز ہے۔

        اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں کسی مسئلے پر مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہوں تو اس نقطہ نظر کو اختیار کیا جائے گا جو کتاب اللہ، یا سنت، یا اجماع کے زیادہ قریب ہے یا قیاس کی بنیاد پر جو زیادہ صحیح ہے۔


 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter