بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 11:اجماع (اتفاق رائے)

سائل: میں نے اللہ اور پھر اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے احکام سے متعلق آپ کا نقطہ نظر سمجھ لیا ہے۔ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی بات قبول کرتا ہے وہ دراصل اللہ تعالی سے کی بات کو قبول کر رہا ہوتا ہے کیونکہ اللہ نے اپنے رسول کی اطاعت کو فرض کیا ہے۔ جو کچھ آپ نے بیان فرمایا اس سے اس بات تو حجت قائم ہو گئی کہ کسی ایسے مسلمان جو کہ کتاب و سنت کا علم رکھتا ہو، کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے خلاف بھی کوئی بات کرے۔ میں یہ سمجھ چکا ہوں کہ یہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ فرض ہے۔ ایسے معاملات جن میں اللہ تعالی یا اس کے نبی نے کوئی واضح حکم نہیں دیا ہے ان میں لوگوں کے اجماع کی پیروی کرنے کے بارے میں آپ کی کیا دلیل ہے۔ کیا آپ کی بھی وہی رائے ہے جو دوسرے اہل علم کی ہے کہ اجماع صرف اور صرف کسی ثابت شدہ سنت کی بنیاد پر ہی ہو گا اگرچہ اس کو روایت نہ کیا گیا ہو؟

شافعی: جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کیا جائے اور اس پر لوگوں کا اجماع ہو جائے تو جیسا کہ دوسرے اہل علم کہتے ہیں (کہ یہ حجت ہے۔) رہی بات ایسے اجماع کی جس کے بارے میں یہ شک پایا جاتا ہو کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے یا نہیں کیا گیا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کرنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بات کو صرف اسی صورت میں آپ سے منسوب کیا جا سکتا ہے جب وہ آپ سے سنی گئی ہو۔ کسی بات کو محض وہم کی بنیاد پر آپ سے منسوب کرنا درست نہیں ہے۔

††††††††† (پہلے معاملے میں) ہم اجماع عام کی پیروی کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے عام لوگ ناواقف نہیں ہو سکتے اگرچہ بعض سنتوں سے بعض لوگوں سے ناواقف ہوں۔ لوگ عام طور خلاف سنت امور پر اتفاق رائے نہیں کر سکتے اور نہ ہی غلط امور پر۔

سائل: جو بات آپ فرما رہے ہیں کیا اس کے حق میں کوئی دلیل ہے؟

شافعی: (یہ حدیث ہے)۔

سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود سے اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس شخص کو خوشحالی و کامیابی عطا کرے جس نے میری باتوں کو غور سے سنا، انہیں محفوظ کیا اور انہیں دوسروں تک پہنچایا۔ بعض اوقات ایک بات پہنچانے والا خود اعلی درجے کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا اس وجہ سے اسے یہ بات اس شخص تک پہنچا دینی چاہیے جو اس سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔ تین چیزوں کے بارے میں کسی مسلمان کا دل تنگ نہیں پڑتا: اللہ کے لئے عمل میں خلوص نیت، مسلمانوں کی خیر خواہی، اور نظم اجتماعی (یعنی حکومت) سے وابستہ رہنا۔ ان چیزوں کی طرف بلانا (شیطانی) وسوسوں سے انسان کی حفاظت کرتا ہے۔" (بیہقی، احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی نے اسے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا)

سفیان نے عبداللہ بن ابی لبید سے، انہوں نے ابن سلیمان بن یسار سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیا اور فرمانے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اس مقام پر اللہ کے حکم سے کھڑے ہوئے جیسا کہ میں اس مقام پر کھڑا ہوں، اور آپ نے فرمایا: "میرے صحابہ کا احترام کرو، پھر ان کے بعد آنے والوں (تابعین) کا اور پھر ان کے بعد آنے والوں (تبع تابعین) کا۔ اس کے بعد تو جھوٹ ظاہر ہو جائے گا، لوگ قسم کھانے کے مطالبے کے بغیر ہی قسم کھانے لگیں گے، اور گواہی کے مطالبے کے بغیر ہی گواہی دیں گے۔

††††††††††† سوائے ان لوگوں کے جو جنت کی خوشحالی چاہتے ہیں، وہی لوگ حکومت کی پیروی کریں گے۔ شیطان ایک شخص کو تو (آسانی سے) بہکا لیتا ہے لیکن دو سے دور کھڑا رہتا ہے۔ تم میں سےکوئی شخص کسی خاتون کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو کیونکہ (ایسی صورت میں) ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ جو شخص نیکی کے ساتھ خوش ہو اور برائی کو ناپسند کرتا ہو تو وہی صاحب ایمان ہے۔ (احمد، طیالسی، ترمذی، حاکم)

سائل: جماعت کے ساتھ وابستہ ہونے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم سے کیا مراد ہے؟

نوٹ: عہد رسالت کی عربی زبان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اس دور میں لفظ "جماعت" سے مراد "حکومت" لیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بہت سے احادیث میں حکومت کی پیروی کرنے کا حکم دیا۔ بخاری، کتاب الامارۃ کی دو احادیث کچھ اس طرح سے ہیں:

فانه من فارق الجماعة شبرا فمات الامات ميتة جاهلية.

جو ایک بالشت کے برابر بھی جماعت سے الگ ہوا، اور وہ فوت ہو گیا تو وہ جاہلیت کی موت ہی مرا۔

فانه من خرج من السلطان شبرا مات ميتة جاهلية.

جو ایک بالشت کے برابر بھی حکومت کی اطاعت سے نکلا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔

ان دونوں احادیث سے یہ بالکل متعین ہو جاتا ہے کہ دین اسلام میں حکومت کی اطاعت کی کتنی اہمیت ہے اگر حکومت اللہ تعالی کے احکامات کے خلاف کوئی حکم نہ دے رہی ہو۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ دور میں بعض لوگوں نے ان احادیث میں "جماعت" سے "حکومت" کی بجائے "تنظیم" مراد لے کر ان احادیث کو حکومت کی بجائے اپنی تنظیموں سے متعلق کر لیا ہے اور وہ لوگوں سے ان احادیث کی بنیاد پر اپنی اطاعت اور حکومت کی نافرمانی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

شافعی: اس کا صرف ایک ہی معنی ہے۔

سائل: صرف ایک ہی معنی کیسے ہو سکتا ہے۔

شافعی: اگر مسلمانوں کی جماعت (کمیونٹی) مختلف ممالک میں بکھری ہوئی ہو تو اس بکھری ہوئی جماعت کی پیروی کرنا کسی کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بکھری ہوئی جماعت میں تو مسلمان، کافر، نیک اور بد سبھی شامل ہوں گے۔ اس وجہ سے مسلمانوں کی بکھری ہوئی کمیونٹی کی پیروی کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ جماعت کی پیروی کا اس کے سوا اور کوئی مطلب نہیں ہو سکتا کہ جس چیز کو پوری جماعت حلال یا حرام قرار دے، اس کی پیروی کی جائے۔

††††††††† جو شخص مسلمانوں کی جماعتکے نقطہ نظر کے مطابق رائے رکھتا ہے اس نے جماعت کی پیروی کر لی ہے اور جو اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو وہ جماعت کی مخالفت کر رہا ہے۔ گروہ بندی سے ہی (دین کے احکام میں) غفلت پیدا ہوتی ہے۔ پوری مسلمان کمیونٹی میں (بحیثیت مجموعی) کتاب، سنت اور قیاس کے بارے میں غلطی نہیں پائی جائے گی۔


 

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی /††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter