بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 12:قیاس

سائل: آپ کس بنیاد پر یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ اگر کتاب اللہ، سنت اور اجماع موجود نہ ہوں تو قیاس کیا جائے گا؟ کیا قیاس کے بارے میں کوئی حدیث موجود ہے؟

شافعی: اگر قیاس کتاب و سنت کی نص میں موجود ہوتا تو اسے کتاب کا یا سنت کا حکم کہا جاتا نہ کہ اس کا نام ہم "قیاس" رکھتے۔

سائل: تو پھر "قیاس" کیا چیز ہے؟ کیا یہ اجتہاد کا دوسرا نام ہے یا یہ دونوں مختلف ہیں؟

شافعی: یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔

سائل: ان میں کیا مشترک بات ہے؟

شافعی: ایک مسلمان فقیہ جب کسی معاملے میں غور کرتا ہے تو یا تو وہ (قرآن و سنت کے) کسی لازمی حکم پر پہنچتا ہے اور یا پھر کسی دلیل کی بنیاد پر درست بات تک پہنچتا ہے۔ اگر اس معاملے میں (قرآن و سنت کا) کوئی واضح حکم موجود ہے تو اس کی پیروی کی جائے گی اور اگر ایسا واضح حکم نہ ملے تو پھر اجتہاد کے ذریعے درست بات معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اجتہاد قیاس ہی کو کہتے ہیں۔

نوٹ: قیاس ایک حکم کی وجہ کی بنیاد پر دوسرے حکم کو اخذ کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ دین نے "نشے" کے باعث شراب کو حرام کیا گیا ہے۔ "نشہ" شراب کے حرام ہونے کی علت یعنی وجہ ہے۔ اگر یہ نشہ کسی اور چیز میں بھی پایا جائے گا تو وہ بھی حرام قرار پائے گی۔ اسی بنیاد پر اہل علم چرس، ہیروئن، افیون اور دیگر نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔

††††††††† قیاس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ اسلامی قانون میں اونٹ، گائے اور بکری پر زکوۃ عائد کی گئی ہے۔ بھینس عرب میں موجود نہ تھی۔ جب مسلمان دوسرے علاقوں میں پہنچے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ بھینس پر کس جانور پر قیاس کرتے ہوئے زکوۃ عائد کی جائے۔ اہل علم نے گائے سے اس کی مشابہت کی بنیاد پر اس پر اسی شرح سے زکوۃ عائد کی جو گائے کے دین میں مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح قیامت تک مال و دولت کی جو مزید شکلیں پیدا ہوتی رہیں گی، انہیں سابقہ اشیا پر قیاس کرتے ہوئے ان پر زکوۃ عائد کی جاتی رہے گی۔ مثلاً جدید صنعتی پیداوار اور سروس انڈسٹری کے ٹرن اوور کے بارےمیں بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ان پر وہی زکوۃ عائد کرنی چاہیے جو کہ زرعی پیداوار کی زکوۃ ہے۔

سائل: جب اہل علم قیاس کرتے ہیں تو کیا وہ حق بات تک پہنچ جاتے ہیں جو اللہ کے نزدیک حق ہے۔ کیا قیاس میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے؟ کیا ہر سوال کا ایک ہی جواب ممکن ہے یا پھر اس کے مختلف جواب ہو سکتے ہیں؟ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ قیاس ظاہری معلومات کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا اور مخفی معلومات کو نظر انداز کیا جائے گا؟ کیا اختلاف رائے کرنا درست ہے؟ کیا (قیاس کا یہ عمل) ان کے ذاتی معاملات میں دوسروں سے متعلق معاملات کی نسبت مختلف ہوتا ہے؟ کس شخص کو صرف اپنے سے متعلق معاملات ہی میں قیاس کرنا چاہیے اور دوسروں سے متعلق معاملات میں قیاس نہیں کرنا چاہیے اور کسی شخص کو اپنے علاوہ دوسروں کے معاملات میں بھی قیاس سے کام لینا چاہیے؟

شافعی: علم کئی طرح سے حاصل ہوتا ہے: ایک تو وہ جو ظاہری اور مخفی دونوں قسم کی معلومات پر مبنی ہوتا ہے اور دوسرا صرف ظاہری معلومات پر۔ ظاہری و باطنی معلومات پر مبنی علم اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کو (کثیر تعداد میں) عام لوگوں سے عام لوگوں تک (متواتر) نقل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ دونوں (یعنی کتاب و سنت) ہی وہ بنیاد ہیں جن سے حلال کام کے حلال ہونے اور حرام کام کے حرام ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ وہ علم ہے جس میں نہ تو کسی کو شک ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی کو اس سے بے خبر ہونا چاہیے۔

††††††††† دوسری قسم کا علم وہ ہے جو خاص لوگوں سے خاص لوگوں نے روایت کیا ہے اور ان کے علاوہ عام لوگ اسے جاننے کے مکلف نہیں ہیں۔ یہ علم ان اہل علم یا ان میں بعض افراد کے پاس ہو سکتا ہے جو کسی سچے اور قابل اعتماد راوی کی وساطت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کیا جاتا ہے۔ اہل علم پر لازم ہے کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ اسی طرح حق ہے جیسا کہ ہم گواہی دینے والوں کی گواہی کو قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف ظاہری معلومات ہی کی بنیاد پر حق ہے کیونکہ دو افراد کی گواہی میں بھی غلطی ہو سکتی ہے (جو پوشیدہ ہو اور اس کا علم نہ ہو سکے)۔

††††††††† (تیسری قسم کا) علم اجماع سے اور (چوتھی قسم کا) علم قیاس سے حاصل ہوتا ہے جو درست بات تک پہنچنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ جو شخص یہ قیاس کر رہا ہے اس کے لئے ظاہری معلومات کی بنیاد پر ہی وہ حق ہے لیکن عام اہل علم کے لئے ایسا نہیں ہے (کہ وہ ہر عالم کے قیاس کو جان کر اس پر عمل کر سکیں) کیونکہ غیب کا علم تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

††††††††† جب قیاس کے ذریعے (درست بات کا) علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور صحیح قیاس کیا جائے گا تو ایسا ہو گا کہ قیاس کرنے والے اکثر معاملات میں اتفاق رائے پر پہنچیں گے جبکہ چند معاملات میں ہم ان میں اختلاف بھی پائیں گے۔ قیاس دو قسم کا ہے:

††††††††† ایک تو یہ کہ جس معاملے میں قیاس کیا جا رہا ہے، اس میں اور اصل معاملے میں (یعنی جس پر قیاس کیا جا رہا ہے) واضح مشابہت ہو۔ اس معاملے میں تو کوئی اختلاف نہ ہو سکے گا۔ (دوسری صورت یہ ہے کہ) جس معاملے میں قیاس کیا جا رہا ہے اس کی اصل حکم میں کئی مثالیں موجود ہوں۔ اس کا الحاق اسی حکم سے کیا جائے گا جس کے وہ زیادہ قریب ہے اور جس سے وہ زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں میں قیاس کرنے والوں میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے (کیونکہ ایک عالم اس معاملے کو ایک چیز پر قیاس کر سکتا ہے اور دوسرا دوسری چیز پر۔)

نوٹ: شراب پر قیاس کرتے ہوئے ہیروئن کو حرام قرار دینا ایسا قیاس ہے جس میں کوئی اختلاف رائے موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شراب اور ہیروئن کی مشابہت اتنی واضح ہے کہ اس میں اختلاف واقع نہیں ہو سکتا۔ سگریٹ کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ بعض اہل علم اسے شراب پر قیاس کرتے ہوئے حرام قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر اہل علم ان سے اختلاف رکھتے ہوئے اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ اہل علم کا ایک تیسرا گروہ اسے شراب پر قیاس کرنے کی بجائے "اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔" کے قرآنی حکم کے تحت حرام قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سگریٹ پینا اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

