بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کیا عقل کے ذریعے خدا کی پہچان ممکن ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: آپ لوگ یہ کہتے ہیں کہ دین اسلام کی بنیاد علم و عقل کے مسلمات پر ہے۔مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ایک خدا ہے ۔ کیا یہ بات ہم اپنی عقل سے جان سکتے ہیں؟

جواب:اس کائنات کا ذرہ ذرہ یہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق میں ایک Intelligent Design ††موجود ہے۔ایسا کارٹون فلموں کے علاوہ کبھی نہیں ہوتا ہے کہ ریت، سیمنٹ اور دیگر عمارتی اشیا کو ہوا میں اچھال دیا جائے اور جب وہ زمین پر گریں تو خود بخود تاج محل کی شکل اختیار کرلیں۔ایسا بھی کبھی نہیں ہوتا کہ روشنائی کو اچھالا جائے اور جب وہ گرے تو غالب کی کسی غزل کی شکل نمودار ہوجائے۔ جبکہ اس کائنات میں ایسا ہے۔ اگر یہ کائنات خود بخود بن گئی ہوتی اور اس کی کہکشائیں ، ستارے اور سیارے یوں متعین قوانین کے مطابق حرکت نہ کر رہے ہوتے۔ سورج سے زمین پر ناپ تول کر صرف اتنی توانائی نہ پہنچتی جو زندگی کے لئے ضروری ہے۔بارشیں صرف اس کرہ ارض ہی پر نہ برستیں۔انسان اور دیگر حیوانات کے ہاضمے، دوران خون اور اعصاب کے نظام اتنی ترتیب سے کام نہ کر رہے ہوتے۔ پودے آکسیجن ہی خارج کرکے کاربن ڈائی آکسائیڈ ہی جذب نہ کررہے ہوتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اسے یوں بیان کرتا ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔ (البقرہ 2:164 )

بے شک آسمان وزمین کی پیدائش، دن و رات کی تبدیلیوں، کشتیوں کا سمندروں میں لوگوں کے فائدے کے لئے چلنا، اللہ تعالیٰ کا آسمان سے پانی اتار کر اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرنا، اس میں ہر طرح کے جانوروں کو پھیلانا، ہواؤں کی گردش اور بادل جو کہ زمین و آسمان کے درمیان مسخر ہیں ، ان سب میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

†††††† اس کائنات کو کیسی ذہانت سے ڈیزائن کرکے بنایا گیا ہے، اس حقیقت سے ایک ان پڑھ کسان سے لے کر بڑے سے بڑا سائنس دان واقف ہے۔ اس لئے کوئی بھی معقول انسان خدا کے وجود سے انکار نہیں کرسکتا۔ ہاں اگر کوئی محض اپنی خواہشات پر پابندیوں سے بچنے کے لئے خدا کے وجود کا انکار کر سکتا ہے لیکن کوئی بھی غیر جانبدار انسان اسے معقولیت سے تعبیر نہیں کرسکتا۔

محمد مبشر نذیر

April 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام /قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability