بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 14:اختلاف رائے

سائل: میں دیکھتا ہوں کہ قدیم اور جدید اہل علم میں بعض امور میں اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

شافعی: اختلاف دو قسم کا ہے۔ ان میں سے ایک حرام ہے لیکن دوسرےکے بارے میں میں یہ نہیں کہوں گا (کہ وہ حرام ہے۔)

سائل: ناجائز اختلاف کون سا ہے؟

شافعی: جو بات بھی اللہ تعالی نے واضح دلیل سے اپنی کتاب میں یا اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان سے واضح طور پر بیان فرما دی اس میں کسی بھی شخص کے لئے اختلاف کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسری قسم کے معاملات وہ ہیں جس میں (کسی آیت یا حدیث کی) مختلف توجیہات ممکن ہوں، اس میں قیاس کیا جا سکتا ہو اور ایک توجیہ یا قیاس کرنے والا عالم ایک معنی کو اختیار کر لے اور دوسرا دوسرے معنی کو، تو اس کے بارے میں میں اتنا سخت موقف نہیں رکھتا جیسا کہ پہلے معاملے میں رکھتا ہوں۔

سائل: کیا کوئی ایسی دلیل ہے جو ان دونوں قسم کے اختلافات میں فرق کو واضح کرتی ہو؟

شافعی: تفرقے کی برائی کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وما تَفَرَّق الذين أوتوا الكتابَ إلا من بعد ما جاءتهم البينةُ۔

اہل کتاب نے اس کے بعد تفرقہ کیا جب ان کے پاس روشن دلیل آ گئی۔ (البینہ 98:4)

ولا تكونوا كالذين تَفَرقوا واختلفوا من بعد ما جاءهم البينات۔

ان کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے روشن دلائل آنے کے بعد تفرقہ اور اختلاف کیا۔ (اٰل عمران 3:105)

اللہ تعالی نے ایسے اختلاف کی مذمت فرمائی جس کے بارے میں روشن اور واضح دلائل آ چکے ہوں۔ جہاں تک ان معاملات کا تعلق ہے جن میں اجتہاد کیا جائے گا تو اس کی مثالیں میں قبلے کے تعین اور گواہی وغیرہ میں دے چکا ہوں۔

سائل: کوئی ایسی مثال بیان کیجیے جس میں ہمارے اسلاف نے اختلاف کیا ہو اور اس بارے میں اللہ کا ایسا حکم موجود ہو جس کی متعدد توجیہات ممکن ہوں۔ کیا ہمیں کوئی ایسی بات ملتی ہے جس کی بنیاد پر ہم درست توجیہ تک پہنچ سکیں؟

شافعی: ایسے معاملات بہت کم ہیں جن میں اللہ کی کتاب یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت میں کوئی حکم بیان ہوا یا ان دونوں یا ان میں سی کسی ایک کے کسی حکم پر قیاس کیا گیا ہو اور اس میں اسلاف نے اختلاف کیا ہو۔

اختلاف رائے کی مثال

سائل: اس میں سے کچھ بیان فرمائیے۔

شافعی: اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

والمطلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بأنفسِهِنَّ ثلاثةَ قُرُوْء۔

طلاق یافتہ خواتین اپنے آپ کو (دوسری شادی سے) تین دورانیے تک روکے رکھیں۔ (البقرہ 2:228)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ یہاں لفظ "قروء" سے مراد طہر (خاتون کی پاکیزگی کے دورانیے) ہے۔ اس کے مثل رائے سیدنا زید بن ثابت، سیدنا ابن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہاں "قروء" کا مطلب خاتون کے حیض کے پیریڈ ہیں۔ اس طلاق یافتہ خاتون کے لئے اس وقت تک (دوسری شادی کرنا) جائز نہ ہو گا جب تک کہ وہ تیسرے حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل نہ کر لے۔

سائل: ان دونوں گروہوں نے کس کس بنیاد پر اپنی رائے پیش کی ہے؟

شافعی: "قروء" کا مطلب ہے "دورانیہ"۔ یہ دورانیے اس بات کی علامت ہیں کہ جب تک یہ پورے نہ ہو جائیں، طلاق یافتہ خاتون دوسری شادی نہ کرے۔ جو لوگ اس دورانیے سے "حیض کا دورانیہ" مراد لیتے ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ یہاں کم سے کم اوقات کا ذکر ہوا ہے اور کم اوقات سے ہی وقت میں حدود مقرر کی جا سکتی ہیں۔ "حیض کا دورانیہ"، "پاکیزگی کے دورانیے" سے کم ہوتا ہے اس وجہ سے زبان کے نقطہ نظر سے یہ زیادہ مناسب ہے کہ اسے عدت کی مدت مقرر کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ یہ اسی طرح ہے کہ دو مہینوں کے درمیان فاصلہ کرنے کے لئے چاند نظر آنے کو حد مقرر کیا گیا ہے۔

††††††††† غالباً انہوں نے یہ رائے اس بنیاد پر اختیار کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غزوہ اوطاس میں حاصل کردہ ایک لونڈی کے بارے میں حکم دیا کہ اس سے اس وقت تک ازدواجی تعلقات قائم نہ کیے جائیں جب تک ایک مرتبہ حیض آنے سے اس کا "استبراء" نہ ہو جائے (یعنی یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ حاملہ تو نہیں ہے۔) آزاد اور لونڈی کے بارے میں استبراء میں فرق کیا گیا ہے۔ آزاد خاتون کا استبراء تین مکمل حیض کے دورانیوں سے ہوتا ہے جب وہ پاک ہو جائے اور لونڈی کا استبراء ایک ہی مکمل حیض سے پاکیزگی کے بعد ہوتا ہے۔

سائل: یہ تو ایک نقطہ نظر ہوا۔ آپ نے کس بنیاد پر دوسرا نقطہ نظر اختیار کیا ہے جب کہ آیت میں دونوں معانی کا احتمال موجود ہے؟

شافعی: اللہ تعالی نے نئے چاند کو مہینوں کی نشاندھی کے لئے بنایا ہے اور وقت کا شمار رویت ھلال سے کیا جاتا ہے۔ ھلال دن اور رات کے علاوہ ایک علامت ہے۔ یہ تیس دن کے بعد بھی ہو سکتا ہے اور انتیس دن کے بعد بھی۔ بیس تیس دن کے اعداد تو چھوٹے ایام کے مجموعے ہی ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اگر "قروء" وقت کا نام ہے تو پھر یہ دن اور رات کے کسی مجموعے کا نام ہو گا۔ عدت کی طرح حیض کے مدت کا تعین بھی دن اور رات ہی سے کیا جائے گا۔ وقت کسی (علاقے کی) حدود کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی یہ حد علاقے میں داخل ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ وقت کا ایک خاص مطلب بھی ہے۔

سائل: وہ کیا ہے؟

شافعی: اگر خون رحم سے باہر نکل آئے اور ظاہر ہو جائے تو اس کا نام "حیض" ہے اور اگر ظاہر نہ ہو اور رحم کے اندر ہی رہ جائے تو اس کا نام "طہر" ہے۔ "طہر" اور "قروء" دونوں الفاظ کا تعلق خون کو روکنے سے ہے نہ کہ بہنے سے۔ "طہر" سے اگر وقت مراد لیا جائے تو عربی زبان میں اسے "قروء" کہنا زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ اس کا تعلق خون کو روکنے سے ہے۔

جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو کہیں کہ وہ خاتون سے رجوع کر لیں اور (اگر طلاق دینی ہی ہے تو) پھر اس حالت میں طلاق دیں جب وہ (حیض سے) پاک ہو جائیں اور ان سے (پاک ہونے کے بعد) ازدواجی تعلقات قائم نہ کیے گئے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: " یہ عدت کا وقت ہے جسے اللہ نے طلاق (سے شروع کرنے) کا حکم دیا ہے۔" (مالک)

اللہ تعالی کے اس ارشاد کہ "إذا طلَّقتُمُ النساءَ فطلِّقوهنَّ لِعِدَِّتهِنَّ" یعنی "جب تم خواتین کو طلاق دو تو انہیں عدت (شروع کرنے) کے لئے طلاق دو۔" یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ واضح فرما دیا کہ عدت طہر سے شروع ہو گی نہ کہ حالت حیض سے۔ اللہ تعالی نے "تین قروء" کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ خاتون کو تین طہر تک انتظار کرنا چاہیے۔

††††††††† اگر تیسرا طہر لمبا ہو جائے اور حیض شروع نہ ہو تو اس خاتون کے لئے اس وقت دوسری شادی کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ حیض آ نہ جائے۔ اگر وہ خاتون حیض کے آنے سے (اپنی عمر یا بیماری کے باعث) مایوس ہو جائے یا اسے اس کا اندیشہ بھی ہو تو پھر وہ مہینوں کے ذریعے اپنی عدت کا شمار کرے۔ اس معاملے میں خاتون کے غسل کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ غسل تو تین کے علاوہ ایک چوتھی چیز ہے۔ جو شخص خاتون کو دوسرا نکاح کرنے کی اجازت دینے کے لئے غسل کو ضروری قرار دیتا ہے، اسے پھر یہ بھی کہنا چاہیے کہ اگر وہ ایک سال یا اس سے بھی زیادہ بغیر غسل کے بیٹھی رہے تو اس کے لئے شادی کرنا جائز نہ ہو گی۔

††††††††† ان دونوں اقوال میں سے یہ کہ "قروء سے مراد طہر ہے" کتاب اللہ کے زیادہ قریب ہے اور زبان بھی اسی معنی میں واضح ہے۔ بہرحال اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔

††††††††† نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کنیز کے بارے میں ایک حیض کے ذریعے استبراء (یعنی حمل نہ ہونے کا یقین کرنے) کا حکم دیا۔ اگر وہ کنیز حالت طہر میں تھی، پھر اس حیض آ گیا تو حیض کے مکمل ہونے کے بعد اس کے نئے طہر کے شروع ہونے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ وہ حاملہ نہیں تھی۔ خون کا صرف نظر آ جانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ حیض کے پورا ہونے کا انتظار ضروری ہے کیونکہ وہی طہر حمل کے بغیر سمجھا جائے گا جس سے پہلے ایک حیض مکمل ہو چکا ہو۔

††††††††† خاتون کو عدت دو وجہ سے پوری کرنا ضروری ہے۔ ایک تو یہ یقین کرنا ہے کہ وہ حاملہ نہیں ہے اور دوسری وجہ اس کے علاوہ ہے۔ جب خاتون نے دو حیض، دو طہر اور اس کے بعد تیسرا طہر بھی گزار لیا تو پھر وہ استبراء کے عمل سے دو بار گزر چکی۔ استبراء کے علاوہ دوسری وجہ اللہ کے حکم کی پابندی بھی ہے (کیونکہ اس نے تین قروء تک رکنے کا حکم دیا ہے۔)

نوٹ: تین حیض یا تین طہر تک رکنے کا یہ حکم دینے کی حکمت یہ ہے کہ طلاق یافتہ خاتون اور اس کے شوہر کو اس دوران دوبارہ اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔ دین اسلام میں خاندانی نظام کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام علیحدہ ہونے والے جوڑے کو یہ موقع فراہم کرنا چاہتا ہے کہ وہ تین ماہ تک اچھی طرح غور و فکر کرنے کے بعد علیحدگی اختیار کریں۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ خاندان کو زیادہ سے زیادہ تحفظ حاصل ہو تاکہ بچوں پر برا اثر نہ پڑے۔

بیوہ خاتون کی عدت کی مثال

سائل: کیا آپ اس کے علاوہ کوئی اور ایسی مثال دیں گے جس میں علماء کا اختلاف ہو۔

شافعی: جی ہاں، بلکہ یہ شاید اس سے بھی زیادہ واضح مثال ہو گی۔ ہم ایسی ہی بعض مثالوں میں واضح کر چکے ہیں کہ جن میں روایتوں میں اختلاف پایا گیا ہے۔ اس میں انشاء اللہ آپ کو اپنے سوالوں کا جواب بھی مل جائے گا اور اس کی وضاحت بھی ہو جائے گی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:†††††††††

والمطلقاتُ يَتَرَبَّصْن بأنفسهن ثلاثةَ قروء۔

طلاق یافتہ خواتین اپنے آپ کو (دوسری شادی سے) تین "قروء" تک روکے رکھیں۔ (البقرہ 2:228)

واللائي يَئِسْن من المحيض من نسائكم إن ارتَبتُم، فعِدَّتهُنَّ ثلاثةُ أشهرٍ، واللائي لم يحِضْنَ، وأولاتُ الأحمالِ أجلُهُنَّ أن يضعْنَ حملَهن۔

تمہاری خواتین میں سے جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کے معاملے میں تمہیں اگر کوئی شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور یہی حکم ان خواتین کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ حاملہ خواتین کی عدت یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہو جائے۔ (الطلاق 65:4)

والذين يُتَوَفَّون منكم، ويَذَرون أزواجاً يَتَرَبَّصن بأنفسهن أربعةَ أشهر وعَشراً۔

تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور ان کے پیچھے ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو (دوسری شادی سے) چار ماہ دس دن تک روکے رکھیں۔ (البقرہ2:234 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعض صحابہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایسی طلاق یافتہ خواتین جو کہ حاملہ ہوں، کی عدت وہ وقت مقرر فرمایا ہے جب وہ بچے کو جنم دے لیں۔ بیوہ خاتون کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اگر ایک بیوہ خاتون حاملہ بھی ہو اور اس کے ہاں جلد ہی بچے کی ولادت ہو جائے تب بھی اس کی عدت چار ماہ دس دن ہی ہو گی۔ اس خاتون کے لئے دو عدتیں ہوں گی (ایک بچے کی ولادت اور دوسرا چار ماہ دس دن)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی ولادت سے عدت کے پورے ہو جانے کا حکم قرآن میں طلاق کی صورت میں آیا ہے۔

††††††††† ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بچے کی ولادت سے اس کا حمل ختم ہو گیا اور چار ماہ دس دن کی عدت اللہ کے حکم کے تحت ہے۔ بیوہ خاتون کے لئے ضروری ہے کہ وہ چار ماہ دس دن سے پہلے دوسرا نکاح نہ کرے۔ ایسا دو وجوہات کی بنیاد پر ہے اور ان دونوں وجوہات کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے کہ اگر ایک خاتون کے (یکے بعد دیگرے) دو شوہر ہوں اور ایک کے حق کو دوسرے کے ذریعے ختم نہ کیا جا سکتا ہو۔ اگر اس خاتون نے ایک مرد سے شادی کی اور ازدواجی تعلقات قائم کر لیے تو پھر اسے دوسرے سے شادی کرنے سے پہلے، پہلے شوہر (سے طلاق یا بیوگی) کی عدت پوری کرنا ضروری ہو گی۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ کے دوسرے گروہ کا یہ نقطہ نظر ہے کہ اگر ایک حاملہ بیوہ خاتون کے ہاں بچے کی ولادت ہو گئی تو اب اس کے لئے فوراً دوسری شادی کرنا جائز ہے (اور چار ماہ دس دن گزارنا ضروری نہیں) اگرچہ پہلے خاوند کی میت ابھی دفن بھی نہ کی گئی ہو۔ آیت کے دونوں معنی ممکن ہیں لیکن یہ دوسرا نقطہ نظر جو کہ ظاہری معنی میں ہے، زیادہ معقول ہے کہ بچے کی ولادت کے ساتھ ہی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے بھی اسی بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ بیوہ خاتون کی عدت بھی طلاق یافتہ خاتون کی عدت کی طرح بچے کی ولادت پر ختم ہو جاتی ہے۔

سفیان نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ سیدہ سبیعۃ الاسلمیۃ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچے کو جنم دیا۔ ان کے ہاں ابو السنابل بن بعکک آئے تو وہ کہنے لگے، "تم ابھی سے شادی کے لئے تیار ہو گئیں۔ تمہاری عدت تو چار ماہ دس دن ہے۔" سبیعۃ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا، "ابو السنابل نے غلط بات کہی" یا یہ فرمایا، "ایسا نہیں ہے جیسا ابوالسنابل نے کہا۔ تمہارے لئے جائز ہے کہ تم دوسری شادی کر لو۔" (بخاری، مسلم، ابو داؤد)

نوٹ: اس حدیث سے عرب معاشرت کی سادگی کا علم ہوتا ہے۔ ان کے ہاں بیوہ خاتون کا دوسری شادی کرنا کوئی برائی نہ تھی بلکہ عدت کی مدت ختم ہونے کے فوری بعد ان کے لئے کئی کئی رشتے تیار ہوا کرتے تھے۔ برصغیر کے مخصوص کلچر کے باعث یہاں مسلمانوں کے ہاں بھی بیوہ خاتون کی شادی کو برا سمجھا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔

سائل: جب سنت سے کوئی بات پتہ چل جائے تو پھر سنت کے خلاف کسی کے قول کو بطور دلیل قبول نہیں کیا جا سکتا۔ کسی ایسے اختلاف کی مثال دیجیے جس میں سنت سے کوئی بات پتہ نہ چلتی ہو لیکن قرآن کے واضح الفاظ یا اس سے استدلال یا پھر قیاس موجود ہو۔

ایلاء کی مثال

شافعی: اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

للذين يُؤْلون من نسائهم تَرَبُّصُ أربعة أشهر، فإن فاءوا، فإن الله غفور رحيم، وإن عَزَمُوا الطلاقَ، فإن الله سميع عليم۔

جو لوگ اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھیں (ایلاء کر لیں)، ان کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے۔ اگر وہ واپس آ جائیں تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اگر انہوں نے طلاق ہی کا ارادہ کر رکھا ہے تو بے شک اللہ سننے جاننے والا ہے۔ (البقرہ 2:226-227)

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اکثر صحابہ سے یہ روایت کیا گیا ہے کہ اگر چاہ ماہ گزر جائیں تو اس شخص سے جس نے "ایلاء" کیا ہے (یعنی ازدواجی تعلقات نہ رکھنے کی قسم کھائی ہے)، یہ کہا جائے گا کہ وہ بیوی کو یا تو رکھنے کا فیصلہ کرے یا پھر اسے طلاق دے دے۔ بعض دوسرے صحابہ سے یہ مروی ہے کہ چار ماہ کا گزرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شخص طلاق دینا چاہتا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، میرے ماں باپ آپ پر قربان، کوئی بات نہیں ملتی۔

نوٹ: اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص بلاوجہ اپنی بیوی کو لٹکائے نہ رکھے۔ اگر کوئی ایسی بیہودہ قسم کھا بیٹھے تو پھر یا تو بیوی کو آزاد کرے اور یا پھر قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرے۔ آیت کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی قسم کھانا بہرحال ایک گناہ کا فعل ہے۔

سائل: ان دونوں میں سے آپ نے کس نقطہ نظر کو اختیار کیا ہے؟

شافعی: میری رائے یہ ہے کہ قسم کھانے سے طلاق لازم نہیں آتی۔ اگر خاتون اپنے حقوق کا مطالبہ کرے تو ہم چار ماہ تک تو علیحدگی نہیں کروائیں گے۔ جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اس سے کہا جائے گا، یا تو طلاق دو یا پھر واپس آؤ۔ اس کا ازدواجی تعلقات قائم کر لینا واپسی کا ثبوت ہو گا۔

سائل: اس رائے کو آپ نے کس بنیاد پر اختیار کیا ہے؟

شافعی: مجھے یہ کتاب اللہ اور عقل کے زیادہ قریب لگی ہے۔

سائل: کتاب اللہ سے اس بارے میں کوئی بات ملتی ہے؟

شافعی: اللہ تعالی نے یہ فرمایا کہ "للذين يُؤلون من نسائهم تَرَبُّصُ أربعةَ اشهر" یعنی " جو لوگ اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھیں، ان کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے"۔ آیت کے ظاہری مفہوم میں یہ بات ملتی ہے کہ جس (خاتون کو) اللہ نے چار ماہ انتظار کرنے کا حکم دیا ہے، اس کے لئے چار ماہ تک تو انتظار کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

††††††††† یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالی نے چار مہینے میں لوٹ آنے کا جو حکم دیا ہے، وہ اس طرح سے ہو جیسا کہ آپ کسی کو کہیں، "میں آپ کو چار ماہ کی مہلت دے رہا ہوں، اس میں یہ عمارت تعمیر کر دیجیے۔" کوئی شخص بھی یہ بات اس وقت نہیں سمجھ سکتا کہ بات کس سے کی گئی ہے جب تک وہ اس کلام کے سیاق و سباق سے واقف نہ ہو۔

††††††††† اگر یہ کہا جائے کہ "آپ کو چار ماہ کی مہلت ہے" تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ شخص اس وقت تک دعوی نہیں کر سکتا جب تک چار ماہ پورے نہ ہو جائیں اور عمارت کی تعمیر مکمل نہ ہوئی ہو۔ اس وقت تک اس بلڈر کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تم نے عمارت کی تعمیر بروقت مکمل نہیں کی جب تک چار ماہ کی مدت پوری نہ ہو جائے۔ جب مدت پوری ہو جائے گی (اور اس نے تعمیر مکمل نہ کی ہو گی) تب کہا جائے گا کہ تم نے کام پورا نہیں کیا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ چار ماہ مکمل ہونے سے پہلے (پراگریس دیکھنے پر) یہ معلوم ہو جائے کہ چار ماہ کی مدت پوری ہونے پر بھی عمارت کی تعمیر مکمل نہ ہو گی۔

††††††††† (قسم کھانے کے بعد خاتون سے) رجوع کر لینے کا معاملہ (عمارت کی طرح نہیں ہے۔) اس میں چار ماہ گزرنے کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے کیونکہ ازدواجی تعلقات تو بہت ہی کم وقت میں قائم کئے جا سکتے ہیں۔ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی سے علیحدہ ہو جائے اور چار ماہ اسی طرح گزار دے۔ اس کے بعد بھی وہ علیحدہ رہے تو وہ اللہ کے نزدیک جواب دہ ہو گا۔ اب اس پر لازم ہے کہ وہ یا تو واپس لوٹے اور یا پھر اسے طلاق دے دے۔

††††††††† اگر اس آیت کے آخری حصے میں ایسی کوئی بات نہ پائی جائے جس کی بنیاد پر دوسرا نقطہ نظر اختیار (یعنی چار ماہ علیحدہ رہنے سے طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی) کرنا ضروری ہو تو پھر اپنے ظاہری مفہوم پر ہم پہلے نقطہ نظر ہی کو ترجیح دیں گے۔ قرآن کے معنی کو اپنے ظاہری مفہوم ہی پر لیا جائے گا۔ ہاں اگر سنت یا اجماع سے کوئی دلیل مل جائے تو پھر اس کے ظاہری معنی کی بجائے مجازی معنی کو بھی قبول کیا جا سکتا ہے۔

سائل: کیا آیت کے سیاق و سباق میں بھی کوئی ایسی بات ہے جو آپ کی وضاحت کی توثیق کرتی ہو؟

شافعی: اللہ عزوجل نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ "ایلاء کرنے والے کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے"، فرمایا کہ "فإن فاءوا، فإن الله غفور رحيم، وإن عَزَمُوا الطلاقَ، فإن الله سميع عليم" یعنی " اگر وہ واپس آ جائیں تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اگر انہوں نے طلاق ہی کا ارادہ کر رکھا ہے تو بے شک اللہ سننے جاننے والا ہے۔" اس نے ان دونوں صورتوں کے احکام کو بغیر کسی فاصلے کے بیان فرما دیا ہے۔ یہ دونوں چار ماہ کے بعد واقع ہوں گے۔ اب یا تو اس شخص کو بیوی سے رجوع کرنا ہو گا یا طلاق دینی ہو گی۔ یہ اختیار ایک ہی وقت میں استعمال کیا جا سکے گا۔ ان میں سے کوئی بات ایک دوسرے سے پہلے نہیں ہو سکتی۔ ان دونوں کا ذکر اکٹھے ہی ہوا ہے۔ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسا اگر (وہ شخص جس کے پاس دوسرے کی کوئی چیز گروی رکھی ہوئی ہے) کہے، "قرض ادا کر کے اپنی گروی چیز واپس لے لو یا پھر میں اسے بیچنے لگا ہوں۔" جب بھی دو کاموں میں اختیار ہوتا ہے کہ "یہ کر لو یا یہ کر لو" تو پھر یہ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے۔

††††††††† اگر ایسا نہ ہوتا تو ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ نہ ہوتا۔ پھر یہ کہا جاتا کہ ایلاء کرنے والا چار ماہ کے عرصے میں بیوی سے رجوع کر سکتا ہے لیکن اگر وہ طلاق کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر یہ چار ماہ کے بعد ہی ہو گا۔ اس صورت میں ایک آپشن کے لئے تو کھلا وقت ہوتا جبکہ دوسری آپشن کے لئے بہت کم وقت ہوتا۔ (ایسا نہیں ہوا بلکہ) ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ ہی کیا گیا ہے۔

سائل: اگر وہ چار ماہ سے پہلے ہی بیوی سے رجوع کر لے تو کیا اسے "رجوع کرنا" ہی کہیں گے؟

شافعی: جی ہاں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اگر میں آپ سے کہوں، "آپ پر یہ قرض (ایک مخصوص مدت میں) ادا کرنا لازم ہے۔ اگر آپ نے اسے وقت سے پہلے ادا کر دیا تو آپ اس سے بری ہو جائیں گے۔" اب اگر آپ وقت پورا ہونے سے پہلے ہی اسے ادا کر دیتے ہیں تو یہ جلدی کر کے آپ ایک اچھا کام کریں گے۔

††††††††† کیا آپ اس سے اتفاق نہیں کریں گے کہ اگر (ایلاء کرنے والا) شخص ہر روز رجوع کرنے کا فیصلہ کرے لیکن چار ماہ تک ازدواجی تعلقات قائم نہ کرے تو وہ ایک غلط کام کر رہا ہے۔

سائل: اگر وہ شخص ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے قابل ہے، تو جب تک وہ ایسا نہیں کرے گا، ارادے کا تو کوئی مطلب ہی نہیں۔

شافعی: اگر وہ شخص ازدواجی تعلقات تو قائم کر لے لیکن اس خاتون سے رجوع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو کیا وہ اس ذمہ داری سے بری ہو جائے گا کہ چار ماہ کی مدت میں طلاق دے۔ ازدواجی تعلقات کی اہمیت تو یہی ہے (کہ اس کے ذریعے وہ شخص اپنی بیوی سے رجوع کرے۔)

سائل: جی ہاں۔

شافعی: اگر ایک شخص یہ ارادہ کر لے کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع نہیں کرے گا اور وہ ہر روز یہ قسم کھائے کہ وہ رجوع نہیں کرے گا۔ اس کے بعد چار ماہ پورے ہونے سے چند لمحے قبل وہ ازدواجی تعلقات قائم کر لے تو کیا وہ ایلاء کے قانون کے تحت طلاق دینے کی ذمہ داری سے بری ہو جائے گا۔ (دل میں کھوٹ کے ساتھ) ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے کیا وہ طلاق دینے کی ذمہ داری سے بری ہو سکتا ہے؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: اگر اس کا ارادہ بیوی سے رجوع کا نہیں ہے، اور وہ ازدواجی تعلقات واپس لینے کی نیت سے نہیں بلکہ محض لطف اندوز ہونے کے لئے قائم کر رہا ہے تو کیا آپ کی اور ہماری رائے میں وہ ایلاء کے قانون کے تحت طلاق دینے کی ذمہ داری سے بری ہو جائے گا؟

سائل: یہ ایسا ہی ہے جیسا آپ نے فرمایا۔ ازدواجی تعلقات خواہ کسی بھی ارادے سے قائم کیے جائیں اس کے تحت وہ (ایلاء کے قانون کے تحت طلاق دینے کی) ذمہ داری سے بری ہو جائے گا۔

شافعی: اگر وہ روزانہ رجوع کا فیصلہ کرے تو پھر چار ماہ گزرنے پر کس طرح یہ لازم آتا ہے کہ وہ طلاق بھی دے جب کہ نہ تو اس نے اس کا ارادہ کیا اور نہ ہی اس پر بات کی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ رائے کسی کی عقل میں بھی آ سکتی ہے؟

سائل: یہ رائے عقل کے خلاف کیسے ہے؟

شافعی: اگر ایک شخص اپنی بیوی سے کہے، "خدا کی قسم میں کبھی تمہارے قریب نہ آؤں گا۔" یا یہ کہے "تمہیں چار مہینے کے لئے طلاق ہے۔" تو آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

سائل: اگر میں کہوں کہ ہاں؟

شافعی: اگر اس نے چار ماہ سے قبل ازدواجی تعلقات قائم کر لیے تو؟

سائل: یہ تو نہیں ہو سکتا۔ (ازدواجی تعلقات قائم نہ کرنے کی قسم کھانا) یا چار ماہ کے لئے طلاق دے دینا ایک جیسی بات تو نہیں ہے۔

شافعی: ایک ایلاء کرنے والے شخص کا قسم کھانا طلاق نہیں ہے۔ یہ محض ایک قسم ہے جو مدت گزرنے کے بعد طلاق میں تبدیل ہو جائے گی۔ کیا کسی بھی عقل مند شخص کے لئے یہ درست ہے کہ وہ کسی آیت یا حدیث کے بغیر اپنی طرف سے کوئی بات کہے؟

سائل: یہ دلیل تو آپ کے نقطہ نظر کے بھی خلاف ہے۔

شافعی: وہ کیسے؟

سائل: آپ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر چار ماہ کی مدت ختم ہو جائے تو اب ایلاء کرنے والے شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا۔

شافعی: ایلاء کی قسم کھا لینے سے طلاق واقع نہیں ہو جاتی۔ یہ ایک ایسی قسم ہے جس کے بارے میں اللہ نے وقت مقرر کر دیا ہے تاکہ خاوند بیوی کو (لٹکا کر) نقصان نہ پہنچائے۔ اس نے حکم یہ دیا ہے کہ اب یا تو وہ رجوع کرے یا پھر طلاق دے۔ اس حکم کی مدت قسم کھانے کے وقت سے چار ماہ مقرر کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد اس شخص کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ دو میں ایک راستے کا اختیار کر لے۔ یا تو خاتون سے رجوع کرے یا پھر اسے طلاق دے۔ اگر وہ ان دونوں سے انکار کرے تو حکمران اسے مجبور کرے گا کہ وہ اس کی طلاق کو جاری کر دے جس کے بعد اس کے لئے ازدواجی تعلقات قائم رکھنا ممنوع قرار پائے۔

وراثت میں باقی بچ جانے والے مال کی مثال

شافعی: وراثت کے معاملے میں بھی (صحابہ کرام میں) اختلاف رائے موجود ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے مکتب فکر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر وارث کو وہ حصہ دیا جائے گا جو (قرآن میں) اس کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ حصے ادا کرنے کے بعد ترکے میں سے کچھ باقی بچ جاتا ہے اور میت کا نہ تو عصبہ (یعنی ددھیالی رشتے دار) ہیں اور نہ ہی ولاء (یعنی کوئی ایسا شخص جس کے ساتھ اس کا وراثت میں حصہ دار بننے کا معاہدہ تھا) تو پھر جو کچھ باقی بچا ہے وہ مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا (اور عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گا۔)

††††††††† دوسرے مکتب فکر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وراثت میں جو کچھ باقی بچے وہ اس کے ذوی الارحام (یعنی خونی رشتہ داروں) میں تقسیم کیا جائے گا۔ مثلاً اگر ایک شخص فوت ہوا اور اس کی ایک ہی بہن باقی تھی تو (قرآن کے قانون وراثت کے تحت) اس بہن کو آدھا حصہ ملے گا۔ باقی آدھا حصہ (جو کہ قرآن کا مقرر کردہ حصہ ادا کر کے) بچ گیا ہے بھی اسی بہن کو دے دیا جائے گا (کیونکہ وہی خون کی رشتہ دار باقی ہے۔)

نوٹ: اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ ایک شخص فوت ہوا اور اس کے ترکے کی کل مالیت ایک لاکھ روپے ہے۔ اس کے وارثوں میں صرف اس کی بیوی اور دو بیٹیاں ہیں۔ اس صورت میں بیوی کا حصہ 1/8 یعنی 12,500 روپے ہو گا جبکہ دونوں بیٹیوں کو 2/3 یعنی 66,667 روپے ادا کیے جائیں گے۔ ترکے میں اب بھی باقی رقم 20,833 روپے بچے گی جس کے بارے میں اختلاف رائے کو امام شافعی علیہ الرحمۃ بیان کر رہے ہیں۔

سائل: آپ باقی بچ جانے والی رقم کو بھی وارثوں میں تقسیم کیوں نہیں کر دیتے؟

شافعی: اللہ کی کتاب سے اخذ کرتے ہوئے۔

سائل: جو آپ نے فرمایا، وہ اللہ کی کتاب میں کہاں ہے؟

شافعی: اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إنِ امرؤٌ هلك ليس له ولدٌ وله أختٌ فلها نصفُ ما ترك، وهو يرِثها إن لم يكن لها ولدٌ۔

اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لئے ترکے کا نصف ہے۔ اور اگر بہن بے اولاد فوت ہو جائے تو بھائی اس کا وارث ہو گا۔ (النساء 4:176)

وإن كانوا أخوةً رجالاً ونساءً، فللذَّكر مثلُ حظِّ الأنثيين۔

اگر (اس میت کے) کئی بہن بھائی ہوں تو مرد کا حصہ خواتین کے حصے سے دوگنا ہو گا۔ (النساء 4:176)

اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ اگر میت کی صرف ایک بہن زندہ ہو تو اسے ترکے کا نصف ملے گا اور اگر صرف ایک بھائی ہو تو اسے پورا ترکہ ملے گا۔ اگر بہن اور بھائی دونوں موجود ہوں تو (پھر ترکہ اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ) ہر بہن کا حصہ ہر بھائی کے حصے کا نصف ہو (یعنی 2:1 کے تناسب میں ترکہ تقسیم ہو گا۔)

††††††††† اللہ تعالی کا حکم یہ ہے کہ بہن خواہ اکیلی ہو یا اس کے ساتھ بھائی بھی وراثت میں شریک ہو، دونوں صورتوں میں بہن کا حصہ بھائی کے برابر نہیں ہے۔ وہ میراث میں نصف کی حصہ دار ہو گی۔ اب آپ کی رائے کے مطابق اگر ایک شخص مر جائے اور اس کی ایک ہی بہن ہو۔ اسے قانون وراثت کے تحت نصف حصہ ملے گا۔ اس کے علاوہ اسے باقی بچ جانے والا نصف بھی مل جائے گا۔ آپ نے اسے پورا ترکہ دے دیا جبکہ اللہ تعالی نے تو اس کا حصہ اکیلے یا بھائیوں سے مل کر نصف مقرر کیا تھا۔

سائل: اسے یہ نصف حصہ بطور میراث نہیں مل رہا۔ یہ نصف تو اسے باقی بچ جانے والا ترکہ مل رہا ہے۔

نوٹ: اسلام کے قانون وراثت میں خواتین کو مردوں کی نسبت نصف حصہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اور ان کے بچوں کی کفالت کی پوری ذمہ داری مردوں پر ہے۔ اس کے علاوہ انہیں شادی کے وقت حق مہر ادا کیا جاتا ہے۔ مرد جو کچھ کماتے ہیں، اسے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنا ان کی ذمہ داری ہے لیکن اگر خواتین کچھ کماتی ہوں تو ان پر ایسی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی کہ وہ اپنے مال کو خاوند پر خرچ کریں۔

شافعی: یہ باقی بچ جانے والا ترکہ دینے کا کیا مطلب ہے۔ کیا یہ آپ اپنی ذاتی صوابدید سے استحسان کرتے ہوئے، جسے مناسب سمجھ رہے ہیں، دے رہے ہیں۔ اس طرح تو آپ ترکہ کسی شخص کے پڑوسی یا دور کے رشتے دار کو بھی دے سکتے ہیں۔ کیا آپ یہ فیصلہ کرنے جا رہے ہیں؟

سائل: یہ حکمران (یا جج) کی ذاتی صوابدید کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہم اسے خونی رشتہ دار ہونے کے باعث دے رہے ہیں۔

شافعی: اگر میں یہ کہوں کہ یہ وراثت کا حصہ ہے؟

سائل: اگر میں کہوں کہ ہاں تو؟

شافعی: پھر آپاسے وراثت میں وہ حصہ دے رہے ہیں جو اللہ تعالی نے مقرر نہیں فرمایا۔

سائل: میں اللہ تعالی کے اس حکم کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر رہا ہوں۔

وأُولوا الأرحام بعضُهم أولى ببعض في كتاب الله۔

اللہ کے قانون میں خون کے رشتہ دار دوسروں کی نسبت فوقیت رکھتے ہیں۔ (الانفال 8:75)

شافعی: یہ آیت کہ "خون کے رشتہ دار دوسروں کی نسبت فوقیت رکھتے ہیں" اس وقت نازل ہوئی جب لوگ وراثت میں سے حصہ باہمی معاہدے کی بنیاد پر لیا کرتے تھے (کہ دو افراد معاہدہ کر لیتے کہ جب ان میں سے کوئی ایک مرے گا تو دوسرا اس کی وراثت کا حق دار ہو گا۔) اس کے بعد وراثت اسلام اور ہجرت کے رشتے کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگی۔ ایک مہاجر کے مرنے کے بعد اس کا وارث دوسرا مہاجر ہوتا اور وہ اپنے اس رشتے دار کی وراثت میں سے حصہ نہ پاتا جس نے ہجرت نہ کی ہوتی تھی۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس کے بعد وراثت کو خونی رشتے کی بنیاد پر تقسیم کیا جانے لگا۔

سائل: اس کی کیا دلیل ہے؟

شافعی: یہ آیت کہ " وأُولوا الأرحام بعضُهم أولى ببعض في كتاب الله۔" یعنی " اللہ کے قانون میں خون کے رشتہ دار دوسروں کی نسبت فوقیت رکھتے ہیں۔" ان احکام کے بارے میں ہے جو کہ (قرآن میں) فرض کئے گئے ہیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ خونی رشتے داروں میں سے بعض کو وراثت میں حصہ دیا گیا ہے اور بعض کو نہیں دیا گیا۔ اکثر خونی رشتے داروں کی بجائے خاوند یا بیوی کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ خونی رشتے کی بنیاد پر ہی وراثت تقسیم کریں گے تو پھر بیٹی کا حصہ بیٹے کے برابر ہونا چاہیے کیونکہ وہ دونوں خونی رشتے میں برابر ہیں۔ اس صورت میں تمام خونی رشتے داروں کو خاوند یا بیوی سے زیادہ حصہ دینا چاہیے کیونکہ ان کا تو میت سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔

††††††††† اگر آیت کا معنی آپ کی رائے کے مطابق اور ہماری رائے سے مختلف لیا جائے تو پھر میت کی بہن اور آزاد کردہ غلاموں کو حصہ ملے گا۔ آدھا حصہ بہن کو اور آدھا آزاد کردہ غلاموں کو جبکہ وہ نہ تو خونی رشتے دار ہیں اور نہ ہی ان کے لئے اللہ کے قانون میں کوئی واضح حصہ مقرر بھی نہیں کیا گیا ہے۔

دادا کی موجودگی میں بہن بھائیوں کی وراثت کی مثال

شافعی: دادا کی وراثت کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ سیدنا زید بن ثابت، عمر، عثمان، علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایت کیا گیا ہے کہ دادا کی موجودگی میں بہن بھائیوں کو حصہ ملے گا۔ سیدنا ابوبکر صدیق، ابن عباس، عائشہ، ابن زبیر، اور عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دادا باپ کی طرح ہے اور اس کی موجودگی میں بہن بھائیوں کو حصہ نہ ملے گا۔

نوٹ: یہ مسئلہ موجودہ دور میں عجیب سا لگتا ہے۔ اس دور میں چونکہ جلدی شادی کا رواج تھا اور عام طور پر لوگ طویل عمر پاتے تھے، اس وجہ سے یہ عین ممکن تھا کہ ایک شخص فوت ہو جائے، اس کا باپ بھی فوت ہو چکا ہو لیکن اس کا دادا ابھی زندہ ہو۔ اگر میت کا باپ زندہ ہو تو اس کے بہن بھائیوں کو اس کا وارث نہیں بنایا جاتا۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ باپ تو فوت ہو چکا ہو لیکن دادا زندہ ہو تو کیا اس دادا کی وجہ سے بھی بہن بھائیوں کو وراثت میں حصہ نہ دیا جائے گا؟

سائل: آپ کس بنیاد پر اس رائے کو اختیار کرتے ہیں کہ دادا کی موجودگی میں بہن بھائیوں کو حصہ ملے گا۔ کیا یہ اللہ کی کتاب یا سنت سے کسی دلیل کی بنیاد پر ہے؟

شافعی: کتاب اللہ یا سنت میں اس سے متعلق کوئی واضح بات تو میرے علم میں نہیں ہے۔

سائل: اس معاملے میں روایات میں بھی اختلاف ہے اور قیاس کے ذریعے دلائل بھی اس مکتب فکر کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں جو دادا کو بمنزلہ باپ قرار دے کر بہن بھائیوں کو وارث نہیں بناتے۔

شافعی: ان کے دلائل کیا ہیں؟

سائل: دادا کے لئے "باپ" کا لفظ استعمال کرنا لازم ہے۔ اس میں اتفاق رائے ہے کہ اس کی بنیاد پر اخیافی (صرف ماں کی طرف سے) بہن بھائیوں کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا۔ آپ کا اس پر بھی اتفاق رائے ہے کہ ان کا حصہ چھٹے حصے (1/6) سے کم نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ تمام معاملات ہیں جن کا اطلاق باپ پر بھی ہوتا ہے۔

نوٹ: بہن بھائیوں کی تین اقسام ہیں: حقیقی، علاتی اور اخیافی۔ حقیقی بہن بھائی وہ ہوتے ہیں جو ایک باپ اور ایک ماں کی اولاد سے ہوں۔ علاتی بہن بھائی وہ ہوتے ہیں جو ایک باپ اور کئی ماؤں کی اولاد ہوں جبکہ اخیافی بہن بھائی وہ ہوتے ہیں جو ایک ماں اور کئی باپوں کی اولاد ہوں۔ چونکہ عرب معاشرت میں مرد بھی ایک سے زائد شادیاں کرتے تھے اور خواتین بھی اپنے خاوند کی وفات یا اس سے علیحدگی کی صورت میں مزید شادیاں کیا کرتی تھیں، اس وجہ سے ان تینوں قسم کے بہن بھائی عام طور پر پائے جاتے تھے۔

شافعی: "باپ" کے لفظ کا استعمال تو ٹھیک ہے لیکن ایسا کر دینے سے وہ وارث نہیں بن جاتا۔

سائل: وہ کیسے؟

شافعی: اگر پردادا زندہ ہو تو اسے بھی "باپ" ہی کہا جائے گا اور یہ لفظ اس کے آباواجداد میں سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پردادا کو باپ کہتے ہوئے بھی وارث نہیں بنایا جاتا۔ اگر وہ غلام ہو، کافر ہو یا پھر (میت کا) قاتل ہو تو اس صورت میں بھی اسے وراثت میں حصہ نہیں ملتا اگرچہ لفظ "باپ" کا اطلاق اس پر پھر بھی ہوتا ہے۔ اگر لفظ "باپ" کی وجہ سے ہی وراثت میں حصہ ملتا تو پھر اسے ان تمام حالتوں میں حصہ ملنا چاہیے۔

††††††††† ہم بھی اخیافی (صرف ماں کی طرف سے بہن بھائیوں) کو وراثت میں شریک نہیں کرتے اور ایسا ہم حدیث کی بنیاد پر کرتے ہیں نہ کہ محض لفظ "باپ" کی بنیاد پر۔ اخیافی بہن بھائیوں کو تو پوتیوں کی موجودگی میں بھی حصہ نہیں دیا جاتا۔

††††††††† دادا کا حصہ اگر چھٹے حصے (1/6) سے کم نہیں ہے تو پھر دادی کا حصہ بھی 1/6 سے کم نہیں ہے۔ ہم یہ سب عقلی بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ اگر دادا کی وراثت کا حکم، باپ کی وراثت کے حکم کی طرح ہو تو پھر ایسا ہر صورت میں ہونا چاہیے۔ اگر ایک صورت میں دادا کو باپ کی طرح قرار دیا گیا تو پھر ہر صورت میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پوتیوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جن کے ہوتے ہوئے اخیافی بہن بھائیوں کو حصہ نہیں ملتا۔ دادی کا حکم بھی یہی ہے جس کے حصے کو 1/6 سے کم نہیں کیا جا سکتا۔

سائل: آپ کس دلیل کی بنیاد پر ہمارے نقطہ نظر کو رد کرتے ہیں؟ (وہ نقطہ نظر یہ ہے) کہ دادا کی موجودگی میں بہن بھائیوں کو حصہ نہ ملے گا۔

شافعی: آپ کی رائے بعید از قیاس ہے۔

سائل: ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک معقول قیاس ہے۔

شافعی: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ دادا اور بھائی دونوں میت کے ڈائرکٹ رشتہ دار ہیں یا کسی واسطے سے رشتے دار ہیں؟

سائل: کیا مطلب؟

شافعی: کیا ایسا نہیں ہے کہ دادا کہتا ہے، "میں میت کے باپ کا باپ ہوں۔" اور بھائی کہتا ہے، "میں میت کے باپ کا بیٹا ہوں۔"

سائل: جی ہاں۔

شافعی: کیا یہ دونوں باپ کے ذریعے سے رشتے دار نہیں ہوتے؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: اگر ایک شخص مر جائے اور اس کے وارث اس کے بیٹے اور باپ ہوں تو ان میں وراثت کیسے تقسیم ہو گی۔

سائل: بیٹوں کا حصہ 5/6 اور باپ کا حصہ 1/6۔

شافعی: آپ کی اپنی رائے کے مطابق بیٹے کا حصہ باپ کی نسبت زیادہ ہوگا۔ (اب ذرا اصل مسئلے کی طرف آئیے۔) جب بھائی میت کے باپ کا 'بیٹا' ہے اور دادا، میت کے باپ کا 'باپ' ہے (اور باپ کی نسبت بیٹے کا حق زیادہ ہے) تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دادا کی موجودگی میں بھائی کو حصہ نہ ملے گا (جو کہ میت کے باپ کا 'بیٹا' ہے اور دادا میت کے باپ کا 'باپ')۔ اگر ان دونوں (یعنی میت کے دادا اور بھائی) میں سے ایک کی وجہ سے دوسرے کو حصے سے محروم رکھا جاتا تو پھر زیادہ مناسب یہ تھا کہ بھائی کی وجہ سے دادا کو حصہ نہ ملے کیونکہ 'بیٹے' کا حصہ 'باپ' کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ یا پھر یہ کیا جائے کہ بھائی کو 5/6 حصہ دیا جائے اور دادا کو 1/6۔

سائل: تو پھر آپ یہ رائے کیوں اختیار نہیں کر رہے؟

شافعی: وراثت کے مسائل میں تمام تر اختلافات کے باوجود تمام فقہاء کا اس پر اتفاق رائے ہے کہ اگر دادا اور بھائی دونوں وارث ہوں تو پھر دونوں کا حصہ یا تو برابر ہو گا یا دادا کا حصہ زیادہ ہو گا۔ میری رائے بھی ان سے مختلف نہیں ہے۔ اس معاملے میں میں (الگ سے) قیاس نہیں کرتا کیونکہ ان کے تمام نقطہ ہائے نظر کی بنیاد بھی قیاس ہی ہے۔

††††††††† میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ بھائیوں کو دادا کے ساتھ حصہ ملے گا۔ اس کے دلائل میں قیاس کے ذریعے بیان کر چکا ہوں۔ یہی مختلف شہروں کے قدیم یا جدید قانونی ماہرین کی رائے ہے جو میں نے اختیار کی۔ بھائیوں کا وراثت میں حصہ دار ہونا کتاب اللہ سے ثابت سے جبکہ دادا کا کتاب اللہ میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ بھائیوں کی وراثت، دادا کی وراثت کی نسبت سنت میں بھی زیادہ ثابت شدہ ہے۔

صحابہ کرام کے مختلف نقطہ ہائے نظر

سائل: میں نے کتاب اللہ اور سنت رسول کے بعد اجماع اور قیاس کے بارے میں تو آپ کا نقطہ نظر سن لیا، اب یہ فرمائیے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ کرام کے نقطہ ہائے نظر میں کوئی اختلاف پایا جائے تو پھر آپ کیا کریں گے؟

شافعی: ہم اس نقطہ نظر کو اختیار کریں گے جو کتاب اللہ، یا سنت، یا اجماع کے زیادہ قریب ہے یا قیاس کی بنیاد پر جو زیادہ صحیح ہے۔

سائل: اگر ایک صحابی کا نقطہ نظر موجود ہو اور اس کے حق میں یا اس کے خلاف کوئی بات (ذخیرہ روایات میں) محفوظ نہ کی گئی ہو تو پھر کیا آپ کتاب، سنت یا اجماع کی بنیاد پر اس کے بارے میں کوئی دلیل تلاش کریں گے؟ کن اسباب کی بنیاد پر آپ اسے "خبر" قرار دیں گے؟

شافعی: ایسا بھی ہوتا ہے کہ کتاب اور ثابت شدہ سنت میں کوئی حکم نہ مل رہا ہو۔ اس صورت میں اہل علم بسا اوقات ایک صحابی کی ایک بات کو قبول کر لیتے ہیں لیکن دوسری کو ترک کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات اس ایک بات کے بارے میں بھی ان کی آراء میں اختلاف ہوتا ہے۔

سائل: آپ ان کی کس رائے کو قبول کرتے ہیں؟

شافعی: میں ایک صحابی کی رائے کو اس صورت میں قبول کروں گا جب اس بارے میں کتاب و سنت میں یا اجماع میں یا کسی اور دلیل میں جو اس معاملے میں کوئی فیصلہ دے رہی ہو، کوئی حکم نہ ملے۔ اگر صحابی کی رائے قیاس کے ساتھ پائی جائے تب بھی میں اسے قبول کروں گا۔ ایسے معاملات بہت کم ہیں جن میں صرف ایک ہی صحابی کا قول ملے۔ اس معاملے میں کوئی اور عالم مجھ سے مختلف رائے نہیں رکھتا۔

اجماع اور قیاس کا مقام

سائل: آپ نے (بحیثیت جج) کتاب و سنت کی بنیاد پر فیصلے دیے۔ اس کے علاوہ آپ نے اجماع اور پھر قیاس کی بنیاد پر بھی فیصلے دیے۔ آپ نے کس بنیاد پر ان دونوں کو کتاب و سنت کے برابر لا کھڑا کیا ہے؟

شافعی: اگرچہ میں نے کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ ان دونوں (یعنی اجماع و قیاس) کی بنیاد پر فیصلے سنائے ہیں لیکن (اجماع و قیاس سے نتائج اخذ کرنے کی) بنیاد مختلف ہے۔

سائل: کیا یہ درست ہے کہ آپ مختلف بنیادوں پر ایک ہی فیصلہ دے دیں؟

شافعی: جی ہاں، ہم کتاب اور ایسی سنت جس پر سب کا اتفاق رائے ہے اور جس میں کوئی اختلاف نہیں، کی بنیاد پر فیصلے سناتے ہیں۔ اس کے بارے میں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ظاہری اور پوشیدہ معلومات کی بنیاد پر عین حق بات کے مطابق فیصلہ دیا۔ ہم اس سنت کی بنیاد پر بھی فیصلہ دیتے ہیں جو انفرادی ذرائع سے ہم تک پہنچی ہے اور جس پر لوگوں کا اتفاق رائے نہیں ہے۔ اس معاملے میں ہم صرف ظاہری (طور پر میسر) معلومات کی بنیاد پر ہی فیصلہ دیتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ حدیث کی روایت میں کوئی غلطی ہو گئی ہو۔

††††††††† ہم اجماع اور پھر قیاس کی بنیاد پر بھی فیصلے دیتے ہیں جو کہ اس سے بھی زیادہ کمزور ذریعہ ہے۔ یہ ضرورت کے تحت ہوتا ہے کیونکہ اگر (کسی معاملے میں) کوئی آیت یا حدیث (کا حکم) موجود ہو تو پھر قیاس کرنا درست نہیں۔یہ اسی طرح ہے کہ تیمم حالت سفر میں پانی نہ ملنے کی صورت میں کیا جاتا ہے جو اسی صورت میں ہے جب پانی نہ ہو۔ اگر پانی مل جائے تو تیمم کا حکم باقی نہ رہے گا۔ بالکل اسی طرح قیاس سنت کے بعد حجت ہے۔ اگر سنت موجود نہ ہو تب ہی قیاس کیا جائے گا۔ میں نے قیاس اور دوسری چیزوں کے بارے میں اپنے دلائل پہلے ہی بیان کر دیے ہیں۔

سائل: کیا آپ کوئی مثال دیں گے؟

شافعی: جی ہاں۔ میں (عدالت میں) ایک شخص کے خلاف کوئی فیصلہ اپنی معلومات یا اس شخص کے اقرار کی بنیاد پر دیتا ہوں کہ اس پر جو دعوی کیا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں۔ اگر میرے پاس معلومات نہیں ہیں یا پھر وہ شخص اقرار نہیں کرتا تو فیصلہ دو گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ وہ دونوں غلطی بھی کر سکتے ہیں یا غلط فہمی میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں، اس وجہ سے میری ذاتی معلومات یا اس شخص کا اقرار گواہوں کی نسبت زیادہ مضبوط ذریعہ ہے۔

††††††††† میں ایک گواہ اور حلف کی بنیاد پر بھی فیصلہ دیتا ہوں جو کہ دو گواہوں سے بھی کمزور بنیاد ہے۔ میں ایک شخص کے خلاف اس وقت فیصلہ دوں گا جب وہ قسم کھانے سے انکار کرے اور دوسرا فریق قسم کھا کر دعوی کرے۔ یہ بنیاد ایک گواہ اور حلف سے بھی کمزور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص محض اپنی شہرت خراب ہونے کے خوف سے بھی قسم نہ کھا رہا ہو یا پھر وہ معاملہ ہی اتنا غیر اہم ہو کہ اس میں قسم کھانے کو وہ مناسب نہ سمجھتا ہو اور دوسرا فریق جو قسم کھا رہا ہے وہ ایک ناقابل اعتماد، لالچی اور فاسق و فاجر شخص ہو جس کے لئے قسم کھانا کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔

 

††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

 

hit counter