سائل: کیا آپ مثالوں سے اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ (فقہی) علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک تو وہ جو ظاہری اور مخفی معلومات کی بنیاد پر درست بات کا احاطہ کرتا ہے اور دوسرا وہ جو صرف ظاہری معلومات کی بنیاد پر اور مخفی معلومات کو چھوڑ کر درست بات کا احاطہ کرتا ہے۔ برائے کرم ایسی مثالیں دیجیے جو مجھے بھی پہلے سے معلوم ہوں۔

شافعی: جب ہم مسجد الحرام میں ہوں تو ہم کعبہ کو دیکھتے ہیں۔ کیا ہم اس بات کے مکلف نہیں کہ ہم بالکل درست اور متعین طریقے پر کعبے کی طرف رخ کریں؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: ہم پر نماز، زکوۃ، حج اور دیگر احکام کو فرض کیا گیا ہے۔ کیا ہم اس بات کے مکلف نہیں کہ ان احکام کی بالکل درست اور متعین طریقے پر پیروی کریں۔

سائل: جی بالکل۔

شافعی: ہم پر لازم ہے کہ ہم بدکار کو سو کوڑوں کی سزا دیں، جھوٹی تہمت لگانے والے کو اسی کوڑوں کی سزا دیں، اسلام لانے کے بعد کفر کرنے والے کو موت کی سزا دیں، اور چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دیں۔ کیا ہم پر یہ لازم نہیں کہ اگر کوئی ان جرائم کا اعتراف کر لے تو ہم اس پر یہ سزائیں نافذ کر دیں؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: اس معاملے میں اگر ہم اپنی ذات سے متعلق کوئی فیصلہ کر رہے ہوں یا کسی دوسرے شخص سے متعلق، کیا وہ بالکل ایک ہی نہ ہو گا؟ اگرچہ ہم اپنے متعلق جو کچھ جانتے ہیں وہ دوسروں سے متعلق نہیں جانتے اور دوسرے لوگ ہمارے متعلق وہ کچھ نہیں جانتے جو ہم اپنے متعلق جانتے ہیں۔

سائل: بالکل درست۔

شافعی: کیا ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ہم جہاں بھی ہوں (نماز کے لئے) قبلے کی جانب منہ کریں؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: کیا آپ اتفاق کریں گے کہ قبلے کی طرف بالکل صحیح طور (یعنی بغیر ایک ڈگری کے فرق کے بھی) پر رخ کرنا ہمارے لئے ضروری ہے؟

سائل: (کعبے کو) دیکھتے ہوئے جس طرح بالکل درست رخ کرنے کا حکم ہے، ایسا (دوسری صورتوں میں تو) نہیں ہے۔ ہاں جو آپ پر لازم ہے وہ آپ ادا کرنے کی کوشش کریں گے (کہ قبلے کا رخ متعین کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔)

شافعی: ایک چیز اگر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے تو اس کا (رخ متعین کرنے کا) حکم کیا اس چیز (کا رخ متعین کرنے) کے حکم سے مختلف ہو گا جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے؟

سائل: بالکل۔

شافعی: اسی طرح کیا ہم اس کے مکلف نہیں کہ ایک شخص کے ظاہری عمل کی بنیاد پر یہ تسلیم کر لیں کہ اس کا کردار اچھا ہے (جبکہ اس کے دل میں کیا ہے وہ ہمیں معلوم نہ ہو)۔ اسی طرح جو شخص بظاہر مسلمان ہو اس سے نکاح بھی کیا جائے گا اور اسے وراثت میں بھی حصہ دیا جائے گا۔

سائل: جی ہاں۔

شافعی: اگرچہ وہ شخص اپنے باطن میں اچھے کردار کا نہ ہو؟

سائل: یہ ممکن ہے لیکن ہم تو صرف اسی کے مکلف ہیں جو ہمیں بظاہر معلوم ہے۔

شافعی: کیا کسی کے بظاہر مسلمان ہونے کی بنیاد پر ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم اس شخص سے نکاح کو جائز قرار دیں، اسے وراثت میں حصہ دیں، اس کی گواہی قبول کریں اور اس کے قتل کو حرام سمجھیں؟ ہمارے علاوہ اگر کسی اور شخص کو یہ علم ہو جائے کہ وہ دراصل مسلمان نہیں (بلکہ دشمن فوج سے تعلق رکھنے والا ہے) تو کیا اس شخص (حاکم وقت) کے لئے درست نہ ہو گا کہ وہ اس سے نکاح کو ممنوع قرار دے، اسے وراثت میں حصہ دار نہ بنائے، اسے قتل کرنے کا حکم دے، وغیرہ وغیرہ۔

سائل: جی ہاں۔

شافعی: تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں ہماری اور دوسرے عالم کی ذمہ داری ایک دوسرے کے علم کے مختلف ہونے کی بنیاد پر مختلف ہے؟

سائل: جی ہاں کیونکہ ہر شخص اپنے علم کی بنیاد پر بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتا ہے۔

شافعی: یہی بات ہم ان معاملات کے بارے میں آپ سے کہتے ہیں جن میں کوئی واضح نص موجود نہ ہو اور ان میں قیاس کے ذریعے اجتہاد کیا جائے۔ ہم اسی بات کے مکلف ہیں جو ہمارے نزدیک حق ہے۔

سائل: کیا آپ ایک ہی چیز کے بارے میں مختلف وجوہات کی بنیاد پر (مختلف حکم لگا سکتے ہیں؟)

شافعی: جی ہاں، اگر اسباب مختلف ہوں۔

سائل: کچھ مثالیں بیان فرمائیے۔

شافعی: (اگر لین دین کے کسی مقدمے میں کسی شخص پر دعوی کیا جائے کہ اسے کوئی رقم ادا کرنی ہے اور) وہ شخص اقرار کر لے کہ اس کے ذمے اللہ یا اس کے بندوں کا حق ادا کرنا ہے، تو ہم (بحیثیت جج) اس کے اقرار کی بنیاد پر دعوی کو درست قرار دیں گے۔ اگر وہ اقرار نہ کرے تو ہم اس کے شواہد تلاش کریں گے۔ اگر کوئی ثبوت بھی نہ ملے تو ہم اسے حکم دیں گے کہ وہ قسم کھا کر حلف اٹھائے اور (مقدمے سے) بری ہو جائے۔ اگر وہ شخص حلف اٹھانے سے انکار کرے تو ہم دوسرے فریق کو حلف اٹھانے کا کہیں گے اور اگر وہ دوسرا فریق حلف اٹھا لے تو پہلے شخص کے خلاف مقدمے کا فیصلہ ہو جائے گا کیونکہ اس نے حلف اٹھانے سے انکار کیا ہے جو اسے بری کر دیتا۔

††††††††† ہم جانتے ہیں کہ اپنے (مفاد کے) خلاف کسی بات کا اقرار دوسرے تمام شواہد سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ انسان کی فطرت لالچی ہے جس کے باعث وہ اپنے نقصان سے ڈرتا ہے۔ دوسرا شخص تو اس کے متعلق جھوٹ بھی بول سکتا ہے یا غلطی بھی کر سکتا ہے۔ اچھے کردار والے افراد کی گواہی، مدعی یا مدعا علیہ کے حلف سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ (مقدمے کے فریق) خود اچھے کردار کے نہ ہوں۔ اس وجہ سے فیصلہ مختلف شواہد کی بنیاد پر دیا جاتا ہے اگرچہ ان میں سے بعض دوسرے شواہد کی نسبت زیادہ قوی ہوتے ہیں۔

سائل: بالکل ایسا ہی ہے۔ اگر وہ حلف اٹھانے سے انکار کرے تو ہم اس کے انکار کی بنیاد پر ہی اس کے خلاف فیصلہ دے دیتے ہیں (کیونکہ حلف سے انکار اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔)

شافعی: اس صورت میں آپ ہماری نسبت کمزور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

سائل: جی ہاں۔ لیکن میں آپ سے (ثبوت کی) بنیاد پر اختلاف رائے رکھتا ہوں۔

شافعی: سب سے زیادہ مضبوط ثبوت تو اس کا اقرار ہے لیکن کوئی شخص بھول کر یا غلطی سے بھی اقرار کر سکتا ہے جس کی بنیاد پر اس کے خلاف فیصلہ سنا دیا جائے۔

سائل: جی ہاں۔ (ایسا ہو تو سکتا ہے) لیکن ہم تو اس سے زیادہ کچھ کرنے کے مکلف نہیں۔

شافعی: کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ ہم درست بات کے دو طریقے سے مکلف ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس بات کا درست ہونا ظاہری اور مخفی دونوں قسم کی معلومات سے ثابت ہو رہا ہو یا پھر صرف ظاہری معلومات سے ثابت ہو اور مخفی معلومات حاصل نہ کی گئی ہوں۔

سائل: مجھے آپ سے اتفاق ہے لیکن کیا آپ اپنی رائے کے حق میں کتاب و سنت سے کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں؟

شافعی: جی ہاں، میں نے قبلے کے تعین اور اپنے اور دوسرے شخص کے معاملے میں جو کچھ بیان کیا، (میرے پاس کتاب و سنت کے دلائل موجود ہیں۔) اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ولا يحيطونَ بشيء من علمِهِ إلا بما شاءَ۔

اس (اللہ) کے علم میں سے کسی چیز کو وہ لوگ احاطہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ وہ جو چاہے۔ (البقرہ 2:255)

وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے (انسان کو) دے دیتا ہے۔ اس کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور وہ حساب تیز رفتاری سے لیتا ہے۔ اس نے اپنے نبی سے فرمایا:

يسئلونك عن الساعة أَيَّانَ مُرْساها فيمَ أنتَ من ذِكراها إلى ربك مُنْتَهَاها۔

آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی۔ آپ کا کیا کام کہ آپ کا وقت بتائیں۔ اس کا علم تو بس آپ کے رب پر ہی ختم ہے۔ (النازعات 79:42-44)

سفیان نے زہری اور انہوں نے عروۃ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے قیامت کے وقت کے بارے میں پوچھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کا کیا کام کہ آپ کا وقت بتائیں" تو آپ نے اس پوچھنے کو ترک کر دیا۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

قل لا يعلمُ من في السماوات والأرضِ الغيبَ إلا اللهُ۔

آپ کہہ دیجیے، آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ (النمل 27:65)

اللہ تبارک و تعالی کا مزید ارشاد ہے:

إن الله عنده عِلمُ الساعةِ، ويُنزِّلُ الغيث، ويَعلمُ ما في الأرحامِ، وما تَدري نفسٌ ماذا تَكْسِبُ غداً، وما تدري نفس بأيِّ أرض تموت، إن الله عليمٌ خبير۔

(قیامت کی) اس گھڑی کا علم تو صرف اللہ ہی کا پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور نہ ہی کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔ بے شک اللہ ہی جاننے والا اور باخبر ہے۔ (لقمان 31:34)

انسانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے قول و فعل کو ویسا بنا لیں جیسا کہ حکم دیا گیا ہے۔ انہیں جن حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے، وہ ان سے تجاوز نہ کریں۔ وہ اپنے آپ کو کچھ نہیں دے سکتے، دینے والا تو صرف اللہ ہی ہے۔ ہم اللہ سے ہی اپنے فرائض کی بجا آوری پر اجر کے طالب ہیں اور اس کے طالب ہیں کہ وہ اپنے اجر میں اضافہ فرمائے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter